خوابوں کی انجیل

روزانہ صبح نو بجے سے شام پانچ بجے تک میں اپنی نشست پر بیٹھی دوسروں کے خواب ٹائپ کرتی رہتی ہوں۔ مجھے اسی لیے ملازم رکھا گیا ہے۔ میرے افسروں کا حکم ہے کہ میں تمام چیزیں ٹائپ کروں۔خواب، شکایات، ماں سے اختلاف،بوتل اور بستر کے مسائل، باپ سے جھگڑا، سر درد جو اتنا شدید ہو جاتا ہے کہ دنیا کی تمام لذتیں ماند پڑ جاتی ہیں۔ ہمارے دفتر میں صرف وہی لوگ آتے ہیں جن کے گھروں میں عذاب بھر چکے ہوتے ہیں۔

ممکن ہے کہ چوہا اپنے جسمانی زاویہ نگاہ کے سبب بہت جلد سمجھ جاتا ہوکہ دور سے آتے دکھائی دینے والے دو بڑے پاؤں کائنات کا نظام کس طرح چلاتے ہیں۔ لیکن جہاں سے میں دنیا کو دیکھتی ہوںوہاں سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے نگہبان کا نام “سراسیمہ”ہے۔

سراسیمہ کی بھی شکل ہو سکتی ہے۔ کتا، طوائف، چڑیل شیطان۔۔۔۔۔ سو جائے یا جاگتا رہے، وہ سراسیمہ ہی رہتا ہے۔

جب لوگ سوال کرتے ہیں کہ میں کہاں کام کرتی ہوں تو میں انہیں بتاتی ہوں کہ میرا کام شہر کے اسپتال کے ایک شعبے کا ریکارڈ درست رکھنا ہے۔ عام طور پر یہ جواب کافی ثابت ہوتا ہے۔ اسکے بعد کوئی اس طرح کی بات نہیں پوچھتا جس کے جواب میں مجھے بتانا پڑے کہ میں پہلے سے موجود ریکارڈ کی نگہداشت کے علاوہ نیا ریکارڈ ٹائپ بھی کرتی ہوں۔ دراصل نیا ریکارڈ ٹائپ کرنا ہی میرا پیشہ ہے اور میں اپنے پیشے سے مقدس انداز میں وابستہ ہوں۔ اس لیے کہ میری تحویل میں خوابوں کے ڈھیر ہیں۔ اور میں کسی کو یہ نہیں بتا سکتی۔ نہیں بتا سکتی کہ میں اپنے گھر کے کمرے میں ہسپتال کے قوانین کی پابند نہیں ہوں۔ یہاں میں فقط سراسیمہ کے احکام پر عمل کرتی ہوں جو مجھے خواب جمع کرنے کی ہدایت کرتا ہے۔

خواب در خواب میں بالغ ہو رہی ہوں اور اسی رفتار سے خوابوں سے میری شناسائی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ سلسلہ جاری رہا تو ایک دن میں دنیا کی سب سے بڑی خواب آشنا بن جاؤں گی لیکن خواب شناسی کی انتہا پر پہنچ کر بھی میں لوگوں کے خواب روکنے کی کوشش نہیں کروں گی۔ خوابوں کا ناجائز استعمال نہیں کروں گی۔ یہاں تک کہ میں خوابوں کی تعبیر بتانے کا بھی کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔میں تو صرف خواب جمع کرنا چاہتی ہوں۔ انہیں پہچاننا چاہتی ہوں، ان سے محبت کرنا چاہتی ہوں۔ میں سراسیمہ کی کارکن ہوں اور خواب جمع کرنا میرے فرائض میں شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں اپنے ٹائپ شدہ خواب اتنی بار پڑھتی ہوں کہ وہ مجھے زبانی یاد ہو جاتے ہیں۔ پھر میں گھر جا کر انہیں سراسیمہ کی مقدس کتاب میں درج کر دیتی ہوں۔

کبھی کبھی میں رات کے وقت اپنے گھر کی چھت پر چلی جاتی ہوں۔ وہاں سے نیند بھرے شہر کو دیکھنا مجھے اچھا لگتا ہے۔چھت پر ٹہلتے ہوئے وائلن کے تار کی طرح ہمہ وقت لرزنے کے لیے تیار رہتی ہوں۔صبح کے آثار نمودار ہونے پر تھکن سے چور اپنے بستر پر آتی ہوں اور کسی بخار زدہ شخص کی طرح سو جاتی ہوں۔ شہر میں موجود انسانی سروں کا شمار، پھر ان سروں میں آنے والے مصنوعی خوابوں کا حساب مجھے بے انتہا تھکا دیتا ہے۔

دوسرے دن مجھے وہی خواب ٹائپ کرنا ہوتے ہیں جنہیں میں رات اپنی چھت سے محسوس کر چکی ہوں۔ یقینا شہر بھر کے خواب لامحدود ہیں اور میں شام تک فقط ان کا ایک معمولی حصہ ٹائپ کر سکتی ہوں لیکن اسکے باوجود میرے دفتر میں فائلوں کا انبار بڑھتا جا رہا ہے۔ اور بہت جلد وہ دن آنے والا ہے جب دفتر میں سوائے خوابوں کی فائلوں کے کوئی دوسری چیز رکھنے کی جگہ نہیں بچے گی۔

یوں بھی ہوتا ہے کہ میں لوگوں کو انکے خوابوں کے حوالے سے پہچاننے لگی ہوں۔ بہت سے مریض ایسے ہوتے ہیں کہ میں انکے نام بھول جاتی ہوں۔ لیکن انکے خواب یاد رہتے ہیں۔ مثلا یہ آدمی جو ایک فیکٹری میں کام کرتا ہے خواب میں خود کو کسی مشین کے پہیوں میں پھنسا ہوا محسوس کرتا ہے۔ یہ اس خواب میں اتنا خوفزدہ ہو جاتا ہے کہ آنکھ کھلنے کے بعد بھی کچھ دیر تک چیختا رہتا ہے۔ اس طرح کے اور لوگ بھی ہیں جو خواب میں دیکھتے ہیں کہ وہ کسی مشین تلے روندے جا رہے ہیں، یا کوئی ایجاد انہیں نگل رہی ہے۔ کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ جب مشینیں نہیں تھیں اس وقت لوگ کس طرح کے خوابوں سے ڈرتے ہونگے۔

