پھول
ایک
ایک پھول کتاب سے
گرتا ہے
قدموں پر
امڈتی سانس کے ساتھ
ایک یاد
چڑھ دوڑتی ہے دل پر
دو
ایک پھول چہرے سے لگاتی ہے وہ
ایک پھول بالوں میں ٹانک لیتا ہوں میں
پت جھڑ کے دنوں میں بھی
پھول جیسا پھولیاتا ہے پیار
تین
برس بیت گیا
جب پھول ایک علامت تھا
پیار کے تحفے کی
سب سے زیادہ ملائم شے
آج اسے سوکھا ہوا دیکھتا ہوں
تو اس کے کانٹے دل میں گڑتے ہیں
چار
پھول کبھی نہیں چاہتا
وہ ان لوگوں کے لیے کھلے
جو کسی کو کَھلیں
پورے ایک ملک کو
کَھلنے کا کام تو
کانٹے بھی نہیں کرتے
٠٠٠
یاد میں
اسے یاد کرو
تو سینے میں
ایک چاقو الٹ جاتا تھا
اسے سونگھو
تو ایک پھیلتی بو
دل کو دباتی تھی
اسے ہٹاؤ
تو اک بھاری پتھر کی طرح
سینے پر بیٹھ جاتا تھا
اس میں مرو
تو پیار پر لعنت
اس میں جیو
تو ایک ملتوی خودکشی
اسے چھوؤ تو ہاتھ نہیں کھلتے ہیں
چھپاؤ تو کھل کھل جاتا تھا
کہو تو ان کہا رہ جاتا تھا۔۔۔
ایک کھویا ہوا پریم
کتنی پائی ہوئی یادوں کا نام تھا
٠٠٠
عام برتاؤ
یہاں دن بدن سب اتنا غیر معمولی ہوتا جارہا ہے
کہ اب وہی معمول بن گیا ہے
یہاں دن بدن کوئی ہلچل نہیں ہوتی
یہاں دن بدن کچھ نہیں دکھائی دیتا
یہاں سب اکثر سیاسی ہوتے ہیں
یہاں دن بدن خاموشی پھیلی رہتی ہے
پھر ایک دن کسی قومی فخر پر
گڑگڑاتی ہیں تالیاں
جیسے کہ نا انصافی
کسی اور ملک میں ہوا کرتی ہے
جیسے کامیابی بھی
کسی اور ملک کا مسئلہ ہے
اس ملک کے فخر میں سبھی کا حصہ ہے
اس ملک کی شرم میں کسی کی شرم شامل نہیں
اس ملک کی چُپیاں
اب بس مبارکبادیوں میں ٹوٹتی ہیں
چُپی اور مبارکباد۔۔۔
یہی اس ملک کا
عام برتاؤ ہے
٠٠٠
دیش
گھر ٹوٹتا بھی ہے تو
گھر کی یاد بچی رہ جاتی ہے
یاد رہتی ہے وہ جگہ
جہاں کبھی گھر تھا
گھر نہیں ڈھہتا ہے
وہ دیش۔۔۔
جسے تم اب صرف اپنا
عظیم روادار ملک کہتے ہو
بھربھرا کر گرتا ہے
اور زمیں بوس ہوجاتا ہے
٠٠٠
غلط سکھ
ہم نے جتنا ماتم منایا
وہ اتنا بھی سچ نہیں تھا
سکھ اتنے بھی ظالم نہیں رہے
وہ آئے جیون میں
ہم نے دروازہ کھولا اور کہا
تم غلط پتے پر آگئے ہو دوست!
