صبح کی سرخی

یہ میرے دوست ایوان ساووف کی کہانی ہے جو بلغاری فوج کی تھرڈ بٹالین میں ایک سینئرماتحت افسر تھا اور میری نگاہوں کے سامنے سرویائی سلسلۂ کوہ میں ایبار اور موراوا کے درمیان قائم کردہ محاذ پر کام آیا۔جنگِ عظیم کے دوسرے سال کے اواخرِ خزاں میں میری سالگرہ سے اگلے روز کا قصہ ہے کہ میں سفیدے کے دو مُردہ درختوں کے بیچ جھاڑیوں میں اپنی سالگرہ کی خوشی منا رہا تھا۔ کیمپ کے جلتے الاؤ اور اُن کے بھڑکتے شعلوں میں سرمئی آسمان سے کبھی کبھار گرتے اکا دکا برف کے گالے مکمل تنہائی کے احساس کو مزید گہرا کر رہے تھے۔یاد پڑتا ہے کہ یہ منظر مجھے اچانک ذرا مزاحیہ سا لگا تھا۔ کسی معرکے سے ایک دن قبل محاذ پر سرگرم ایک سپاہی کے لئے صرف چوبیس برس قبل پیدا ہونے کا واقعہ آخر کیا اہمیت رکھتا تھا؟ پھر بھی موت کا خیال اتنا ہی لغو تھا۔ بھلا کوئی اپنی سالگرہ سے ایک دن پہلے بھی مرتا ہے! لہذا میں نے خود کو لمبے کوٹ میں مزید سختی سے لپیٹتے ہوئے جھنڈ کی آڑ میں پناہ لی اور مانوس درختوں کی بل کھاتی ننگی شاخوں کے بیچ سے جھانکتے آسمان پر چمکتے ہوئے ستاروں کو دیکھنے لگا۔

صبح تین بجے الارم بج گیا۔ بویریائی دستے کی فرسٹ انفنٹری بٹالین نے حملہ کرنا تھا۔ نیند میں گیلے جھنڈ سے باہر سرک رہا تھا کہ میں نے ایوان ساووف کو ایلپائن کور کے سٹاف افسروں کے ہمراہ گزرتے دیکھا۔ اس کے ہاتھ میں جی ایچ کیو کا ایک نقشہ تھا اور وہ شمال کی جانب اشارہ کر رہا تھا۔میں چھلانگ مار کر اس کی جانب بڑھتے ہوئے یہ کہنے ہی والاتھا کہ ’’ایوان ساووف، کیا میں تمہیں یاد ہوں؟ کیا جینا یاد نہیں، جب ہم ملے تھے؟ میں جانتا ہوں تم افسر ہو اور میں صرف ایک سپاہی لیکن مجھے آگے بڑھ کر ہاتھ تو ملانا ہی چاہئے۔‘‘دوسرے افسر شاید چونک کر پیچھے ہٹ جاتے کیوں کہ دو دستوں کے لئے کئی سالوں کی جدائی کے بعد کسی معرکے کی صبح ملنا کوئی معمولی بات نہیں تھی۔

لیکن میں ان دو درختوں کے درمیان سے باہر نہ نکلا۔وہیں دونوں گیلے تنوں کو ہاتھوں سے دبائے کھڑا رہا۔ میں سپاہی تھا اور آخر انتظار کرنا تو سیکھ ہی چکا تھا۔ایوان ساووف دوسروں کے ہمراہ دھند میں غائب ہو گیااور بٹالین آگے بڑھ گئی۔

لیکن صبح کی پہلی کرنوںمیں بے گیاہ اونچائیوں پر بکھری ہوئی پست قامت جھاڑیوں کے منور ہوتے سمے، جب وہ سرمئی سپاہی ایک بھوری ندی کو پار کرتے ہوئے ایک اجاڑ تنگنائے میں نیچے اتر رہے تھے تو مجھے ایک بار پھر ایوان ساووف کا خیال آیا۔

