ہرے پرکاش اُپادھیائے کی نظمیں

آگرے سے آیا راجو گورکھپور میں فیمس دکان ہے چائے کی مئو سے آکر بسنے والے گورکھ رائے کی وہیں برتن دھوتا ہوا آگرے سے آنے والا راجو بیٹھ گیا جاکر ایک دن اس کے بازو برتن دھوتا جاتا تھا کیا خوب سریلا گاتا تھا عمر محض بارہ کی تھی مگر وہ کھینی […]
اوکتاویو پاز کی نظمیں

پرندہ ایک شفاف خاموشی کے سائے میں پسرا ہوا تھا دن اور مقام کی پاکیزگی خاموشی کو آئینہ بنائے ہوئے تھی آسمان میں ٹھہری روشنی اگتی گھاس کے کلیجے میں ٹھنڈک انڈیل رہی تھی زمین کی ننھی چیزیں پتھروں کے درمیان اسی روشنی میں دم سادھے پڑی تھیں اس گھڑی وقت محو آرام تھا […]
سپنا بھٹ کی نظمیں

حوا کی بیٹیاں ہم حوا کی بیٹیاں آدم زاد کی طلسمی چالوں سے نہیں بھاشا کی راجنیتی سے چھلی گئی ہیں ایشور کے لیے ہمیں ہرنی، کوئل، چڑیا نہیں بلکہ ایک انسان سمجھیے آپ ہمیں چوطرفہ لڑائیوں میں دھکیل کر ہماری ہی چھاتی پر کنڈلی مارکر کر تو رہے ہیں نسائیت اور […]
عدنان کفیل درویش کی نظمیں

ایک مردہ مزور کا بیان جن شاندار شہروں کو ہم نے بنایا روشنی سے سجایا ہمیں ان شہروں کی نیم اندھیری جگہوں میں رہائش ملی ہم نے چراغ بنائے لیکن اوروں کے لیے ہم نے خوبصورت مکان بنائے جن کے مکین ہم نہیں کوئی اور ہوا ہم نے قلم بنایا جس سے اور لوگوں […]
نیہا نروکا کی نظمیں

ایک بوسہ لے لو تم مجھ سے ملنا چاہتے ہو نا تو آؤ، ملو مجھ سے اور ایک بوسہ لے لو ملو اس قصباتی گندگی اور خوشبو سے جس نے مل کر مجھے جوان کیا جس نے کھیتوں سے کٹتے پلاٹ دیکھے محلے کے اس پرانے خستہ مکان سےملو جس کا سب سے پرانا […]
وہاگ ویبھو کی نظمیں

اسلوب میں جیون کو ایسے جینا چاہتا ہوں جیسے میرے شاعر نے جی ہے زبان۔۔۔ کوئی بھی ایک لفظ اٹھا کر اسے خوبصورت جملے میں بدل دیا اور آوازوں کو بنائے رکھا ہمیشہ معنی خیزی، انصاف، مساوات اور محبت کا طرفدار ٠٠٠ حلف نامہ پریم میں ہم اتنا خوش نہیں […]
مہیش ورما کی نظمیں

اگر یہ ہتیا تھی وہ کہنے میں اتنی آسان بات تھی کہ اسے لکھتے ہوئے میری زبان شرماتی تھی وہ پانی تھی اپنی روانی میں اور ہوا تھی اپنی پکار میں، صاف دلی میں اس کے ریشے سلجھے ہوئے تھے ہونے کی وجہیں بھی صاف تھیں اگر دکھ تھی یہ بات تو یہ […]
پریا ورما کی نظمیں

کتاب بتاتی ہے بات نہیں کرتی، بتاتی ہے کیسے اس نے وقت کی پرچھائیں کا لباس پہنا ہے جسے ایک سے دوسرا ورق الٹتے ہوئے پڑھنے والا اتارتا چلا جاتا ہے یا کہ خود اتر جاتا ہے لباس میں انسان اور چیونٹیوں کی قطاروں سے الگ یہ کچھ اور کہانیاں اور قصے اور […]
زبیر سیفی کی نظمیں

ماں عرف افریقی کہاوت وہ میری ماں تھی جو کہاوتوں میں موجود تھی میرا باپ کہاوتوں سے ندارد تھا ‘اندھی پیس رہی ہے، کتے کھارہے ہیں!’ لیکن میری ماں اندھی نہیں تھی بس کم دکھائی دیتا تھا اسے اور اس سے بھی کم مجھے دکھائی دیتے رہے تمام عمر ماں کے دکھ! ‘غریب […]
پاروتی ترکی کی نظمیں

نکدَونا چڑیا: ایک آسمان میں اڑتے ہوئے نکدونا گیت گار ہی تھی اس کے گیت کی مدھر آواز سنائی دے رہی تھی پوئیں چے چے۔۔ پوئیں چے چے۔۔ اس کے اس گیت کو سن کر سبھی سمجھ گئے کہ بارش ہونے میں ابھی دیر ہے ٠٠٠ نکدونا:آدی واسی کئی چڑیوں […]