لولی گوسوامی کی نظمیں

نظم میں پوشیدہ معنی

 

ایک دن مجھے ایک ضدی، کھوجی

حجتی آدمی ملا

وہ ہر بیج کو پھوڑ کر دیکھ رہا تھا

کہ اس کے اندر کیا ہے

میں اسے آخر تک سمجھا نہیں پائی

کہ بیج کے اندر پیڑ ہوتے ہیں

٠٠٠

 

بزدلی کا گیت

 

یوں تو سب جیتنا ہی سیکھتے ہیں

لیکن تم ہارنا بھی سیکھنا

جب کوئی کہے رُکنا یا جانا تمہارا فیصلہ ہے

تب تم خود سے ہار کر رک جانا

 

یاد رکھنا کوئی انتظار کرے

تو لوٹ کر نہ آنے کے لیے تم آزاد نہیں

تمہاری آمد پر کسی کی راہ دیکھتی

نظر کی رونق ادھار ہے

 

کوئی کھانا دے تو بھوکے رہ جانے کے لیے

تم آزاد نہیں تمہاری ضد سے دبا دی گئی بھوک پر

کسی کے ہاتھوں میں بسنے والے ذائقے کی طمانیت ادھار ہے

 

کوئی بدن پرچیتھڑے دیکھ کر تمہارے لیے گرم پنکھوں کا لبادہ بُنے

تو ٹھنڈ میں مرجانے کے لیے تم آزاد نہیں

تمہارے ٹھنڈے ہوتے بدن پر کسی کے لمس کا تاپ ادھار ہے

 

روکنا اپنی اس  انا کو جو ہار جانے کے آڑے آتی ہے

سیکھنا کیسے اَنگُلی  مال *کی آنکھوں کی لال آگ ہار جاتی ہے

ایک گیانی کی معصوم آنکھوں کے ہمدرد پانی سے،دکھ

سمجھو  کہ اس میں صرف بدھ کی تو کرامت نہیں تھی

 

تم ایسے ہارنا کہ من لبالب بھرا لگے

اس گھڑے کی طرح جو پانی کی مسلسل دھار سے

ہار کر آخر کار بھر جاتا ہے

پھر کسی پیاسے کے سیراب ہوجانے تک

انتظار کرتا ہے پھر سے ہرائے جانے کے  لیے

 

جب تم ختم ہونا تو اس سندر کویتا کی طرح

جو ہر بار الگ کویتا کا بیج بن کر پھوٹتی ہے

دوردراز ملک کے کسی انجان پڑھنے والے کے من میں

نئے روپ میں پھر سے اپنے لکھے جانے کے لیے

 

ایسے بکھرنا جیسے کھیت بونے کے لیے کسان

مٹھی بھر کر بیج بکھیرتا ہے

لہلہاتی فصل کے تصور  میں وہ خود ہرا ہوجاتا ہے

تم فصل کی امید میں اس کا ہرا ہوتا چہرا دیکھنا

اس طرح بکھیرے جانے کے لیے تیار ہونا

 

جب سنکی جنگجوؤں کے ظالم ہاتھ

دنیا کی روپہلی سِلائی ادھیڑیں گے

ہرائے جانے کے افسوس کو ایک طرف کرکے تم

پریم کی چھوٹی سی سوئی سے دنیا کے ٹکڑے رفو کرنا

 

جب کوئی بھوک سے سوکھ کر مرجھائے بدن میں غذا کی طرح رِسے

سفید ہتھیلیوں میں خون کی گلابی  زیبائش کی جگہ بھر جائے

تب آتما کے دکھ سے پریم جذب کرنے کے لیے

اس کی بغل میں  گہری نیند سونا

 

*انگلی مال: گوتم بدھ کے زمانے کا ایک ڈاکو جو جنگل میں لوگوں کو لوٹ کر ان کی انگلیوں کا ہار بنا کر پہنا کرتا تھا،کہتے ہیں اسے گوتم بدھ کی وجہ سے گیان ملا اور ڈکیتی چھوڑ کر وہ راہ عرفان کا مسافر بنا۔

٠٠٠

 

انت میں

 

میں اس کے جسم میں ہلکے  دانتوں کے نشان سے بوتی رہی اپنا ہونا

اس کی  کپکپاہٹوں میں خواہش بن کر اُگتی رہی

 