٠٠٠
خدا کا وعدہ
زندگی میں کتنے کام تھے
پھر بھی میں نے روزمرہ کے کاموں میں
اسے تکلیف نہیں دی
اس کی اس دنیا کے حوالے سے ہی
وہ کسی اور دن کے وعدے کے ساتھ
ہمیشہ ہی غائب رہا
ایک روز میں اس کے در سے اٹھا
اتنی بے چینیاں سمیٹ کر اٹھا
کہ دیکھنے والے بھی ساتھ ہی اٹھ پڑے
مجھے نہیں چاہیے وہ خدا
جو مجھ سے قیامت کے روز
مخاطب ہوگا
٠٠٠
پیار کرتے ہوئے
ایسے دیکھتا ہوں تمہیں
جیسے اس دنیا میں
پہلی بار آنکھیں کھولی ہوں
رکھتا ہوں سینے میں کانپتا ہوا ایک دل
اور پھر پیار کرتا ہوں تم سے
ایسے اترتی ہے تمہاری یاد
جیسے پیمبروں پر سچ میں اترتے ہوں صحائف
ایسے سنجوتا ہوں تمہاری یادیں
جیسے اپنی بکھری ہوئی آتما کا سنگیت سنجوتا ہو کوئی
٠٠٠
تمہارے بعد وقت
کیا ہوگا ان دنوں کا
جو تمہاری آس میں کاٹے نہیں کٹے
جو چڑھا رہے چھاتی پر
بوجھ کی طرح
وہ شامیں جو کھنچتی گئیں راتوں میں
راتیں دوپہروں میں
دوپہریں ان دنوں میں
جن کی صبحوں میں تمہیں آنا تھا
وہ وقت
جو تمہارے انتظار میں بہہ گیا
جس کی آدھی گھڑی
تمہاری کلائی پر بندھی تھی
جس میں وقت اب بے وقت تھا
اس وقت
ان شاموں کا
کیا ہوگا
ان دنوں کا
جن کا پھیلاؤ
ان دنوں تک ہے
٠٠٠
ہم ایسوں کی نظم
ہم وہ لوگ ٹھہرے
جو اچانک اداس ہوگئے
ڈھلتی شاموں میں
چڑھتی راتوں میں
ہم بے وجہی کی وجہ سے اداس ہوئے
ہم وجہ کی بے وجہی سے اداس ہوئے
ہم اداس ہوئے جب غم ہی غم تھا
جب غم نہ رہا ہم اور اداس ہوئے
ہم معتوب رہے
پتوں کے جھڑنے کے موسم میں
پھولوں کے کھلنے کے موسموں میں
ایک نہ سمجھ میں آنے والی اداسی ہمیں گھیرے رہی
ہم نے خدا کو سمجھا اور اداس ہوئے
خدا کے بندوں سے اور بھی اداس ہوئے
ہم سرد راتوں کو اٹھ اٹھ کر
ایسے دکھوں کے لیے روئے
جو دنیا کی نگاہ میں دکھ ہی نہ تھے
ہم اپنے رنجوں پر ٹوٹ کر ہنسے
اور جن پر کوئی نہ رویا تھا
ان پر رو دیے
جب سب اداس ہوئے
ہم کھڑے رہے چپ
جب سب ہنسے
ہم اداس ہوئے
ہمارے غم کا کوئی
مداوا نہ ہوسکا
ہم دھتکارے گئے
ہم پہ لعنتیں ملامتیں ہوئیں
پوچھتے رہے ہم خود سے
وہ کون لوگ ہوئے
جنہیں بے چینیاں نہ ہوئیں
جو اکثر خوش رہے
انہیں ہم پھٹی آنکھوں سے دیکھتے رہے۔۔۔
٠٠٠
انس خان کا جنم 1999 میں ہوا۔ وہ ہندی ادب کی بالکل تازہ نسل کے شاعر ہیں۔ اترپدیش کے لکھیم پور کھیری سے ان کا تعلق ہے اور فی الحال جامعہ ملیہ اسلامیہ ، نئی دہلی سے ہندی اردو کی نظم کے موازنے پر وہ تحقیقی مقالہ لکھنے میں مصروف ہیں۔ ان کی یہ نظمیں ہندی ویب سائٹ سدا نیرا سے منتخب کی گئی ہیں اور اردو میں ان کی نظموں کے ترجمے کا غالباً یہ پہلا موقع ہے۔
انس خان کی نظموں میں لفظوں کی بہت بازیگری نہیں ہے، مگر خیال کی سطح پر ان کے یہاں تازہ کاری صاف محسوس کی جاسکتی ہے۔ وہ ہندی کی نئی نسل میں ایک توانا آواز کے طور پر دیکھے اور پہچانے جارہے ہیں۔ بہت زیادہ ابھی نہیں لکھا ہے، مگر جو لکھا ہے، اس میں ان کی تخلیقی جدت اور خیالوں کی پختگی جس طرح نمایاں ہوتی ہے، وہ بطور شاعر ان کے ایک بہترین مستقبل کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ انس خان کی ان نظموں میں ہندوستان کی سیاسی اور سماجی حالت پر جو تبصرے نظر آتے ہیں، قدرت اور انسان کے درمیان موجود تعلق میں جو خلا پیدا ہوا ہے، اس کی طرف اشارے ہیں، وہ بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔مجھے خوشی ہے کہ ‘اور اردو’ کے توسط سے اردو دنیا تک ان کی یہ نظمیں پہنچانا میرے لیے ممکن ہوسکا ہے۔