1
مانگتے ہیں نام پر اللہ کے
اور تیور ہیں بہادر شاہ کے
اور لہروں نے کنارہ کر لیا
حوصلے ایسے بڑھے ملّاح کے
ہے صراط مستقیم اب پائمال
ہم علمبردار ہیں گمراہ کے
اب نہیں سنجیدگی خبروں کے بیچ
ہیں تماشے اب فقط افواہ کے
شام ہے موسم بھی ہے اور ہے شراب
منتظر ہم ہیں تو بسم اللہ کے
2
موسم کے ہاتھوں ایسے سنوارا گیا مجھے
بادِ صبا چلی کہ بخار آ گیا مجھے
سہما سا رہ گیا میں لطیفوں کے درمیاں
میری طرف سے ایسا اشارہ گیا مجھے
اتنی ہی بار کوئی نیا گھاؤ آ لگا
جتنی بھی بار سوچا بچارا گیا مجھے
یاد آیا اپنے ساتھ کوئی جولیٹ بھی تھی
کہہ کہہ کے رومیو جو پکارا گیا مجھے
آدھے ادھورے کام کی بیچینیوں کے بیچ
جب تھک کے سو گیا تو قرار آ گیا مجھے
3
چاہیں بھی تو لگتی نہیں سنسار کی عادت
دربار کی عادت ہے نہ گھر بار کی عادت
پل بھر میں اڑا دیتے ہیں دن بھر کی کمائی
تنہائی میں ایسی لگی بازار کی کی عادت
مجھ کو بھی ستمگر ہی بتاتے ہیں مرے لوگ
مجھ سے ہوئی منسوب مرے یار کی عادت
ہر بات میں اِک بات نئی ڈھونڈتے رہنا
جینے کا سہارا ہے یہ بے کار کی عادت
4
بڑھ گئے ہیں عمر کے دن چار سے
اور یہ ہونگے کسی تیوہار سے
ہر گھڑی رہتے ہیں ہم تیار سے
کون یہ بتلائے جاکر یار سے
لے رہا ہوں شیپ اِک سائے سا میں
کٹ رہا ہوں روشنی کی دھار سے
مست رہتا ہوں بہ فیض خاک و خوں
کیا غرض داڑھی سے يا زنّار سے
عمر کٹتی ہے کنارے کی طرح
دیکھتی ہے زندگی منجدھار سے
من ہرن کو ہے ضرورت رقص کی
لا دے اک جنگل مجھے بازار سے
ساتھ اپنے دو گھڑی تو رہ وجے
دو گھڑی بیتے ذرا وستار سے
5
میں شور ہوں تو مجھ کو صدا کرکے دکھاؤ
آؤ مری آواز میں آواز ملاؤ
یکسانیت جان و بدن ٹوٹ نہ جائے
مجھ جیسا کوئی میرے لئے ڈھونڈ کے لاؤ
ہر بار مقرر وہی روداد محبت
سن لو مگر اس بار اسے بھول بھی جاؤ
یہ کوزہ گری بھی ہے یہی گور کنی بھی
مٹی کو مسلسل اسی مٹی سے ملاؤ
ہنستے ہو تو چہرے پہ شکن آنے لگی ہے
سو خوش نظر آنے کے نئے شغل بناؤ
ہر چیز ہے تنہائی کی تشبیہ مرے گرد
ہر چیز ہی کہتی ہے مجھے ہاتھ لگاؤ
6
نہ کوئی ساتھ ہے اپنے نہ کوئی دھیان میں ہے
مگر یہ خوشبوئے بے نام جو مکان میں ہے
جہاں بھی جائیں ہمیں اپنا گھر ہی لگتا ہے
یہ انتظامِ زمانہ ہماری شان میں ہے
کسے خبر کہ وہ کب ٹوٹ ہی پڑے ہم پر
زمیں کی ساری خموشی جو آسمان میں ہے
میں دین و دنیا سے اُکتا کے کس طرف جاتا
ہزار شکر کہ absurd درمیان میں ہے
بس ایک لمس کی دوری پہ ہے بدن اُس کا
شروع موسمِ حسرت بس ایک آن میں ہے
7
آئینے کی ترجمانی اور ہے
عکس کی شعلہ بیانی اور ہے
اور ہی کردار ہم جیتے رہے
جب کہ اس دل کی کہانی اور ہے
اس سہولت سے کوئی روتا نہیں
آپ کی آنکھوں کا پانی اور ہے
ہے الگ رفتار دنیا کی ‘ وجے’
اور پھر اپنی روانی اور ہے
8
پستی سے بلندی کی صفت دیکھتے رہنا
دن رات تھکی آنکھ سے چھت دیکھتے رہنا
محسوس بھی کر دیکھنا مظلوم کی چیخیں
ہر ظلم کو بس دور سے مت دیکھتے رہنا
وہ میری ہر اِک بات پہ سو دینا دلیلیں
اور لفظِ محبت پہ لغت دیکھتے رہنا
یاد آتا ہے اُن کا مرے اقرارِ وفا پر
مشکوک نگاہوں سے فقط دیکھتے رہنا
بازار میں اِک اور ہی رتبے میں بھٹکنا
شیشے میں کوئی اور ہی گت دیکھتے رہنا
دو آنکھ سہائے نہیں جب آپ ہی اپنا
بند آنکھ سے چپ چاپ جگت دیکھتے رہنا
ہر وار پہ سوکھے ہوئے ہونٹوں کا تبسم
ہر زخم پہ لفظوں کی پرت دیکھتے رہنا
ہارا ہوا اک شخص ہوں اور نام ‘وجے’ ہے
صد حیف کہ یہ لفظِ غلط دیکھتے رہنا
9
آ مری جان! مری روح کو تازہ دم کر
تھام لے مجھ کو کسی رات تو مجھ میں تھم کر
جس دھڑلے سے تری یاد چلی آتی ہے
