امام دستہ

قصبے میں سوکھے میووں کے سب سے پرانے بیوپاری روشن آغا کی کوٹھی میں اس صبح خفگی کا ماحول تھا۔ آنگن میں چمپا کے جھرمٹ میں چھپی چڑیاں چپ تھیں۔ تیسری کلاس میں پڑھنے والا ان کا نواسا، میسم روز کی طرح سلام کرکے ممی سے گال ملانے گیا تو انہوں نے جھڑک دیا۔ بال بھی نہیں چھونے دیے۔ تیار کرتے وقت لنچ باکس میں بریڈ کے بیچ کھیرا ٹماٹر کی پھانکیں رکھ دیں۔ اس نے منھ بنا کر، سخت آنکھوں کی کور سے سب کچھ دیکھا اور نکلتے ہوئے نظر بچاکر اپنے تکیے کے نیچے سے ایک کھلونا کھینچ کر اپنے بیگ میں اڑس لیا۔

یہ ایک جرسی گائے تھی جو اسے دو دن پہلے اپنی سالگرہ پر پالتو جانوروں کے ایک سیٹ کے ساتھ گِفٹ میں ملی تھی۔ اس سال بھی وہی ہوا۔ ڈیڈی نے ناراض ہوکر انگلی دکھائی، “ابو کہا کرو!”

وہ غباروں سے سجی اونچی چھت کے نیچے، کیک کے سامنے بیٹھے نانا کی لمبی داڑھی کی اوٹ میں ہوکر کھلکھلایا، “ڈ۔ے۔ ڈی۔”

ان کی آنکھیں تن گئیں۔ اچھا تو اب انگریزی تعلیم کا استعمال نافرمانی کے لیے کیا جانے لگا ہے۔ نانا نے ہمیشہ کی طرح اس کی حمایت کی، “یہ ملک ایک امام دستہ ہے جس میں ہر قوم وقت کے ساتھ کھرل ہوکر کچھ اور ہی ہو گئی ہے۔ اسے اچھا لگتا ہے تو کہنے دیجیے۔ دونوں کا مطلب ایک ہے۔”

میسم نے اسکول بس میں بیٹھتے ہی سینڈوچ کو کھڑکی سے باہر اچھال کر گائے کو ڈبے میں رکھ لیا۔ اسے بریڈ سے آنے والی ہیک اور چیمڑ ولایتی ٹماٹر کا لجلجاپن سخت ناپسند تھا۔

اس نے لنچ کے وقت اپنا ڈبہ کھولا اور کھیلنے لگا۔ گائے کے پیٹ میں ایک بٹن تھا جسے دبانے پر وہ آنکھیں بند کرکے موج میں گردن ہلاتی۔ ہر جنبش کے ساتھ پیٹھ پر بھورے کتھئی چکتے نمودار ہونے لگتے۔ بٹن آف کرنے پر وہ پھر سے براق سفید ہوکر اپنی لمبی پلکوں والی کالی آنکھیں کھول دیتی۔ وہ اپنے گرد جمع ہو گئے بچوں کے چہروں پر حیرانی، جلن اور تمسخر دیکھ کر سیراب ہوا۔ کسی نے جھپٹا مارا۔ وہ پہلے سے تیار تھا۔ ڈبا جھپٹ کر چنپت ہو گیا۔

شام تک سارے قصبے میں اور باہر افواہ پھیل چکی تھی کہ ہولی کراس پبلک اسکول کا ایک مسلمان بچہ لنچ ٹائم میں بیف کھاتا ہے۔ اگلے دن بچوں کے سر پرست آکر، اس بچے کو اسکول سے فوراً نکال باہر کرنے کی مانگ کرنے لگے۔

تیسرے دن، اسکول کے گیٹ پر زہریلی پاکیزگی کی چاپ سے ہانپتی عورتوں اور ادھیڑ بزرگ لوگوں کا مجمع لگ گیا جن میں سے زیادہ تر بڑے عہدوں پر تھے۔ ترنگے اور تختیاں لہرا کر نعرےبازی ہونے لگی۔ شنکھ پھونکے جانے لگے۔ پولس بلانی پڑی۔ پرنسپل نے کلاس ٹیچر کو بلایا۔ کہا، “کون بچہ کیا کھاتا ہے، اس کا پرسنل معاملہ ہے۔ میں صرف اس کی صحت دیکھتی ہوں۔”

جب پانچ بچوں کے ٹرانسفر سرٹیفیکٹ کی اپلیکیشن ایک ساتھ آ گئی، پرنسپل نے میسم کو اپنے آفس میں بلاکر سر پرستوں کے ایک ڈیلی گیشن کے سامنے پیش کیا۔

