نو برس چھوٹی بیوی

کُشل دبے پاؤں اس طرح گھر میں گھسا تھا، جیسے گھر اس کا اپنا نہ ہو اور کھانسی آنے پر وہ گلی میں جاکر اس طرح جی بھر کھانس آیا تھا، جیسے مدن کو نصیحت کرنے کا موقع نہ دینے کے لیے وہ اکثر دُکان کے باہر جاکر کھانسا کرتا ہے۔پھر اس نے سوچا کہ […]
یوٹوپیا

نجو کے ابا نہیں تھے۔ گزرچکے تھے، اس کے پیدا ہونے کے دوہی سال بعد۔ نجو کو یاد نہیں، ابا دِکھنے میں کیسے تھے؟ ایک دھندلی سفید کالی تصویر دیکھی تھی امی کے گلابی پھول، ہرے پتے والے ٹین کے ڈھکن والے بکسے میں کبھی۔ کھیلتے کھیلتے پہنچ گئی تھی وہ، گھر کے آخری کونے […]
دنگا بھیجیو مولا

دھوپ اتنی تیز تھی کہ پانی سے اٹھتی بھاپ جھلسا رہی تھی۔کیچڑ کے بیچ کوڑے کے اونچے ڈھیر پر ایک قطار میں چھ ایک دم نیے،چھوٹے چھوٹے تابوت رکھے ہوئے تھے۔سامنے جہاں تک مومن پورہ کی حد تھی،سیور کے پانی کی بجبجاتی جھیل ہلکوریں مار رہی تھی،کئی بلّیوں اور ایک گدھے کی پھولی لاشیں تیر […]
مہانگر کی ایک رات

‘تم نے ٹیکسی میں شیڈز کیوں لگائے ہیں؟ رات میں ان کی کیا ضرورت ہے؟’ اننیا نے جھلاتے ہوئے دونوں کھڑکیوں سے شیڈز ہٹادیے۔کانچ پر کالی کوٹنگ بین ہوگئی ہے پھر بھی یہ لوگ۔۔۔دن میں تو دھوپ ہوتی ہے مگر رات میں کیا ضرورت ہے! اس کی نظر پیچھے والے گلاس پر پڑی۔ کمال ہے۔۔۔یہاں […]
غلط پتے کی چٹھیاں

ایک تھی صاندلی رانی۔کھاتی سنار کی تھی، گاتی کمہار کی تھی۔ سنار دن بھر پسینہ بہاتا۔ اس کے لیے سندر جھمکے اور بالیاں گڑھتا۔ پھر اسے پہناتا۔ ہر بار بالی اور جھمکے کے لیے اسے کانوں میں نئے چھید کرنے پڑتے۔کان چھدوانے کی تکلیف میں اس کی آنکھیں نم ہو جاتیں۔مگر وہ چھدوائے جارہی تھی۔کمہار […]
مونچھیں

پرتاب جینتی پر اس بار سرکاری دفتر بند رہے۔ٹھاکر اس کے لیے برسوں سے کوششیں کررہے تھے۔ وہ بہت ناراض تھے کہ ایرے غیروں کی جینتوں پر تو چھٹی رہے اور رانا پرتاپ کا کہیں شمار ہی نہ ہو۔بات سچی تھی۔ اتفاق سے وزیر اعظم ٹھاکر تھے اس لیے وہ اس سچائی کو محسوس کرسکے۔انہوں […]
کاتِک کا پہلا پھول

کمرے میں خاموشی کی سرگوشیاں سی ہورہی تھیں۔سرگوشیوں میں خوابوں کی چھٹپٹاہٹ تھی ، یادوں کی بچی ہوئی کرچیاں تھیں۔ بڑھاپا عمر کا ریسٹ ہاؤس تھا۔اوجھا جی کو لگتا تھا کہ زندگی دھاگے کی ایک ریل ہے۔جس دن پوری ادھڑ جائے گی اسی دن ختم ہوجائے گی۔گھڑی ٹک ٹک کی رفتار سے بڑھے جارہی تھی۔کھڑکی […]
تماش بین

ہم ایک طلسم کے حصار میں تھے۔ اسی طرح جیسے محبت،خواب یا دکھ کے حصار میں ہوتے ہیں۔ اس کیفیت میں ہم پہلی مرتبہ تھے ،حالانکہ دوسری ساری چیزیں معمول کے مطابق تھیں۔چھوٹا سا لان،امرود کا پیڑ،صبح دو بجے کی چاندنی،اکتوبر کے آخری دن،شبنم،سناٹا اورچہار دیواری کی منڈیر پر اونگھتی بلی۔یہ سب ہمیشہ ہی اس […]
مور

پرانی بات ہے ، ایک چھوٹی سی ریاست کے راجا نے ایک مور پالا۔ ویسے تو سبھی مور اچھا ناچتے ہیں، مگر اس مور کی بات الگ تھی۔وہ چَوپڑا کے کنارےگہرے درختوں کے جھنڈ میں رہتا تھا۔ اسی جگہ سادھو کا آشرم تھا، ایک مندر اور راج پریوار کے مرحومین کی سمادھیاں تھیں۔ایسی سمادھیاں کم […]
دو ظاہر دار

اگست کی گرم، سرمئی شام شہر پر چھا چکی تھی اور ایک ہلکی گرم ہوا، جو موسم گرما کی یادگار تھی، سڑکوں پر رواں تھی۔ سڑکیں، اتوار کی چھٹی کے لیے بند تھیں اور وہاں رنگین کپڑوں میں ملبوس لوگوں کا ہجوم تھا۔ اونچے کھمبوں کے اوپر لیمپ موتیوں کی طرح روشن تھے اور نیچے […]