میرا اپنا بھی ایک خواب ہے۔ اس خواب میں ایک بہت بڑی جھیل نظر آتی ہے۔ اتنی بڑی کہ اسکے کنارے ہیلی کاپٹر کے شیشے والے پیٹ سے بھی نظر نہیں آتےجہاں سے میں اسکی تہہ میں جھانکتی ہوں۔ جھیل کا پانی خوفناک بلاؤں سے بھرا ہوا ہے۔ایسی بلائیں جو قدیم زمانے میں زمین کی سطح پر گھومتی تھیں۔وہ زمانہ جب انسان غاروں میں رہتا تھا۔ ابھی اس نے آگ نہیں جلائی تھی، فصل نہیں اگائی تھی۔ اس خواب میں سورج چاند ستارے اور زمیں آسمان کے درمیان پائی جانے والی دیگر تمام چیزوں کی شکلیں اور خصوصیات بدلی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ اچانک جھیل کی سطح برف سے ڈھک جاتی ہے اور میرے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے پڑنے لگتے ہیں۔ یہاں تک کہ میں جاگ جاتی ہوں۔ اس خواب سے نکلنے کے بعد کچھ دیر تک کسی بھی خواب میں معنی تلاش کرنا لاحاصل لگتا ہے۔

یہی وہ جھیل ہے جہاں رات کے وقت شہر بھر کے خواب بہتے ہوئے آتے ہیں۔یہاں پہنچ کر تمام دماغوں کا گرد و غبار بیٹھ جاتا ہے۔ظاہر ہے کہ یہ جھیل شہر کے مضافات میں پائے جانے والے پینے کے شفاف پانی کے ان ذخیروں جیسی نہیں ہو سکتی، جن کی دن رات یوں حفاظت کی جاتی ہے جیسے وہ خاردار تاروں کے درمیان رکھے انمول ہیرے ہوں۔یہ ایک مختلف جھیل ہے۔صدیوں کے گلتے سڑتے جمع شدہ خوابوں سے اس جھیل کا پانی مٹیالا اور بدبو دار ہو گیا ہے اور اسکی سطح سے ہر وقت دھواں اٹھتا رہتا ہے۔

ایک سر میں رات بھر میں کتنے خواب آتے ہیں۔ اور شہر میں مجموعی سروں کی تعداد کیا ہے؟ اور دنیا میں اسطرح کے کتنے شہر پائے جاتے ہیں؟ اور زمیں پر کتنی راتیں گزر چکی ہیں؟؟ میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو ریاضی میں تیز ہوتے ہیں۔ اور بڑے بڑے اعداد کا لمحوں میں حساب لگا لیتے ہیں۔ میں تو صرف اس ایک شہر میں رات بھر میں دیکھے جانے والے خوابوں کا شمار کرتی ہوں تو میرا سر چکرا جاتا ہے۔

یہ عجیب جھیل ہے۔ اس میں پیار کرنے والوں کے چہرے اور پھولی ہوئی لاشیں اور یادیں اور دھند اور دھواں اور پرزے اور سائنسی ایجادات اور نفع اور نقصان ایک دوسرے سے لپٹے تیرتےرہتے ہیں اور کبھی کبھی مجھے اس میں مردہ پیدا ہونے والے بچے بھی نظر آتے ہیں۔ مردہ پیدا ہونے والے بچے دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے وہ جھیل کی دوسری سمت بیٹھے عظیم تخلیق کار کے نامکمل پیغامات ہوں۔

اس جھیل کو کوئی بھی نام دے لو۔دنیا کے تمام افراد ایک برادری کی صورت میں یہاں نظر آتے ہیں۔ ایک انبوہ ایک ڈھیر ، ایک ناقابل فہم انبار جو سوتے میں بالکل ایک چیز کا بنا لگتا ہے لیکن جونہی جاگتا ہے جدا جدا ہو جاتا ہے۔جھیل کی اکائی میں سب ثنویت سے پاک ہو جاتے ہیں۔ مگر عالم بیداری میں انہیں دوبارہ اپنی اپنی شخصیتوں کا لبادہ اوڑھنا پڑے گا۔

جھیل کا خواب میرا ذاتی خواب ہے۔ اسے میں کسی ریکارڈ میں درج نہیں کرونگی۔ کسی فائل میں دفن نہیں ہونے دونگی۔

اہم بات یہ ہے کہ ہسپتال کے جس شعبے میں مجھے ملازمت ملی ہے وہ دوسرے شعبوں سے بہت مختلف ہے۔ہمارے شعبے میں دوائیں نہیں دی جاتیں۔ مریض سے صرف گفتگو کی جاتی ہے۔ اسکی سنی جاتی ہے اسے محسوس کیا جاتا ہے۔ مجھے اپنے شعبے کا طریقہ کار پسند ہے۔ یہ ان جسمانی بیماریوں والے شعبوں کے طریقے سے بہتر ہے۔ جہاں رنگین حلول اور سفوف کے ڈھیر لگے ہوتے ہیں۔ہمارے ہسپتال کی عمارت نیم تاریک اور تنگ ہے،جس کے باعث کبھی کبھی دوسرے شعبوں کے مریض اور معالج بھی ہمارے کمروں میں عارضی طور پر منتقل ہو جاتے ہیں۔ ایسے دنوں میں ہمارے شعبے کی برتری مزید نمایاں ہو جاتی ہے۔

منگل اور بدھ کے روز جگہ کی کمی کے سبب آپریشن والے مریضوں کے پلنگ ہمارے شعبے کے ہال میں کھڑے کر دیئے جاتے ہیں۔ ٹائپنگ کے دوران میری نظر بار بار انکی طرف اٹھ جاتی ہے۔جس جگہ میں بیٹھتی ہوں وہاں سے مریضوں کے فقط پاؤں نظر آتے ہیں۔ سرخ کمبلوں اور سفید چادروں سے نکلے صاف ستھرے زرد پیروں کی طویل قطار۔

