پازیب

بازار میں ایک نئی طرح کی پازیب چلی ہے۔ پیروں میں پڑ کر وہ بڑی اچھی معلوم ہوتی ہے۔ اس کی کڑیاں آپس میں لچک کے ساتھ جڑی رہتی ہیں کہ پازیب کی گویا اپنی شکل کچھ نہیں ہے، جس پاؤں میں پڑے اسی کے مطابق ہی رہتی ہے۔ پاس پڑوس میں تو سب ننھی بڑی کے پیروں میں آپ وہی پازیب دیکھ لیجیے۔ ایک نے پہنی کہ پھر دوسری نے بھی پہنی۔ دیکھادیکھی میں اس طرح ان کا نہ پہننا مشکل ہو گیا ہے۔

ہماری منی نے بھی کہا کہ بابوجی،ہم پازیب پہنیں گے۔ کہیے بھلا مشکل سے چار برس کی عمر اور پازیب پہنے گی۔

میں نے کہا،کیسی پازیب؟

بولی،وہی جیسی رُکمن پہنتی ہے،جیسی شیلا پہنتی ہے۔

میں نے کہا،اچھا اچھا۔

بولی،میں تو آج ہی منگا لوں گی۔

میں نے کہا، اچھا بھائی آج سہی۔

اس وقت تو خیر منی کسی کام میں بہل گئی۔ لیکن جب دوپہر آئی منی کی بوا،تب وہ منی آسانی سے ماننے والی نہ تھی۔ بوا نے منی کو مٹھائی کھلائی اور گود میں لیا اور کہا کہ اچھا،تو تیری پازیب اب کے اتوار کو ضرور لیتی آؤں گی۔

اتوار کو بوا آئی اور پازیب لے آئی۔ منی پہن کر خوشی کے مارے یہاں سے وہاں ٹھمکتی پھری۔ رکمن کے پاس گئی اور کہا دیکھ رکمن، میری پازیب۔ شیلا کو بھی اپنی پازیب دکھائی۔ سب نے پازیب پہنے دیکھ کر اسے پیار کیا اور تعریف کی۔ سچ مچ وہ چاندی کی سفید دو تین لڑیاں سی ٹخنوں کے چاروں اور لپٹ کر، چپ چاپ بچھی ہوئی، بہت ہی سگھڑ لگتی تھیں، اور بچی کی خوشی کا ٹھکانا نہ تھا۔ اور ہمارے مہاشے آشوتوش، جو منی کے بڑے بھائی تھے، پہلے تو منی کو سجی بجی دیکھ کر بڑے خوش ہوئے۔ وہ ہاتھ پکڑکر اپنی پیاری منی کو پازیب سمیت دکھانے کے لیے آس پاس لے گئے۔ منی کا پازیب پرگمان انہیں اپنا بھی معلوم ہوتا تھا۔ وہ خوب ہنسے اور تالی پیٹی، لیکن تھوڑی دیر بعد وہ ٹھمکنے لگے کہ منی کو پازیب دی، سو ہم بھی بائیسکل لیں گے۔ بوا نے کہا کہ اچھا بیٹا اب کے جنم دن کو تجھے بائیسکل دلوائیں گے۔

آشوتوش بابو نے کہا کہ ہم تو ابھی لیں گے۔

بوا نے کہا، ‘چھی چھی، تو کوئی لڑکی ہے؟ ضد تو لڑکیاں کیا کرتی ہیں۔ اور لڑکیاں روتی ہیں۔کہیں بابو صاحب لوگ روتے ہیں؟’

آشوتوش بابو نے کہا کہ تو ہم بائیسکل ضرور لیں گے جنم دن والے روز ۔بوا نے کہا کہ ہاں، یہ بات پکی رہی، جنم دن پر تم کو بائیسکل ملے گی۔ اس طرح وہ اتوار کا دن ہنسی خوشی پورا ہوا۔ شام ہونے پر بچوں کی بوا چلی گئی۔ پازیب کا شوق گھڑی بھر کا تھا۔ وہ پھر اتار کر رکھ رکھا دی گئی؛ جس سے کہیں کھو نہ جائے۔ پازیب وہ باریک اور سبک کام کی تھی اور خاصے دام لگ گئے تھے۔

شریمتی جی نے ہم سے کہا، کیوں جی، لگتی تو اچھی ہے، میں بھی اپنے لیے بنوا لوں؟

میں نے کہا کہ کیوں نہ بنواؤ! تم کون چار برس کی نہیں ہو؟

خیر، یہ ہوا۔ پر میں رات کو اپنی میز پر تھا کہ شریمتی نے آکر کہا کہ تم نے پازیب تو نہیں دیکھی؟

میں نے حیرت سے کہا کہ کیا مطلب؟

بولی کہ دیکھو،یہاں میز ویز پر تو نہیں ہے؟ ایک تو ہے پر دوسرے پیر کی ملتی نہیں ہے۔ جانے کہاں گئی؟

میں نے کہا کہ جائیگی کہاں؟ یہیں کہیں دیکھ لو۔ مل جائیگی۔

انہوں نے میری میز کے کاغذ اٹھانے دھرنے شروع کئے اور الماری کی کتابیں ٹٹول ڈالنے کا بھی منصوبہ بنایا۔

میں نے کہا کہ یہ کیا کر رہی ہو؟ یہاں وہ کہاں سے آئیگی؟

جواب میں وہ مجھی سے پوچھنے لگی کہ پھر کہاں ہے؟

میں نے کہا تمہیں نے تو رکھی تھی۔ کہاں رکھی تھی؟

بتلانے لگی کہ دوپہر کے بعد کوئی دو بجے اتار کر دونوں  اچھی طرح سنبھال کر اس نیچے والے بکس میں رکھ دی تھیں۔ اب دیکھا تو ایک ہے،دوسری غائب ہے۔

