شبھا کی کویتائیں

ہمزاد

 

دکھ مجھ سے پہلے بیٹھا تھا

ماں کی کوکھ میں

ہم ساتھ ساتھ پیدا ہوئے

وہ مجھ سے بڑا تھا

٠٠٠

 

ایک خیال

 

وہ ٹیلا وہیں ہوگا

جھربیریاں اس پر چڑھ جانے کی کوشش میں ہوں گی

چیونٹیاں اپنے انڈے لیے بلوں کی جانب گامزن ہوں گی

ہرا ٹِڈا بھی مٹھی بھر گھاس پر بیٹھا ہوگا کچھ سوچتا ہوا

دوپہر کو اور سفید بنارہی ہوگی آسمان میں پاؤں ٹھہراکر اڑتی ہوئی چیل

کیکر کے پیڑوں سے ذرا آگے رکی کھڑی ہوگی ان کی پرچھائیں

کوے پیاسے بیٹھے ہوں گے اور بھی سب جاندار غیر جاندار ہوں گے وہاں

ایسے اٹھیں گے پتھر جیسے کوئی جلسہ کررہے ہوں

ہوا آرام کررہی ہو گی شیشم کی پتیوں میں چھپی

ہوسکتا ہے یہ سب میری یادوں میں ہی زندہ ہو

یہ بھی ہوسکتا ہے کہ میری یادہی نہ بچے

اور یہ سب اسی طرح قائم رہیں

٠٠٠

 

آخری انسانی دکھ

 

اتنا دکھ آنسوؤں سے نہیں اٹھایا جاتا

وہ ہار گئے کب کے

چیخ اسے اور بھیانک بناتی ہے

غصہ تو صرف راکھ پیدا کرتا ہے

کچھ دیر اسے خاموشی نے اٹھایا

کبھی ڈھویا کویتا نے

وچار نے جھیلا اسے

اور لادا دوستوں نے

مل کر گیت گاتے ہوئے

کمیونسٹ پارٹیاں بکھریں

کتنی بار اسے اٹھاتے ہوئے

اسے ڈھونے کے لیے

کچھ اور چاہیے

ان سب کے ساتھ

کوئی نیا طریقہ

اتہاس نے اسے اٹھایا کبھی کبھی

اب اس کی  دھجیاں بکھری ہیں

انہیں بچے ڈھو رہے ہیں

یہ پہنچ رہا ہے قدرت تک

طوفان اور گھپائیں

اٹھائیں گی اس کا بوجھ

اگر دھرتی اسے نہ اٹھا سکی

خلا میں ناچیں گی اس کی دھجیاں

٠٠٠

 

مکالمہ

 

اس دنیا کا سب سے آسان کام رہا ہے

یا یوں کہیے کہ سب سے مشکل

اصل میں سب سے آسان کام ہی

سب سے مشکل ہوتے ہیں

آسان کام ہوتا ہے ایسے

جیسے خود ہورہا ہو

اور جب وہ خود نہیں ہوتا

تو وہ سب سے مشکل کام ہوتا ہے

بسنت میں مکالمہ جاری رہتا ہے

ہر ذرے کے درمیان

جتنی کونپلیں اتنی بھاشا

جتنی تتلیاں اتنے رقص

جتنی اوس اتنی کرنیں

کچھ کم نہیں ہوتا

کچھ زیادہ نہیں ہوتا

جیسے سب اپنے آپ ہوتا ہے

اس کا مطلب نہ ہونا نہیں ہے

اس کا مطلب ساتھ ہونا ہے

جڑیں زمین میں چلتی ہیں

کونپلیں آسمان میں

گہرائی اور اونچائی

ایک ہی سمت ہوتی ہے

کیسے بنتی ہے ایک ہی سمت

جس میں ہوتی ہیں اتنی ہی بھاشائیں

جتنی ہوتی ہیں چڑیائیں

جتنی چیونٹیاں

اتنے ہی سانپ

گنتی میں نہیں تناسب میں

٠٠٠

 

گینگ ریپ

 