کسی کسی دن اعصابی شعبے والے بھی ہمارا کوئی کمرہ استعمال کرتے ہیں۔۔ انکے مریض عجیب و غریب بولیاں بولتے ہیں۔ لاطینی اور چینی زبانوں کے گانے گاتے ہیں اور سارا وقت شور مچاتے ہیں۔ اگر ایسے مریضوں کی جسمانی حالت درست ثابت ہو جائے تو اعصابی امراض کے ماہر انہیں ہمارے شعبے میں بھیج دیتے ہیں۔

ان دشواریوں کے باوجود میں اپنے کام سے غافل نہیں ہوتی۔ سر جھکائے مسلسل دوسروں کے خواب ٹائپ کرتی چلی جاتی ہوں۔ اب تو میرے پاس مریضوں کے خوابوں کے علاوہ اپنے ابھی ایک زیادہ خواب جمع ہوچکے ہیں۔ یہ خواب میں نے خود تخلیق کیے ہیں لیکن ابھی میں ان خوابوں کو خود سے بھی نہیں دہراؤں گی۔ کچھ عرصے تک انہیں اس مجسمے کی طرح وقت گزارنا ہوگا جو اپنی نقاب کشائی کی رسم سے ایک لمحے قبل تک مخمل کے سرخ کپڑے میں سر سے پاؤں تک ڈھکا رہتا ہے۔

میں جو بھی خواب حاصل کرتی ہوں جس طرح بھی حاصل کرتی ہوں اس پر “سراسیمہ” کے دستخط ضرور ہوتے ہیں۔ سراسیمہ کو ڈرامائی انداز میں ظاہر ہونا پسند ہے۔ ہر چند کہ وہ ظاہر ہونے کے لیے مختلف جگہوں اور اوقات کا انتخاب کرتا ہے، مگر کوئی جگہ ، کوئی وقت ہو، وہ ہمیشہ ڈرامائی انداز میں سامنے آتا ہے۔

خوابوں کا کاروبار بہت خطرناک ہوتا ہے۔ اگر سراسیمہ اپنی جانب سے اس میں شاعری کا عنصر شامل نہ کر دے تو یہ کاروبار ناقابل برداشت ہوجائے۔ خوابوں کے کاروبارمیں شاعری کا عنصر شامل کرنے پر میں سراسیمہ کی شکر گزار ہوں۔

چمڑے کی جیکٹ میں ملبوس اس نوجوان نے بتایا تھا کہ اس کے خواب۔۔۔۔ لیکن میں یہ کیسے کہہ سکتی ہوں کہ یہ اس نوجوان کا خواب ہے جو اس روز سیاہ جیکٹ پہنے ہمارے کلینک میں داخل ہواتھا؟ مجھے یقین ہے کہ یہ اسکا ذاتی خواب ہے۔

دل میں یقین کا جذبہ ہوتو طاقت اور التجاؤں اور آنسوؤں سےخواب تحریر کیے جا سکتے ہیں۔ دوسروں کے خواب ٹائپ کرنا آسان کام ہے لیکن ذاتی خواب تخلیق کرنے میں بہت توانائی صرف ہوتی ہے۔

ہسپتال کے مرکز میں ایک اور شعبہ ہے جو ہمارے شعبے سے بھی زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ جس کے خواب ہمارے بس میں نہ آسکیں اسے ہم عمارت کے مرکزی حصے میں بھیج دیتے ہیں۔ میں نے ہسپتال کا وہ شعبہ آج تک نہیں دیکھا۔ ہر چند کہ اسکی سیکرٹری میری واقف ہے۔(ہم دونوں ایک ہی ہال میں دوپہر کاکھانا کھاتے ہیں) مگر اسکا حلیہ اور اٹھنے بیٹھنے کا انداز مجھے اس سے دور رکھتا ہے۔ اسکا نام بھی عجیب سا ہے۔میں اکثر اسکا نام بھول جاتی ہوں۔ “مل رویج” یا “مل روج” اس طرح کے نام ٹیلی فون ڈائریکٹری میں نظر نہیں آتے۔ میں نے ایک مرتبہ ٹیلی فون ڈائریکٹری کی ورق گردانی کی تھی اور یہ دیکھ کر خوش ہوئی تھی کہ شہر میں بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جن کا نام “اسمتھ” نہیں ہے۔

بہرحال یہ مل رویج یا مل روج نام کی عورت بڑی صحت مند اور اونچی لمبی ہے۔ اسکا لباس عام لباس سے زیادہ کسی ادارے کی وردی معلوم ہوتی ہے۔(ضروری نہیں کہ یہ ادارہ کوئی قانون ہی نافذ کرتا ہو) مل روج کے سنگین چہرے پرچند غیر معمولی تل بھی ہیں۔ یہ تل دیکھ کر خیال آتا ہے کہ شاید مل روج کا چہرہ سورج کی روشنی میں بہت کم رہا ہے۔دھوپ کی تپش حاصل نہ ہو تو چہرے پر طرح طرح کے داغ پڑ جاتے ہیں۔ ممکن ہے مل روج نے مصنوعی روشنیوں تلے پرورش پائی ہو۔ اگر اسکے چہرے سے اسکی آنکھیں نوچنے کی کوشش کی جائے تو محسوس ہو گا جیسے کوئی پتھر کھرچ رہا ہے۔

میرے وارڈ کی ہیڈ سیکرٹری کا نام مس ٹیلرہے۔ مس ٹیلر روز اول سے ہمارے وارڈ سے وابستہ ہیں۔ عجیب اتفاق ہے کہ جس دن میں پیدا ہوئی تھی اسی روز وارڈ کا افتتاح ہوا تھا۔ مس ٹیلر ہسپتال کے بارے میں ہر چیز جانتی ہے۔ وہ اسکے تمام ڈاکٹروں مریضوں شعبوں اور منصوبوں سے واقف ہے۔ اپنے پیشے میں اتنی لگن میں نے کسی اور میں نہیں دیکھی۔ وہ ہسپتال میں موجود ہر جان دار اور بے جان شے کا حساب رکھتی ہیں۔ اس تمام وقت اعداد و شمار میں گھرا دیکھ کر مجھے حیرت ہوتی ہے۔

