وجے شرما کی غزلیں

1

مانگتے ہیں نام پر اللہ کے

اور تیور ہیں بہادر شاہ کے

 

اور لہروں نے کنارہ کر لیا

حوصلے ایسے بڑھے ملّاح کے

 

ہے صراط مستقیم اب پائمال

ہم علمبردار ہیں گمراہ کے

 

اب نہیں سنجیدگی خبروں کے بیچ

ہیں تماشے اب فقط افواہ کے

 

شام ہے موسم بھی ہے اور ہے شراب

منتظر ہم ہیں تو بسم اللہ کے

 

2

 

موسم کے ہاتھوں ایسے سنوارا گیا مجھے

بادِ صبا چلی کہ بخار آ گیا مجھے

 

سہما سا رہ گیا میں لطیفوں کے درمیاں

میری طرف سے ایسا اشارہ گیا مجھے

 

اتنی ہی بار کوئی نیا گھاؤ آ لگا

جتنی بھی بار سوچا بچارا گیا مجھے

 

یاد آیا اپنے ساتھ کوئی جولیٹ بھی تھی

کہہ کہہ کے رومیو جو پکارا گیا مجھے

 

آدھے ادھورے کام کی بیچینیوں کے بیچ

جب تھک کے سو گیا تو قرار آ گیا مجھے

 

3

 

چاہیں بھی تو لگتی نہیں سنسار کی عادت

دربار کی عادت ہے نہ گھر بار کی عادت

 

پل بھر میں اڑا دیتے ہیں دن بھر کی کمائی

تنہائی میں ایسی لگی بازار کی کی عادت

 

مجھ کو بھی ستمگر ہی بتاتے ہیں مرے لوگ

مجھ سے ہوئی منسوب مرے یار کی عادت

 

ہر بات میں اِک بات نئی ڈھونڈتے رہنا

جینے کا سہارا ہے یہ بے کار کی عادت

 

4

 

بڑھ گئے ہیں عمر کے دن چار سے

اور یہ ہونگے کسی تیوہار سے

 

ہر گھڑی رہتے ہیں ہم تیار سے

کون یہ بتلائے جاکر یار سے

 

لے رہا ہوں شیپ اِک سائے سا میں

کٹ رہا ہوں روشنی کی دھار سے

 

مست رہتا ہوں بہ فیض خاک و خوں

کیا غرض داڑھی سے يا زنّار سے

 

عمر کٹتی ہے کنارے کی طرح

دیکھتی ہے زندگی منجدھار سے

 

من ہرن کو  ہے ضرورت رقص کی

لا دے اک جنگل مجھے بازار سے

 

ساتھ اپنے دو گھڑی تو رہ وجے

دو گھڑی بیتے ذرا وستار سے

 

5

 

میں شور ہوں تو مجھ کو صدا کرکے دکھاؤ

آؤ مری آواز میں آواز ملاؤ

 

یکسانیت جان و بدن ٹوٹ نہ جائے

مجھ جیسا کوئی میرے لئے ڈھونڈ کے لاؤ

 

ہر بار مقرر وہی روداد محبت

سن لو مگر اس بار اسے بھول بھی جاؤ

 

یہ کوزہ گری بھی ہے یہی گور کنی بھی

مٹی کو مسلسل اسی مٹی سے ملاؤ

 

ہنستے ہو تو چہرے پہ شکن آنے لگی ہے

سو خوش نظر آنے کے نئے شغل بناؤ

 

ہر چیز ہے تنہائی کی تشبیہ مرے گرد

ہر چیز ہی کہتی ہے مجھے ہاتھ لگاؤ

 

6

 

نہ کوئی ساتھ ہے اپنے نہ کوئی دھیان میں ہے

مگر یہ خوشبوئے بے نام جو مکان میں ہے

 

جہاں بھی جائیں ہمیں اپنا گھر ہی لگتا ہے

یہ انتظامِ زمانہ ہماری شان میں ہے

 

کسے خبر کہ وہ کب ٹوٹ ہی پڑے ہم پر

زمیں کی ساری خموشی جو آسمان میں ہے

 