اسکول سے، میسم کے سر پرستوں کو بھی فون کرکے طلب کیا گیا تھا لیکن کوئی نہیں آیا۔ اس کے ڈیڈی کو تیز انگریزی بول کر ڈرانے والی، باتونی عورتوں کے بیچ کمتری محسوس ہوتی تھی اور غصہ آتا تھا۔ ممی کا بھی یہی حال تھا۔ غیر ذمہ دارار ہونے کی تہمتوں پر گھسیٹے جاتے ہوئے وہ ٹیچروں سے جتنے رضامند ہوتے، کوفت سے اتنے لبریزہوتے جاتے۔ اسکول کی فرنگی توپوں کے سامنے کون جائے، یہ معاملہ اس صبح بھی طے نہیں ہو پایا تھا۔

گارڈوں کو گالی دیتی بھیڑ زبردستی آفس میں گھس آئی۔ بیسیوں غراتی آوازوں میں ایک ساتھ پوچھا گیا، “کیا تم لنچ میں گائے لاتے ہو؟”

کرسی پر بیٹھے میسم نے گلوب گھماتی پرنسپل میڈم کی طرف دیکھ کر، اپنی ا سکیم کی کامیابی پرزبان سے ٹوٹا دانت چھپاتے ہوئے، اپنے چھوٹے سے سینے پر ٹھڈی ماری، “یس!”

اس وقت وہ دلفریب گائے، اس کی پینٹ کی جیب میں آنکھ کھولے کھڑی تھی۔ وہ میڈم کو دکھا بھی دیتا لیکن اتنے اجنبیوں کی باہر لٹکتی آنکھیں اور غصے سے بگڑے چہرے دیکھ کر سہم گیا۔ کتابوں کی الماریوں کے شیشے بھڑبھڑاتے ہوئے وہ چلائے، “تمہیں کھانے میں کچھ اور نہیں دیا جاتا؟”

ممی کے ریشمی بالوں کے چھلے یاد کر، اچانک اس کی آنکھوں میں آنسو چھلک آئے۔پلکیں بھیگ کر چمکنے لگیں۔ اس نے سب کی طرف گردن اٹھاکر کہا، “نو۔”

اسے اپنے سر پر جھکی بھیڑ کے پسینے کی بدبو اور گرم سانسوں کے جھلسانے والے بھبھکے لگ رہے تھے۔ وہ کرسی سے سرک کر نیچے اترا اور چلنے لگا۔ اس بے ادبی پر کئی ہاتھ اچھلے جو اس کی گردن جھپٹ لینا چاہتے تھے۔ پیچھے سے کوئی چلایا، “روکو بھینچود ہرے سنپولے کو، ساتھ میں روٹی چاول کچھ تو لاتا ہوگا؟”

آفس کی کھڑکیوں پر دھکامکی کرتے، بڑی کلاسوں کے لڑکے لڑکیاں پنجوں پر کھڑے تھے۔ وہ اس کے پیچھے لپکے۔ وہ ننھے قدموں سے دھپ دھپ کرتے ہوئے کاریڈور میں بھاگ چلا۔ ایک لڑکے نے ٹانگ اڑائی، وہ پھدک گیا۔ دوسرے نے برابری پر دوڑتے ہوئے جھک کر اس کے پیٹ میں کہنی ماری۔ وہ دونوں ہاتھ پھیلائے، گھائل چڑیا کی طرح کاریڈور کے فرش پر پھسلتا ہوا ایک کھمبے سے ٹکرایا جہاں اسٹینڈ پر جھولتے گھنٹے کے بغل میں ایک پیون کھڑا تھا۔

وہ پیون کے پیروں سے لپٹ گیا ،جو ایسے ڈرا ،گویا وہ بچہ کوئی جانور ہو جو گھبراہٹ میں کاٹ کھائےگا۔ اس نے دانت پیستے ہوئے خود کو پوری طاقت سے سکوڑ کر چھڑایا اور پسینہ پونچھتا ہوا گیٹ کی طرف چلا گیا۔

اس کے پیٹ میں کچھ ڈُبّ سا ہوا۔ منھ سوکھنے لگا۔ بڑے لڑکے صرف اس کی گائے نہیں چھیننا چاہتے تھے۔ آج ان کے پیچھے  ان کے سر پرست بھی کھڑے تھے۔ انہیں چھوٹ تھی کہ ان کے گھروں میں ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر، دن رات جو صرف کہا جاتا تھا، وہ اسے کرکے دکھا سکتے ہیں۔

وہ بدحواس ہوکر چلاتے ہوئے اپنے کلاس روم کو جانے والی سیڑھیوں کی جانب بھاگا۔ جس کی ریلنگ پر وہ روز پھسلتا تھا۔ آج وہاں جگہ نہیں تھی۔ نیچے سے اوپر تک، پھٹی آنکھوں سے اسی کو دیکھتے بچے بھرے ہوئے تھے۔ کچھ کود کر اس کی جانب جھپٹے۔ وہ مڑ کر بھاگا اور دو منزلہ لال عمارت کے بیچ، جونیئر سیکشن کے پلےگراؤنڈ میں ایک سلائڈر کے نیچے چھپ کر ہانپنے لگا۔