دفتر میں میری دلچسپی صرف خواب جمع کرنے کی حد تک ہے۔ مجھے یقنر ہے کہ اگر ہسپتال میں آگ لگ جائے تو مس ٹیلر خود کو بچانے سے پہلے اعداد و شمار کی فائلیں بچانے کی کوشش کرے گی۔ میرے اور مس ٹیلر کے مشاغل مختلف ہونے کے باوجود ہمارے آپس کے تعلقات بہت خوشگوار ہیں۔ بس میں یہ نہیں چاہتی کہ وہ مجھے دفتر کی فائلوں میں پرانے خواب پڑھتے دیکھ لے۔ عام طور پر ہمارا شعبہ بے پناہ مصروف رہتا ہے۔ لیکن پھر بھی مجھے کبھی کبھی خوابوں کے پرانے ریکارڈوں میں جھانکنے کا موقع مل ہی جاتا ہے۔ مگر اتنی عجلت میں انوکھے اور اچھوتے خوابوں کا انتخاب ایک مشکل عمل ہے۔ میرے فن کا تقاضا ہے کہ میں فرصٹ سے بیٹھوں ، خوابوں کی گہرائی میں اتروں، انکے سارے پہلوؤں کو جانچوں ، انہیں ہر زاویے سے پرکھوں اور پھر جن خوابوں کو ہر طرح سے مکمل پاؤں، انہیں گھر لے جا کر خوابوں کی مقدس کتاب میں درج کر دوں۔ اگر شراب کا معیار بتانے والے ماہرین پہلا قطرہ چکھنے سے قبل ایک گھنٹے تک شراب کی خوشبو سونگھ سکتے ہیں تو میں خوابوں کے سلسلے میں اس فرصت اور سہولت سے کیوں محروم ہوں۔

کبھی کبھی میرا جی چاہتا ہے کہ میں ایک بڑا ٹرنک لاؤں اور خوابوں کی ساری فائلیں اس میں بھر کے لے جاؤں۔ہسپتال کے گیٹ پر غیر معمولی قسم کی پوٹلیوں اور بنڈلوں کو کھلوا کر دیکھا جاتا ہےاور سٹاف کے چند دوسرے لوگ بھی سرکاری سامان کی نگہداشت پر مامور ہیں،مگر میں ٹائپ رائٹر یا کوئی قیمتی دوا وغیرہ چرانے کا منصوبہ نہیں بنا رہی۔ میں تو بس پرانے خوابوں کی فائلیں ایک رات کے لیے گھر لے جاؤں گی اور دوسری صبح انہیں اسی ترتیب سے دوبارہ الماری میں سجا دونگی۔ اس میں کسی کا کیا نقصان ہے؟یوں تو میں خوابوں میں فقط جھانکنے سے بھی بہت کچھ معلوم کر سکتی ہوں لیکن مس ٹیلر کے آنے جانے کا کوئی وقت مقرر نہیں ہے جس کے سبب میں ہر آہٹ اور سرگوشی پر چونک جاتی ہوں اور اسطرح میں چند لمحوں کے لیے بھی اپنا شوق مکمل توجہ سے پورا نہیں کر پاتی۔

اداس دنوں میں جب میرے پاس اتنا وقت بھی نہیں ہوتا کہ پرانی فائلوں سے کسی خواب کی ایک جھلک ہی دیکھ لوں ، سراسیمہ میری جانب پشت کر کے پہاڑوں جتنا بلند ہو جاتا ہے اور مجھ پر اتنا خوف طاری ہوتا ہے کہ میں اپنے حواس گم کر بیٹھتی ہوں۔ ایسے موقع پر میری حالت ان بھیڑوں کی سی ہوتی ہے جو آنکھوں کے سامنے اُگی سبز گھاس چرنے میں اس قدر مشغول ہو جاتی ہیں کہ چراگاہ کے اختتام پر قربانی کے چبوترے کی موجودگی سے آخری لمحے تک بے خبر رہتی ہیں۔

اس سے زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ ڈاکٹر ہر روز سراسیمہ کے آدمیوں کو انکی پناہ گاہوں سے باہر نکال رہے ہیں۔ ڈاکٹروں کے لیے سراسیمہ کے دربار تک رسائی رکھنے والوں کی بھی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ہر چند کہ اسکے گروہ میں فقط وہی نمایاں منصب پر فائز ہوتا ہے جو خوابوں کو یاد رکھے اور خواب دیکھنے والوں کو بھول جائے۔ یوں بھی خوابوں کے مقابلے میں خواب دیکھنے والوں کی کیا وقعت ہے؟ مگر ڈاکٹر یہ تسلیم نہیں کرتے۔ انکے لیے تو سراسیمہ مریض کے بدن میں داخل ہونے والا کانچ کا ٹکڑا ہے جسے وہ روحانی پائپوں کی مدد سے باہر نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ہیری کے ساتھ کیا ہوا تھا؟ اعتراض کرنے والوں کو ڈاکٹر یاد دلاتے ہیں۔” جب وہ ہمارے شعبے میں داخل ہوا تھا تو سراسیمہ اسکے شانے پر ہاتھ رکھ چکا تھا۔اسی لیے تو اسے پوری دنیا غلاظت کا ڈھیر نظر آنے لگی تھی۔اس نے کام پر جانا چھوڑ دیا تھا کہ راستے میں انسانوں کا تھوک اور جانوروں کی آلودگی پڑی ہوتی ہے۔ پہلے یہ گندگی جوتوں کو لگتی ہے، وہ کہتا تھاا ور جب گھر آ کر جوتے اتارو تو ہاتھ ناپاک ہو جاتے ہیں۔اسکے بعد منہ تک پہنچنے میں اسے دیر ہی کتنی لگتی ہے؟”

