انس خان کی نظمیں

پھول ایک ایک پھول کتاب سے گرتا ہے قدموں پر امڈتی سانس کے ساتھ ایک یاد چڑھ دوڑتی ہے دل پر دو ایک پھول چہرے سے لگاتی ہے وہ ایک پھول بالوں میں ٹانک لیتا ہوں میں پت جھڑ کے دنوں میں بھی پھول جیسا پھولیاتا ہے پیار […]
انوپم سنگھ کی نظمیں

تمہاری تیزابی ڈور اور میرا ہرنی جیسا دل تمہاری نیم شب کی باتیں میرے سفید بستر کو لال کردیتی ہیں ادھورا پن کویتا کو جنم دیتا ہے میری عورت کو صرف کویتا نہیں تکمیلیت بھی چاہیے تمہاری گہری سانسیں میرا مچھلی جیسا کلیجہ جسے پگھلاتے ہیں تمہارے مردانہ خیالات اپنی تکمیلیت کے لیے […]
نیلیش رگھوونشی کی نظمیں

نِیلیش رگھوونشی کی نظمیں شہر کیسی گرد آلود تنہائی چھائی ہوئی ہے چاروں طرف شہر مرتے کیسے ہیں؟ دھماکوں کے ساتھ نہیں مرتے برداشت کی حد پارکرنے اور سمجھدار خاموشی سے مرتے ہیں شہر ٠٠٠ ٹیلی فون پر باپ کی آواز ٹیلی فون پر تھرتھراتی ہے باپ کی آواز دیے کی […]
وسو گندھرو کی نظمیں

چشمہ دادا جی نےجانے کی زبان اور بھولنے کی زبان ، ایک ہی وقت پر سیکھنا شروع کی ایسی آسانی سے وہ بھولتے گئے دنیا کی تمام چیزوں کو جیسے یہ بھولنا فطرت نہیں، عادت ہو جیسے زندگی بھر کی مصیبتوں کے بعد، انہوں نے موت سے پہلے یادوں کے جھولے سے، […]
کیتن یادو کی نظمیں

دکھ کی چٹھی بے انتہا بے زبان دکھ بے حد اکیلے سہنا پڑتا ہے ہر دکھ خودکشی سے پہلے چٹھی نہیں لکھ پاتا کہنے سے دکھ نہیں مٹتا محض اس کی لغت کے لفظ کم ہوجاتے ہیں ٠٠٠ پُکار اتنی زور سے مت بولو کہ بہت ساری آوازیں دب جائیں […]
سیلم پور کے لڑکے

یلم پور کے لڑکے وطن پرست ہوگئے پہلے وہ بھوکے تھےاور بیروزگار اور گھر سے، گھروالوں سے، ناک سکوڑے ہوئے سماج اور ملک سے بیزار انہیں نہیں سمجھ میں آتا تھا کہ کیا کریں زندگی کے تعلق سے کوئی نقشہ ان کے پاس نہیں تھا نہ ملک کے حوالے سے وہ جمائیاں […]
یشسوی پاٹھک کی نظمیں

پِتا جب مایوس ہوتے ہیں پِتا جب مایوس ہوتے ہیں تب سلنے بیٹھتے ہیں اپنا ادھڑا ہوا کرتا ٹیڑھے میڑھے ٹانکے لگاتے ہوئے وہ اتنا ڈوب جاتے ہیں کرتے کا گھاؤ بھرنے میں کہ اس وقت وہ سل سکتے ہیں سب کچھ جہاں جہاں جو کچھ بھی کٹا پھٹا ہے جو پھٹا کٹا نہیں […]
شبھا کی کویتائیں

ہمزاد دکھ مجھ سے پہلے بیٹھا تھا ماں کی کوکھ میں ہم ساتھ ساتھ پیدا ہوئے وہ مجھ سے بڑا تھا ٠٠٠ ایک خیال وہ ٹیلا وہیں ہوگا جھربیریاں اس پر چڑھ جانے کی کوشش میں ہوں گی چیونٹیاں اپنے انڈے لیے بلوں کی جانب گامزن ہوں گی ہرا ٹِڈا بھی مٹھی […]
پراگ پاون کی نظمیں

میں تمہاری بھوک سے خوفزدہ ہوں میں تمہارے ملک سے اور تمہاری دنیا سے بری طرح تھک چکا ہوں تاج کی طرح چنڈال ہنسی اپنے سر پر سجائے تمہاری آتماؤں کے بدبو دار رسم و رواج اب سہے نہیں جاتے تمہارے ترازو پر اپنی زندگی رکھ کر سانسوں کا آواگون دیکھنا بہت ہی […]
نشانت کوشک کی نظمیں

بھول کے سرے سے اُگتی تمہاری یاد تم کو دیکھتا ہوں تو جیسے بھول جاتا ہوں سامنے دکھائی دیتے پھول کا نام جیسے بھول جاتا ہوں ہتھیلی پر رکھا میر کا شعر جس میں سرسوں کی بھی بات ہے تم کو دیکھ کر یاد آتے ہیں ندیوں کے پرانے نام جس میں […]