اس نے آنسوؤں سے ڈبڈبائی آنکھیں چاروں طرف گھمائیں۔ اسکول اچانک اجنبی ہو گیا تھا۔ ہر طرف، جلدی چلو کا شور تھا۔ کلاس روموں سے بھربھرا کر نکلتے بچے اسے ہی پکڑنے کے لیے برامدوں میں دھکامکی کرتے چیخ رہے تھے۔ ان کی سختی دنگ کر دینے والی تھی۔ بھیڑ کی اندھی طاقت کا نشہ کر چکے بچوں کو واپس بلانے کے لیے ننیں ان کے نام لے لے کر پوری طاقت سے چلا رہی تھیں لیکن وہ سامنے سے پیر پٹکتے ہوئے نکل جاتے۔ وہ اپنی ہتھیلیاں پھیلائے، کندھے اچکا کر رہ جاتیں۔ دوسری منزل سے ایک ٹیچر نے اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی جانب اٹھاکر دردناک آواز میں کہا، “انہیں اب تمہیں آکر اس زہرنوشی سے بچا سکتے ہو۔”

وہ چاروں طرف بکھرے گھوڑوں، بطخوں، زِرافوں کو اٹھاکر پھینکتے، ڈسٹ بِنوں کو لاتیں مارتے بچوں کو چکمہ دے کر اسکول کے پچھواڑے کی طرف بھاگا جو اس کے کلاس روم کی کھڑکی سے دکھائی دیا کرتا تھا۔ اسے بڑا پلےگراؤنڈ پار کرنا تھا۔ فٹبال کے گول پوسٹ کے بعد اسکول کی چہاردیواری تھی جو آدھی ٹوٹی ہوئی تھی۔ اس کے آگے ایک گندہ نالا تھا۔ وہاں پلاسٹک کی پنیوں کی ڈریس پہننے والی ایک پاگل عورت رہتی تھی۔ وہ بچوں کو اپنے دانت اور ناخن دکھاتے ہوئے ناچتی تھی۔ادھر جانے میں سب کو ڈر لگتا تھا۔

گھاس کی تیز مہک اس کی ناک میں جا گھسی۔ اس نے سوکھے حلق سے باہر آتے دل کو ہاتھوں سے دباتے ہوئے دیکھا، گراؤنڈ میں چگ رہے مور بھی اس کے ساتھ چلاتے ہوئے بھاگ رہے ہیں۔ نالے کے کنارے گُل مہر کے درخت پر الجھی ایک پتنگ ہوا سے تن کر ڈگمگا رہی ہے۔ وہ ایک مور کی کبھی نہ ختم ہونے والی دُم چھو جانے سے بری طرح بد کا اور کرکٹ کی پچ برابر کرنے والے رولر سے ٹکراکر ڈھیر ہو گیا۔

اس کی پیٹھ پر سے ہوتی ہوئی سفید نیلی بھیڑ سر سے آگے نکل گئی۔ پیچھے سے آنے والے طلبا، اچھلتی ٹائیوں کے بیچ، اسے گھونسوں اور جوتوں سے مارنے لگے۔ کچھ بچیاں، بھنچی آوازوں میں کاؤ ایٹر کاؤ ایٹر ،کٹوا کہتے ہوئے ناخنوں سے نوچ رہی تھیں۔ اسے ہر طرف دھونکتی سانسوں اور بوکھلائے پِلّوں کی غراہٹ کے علاوہ کچھ نہیں سنائی دے رہا تھا۔ آنکھوں کے آگے اندھیرے کے چکتے اڑ رہے تھے۔

ایک بڑے لڑکے نے کپکپاتے ہوئے اپنا جیومٹری بکس کھول کر رولر پر رکھا۔چھوٹوں کو لات سے ٹھیل کر دور کیا۔ اسے بال پکڑ کر بٹھایا اور اپنا نچلا جبڑا دانت سے دباکر، مٹھی میں کسے کمپاس سے اس کے چہرے پر مارنے لگا۔ ہر وار کے ساتھ اس کی مڑتی، باریک بھورے بالوں سے ڈھکی ٹانگیں، چوڑی ہوکر دھوپ میں چمک اٹھتی تھیں۔

کئی بچے مڑ کر اپنے جیومیٹری باکس لینے کلاس روموں کی طرف  بھاگے۔ کچھ بیلٹیں کھینچنے لگے۔ کئی گراؤنڈ کی فینس پر چڑھ کر گل مہر اور اشوک کی ٹہنیاں توڑنے لگے۔

