چاہنے والوں کو ہر منظر میں ہوں
ورنہ گھر میں ہوں نہ میں دفتر میں ہوں
روح کا ناٹک نہیں کرنا مجھے
جسم ہوں اور جسم کے پیکر میں ہوں
بھولیے تو دو جہانوں میں نہیں
سوچیے تو آپ کے بستر میں ہوں
توڑ لو دل… میں جو دل میں ہوں نہاں
پھوڑ لو یہ سر… اگر میں سر میں ہوں
کون دستک دے رہا ہے بار بار
یہ کسے معلوم تھا میں گھر میں ہوں
یہ جو منظر پر ہے سب بے کار ہے
کیونکہ میں اس وقت پس منظر میں ہوں
***
تقدیر پہ راضی ہوں نہ تدبیر سے خوش ہوں
میں خواب زدہ کب کسی تعبیر سے خوش ہوں
کچھ روز سے چلنے کی رضا ہی نہیں مجھ میں
کچھ روز سے میں پاؤں کی زنجیر سے خوش ہوں
میں خود کو بنانے کی جگت ہی نہیں کرتا
جیسی بھی ہے جو ہے تری تعمیر سے خوش ہوں
تنہائی میں کچھ چیونٹیاں چلتی ہیں بدن پر
تنہائی کی چبھتی ہوئی تاثیر سے خوش ہوں
ملنے کے لیے خود سے نکلنا بھی تو ہوگا
اے جانِ وفا میں تیری تصویر سے خوش ہوں
***
وہ رنگ و بو وہ خال و خد نہیں رہا
کہ اب وہ پھول مستند نہیں رہا
سخن وری کا زعم کھا گیا ہمیں
کسی کا شعر بھی سند نہیں رہا
ہمیشگی نہ تم میں تھی نہ ہم میں تھی
ہمارا پیار تا ابد نہیں رہا
ہوس کے پنکھ لگ گئے جنون کو
ترا خیال تا بہ حد نہیں رہا
یہ دل بھی اب دماغ ہو گیا ‘اثر’
کمال ہے یہ بے خرد نہیں رہا
***
دوست اچھا تھا دلِ ہرجائی کا
وہ جو دشمن تھا مری دانائی کا
دل محل میں عشق کی دستک ہوئی
اور دروازہ کھلا تنہائی کا
میں نہیں کہتا بری کر دے مگر
وقت کم کر دے مری سنوائی کا
آب جوئے عشق میں مستی نہ کر
تجھ کو اندازہ نہیں گہرائی کا
دفعتاً آ جا کسی دن سامنے
کاٹ دے ریشم مری بینائی کا
منتظر ہوں گھر کرے کمرے میں دھوپ
وقت ہو اس جسم کی انگڑائی کا
***
شب بھر عجیب خواب تھے یادوں کے سائے بھی
ہم نے بہت چراغ جلائے بجھائے بھی
دل وجد میں نہ ہو تو یہ دنیا ہی مار دے
اوبر کے دام بڑھ گئے گھر کے کرائے بھی
کل پھر سے اس نے یاد کیا، ہم نہیں گئے
اور پھر اسی کا نام بہت بڑبڑائے بھی
اک صرف میں نہیں تھا مری ذات میں شمار
میرے کچھ ایک لوگ تھے اور کچھ پرائے بھی
وہ یار ہو جو ساتھ میں رونے کا دم رکھے
ہنسنے کی بات ہو تو مجھے گدگدائے بھی
کتنی عجیب بات ہے فوٹو میں کوئی شخص
بے طرح غم میں لین ہو اور مسکرائے بھی
اندھا یقیں خدا پہ بھی کرنا فضول ہے
بندے کو چاہیے کہ اسے آزمائے بھی
***
شبِ فراق میں لمحاتِ خوش وصال کی لو
جگائے رکھتی ہے مجھ کو ترے خیال کی لو
بدن اجاڑ کے رکھ دے گی ایسا لگتا ہے
بڑے عروج پہ ہے ان دنوں زوال کی لو
کہیں جواب نہ مل جائیں دیکھنا مجھ کو
رہے دماغ میں روشن سدا سوال کی لو
تری طرف سے خوشی کی ہوا بھی چلتی ہے
پر اس سے بجھتی نہیں ہے مرے ملال کی لو
بدن کی اوٹ سے اس کو جلائے رکھنا پڑا
لرز رہی تھی کسی حسنِ پائمال کی لو
***
سنسان بستیوں کی طرف دیکھتے رہو
شہروں سے جنگلوں کی طرف دیکھتے رہو
سوکھی پڑی ندی کو کبھی پار مت کرو
ساحل سے ساحلوں کی طرف دیکھتے رہو
خواہش براہِ راست اسی اک بدن سے ہے
خواہش سے خواہشوں کی طرف دیکھتے رہو
یہ دیکھتے رہو کہ کوئی دیکھتا بھی ہے!