میں نے کہا کہ تو چل کر وہ اس کمرے میں کیسے آ جائیگی؟ بھول ہو گئی ہوگی۔ ایک رکھی ہوگی،ایک وہیں کہیں فرش پر چھوٹ گئی ہوگی۔ دیکھو،مل جائے گی۔ کہیں جا نہیں سکتی۔

اس پر شریمتی کہا سنی کرنے لگیں کہ تم تو ایسے ہی ہو۔ خود لاپرواہ ہو،دوش الٹے مجھے دیتے ہو۔ کہہ تو رہی ہوں، کہ میں نے دونوں سنبھال کر رکھی تھیں۔

میں نے کہا کہ سنبھال کر رکھی تھیں،تو پھر یہاں وہاں کیوں دیکھ رہی تھیں؟ جہاں رکھی تھی وہیں سے لے لو نا۔ وہاں نہیں ہے تو پھر کسی نے نکالی ہی ہوگی۔

شریمتی بولیں کہ میرا بھی یہی خیال ہو رہا ہے۔ ہو نہ ہو، بنسی نوکر نے نکالی ہوگی۔ میں نے رکھی،تب وہ وہاں موجود تھا۔

میں نے کہا،تو اس سے پوچھا؟

بولیں، وہ تو صاف انکار کر رہا ہے۔

میں نے کہا، تو پھر؟

شریمتی زور سے بولیں، تو پھر میں کیا بتاؤں؟ تمہیں تو کسی بات کی فکر ہے نہیں۔ ڈانٹ کر کہتے کیوں نہیں ہو،اسے بنسی کو بلاکر؟ ضرور پازیب اسی نے لی ہے۔

میں نے کہا کہ اچھا، تو اسے کیا کہنا ہوگا؟ یہ کہوں کہ لا بھائی پازیب دے دے!

شریمتی جھلا کر بولیں کہ ہو چکا سب کچھ تم سے۔ تمہیں نے تو اس نوکر کی جات کو شہزور بنا رکھا ہے۔

ڈانٹ نہ پھٹکار،نوکر ایسے سر نہ چڑھےگا تو کیا ہوگا؟

بولیں کہ کہہ تو رہی ہوں، کہ کسی نے اسے بکس سے نکالا ہی ہے۔ اور سولہ میں پندرہ آنے یہ بنسی ہے۔ سنتے ہو نہ، وہی ہے۔

میں نے کہا کہ میں نے بنسی سے پوچھا تھا۔معلوم ہوتا ہے اس نے نہیں لی۔

اس پر شریمتی نے کہا کہ تم نوکروں کو نہیں جانتے۔ وہ بڑے چھنٹے ہوتے ہیں۔ بنسی چور ضرور ہے۔ نہیں تو کیا فرشتے لینے آتے؟

میں نے کہا کہ تم نے آشوتوش سے بھی پوچھا؟

بولیں،پوچھا تھا۔ وہ تو خود ٹرنک اور بکس کے نیچے گھس گھس کر کھوج لگانے میں میری مدد کرتا رہا ہے۔ وہ نہیں لے سکتا۔

 

میں نے کہا، اسے پتنگ کا بڑا شوق ہے۔

بولیں کہ تم تو اسے بتاتےوتاتے کچھ ہو نہیں۔ عمر ہوتی جا رہی ہے۔ وہ یوں ہی رہ جائیگا۔ تمہیں ہو اسے پتنگ کی شہ دینے والے۔

میں نے کہا کہ جو کہیں پازیب ہی پڑی مل گئی ہو تو؟

بولیں، نہیں، نہیں! ملتی تو وہ بتا نہ دیتا؟

خیر،باتوں باتوں میں معلوم ہوا کہ اس شام آشوتوش پتنگ اور ڈور کا پِنّا نیا لایا ہے۔

شریمتی نے کہا کہ یہ تمہیں ہو جس نے پتنگ کی اسے اجازت دی۔ بس سارے دن پتنگ پتنگ۔ یہ نہیں کہ کبھی اسے بٹھاکر سبق کی بھی کوئی بات پوچھو۔ میں سوچتی ہوں، کہ ایک دن توڑ تاڑ دوں اس کی سب ڈور اور پتنگ۔

میں نے کہا کہ خیر؛ چھوڑو۔ کل سویرے پوچھ تاچھ کریں گے۔

سویرے بلاکر میں نے گمبھیرتا سے اس سے پوچھا کہ کیوں بیٹا،ایک پازیب نہیں مل رہی ہے،تم نے تو نہیں دیکھی؟ وہ گم ہو گیا۔ جیسے ناراض ہو۔ اس نے سر ہلایا کہ اس نے نہیں لی۔ پر منہ نہیں کھولا۔

میں نے کہا کہ دیکھو بیٹے، لی ہو تو کوئی بات نہیں، سچ بتا دینا چاہیے۔ اس کا منہ اور بھی پھول گیا اور وہ گم سم بیٹھا رہا۔

میرے من میں اس سمے طرح طرح کے اصول آبسے۔ میں نے اعادہ کیا کہ جرم کے تئیں رحمدلی سے کام لیا جانا چاہیے ۔

غصے کا موقع نہیں ہے۔ پیار سے ہی مجرمانہ روش کوزیر کیا جاسکتاہے۔ ڈرسے اسے دبانا ٹھیک نہیں ہے۔بچے کا مزاج نازک ہوتا ہے اوراس سے ہمیشہ محبت سے ہی پیش آنا چاہیئے، وغیرہ وغیرہ۔

میں نے کہا کہ بیٹا آشوتوش، تم گھبراؤ نہیں۔ سچ کہنے میں گھبرانا نہیں چاہیے۔ لی ہو تو کھل کر کہہ دو، بیٹا!