ہیری کو جسمانی معذور بھی برے لگتے تھے۔”معذوروں کے ناخن اور کانوں کا پچھلا حصہ میل سے اٹا ہوتا ہے۔” وہ اکثر گفتگو کا آغاز ہی اس جملے سے کرتا تھا۔لیکن ہمارے مشوروں اور ہدایات پر عمل کرنے سے وہ بالکل نارمل ہو گیا تھا۔ یاد ہے؟ علاج کے آخری دن اس نے ہم سب کے ساتھ کیسی خوش دلی سے ہاتھ ملایا تھا اور ہمارا شکریہ ادا کر کے رخصت ہوا تھا۔ مجھے یاد ہے آخری دن دن اسکی آنکھوں کے شعلے بجھے ہوئے تھے۔ اور وہ احمقوں کی طرح مسکراتا ہوا ہمارے کلینک سے روانہ ہوا تھا، اگر صورتحال یہی رہے تو کتنے ہیری آئیں گے۔ صحت یاب ہو کر چلے جائیں گے اور میں اپنے خوابوں کے ذخیرے میں کوئی اضافہ نہیں کر سکوں گی۔ مجھے بہرطور اپنی رفتار بڑھانی ہے اور مس ٹیلر کی موجودگی میں یہ ناممکن ہے۔ اس مسئلے کا صرف یہی حل ہے کہ کوئی رات میں دفتر میں ہی گزاروں اور تمام فائلوں سے اپنے مطلب کے خواب اپنی ڈائری میں تحریر کر لوں۔

دفتر میں رات گزارنے کا خیال کئی دنوں سے(کمبلوں سے نکلے مریضوں کے زرد پیروں کی قطارکی طرح) بار بار میرے سامنے آرہا ہے۔ ایک دن شام کے پانچ بجے میں خود کو دفتر کے واش روم میں چھپا دیکھتی ہوں۔ گہرے ہوتے اندھیرے کے ساتھ دفتر سے گھر جانیوالوں کے قدموں کی چاپ آہستہ آہستہ معدوم ہو جاتی ہے۔میں واش روم سے باہر نکلتی ہوں تو دن بھر مصروف رہنے والے ہسپتال کی عمارت سوموار کے چرچ کی طرح خالی اور اداس محسوس ہوتی ہے۔ میں فوراََ اپنے کمرے میں داخل ہوتی ہوں۔ٹائپ رائٹرز اپنے خانوںمیں بند کیے جا چکے ہیں۔ٹیلی فونوں میں تالے پڑے ہیں دنیا اپنی جگہ موجود ہے۔

میں چھت پر لگا ہلکی طاقت کا بلب روشن کر کے ریکارڈ میں موجود خوابوں کی سب سے پرانی فائل کا پہلا صفحہ کھولتی ہوں۔فائل کا رنگ ابتدا میں نیلا رہا ہو گا، مگر اب اسکی جلد زرد ہو گئی ہے۔ میری پیدائش کے دن یہ فائل بالکل نئی ہو گی۔ میں صبح تک اس فائل کی ورق گردانی کرتی ہوں۔ آدھی رات کے قریب میں اس فائل میں درج آخری خواب پڑھتی ہوں۔ مئی کی انیس تاریخ کو ایک نرس اپنے مریض کی الماری کھول کر لانڈری کے تھیلے سے پانچ کٹے ہوئے سر نکالتی ہے۔ ان میں ایک سر نرس کی ماں کا ہے۔

سرد ہوا کا ایک ہلکا جھونکا میری گردن کو چھوتا ہوا گزر جاتا ہے۔میں خوابوں کی فائلوں کے سامنے فرش پر بیٹھی ہوں اور اب ٹانگوں پر فائل کا کا بوجھ محسوس کر رہی ہوں۔اچانک میری نظر سامنے والے پر پڑتی ہے۔ دروازے کے کواڑ فرش سے اٹھے ہوئے ہیں۔دروازے کی دوسری طرف دو مردانہ جوتے نظر آ رہے ہیں۔ جوتوں کی نوکیں میری سمت ہیں۔بھورے چمڑے کے بنے ہوئے اونچی ایڑیوں والے یہ غیر ملکی ساخت کے جوتے ہیں۔جوتے ساکت ہیں ہر چند کے ان کے اوپر کالے رنگ کی وہ ریشمی جرابیں بھی ہیں جن سے کسی ٹانگوں کی زرد رنگت جھلک رہی ہے مگر جوتے ساکت ہیں۔

“بے چاری” کوئی انتہائی پیار بھری آواز میں کہتا ہے۔ ” بے چاری فرش پر کیسے بیٹھی ہے۔ اب تو اسکی ٹانگیں اکڑ گئی ہونگی۔ اسکی مدد کرو سورج نکلنے والا ہے۔”

دو ہاتھ میرے بازوؤں تلے سے نکل کر مجھے کھینچ کر کھڑا کر دیتے ہیں ۔ میری ٹانگیں واقعی سن ہو چکی ہیں۔ میں لڑکھڑاتی ہوں۔ خوابوں کی فائل فرش پر جا پڑتی ہے۔”کچھ دیر تک یونہی کھڑی رہو۔ خون کی گردش درست ہو جائے گی۔”ہسپتال کے مالک کی سرگوشی میرے کانوں میں گونجتی ہے۔ میں اپنی ڈائری سینے سے لگا لیتی ہوں۔ یہ میری آخری امید ہے۔

“اسے کچھ نہیں معلوم۔”

“اسے کچھ نہیں معلوم۔”

“اسے سب کچھ معلوم ہے!!”