عضو تناسل کی عام نمائش

جسے ہم گینگ ریپ کہتے ہیں

باقاعدہ ٹیم بناکر

اتحاد کے جذبے کے ساتھ لگائی جاتی ہے

اکیلے میں عورت کے ساتھ

زور زبردستی تو خیر

تہذیب کا حصہ رہی ہے

جنگوں اور دشمنیوں کے معاملے میں

مردانگی دکھانے کے لیے بھی

بلاتکار ایک ہتھیار رہا ہے

مگر یہ نئی بات ہے

لگ بھگ بغیر کسی بات کے

عضو تناسل کی جنگی نمائش

مرد جب اٹھتے بیٹھتے ہیں

تب بھی ایسا لگتا ہے

جیسے وہ اس ہتھیار کی نمائش لگانا چاہتے ہیں

کھجلی جیسے بہانوں کے ساتھ بھی

وہ ایسا بڑے پیمانے پر کرتے ہیں

ماں بہن کی گالیاں دیتے ہوئے بھی

 

وہ اپنے اس عضو پر اترا رہے ہوتے ہیں

آخر اسے دیکھ کر ہی

ماں باپ تھالی بجانے لگتے ہیں

دائیاں ناچنے لگتی ہیں

لوگ مٹھائی کے لیے منہ پھاڑے آنے لگتے ہیں

یہ زیادہ پرانی بات نہیں ہے

جب فرائڈ مہاشے

اس عضو پر اتنے فدا ہوئے

کہ وہ ایک پیچیدہ ڈھانچے

کو سمجھ نہیں سکے

اس کے روپ پر مبہوت

وہ اسی  طرح ناچنے لگے

جیسے ہماری دائیاں ناچتی ہیں

سرمایے اور ہمہ گیریت کے ملاپ سے

ساخت اور طاقت میں گٹھ جوڑ ہوگیا ہے

ظاہر ہے کہ معیار کا سوال

مفلسوں اور محروموں سے ہونا تھا

ہمارے شاستر، پُران، عظیم مذہبی اعمال اور نفسیات

مٹھائی اور ناتے رشتوں کے یوگ سے

عضو تناسل کو اس طرح قائم کیا گیا

جیسے عظیم طاقتور خدا کو کیا جاتا ہے

عجب نہیں کہ ماں  کی تعریفیں

کئی بار عضو تناسل کے قصیدوں کی طرح سنائی دیتی ہیں

اس کی جنگی نمائش

اس وقت ضروری ہوجاتی ہے

جب مرد انگی کی عظیم عمارت ڈھہ رہی ہو

فرج، بچہ دانی، انڈہ دانی، چھاتیاں، دودھ کی گلٹیوں

اور ضمیر زدہ جسم کے ساتھ

طے شدہ معیار سے الگ انسان

جب مردوں کے سماج میں داخل ہوتا ہے

تو وہ ایک چنوتی ہے

عضو تناسل پر فدا

بے ضمیر مرد اجتماعی طور پر اپنا

ڈگمگاتا اقتدار قائم رکھنا چاہتا ہے

٠٠٠

 

مستقبل کی طرف

 

بچے زہریلی گیس سے اچھی طرح

نیلے پڑگئے ہیں

ان پر بیماریوں کے جراثیم کی بارش  بھی کی گئی ہے میزائلوں سے

پہلے وہ بھیک مانگ رہے تھے

انہوں نے بچہ مزدور بنے رہنے کی بھی کوشش کی

سیکس بازار میں وہ دھیمی آواز میں روئے

رفیوجی کیمپ میں وہ سردی سے

ادھ مرے ہوگئے اور بس آہستہ سے کنمنائے

انہوں نے کچھ کہا نہیں

ان کی معصومیت

کسی کام نہ آئی

پنکھڑیوں جیسے دل

ایک دھماکے سے خون میں غرق ہوگئے

رات کو سوتے ہوئے وہ

بارود سے ڈھک دیے گئے ہیں اچھی طرح

وہ ہمارا مستقبل ہیں

٠٠٠

 

مجبور

 

کبھی پھیپھڑے بھر جاتے ہیں

گونگے دکھ سے

دل کا کہیں پتہ نہیں ملتا

وہم کی پیٹھ دکھائی دیتی ہے

چہرہ نہیں

٠٠٠

 

دلربا کے سُر

 

