نِویش ساہُو کی غزلیں
چاہنے والوں کو ہر منظر میں ہوں ورنہ گھر میں ہوں نہ میں دفتر میں ہوں روح کا ناٹک نہیں کرنا مجھے جسم ہوں اور جسم کے پیکر میں ہوں بھولیے تو دو جہانوں میں نہیں سوچیے تو آپ کے بستر میں ہوں توڑ لو دل… میں جو دل میں ہوں نہاں پھوڑ لو یہ […]