چمکدار جوتے کی نوک خوابوں کی فائل کو ٹھوکر مارتی ہے۔ میری پیدائش کی پہلی چیخ کے وقت شہر میں دیکھے جانے والےتمام خوابوں کا ریکارڈ الماری کی تہہ کے اندھیرے میں چلا جاتا ہے۔

وہ مجھے عمارت کے مرکز کی سمت لے جا رہا ہے۔میں اپنی رفتار تیز کر دیتی ہوں تاکہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ مجھے گھسیٹا جا رہا ہے۔

“اس سے پہلے کہ تم مجھے نکالو” میں مضبوط لہجے میں کہتی ہوں۔”میں خود نوکری چھوڑ دو گی۔” “تم ہمارے کام آتی ہو” اس بار مالک کہیں دور سے بولتا ہے۔”ہمیں تمہاری ضرورت ہے۔”

میں اور مالک چلتے رہتے ہیں۔یہاں تک کہ پیچ در پیچ راہداریوں میں داخل ہو جاتے ہیں۔ اسکے بعد سرنگیں آتی ہیں۔ آخری سرنگ کے اختتام پر آہنی پھاٹک کھل جاتا ہے۔ہمارے گزرنے کے بعد ہماری پیٹھ پیچھے پھاٹک یوں بند ہوتا ہےجیسے مویشیوں کو مذبح خانے لے جانے والی گاڑی کا دروازہ بند ہو جاتا ہے۔

ہم ایک انجانے کمرے میں داخل ہو چکے ہیں۔کم از کم میرے لیے یہ کمرہ بالکل اجنبی ہے۔میں دوسروں کے علاقے میں آگئی ہوں اور میرا سامان پیچھے رہ گیا ہے۔ہینگر پر لٹکا کوٹ ۔۔۔۔۔اور میرے ڈیسک کی دراز میں میرا بٹوہ پڑا ہوا ہے۔ صرف میری ڈائری میرے ساتھ ہے۔اور سراسیمہ ہے جس کی تپش مجھے برف باری میں منجمد ہونے سے بچا رہی ہے۔ میں انتہائی تیز روشنیوں کے نیچے کھڑی کر دی گئی ہوں۔ “آگئی ہے۔”

“چڑیل۔۔۔”

مس مل روج فولادی ڈیسک کے پیچھے کھڑی مجھے گھور رہی ہے۔ کمرے کی ساخت ایسی ہے جیسے کسی بحری جہاز کا نچلا حصہ ہو۔ کسی بھی دیوار پر کوئی کھڑکی یا روشن دان نہیں ہے۔ سامنے سے سراسیمہ کے نائب نمودار ہوتے ہیں۔انکی آنکھیں دہکتے ہوئے کوئلوں سے زیادہ سرخ اور روشن ہیں۔ وہ مجھے عجیب آوازوں میں خوش آمدید کہتے ہیں۔انہیں معلوم ہو چکا ہے کہ میں سراسیمہ کی صفوں میں شامل ہوں اور وہ جاننا چاہتے ہیں کہ دنیا میں سراسیمہ کے کارکن کس حال میں ہیں۔

“امن۔ میں تمہارے لیے امن اور سلامتی کا پیغام لے کر آئی ہوں۔” میں اپنا ڈائری والا ہاتھ بلند کر کے انہیں مخاطب کرتی ہوں۔

“یہ پرانا راگ ہے بی بی” مل روج ہاتھی کی طرح جھوم اٹھتی ہے۔”اب ہم ایسی باتوں سے متاثر نہیں ہونگے”

مس مل روج مجھ پر جھپٹتی ہے۔ میں بچنے کی کوشش کرتی ہوں۔مگر وہ بہت تیز رفتار اور طاقتور ہے۔ پہلی بار اسکا وار خالی جاتا ہے مگر دوسری بار وہ مجھے دبوچ لیتی ہے۔

“پرانا راگ مت الاپو۔ یہ ڈائری ہمارے حوالے کردو۔”

مس مل روج کے سانسوں میں پاگل کر دینے والی بو ہے۔میں اسکی گرفت سے نکلنے کی کوشش میں اسکی مردوں جیسی مضبوط اور بے رس چھاتی کو اپنے وجود کی پوری طاقت سے پرے دھکیلتی ہوں۔ لیکن میں اسکے مقابلے میں بہت کمزور ہوں۔اسکی انگلیاں درندے کے پنجوں کی طرح میرے بدن میں پیوست ہو رہی ہیں۔

“میری بچی۔۔۔میری بچی میرے پاس لوٹ آئی ہے۔” میرے کانوں میں پھنکارتی ہے۔

“یہ لڑکی” ہسپتال کے مالک کی آواز سے کمرہ گونجتا ہے۔”سراسیمہ کے ساتھ وقت گزارتی رہی ہے۔”

“بری بات۔”

“بری بات۔”

سفید لکڑی کا ایک تخت عین میرے سامنے بچھا دیا گیا ہے۔ مل روج میری کلائی سے گھڑی اتارتی ہے۔ انگلیوں سے انگھوٹی نکالتی ہے۔ بالوں سے ہئیر پن الگ کرتی ہے۔ پھر وہ میرا لباس اتار کر مجھے موسم کی پہلی برف جیسی بے داغ اور سفید چادروں میں لپیٹ دیتی ہے۔ اچانک کمرے کے چاروں کونوں سے پتھرائی آنکھوں والے چار وجود نکل کر مجھے سفید تخت پر لے جاتے ہیں۔ انہوں نے آپریشن تھیٹر والے کپڑے اور نقاب پہن رکھے ہیں۔انکا مقصد سراسیمہ کی بادشاہت ختم کرناہے۔وہ ایک ایک کر کے میری ٹانگیں اور بازو قابو کر لیتے ہیں۔دروازے سے آنے والا میرے سر کے پیچھے کھڑا ہو جاتا ہے۔ میں اسے نہیں دیکھ سکتی مگر اسکے ہاتھوں میں موجود تیز دھاروں والے اوزار کی کھڑکھڑاہٹ سن سکتی ہوں۔

سراسیمہ کے نمائندے میری بے بسی پر صدائے احتجاج بلند کرتے ہیں۔ وہ گنگناتے ہیں۔

“فقط خوف سے محبت کی جا سکتی ہے۔”

خوف سے محبت باشعور ہونے کی علامت ہے۔

فقط خوف، ہر طرف خوف کا راج ہو۔

“فقط خوف سے محبت کی جا سکتی ہے۔”

مل روج اور ہسپتال کا مالک سراسیمہ کے نمائندوں کو خاموش کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔

میرے سر کے پیچھے کھڑے شخص کو اشارہ کیا جاتا ہے۔ یکلخت مشین اور تیز دھار آلات چلنے کی آواز بقیہ تمام آوازوں پر حاوی ہو جاتی ہے۔ جونہی میں خود کو معدوم ہوتا محسوس کرتی ہوں، چھت پر لگی روشنیوں سے سراسیمہ کا چہرہ جھانکتا ہے۔ اسکی آنکھوں میں بجلیاں کوند رہی ہیں۔ آواز کی کڑک سے کائنات پر سائے پڑ رہے ہیں۔

میں عمر بھر سراسیمگی سے وابستہ رہی ہوں۔ اور مجھے پہلے دن ہی معلوم ہو گیا تھا کہ یہ وابستگی بیسویں منزل سے چھلانگ ہے۔گلے میں پڑی رسی ہے۔ دل پر رکھے خنجر کی نوک ہے۔

٠٠٠

 

سلویا پلاتھ کا نام پڑھنے والوں کے لیے نیا نہیں ہے، وہ ایک زبردست تخلیق کار تھیں۔آٹھ سال کی عمر سے ان کا تخلیقی سفر شروع ہوگیا تھا، ٹیڈ ہیوز سے انہوں نے محبت کی بنیاد پر شادی کی، مگر ٹیڈ کی شاعرانہ فطرت کے سبب ایک اور لڑکی سے جب ان کا افیئر ہوا تو سلویا کو صدمہ پہنچا۔ اس وقت ٹیڈ اور سلویا کے دو بچے تھے، انہوں نے تنہائی کے کرب اور اداسی کے انتہائی غلبے کے سبب خودکشی کی کوشش کی، جس میں ناکامی ہوئی۔بالآخر انہوں نے ٹیڈ سے علیحدگی کے بہت تھوڑے عرصے بعد ہی لندن میں اپنے گھر میں خودکشی کرلی۔ان کی خود کشی کے تعلق سے بہت سی تھیوریز ہیں، کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے خودکشی نہیں کی، بلکہ ان کی زندگی پر لکھے گئےسلویا کے ایک ادیب دوست کے ناول کے مطابق جس صبح سلویا کی لاش ان کے گھر میں پائی گئی، اس رات باہر ایک گاڑی دیکھی گئی تھی۔ بہرحال سلویا پلاتھ نے مختصر سی زندگی میں بہت سی اہم نظمیں اور کہانیاں لکھیں، اپنی ذات کے حوالے سے ایک ناول ‘دی بیل جار’بھی تخلیق کیا۔سلویا انگریزی شاعری میں کنفیشنل پوئٹری کے اہم شعرا میں شامل ہیں۔

زیر نظر کہانی ‘جانی پینک اینڈ بائبل آف ڈریمز’ نامی افسانونی مجموے میں شامل اسی کہانی کا ترجمہ ہے۔جو کہ اردو کے ایک بہت اچھے شاعر اور فکشن نگار صغیر ملال نے کیا ہے۔ اسے ساجد مسعود صاحب نے ٹائپ کیا ہے، جس کے لیے ہم ان کے شکر گزار ہیں۔کہانی میں سلویا کا کردار مرکزی ہے۔وہ جس اعترافی اسلوب فن سے تعلق رکھتی تھیں، اس کا اس کہانی پر بھی خاص اثر دکھائی دیتا ہے۔ایک ادیب کا ذہن بہت سے خیالات کی آماجگاہ ہوتا ہے، خودکشی زندگی کے مسائل کا حل نہیں، لیکن اس کی کوشش بھی ایک سوچنے والے ذہن کو فکر کی تیزابی کھریند سے کچھ لمحوں تک بچانے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔سلویا نے کہا تھا، کہ اگر میں سوچتی نہیں تو شاید زیادہ خوش رہ سکتی تھی، مگر کسی بھی زندہ ادیب کے لیے خوشی کا مکمل تصور اس کی تخلیقی اداسی کا قاتل ہوتا ہے، جس کے بغیر اچھی تخلیقات وجود میں نہیں آسکتیں۔اس کہانی میں ناسٹیلجیا کی کیفیت، زندگی کے نئے دھڑکتے، تیز رفتار دور میں جمی ہوئی تنہائی کا عکس صاف دیکھا جاسکتا ہے۔