جینا کی و ہ پُرکیف راتیں میرے ذہن میں نہیں تھیں جب ہم بادۂ احمر سے لطف اٹھاتے، ملی ترانے گنگناتے ، ایک دوسرے سے بغل گیر، فلسفہ آمیز گپ شپ لگاتے آس پاس کے مطمئن شہری راہگیروں کے اضطراب کا باعث بن رہے تھے۔ نہیں ، میں اس فولادی نیلے بالوں، زیتونی چہرے پر اکڑی ہوئی پلکوں اور مضبوط مخروطی ہاتھوں والے نوجوان بلغاری مصور کے بارے میں بھی نہیں سوچ رہا تھا۔ ہمارے ان دوسرے رفیقوں کے نزدیک جن کے ساتھ ہم آسمان پر تاروں کے مدھم ہو جانے اور پرندوں کے گیت چھیڑنے تک ہم رقص رہتے، وہ کام میں صبح شام ایک کر دینے والا ایک خوش مزاج بانکا تھا جو سارا دن تو زایس اور شاٹ کی فیکٹریوں میں دو پیسے کمانے کے لئے اپنی تکنیکی تصویروں کے ساتھ مشغول رہتا اور رات کا پہر دو پہر بس نیند کے حملوں سے نبرد آزما رہنے میں گزار دیتا۔ میرے ذہن میں تو وہ خوش نصیب لمحہ تھا جب مجھے اس کا دوسرا روپ دیکھنے کا موقع ملا۔

ایک دن وہ مجھے اپنی مخصوص گوشۂ تنہائی میں لے گیا، ایک مخدوش سا چوبارہ جہاں ساری جگہ بس پلنگ ، میز، کرسی اور نقاش تپائی نے ہی گھیر رکھی تھی۔میری طرف بے توجہی سے ایک ایسی خاکہ کشی کی کتاب پھینکنے کے بعد جو بس عام سے فطری مناظر،انسانی شبیہوں اور عمارتوں پر مشتمل تھی، اس نے ایک پردہ سرکایا جس کے پیچھے چنی ہوئی سفید دیوار پر ایک بہت بڑا کینوس نظر آ رہا تھا۔میری آنکھوں کے سامنے اس کی زندگی کی محنت تھی، بلاشبہ وہ خود کو جتنا بھی صرف کر سکتا تھا۔ نوکیلے پہاڑوں کے خدوخال کے عقب میں موجود ایک سرخ آسمان کے مقابل دو پہلوان اپنی آخری سانس تک کشتی میں مشغول تھے۔ دیومالائی قوت و جسامت والے دو برہنہ آدمی جو گنبد افلاک کو اپنے شعلہ آگیں غیظ و غضب سے بھڑکائے دے رہے تھے۔زمین اپنی آب و تاب میں آسمان کو چُھو رہی تھی اور لڑنے والوں کے اعضاء ایک ایسے کرّے پر پھیل رہے تھے جو محور سے کٹ کر دو حصوں میں جدا ہوتا محسوس ہوتا تھا۔ اب یاد آتا ہے کہ اس منظر نے مجھے کتنا متاثر کیا تھا لیکن ایوان ساووف بول پڑا: ’’جوسن یہ سب کچھ غلط ہے! یہ سرخ رنگ شعلہ آتشیں ہونا چاہئے، صبح کی سرخی ۔۔۔‘‘

صرف میں ہی جانتا ہوں کہ ساووف نے اس رنگ کے لئے کیا کیا پاپڑ نہیں بیلے۔ اُس کی اذیت آسیبی تھی، غیرمعقول اور ناامید کر دینے والی۔ وہ اپنے حقیر سے تختۂ مصوری سے اس قسم کا سرخ رنگ تخلیق نہیں کر سکتا تھا اور باالآخر ایک دن اس نے مجھے کہہ ہی دیا کہ وہ اپنے وطن بلغاریہ میں ایک اور طلوعِ سحر دیکھے بغیر اس تصویر کو مزید ہاتھ نہیں لگا پائے گا۔ انہی گرمیوں میں جنگ شروع ہو گئی ۔میں نے خود کو اپنے دوست اور اُس کی اُس نامکمل تصویر سے جدا کیا جو یک لخت تقدیر کی لکھی ایک زمانی علامت میں ڈھل چکی تھی ۔۔۔او راب۔۔۔

چار دن بعد اُس سے دوبارہ ملا قات یوں ہوئی کہ میں ایک سرویائی گاؤں کے آگے نصب حفاظتی چوکی پر کھڑا تھا جب دو بلغاری افسران اپنے گھوڑوں پر سامنے سے آتے دکھائی دئیے۔ وہ ایک دوسرے کے پہلو میں سست رفتار دُلکی چال سے ہم رکاب تھے اور ایک کا بازو دوسرے کے کاندھوں پر تھا۔ ان کے سامنے سے گزرنے کے بعد ہی میں نے ایوان ساووف کو پہچانا۔ اسی صبح جب ہم ایک نامعلوم منزل یعنی آمسل کے معرکے کے لئے نکل رہے تھے تو میں نے اسے دوبارہ دیکھا لیکن کچھ نہیں بولا۔