ہمارے کندھے اس طرح بچوں کو اٹھانے کے لیے

نہیں بنے ہیں

کیا یہ بچہ اس لیے پیدا ہوا تھا

تیرہ سال کی عمر میں گولی کھانے کے لیے

کیا بچے ہسپتال، جیل اور قبر کے لیے بنے ہیں

کیا وہ اندھے ہونے کے لیے بنے ہیں

اپنے دریا کا پانی ان کے لیے بہت تھا

اپنے پیڑ گھاس۔پتیاں اور ساتھ کے بچے ان کے لیے بہت تھے

چھوٹا موٹا سکول ان کے لیے بہت تھا

ذرا سا سالن اور چاول ان کے لیے بہت تھا

آس پاس کے بزرگ اور معمولی لوگ ان کے لیے بہت تھے

وہ اپنی ماں کے ساتھ پھول، پتے، لکڑیاں چنتے ہوئے اپنا جیون بتا دیتے

میمنوں کے ساتھ ہنستے کھیلتے

وہ اپنی زمین پرتھے

اپنوں کے سکھ دکھ میں شریک تھے

تم بیچ میں کہاں سے آگئے

سارے معاہدے توڑدینے والے

جیل میں  ڈالنے والے

گولیاں چلانے والے

تم بیچ میں کہاں سے آگئے

ہمارے بچے باغی ہوگئے

نہ کوئی ٹریننگ، نہ ہتھیار

وہ خالی ہاتھ  تمہاری طرف آئے

تم نے ان پر چھرے برسائے

اندھے ہوتے ہوئے انہوں نے پتھر اٹھائے جو

ان کے ہی خون اور آنسوؤں سے تر تھے

 

سارے معاہدے توڑنے والو

گولیوں اور چھروں کی

برسات کرنے والو

دریا بچوں کی طرف ہے

اگنا اور بڑھنا

ہوائیں اور پت جھڑ

جاڑا اور بارش

سب بچوں کی طرف ہے

بچے اپنی کانگڑی نہیں چھوڑیں گے

ماں کا دامن نہیں چھوڑیں گے

بچے سب ادھر ہیں

 

معاہدے توڑنے والو

سارے معاہدے درمیان میں رکھے جائیں گے

بچوں کے نام ان کے کھلونے

درمیان میں رکھے جائیں گے

عورتوں کے پھٹے دامن

درمیان میں رکھے جائیں گے

مارے گئے لوگوں کی بے گناہی

درمیان میں رکھی جائے گی

ہمیں وجود میں لانے والی دھرتی

درمیان میں رکھی جائے گی

مقدمہ تو چلے گا

شناخت تو ہوگی

حشر تو یہیں پر اٹھے گا

سکول بند ہیں

شادیوں کے شامیانے اکھڑے پڑے ہیں

عید پر ماتم پسرا ہے

 

بچوں کو قبرستان لے جاتے لوگ

گردن جھکائے ہیں

ان پر چھروں اور گولیوں کی برسات ہورہی ہے

٠٠٠

 

آدم خور

 

1

آدم خور اٹھالیتا ہے

چھ سال کی بچی

لہولہان کردیتا ہے اسے

اپنا ہتھیار پونچھتا ہے

اور گھر پہنچ جاتا ہے

منہ ہاتھ دھوتا ہے اور

کھانا کھاتا ہے

رہتا ہے بالکل شریف آدمی کی طرح

شریف آدمی کو بھی لگتا ہے

بالکل شریف آدمی جیسا

٠٠٠

 

2

 

ایک عورت بات کرنے کی کوشش کررہی ہے

تم اس کا چہرہ الگ کردیتے ہو دھڑ سے

تم اس کی چھاتیاں الگ کردیتے ہو

تم اس کی رانیں الگ کردیتے ہو

تم اکیلے میں اسے کھاتے ہو

آدم خور تم اسے تشدد بھی نہیں مانتے

٠٠٠

 

خوش قسمتی

 

یکمُشت

بدن کا درد محسوس کرنا

جیسے گھر لوٹنا ہواہو

آتما کی اداسی دیکھنا

جیسے کسی عزیز سے ملنا ہواہو

٠٠٠

 

احتجاج کی نسائی آوازیں (پرتی رودھ کا اِستری سؤر)  جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے،سویتا سنگھ کی ترتیب دی ہوئی ایک ایسی کتاب ہے، جس میں موجودہ دور کی ایسی باغی ہندی شاعروں کی  کویتائیں جمع کی گئی ہیں، جنہوں نے  ریاست اور سماج کے جبر کو خاموشی سے تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے۔وہ اپنی بات کہہ رہی ہیں۔دنیا بھر کے ساتھ ساتھ اپنے ملک اور اپنے خطے میں موجود اپنی ہم جنسوں، بچوں اور مظلوموں کی حمایت  میں کھل کر بول رہی ہیں۔یہ نڈر اور حساس آوازیں ہیں، جن کو کسی بھی طور فراموش نہیں کیا جاسکتا۔اس کتاب میں شامل سبھی شاعروں کی نظمیں جستہ جستہ اردو میں ترجمہ کرکے آپ سبھی کے سامنے لائی جاتی رہیں گی۔ترجمے کی اجازت دینے کے لیے میں سویتا سنگھ کا خاص طور پر شکرگزار ہوں۔یہ کتاب راج کمل پرکاشن کی جانب سے 2023 میں پہلی بار شائع ہوئی ہے۔اس  سے آپ ان نظموں کے اپنے عہد سے موجود گہرے تعلق کا اندازہ کرسکتے ہیں۔کتاب میں موجود تمام شاعروں کا تعارف کتاب سے ترجمہ کرکے یہاں پیش کیا جائے گا۔شکریہ

