نِویش ساہُو کی غزلیں

چاہنے والوں کو ہر منظر میں ہوں

ورنہ گھر میں ہوں نہ میں دفتر میں ہوں

روح کا ناٹک نہیں کرنا مجھے

جسم ہوں اور جسم کے پیکر میں ہوں

بھولیے تو دو جہانوں میں نہیں

سوچیے تو آپ کے بستر میں ہوں

توڑ لو دل… میں جو دل میں ہوں نہاں

پھوڑ لو یہ سر… اگر میں سر میں ہوں

کون دستک دے رہا ہے بار بار

یہ کسے معلوم تھا میں گھر میں ہوں

یہ جو منظر پر ہے سب بے کار ہے

کیونکہ میں اس وقت پس منظر میں ہوں

***

 

تقدیر پہ راضی ہوں نہ تدبیر سے خوش ہوں

میں خواب زدہ کب کسی تعبیر سے خوش ہوں

کچھ روز سے چلنے کی رضا ہی نہیں مجھ میں

کچھ روز سے میں پاؤں کی زنجیر سے خوش ہوں

میں خود کو بنانے کی جگت ہی نہیں کرتا

جیسی بھی ہے جو ہے تری تعمیر سے خوش ہوں

تنہائی میں کچھ چیونٹیاں چلتی ہیں بدن پر

تنہائی کی چبھتی ہوئی تاثیر سے خوش ہوں

ملنے کے لیے خود سے نکلنا بھی تو ہوگا

اے جانِ وفا میں تیری تصویر سے خوش ہوں

***

 

وہ رنگ و بو وہ خال و خد نہیں رہا

کہ اب وہ پھول مستند نہیں رہا

سخن وری کا زعم کھا گیا ہمیں

کسی کا شعر بھی سند نہیں رہا

ہمیشگی نہ تم میں تھی نہ ہم میں تھی

ہمارا پیار تا ابد نہیں رہا

ہوس کے پنکھ لگ گئے جنون کو

ترا خیال تا بہ حد نہیں رہا

یہ دل بھی اب دماغ ہو گیا ‘اثر’

کمال ہے یہ بے خرد نہیں رہا

***

 

دوست اچھا تھا دلِ ہرجائی کا

وہ جو دشمن تھا مری دانائی کا

دل محل میں عشق کی دستک ہوئی

اور دروازہ کھلا تنہائی کا

میں نہیں کہتا بری کر دے مگر

وقت کم کر دے مری سنوائی کا

آب جوئے عشق میں مستی نہ کر

تجھ کو اندازہ نہیں گہرائی کا

دفعتاً آ جا کسی دن سامنے

کاٹ دے ریشم مری بینائی کا

منتظر ہوں گھر کرے کمرے میں دھوپ

وقت ہو اس جسم کی انگڑائی کا

***

 

شب بھر عجیب خواب تھے یادوں کے سائے بھی

ہم نے بہت چراغ جلائے بجھائے بھی

دل وجد میں نہ ہو تو یہ دنیا ہی مار دے

اوبر کے دام بڑھ گئے گھر کے کرائے بھی

کل پھر سے اس نے یاد کیا، ہم نہیں گئے

اور پھر اسی کا نام بہت بڑبڑائے بھی

اک صرف میں نہیں تھا مری ذات میں شمار

میرے کچھ ایک لوگ تھے اور کچھ پرائے بھی

وہ یار ہو جو ساتھ میں رونے کا دم رکھے

ہنسنے کی بات ہو تو مجھے گدگدائے بھی

کتنی عجیب بات ہے فوٹو میں کوئی شخص

بے طرح غم میں لین ہو اور مسکرائے بھی

اندھا یقیں خدا پہ بھی کرنا فضول ہے

بندے کو چاہیے کہ اسے آزمائے بھی

***

 

شبِ فراق میں لمحاتِ خوش وصال کی لو

جگائے رکھتی ہے مجھ کو ترے خیال کی لو

بدن اجاڑ کے رکھ دے گی ایسا لگتا ہے

بڑے عروج پہ ہے ان دنوں زوال کی لو

کہیں جواب نہ مل جائیں دیکھنا مجھ کو

رہے دماغ میں روشن سدا سوال کی لو

تری طرف سے خوشی کی ہوا بھی چلتی ہے

پر اس سے بجھتی نہیں ہے مرے ملال کی لو

بدن کی اوٹ سے اس کو جلائے رکھنا پڑا

لرز رہی تھی کسی حسنِ پائمال کی لو

 

***

 

سنسان بستیوں کی طرف دیکھتے رہو

شہروں سے جنگلوں کی طرف دیکھتے رہو

سوکھی پڑی ندی کو کبھی پار مت کرو

ساحل سے ساحلوں کی طرف دیکھتے رہو

خواہش براہِ راست اسی اک بدن سے ہے

خواہش سے خواہشوں کی طرف دیکھتے رہو

یہ دیکھتے رہو کہ کوئی دیکھتا بھی ہے!