ایسا لگتا ہے کہ رہ جاؤں گا تجھ میں رم کر
سب کو معلوم ہے پرواز ہے اک وقتی شے
تو مجھے میرا قفس یاد دلانا کم کر
اپنی خوشبو کو مرے واسطے کر بادِ بہار
اپنے سائے کو کسی روز مرا موسم کر
آخری شام ترے شہر کی کیوں ضائِع ہو
دِل اکیلا ہے بہت آج پیوں گا جم کر
نیند بھی آ گئی آخر یہ دیا گل کر دے
مجھ پہ یہ آخری احسان مرے پیتم کر
10
دام اپنا جو لگاؤں تو کہیں یار ملے
میرا معشوق مجھے بن کے خریدار ملے
بس طبیعت کی روانی سے کٹی کوہِ عمر
دِل نے چاہا تو بہت تھا کہ مددگار ملے
منزلیں جب بھی نظر آئیں بہت پاس آئیں
راستے جب بھی ملے صورتِ دیوار ملے
روز سوتا ہوں کہ کچھ خواب نئے دیکھوں گا
روز اٹھتا ہوں کہ اک خواب تو ساکار ملے
خوب مشہور ہے ہر اور مری در بدری
کیسے ممکن ہو کسی شہر میں گھر بار ملے
11
ہے اندھیرا بہت, دل جلا دور تک روشنی جائےگی
اور اسی میں اُمیدِ سحر کی کہانی لکھی جائےگی
سنگِ بنیاد کل عاشقوں کے دبستاں کا ہوگا وہاں
جس جگہ آج میری نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی
منظرِ دِل فریب اک تماشے میں تبدیل ہو جائےگا
چشمِ حیرت کے اٹھنے پہ کوئی ٹکٹ جو رکھی جائےگی
دِل کی باتیں رکھیں روشنی کے لفافے میں یہ سوچ کر
جس جگہ میں نہ پہنچا وہاں تک مری شاعری جائےگی
وہ خوشی غم کا سایہ ہی نکلے گی کیسے سمجھتا بھلا
قرض جسکا چکانے میں ممکن ہے یہ زندگی جائےگی
12
شاعر تو بلائے گئے سرکار کی صورت
پر شعر سنائے گئے اخبار کی صورت
دِل بھر کی زمیں آئی ہے حصے میں ہمارے
اور سامنے دنیا ہے زمیندار کی صورت
بے وقت چلا آتا ہے معشوق ہمارا
لگتی ہے دعا آج کل آزار کی صورت
اب عکس بھی ہوتا نہیں مجھ تن سے برآمد
آئینہ نظر آتا ہے دیوار کی صورت
وہ روپ بتوں کا ہے نمائندہ مرے پیش
وہ زلف مرے گِرد ہے زنّار کی صورت
13
کون کنہیا رکھّے پاس
سادھو! جمنا ہوئی اُداس
بن مایہ جوگی جیون
پل چھن میں سو سو بنواس
موت کی خوشبو آن لگی
بجھ گئی کستوری کی پیاس
ٹیک لگا کر اس بت سے
من بھٹکا ہے بارہ ماس
مجھ کو لب سے سننی ہے
اس کے بدن کی ہر ارداس
شام ہوئی تو جام اٹھا
علم و حکمت سب بكواس
وجے شرما کا تعلق کلکتہ سے ہے۔ 29 مئی 1995 میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم کلکتہ میں ہی حاصل کی۔بعد ازاںسائنس میں گریجویشن کیا ۔ ادب اور سینما میں خاص دلچسپی ہونے کی وجہ سے وہ پہلے دلی اور پھر دلی سے ممبئی کا رُخ کیا۔آج کل سکرپٹ رائٹنگ میں اپنے لیے زمین تلاش کررہے ہیں۔ اب تک ان کا کوئی شعری مجموعہ شائع نہیں ہوا ہے۔
ہندوستان میں اردو غزل کہنے والی نئی نسل کے جوہر ان کے اترنگی اور انوکھے اسالیب کے ذریعے کھل رہے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس نسل کی نمائندگی ٹھیک سے ہو اور پاکستانی شعر و ادب کے ہلے میں اس کو نظر انداز کیے جانے کی کوشش کامیاب نہ ہونے پائے۔ اسی بنیاد پر ہم ایسے شاعروں کے غزل کے انتخابات کو شائع کرنے کا آغاز کررہے ہیں جو نئی نسل سے تعلق رکھتے ہیں اور جن کے شعری وجدان کی چنگاریاں اپنی جانب دیکھنے پر مائل کرتی ہیں۔ وجے شرما بھی اسی نسل کا ایک نمائندہ نام بن کر ابھرے ہیں۔ ان کی غزلوں میں لفظ اور معنی دونوں کی سطح پر ایک قسم کی نئی تجرباتی رمق دیکھنے کو ملتی ہے جوشاعری کے میدان میں ان کے بہتر مستقبل کی ضامن ہے۔ وہ غزل کی روایتی شعریات کا پاس رکھتے ہوئے بھی اپنے آس پاس کے ماحول اور بھاشا سے نئے شعری پیکر بنانے میں کامیاب ہیں۔ ہم جستہ جستہ ایسے اور بھی غزل اور نظم کے شاعروں کے انتخابات آپ کےسامنے لاتے رہیں گے۔