ہم کوئی سچ کہنے کی سزا تھوڑے ہی دے سکتے ہیں۔ بلکہ سچ بولنے پر تو انعام ملا کرتا ہے۔

آشوتوش تب بیٹھا سنتا رہا۔ اس کا منہ سوجا ہواتھا۔ وہ سامنے میری آنکھوں میں نہیں دیکھ رہا تھا۔ رہ رہ کر اس کے ماتھے پر بل پڑتے تھے۔

کیوں بیٹے،تم نے لی تو نہیں؟

اس نے سر ہلاکر غصے سے ٹھہری اور تیز آواز میں کہا کہ میں نے نہیں لی، نہیں لی، نہیں لی۔ یہ کہہ کر وہ روہانسا ہوگیا، پر رویا نہیں۔ آنکھوں میں آنسو روک لیے۔ اس وقت مجھے محسوس ہوا، کہ یہ درشتگی کی علامت ہے۔

میں نے کہا، دیکھو بیٹا، ڈرو نہیں؛ اچھا جاؤ، ڈھونڈھو؛ شاید کہیں پڑی ہوئی وہ پازیب مل جائے۔ مل جائیگی تو ہم تمہیں انعام دینگے۔

وہ چلا گیا اور دوسرے کمرے میں جاکر پہلے تو ایک کونے میں کھڑا ہو گیا۔ کچھ دیر چپ چاپ کھڑے رہ کر وہ پھر یہاں وہاں پازیب کی تلاش میں لگ گیا۔

شریمتی آکر بولیں، آشو سے تم نے پوچھ لیا؟ کیا خیال ہے؟

میں نے کہا کہ شک تو مجھے ہوتا ہے۔ نوکر کا تو کام یہ ہے نہیں!

شریمتی نے کہا، نہیں جی، آشو بھلا کیوں لے گا؟

میں کچھ بولا نہیں۔ میرا من جانے کیسے گہرے محبت بھرے جذبے سے آشوتوش کےلیے امڈ رہا تھا۔ مجھے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس وقت آشوتوش کو ہمیں اپنی ہمدردی سے محروم نہیں کرنا چاہیئے۔ بلکہ کچھ مزید محبت  اسوقت لڑکے کو ملنی چاہیئے۔ مجھے یہ ایک بھاری حادثہ معلوم ہوتا تھا۔ محسوس  ہوتا تھا کہ اگر آشوتوش نے چوری کی ہے تو اس کا اتنا قصور نہیں ہے؛ بلکہ یہ ہمارے اوپر بڑا بھاری الزام ہے۔ بچہ میں چوری کی عادت بھیانک ہو سکتی ہے،لیکن بچے کے سامنے ایسی مجبوری  آئی، یہ اور بھی کہیں بھیانک ہے۔ یہ ہماری کمی ہے۔ ہم اس چوری سے بری نہیں ہو سکتے۔

میں نے بلاکر کہا، اچھا سنو۔ دیکھو، میری طرف دیکھو، یہ بتاؤکہ پازیب تم نے چھنو کو دی ہے نہ؟

وہ کچھ دیر کچھ نہیں بولا۔ اسکے چہرے پرایک  رنگ آیا اورایک گیا۔ میں ایک ایک رنگ تاڑنا چاہتا تھا۔

میں نے یقین دلاتے  ہوئے کہا کہ ڈرنے کی کوئی بات نہیں۔ ہاں، ہاں، بولو ڈرو نہیں۔ ٹھیک بتاؤ، بیٹے! کیسا ہمارا سچا بیٹا ہے!

بڑی کوششوں کے بعد اسنے اپنا سر ہلایا۔

میں نے بہت خوش ہوکر کہا کہ دی ہے نا چھنو کو؟ اسنے سر ہلا دیا۔

نہایت ہمدرانہ لہجے میں محبت سےمیں نے کہا کہ منہ سے بولو۔ چھنو کو دی ہے؟

اسنے کہا، ہاں آں۔

میں نے نہایت خوشی  کے ساتھ دونوں بانہوں میں لے کر اسے اٹھا لیا۔ کہا کہ ایسے ہی بول دیا کرتے ہیں اچھے لڑکے۔ آشو ہمارا راجابیٹا ہے۔ ایک فخریہ انداز سے اسے گود میں لیے لیے میں اسکی ماں کی طرف گیا۔ جوشیلے لہجے میں  بولا کہ دیکھو ہمارے بیٹے نے سچ قبول کیا ہے۔ پازیب اس نے چھنو کو دی ہے۔ سن کر ماں اس کی بہت خوش ہو گئیں۔ انہوں نے اسے چوما۔ بہت شاباشی دی اور اسکی بلائیں لینے لگیں!

آشوتوش بھی مسکرادیا، اگرچہ ایک اداسی بھی اس کے چہرے سے دور نہیں ہوئی تھی۔

اس کے بعد الگ لے جاکر میں نے بڑے پیار سے پوچھا کہ پازیب چھنو کے پاس ہے نا؟ جاؤ، مانگ لا سکتے ہو اس سے؟

آشوتوش میری اور دیکھتا ہوا بیٹھا رہا۔ میں نے کہا کہ جاؤ بیٹے! لے آؤ۔ اس نے جواب میں منہ نہیں کھولا۔

میں نے اصرارکیا تو وہ بولا کہ چھنو کے پاس نہیں ہوئی تو وہ کہاں سے دےگا؟

میں نے کہا کہ تو جسکو اس نے دی ہوگی اس کا نام بتا دےگا۔ سن کر وہ چپ ہو گیا۔ میرے باربار کہنے پر وہ یہی کہتا رہا کہ پازیب چھنو کے پاس نہ ہوئی تو وہ دےگا کہاں سے؟

آخر میں ہارکر میں نے کہا کہ وہ کہیں تو ہوگی۔ اچھا،تم نے کہاں سے اٹھائی تھی؟

پڑی ملی تھی۔

اور پھر نیچے جاکر وہ تم نے چھنو کو دکھائی؟

ہاں!

پھر اسی نے کہا کہ اسے بیچیں گے!

ہاں!

کہاں بیچنے کو کہا؟

کہا مٹھائی لائینگے؟

نہیں،پتنگ لائینگے؟

ہاں!

سو پازیب چھنو کے پاس رہ گئی؟

ہاں!