اُس  کے جسم کو میں نے بوسوں کے  بہتے جھرنوں میں باندھ لیا

اپنے نہ ہونے میں اس کے ہونٹوں سے ہنسی بن کر جھڑتی رہی

 

یہ سب اس لیے کہ

ایک دن مجھے ٹوٹ کر اپنے ہی من پر

قبر کے پتھرسا گڑ جانا تھا

 

انکار کی ضدوں سے بنی سخت  اور بہت بڑی  دیواروں پر

اگنا تھایادوں کے غیر ضروری پیپل سا

 

پت جھڑ میں پیلے پتوں کا دھرم نبھاتے

شاخ سے یونہی جھڑ جانا تھا بے ساختہ

٠٠٠

 

بِن باتوں کی رات

 

تمہارے اندر جتنی نمی ہے

اتنے قدم ناپتی ہوں پانی کے اوپر

جتنا پتھر ہے تمہارے اندر

اتنا تراشتی ہوں اپنا من

 

خواہشوں کی جو ہری پتیاں بے وقت جھڑیں

وہ گلیں من کے بھیتر، اپنی ہی جڑوں کے پاس

کھاد پاکر اب کی جو خواہشیں پھلیں

وہ زیادہ گھنیری تھیں، ان کی بڑھت (بالیدگی) بھی

گزشتہ خواہشوں سے زیادہ چیمڑ تھی

 

تمہارا آنا سورج کا اگنا نہیں رہا کبھی

تم ہمیشہ گہراتی راتوں میں قندیل کی دھیمی لے بن کر آئے

تم سے بہتر کوئی نہیں جانتا

کہ مجھے چوندھیاتی روشنیاں پسند نہیں ہیں

 

میرا اندھیاروں میں گم ہوجانا آسان تھا

تمہاری کایا تھی جو اندھیرے میں

چراغ کی لو کی طرح جھلملاتی تھی

تمہاری موجودگی میں مجھے کوئی بھی پڑھ سکتا تھا

 

ایک بِن باتوں کی رات میں، میں نے دو باتیں جانیں:

ہم اس چِٹھی کو بار بار پڑھتے ہیں

جس میں وہ نہیں لکھا  ہوتا

جو ہم پڑھنا چاہتے ہیں

 

معافیوں کی درخواست اپنے سب سے خوبصورت رنگ میں نظم ہے

بھلے ہی آپ گناہوں میں شامل نہ ہوں

٠٠٠

 

چور دیوتا

 

دکھ کے سفید پریت سنسار کے کسی کونے میں

میرا پیچھا نہیں چھوڑتے ہیں

میں جہاں جاتی ہوں، وہ چور دیوتا کی طرح میرا پیچھا کرتے ہیں

 

میرے بچپن کے یہ گنوار چور دیوتا ایسے دیوتا نہیں تھے

جنہیں آپ سیاست کے لیے استعمال کر سکیں

شاید اس لیے بھی وہ گمنام رہے

 

چوردیوتا اکثر بے وقت یا برے وقت میں مرے ہوئے بچوں کے پریت ہوتے ہیں

جنہیں سادھ کر اس کام میں لگایا جاتا ہے

کہ اگر گھر سے کوئی سامان چوری ہوجائے

تو وہ چور کا پیچھا کریں

اسے ایسے خوف اور وہم میں مبتلا کردیں

کہ چور ڈر کر اپنے آپ سامان لوٹا دے

 

یہ پریت میرے بچپن سے ابھی تک میرے ساتھ ہیں

میں خوشی لکھنا چاہوں

وہ انگلیاں مروڑ کر دکھ لکھواتے ہیں

میں نعرے لگانے کے لیے چیخنا چاہتی ہوں

وہ گلا دبادیتے ہیں

میری حلق سے دہاڑیں مار کر روتی ہوئی عورتیں

اور مسلسل ستائے گئے آدمیوں کی چیخیں نکلتی ہیں

 

میں انہیں نہیں بھگا سکتی

میں نے چوری کیا ہے اپنا وجود اپنے ہی جیون سے

میں نے ہرے بھرے جنگلوں سے اپنے خرگوش جیسے من کو چُرا کر

اسے تیز خنجر سے چیر دیا تھا

اس کے خون سے میں شہری زندگی کا روزنامچہ لکھ رہی تھی

ایک دن میں نے یہ وجود ہی نہیں، اس کی یادیں بھی کھو دیں

اب میں چاہوں تب بھی چور دیوتا سے پیچھا نہیں چھڑا سکتی

وہ پریت اب ہر جگہ میرے ساتھ ہوتے ہیں

 