دیکھتے ہی دیکھتے وہ بچوں کے تین فٹ اونچے ڈھیر کے نیچے دب کر لاپتہ ہو گیا۔

اسکول کے گیٹ کے آگے، ماتھے پر گیلا قشقہ اور گلے میں کڑک سفید ایڈووکیٹ بینڈ لگائے ایک بھاری بھرکم بدن کا مُچھڑ صبح سے چِلّا رہا تھا، اگر لوگ ساتھ دیں تو وہ ہندوؤں کو روز نیا صدمہ دینے والا یہ اسکول اور گایوں کی تسکری کا کاروبار دونوں چٹکی بجاتے بند کرا سکتا ہے۔ گُل مچھوں کے اوپر اس کا منصف شعور سناتنی اور نیچے برٹش تھا۔ وہ اپنا کوٹ درست کر، پرنسپل کے پاس گیا اور رقص کی دعوت دینے والے انگریزوں کی طرح کلاوے اور انگوٹھیوں سے لدا ہاتھ بڑھایا۔ وہ پیچھے ہٹی تو ہاتھ پکڑ کر جھٹکے سے اوپر اٹھا دیا، “بھندے!”

“ماترم!” بھیڑ سے کچھ ہلکی آوازیں آئیں۔

کوئی چلایا۔ “ارے، یہی لوگ تو خود کھاتے اور بچوں کو کھلاتے ہیں۔”

“بھندے!”

“ماترم!!”، اس بار خوف زدہ پرنسپل نے بھی ساتھ دیا۔ اس کی آنکھیں ماتھے کے اوپر کہیں ٹنگی ہوئی تھیں۔

لوگ ان کے قریب آنے لگے۔ نعرہ اونچا ہونے لگا۔ رقص کا سماں بن گیا۔ تالیوں کے سر ملتے نہ ملتے، ٹھمکتے لوگوں نے جیبوں سے گاگلس نکال کر آنکھوں پر چڑھا لیے۔ درست کی گئیں ساڑھیوں کے پلو اڑسے گئے۔ سیلفی کی ڈنڈیوں پر سجے موبائل فونوں کے کیمرے چلنے لگے۔ ٹیچر اور اسٹاف بھی دوڑتے آئے اور ناچنے لگے۔

پولیس والے اطمینان میں تھے، جیسے کپتان نے انہیں کسی رشتےدار کی شادی والے گھر کے آگے، مہمانوں پر اپنا رتبہ ظاہر کرنے کے لیے تعینات کیا ہو۔ وہاں جو کلچرل پروگرام ہو رہا تھا، کوئی اندھا بھی بلکہ کوئی اندھا ہی بہتر بتا سکتا تھا کہ وہ لوگ کسی کی عبادت یا آرتی نہیں کر رہے تھے ،بلکہ اسکول سے آتے خالص وحشی پن کے شور کا موسیقی اور رقص میں ترجمہ کر رہے تھے۔ اب وہاں سے کچھ نئی دہاڑتی، بالغ آوازیں اور گالیاں بھی سنائی دینے لگی تھیں۔

اب بھی کئی سر پرست اپنے جبڑے بھینچے، چھاتیوں پر بازو باندھے کھڑے تھے۔ ایک بلکتی ہوئی عورت اپنے بچوں کو لے کر سبھی سے فوراً اپنے اپنے   گھروں کو جانے کے لینے کہہ رہی تھی۔ بھیڑ نے اسے حقارت سے دیکھا کیونکہ اس کی تیکھی آواز سے رقص لڑکھڑا جاتا تھا۔

صرافے کا ایک بیوپاری بڑی سی گاڑی سے اترا۔ اس نے پھرتی سے پچھلا دروازہ کھول کر رنگین پٹکے باندھے دو کمسن لڑکوں کو ڈپٹ کر باہر نکالا۔ وہ فوراً بھیڑ میں گھس کر ڈھول اور تاشے بجانے لگے۔ اس کا ڈرائیور سیٹوں پر سجی پلیٹوں میں، شہر کے ایک مشہور حلوائی کے یہاں سے آئے خستہ مٹر اور پانی کی ٹھنڈی بوتلیں بھیڑ کو پکڑانے لگا۔ آخر میں اس نے جیب سے ایک کاغذ نکال کر ہکلاتے ہوئے پڑھا،’وطن پرستوں اورمذہب کے محافظوں کی خدمت میں یہ چھوٹی سی بھینٹ قبول کرنے کا دل سے شکریہ!’ اور انکساری سے جھک کر، فتحیاب مسکان لیے، مڑ مڑ کر ہاتھ ہلاتا واپس چلا گیا۔