پیش قدمی کا نقارہ بجتے ہی میرا دل بلیّوں اچھلنے لگا۔ ہم ایک پہاڑی کی چوٹی پر قبضہ کر چکے تھے اور ہمارے مقابل وادی کی دوسری جانب سرویائی تھے۔ سنگینیں چڑھاتے ہوئے دشمن کی گامزن گولیاں پرندوں کی طرح ہمارے اوپر سے گزر رہی تھیں کہ اچانک کمان دار کا حکم ہمارے کانوں میں گونجا،’’حملہ!‘‘۔ چلّاتے ہوئے حملے کے لئے بڑھے تو سیٹیاں بجاتی گولیاں ہمارے آس پاس سے گزر رہی تھیں۔ پہاڑوں کے نام کون جانتا تھا، بس اتنا ہی معلوم تھا کہ بلغاریہ اور مقدونیہ ہمارے بائیں جانب ہیں، مونٹی نیگرو دائیں اور دشمن شمال کی سمت میں ہے۔ مکئی کے ایک کھیت کو چیرتے، بھوسے اور جھاڑیوں کو قدموں تلے روندتے ہوئے ایک وادی سے گزرنے کے بعد اب ہم ایک چڑھائی چڑھ رہے تھے۔ اسی اثناء میں سرویائی ٹوپیوں والے دو جوانوں نے ہینڈ گرینیڈ پھینکے جن میں سے ایک ہمارے ایک ساتھی کو لگا ، لیکن بہرحال ہم نے پہاڑی پر قابض ہوتے ہوئے سرویائی جوانوں کو بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ آگے بڑھتے ہوئے لگاتار فائرنگ جاری تھی ، زمین مسلسل لرز رہی تھی اور ہم لڑکھڑاتے ہوئے خالی مورچوں کے درمیان سے گزر رہے تھے۔ایک جوان رک کر روٹی یا تمباکو کی تلاش میں ایک مردہ سرویائی کا رسدی تھیلا علیحدہ کرنے لگا۔ آخر کار ہم دوسری پہاڑی تک پہنچ گئے جہاں بھورے سبز سرویائیوں کا ایک لشکر ڈھلوان سے چپکا نظر آ ر ہاتھا۔ اسی جگہ دشمن سے تقریباً تین سو گز پہلے ہمارا رستہ ایک پتھریلی دیوار نے روکا۔حکم ملا کہ اس کے سامنے پوزیشن لیتے ہوئے فائرنگ جاری رکھیں۔دشمن بے تحاشہ فائر کر رہا تھا ، گولیوں کی بوچھاڑ پتھروں کو توڑ رہی تھی اور ہمارے قدموں تلے موجود خود رو جھاڑیوں کے چیتھڑے اڑا رہی تھی۔ ایک دفعہ پھر حملے کا حکم ملا تو ہم ایک وحشیانہ مسرت کے ساتھ جست لگا کر آگے بڑھے۔ سرویائی قطاریں افراتفری کا شکار ہو کر ٹوٹ گئیں،باریش اجنبی چہرے اپنی ٹوٹی پھوٹی ناکارہ بندوقوں کے ساتھ ہمارے ارد گرد موجود تھے۔ نقل و حمل دستے کے سپاہیوں نے قیدیوں کو نرغے میں لے لیا جب کہ ہم فرار ہوتے دشمن کے تعاقب میں دریا تک جا پہنچے۔

اس دن ہم نے سات پہاڑیوں پر پیش قدمی کی۔ ساعتیں شمار کرنے کا موقع کہاں تھا، نہ اماں ابا کا کوئی خیال، شام ڈھلے ہی ہم پر کُھلا کہ ہم کہاں پہنچ چکے ہیں۔یہ ایک اونچی پتھریلی پہاڑی تھی جس پر کسی قسم کی کوئی آڑ موجود نہیں تھی۔ ہمارے مقابل پہاڑی کے پیچھے، افق پر سرویائی فوجیوں کے محفوظ دستے موجود تھے۔ وہ اب بھی مسلسل فائر کررہے تھے لیکن جیت ہماری ہی تھی۔ اب پہلی بار ہمارے افسروں نے نقشے نکالے اور یہ معلوم ہوا کہ ہم احکامات میں دی گئی مطلوبہ سرحد سے آگے نکل آئے ہیں۔لہٰذا ہم نے ایک گھنٹہ واپسی کا سفر کیا اور خیمہ زن ہو گئے۔