سگنلوں پر سوکھے کے مریض  کی شکل میں پھولے پیٹ کے ساتھ یہ پریت

مجھ سے غبارے خرید لینے کی ضد کرتے ہیں

میرے پاس پیسے نہیں ہیں، میں صرف اس لیے نہیں خریدتی

پھر بھی وہ سمجھتے ہیں کہ میں جھوٹ کہہ رہی ہوں

وہ میرا پیچھا کرنا شروع کرتے ہیں

ہر جگہ۔۔۔آفس، لائبریری، پارکنگ

 

الماری کے نیچے کی دھول جھاڑنے

لگ بھگ زمین سے سر جوڑے

میں جھاڑو اندر ڈالتی ہوں اور ان کی آنکھیں دِکھتی ہیں

بھورے،گچھے دار، روکھے بالوں کے بیچ

مجھے یاد نہیں آتا ہے

شاید میں نے ان کے حصے کا تیل بھی چُرایا ہے

وہ  کالے پیلے دانتوں کے ساتھ کِلکاری مارکر ہنستے ہیں

میں ڈر کر دیواروں سے گھرے کونے میں

گھٹنوں پر سر رکھے سہمی سی بیٹھ جاتی ہوں

٠٠٠

 

فن کی حمایت میں

 

گہرے پریم کی یادیں دیوار میں لگی پینٹنگ میں تراشی  گئی لہر کی طرح ہوتی ہیں۔آپ چاہیں تو اس مصور کو گالیاں دے سکتے ہیں ، جس نے تصویر بناکر اس لہر کو ہمیشہ کے لیے پینٹنگ میں قید کردیا۔بے شک، وہ ذمہ دار ہے۔۔لہر کی رفتار چھین کر اسے نری لکیر میں بدل دینے کے لیے۔پریم کو یاد میں بدل دینے کے لیے بھی کوئی تو ذمہ دار ہوتا ہی ہے، لیکن آپ آج اس لہر کی یاد کو دیکھ پارہے ہیں تو اسی مصور کی بدولت۔

 

نظم بھی ایسی ہی یادوں کی ایک تصویر ہے۔نظم کسی یاد کو پونچھ کر مٹادینے سے سو گنا بہتر انت ہے۔ایسے ہی کسی چیز کو اس کی نزدیک آتی ہوئی طے شدہ موت کے خلاف کسی ہنر کے ذریعے از سر نو تعمیر کرنا وقت کی ابدی زیادتیوں کے خلاف  فن کی جرات مندانہ عظیم بغاوت ہے۔

 

اب مہربان، یہ شکایت تو مت کیجیے کہ تصویر میں مصور نے اپنا تصور ملایا۔یہ اس کا فن تھا، جس نے صحیح ، غلط کے تعلق سے اتنے مباحث کو جنم دیا۔

 

ورنہ روز ہزاروں لہریں جنم لیتی ہیں، روز ہزاروں پریم مرتے ہیں۔

٠٠٠

 

نظم کی ان گنت تعبیریں ہیں

 

تمہیں چومنے سے پہلے اپنی ناک کی نوک سے میں

تمہاری ناک کی نوک دباتی ہوں

مجھے وہ دباؤ محسوس ہوتا ہے

جو نظم کا پہلا لفظ لکھنے سے پہلے

قلم کی نوک کاغذ پر ڈالتی ہے

تھوڑا جھجھکتا سا۔۔بے چین دباؤ

 

میں نے ماں کے پیر گنگنے پانی بھری تشتری میں ڈبو کر

خارش سے اگ آنے والےزخم پرانے ٹوتھ برش سے صاف کیے

ان پر پٹرولیم جیلی لگائی

اس کے چہرے پر محسوس ہوا سُکھ

گرم اور ملائم

جو ایک نظم پوری کرلینے پر ہوتا ہے

 

سردی کی ایک صبح دھوپ میں

پیروں پر بچے کو ننگا لٹا کر

میں نے اس پر سرسوں کا تیل ملا

اب وہ تھک کر ڈائری پر لیٹے قلم کی طرح بے فکر سورہا ہے

نظم جیسا ہی ہے اس کا معصوم گلابی چہرہ

مجھے بھروسہ ہے میرے شبد

اس کی پاکیزہ نیند کے بھیتر سانس لے رہے ہیں

٠٠٠

میری بھاشا

 