تو اسی کے پاس ہونی چاہیئے نا! یا پتنگ والے کے پاس ہوگی! جاؤ،بیٹا،اس سے لے آؤ۔ کہنا،ہمارے بابوجی تمہیں انعام دینگے۔

وہ جانا نہیں چاہتا تھا۔ اس نے پھر کہا کہ چھنو کے پاس نہیں ہوئی تو کہاں سے دےگا!

مجھے اس کی ضد بری معلوم ہوئی۔ میں نے کہا کہ تو کیاکہیں تم نے اسے گاڑ دیا ہے؟ کیا کیا ہے؟ بولتے کیوں نہیں؟

وہ میری طرف دیکھتا رہا، اور کچھ نہیں بولا۔

میں نے کہا،کچھ کہتے کیوں نہیں؟

وہ گم سم رہ گیا۔ اور نہیں بولا۔

میں نے ڈپٹ کر کہا کہ جاؤ،جہاں ہو وہیں سے پازیب لے کر آؤ۔

جب وہ اپنی جگہ سے نہیں اٹھا اور نہیں گیا تو میں نے اسے کان پکڑکر اٹھایا۔ کہا کہ سنتے ہو؟ جاؤ، پازیب لےکر آؤ۔ نہیں تو گھر میں تمہارا کوئی  کام نہیں ہے۔ اس طرح اٹھانے سے  وہ اٹھ گیا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔ نکل کر برآمدے کے ایک کونے میں روٹھا منہ بناکر کھڑا رہ گیا۔

مجھے بڑا عجیب محسوس ہو رہا تھا۔ یہ لڑکا سچ بول کر اب کس بات سے گھبرا رہا ہے، یہ میں کچھ سمجھ نہ سکا۔ میں نے باہر آکر دھیرے سے کہا کہ جاؤ بھائی، جاکر چھنو سے کہتے کیوں نہیں ہو؟

پہلے تو اس نے کوئی جواب نہیں دیا اور جواب دیا تو باربار کہنے لگا کہ چھنو کے پاس نہیں ہوئی تو وہ کہاں سے دےگا؟

میں نے کہا کہ جتنے میں اس نے بیچی ہوگی وہ دام دے دینگے۔ سمجھے نا!جاؤ، تم کہو تو۔

چھنو کی ماں تو کہہ رہی ہے کہ اس کا لڑکا ایسا کام نہیں کر سکتا۔ اس نے پازیب نہیں دیکھی۔

جس پر آشوتوش کی ماں نے کہا کہ نہیں تمہارا چھنو جھوٹ بولتا ہے۔ کیوں رے آشوتوش، تینے دی تھی نا؟

آشوتوش نے دھیرے سے کہا، ہاں، دی تھی۔

دوسری جانب سے چھنو بڑھکر آیا اور ہاتھ پھٹکارکر بولا کہ مجھے نہیں دی۔ کیوں رے، مجھے کب دی تھی؟

آشوتوش نے ضد باندھ کر کہا کہ دی تو تھی۔ کہہ دو، نہیں دی تھی؟

نتیجہ یہ ہوا کہ چھنو کی ماں نے چھنو کو خوب پیٹا اور خود بھی رونے لگی۔ کہتی جاتی کہ ہائے رے، اب ہم چور ہو گئے۔ ایسی بری اولاد جانے کب مٹے گی؟

بات دور تک پھیل گئی۔ پڑوس کی عورتوں کو بھنک پڑنے لگی۔ اور شریمتی نے گھر لوٹ کر کہا کہ چھنو اور اسکی ماں دونوں ایک سے ہیں۔ میں نے کہا کہ تم نے تیزا تیزی کیوں کر ڈالی؟ ایسے کوئی بات بھلا سلجھتی ہے!

بولی کہ ہاں، میں تیز بولتی ہوں،۔ اب جاؤ نا، تمہیں ان کے پاس سے پازیب نکال کر لاتے کیوں نہیں؟ تب جانوں، جب پازیب نکلوا دو۔

میں نے کہا کہ پازیب سے بڑھکر سکون ہے۔ اور ہنگامے سے تو پازیب مل نہیں جائیگی۔

شریمتی بدبداتی ہوئی ناراض ہوکر میرے سامنے سے چلی گئیں۔

تھوڑی دیر بعد چھنو کی ماں ہمارے گھر آئی۔ شریمتی انہیں لائی تھی۔ اب انکے بیچ گرمی نہیں تھی، انہوں نے میرے سامنے آکر کہا کہ چھنو تو پازیب کے لیے انکار کرتا ہے۔ وہ پازیب کتنے کی تھی، میں اسکے دام بھر سکتی ہوں۔

میں نے کہا، یہ آپ کیا کہتی ہیں! بچہ بچہ ہے۔ آپ نے چھنو سے اطمینان سے پوچھا بھی!

انہوں نے اسی لمحے چھنو کو بلاکر میرے سامنے کر دیا۔ کہا کہ کیوں رے، بتا کیوں نہیں دیتا جو تینے پازیب دیکھی ہو؟

چھنو نے زور سے سر ہلاکر انکار کیا اور بتایا کہ پازیب آشوتوش کے ہاتھ میں میں نے دیکھی تھی اور وہ پتنگ والوں کو دے آیا ہے۔ میں نے خوب دیکھی تھی، وہ چاندی کی تھی۔

تمہیں ٹھیک معلوم ہے؟

ہاں، وہ مجھ سے کہہ رہا تھا کہ تو بھی چل۔ پتنگ لائینگے۔

پازیب کتنی بڑی تھی؟ بتاؤ تو۔

چھنو نے اس کا سائز بتایا، جو ٹھیک ہی تھا۔

میں نے اس کی ماں کی طرف دیکھ کر کہا دیکھیے نا! پہلے یہی کہتا تھا کہ میں نے پازیب دیکھی تک نہیں۔ اب کہتا ہے کہ دیکھی ہے۔

ماں نے میرے سامنے چھنو کو کھینچ کر اسی وقت دھم دھم پیٹنا شروع کر دیا۔ کہا کہ کیوں رے، جھوٹ بولتا ہے؟تیری چمڑی نہ ادھیڑی تو میں نہیں۔