‘احتجاج کی نسائی آوازیں’ نامی  کتاب میں شامل شُبھا پہلی شاعر ہیں۔وہی شُبھا جنہوں نے آج تک اپنا ایک مجموعہ بھی شائع نہیں کروایا، لیکن جن کی کویتائیں اس آدم خور تہذیب کی جائز تنقید کرتی  رہی ہیں، ہمیں جھنجھوڑتی  رہی ہیں۔ان کی جہدآمیز زندگی سے نکلنے والی یہ کویتائیں ان موتیوں کی طرح ہیں جن سے اس کتاب  میں ہم ایک ایسی مالا تیار کرنا چاہتے ہیں، جس کی خوبصورتی سے لوگ مبہوت ہوجائیں۔ان کی کویتائیں گینگ ریپ سے لے کر ‘سخت دل مستقبل کی جانب’جانے تک پھیلی ہوئی ہیں،اور  جن کے حقائق کا یہاں تجزیہ بھی موجود ہے ۔ ان سب سے باہر نکلنے کا راستہ بھی انہی کویتاؤں میں سجھایا گیا ہے۔یہ سب کتنا مشکل ہے یہ ان کی کویتاؤن کو معلوم ہے۔’آدم خور اٹھالیتا ہے/چھ سال کی بچی کو/لہو لہان کردیتا ہے اسے۔۔۔’ایسے حالات میں کویتا بھی تو لہو لہان ہوتی ہے جسے شُبھا دیکھتی اور محسوس کرتی ہیں۔ اور اس پر اپنا احتجاج درج کرواتی ہیں۔(سویتا سنگھ)

شُبھا 6 ستمبر 1953 کو علی گڑھ میں پیدا ہوئیں ، آٹھویں دہائی کی اہم شاعر ہیں۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے پڑھائی کے بعد جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے مکتی بودھ کے وِچاروں اور شاعری پر پی ایچ ڈی کی۔سیاسی طور پر سرگرم شُبھا ہریانہ کے سانپلا کے راجکیہ مہیلا ودیالیہ میں پرنسپل  کے عہدے سے ریٹائر ہوئیں۔وہ ‘سرچ’ راجیہ سنسادھن کیندر، ہریانہ اور ‘بھارت گیان ۔وگیان سمِتی’ سے بھی جڑی رہیں۔شُبھا ‘ایڈوا(آل انڈیا ڈیموکریٹک ویمنس ایسوسی ایشن)’ نامی نسوانی تنظیم کے بنیاد گزاروں  میں شامل رہی ہیں۔ہریانہ میں مختلف ناٹک منڈلیوں کی تشکیل کرکے انہوں نے گاؤں میں حاشیے پر موجود دلتوں، محروموں اور عورتوں میں بیداری پیدا کرنے کا کام بھی کیا ہے۔’پہل’،’نیا گیان اُدے’،’ورتمان ساہتیہ’،’کتھن’،’نیاپتھ’،’شُکروار’، ‘نئی دنیا’ وغیرہ جیسے باوقار رسائل میں ان کی کویتائیں شائع ہوچکی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