news-1501

yakinjp


sabung ayam online

yakinjp

yakinjp

rtp yakinjp

yakinjp

yakinjp

judi bola online

slot thailand

yakinjp

yakinjp

yakinjp

yakinjp

ayowin

mahjong ways

judi bola online

mahjong ways 2

JUDI BOLA ONLINE

maujp

maujp

sabung ayam online

maujp

maujp

maujp

maujp

MAUJP

sabung ayam online

mahjong ways slot

sbobet88

live casino online

Situs Agen Togel

MAUJP

sv388

maujp

maujp

maujp

maujp

sabung ayam online

118000111

118000112

118000113

118000114

118000115

118000116

118000117

118000118

118000119

118000120

118000121

118000122

118000123

118000124

118000125

118000126

118000127

118000128

118000129

118000130

118000131

118000132

118000133

118000134

118000135

118000136

118000137

118000138

118000139

118000140

118000141

118000142

118000143

118000144

118000145

118000146

118000147

118000148

118000149

118000150

118000151

118000152

118000153

118000154

118000155

128000121

128000122

128000123

128000124

128000125

128000126

128000127

128000128

128000129

128000130

128000131

128000132

128000133

128000134

128000135

128000136

128000137

128000138

128000139

128000140

128000141

128000142

128000143

128000144

128000145

128000146

128000147

128000148

128000149

128000150

128000151

128000152

128000153

128000154

128000155

128000156

128000157

128000158

128000159

128000160

128000161

128000162

128000163

128000164

128000165

138000101

138000102

138000103

138000104

138000105

138000106

138000107

138000108

138000109

138000110

138000111

138000112

138000113

138000114

138000115

138000116

138000117

138000118

138000119

138000120

138000121

138000122

138000123

138000124

138000125

138000126

138000127

138000128

138000129

138000130

148000136

148000137

148000138

148000139

148000140

148000141

148000142

148000143

148000144

148000145

148000146

148000147

148000148

148000149

148000150

148000151

148000152

148000153

148000154

148000155

148000156

148000157

148000158

148000159

148000160

148000161

148000162

148000163

148000164

148000165

168000106

168000107

168000108

168000109

168000110

168000111

168000112

168000113

168000114

168000115

168000116

168000117

168000118

168000119

168000120

168000121

168000122

168000123

168000124

168000125

168000126

168000127

168000128

168000129

168000130

168000131

168000132

168000133

168000134

168000135

178000121

178000122

178000123

178000124

178000125

178000126

178000127

178000128

178000129

178000130

178000131

178000132

178000133

178000134

178000135

178000136

178000137

178000138

178000139

178000140

178000141

178000142

178000143

178000144

178000145

178000146

178000147

178000148

178000149

178000150

178000151

178000152

178000153

178000154

178000155

178000156

178000157

178000158

178000159

178000160

178000161

178000162

178000163

178000164

178000165

188000196

188000197

188000198

188000199

188000200

188000201

188000202

188000203

188000204

188000205

188000206

188000207

188000208

188000209

188000210

188000211

188000212

188000213

188000214

188000215

188000216

188000217

188000218

188000219

188000220

188000221

188000222

188000223

188000224

188000225

198000101

198000102

198000103

198000104

198000105

198000106

198000107

198000108

198000109

198000110

198000111

198000112

198000113

198000114

198000115

198000116

198000117

198000118

198000119

198000120

198000121

198000122

198000123

198000124

198000125

198000126

198000127

198000128

198000129

198000130

238000021

238000022

238000023

238000024

238000025

238000026

238000027

238000028

238000029

238000030

238000091

238000092

238000093

238000094

238000095

238000096

238000097

238000098

238000099

238000100

238000101

238000102

238000103

238000104

238000105

238000106

238000107

238000108

238000109

238000110

238000111

238000112

238000113

238000114

238000115

238000116

238000117

238000118

238000119

238000120

238000121

238000122

238000123

238000124

238000125

238000126

238000127

238000128

238000129

238000130

238000131

238000132

238000133

238000134

238000135

news-1501
news-0801

yakinjp


sabung ayam online

yakinjp

yakinjp

rtp yakinjp

yakinjp

yakinjp

judi bola online

slot thailand

yakinjp

yakinjp

yakinjp

yakinjp

ayowin

mahjong ways

judi bola online

mahjong ways 2

JUDI BOLA ONLINE

maujp

maujp

sabung ayam online

maujp

maujp

maujp

maujp

sabung ayam online

mahjong ways slot

sbobet88

live casino online

Situs Agen Togel

MAUJP

118000021

118000022

118000023

118000024

118000025

118000026

118000027

118000028

118000029

118000030

118000031

118000032

118000033

118000034

118000035

118000036

118000037

118000038

118000039

118000040

118000041

118000042

118000043

118000044

118000045

118000046

118000047

118000048

118000049

118000050

128000021

128000022

128000023

128000024

128000025

128000026

128000027

128000028

128000029

128000030

128000031

128000032

128000033

128000034

128000035

128000036

128000037

128000038

128000039

128000040

128000041

128000042

128000043

128000044

128000045

128000046

128000047

128000048

128000049

128000050

138000021

138000022

138000023

138000024

138000025

138000026

138000027

138000028

138000029

138000030

138000031

138000032

138000033

138000034

138000035

138000036

138000037

138000038

138000039

138000040

138000041

138000042

138000043

138000044

138000045

138000046

138000047

138000048

138000049

138000050

148000026

148000027

148000028

148000029

148000030

148000031

148000032

148000033

148000034

148000035

148000036

148000037

148000038

148000039

148000040

148000041

148000042

148000043

148000044

148000045

148000046

148000047

148000048

148000049

148000050

148000051

148000052

148000053

148000054

148000055

148000056

148000057

148000058

148000059

148000060

148000061

148000062

148000063

148000064

148000065

148000066

148000067

148000068

148000069

148000070

158000041

158000042

158000043

158000044

158000045

158000046

158000047

158000048

158000049

158000050

158000051

158000052

158000053

158000054

158000055

158000056

158000057

158000058

158000059

158000060

158000061

158000062

158000063

158000064

158000065

158000066

158000067

158000068

158000069

158000070

168000011

168000012

168000013

168000014

168000015

168000016

168000017

168000018

168000019

168000020

168000021

168000022

168000023

168000024

168000025

168000026

168000027

168000028

168000029

168000030

168000031

168000032

168000033

168000034

168000035

168000036

168000037

168000038

168000039

168000040

178000036

178000037

178000038

178000039

178000040

178000041

178000042

178000043

178000044

178000045

178000046

178000047

178000048

178000049

178000050

178000051

178000052

178000053

178000054

178000055

178000056

178000057

178000058

178000059

178000060

178000061

178000062

178000063

178000064

178000065

188000141

188000142

188000143

188000144

188000145

188000146

188000147

188000148

188000149

188000150

188000151

188000152

188000153

188000154

188000155

188000156

188000157

188000158

188000159

188000160

188000161

188000162

188000163

188000164

188000165

188000166

188000167

188000168

188000169

188000170

198000031

198000032

198000033

198000034

198000035

198000036

198000037

198000038

198000039

198000040

198000041

198000042

198000043

198000044

198000045

198000046

198000047

198000048

198000049

198000050

198000051

198000052

198000053

198000054

198000055

198000056

198000057

198000058

198000059

198000060

218000021

218000022

218000023

218000024

218000025

218000026

218000027

218000028

218000029

218000030

218000031

218000032

218000033

218000034

218000035

218000036

218000037

218000038

218000039

218000040

218000041

218000042

218000043

218000044

218000045

218000046

218000047

218000048

218000049

218000050

228000016

228000017

228000018

228000019

228000020

228000021

228000022

228000023

228000024

228000025

228000026

228000027

228000028

228000029

228000030

228000031

228000032

228000033

228000034

228000035

228000036

228000037

228000038

228000039

228000040

228000041

228000042

228000043

228000044

228000045

228000046

228000047

228000048

228000049

228000050

238000001

238000002

238000003

238000004

238000005

238000006

238000007

238000008

238000009

238000010

238000011

238000012

238000013

238000014

238000015

238000016

238000017

238000018

238000019

238000020

news-0801