میں نے بیچ بچاؤ کرکے چھنو کو بچایا۔ وہ شہید کی طرح پٹتا رہا تھا۔ رویا بالکل نہیں اور ایک کونے میں کھڑے آشوتوش کو جانے کن نظروں سے دیکھ رہا تھا۔

خیر، میں نے سب کو چھٹی دی۔ کہا، جاؤ بیٹا چھنو کھیلو۔ اس کی ماں کو کہا، آپ اسے ماریےگا نہیں۔ اور پازیب کوئی ایسی بڑی چیز نہیں ہے۔

چھنو چلا گیا۔ تب، اس کی ماں نے پوچھا کہ آپ اسے قصوروار سمجھتے ہیں؟

میں نے کہا کہ معلوم تو ہوتا ہے کہ اسے کچھ پتہ ہے۔ اور وہ معاملے میں شامل ہے۔

اس پر چھنو کی ماں نے پاس بیٹھی ہوئی میری پتنی سے کہا، چلو بہن جی، میں تمہیں اپنا سارا گھر دکھائے دیتی ہوں۔

ایک ایک چیز دیکھ لو۔ ہوگی پازیب تو جائیگی کہاں؟

میں نے کہا، چھوڑیئے بھی۔ بے بات کی بات بڑھانے سے کیا فائدہ۔ سو جوں توں میں نے انہیں دلاسہ دیا۔ نہیں تو وہ چھنو کو پیٹ پاٹ حال بےحال کر ڈالنے کا عہدہی کیے لے رہی تھیں۔

بدمعاش، آج اسی دھرتی میں نہیں گاڑ دیا تو،میرا نام نہیں۔

خیر، کسی نہ کسی طور بکھیڑا ٹالا۔ میں اس جھنجھٹ میں دفتر بھی وقت پر نہیں جا سکا۔ جاتے وقت شریمتی کو کہہ گیا کہ دیکھو، آشوتوش کو دھمکانا مت۔ پیار سے ساری باتیں پوچھنا۔ دھمکانے سے بچے بگڑ جاتے ہیں، اور ہاتھ کچھ نہیں آتا۔ سمجھیں نا؟

شام کو دفتر سے لوٹا تو شریمتی سے اطلاع دی کہ آشوتوش نے سب بتلا دیا ہے۔ گیارہ آنے پیسے میں وہ پازیب پتنگ والے کو دے دی ہے۔ پیسے اس نے تھوڑے تھوڑے کرکے دینے کو کہے ہیں۔ پانچ آنے جو دیے، وہ چھنو کے پاس ہیں۔

اس طرح رتی رتی بات اس نے کہہ دی ہے۔ کہنے لگی کہ میں نے بڑے پیار سے پوچھ پوچھ کر یہ سب اس کے پیٹ میں سے نکالا ہے۔ دو تین گھنٹے میں مغز مارتی رہی۔ ہائے رام، بچہ کا بھی کیا جی ہوتا ہے۔

میں سن کر خوش ہوا۔ میں نے کہا کہ چلو اچھا ہے،اب پانچ آنے بھیج کر پازیب منگوا لیں گے۔ لیکن یہ پتنگ والا بھی کتنا بدمعاش ہے، بچوں کے ہاتھ سے ایسی چیزیں لیتا ہے۔ اسے پولس میں دے دینا چاہیے۔ اُچکّا کہیں کا!

پھر میں نے پوچھا کہ آشوتوش کہاں ہے؟

انہوں نے بتایا کہ باہر ہی کہیں کھیل کھال رہا ہوگا۔

میں نے کہا کہ بنسی، جاکر اسے بلا تو لاؤ۔

بنسی گیا اور اس نے آکر کہا کہ وہ ابھی آتے ہیں۔

کیا کر رہا ہے؟

چھنو کے ساتھ گلی ڈنڈا کھیل رہے ہیں۔

تھوڑی دیر میں آشوتوش آیا۔ تب میں نے اسے گود میں لےکر پیار کیا۔ آتےآتے اس کا چہرہ اداس ہو گیا اور گود میں لینے پر بھی وہ کوئی خاص خوش  معلوم نہیں ہوا۔ اس کی ماں نے خوش ہوکر کہا کہ آشوتوش نے سب باتیں اپنے آپ پوری پوری بتا دی ہیں۔ ہمارا آشوتوش بڑا سچا لڑکا ہے۔

آشوتوش میری گود میں ٹکا رہا۔ لیکن اپنی بڑائی سن کر بھی ایسا معلوم ہوتا تھا،اس کو کچھ خوشی نہیں ہوئی ۔ میں نے کہا کہ آؤ چلو۔ اب کیا بات ہے۔ کیوں حضرت، تم کو پانچ ہی آنے تو ملے ہیں نا؟ ہم سے پانچ آنے مانگ لیتے تو کیا ہم نہ دیتے؟ سنو،اب سے ایسا مت کرنا، بیٹے!

کمرے میں جاکر میں نے اس سے پھر پوچھ تاچھ کی، کیوں بیٹا، پتنگ والے نے پانچ آنے تمہیں دیے، ہے نا؟

ہاں!

اور وہ چھنو کے پاس ہیں نا !

ہاں!

ابھی تو اس کے پاس ہو نگے نا!

نہیں

خرچ کر دیے!

نہیں

نہیں خرچ کیے؟

ہاں

خرچ کیے، کہ نہیں خرچ کیے؟

اس طرح سے سوال کرنے وہ میری طرف دیکھتا رہا،جواب نہیں دیا۔

بتاؤ! خرچ کر دیے، کہ ابھی ہیں؟

جواب میں اس نے ایک بار ‘ہاں’ کہا تو دوسری بار’ نہیں’ کہا۔

میں نے کہا،تو یہ کیوں نہیں کہتے کہ تمہیں نہیں معلوم ہے؟

ہاں

بیٹا،معلوم ہے نا؟

ہاں

پتنگ والے سے پیسے چھنو نے لیے ہیں نا؟

ہاں

تم نے کیوں نہیں لیے؟

وہ چپ۔

اکنیاں کتنی تھیں،بولو؟

دو۔

باقی پیسے تھے؟

ہاں

دونی تھی!