news-1701

yakinjp

yakinjp

maujp

MAUJP

MAUJP

MAUJP

article 48666670301

article 48666670302

article 48666670303

article 48666670304

article 48666670305

article 48666670306

article 48666670307

article 48666670308

article 48666670309

article 48666670310

article 48666670311

article 48666670312

article 48666670313

article 48666670314

article 48666670315

article 48666670316

article 48666670317

article 48666670318

article 48666670319

article 48666670320

article 48666670321

article 48666670322

article 48666670323

article 48666670324

article 48666670325

article 48666670326

article 48666670327

article 48666670328

article 48666670329

article 48666670330

article 48666670331

article 48666670332

article 48666670333

article 48666670334

article 48666670335

article 48666670336

article 48666670337

article 48666670338

article 48666670339

article 48666670340

article 48666670341

article 48666670342

article 48666670343

article 48666670344

article 48666670345

article 48666670346

article 48666670347

article 48666670348

article 48666670349

article 48666670350

article 48666670351

article 48666670352

article 48666670353

article 48666670354

article 48666670355

article 48666670356

article 48666670357

article 48666670358

article 48666670359

article 48666670360

noticias 000000031

noticias 000000032

noticias 000000033

noticias 000000034

noticias 000000035

noticias 000000036

noticias 000000037

noticias 000000038

noticias 000000039

noticias 000000040

noticias 000000041

noticias 000000042

noticias 000000043

noticias 000000044

noticias 000000045

noticias 000000046

noticias 000000047

noticias 000000048

noticias 000000049

noticias 000000050

noticias 000000051

noticias 000000052

noticias 000000053

noticias 000000054

noticias 000000055

noticias 000000056

noticias 000000057

noticias 000000058

noticias 000000059

noticias 000000060

noticias 000000061

noticias 000000062

noticias 000000063

noticias 000000064

noticias 000000065

noticias 000000066

noticias 000000067

noticias 000000068

noticias 000000069

noticias 000000070

noticias 000000071

noticias 000000072

noticias 000000073

noticias 000000074

noticias 000000075

noticias 000000076

noticias 000000077

noticias 000000078

noticias 000000079

noticias 000000080

noticias 000000081

noticias 000000082

noticias 000000083

noticias 000000084

noticias 000000085

noticias 000000086

noticias 000000087

noticias 000000088

noticias 000000089

noticias 000000090

noticias 000000091

noticias 000000092

noticias 000000093

noticias 000000094

noticias 000000095

noticias 000000096

noticias 000000097

noticias 000000098

noticias 000000099

noticias 000000100

noticias 000000101

noticias 000000102

noticias 000000103

noticias 000000104

noticias 000000105

noticias 000000106

noticias 000000107

noticias 000000108

noticias 000000109

noticias 000000110

noticias 000000111

noticias 000000112

noticias 000000113

noticias 000000114

noticias 000000115

noticias 000000116

noticias 000000117

noticias 000000118

noticias 000000119

noticias 000000120

komunitas praya menyoroti perubahan pembahasan putaran gratis mahjong ways

selong tren diskusi mahjong wins tengah munculnya game digital baru

kreator konten tanjung mengangkat cerita perkembangan mahjong ways media sosial

sumbawa besar membahas tiga elemen visual mahjong wins 3 ubin emas naga scatter

komunitas digital semarang menelaah pengaruh animasi terhadap identitas game mahjong modern

yogyakarta menjadi sorotan diskusi perpaduan tradisi asia teknologi game

pengamat surabaya mengulas perubahan gaya ilustrasi seri mahjong digital

makassar membahas peran komunitas online menyebarkan tren konten mahjong

medan hingga palembang perbedaan perspektif penggemar terhadap visual mahjong ways

denpasar menyoroti perkembangan narasi budaya asia desain game mahjong kontemporer

sweet bonanza kabupaten pangkajene kepulauan mengenal mekanisme fitur putaran gratis

gates of olympus kabupaten muara enim perpaduan kisah mitologi teknologi animasi modern

lucky neko kota langsa cara simbol tradisional menyesuaikan diri selera generasi digital

wild bandito mahjong ways kabupaten garut perbandingan dua karakter visual berbeda

warga kabupaten lebak mengkaji cara membedakan klaim permainan informasi memiliki bukti

mahjong wins kota tanjungbalai menelaah fungsi simbol membentuk pengalaman visual

mengapa efek cahaya sering muncul fitur bonus pengamatan kabupaten tapanuli utara

lucky neko kabupaten hulu sungai selatan kombinasi karakter animasi ornamen bernuansa emas

gates of olympus kabupaten aceh besar memahami konsep peluang tanpa bergantung ramalan

sweet bonanza kota gorontalo menelusuri peran desain ceria membentuk identitas game

wild bandito kabupaten halmahera utara eksplorasi tema petualangan format interaktif

mahjong pgsoft kabupaten musi banyuasin perubahan pengalaman pengguna saat bermain melalui layar ponsel