ان دیکھتے ہوؤں کی طرف دیکھتے رہو

***

 

زندگی میں رنگ بھرتے خیر و شر اچھے لگے

مجھ کو اس شاخِ جنوں کے سب ثمر اچھے لگے

ہجر ہو یا وصل سب کھایا پیا اور نیند لی

سارے موسم اپنے اپنے وقت پر اچھے لگے

منزلیں اچھی لگیں تو راستہ اچھا لگا

راستہ اچھا لگا تو ہم سفر اچھے لگے

اس گلی کے موڑ پر اک نرسری تھی، پھول تھے

مجھ کو اس تک لے کے جاتے راہبر اچھے لگے

آپ کو میرا ہنر اچھا لگا ہو یا نہیں

مجھ کو سب اچھا لگا سب کے ہنر اچھے لگے

***

اگرچہ اب بھی جنوں خیز دل تھما نہیں ہے

پر اب کسی سے محبت کا سلسلہ نہیں ہے

ذرا سی دیر میں سکھ دکھ نہیں بدلتے ہیں

کسی سے ہاتھ ملانے کا فائدہ نہیں ہے

مجھے خبر ہے مری راہ میری اپنی ہے

مجھے پتہ ہے مرا کوئی رہنما نہیں ہے

مجھے یقین دلاؤ کہ میرے ساتھ ہو تم

مجھے یقین دلاؤ کہ دل بھرا نہیں ہے

ترا بھی ہاتھ ہے کچھ تو تجھے بنانے میں

یقین جان یہ قدرت کا فیصلہ نہیں ہے

***

 

اب تجھ میں رہے گا نہ ترے گھر میں رہے گا

یہ دردِ جنوں صرف مرے سر میں رہے گا

شیشے کی چمک دیکھ، میں اس بار نیا ہوں

اور ایسا نیا ہوں کہ جو منظر میں رہے گا

اتنا بھی بھرم ہو تو میں دنیا سے جھگڑ لوں

اک شخص مرا میرے برابر میں رہے گا

سب نام و نشاں روح کا مٹنے کو چلا ہے

یہ جسم ہی اب جسم کے پیکر میں رہے گا

اک عمر سے ہلچل نہیں بت خانۂ دل میں

اک دیوتا اب کہتا ہے پتھر میں رہے گا

***

روشنی آپ کے نزدیک نہیں ہوتی ہے

شب وگرنہ کبھی تاریک نہیں ہوتی ہے

آئینہ دیکھ کے کہیے جو لطیفہ کہیے

آپ سے اوروں کی تضحیک نہیں ہوتی ہے

اب بھلا بیچ سمندر بھی کوئی تیرتا ہے

ڈوبنے کی کوئی تکنیک نہیں ہوتی ہے

ان دنوں عشق بھی اک ذہنی عمل ہے میرا

دل میں اب کوئی بھی تحریک نہیں ہوتی ہے

زندگی خرچ ہی ہوتی ہے بہ ہر صورتِ حال

کچھ بھی کر لیجیے یہ ٹھیک نہیں ہوتی ہے

***

دل نے پھر سرگوشی کی

لے ٹوٹی خاموشی کی

مانا گھر بکھرا ہے پر

حالت ہے بے ہوشی کی

گالی کھا کر دفتر میں

سب نے بادہ نوشی کی

ہوش میں تجھ کو یاد کیا

لذت لی مدہوشی کی

جسم تصور کو دے کر

شب بھر ہم آغوشی کی

ہاتھ ملایا خوشبو سے

اور پھر رنگ فروشی کی

گھر میں قید کیا خود کو

دنیا سے روپوشی کی

***

 