اب یہ معلوم ہوا کہ ہم ایک افسر پیچھے بھول آئے ہیں۔ جب ہم اس اونچی پہاڑی کی ڈھلوان پر لیٹے تھے تو کمپنی نمبر ۲ کا کماندار ،نوجوان کپتان ’پی‘صرف ایک جوان کے ہمراہ اس مقصد سے ہاتھوں پیروں کے بل چلتا ہوا وادی میں داخل ہوا تھا کہ ایک ایسی بارودی چرخی پر قبضہ کر لے جس کی مدد سے دشمن مسلسل فائر کر رہا تھا۔شام ڈھلے واپس لوٹتے ہوئے ہم اس بہادر سپاہی کو بھول آئے تھے، لہٰذا کرنل نے کپتان کو واپس لانے کے لئے رضاکار طلب کئے۔ اچانک بجلی سی کوند گئی، جوان اُچک اُچک کر خود کو پیش کر رہے تھے، میں نے دیکھا کہ ایوان ساووف اس پارٹی کی کمان کے لئے خود کو پیش کر رہا تھا اور تھوڑی پس و پیش کے بعد کرنل نے آخر کار اس کی بات مان لی۔ ہم ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ رہتے ہوئے اس ساکت و پُراسرار رات میں نکل پڑے۔

ایوان ساووف راستے سے خوب واقف تھا اسی لئے اس نے خود کو راہنمائی کے لئے پیش کیا تھا۔ میں جلد ہی باقی ساتھیوں کے بیچ سے گزرتا ہوا اس کے بازو میں پہنچ گیا۔میں نے ابھی ’’جینا، جوسن،‘‘ ہی کہا تھا کہ اس نے اپنی گہری کھنکھارتی آواز میں قہقہہ لگایا اور ہم ایک دوسرے سے لپٹ گئے۔ رات کی تاریکی میں دور دور سے لپکتی گولیوں کی جھنکارسنائی دے رہی تھی۔ میں اسے چار ہفتے قبل فرانس کے ایک معرکے میں کام آ جانے والے اپنے بھائی کے متعلق بتاتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ اب اس ملک میں وہی میرا بھائی ہے۔ ہم ایک دوسرے کا ہاتھ مضبوطی سے تھامے ،آہستگی سے دھند کی ایک سرنگ میں نشیب و فراز طے کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے، جب گئے دنوں کی طرح ایک بار پھر تفلسف آمیز گپ شپ شروع ہو گئی ۔ اُس تصویر ، ان دو پہلوانوں اور شعلہ آگیں آسمان کا ذکر چھڑ گیا۔ ’’میں نے اب تک اسے پینٹ نہیں کیا،‘‘ اس نے میرے ہمراہ ایک ہیولا نما اونچائی طے کرتے ہوئے سرگوشی کی۔۔۔’’جنگ کے بعد ہم ایک بار پھر اکٹھے ہوں گے، جینا، میونخ یا صوفیہ میں۔‘‘

اچانک پتہ چلا کہ ہم ایک غلط پگڈنڈی پر ہیں۔ مکمل ابر آلود آسمان سے ہمیں ذرا سی روشنی بھی میسر نہیں تھی اور جب ہم نے سمت نما کے مطابق چلنے کی کوشش کی تو پہاڑی نالوں اور کھائیوں تک تو پہنچے لیکن اس گہری وادی کا کوئی نشان نہ تھا جہاں بارودی چرخی نصب تھی۔ دشمن کے فائر کی گونج ہمیں اِدھر اُدھر بھٹکاتی رہی، دھند روشن ہوتی گئی ، یہاں تک کہ صبح کے تقریباً پانچ بجے ہمیں اپنے نیچے ا س منحوس سرویائی بارودی چرخی کے پہیے نظر آئے۔

