یہ ایک دلچسپ بات ہے کہ غزل ، جسے عام طور پر ہر زمانے میں نئی زبان اور بیان کا لباس پہنتے ہم نے دیکھا ہے۔وہ سید کاشف رضا کے یہاں کچھ ایسے زیورات میں ملبوس نظر آتی ہے، جنہیں ہم سرسری نگاہ سے دیکھیں تو شاید کلاسیکی اردو زبان کا ہم رنگ قرار دے دیں، مگر انہوں نے اپنی رنگا رنگ چھیڑ چھاڑ سے اسے کچھ اور بنادیا ہے۔ میں کاشف رضا کی شاعری کو بہت باریکی سے پڑھتا رہا ہوں، یہ پٹارا کھلنے کی دیر ہوتی ہے کہ آپ ایک الگ دنیا میں ہوتے ہیں۔یہ انسانی لمس سے بھری پری شاعری ہے، اس میں محض جذباتی دعوے یا گڑگڑاہٹیں نہیں ہیں بلکہ یہ ایک ایسی محبت کی دستاویز ہے، جس میں جنسی اور بدنی بصری پیکروں کی بھرمار ہے۔ اور اس شاعری کو جس زبان میں بیان کیا گیا ہے، اس نے اسے اپنے ہم عصروں کی آواز سے کافی منفرد بنادیا ہے۔ آپ اگر اسے محض ایک تغزل آفریں شاعری قرار دیتے ہیں تو میرا خیال ہے کہ یہ جلد بازی ہوگی کیونکہ عشق اور رومان سے پرے اس شاعری میں غزل کا وہ رنگ ہے، جس میں کئی جگہوں پر کونارک کے مندروں پر اکیرے گئے نقوش سے قدم قدم پر سامنا ہوتا ہے۔ میرے خیال سے یہ زبان کی فتح ہے، اس میں لذت ہے اور ساتھ ہی ساتھ یہ آرٹ کا ایسا نمونہ ہے، جس میں پچھلے موضوعات اور استعمال شدہ زبان کا ایک ارتقائی عمل دیکھنے کو ملتا ہے۔میں نے کاشف رضا کی غزلوں کے جس مجموعے میں ان غزلوں کو پڑھا ہے، اس کا نام ہے ‘ ایک عورت کا باغ’۔اور یہ بات واقعی دیکھنے کی ہے کہ اس میں موجود شاعر نے اپنی جس محبوبہ کے خدوخال اور اس کے سڈکٹِو پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے ۔اس میں اس بات کا امکان کم ہے کہ آپ اسے جینڈر کے کسی اور دوسرے خانے میں دیکھ یا تصور کرسکیں۔یہ ایک عورت کے باغ حسن کی روداد ہے اور اس باغ میں سیر کرنے والے شاعر کی کیفیات ہیں، جو اسے مزید حسین اور دلچسپ بناتی ہیں۔اس شاعری میں کسی طرح کے تکلف اور حسن کو بیان کردینے کے لیے کسی پرلحاظ لسانی پردے سے کام نہیں لیا گیا ہے۔ بلکہ یہ لہجہ بے باک ہے اور بعض دفعہ ایسے استعارے تراشتا ہے کہ پڑھنے والے کو اس کے نئے پن سے بے حد لطف حاصل ہوتا ہے۔جیسے
قرار دیدہ و دل میں رہا نہیں ہے بہت
نظر نواز مرے کوئی گل سریں ہے بہت
اردو میں جدید شاعروں کے یہاں ایسا کوئی شعر بہت عرصے سے میری نظر سے نہیں گزرا۔یہ میری کم علمی بھی ہوسکتی ہے۔ مگر میں شاید اپنے مٹھی بھر مطالعے کی بنیاد پر کہہ سکتا ہوں کہ اس سلیقے سے ایسا استعارہ ٹانکنا ، ہمارے یہاں کے دوسرے شاعروں کو کم ہی نصیب ہوا ہوگا یا کیا معلوم ، وہ اس سے محروم ہی رہے ہوں۔میرے خیال میں اس سے پہلے کہ اس ‘ گل سریں’ کے حوالے سے کوئی دوسرا تصور قائم کیا جائے، ہمیں اس شاعری کو مجموعی اعتبار سے دیکھنا ہوگا۔اس محبوب کے بدن کی تراش، اس کی تمکنت، اس سے بوسے کی شدید خواش اور اس کے حسن کی تراوٹ، یہ سبھی کچھ ہمیں بہت حد تک اس ان دیکھے ‘ناخدا’ کی ایک شبیہہ تراشنے میں مدد دیتا ہے۔ مگر آپ اسے مکمل نہیں دیکھ پاتے۔وہ ایک چھلاوے کی طرح کبھی اپنے سینے کی گدراہٹ، کبھی اپنی رانوں کی دبازت اور کبھی اپنے ہونٹوں کی سرخ گولاہٹ کے ساتھ نمایاں ہوتی ہے۔خاص طور پر بوسہ، کاشف رضا کی شاعری میں اس شدت کا ایک استعارہ بنا ہے، جو محبوب کو کشید کرلینے کی ایک غیر عقلی منطق کو ہوا دیتا ہے۔ موذیل کو بیان کرتے ہوئے منٹو نے لکھا تھا کہ اس کا تمام بدن اس کے ہونٹوں میں سمٹ آیا تھا، اس بات کو یہاں جوڑتے ہوئے میں ایک شعر نقل کرتا ہوں۔
ملا تو ہے کوئی بنتِ عنب سا لب لیکن
ہمارے شہر میں ممنوع ہے کشید اُس کی
یہ کشید ممنوع نہ بھی ہوتی ، تب بھی یہ ممکن نہیں تھی ، کیونکہ غالب بہت پہلے کہہ چکا ہے۔