کوئی پینتالیس پچاس منٹ کا وقت لگا ہوگا جب پولس والے ‘بچوں کا جھگڑا’ نمٹانے کے لیے ٹیچروں اور سر پرستوں کے پیچھے اسکول کے اندر گئے۔ وہاں آس پاس کے محلوں اور جھگی بستیوں سے ہلّا بول کر گھس آئے لوگ کام پر لگے تھے۔

لیبارٹری میں آگ لگی تھی۔ دھواں ایک ٹوٹی کھڑکی سے ایسے نکل رہا تھا جیسے انصاف کے سنہری دور کے وِگ والے ججوں کے جھنڈ آپس میں کوئی ہنگامہ خیز مشورہ کر رہے ہوں۔ کتابیں لائبریری میں الٹ کر ساگون کی الماریاں، آبنوس کی میزیں، ٹی وی اور کمپیوٹر ساجھے میں ڈھوئے جا رہے تھے۔ کاریڈور میں ایک مریل بوڑھا واٹر کولر کے نیچے دبا منھ سے خون پھینک رہا تھا۔ چیپل میں عیسیٰ مسیح کی مورتی کے دونوں ہاتھ توڑ دیےگئے تھے۔ دیواریں پان مسالے کی پیک سے رنگ گئی تھیں۔

سوئمنگ پول میں لونڈے نہا رہے تھے۔ نارنگی بالوں والے، پھٹےہال بچے جونیئر سیکشن کے جھولوں پر قبضہ کرنے کے لیے مار کٹائی کر رہے تھے۔ کئی کلاس روموں کے ایئر کنڈشنر اُڑ چکے تھے۔ اِسپورٹس اِسٹور کا سامان لٹ چکا تھا۔ سائکلیں غائب تھیں۔ بیسیوں بچوں کے فون جھپٹ لیے گئے تھے۔ سوئمنگ پول کے چینجنگ روم اور ٹائلٹس میں تین لڑکیوں کا بلاتکار کیا گیا تھا۔ جو اب ادھ ننگی، باؤلی حالت میں ٹیچرز روم کے ایک کونے میں بیٹھی خاموشی سے رو رہی تھیں۔

میسم، اسکول کے پچھواڑے کے نالے کے پاس اپنے خون سے سنچی مٹی میں اوندھا پڑا تھا۔ اس کے بدن کے ہر سوراخ سے خون رس رہا تھا۔ کھال ادھڑ گئی تھی۔ کپڑے غائب تھے۔ چہرہ اور بدن اس قدر سوجے تھے کہ یہ تصور کرنا بھی محال تھا کہ یہی بچہ تھوڑی دیر پہلے سب کو تھکاتے ہوئے ہرن کے بچے کی طرح بھاگا ہوگا۔

گراؤنڈ میں چھوٹے بچے ڈر کے مارے رو رہے تھے۔ کچھ جھاڑیوں میں بیٹھے کھسر پسر کرنے میں لگے تھے۔ کچھ پچ رولر کو چلانے کے لیے زور آزمائی کر رہے تھے۔ پاگل عورت، ایک کنارے اپنے بال نوچتے ہوئے کسی جانور کی طرح چیخ رہی تھی۔

میسم کے بیہوش ہونے کے بعد بچوں کے کئی گروہ بن گئے تھے جو آپس میں مارپیٹ کرنے لگے۔ ایک گروہ اسکول کی کھڑکیوں کے شیشوں پر پتھر مارنے لگا۔ ایک نے لیبارٹری میں جاکر آگ لگا دی۔ شروع میں لڑکیوں کا بھی ایک الگ گینگ بنا تھا لیکن گرماگرم بحث کے بعد جلدی ہی بکھر کر لڑکوں میں جذب ہو گیا۔

پتھربازی کے بیچ میں باہر کے لوگ، باؤنڈری وال پھاند کر گھس آئے اور اسکول کسی ملک میں چلتے سول وار کا جیتا جاگتا نمونہ بن گیا۔

زیادہ تر سر پرست اپنے بچوں کو لاپتہ پاکر بوکھلا گئے۔ پرنسپل اور پولس والوں کو گالیاں دینے لگے۔ وہ حیثیت بتانے اور نوکری کھا لینے کے دعووں کے بیچ، تازہ بنی ایکتا کی قسم کھاکر، کسی طرح راضی ہوئے اور اپنے بچوں کوڈھونڈنے کے لیے اسکول کے کونے کونے میں پھیل گئے۔ پولیس ایمبولینس بلاکر، تینوں لڑکیوں اور میسم کو سرکاری اسپتال لے گئی۔

اسمبلی کے لیے گھنٹہ بجا۔ جونیئر سیکشن کے ہی کچھ بچے مل پائے جو اکیلے گھر نہیں جا سکتے تھے۔ وہ جب اکٹھا ہوئے تو سسک رہے تھے۔ ہوا پیشاب کی گندھ سے بوجھل تھی جو ان کے کپڑوں سے آ رہی تھی۔ اسکول میں غیرمعینہ مدت کے لیے چھٹی کر دی گئی۔