میرے الفاظ کو دیکھو

تو ایسا لگتا ہے کہ لوگوں کا بڑھتا

ریلا چلا جارہا ہے

 

کسی حرف نے دوسرے کے کندھے پر ہاتھ رکھا ہوا ہے

تو کوئی سر پر صافہ باندھے ہے

کسی نے دوسرے کا ہاتھ پکڑ رکھا ہے

تو کوئی قرینے سے گھونگھٹ اوڑھے ہے

 

کوئی حرف دوسرے حرف کی کمر پر

ہاتھ رکھ کر چل رہا ہے

تو کوئی ایک دم اکیلا جارہا ہے

 

کسی حرف کا پیٹ پھولا ہوا ہے

تو کسی کو پتلے دُبلے ہونے کا گمان ہے

 

ملے جلے پریوار کی طرح

اس زبان میں جہاں بہت سارے متحدہ حروف ہیں

وہیں اکیلے کا بھی اُتنا

ہی مان ہے

٠٠٠

 

قبرستان اور کسی جاچکے دوست کے بارے میں

 

قبرستان میں گھومتے ہوئے اکثر محسوس ہوتا ہے۔کیا یہ کوئی باغیچہ ہے، جسے اتنی ترتیب سے سجایا گیا ہے!

 

کیا ہر ایک تابوت ایک بیج ہے، جسے اتنی احتیاط سے گاڑا گیا ہے جیسے اس سے کوئی انکھوا پھوٹے گا۔موت بے رحم ہے، لیکن کتنی سُگھڑ ہے، اپنے ٹہلنے کے لیے باغیچے لگا رہی ہے۔

 

ایسے ہی کسی قبرستان میں گھومتے ہوئے مجھے تم یاد آئے اور مجھے یہ علم ہوا کہ:

 

ہم کسی کی بھی زندگی سے دو بار جاتے ہیں

ایک بار رشتے کی طرح ، دوسری بار خبر کی طرح

٠٠٠

 

کچھ پریم

 

کچھ پریم اچانک ختم ہوجاتے ہیں

حیرت کرنے کی مہلت دیے بغیر

اچانک ختم ہوجانے والی

سڑکوں کی طرح

 

کچھ ہیئرپِن ٹرنز کی طرح ہوتے ہیں

لگتا ہے، بس ختم ہوا سفر

لیکن ہر بار سڑک قلابازیاں کھاتی

ہنس کر آگے بڑھ جاتی ہے

٠٠٠

 

پنکھڑی کی ڈھال

 

ایشور کے آنسو کی دو بوندیں

آسمان سے ایک ساتھ زمین پر گریں

اس طرح ہم دونوں جنمے

ایشور سے ہم کبھی پوچھ نہیں پائے کہ

وہ اس کی خوشی کے آنسو تھے

یا دکھ کے؟

 

تم نے دوب کی دھار سے کاٹا پتھر

پنکھڑی کو ڈھال بناکر روک لیے کئی نشتر

تمہاری آنکھیں جیسے موچی کی آنکھیں تھیں

موچی ہزار پیروں کے بیچ وہ چال پہچان لیتا ہے

جس کی چپل ٹوٹی ہو

تم نے میرا ٹوٹا ہوا من پہچانا

 

ہم میں کبھی ٹکراؤ ہو، تو اتنا ہو

جتنا ایک چڑیا کی اڑان میں شامل

نزدیک اگے دو  پنکھوں میں ہوتا ہے

 

ایک گہرے بوسے کے دوران

دو پریمیوں کی زبانوں میں ہوتا ہے

 

تم سے مل کر میں نے جانا کہ

کوئی گھاؤ ہمیشہ گھاؤ نہیں رہنا چاہتا

وہ مرہم لگانے والے کی یاد میں

بدل جانا چاہتا ہے

٠٠٠

 

لولی گوسوامی 5 جنوری 1987 کو پیدا ہوئیں۔ان کا تعلق ہندوستان کی ریاست جھارکھنڈ کے ضلع دھنباد سے ہےاور فی الحال وہ بنگلور شہر میں مقیم ہیں۔ان کی ایک کتاب’پراچین بھارت میں ماتر ستااور یونِکتا'(قدیم بھارت میں مادرسری نظام اور جنسیت)شائع ہوچکی ہے۔اس پوسٹ میں موجودہ نظموں کا انتخاب ان کے نظموں کے مجموعے ‘اداسی میری ماتر بھاشا(مادری زبان) ہے’ اور  ہندی ویب سائٹ ‘سمالوچن’ پر شائع شدہ ان کی نظموں سے کیا گیا ہے۔