اس نامراد دل کی تسلی کو کیا کروں
مانا کہ اس کے رخ سے نگہ کامیاب ہے
بوسے کی یہ تکرار اتنی زیادہ ہے کہ ایسے kissing patternsبھی اس شاعری میں نمایاں ہوتے ہیں۔جو اپنی تصویر گری کے جلو میں بہت انوکھے جلوے سمیٹے ہوئے ہیں۔آپ اس کے لیے ظاہر ہے کہ اس شاعری کو پڑھیں اور اس کے erotic essence کو اپنے حافظے کا حصہ بنائیں۔ کاشف رضا نے ایک جگہ اپنے شعر میں کہا ہے کہ ‘شعر وہ ہے جو یاد رہ جائے۔’میں اس بات کو اس طرح سمجھتا ہوں کہ شعر سے زیادہ اگر اس کے معنی آپ کے ذہن پر مدت تک نمایاں رہیں اور ایسے ذہنوں پر بھی بالخصوص ، جو اس کی رنگینیت کو ایک قسم کے حظ کا متبادل بنالیں، وہی کسی بھی شاعری کے لیے کامیابی کی ضمانت ہیں۔سید کاشف رضا اس معاملے میں کامیاب ہیں۔ایک چیز جو میں نے ان غزلوں میں نوٹس کی ہے، وہ یہ کہ یہ شاعری ہماری شعریات غزل سے بہت گہرا ربط نہیں رکھتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں محبوب کا جو تصور ہے، وہ روایتی نہیں ہے۔اس کی کمر کے پتلے پن، پنکھڑی جیسے ہونٹ اور صراحی دار گردن کی جگہ اس شاعری نے ایک قسم کی فربہ عورت کے حسن کو بیان کیا ہے۔ اس عورت کی دبازت اور گدازیت دونوں بیک وقت محبوب کے ایک روایتی تصور کی شبیہ سے بالکل منفرد بلکہ اس کے ابطال پر اصرار کرتی ہے۔کچھ مزید باتیں بھی کروں گا، مگر اس سے قبل کچھ اشعار ملاحظہ ہوں۔ جو میرے خیال میں کاشف رضا کی شعری فضا کی نمائندگی میں بے حد کامیاب ہیں۔
بانہوں میں یار ہو ، کوئی فرصت کی شام ہو
اور بارگاہِ عشق علیہ السلام ہو
شور کچھ اور مرے سر میں ہوا کرتی ہے
باغ میں سیر جو وہ مست ِ صبا کرتی ہے
پہلے کرتی ہے صبا باغ میں اُس کو سرمست
مست پھر مجھ کو وہ سرمست ِ صبا کرتی ہے
کیا بتائوں تجھے اے سرخوش و سرمست ِ صبا
کام کیا میرے چراغوں سے ہوا کرتی ہے
ریزہ ء کُحل کے مانند کسی روز ہمیں
تیری پلکوں کے کنارے پہ بکھر جانا تھا
بچھا ہوا تھا نگاہوں میں فرشِ استسقاء
زمینِ دل پہ نبی کی دعا نکل آئی
تاثیر میں کم ہو تو کروں شعر کو بھی عاق
آتش میں جو کم ہو وہ رگِ تاک جلا دوں
پکارتی ہیں مجھے گھنٹیاں تیری ایسے
کہ جیسا تیرا مدینہ ہو کوئی مندر یار!
یہ ہم جو تجھ سے کنارا وغیرہ کرتے ہیں
تیرے ہی لطف کا چارا وغیرہ کرتے ہیں
بہت خموش سے رہتے ہیں رُو بہ رُو تیرے
ہم اس طرح بھی پُکارا وغیرہ کرتے ہیں
میں غور سے انھیں سُنتا ہوں، ان سُنی کی طرح
جو لوگ ذکر تمھارا وغیرہ کرتے ہیں
چرا بھی لیتے ہیں نظریں کبھی کبھی خوباں
یہ لوگ یوں بھی اشارہ وغیرہ کرتے ہیں
اسپِ وحشت سے لکھی مملکتِ دل تاراج
میں نے جب عشق کی تاریخِ فرشتہ لکھی
میرے خیال سے موجودہ غزل میں اکثر احباب زبان کی اس آبداری سے خالی ہیں۔ایک طرف انہیں لگتا ہے کہ ایسا کیا تو شاید جدید دنیا میں انہیں دقیانوسی اور روایتی زبان کے ایک کھوسٹ علمبردار کی طرح دیکھا جائے گا۔مگر سچ کہوں تو اس کی ایک دوسری وجہ بھی ہے۔اکثر دوست اس لیے بھی ایسی زبان استعمال نہیں کرتے، کیونکہ ان کی دسترس ہی اس قسم کی زبان پر نہیں ہے۔وہ یہ کرنے چلے تو بقول میر’رہِ طلب میں منہ کے بھل گرے ہوئے’ نظر آئیں گے۔بہرحال، اس شاعری کو پڑھیے اور اس کی لسانی تندرستی پر حیران ہوتے جائیے۔یہ ہمیں ایک الگ دنیائے حسن میں لے جانے والی شاعری ہے۔ایک جانب یہ اپنے تصوراتی جہان کی تصویر کشی میں پوری مہارت رکھتی ہے تو دوسری طرف اس شاعری میں استعاروں کی ایک روشن دنیا آباد ہے۔جو ہمیں مزید حیران بھی کرتی ہے اور لطف اندوز بھی۔کیا آرٹ کا اس سے بہتر بھی کوئی مقصد ہوسکتا ہے؟جو ذرا دیر کو جیون کی اس گندی دھوپ کا سایہ ہمارے سر سے اٹھالے۔
٭٭٭