دور اونچائی سے آتی سرویائی گولیوں کی مسلسل سیٹیوں تلے ، ہم بہت دھیان سےہاتھوں پیروں کے بل نیچے جانے لگے۔ عجیب بات تھی کہ چرخی جنگلی پہاڑی چشمے کےتیز دھارے کی قوت سے اب بھی چل رہی تھی۔ ہم رینگتے ہوئے قریب پہنچے ، کوئی حرکت تو نہیں تھی لیکن ہمیں پہیے کے نیچے ایک آدمی بیٹھا نظر آیا۔ اپنی بندوقوں سے حفاظتی قفل ہٹاتے ہوئے ہم نے اسے للکارا۔ وہ کمپنی نمبر ۲ کا حوالدار ’کے‘ تھا جس کے قدموں میں کپتان ’پی‘ پڑا تھا جو ران میں گولی لگنے کے باعث زیادہ خون بہہ جانے سے مر چکا تھا۔ لاش کی حفاظت کرتے جوان کو ہوش میں لانے میں کافی وقت لگا۔ پھر ہم نے ایک قبر کھودی اور مردہ آدمی کو اس طرح اُس میں لٹا دیا کہ چہرہ دشمن کی طرف تھا اور ٹانگیں شمال میں بنجر پہاڑ کی ڈھلوان کی جانب۔ زمین سخت اور پتھریلی تھی اور ہماری کدالیں چل رہی تھیں کہ صبح کاذب کی روشنی دکھائی دی۔قبر کے دامن میں صلیب نصب کرتے کرتے مردہ جوان کی ہیلمٹ ایک لطیف سی سرخی میں نہا گئی۔ ہمیں فوراً دوڑتے ہوئے آڑ لینی چاہئے تھی لیکن سورج ہم سے زیادہ طاقت ور تھا۔ وہ مشرق میں موجود دندانی پہاڑیوں کے عقب میں ہمارے خوابیدہ وطن بلغاریہ سے آہستگی سے ابھرا اور مقدونی پہاڑیوں کو اپنے سیلِ نُور میں بہا کر لے گیا۔ایبار اور موراوا کے بیچ صبح کی سرخ چمک نے ہم پرانے ، سخت جان سپاہیوں کو اپنے گھٹنوں پر گرا دیا۔

اسی لمحے میں نے ایوان ساووف کو عبادت کی سرشاری میں ڈوبے ہوئے ایک انسان کے رُوپ میں دیکھا۔ اُس کی تجسس سے لبریز آنکھوں پر ایک پردہ سا پڑا تھا، ایک ایسا پردہ جو نزدیک ہوتی موت کو آنکھوں سے اوجھل کر دے۔ وہ موت کو آتے نہیں دیکھ سکتا تھا کہ اس لمحے موت اس کے لیے قطعی نامانوس تھی۔ لیکن میں، اس کا دوست، موت کو بخوبی دیکھ رہا تھا ۔۔۔ایوان ساووف اوپر اٹھا تو چہرہ اُس کے وطن کی جانب تھا۔ صبح کی کرب انگیز ، پرسکون سرخی دیکھتے ہوئے وہ میری جانب مڑا اور کہا:’’تم نے دن نکلتے دیکھا۔ یہ ہوتا ہے سرخ۔۔۔‘‘ اسی لمحے پہاڑی کے بالائی کنارے سے ایک گولی آ کر اسے لگی۔ میں نے اس کے لبوں پر ایک متکبرانہ سی مسکراہٹ دیکھی لیکن گولی اس کا دل چیر چکی تھی۔ اس نے صبح کی سرخی میں اپنا وطن دیکھ لیا تھا۔ کاش وہ اسے پینٹ بھی کر سکتا۔۔۔!

تو اب ہمیں ایک اور قبر کھودنا تھی ۔ لیکن ہم نے ایوان ساووف کو جرمن افسر کے بازو میں ہی دفنا دیا، چند قد م مشترکہ زمین پر موجود دو فوجی کامریڈوں کے بیچ سرحدوں کی ضرورت بھی کیا تھی۔ جرمن قبر کی مٹی ہی بلغاری سینے پر گر رہی تھی سو ہم نے ان کے ہاتھ ایک دوسرے میں تھما دئیے۔ جب ہم صبح کی سرخی میں واپس لوٹ رہے تھے تو مکمل سکوت تھا ۔آخری گولی چل چکی تھی۔

***

ترجمہ: عاصم بخشی

Attention Required! | Cloudflare

Sorry, you have been blocked

You are unable to access wajibjp.cfd

Why have I been blocked?

This website is using a security service to protect itself from online attacks. The action you just performed triggered the security solution. There are several actions that could trigger this block including submitting a certain word or phrase, a SQL command or malformed data.

What can I do to resolve this?