princess starlight kota palangka raya mengulas fungsi cahaya elemen penceritaan

lucky neko sweet bonanza perbedaan pendekatan warna membangun identitas desain

warga kabupaten ende menelusuri pengaruh cerita budaya terhadap pembentukan karakter game digital

mengapa pemain lebih mudah mengingat kemenangan besar penjelasan bias ingatan kota madiun

bukan hanya hiburan warga kabupaten bekasi membahas pentingnya memahami batas pengeluaran digital

mahjong ways kabupaten magetan contoh memahami fenomena ilusi pola hasil acak

gates of olympus kota pagar alam menguraikan kesalahpahaman prediksi hasil permainan

warga kabupaten flores timur mengamati pengaruh notifikasi terhadap perhatian pengguna ponsel

sweet bonanza kota sukabumi membahas perbedaan ekspektasi pengguna peluang

wild bandito mahjong wins mengapa perbedaan desain bisa menarik kelompok pengguna beragam

lucky neko kabupaten tanah laut mengkaji simbol keberuntungan perspektif lintas budaya

literasi digital kabupaten sumbawa memahami rtp agar tidak terjebak penafsiran keliru

princess starlight kota tegal menelaah kontribusi tokoh pengalaman hiburan interaktif

article 88666670351

article 88666670352

article 88666670353

article 88666670354

article 88666670355

article 88666670356

article 88666670357

article 88666670358

article 88666670359

article 88666670360

article 88666670361

article 88666670362

article 88666670363

article 88666670364

article 88666670365

article 88666670366

article 88666670367

article 88666670368

article 88666670369

article 88666670370

informasi terbaru kabupaten belu 00000021

informasi terbaru kabupaten belu 00000022

informasi terbaru kabupaten belu 00000023

informasi terbaru kabupaten belu 00000024

informasi terbaru kabupaten belu 00000025

informasi terbaru kabupaten belu 00000026

informasi terbaru kabupaten belu 00000027

informasi terbaru kabupaten belu 00000028

informasi terbaru kabupaten belu 00000029

informasi terbaru kabupaten belu 00000030

informasi terbaru kabupaten belu 00000031

informasi terbaru kabupaten belu 00000032

informasi terbaru kabupaten belu 00000033

informasi terbaru kabupaten belu 00000034

informasi terbaru kabupaten belu 00000035

informasi terbaru kabupaten belu 00000036

informasi terbaru kabupaten belu 00000037

informasi terbaru kabupaten belu 00000038

informasi terbaru kabupaten belu 00000039

informasi terbaru kabupaten belu 00000040

informasi terbaru kabupaten belu 00000041

informasi terbaru kabupaten belu 00000042

informasi terbaru kabupaten belu 00000043

informasi terbaru kabupaten belu 00000044

informasi terbaru kabupaten belu 00000045

informasi terbaru kabupaten belu 00000046

informasi terbaru kabupaten belu 00000047

informasi terbaru kabupaten belu 00000048

informasi terbaru kabupaten belu 00000049

informasi terbaru kabupaten belu 00000050

informasi terbaru kabupaten belu 00000051

informasi terbaru kabupaten belu 00000052

informasi terbaru kabupaten belu 00000053

informasi terbaru kabupaten belu 00000054

informasi terbaru kabupaten belu 00000055

informasi terbaru kabupaten belu 00000056

informasi terbaru kabupaten belu 00000057

informasi terbaru kabupaten belu 00000058

informasi terbaru kabupaten belu 00000059

informasi terbaru kabupaten belu 00000060

informasi terbaru kabupaten belu 00000061

informasi terbaru kabupaten belu 00000062

informasi terbaru kabupaten belu 00000063

informasi terbaru kabupaten belu 00000064

informasi terbaru kabupaten belu 00000065

informasi terbaru kabupaten belu 00000066

informasi terbaru kabupaten belu 00000067

informasi terbaru kabupaten belu 00000068

informasi terbaru kabupaten belu 00000069

informasi terbaru kabupaten belu 00000070

informasi terbaru kabupaten belu 00000071

informasi terbaru kabupaten belu 00000072

informasi terbaru kabupaten belu 00000073

informasi terbaru kabupaten belu 00000074

informasi terbaru kabupaten belu 00000075

informasi terbaru kabupaten belu 00000076

informasi terbaru kabupaten belu 00000077

informasi terbaru kabupaten belu 00000078

informasi terbaru kabupaten belu 00000079

informasi terbaru kabupaten belu 00000080

news-1701