ہاں۔

مجھے غصہ آنے لگا۔ ڈپٹ کر کہا کہ سچ کیوں نہیں بولتے ؟ سچ بتاؤ کتنی اکنیاں تھی اور کتنا کیا تھا۔

وہ کھڑا رہا، نہیں بولا۔

بولتے کیوں نہیں؟

وہ نہیں بولا۔

سنتے ہو! بولو نہیں تو ۔۔۔

آشوتوش ڈر گیا۔ اور کچھ نہیں بولا۔

سنتے نہیں، میں کیا کہہ رہا ہوں؟

اس بار بھی وہ نہیں بولا تو میں نے کان پکڑکر اس کے کان کھینچ لیے۔ وہ بغیر آنسو بہائے گم سم کھڑا رہا۔

اب بھی نہیں بولوگے؟

وہ ڈر کے مارے زرد ہوگیا۔ لیکن بول نہیں سکا۔ میں نے زور سے بلایا۔ بنسی یہاں آؤ، ان کو لے جاکر کوٹھری میں بند کر دو۔

بنسی نوکر اسے اٹھاکر لے گیا اور کوٹھری میں بند کر دیا۔

دس منٹ بعد پھر اسے پاس بلوایا۔ اس کا منہ سوجا ہوا تھا۔ بنا کچھ بولے اس کے ہونٹ ہل رہے تھے۔ کوٹھری میں بند ہوکر بھی وہ رویا نہیں۔

میں نے کہا، کیوں رے، اب تو عقل آئی؟

وہ سنتا ہوا گم سم کھڑا رہا۔

اچھا، پتنگ والا کون سا؟ دائیں طرف کا چوراہے والا؟

اس نے کچھ منہ میں ہی بڑبڑا دیا۔ جسے میں کچھ سمجھ نہ سکا۔

وہ چوراہے والا؟ بولو !

ہاں

دیکھو، اپنے چاچا کے ساتھ چلے جاؤ۔ بتا دینا کہ کون سا ہے۔ پھر اس سے وہ خود نمٹ لیں گے۔ سمجھتے ہو نا؟

یہ کہہ کر میں نے اپنے بھائی کو بلوایا۔ سب بات سمجھا کر کہا، دیکھو،پانچ آنے کے پیسے لے جاؤ۔ پہلے تم دور رہنا۔ آشوتوش پیسے لے جاکر اسے دے گا اور اپنی پازیب مانگے گا۔ اول تو وہ پازیب لوٹا ہی دےگا۔ نہیں تو اسے ڈانٹنا اور کہنا کہ تجھے پولس کے سپرد کر دوںگا۔ بچوں سے مال ٹھگتا ہے؟ سمجھے؟ نرمی کی ضرورت نہیں ہے۔

اور آشوتوش، اب جاؤ۔ اپنے چاچا کے ساتھ جاؤ۔ وہ اپنی جگہ پر کھڑا تھا۔ سن کر بھی ٹس سے مس ہوتا دکھائی نہیں دیا۔

نہیں جاؤ گے؟

اس نے سر ہلا دیا کہ نہیں جاؤں گا۔

میں نے تب اسے سمجھا کر کہا کہ بھیا گھر کی چیز ہے، دام لگے ہیں۔ بھلا پانچ آنے میں روپیوں کا مال کسی کے ہاتھ کھو دو گے! جاؤ، چاچا کے سنگ جاؤ۔ تمہیں کچھ نہیں کہنا ہوگا۔ ہاں، پیسے دے دینا اور اپنی چیز واپس مانگ لینا۔ دے تو دے، نہیں دے تو نہیں دے۔ تمہارا اس سے کوئی سروکار نہیں۔ سچ ہے نا، بیٹے! اب جاؤ۔

پر وہ جانے کو تیار ہی نہیں دکھا۔ مجھے لڑکے کی گستاخی پر بڑا غصہ آیا۔ میں نے کہا، اس میں بات کیا ہے؟

اس میں مشکل کہاں ہے؟ سمجھا کر بات کر رہے ہیں تو سمجھتا ہی نہیں، سنتا ہی نہیں۔ میں نے کہا کہ، کیوں رے نہیں جائے گا؟

اس نے پھر سر ہلا دیا کہ نہیں جاؤں گا۔

میں نے اپنے چھوٹے بھائی پرکاش کو بلایا۔ کہا، پرکاش، اسے پکڑکر لے جاؤ۔

پرکاش نے اسے پکڑا اور آشوتوش اپنے ہاتھ پیروں سے اس کی مزاحمت کرنے لگا۔ وہ ساتھ جانا نہیں چاہتا تھا۔ میں نے اپنے اوپر بہت جبر کرکے پھر آشوتوش کو پچکارا، کہ جاؤ بھائی! ڈرو نہیں۔ اپنی چیز گھر میں آئےگی۔

اتنی سی بات سمجھتے نہیں۔ پرکاش اسے گود میں اٹھاکر لے جاؤ اور جو چیز مانگے اسے بازار میں دلا دینا۔ جاؤ بھائی آشوتوش!