میں دین و دنیا سے اُکتا کے کس طرف جاتا

ہزار شکر کہ absurd درمیان میں ہے

 

بس ایک لمس کی دوری پہ ہے بدن اُس کا

شروع موسمِ حسرت بس ایک آن میں ہے

 

7

 

آئینے کی ترجمانی اور ہے

عکس کی شعلہ بیانی اور ہے

 

اور ہی کردار ہم جیتے رہے

جب کہ اس دل کی کہانی اور ہے

 

اس سہولت سے کوئی روتا نہیں

آپ کی آنکھوں کا پانی اور ہے

 

ہے الگ رفتار دنیا کی ‘ وجے’

اور پھر اپنی روانی اور ہے

 

8

 

پستی سے بلندی کی صفت دیکھتے رہنا

دن رات تھکی آنکھ سے چھت دیکھتے رہنا

 

محسوس بھی کر دیکھنا مظلوم کی چیخیں

ہر ظلم کو بس دور سے مت دیکھتے رہنا

 

وہ میری ہر اِک بات پہ سو دینا دلیلیں

اور لفظِ محبت پہ لغت دیکھتے رہنا

 

یاد آتا ہے اُن کا مرے اقرارِ وفا پر

مشکوک نگاہوں سے فقط دیکھتے رہنا

 

بازار میں اِک اور ہی رتبے میں بھٹکنا

شیشے میں کوئی اور ہی گت دیکھتے رہنا

 

دو آنکھ سہائے نہیں جب آپ ہی اپنا

بند آنکھ سے چپ چاپ جگت دیکھتے رہنا

 

ہر وار پہ سوکھے ہوئے ہونٹوں کا تبسم

ہر زخم پہ لفظوں کی پرت دیکھتے رہنا

 

ہارا ہوا اک شخص ہوں اور نام ‘وجے’ ہے

صد حیف کہ یہ لفظِ غلط دیکھتے رہنا

 

9

 

آ مری جان! مری روح کو تازہ دم کر

تھام لے مجھ کو کسی رات تو مجھ میں تھم کر

 

جس دھڑلے سے تری یاد چلی آتی ہے

ایسا لگتا ہے کہ رہ جاؤں گا تجھ میں رم کر

 

سب کو معلوم ہے پرواز ہے اک وقتی شے

تو مجھے میرا قفس یاد دلانا کم کر

 

اپنی خوشبو کو مرے واسطے کر بادِ بہار

اپنے سائے کو کسی روز مرا موسم کر

 

آخری شام ترے شہر کی کیوں ضائِع ہو

دِل اکیلا ہے بہت آج پیوں گا جم کر

 

نیند بھی آ گئی آخر یہ دیا گل کر دے

مجھ پہ یہ آخری احسان مرے پیتم کر

 

10

 

دام اپنا جو لگاؤں تو کہیں یار ملے

میرا معشوق مجھے بن کے خریدار ملے

 

بس طبیعت کی روانی سے کٹی کوہِ عمر

دِل نے چاہا تو بہت تھا کہ مددگار ملے

 

منزلیں جب بھی نظر آئیں بہت پاس آئیں

راستے جب بھی ملے صورتِ دیوار ملے

 

روز سوتا ہوں کہ کچھ خواب نئے دیکھوں گا

روز اٹھتا ہوں کہ اک خواب تو ساکار ملے

 

خوب مشہور ہے ہر اور مری در بدری

کیسے ممکن ہو کسی شہر میں گھر بار ملے

 

11

 

ہے اندھیرا بہت, دل جلا دور تک روشنی جائےگی

اور اسی میں اُمیدِ سحر کی کہانی لکھی جائےگی

 

سنگِ بنیاد کل عاشقوں کے دبستاں کا ہوگا وہاں

جس جگہ آج میری نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی

 

منظرِ دِل فریب اک تماشے میں تبدیل ہو جائےگا

چشمِ حیرت کے اٹھنے پہ کوئی ٹکٹ جو رکھی جائےگی

 

دِل کی باتیں رکھیں روشنی کے لفافے میں یہ سوچ کر

جس جگہ میں نہ پہنچا وہاں تک مری شاعری جائےگی

 

