تماش بین

ہم ایک طلسم کے حصار میں تھے۔

اسی طرح جیسے محبت،خواب یا دکھ کے حصار میں ہوتے ہیں۔

اس کیفیت میں ہم پہلی مرتبہ تھے ،حالانکہ دوسری ساری  چیزیں معمول کے مطابق تھیں۔چھوٹا سا لان،امرود کا پیڑ،صبح دو بجے کی چاندنی،اکتوبر کے آخری دن،شبنم،سناٹا اورچہار دیواری کی منڈیر پر اونگھتی بلی۔یہ سب ہمیشہ ہی اس طلسم کا حصہ ہوتے تھے یا اسے تشکیل دیتے تھے،لیکن ہم اس کی زد میں اس طرح کبھی نہیں آئے جیسے آج تھے۔

’’میں ایک بار ماں کو دیکھ آؤں‘‘؟وہ بینچ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔

شراب کا گلاس اس نے بینچ کے ایک کونے پر رکھ دیا۔

’’تمہیں کچھ چاہیے‘‘؟

’’نہیں‘‘ میں نے سر ہلایا۔

پہلا قدم بڑھانے پر وہ ایک لمحہ کیلئے لڑکھڑائی،پھر پاؤںسنبھال کر رکھتی ہوئی اندر چلی گئی۔

میں چپ چاپ اسے جاتے ہوئے دیکھتا رہا،دھیرے دھیرے چلتی ہوئی وہ باہر والے کمرے کے اندھیرے میں گم ہو گئی۔میں نے پہلی بار محسوس کیا کہ اس طرح اچانک اٹھ جانے سے وہ اپنے پیچھے کچھ چھوڑ گئی ہے،بہت قریب کا خالی پن ۔۔۔۔۔۔۔بینچ کا ایک سونا حصہ۔

تھوڑی دیر کے بعد میں نے کمرے کی سمت نظر دوڑائی،اس سے متصل کمرے کا پردہ ہلا،وہ پھر آتی ہوئی باہر والے کمرے کے اندھیرے میں نظر آئی ۔۔۔۔۔۔۔اندھیرے کو دبیز کرتی ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔میں اسے یک ٹک دیکھ رہا تھا۔چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی ہوئی وہ باہر آئی،اس کے جسم سے منفرد روشنی پھوٹ رہی تھی،اس کے ریشمی ملائم بال کھلے تھے،اس کا  چھوٹا سا بدن ،اس کے چھوٹے چھوٹے عضو اس روشنی کے ہالے میں تھے،پاؤں ۔۔۔۔ہتھیلیاں ۔۔۔گردن۔۔۔۔۔چہرہ۔

وہ بینچ پر اپنی پرانی جگہ پر بیٹھ گئی،گلاس اس نے پھر ہاتھ میں لے لیا،کچھ دیر تک گہری سانسیں لیتی رہی،پھر مجھے دیکھ کر مسکرائی۔

’’دیر ہو گئی‘‘؟

’’نہیں،لیکن اندر کیاتھا ‘‘؟

’’اتنی رات میں کیا ہو سکتا ہے ،سوائے سونے کے۔میں نیند کی گولی رکھ آئی تھی ،وہی دیکھنے گئی تھی کہ کھائی یا نہیں‘‘

’’پھر‘‘

’’کھا لی‘‘

میں خاموش ہو گیا ۔ میں نے دیکھا کہ اس کے چہرے کی جلد طبلے کے چمڑے کی طرح چست اور کھنچی ہوئی تھی۔یہ کیفیت صرف شراب نوشی کے بعد ہوتی تھی۔تشنج کی اس حالت میں اس کی سرخی اوراس کے خال و خط نمایاں ہو جاتے تھے ، نسیں چمک اٹھتی تھیں اور ایسا محسوس ہوتا تھا گویا پوری جلدہی سانس لے رہی ہو۔