پر اس کا منہ پھولا ہوا تھا۔ جیسے تیسے بہت سمجھانے پر وہ پرکاش کے ساتھ چلا۔ ایسے چلا،گویا پیر اٹھانا اسے بھاری ہو رہا ہو۔ آٹھ برس کا یہ لڑکا ہونے کو آیا پھر بھی دیکھو نا کہ کسی بھی بات کی اس میں سمجھ نہیں ہے۔ مجھے جو غصہ آیا ، کیا بتلاؤں! لیکن یہ یاد کرکے کہ غصے سے بچے سنبھلنے کی جگہ بگڑتے ہیں، میں اپنے کو دباتا چلا گیا۔ خیر، وہ گیا تو میں نے چین کی سانس لی۔

لیکن دیکھتا کیاہوں کہ کچھدیر میں پرکاش لوٹ آیا ہے۔

میں نے پوچھا، کیوں؟

بولا کہ آشوتوش بھاگ آیا ہے۔

میں نے کہا کہ اب وہ کہاں ہے؟

وہ روٹھا کھڑا ہے،گھر میں نہیں آتا۔

جاؤ، پکڑکر تو لاؤ۔

وہ پکڑا ہوا آیا۔ میں نے کہا، کیوں رے، تو شرارت سے باز نہیں آئےگا؟ بول، جائےگا کہ نہیں؟

وہ نہیں بولا تو میں نے کس کر اس کے دو چانٹے جڑ دیے۔ تھپڑ لگتے ہی وہ ایک دم چیخا،لیکن فوراً چپ ہو گیا۔ وہ ویسے ہی میرے سامنے کھڑا رہا۔

میں نے اسے دیکھ کر مارے غصے سے کہا کہ لے جاؤ اسے میرے سامنے سے۔ جاکر کوٹھری میں بند کر دو۔

‘بدمعاش!’ اس بار وہ آدھ ایک گھنٹے بند رہا۔ مجھے خیال آیا کہ میں ٹھیک نہیں کر رہا ہوں،، لیکن جیسے کوئی دوسرا راستہ نہ دکھتا تھا۔ مار پیٹ کر من کودلاسہ دینے کی عادت پڑ گئی  تھی، اور کچھ مشق نہ تھی۔

خیر، میں نے اس بیچ پرکاش کو کہا کہ تم دونوں پتنگ والے کے پاس جاؤ۔ معلوم کرنا کہ کس نے پازیب لی ہے۔ ہوشیاری سے معلوم کرنا۔ معلوم ہونے پر سختی کرنا۔ مروت کی ضرورت نہیں۔ سمجھے۔ پرکاش گیا اور لوٹنے پر بتایا کہ اس کے پاس پازیب نہیں ہے۔

سن کر میں جھلا گیا،کہا کہ تم سے کچھ کام نہیں ہو سکتا۔ ذرا سی بات نہیں ہوئی،تم سے کیا امید رکھی جائے؟ وہ اپنی صفائی دینے لگا۔ میں نے کہا، بس، تم جاؤ۔

پرکاش میرا بہت لحاظ کرتا تھا۔ وہ منہ لٹکا کر چلا گیا۔ کوٹھری کھلوانے پر آشوتوش کو فرش پر سوتا پایا۔ اس کے چہرے پر اب بھی آنسو نہیں تھے۔ سچ پوچھو تو مجھے اس وقت لڑکے پر بڑا ترس آیا۔ لیکن آدمی میں ایک ہی ساتھ جانے کیا کیا متضاد جذبات سراٹھاتے ہیں! میں نے اسے جگایا۔ وہ ہڑبڑاکر اٹھا۔ میں نے کہا، کہو، کیا حالت ہے؟

تھوڑی دیر تک وہ سمجھا ہی نہیں۔ پھر شاید پچھلا سلسلہ یاد آیا۔ جھٹ اس کے چہرے پر وہیں ضِد، اکڑ اور بغاوت کے آثار دکھائی دینے لگے۔

میں نے کہا کہ یا تو راضی راضی چلے جاؤ نہیں تو اس کوٹھری میں پھر بند کیے دیتے ہیں۔ آشوتوش پر اس کا خاص اثر ہوتامعلوم نہیں ہوا۔

خیر، اسے پکڑکر لایا اور سمجھانے لگا۔ میں نے نکال کر اسے ایک روپیہ دیا اور کہا، بیٹا، اسے پتنگ والے کو دے دینا اور پازیب مانگ لینا ۔کوئی گھبرانے کی بات نہیں۔ تم سمجھدار لڑکے ہو۔

اس نے کہا کہ جو پازیب اس کے پاس نہیں ہوئی تو وہ کہاں سے دےگا؟

اس کا کیا مطلب، تم نے کہا نا کہ پانچ آنے میں پازیب دی ہے۔ نہ ہو تو چھنو کو بھی ساتھ لے لینا۔ سمجھے؟ وہ چپ ہو گیا۔ آخر سمجھانے پر جانے کو تیار ہوا۔ میں نے پیار سے اسے پرکاش کے ساتھ جانے کو کہا۔

اس کا منہ بھاری دیکھ کر ڈانٹنے والا ہی تھا کہ اتنے میں سامنے اس کی بوا دکھائی دی۔ بوا نے آشوتوش کے سر پر ہاتھ رکھ کر پوچھا کہ کہاں جا رہے ہو، میں تو تمہارے لیے کیلے اور مٹھائی لائی ہوں،۔ آشوتوش کا چہرہ روٹھا ہی رہا۔ میں نے بوا سے کہا کہ اسے روکو مت، جانے دو۔

آشوتوش رکنے کوتیار تھا۔ وہ چلنے میں آناکانی دکھانے لگا۔ بوا نے پوچھا، کیا بات ہے؟

میں نے کہا، کوئی بات نہیں، جانے دو نا اسے۔

پر آشوتوش مچلنے پر آ گیا تھا۔ میں نے ڈانٹ کر کہا، پرکاش، اسے لے کیوں نہیں جاتے ہو؟

بوا نے کہا کہ بات کیا ہے؟ کیا بات ہے؟

میں نے پکارا، بنسی، تو بھی ساتھ جا۔ بیچ سے لوٹنے نہ پائے۔ سو میرے حکم پر دونوں آشوتوش کو زبردستی اٹھاکر سامنے سے لے گئے۔ بوا نے کہا، کیوں اسے ستا رہے ہو؟