وہ خوشی غم کا سایہ ہی نکلے گی کیسے سمجھتا بھلا

قرض جسکا چکانے میں ممکن ہے یہ زندگی جائےگی

 

12

 

شاعر تو بلائے گئے سرکار کی صورت

پر شعر سنائے گئے اخبار کی صورت

 

دِل بھر کی زمیں آئی ہے حصے میں ہمارے

اور سامنے دنیا ہے زمیندار کی صورت

 

بے وقت چلا آتا ہے معشوق ہمارا

لگتی ہے دعا آج کل آزار کی صورت

 

اب عکس بھی ہوتا نہیں مجھ تن سے برآمد

آئینہ نظر آتا ہے دیوار کی صورت

 

وہ روپ بتوں کا ہے نمائندہ مرے پیش

وہ زلف مرے گِرد ہے زنّار کی صورت

 

13

 

کون کنہیا رکھّے پاس

سادھو! جمنا ہوئی اُداس

 

بن مایہ جوگی جیون

پل چھن میں سو سو بنواس

 

موت کی خوشبو آن لگی

بجھ گئی کستوری کی پیاس

 

ٹیک لگا کر اس بت سے

من بھٹکا ہے بارہ ماس

 

مجھ کو لب سے سننی ہے

اس کے بدن کی ہر ارداس

 

شام ہوئی تو جام اٹھا

علم و حکمت سب بكواس

 

وجے  شرما کا تعلق کلکتہ سے ہے۔ 29 مئی 1995 میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم کلکتہ میں ہی حاصل کی۔بعد ازاںسائنس میں گریجویشن کیا ۔ ادب اور سینما میں خاص دلچسپی ہونے کی وجہ سے وہ پہلے دلی اور پھر دلی سے ممبئی کا رُخ کیا۔آج کل سکرپٹ رائٹنگ میں اپنے لیے زمین تلاش کررہے ہیں۔ اب تک ان کا کوئی شعری مجموعہ شائع نہیں ہوا ہے۔

ہندوستان میں اردو غزل کہنے والی نئی نسل کے جوہر ان کے اترنگی اور انوکھے اسالیب کے ذریعے کھل رہے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس نسل کی نمائندگی ٹھیک سے ہو اور پاکستانی شعر و ادب کے ہلے میں اس  کو نظر انداز کیے جانے کی کوشش کامیاب نہ ہونے پائے۔ اسی بنیاد پر ہم ایسے شاعروں کے غزل کے انتخابات کو شائع کرنے کا آغاز کررہے ہیں جو نئی نسل سے تعلق رکھتے ہیں اور جن کے شعری وجدان کی چنگاریاں اپنی جانب دیکھنے پر مائل کرتی ہیں۔ وجے شرما بھی اسی نسل کا ایک نمائندہ نام بن کر ابھرے ہیں۔ ان کی غزلوں میں لفظ اور معنی دونوں کی سطح پر ایک قسم کی نئی تجرباتی رمق دیکھنے کو ملتی ہے جوشاعری کے میدان میں ان کے بہتر مستقبل کی ضامن ہے۔ وہ غزل کی روایتی شعریات کا پاس رکھتے ہوئے بھی اپنے آس پاس کے ماحول اور بھاشا سے نئے شعری پیکر بنانے میں کامیاب ہیں۔ ہم جستہ جستہ ایسے اور بھی غزل اور نظم کے شاعروں کے انتخابات آپ کےسامنے لاتے رہیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Attention Required! | Cloudflare

Sorry, you have been blocked

You are unable to access wajibjp.cfd

Why have I been blocked?

This website is using a security service to protect itself from online attacks. The action you just performed triggered the security solution. There are several actions that could trigger this block including submitting a certain word or phrase, a SQL command or malformed data.

What can I do to resolve this?

