انجام کار

اس بار کیا ہوا کہ عین درگا پوجا کے دوران ایک خاص کام سے مجھے دلی آنا پڑ گیا۔آپ بنگالی نہ بھی ہوں لیکن شروع سے کلکتے میں رہے ہوں تو آپ کو بتانا نہ پڑے گا کہ درگا پوجا میں کلکتے سے کہیں اور کے لیے نکل پڑنے کی مجبوری کتنی تکلیف دہ ہوتی […]
اویناش مشر کی نظمیں

یہ شاعر ہیں اور نظمیں بھی لکھتے ہیں شاعروں کو اب نظمیں کم کردینی چاہییں اس حقیقت سے واقف ہوتے ہوئے بھی کہ وہ اب بھی بہت کم ہیں اور مختلف ادوار اور زبانوں میں ان کی اہمیت پر لگاتار بحث بنی رہتی ہے میں اس طرح سوچا کرتا ہوں کہ ایک نظم کافی […]
کیداری کی ماں

تمہید حال ہی میں جب میں نے اخباروں میں ‘امامی اپالم’ ( خالا کے پاپڑ) کا اشتہار دیکھا تو حیران سا رہ گیا کیونکہ مجھے بھاگیر تی امامی یاد آ گئی تھیں۔ جب مجھے ان کے دلارے بیٹے اور اپنے بہترین دوست کیداری کی بے وقت موت کا خیال آیا تو میرے بدن میں بے […]
لولی گوسوامی کی نظمیں

نظم میں پوشیدہ معنی ایک دن مجھے ایک ضدی، کھوجی حجتی آدمی ملا وہ ہر بیج کو پھوڑ کر دیکھ رہا تھا کہ اس کے اندر کیا ہے میں اسے آخر تک سمجھا نہیں پائی کہ بیج کے اندر پیڑ ہوتے ہیں ٠٠٠ بزدلی کا گیت یوں تو سب جیتنا ہی سیکھتے […]
امام دستہ

قصبے میں سوکھے میووں کے سب سے پرانے بیوپاری روشن آغا کی کوٹھی میں اس صبح خفگی کا ماحول تھا۔ آنگن میں چمپا کے جھرمٹ میں چھپی چڑیاں چپ تھیں۔ تیسری کلاس میں پڑھنے والا ان کا نواسا، میسم روز کی طرح سلام کرکے ممی سے گال ملانے گیا تو انہوں نے جھڑک دیا۔ بال […]
اُڑان

اور ایک دن وہ سب کام دھندے چھوڑ کر گھر سے نکل پڑی۔ کوئی طے شدہ پروگرام نہیں تھا، کوئی سمبندھی بیمار نہیں تھا، کسی کا لڑکا پاس نہیں ہوا تھا، کسی عزیز کی موت نہیں ہوئی تھی، کسی کی لڑکی کی سگائی نہیں ہوئی تھی، کہیں کوئی سنت مہاتما نہیں آیا تھا، کوئی تہوار […]
پازیب

بازار میں ایک نئی طرح کی پازیب چلی ہے۔ پیروں میں پڑ کر وہ بڑی اچھی معلوم ہوتی ہے۔ اس کی کڑیاں آپس میں لچک کے ساتھ جڑی رہتی ہیں کہ پازیب کی گویا اپنی شکل کچھ نہیں ہے، جس پاؤں میں پڑے اسی کے مطابق ہی رہتی ہے۔ پاس پڑوس میں تو سب ننھی […]
خوابوں کی انجیل

روزانہ صبح نو بجے سے شام پانچ بجے تک میں اپنی نشست پر بیٹھی دوسروں کے خواب ٹائپ کرتی رہتی ہوں۔ مجھے اسی لیے ملازم رکھا گیا ہے۔ میرے افسروں کا حکم ہے کہ میں تمام چیزیں ٹائپ کروں۔خواب، شکایات، ماں سے اختلاف،بوتل اور بستر کے مسائل، باپ سے جھگڑا، سر درد جو اتنا شدید […]
مطالعۂ ایڈیٹ: کیوں اور کیسے

مئی ۲۰۰۳ میں روسی ٹیلیوژن ’روسیا‘ نے دوستووسکی کے ۱۸۶۸ کے ناول ’ایڈیٹ‘ کی سلسلہ وار ڈرامائی تشکیل نشر کی۔ یہ سلسلہ نہایت مقبول ہوا اور پورے روس میں پزیرائی کے اونچے ترین درجے پر رہا۔اس پروگرام نے جہاں کچھ ناظرین کومسحور کر کے رکھ دیا وہاں کئی الجھن میں بھی مبتلا ہوئے،لیکن پسندیدگی اور […]
صبح کی سرخی

یہ میرے دوست ایوان ساووف کی کہانی ہے جو بلغاری فوج کی تھرڈ بٹالین میں ایک سینئرماتحت افسر تھا اور میری نگاہوں کے سامنے سرویائی سلسلۂ کوہ میں ایبار اور موراوا کے درمیان قائم کردہ محاذ پر کام آیا۔جنگِ عظیم کے دوسرے سال کے اواخرِ خزاں میں میری سالگرہ سے اگلے روز کا قصہ ہے […]