بنتی ہے بگڑتی ہے دیوانوں کی صف دیکھو

یہ سیلِ جواں دیکھو یہ حسنِ ہدف دیکھو

بے صبر ہے یہ دنیا، پر صبر کا پھل بھی ہے

زندانِ غمِ دوراں ہوتا ہے تلف دیکھو

دریا ہے بہت گہرا، دیکھو گے تو ڈوبو گے

گر پار اترنا ہے، ساحل کی طرف دیکھو

دیکھو کہ سخن میرا پانی سا رواں کیوں ہے

کیوں اس میں رما ہوں میں یہ شغل و شغف دیکھو

جیسے یہ بڑا تالاب، ہو خواب میں کوئی خواب

بھوپال کا دل دیکھو، یہ شہرِ شرف دیکھو

***

دل کی اداسیوں میں بھی پیلے پڑے ہیں ہم

موسم وگرنہ برگِ خزانی کا تھا نہیں

دل میں رہا تو دل کا مکیں ہو کے رہ گیا

جیسے وہ شخص عالمِ فانی کا تھا نہیں

***

 

ساحلوں سے سن رہے ہیں موجِ امکانی کا شور
اک طرف مٹی کی چپ ہے اک طرف پانی کا شور

ان دنوں ہم بڑبڑانے لگ گئے ہیں نیند میں
خواب سے باہر بھی ہے اندر کی حیرانی کا شور

شورشِ حسن و جنوں پر ایک چپ لگ جائے گی
دیکھیے رہتا ہے کب تک دل کی نادانی کا شور

یہ غبارِ دشتِ غم ان راستوں کا شور نئیں
یہ غبارِ دشتِ غم ہے مری بے دھیانی کا شور

آپ ہم میں فرق بے جذبات خاموشی کا ہے
ورنہ ہم میں ہے وہی جذبوں کی یکسانی کا شور

شہر سے دفتر تلک اور بزم سے بازار تک

ہر طرف پھیلا ہوا ہے اپنی ویرانی کا شور

ایک دن ہر آدمی سے تنگ آ جائیں گے آپ

کان کو چبھنے لگے گا نسلِ انسانی کا شور

گھر میں کچھ پودے لگا کر آبیاری کیجیے

شاید اس سے دھیما پڑ جائے بیابانی کا شور

شاعرِ اعظم کبھی مصرعوں سے باہر آئیے

پھر وہی اولیٰ کا ادھم پھر وہی ثانی کا شور

***

 

ہامیاں بھرتے ہوئے انکار ہو جاتا ہوں میں

ہر طرح کی بحث کو تیار ہو جاتا ہوں میں

رد کر دیتا ہوں میں ساری دلیلیں عقل کی

اور تخیل کا علم بردار ہو جاتا ہوں میں

غیب سے زندہ مکانوں میں اترتا ہے وجود

اور گزرتے وقت کی پرکار ہو جاتا ہوں میں

ہے عجب اک تجھ سے ٹکرانے کا سادہ واقعہ

میں نے دیکھا ہے بدن کے پار ہو جاتا ہوں میں

ساری دنیا گھومتا ہوں اک چیئر پر بیٹھ کر

کیسے اپنی فکر کی رفتار ہو جاتا ہوں میں

آج کل میں ہر کسی کے سامنے کھلتا نہیں

گفتگو کے بیچ اک دیوار ہو جاتا ہوں میں

اور اب اس جھوٹ میں شامل نہیں رہ پاؤں گا

دیکھیے کب آئینہ بردار ہو جاتا ہوں میں

***

 

نویش ساہو کی عمر تیس برس ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے اردو غزل  لکھ رہے ہیں۔ انہوں نے محنت سے اپنی شعرگوئی کی صلاحیت کو صیقل کیا ہے  اور اب بھی وہ غزل کو لفظ و خیال دونوں سطح پر ایک نئے کرافٹ میں اتارنے کی کوشش کررہے ہیں۔ پڑھتے پڑھتے شعر اکثر چونکاتے ہیں اور شاعر اپنے عہد کی ذہنی اتھل پتھل کی ترجمانی کرتا نظر آتا ہے۔ نویش کا تعلق مدھیہ پردیش کے قصبے دتیا سے ہے ، وہیں ابتدائی تعلیم ہوئی ۔ فی الحال دہلی میں مقیم  ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Attention Required! | Cloudflare

Sorry, you have been blocked

You are unable to access wajibjp.cfd

Why have I been blocked?

This website is using a security service to protect itself from online attacks. The action you just performed triggered the security solution. There are several actions that could trigger this block including submitting a certain word or phrase, a SQL command or malformed data.

What can I do to resolve this?