تینوں لڑکیوں کو ان کے سر پرست آکر لے گئے۔ ان کی میڈیکل رپورٹ میں لکھا گیا، چکر، الٹی، بخار ۔اور کھرونچوں کا علاج ہوا کیونکہ آگے چل کر ان کی شادیاں ہونی تھیں۔ ڈاکٹروں نے میسم کو ‘براٹ ڈیڈ’ بتادیا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت کا کارن حد سے زیادہ خون کا بہہ جانا اور دم گھٹنا بتایا گیا۔ اس کے سر میں غیب سے آئے اسٹیل کے چھ چھوٹےنکیلے ٹکڑے پائے گئے، جو اب بھی اس کی ننھی قبر کے اندھیرے میں ٹمٹما رہے ہوں گے۔

اس کی ماں کے کلیجے میں چھالے پڑ گئے ہیں۔ کچن میں بیٹھی، امام دستے میں ایک بار میں ایک انگلی کوٹتے ہوئے گنتی رہتی ہے ۔’انجینئر، سائنس داں، سی ای او، ڈاکٹر، پولیس، وکیل، کھلاڑی، پائلٹ!’

پرانے زخم سوکھیں، اس سے پہلے نیا دورہ پڑ جاتا ہے۔

اوہ، اس کہانی سے آپ کو صدمہ لگا!

کوئی بات نہیں، آپ روشن آغا کی حالت دیکھیے۔ جب کوئی نہ ہو، وہ اکیلے اپنی دکان پر بیٹھے بدبداتے رہتے ہیں، “ٹھیک ہی ہوا۔ تمہیں آج نہیں تو کل جانا پڑتا۔ یہ جو گائیں سڑک پر مرتی ہیں اور ان کے پیٹ سے ساٹھ ستر کلو پالیتھین کا گولا نکلتا ہے، اس کے بارے میں کیا سوچتے ہو…وہ اندر سے پلاسٹک ہو چکی ہیں، ایک دن باہر سے بھی ہو جائیں گی۔ تب افواہ اور حقیقت کے بیچ کی دوری مٹ جائےگی۔”

٠٠٠

انِل یادو 9 جنوری 1967 کو پیدا ہوئے۔ان کی کہانیاں عصر حاضر کے ہندی افسانوں میں اپنے حساس موضوعات کی وجہ سے ایک خاص جگہ بنا چکی ہیں۔ایک افسانوی مجموعہ’نگر ودھوئیں اخبار نہیں پڑھتیں’ اور ‘گئوسیوک’ نامی ایک مختصر ناول اب تک شائع ہوچکا ہے۔ وہ پیشے سے صحافی ہیں اور اپنے رویے سے بے باک۔گزشتہ پچیس برسوں سے وہ ہندوستان کے بڑے اخباروں ‘دینک جاگرن’، ‘امراجالا’،’ہندوستان’،’نوبھارت ٹائمز’اور ‘آؤٹ لُک ‘ وغیرہ کے لیے ہندی اور انگریزی میں رپورٹنگ کے ساتھ ساتھ کالم نویسی بھی کرتے رہے ہیں۔

ان کی اس کہانی ‘امام دستہ’ نے ہندی کے معاصر ادیبوں کے حلقے میں، سماج میں موجود سفاک سچائیوں کی بنا پر بڑھتی عدم رواداری اور مسلمانوں کے تعلق سے بنائے جانے والے ماحول کو بالکل ایسے ڈھنگ میں پیش کیا ہے کہ اس مختصر سی کہانی کو ایک نشست میں پڑھنا دشوار ہوجاتا ہے۔نظریاتی سطح پر یہ بحث ہندی کے ترقی پسند اور سیکولر حلقوں میں بہت تیزی سے جگہ بناتی گئی ہے کہ کسی دوسری قوم سے بڑھتی ہوئی نفرت ، اس سماج کے بچوں کو بھی کہیں نہ کہیں تشدد پسند اور لہو پرور بنا رہی ہے۔ایسی کئی خبریں گزشتہ برسوں میں سامنے آئی ہیں، جن میں بہت کم عمر کے لڑکوں، لڑکیوں کے یہاں اس قسم کے تعصب کی کریہہ شکلیں دیکھی بھی گئی ہیں۔انِل یادو نے اس سچائی کو ایک قدم آگے بڑھ کر دیکھا ہے۔اردو کے پڑھنے والوں کے لیے اس میں ایک سبق یہ بھی مضمر ہے کہ ہمیں مذہبی شدت پسندی کے اثرات کو ان کہانیوں کے ذریعے سمجھنے کی اور اپنے یہاں بھی ایک زیادہ کھلے ذہن اور دوسری قوموں کو قبول کرنے کے رویے کو جگہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔

content-1701

article 8998000441

article 8998000442

article 8998000443

article 8998000444

article 8998000445

article 8998000446

article 8998000447

article 8998000448

article 8998000449

article 8998000450

article 8998000451

article 8998000452

article 8998000453

article 8998000454

article 8998000455

article 8998000456

article 8998000457

article 8998000458

article 8998000459

article 8998000460

article 8998000461

article 8998000462

article 8998000463

article 8998000464

article 8998000465

article 8998000466

article 8998000467

article 8998000468

article 8998000469

article 8998000470

article 2000126

article 2000127

article 2000128

article 2000129

article 2000130

article 2000131

article 2000132

article 2000133

article 2000134

article 2000135

article 2000136

article 2000137

article 2000138

article 2000139

article 2000140

article 2000141

article 2000142

article 2000143

article 2000144

article 2000145

article 2000146

article 2000147

article 2000148

article 2000149

article 2000150

article 2000151

article 2000152

article 2000153

article 2000154

article 2000155

article 2000156

article 2000157

article 2000158

article 2000159

article 2000160

article 2000161

article 2000162

article 2000163

article 2000164

article 2000165

article 2000166

article 2000167

article 2000168

article 2000169

article 2000170

article 2000166

article 2000167

article 2000168

article 2000169

article 2000170

article 2000171

article 2000172

article 2000173

article 2000174

article 2000175

article 2000176

article 2000177

article 2000178

article 2000179

article 2000180

article 2000181

article 2000182

article 2000183

article 2000184

article 2000185

article 2000186

article 2000187

article 2000188

article 2000189

article 2000190

article 2000191

article 2000192

article 2000193

article 2000194

article 2000195

article 2000196

article 2000197

article 2000198

article 2000199

article 2000200

article 2000201

article 2000202

article 2000203

article 2000204

article 2000205

article 2000206

article 2000207

article 2000208

article 2000209

article 2000210

article 2000211

article 2000212

article 2000213

article 2000214

article 2000215

article 2000216

article 2000217

article 2000218

article 2000219

article 2000220

article 2000221

article 2000222

article 2000223

article 2000224

article 2000225

article 2990216

article 2990217

article 2990218

article 2990219

article 2990220

article 2990221

article 2990222

article 2990223

article 2990224

article 2990225

article 2990226

article 2990227

article 2990228

article 2990229

article 2990230

article 2990231

article 2990232

article 2990233

article 2990234

article 2990235

article 2990236

article 2990237

article 2990238

article 2990239

article 2990240

article 2990241

article 2990242

article 2990243

article 2990244

article 2990245

article 2990246

article 2990247

article 2990248

article 2990249

article 2990250

article 2990251

article 2990252

article 2990253

article 2990254

article 2990255

article 2990256

article 2990257

article 2990258

article 2990259

article 2990260

article 2990261

article 2990262

article 2990263

article 2990264

article 2990265

article 888866

article 888867

article 888868

article 888869

article 888870

article 888871

article 888872

article 888873

article 888874

article 888875

article 888876

article 888877

article 888878

article 888879

article 888880

article 888881

article 888882

article 888883

article 888884

article 888885

article 888886

article 888887

article 888888

article 888889

article 888890

article 888891

article 888892

article 888893

article 888894

article 888895

article 888896

article 888897

article 888898

article 888899

article 888900

article 888901

article 888902

article 888903

article 888904

article 888905

article 888906

article 888907

article 888908

article 888909

article 888910

article 888911

article 888912

article 888913

article 888914

article 888915

article 888916

article 888917

article 888918

article 888919

article 888920

article 888921

article 888922

article 888923

article 888924

article 888925

article 0000221

article 0000222

article 0000223

article 0000224

article 0000225

article 0000226

article 0000227

article 0000228

article 0000229

article 0000230

article 0000231

article 0000232

article 0000233

article 0000234

article 0000235

article 0000236

article 0000237

article 0000238

article 0000239

article 0000240

article 0000241

article 0000242

article 0000243

article 0000244

article 0000245

article 0000246

article 0000247

article 0000248

article 0000249

article 0000250

article 0000251

article 0000252

article 0000253

article 0000254

article 0000255

article 0000256

article 0000257

article 0000258

article 0000259

article 0000260

article 0000261

article 0000262

article 0000263

article 0000264

article 0000265

article 0000266

article 0000267

article 0000268

article 0000269

article 0000270

article 5500126

article 5500127

article 5500128

article 5500129

article 5500130

article 5500131

article 5500132

article 5500133

article 5500134

article 5500135

article 5500136

article 5500137

article 5500138