میں نے کہا کہ کچھ نہیں، ذرا یوں ہی۔ پھر میں ان کے ساتھ ادھرادھر کی باتیں لے بیٹھا۔سیاست ملک کی ہی نہیں ہوتی، محلے میں بھی سیاست ہوتی ہے۔ یہ بوجھ عورتوں پر لدا ہوتا ہے۔ کہاں کیا ہوا، کیا ہونا چاہیے وغیرہ کی چرچا عورتوں کو لےکر رنگ پھیلاتی ہے۔ اسی طرح کی کچھ باتیں ہوئیں، پھر چھوٹا سا بکسا سرکا کروہ بولی، ان میں وہ کاغذ ہیں جو تم نے مانگے تھے۔ اور یہاں—یہ کہہ کر اس نے اپنی باسکٹ کی جیب میں ہاتھ ڈال کر پازیب نکال کر سامنے کی۔

جیسے سامنے بچھو ہوں۔ میں خوف زدہ ساہوکر کہہ اٹھا کہ یہ کیا؟

 بولی کہ اس روز بھول سے یہ ایک پازیب میرے ساتھ چلی گئی تھی۔

٠٠٠

Attention Required! | Cloudflare

Sorry, you have been blocked

You are unable to access wajibjp.cfd

Why have I been blocked?

This website is using a security service to protect itself from online attacks. The action you just performed triggered the security solution. There are several actions that could trigger this block including submitting a certain word or phrase, a SQL command or malformed data.

What can I do to resolve this?

You can email the site owner to let them know you were blocked. Please include what you were doing when this page came up and the Cloudflare Ray ID found at the bottom of this page.

news-1701

yakinjp

yakinjp

rtp yakinjp

yakinjp

yakinjp

yakin jp

yakinjp id

maujp

maujp

maujp

sabung ayam online

sabung ayam online

SLOT MAHJONG

sabung ayam online

article 838000638

article 838000639

article 838000640

article 838000641

article 838000642

article 838000643

article 838000644

article 838000645

article 838000646

article 838000647

article 838000648

article 838000649

article 838000650

article 838000651

article 838000652

article 838000653

article 838000654

article 838000655

article 838000656

article 838000657

article 838000658

article 838000659

article 838000660

article 838000661

article 838000662

article 838000663

article 838000664

article 838000665

article 838000666

article 838000667

article 838000668

article 838000669

article 838000670

article 838000671

article 838000672

article 838000673

article 838000674

article 838000675

article 838000676

article 838000677

article 838000678

article 838000679

article 838000680

article 838000681

article 838000682

article 838000683

article 838000684

article 838000685

article 838000686

article 838000687

article 838000688

article 838000689

article 838000690

article 838000691

article 838000692

article 838000693

article 838000694

article 838000695

article 838000696

article 838000697

article 238000456

article 238000457

article 238000458

article 238000459

article 238000460

article 238000461

article 238000462

article 238000463

article 238000464

article 238000465

article 238000466

article 238000467

article 238000468

article 238000469

article 238000470

article 238000471

article 238000472

article 238000473

article 238000474

article 238000475

article 238000476

article 238000477

article 238000478

article 238000479

article 238000480

article 238000481

article 238000482

article 238000483

article 238000484

article 238000485

article 238000486

article 238000487

article 238000488

article 238000489

article 238000490

article 238000491

article 238000492

article 238000493

article 238000494

article 238000495

article 238000496

article 238000497

article 238000498

article 238000499

article 238000500

article 238000501

article 238000502

article 238000503

article 238000504

article 238000505

article 238000506

article 238000507

article 238000508

article 238000509

article 238000510

article 238000511

article 238000512

article 238000513

article 238000514

article 238000515

article 7700246

article 7700247

article 7700248

article 7700249

article 7700250

article 7700251

article 7700252

article 7700253

article 7700254

article 7700255

article 7700256

article 7700257

article 7700258

article 7700259

article 7700260

article 7700261

article 7700262

article 7700263

article 7700264

article 7700265

article 7700266

article 7700267

article 7700268

article 7700269

article 7700270

article 7700271

article 7700272

article 7700273

article 7700274

article 7700275

article 7700276

article 7700277

article 7700278

article 7700279

article 7700280

article 7700281

article 7700282

article 7700283

article 7700284

article 7700285

article 2000431

article 2000432

article 2000433

article 2000434

article 2000435

article 2000436

article 2000437

article 2000438

article 2000439

article 2000440

article 2000441

article 2000442

article 2000443

article 2000444

article 2000445

article 2000446

article 2000447

article 2000448

article 2000449

article 2000450

article 2000451

article 2000452

article 2000453

article 2000454

article 2000455

article 2000456

article 2000457

article 2000458

article 2000459

article 2000460

article 2000461

article 2000462

article 2000463

article 2000464

article 2000465

article 2000466

article 2000467

article 2000468

article 2000469

article 2000470

article 2000471

article 2000472

article 2000473

article 2000474

article 2000475

article 2000476

article 2000477

article 2000478

article 2000479

article 2000480

article 2000481

article 2000482

article 2000483

article 2000484

article 2000485

article 2000486

article 2000487

article 2000488

article 2000489

article 2000490

article 2990581

article 2990582

article 2990583

article 2990584

article 2990585

article 2990586

article 2990587

article 2990588

article 2990589

article 2990590

article 2990591

article 2990592

article 2990593

article 2990594

article 2990595

article 2990596

article 2990597

article 2990598

article 2990599

article 2990600

article 2990601

article 2990602

article 2990603

article 2990604

article 2990605

article 2990606

article 2990607

article 2990608

article 2990609

article 2990610

article 2990611

article 2990612

article 2990613

article 2990614

article 2990615

article 2990616

article 2990617

article 2990618

article 2990619

article 2990620

article 10000416

article 10000417

article 10000418

article 10000419

article 10000420

article 10000421

article 10000422

article 10000423

article 10000424

article 10000425

article 10000426

article 10000427

article 10000428

article 10000429

article 10000430

article 10000431

article 10000432

article 10000433

article 10000434

article 10000435

article 10000436

article 10000437

article 10000438

article 10000439

article 10000440

article 10000441

article 10000442

article 10000443

article 10000444

article 10000445

article 10000446

article 10000447

article 10000448

article 10000449

article 10000450

news-1701