لولی گوسوامی نے بہت اطمینان سے ہندی نظم میں بالکل علیحدہ راستہ اور اسلوب اختیار کرتے ہوئے اپنی جگہ بنائی ہے۔یہ طمانیت ان کی نظموں کی زبان میں بھی نظر آجاتی ہے۔ان کے یہاں صرف موضوع کی ندرت ہی اہمیت نہیں رکھتی بلکہ وہ نظم کے معاملے میں حساس اور نازک بیانیے  کی ضرورت پر بھی زور دیتی ہیں۔ان کی نظموں کے تعلق سے مشہور ہندی شاعر گیت چتُرویدی نے کہا ہے کہ ‘جن نظم نگاروں نے ہندی کے سنجیدہ ادب پڑھنے والے سماج کا دھیان پچھلے کچھ  برسوں میں  اپنی طرف کھینچا ہے، لولی گوسوامی ان میں سے ایک ہیں۔’

news-1701

yakinjp

MAUJP

MAUJP

MAUJP

SATGASJITU

SLOT GACOR

SALAMJITU

SATGASJITU

SEMOGAJITU

SALAMJITU

Slot Gacor

MAUJP

Slot Gacor

SLOT GACOR

artikel 000000121

artikel 000000122

artikel 000000123

artikel 000000124

artikel 000000125

artikel 000000126

artikel 000000127

artikel 000000128

artikel 000000129

artikel 000000130

artikel 000000131

artikel 000000132

artikel 000000133

artikel 000000134

artikel 000000135

artikel 000000136

artikel 000000137

artikel 000000138

artikel 000000139

artikel 000000140

artikel 000000141

artikel 000000142

artikel 000000143

artikel 000000144

artikel 000000145

artikel 000000146

artikel 000000147

artikel 000000148

artikel 000000149

artikel 000000150

artikel 000000151

artikel 000000152

artikel 000000153

artikel 000000154

artikel 000000155

artikel 000000156

artikel 000000157

artikel 000000158

artikel 000000159

artikel 000000160

artikel 000000161

artikel 000000162

artikel 000000163

artikel 000000164

artikel 000000165

artikel 000000166

artikel 000000167

artikel 000000168

artikel 000000169

artikel 000000170

artikel 000000171

artikel 000000172

artikel 000000173

artikel 000000174

artikel 000000175

informasi terbaru kabupaten belu 00000056

informasi terbaru kabupaten belu 00000057

informasi terbaru kabupaten belu 00000058

informasi terbaru kabupaten belu 00000059

informasi terbaru kabupaten belu 00000060

informasi terbaru kabupaten belu 00000061

informasi terbaru kabupaten belu 00000062

informasi terbaru kabupaten belu 00000063

informasi terbaru kabupaten belu 00000064

informasi terbaru kabupaten belu 00000065

informasi terbaru kabupaten belu 00000066

informasi terbaru kabupaten belu 00000067

informasi terbaru kabupaten belu 00000068

informasi terbaru kabupaten belu 00000069

informasi terbaru kabupaten belu 00000070

informasi terbaru kabupaten belu 00000071

informasi terbaru kabupaten belu 00000072

informasi terbaru kabupaten belu 00000073

informasi terbaru kabupaten belu 00000074

informasi terbaru kabupaten belu 00000075

informasi terbaru kabupaten belu 00000076

informasi terbaru kabupaten belu 00000077

informasi terbaru kabupaten belu 00000078

informasi terbaru kabupaten belu 00000079

informasi terbaru kabupaten belu 00000080

informasi terbaru kabupaten belu 00000081

informasi terbaru kabupaten belu 00000082

informasi terbaru kabupaten belu 00000083

informasi terbaru kabupaten belu 00000084

informasi terbaru kabupaten belu 00000085

informasi terbaru kabupaten belu 00000086

informasi terbaru kabupaten belu 00000087

informasi terbaru kabupaten belu 00000088

informasi terbaru kabupaten belu 00000089

informasi terbaru kabupaten belu 00000090

informasi terbaru kabupaten belu 00000091

informasi terbaru kabupaten belu 00000092

informasi terbaru kabupaten belu 00000093

informasi terbaru kabupaten belu 00000094

informasi terbaru kabupaten belu 00000095

informasi terbaru kabupaten belu 00000096

informasi terbaru kabupaten belu 00000097

informasi terbaru kabupaten belu 00000098

informasi terbaru kabupaten belu 00000099

informasi terbaru kabupaten belu 00000100

informasi terbaru kabupaten belu 00000101

informasi terbaru kabupaten belu 00000102

informasi terbaru kabupaten belu 00000103

informasi terbaru kabupaten belu 00000104

informasi terbaru kabupaten belu 00000105

informasi terbaru kabupaten belu 00000106

informasi terbaru kabupaten belu 00000107

informasi terbaru kabupaten belu 00000108

informasi terbaru kabupaten belu 00000109

informasi terbaru kabupaten belu 00000110