ان دیکھتے ہوؤں کی طرف دیکھتے رہو
***
زندگی میں رنگ بھرتے خیر و شر اچھے لگے
مجھ کو اس شاخِ جنوں کے سب ثمر اچھے لگے
ہجر ہو یا وصل سب کھایا پیا اور نیند لی
سارے موسم اپنے اپنے وقت پر اچھے لگے
منزلیں اچھی لگیں تو راستہ اچھا لگا
راستہ اچھا لگا تو ہم سفر اچھے لگے
اس گلی کے موڑ پر اک نرسری تھی، پھول تھے
مجھ کو اس تک لے کے جاتے راہبر اچھے لگے
آپ کو میرا ہنر اچھا لگا ہو یا نہیں
مجھ کو سب اچھا لگا سب کے ہنر اچھے لگے
***
اگرچہ اب بھی جنوں خیز دل تھما نہیں ہے
پر اب کسی سے محبت کا سلسلہ نہیں ہے
ذرا سی دیر میں سکھ دکھ نہیں بدلتے ہیں
کسی سے ہاتھ ملانے کا فائدہ نہیں ہے
مجھے خبر ہے مری راہ میری اپنی ہے
مجھے پتہ ہے مرا کوئی رہنما نہیں ہے
مجھے یقین دلاؤ کہ میرے ساتھ ہو تم
مجھے یقین دلاؤ کہ دل بھرا نہیں ہے
ترا بھی ہاتھ ہے کچھ تو تجھے بنانے میں
یقین جان یہ قدرت کا فیصلہ نہیں ہے
***
اب تجھ میں رہے گا نہ ترے گھر میں رہے گا
یہ دردِ جنوں صرف مرے سر میں رہے گا
شیشے کی چمک دیکھ، میں اس بار نیا ہوں
اور ایسا نیا ہوں کہ جو منظر میں رہے گا
اتنا بھی بھرم ہو تو میں دنیا سے جھگڑ لوں
اک شخص مرا میرے برابر میں رہے گا
سب نام و نشاں روح کا مٹنے کو چلا ہے
یہ جسم ہی اب جسم کے پیکر میں رہے گا
اک عمر سے ہلچل نہیں بت خانۂ دل میں
اک دیوتا اب کہتا ہے پتھر میں رہے گا
***
روشنی آپ کے نزدیک نہیں ہوتی ہے
شب وگرنہ کبھی تاریک نہیں ہوتی ہے
آئینہ دیکھ کے کہیے جو لطیفہ کہیے
آپ سے اوروں کی تضحیک نہیں ہوتی ہے
اب بھلا بیچ سمندر بھی کوئی تیرتا ہے
ڈوبنے کی کوئی تکنیک نہیں ہوتی ہے
ان دنوں عشق بھی اک ذہنی عمل ہے میرا
دل میں اب کوئی بھی تحریک نہیں ہوتی ہے
زندگی خرچ ہی ہوتی ہے بہ ہر صورتِ حال
کچھ بھی کر لیجیے یہ ٹھیک نہیں ہوتی ہے
***
دل نے پھر سرگوشی کی
لے ٹوٹی خاموشی کی
مانا گھر بکھرا ہے پر
حالت ہے بے ہوشی کی
گالی کھا کر دفتر میں
سب نے بادہ نوشی کی
ہوش میں تجھ کو یاد کیا
لذت لی مدہوشی کی
جسم تصور کو دے کر
شب بھر ہم آغوشی کی
ہاتھ ملایا خوشبو سے
اور پھر رنگ فروشی کی
گھر میں قید کیا خود کو
دنیا سے روپوشی کی
***
بنتی ہے بگڑتی ہے دیوانوں کی صف دیکھو
یہ سیلِ جواں دیکھو یہ حسنِ ہدف دیکھو
بے صبر ہے یہ دنیا، پر صبر کا پھل بھی ہے
زندانِ غمِ دوراں ہوتا ہے تلف دیکھو
دریا ہے بہت گہرا، دیکھو گے تو ڈوبو گے
گر پار اترنا ہے، ساحل کی طرف دیکھو