You can email the site owner to let them know you were blocked. Please include what you were doing when this page came up and the Cloudflare Ray ID found at the bottom of this page.

news-1701

yakinjp

yakinjp

rtp yakinjp

yakinjp

yakinjp

yakin jp

yakinjp id

maujp

maujp

maujp

sabung ayam online

sabung ayam online

SLOT MAHJONG

sabung ayam online

article 838000638

article 838000639

article 838000640

article 838000641

article 838000642

article 838000643

article 838000644

article 838000645

article 838000646

article 838000647

article 838000648

article 838000649

article 838000650

article 838000651

article 838000652

article 838000653

article 838000654

article 838000655

article 838000656

article 838000657

article 838000658

article 838000659

article 838000660

article 838000661

article 838000662

article 838000663

article 838000664

article 838000665

article 838000666

article 838000667

article 838000668

article 838000669

article 838000670

article 838000671

article 838000672

article 838000673

article 838000674

article 838000675

article 838000676

article 838000677

article 838000678

article 838000679

article 838000680

article 838000681

article 838000682

article 838000683

article 838000684

article 838000685

article 838000686

article 838000687

article 838000688

article 838000689

article 838000690

article 838000691

article 838000692

article 838000693

article 838000694

article 838000695

article 838000696

article 838000697

article 238000456

article 238000457

article 238000458

article 238000459

article 238000460

article 238000461

article 238000462

article 238000463

article 238000464

article 238000465

article 238000466

article 238000467

article 238000468

article 238000469

article 238000470

article 238000471

article 238000472

article 238000473

article 238000474

article 238000475

article 238000476

article 238000477

article 238000478

article 238000479

article 238000480

article 238000481

article 238000482

article 238000483

article 238000484

article 238000485

article 238000486

article 238000487

article 238000488

article 238000489

article 238000490

article 238000491

article 238000492

article 238000493

article 238000494

article 238000495

article 238000496

article 238000497

article 238000498

article 238000499

article 238000500

article 238000501

article 238000502

article 238000503

article 238000504

article 238000505

article 238000506

article 238000507

article 238000508

article 238000509

article 238000510

article 238000511

article 238000512

article 238000513

article 238000514

article 238000515

article 7700246

article 7700247

article 7700248

article 7700249

article 7700250

article 7700251

article 7700252

article 7700253

article 7700254

article 7700255

article 7700256

article 7700257

article 7700258

article 7700259

article 7700260

article 7700261

article 7700262

article 7700263

article 7700264

article 7700265

article 7700266

article 7700267

article 7700268

article 7700269

article 7700270

article 7700271

article 7700272

article 7700273

article 7700274

article 7700275

article 7700276

article 7700277

article 7700278

article 7700279

article 7700280

article 7700281

article 7700282

article 7700283

article 7700284

article 7700285

article 2000431

article 2000432

article 2000433

article 2000434

article 2000435

article 2000436

article 2000437

article 2000438

article 2000439

article 2000440

article 2000441

article 2000442

article 2000443

article 2000444

article 2000445

article 2000446

article 2000447

article 2000448

article 2000449

article 2000450

article 2000451

article 2000452

article 2000453

article 2000454

article 2000455

article 2000456

article 2000457

article 2000458

article 2000459

article 2000460

article 2000461

article 2000462

article 2000463

article 2000464

article 2000465

article 2000466

article 2000467

article 2000468

article 2000469

article 2000470

article 2000471

article 2000472

article 2000473

article 2000474

article 2000475

article 2000476

article 2000477

article 2000478

article 2000479

article 2000480

article 2000481

article 2000482

article 2000483

article 2000484

article 2000485

article 2000486

article 2000487

article 2000488

article 2000489

article 2000490

article 2990581

article 2990582

article 2990583

article 2990584

article 2990585

article 2990586

article 2990587

article 2990588

article 2990589

article 2990590

article 2990591

article 2990592

article 2990593

article 2990594

article 2990595

article 2990596

article 2990597

article 2990598

article 2990599

article 2990600

article 2990601

article 2990602

article 2990603

article 2990604

article 2990605

article 2990606

article 2990607

article 2990608

article 2990609

article 2990610

article 2990611

article 2990612

article 2990613

article 2990614

article 2990615

article 2990616

article 2990617

article 2990618

article 2990619

article 2990620

article 10000416

article 10000417

article 10000418

article 10000419

article 10000420

article 10000421

article 10000422

article 10000423

article 10000424

article 10000425

article 10000426

article 10000427

article 10000428

article 10000429

article 10000430

article 10000431

article 10000432

article 10000433

article 10000434

article 10000435

article 10000436

article 10000437

article 10000438

article 10000439

article 10000440

article 10000441

article 10000442

article 10000443

article 10000444

article 10000445

article 10000446

article 10000447

article 10000448

article 10000449

article 10000450

news-1701