informasi terbaru kabupaten belu 00000111

informasi terbaru kabupaten belu 00000112

informasi terbaru kabupaten belu 00000113

informasi terbaru kabupaten belu 00000114

informasi terbaru kabupaten belu 00000115

informasi terbaru kabupaten belu 00000116

informasi terbaru kabupaten belu 00000117

informasi terbaru kabupaten belu 00000118

informasi terbaru kabupaten belu 00000119

informasi terbaru kabupaten belu 00000120

informasi terbaru kabupaten belu 00000121

informasi terbaru kabupaten belu 00000122

informasi terbaru kabupaten belu 00000123

informasi terbaru kabupaten belu 00000124

informasi terbaru kabupaten belu 00000125

informasi terbaru kabupaten belu 00000126

informasi terbaru kabupaten belu 00000127

informasi terbaru kabupaten belu 00000128

informasi terbaru kabupaten belu 00000129

informasi terbaru kabupaten belu 00000130

article 48666670361

article 48666670362

article 48666670363

article 48666670364

article 48666670365

article 48666670366

article 48666670367

article 48666670368

article 48666670369

article 48666670370

article 48666670371

article 48666670372

article 48666670373

article 48666670374

article 48666670375

article 48666670376

article 48666670377

article 48666670378

article 48666670379

article 48666670380

article 48666670381

article 48666670382

article 48666670383

article 48666670384

article 48666670385

article 48666670386

article 48666670387

article 48666670388

article 48666670389

article 48666670390

article 48666670391

article 48666670392

article 48666670393

article 48666670394

article 48666670395

article 48666670396

article 48666670397

article 48666670398

article 48666670399

article 48666670400

article 48666670401

article 48666670402

article 48666670403

article 48666670404

article 48666670405

article 48666670406

article 48666670407

article 48666670408

article 48666670409

article 48666670410

article 58666670411

article 58666670412

article 58666670413

article 58666670414

article 58666670415

article 58666670416

article 58666670417

article 58666670418

article 58666670419

article 58666670420

article 58666670421

article 58666670422

article 58666670423

article 58666670424

article 58666670425

article 58666670426

article 58666670427

article 58666670428

article 58666670429

article 58666670430

article 58666670431

article 58666670432

article 58666670433

article 58666670434

article 58666670435

article 58666670436

article 58666670437

article 58666670438

article 58666670439

article 58666670440

article 58666670441

article 58666670442

article 58666670443

article 58666670444

article 58666670445

article 58666670446

article 58666670447

article 58666670448

article 58666670449

article 58666670450

article 58666670451

article 58666670452

article 58666670453

article 58666670454

article 58666670455

article 58666670456

article 58666670457

article 58666670458

article 58666670459

article 58666670460

article 58666670461

article 58666670462

article 58666670463

article 58666670464

article 58666670465

article 58666670466

article 58666670467

article 58666670468

article 58666670469

article 58666670470

article 58666670471

article 58666670472

article 58666670473

article 58666670474

article 58666670475

article 58666670476

article 58666670477

article 58666670478

article 58666670479

article 58666670480

article 58666670481

article 58666670482

article 58666670483

article 58666670484

article 58666670485

article 58666670486

article 58666670487

article 58666670488

article 58666670489

article 58666670490

article 58666670491

article 58666670492

article 58666670493

article 58666670494

article 58666670495

article 58666670496

article 58666670497

article 58666670498

article 58666670499

article 58666670500

article 58666670501

article 58666670502

article 58666670503

article 58666670504

article 58666670505

article 58666670506

article 58666670507

article 58666670508

article 58666670509

article 58666670510

news-1701