You can email the site owner to let them know you were blocked. Please include what you were doing when this page came up and the Cloudflare Ray ID found at the bottom of this page.

news-0801

yakinjp


sabung ayam online

yakinjp

yakinjp

rtp yakinjp

yakinjp

yakinjp

judi bola online

slot thailand

yakinjp

yakinjp

yakinjp

yakinjp

ayowin

mahjong ways

judi bola online

mahjong ways 2

JUDI BOLA ONLINE

maujp

maujp

sabung ayam online

maujp

maujp

maujp

maujp

sabung ayam online

mahjong ways slot

sbobet88

live casino online

Situs Agen Togel

MAUJP

118000021

118000022

118000023

118000024

118000025

118000026

118000027

118000028

118000029

118000030

118000031

118000032

118000033

118000034

118000035

118000036

118000037

118000038

118000039

118000040

118000041

118000042

118000043

118000044

118000045

118000046

118000047

118000048

118000049

118000050

128000021

128000022

128000023

128000024

128000025

128000026

128000027

128000028

128000029

128000030

128000031

128000032

128000033

128000034

128000035

128000036

128000037

128000038

128000039

128000040

128000041

128000042

128000043

128000044

128000045

128000046

128000047

128000048

128000049

128000050

138000021

138000022

138000023

138000024

138000025

138000026

138000027

138000028

138000029

138000030

138000031

138000032

138000033

138000034

138000035

138000036

138000037

138000038

138000039

138000040

138000041

138000042

138000043

138000044

138000045

138000046

138000047

138000048

138000049

138000050

148000026

148000027

148000028

148000029

148000030

148000031

148000032

148000033

148000034

148000035

148000036

148000037

148000038

148000039

148000040

148000041

148000042

148000043

148000044

148000045

148000046

148000047

148000048

148000049

148000050

148000051

148000052

148000053

148000054

148000055

148000056

148000057

148000058

148000059

148000060

148000061

148000062

148000063

148000064

148000065

148000066

148000067

148000068

148000069

148000070

158000041

158000042

158000043

158000044

158000045

158000046

158000047

158000048

158000049

158000050

158000051

158000052

158000053

158000054

158000055

158000056

158000057

158000058

158000059

158000060

158000061

158000062

158000063

158000064

158000065

158000066

158000067

158000068

158000069

158000070

168000011

168000012

168000013

168000014

168000015

168000016

168000017

168000018

168000019

168000020

168000021

168000022

168000023

168000024

168000025

168000026

168000027

168000028

168000029

168000030

168000031

168000032

168000033

168000034

168000035

168000036

168000037

168000038

168000039

168000040

178000036

178000037

178000038

178000039

178000040

178000041

178000042

178000043

178000044

178000045

178000046

178000047

178000048

178000049

178000050

178000051

178000052

178000053

178000054

178000055

178000056

178000057

178000058

178000059

178000060

178000061

178000062

178000063

178000064

178000065

188000141

188000142

188000143

188000144

188000145

188000146

188000147

188000148

188000149

188000150

188000151

188000152

188000153

188000154

188000155

188000156

188000157

188000158

188000159

188000160

188000161

188000162

188000163

188000164

188000165

188000166

188000167

188000168

188000169

188000170

198000031

198000032

198000033

198000034

198000035

198000036

198000037

198000038

198000039

198000040

198000041

198000042

198000043

198000044

198000045

198000046

198000047

198000048

198000049

198000050

198000051

198000052

198000053

198000054

198000055

198000056

198000057

198000058

198000059

198000060

218000021

218000022

218000023

218000024

218000025

218000026

218000027

218000028

218000029

218000030

218000031

218000032

218000033

218000034

218000035

218000036

218000037

218000038

218000039

218000040

218000041

218000042

218000043

218000044

218000045

218000046

218000047

218000048

218000049

218000050

228000016

228000017

228000018

228000019

228000020

228000021

228000022

228000023

228000024

228000025

228000026

228000027

228000028

228000029

228000030

228000031

228000032

228000033

228000034

228000035

228000036

228000037

228000038

228000039

228000040

228000041

228000042

228000043

228000044

228000045

228000046

228000047

228000048

228000049

228000050

238000001

238000002

238000003

238000004

238000005

238000006

238000007

238000008

238000009

238000010

238000011

238000012

238000013

238000014

238000015

238000016

238000017

238000018

238000019

238000020

news-0801