article 5500139

article 5500140

article 5500141

article 5500142

article 5500143

article 5500144

article 5500145

article 5500146

article 5500147

article 5500148

article 5500149

article 5500150

article 5500151

article 5500152

article 5500153

article 5500154

article 5500155

article 7700156

article 7700157

article 7700158

article 7700159

article 7700160

article 7700161

article 7700162

article 7700163

article 7700164

article 7700165

article 7700166

article 7700167

article 7700168

article 7700169

article 7700170

article 7700171

article 7700172

article 7700173

article 7700174

article 7700175

article 7700176

article 7700177

article 7700178

article 7700179

article 7700180

article 7700181

article 7700182

article 7700183

article 7700184

article 7700185

content-1701
news-0801

yakinjp


sabung ayam online

yakinjp

yakinjp

rtp yakinjp

yakinjp

yakinjp

judi bola online

slot thailand

yakinjp

yakinjp

yakinjp

yakinjp

ayowin

mahjong ways

judi bola online

mahjong ways 2

JUDI BOLA ONLINE

maujp

maujp

sabung ayam online

maujp

maujp

maujp

maujp

sabung ayam online

mahjong ways slot

sbobet88

live casino online

Situs Agen Togel

MAUJP

118000021

118000022

118000023

118000024

118000025

118000026

118000027

118000028

118000029

118000030

118000031

118000032

118000033

118000034

118000035

118000036

118000037

118000038

118000039

118000040

118000041

118000042

118000043

118000044

118000045

118000046

118000047

118000048

118000049

118000050

128000021

128000022

128000023

128000024

128000025

128000026

128000027

128000028

128000029

128000030

128000031

128000032

128000033

128000034

128000035

128000036

128000037

128000038

128000039

128000040

128000041

128000042

128000043

128000044

128000045

128000046

128000047

128000048

128000049

128000050

138000021

138000022

138000023

138000024

138000025

138000026

138000027

138000028

138000029

138000030

138000031

138000032

138000033

138000034

138000035

138000036

138000037

138000038

138000039

138000040

138000041

138000042

138000043

138000044

138000045

138000046

138000047

138000048

138000049

138000050

148000026

148000027

148000028

148000029

148000030

148000031

148000032

148000033

148000034

148000035

148000036

148000037

148000038

148000039

148000040

148000041

148000042

148000043

148000044

148000045

148000046

148000047

148000048

148000049

148000050

148000051

148000052

148000053

148000054

148000055

148000056

148000057

148000058

148000059

148000060

148000061

148000062

148000063

148000064

148000065

148000066

148000067

148000068

148000069

148000070

158000041

158000042

158000043

158000044

158000045

158000046

158000047

158000048

158000049

158000050

158000051

158000052

158000053

158000054

158000055

158000056

158000057

158000058

158000059

158000060

158000061

158000062

158000063

158000064

158000065

158000066

158000067

158000068

158000069

158000070

168000011

168000012

168000013

168000014

168000015

168000016

168000017

168000018

168000019

168000020

168000021

168000022

168000023

168000024

168000025

168000026

168000027

168000028

168000029

168000030

168000031

168000032

168000033

168000034

168000035

168000036

168000037

168000038

168000039

168000040

178000036

178000037

178000038

178000039

178000040

178000041

178000042

178000043

178000044

178000045

178000046

178000047

178000048

178000049

178000050

178000051

178000052

178000053

178000054

178000055

178000056

178000057

178000058

178000059

178000060

178000061

178000062

178000063

178000064

178000065

188000141

188000142

188000143

188000144

188000145

188000146

188000147

188000148

188000149

188000150

188000151

188000152

188000153

188000154

188000155

188000156

188000157

188000158

188000159

188000160

188000161

188000162

188000163

188000164

188000165

188000166

188000167

188000168

188000169

188000170

198000031

198000032

198000033

198000034

198000035

198000036

198000037

198000038

198000039

198000040

198000041

198000042

198000043

198000044

198000045

198000046

198000047

198000048

198000049

198000050

198000051

198000052

198000053

198000054

198000055

198000056

198000057

198000058

198000059

198000060

218000021

218000022

218000023

218000024

218000025

218000026

218000027

218000028

218000029

218000030

218000031

218000032

218000033

218000034

218000035

218000036

218000037

218000038

218000039

218000040

218000041

218000042

218000043

218000044

218000045

218000046

218000047

218000048

218000049

218000050

228000016

228000017

228000018

228000019

228000020

228000021

228000022

228000023

228000024

228000025

228000026

228000027

228000028

228000029

228000030

228000031

228000032

228000033

228000034

228000035

228000036

228000037

228000038

228000039

228000040

228000041

228000042

228000043

228000044

228000045

228000046

228000047

228000048

228000049

228000050

238000001

238000002

238000003

238000004

238000005

238000006

238000007

238000008

238000009

238000010

238000011

238000012

238000013

238000014

238000015

238000016

238000017

238000018

238000019

238000020

news-0801