دیکھو کہ سخن میرا پانی سا رواں کیوں ہے
کیوں اس میں رما ہوں میں یہ شغل و شغف دیکھو
جیسے یہ بڑا تالاب، ہو خواب میں کوئی خواب
بھوپال کا دل دیکھو، یہ شہرِ شرف دیکھو
***
دل کی اداسیوں میں بھی پیلے پڑے ہیں ہم
موسم وگرنہ برگِ خزانی کا تھا نہیں
دل میں رہا تو دل کا مکیں ہو کے رہ گیا
جیسے وہ شخص عالمِ فانی کا تھا نہیں
***
ساحلوں سے سن رہے ہیں موجِ امکانی کا شور
اک طرف مٹی کی چپ ہے اک طرف پانی کا شور
ان دنوں ہم بڑبڑانے لگ گئے ہیں نیند میں
خواب سے باہر بھی ہے اندر کی حیرانی کا شور
شورشِ حسن و جنوں پر ایک چپ لگ جائے گی
دیکھیے رہتا ہے کب تک دل کی نادانی کا شور
یہ غبارِ دشتِ غم ان راستوں کا شور نئیں
یہ غبارِ دشتِ غم ہے مری بے دھیانی کا شور
آپ ہم میں فرق بے جذبات خاموشی کا ہے
ورنہ ہم میں ہے وہی جذبوں کی یکسانی کا شور
شہر سے دفتر تلک اور بزم سے بازار تک
ہر طرف پھیلا ہوا ہے اپنی ویرانی کا شور
ایک دن ہر آدمی سے تنگ آ جائیں گے آپ
کان کو چبھنے لگے گا نسلِ انسانی کا شور
گھر میں کچھ پودے لگا کر آبیاری کیجیے
شاید اس سے دھیما پڑ جائے بیابانی کا شور
شاعرِ اعظم کبھی مصرعوں سے باہر آئیے
پھر وہی اولیٰ کا ادھم پھر وہی ثانی کا شور
***
ہامیاں بھرتے ہوئے انکار ہو جاتا ہوں میں
ہر طرح کی بحث کو تیار ہو جاتا ہوں میں
رد کر دیتا ہوں میں ساری دلیلیں عقل کی
اور تخیل کا علم بردار ہو جاتا ہوں میں
غیب سے زندہ مکانوں میں اترتا ہے وجود
اور گزرتے وقت کی پرکار ہو جاتا ہوں میں
ہے عجب اک تجھ سے ٹکرانے کا سادہ واقعہ
میں نے دیکھا ہے بدن کے پار ہو جاتا ہوں میں
ساری دنیا گھومتا ہوں اک چیئر پر بیٹھ کر
کیسے اپنی فکر کی رفتار ہو جاتا ہوں میں
آج کل میں ہر کسی کے سامنے کھلتا نہیں
گفتگو کے بیچ اک دیوار ہو جاتا ہوں میں
اور اب اس جھوٹ میں شامل نہیں رہ پاؤں گا
دیکھیے کب آئینہ بردار ہو جاتا ہوں میں
***
نویش ساہو کی عمر تیس برس ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے اردو غزل لکھ رہے ہیں۔ انہوں نے محنت سے اپنی شعرگوئی کی صلاحیت کو صیقل کیا ہے اور اب بھی وہ غزل کو لفظ و خیال دونوں سطح پر ایک نئے کرافٹ میں اتارنے کی کوشش کررہے ہیں۔ پڑھتے پڑھتے شعر اکثر چونکاتے ہیں اور شاعر اپنے عہد کی ذہنی اتھل پتھل کی ترجمانی کرتا نظر آتا ہے۔ نویش کا تعلق مدھیہ پردیش کے قصبے دتیا سے ہے ، وہیں ابتدائی تعلیم ہوئی ۔ فی الحال دہلی میں مقیم ہیں۔