You can email the site owner to let them know you were blocked. Please include what you were doing when this page came up and the Cloudflare Ray ID found at the bottom of this page.

news-1701

yakinjp

yakinjp

rtp yakinjp

yakinjp

yakinjp

yakin jp

yakinjp id

maujp

maujp

maujp

sabung ayam online

sabung ayam online

SLOT MAHJONG

sabung ayam online

article 838000638

article 838000639

article 838000640

article 838000641

article 838000642

article 838000643

article 838000644

article 838000645

article 838000646

article 838000647

article 838000648

article 838000649

article 838000650

article 838000651

article 838000652

article 838000653

article 838000654

article 838000655

article 838000656

article 838000657

article 838000658

article 838000659

article 838000660

article 838000661

article 838000662

article 838000663

article 838000664

article 838000665

article 838000666

article 838000667

article 838000668

article 838000669

article 838000670

article 838000671

article 838000672

article 838000673

article 838000674

article 838000675

article 838000676

article 838000677

article 838000678

article 838000679

article 838000680

article 838000681

article 838000682

article 838000683

article 838000684

article 838000685

article 838000686

article 838000687

article 838000688

article 838000689

article 838000690

article 838000691

article 838000692

article 838000693

article 838000694

article 838000695

article 838000696

article 838000697

article 238000456

article 238000457

article 238000458

article 238000459

article 238000460

article 238000461

article 238000462

article 238000463

article 238000464

article 238000465

article 238000466

article 238000467

article 238000468

article 238000469

article 238000470

article 238000471

article 238000472

article 238000473

article 238000474

article 238000475

article 238000476

article 238000477

article 238000478

article 238000479

article 238000480

article 238000481

article 238000482

article 238000483

article 238000484

article 238000485

article 238000486

article 238000487

article 238000488

article 238000489

article 238000490

article 238000491

article 238000492

article 238000493

article 238000494

article 238000495

article 238000496

article 238000497

article 238000498

article 238000499

article 238000500

article 238000501

article 238000502

article 238000503

article 238000504

article 238000505

article 238000506

article 238000507

article 238000508

article 238000509

article 238000510

article 238000511

article 238000512

article 238000513

article 238000514

article 238000515

article 7700246

article 7700247

article 7700248

article 7700249

article 7700250

article 7700251

article 7700252

article 7700253

article 7700254

article 7700255

article 7700256

article 7700257

article 7700258

article 7700259

article 7700260

article 7700261

article 7700262

article 7700263

article 7700264

article 7700265

article 7700266

article 7700267

article 7700268

article 7700269

article 7700270

article 7700271

article 7700272

article 7700273

article 7700274

article 7700275

article 7700276

article 7700277

article 7700278

article 7700279

article 7700280

article 7700281

article 7700282

article 7700283

article 7700284

article 7700285

article 2000431

article 2000432

article 2000433

article 2000434

article 2000435

article 2000436

article 2000437

article 2000438

article 2000439

article 2000440

article 2000441

article 2000442

article 2000443

article 2000444

article 2000445

article 2000446

article 2000447

article 2000448

article 2000449

article 2000450

article 2000451

article 2000452

article 2000453

article 2000454

article 2000455

article 2000456

article 2000457

article 2000458

article 2000459

article 2000460

article 2000461

article 2000462

article 2000463

article 2000464

article 2000465

article 2000466

article 2000467

article 2000468

article 2000469

article 2000470

article 2000471

article 2000472

article 2000473

article 2000474

article 2000475

article 2000476

article 2000477

article 2000478

article 2000479

article 2000480

article 2000481

article 2000482

article 2000483

article 2000484

article 2000485

article 2000486

article 2000487

article 2000488

article 2000489

article 2000490

article 2990581

article 2990582

article 2990583

article 2990584

article 2990585

article 2990586

article 2990587

article 2990588

article 2990589

article 2990590

article 2990591

article 2990592

article 2990593

article 2990594

article 2990595

article 2990596

article 2990597

article 2990598

article 2990599

article 2990600

article 2990601

article 2990602

article 2990603

article 2990604

article 2990605

article 2990606

article 2990607

article 2990608

article 2990609

article 2990610

article 2990611

article 2990612

article 2990613

article 2990614

article 2990615

article 2990616

article 2990617

article 2990618

article 2990619

article 2990620

article 10000416

article 10000417

article 10000418

article 10000419

article 10000420

article 10000421

article 10000422

article 10000423

article 10000424

article 10000425

article 10000426

article 10000427

article 10000428

article 10000429

article 10000430

article 10000431

article 10000432

article 10000433

article 10000434

article 10000435

article 10000436

article 10000437

article 10000438

article 10000439

article 10000440

article 10000441

article 10000442

article 10000443

article 10000444

article 10000445

article 10000446

article 10000447

article 10000448

article 10000449

article 10000450

news-1701