اس کے بدن میں ایک بار اور کپکپاہٹ ہوئی۔اس کے پیرشبنم آلود گھاس پر تھے،اوس گرنے سے سردی بڑھ رہی تھی،اس نے پیر اٹھا کر بینچ پر رکھ لئے۔

’’ڈھک لوـ‘‘۔میں نے اسے اپنی چادر کا  ایک کونا پکڑا دیا۔

’’یا اندر چلیں‘‘؟

وہ کچھ نہیںبولی،چادر کے اس کونے میں اس نے اپنے پیرچھپا لئے۔وہ بینچ پر ہی تھوڑا گھوم کر بیٹھ گئی،اب اس کا ننھا چہرہ میرے سامنے آئینہ تھا۔گھٹنے موڑے ہوئے وہ میرے سامنے بیٹھی تھی لیکن ہمارے درمیان خاموشی کا پردہ حائل تھا ۔

’’بتاؤ !زندگی کے فیصلے کس طرح کرنے چاہئیں‘‘؟۔تھوڑی دیر بعداس نے مدھم لہجہ میںپوچھا ۔

’’کیسے فیصلے‘‘؟۔میں نے پوچھا

’’ایسے فیصلے جن پر مکمل زندگی منحصر ہو یا جن سے زندگی میں تبدیلی آنا یقینی ہو۔‘‘

میں چپ رہا،میں نے سر گھما کر دیکھا،منڈیر پر بلی نے انگڑائی لی،دور کسی درخت پر ایک پرندہ چیخا،میں نے پھر اس کی جانب دیکھا،اس کی نظریں مجھ پر مرکوز تھیں،میں نے ایک انگلی چادر کے نیچے چھپے اس کے پیر پر رکھی،اس کی ابھری نس میں نے اپنی انگلی پر محسوس کی،میں نے اس ابھری نس پر دھیرے دھیرے انگلی پھیری،اس کی آنکھوں میں ایک اداسی اتر آئی،اداسی کی یہ دھند لمس کا نتیجہ قطعی نہیں تھی بلکہ اس چمک کے غائب ہونے کی وجہ سے تھی جو اس کے بدن میں پائی جاتی تھی۔

’’ایسے مبہم فیصلے کبھی روح سے نہیں لینے چاہئیں، اسے صرف تماش بین کی حیثیت سے رہنے دو۔‘‘

’’کیوں؟‘‘اس نے سر اٹھا کرمجھے دیکھا۔

’’دو وجہیں ہیں ،اول تو یہ کہ روح کو کبھی ایسے فیصلوں کی ضرورت نہیں پڑتی،کیونکہ اسے کبھی شک نہیں گزرتا،زندگی کے دیگر معاملات کو اس کی ضرورت ہوتی ہے۔شک و تردد عقل کو ہوتا ہے،شعور کو ہوتا ہے،زندگی سے کشید کئے ہوئے تجربات کو ہوتا ہے۔شک اور روح کا بیک وقت اجتماع نہیں ہو سکتا،کیونکہ وہ اس کا فطری سچ نہیں ہے،یا یوں کہہ لو کہ جہاں روح کی شمولیت نہیں وہاں شک کا بول بالا ہوتا ہے۔درحقیقت وہ تمہارے اندرکا دیر پا سچ نہیں ہے،تم اسے منتخب کر رہے ہو۔دوسری وجہ یہ ہے کہ کبھی ایسے فیصلے غلط بھی ثابت ہوئے تو وہ دکھ نہیں ہوگا  جو پوری زندگی کو ایک گہرے اندھیرے غار میں ڈھکیل دیتا ہے۔روح اس وقت بھی آزاد ہو گی،ان غلط فیصلوں کے نتائج میں وہ صرف گواہ اور تماش بین ہو گی ۔۔۔۔۔۔ڈرامہ کے ناوابستہ کرداروں پر تالی بجاتی ہوئی۔۔۔۔۔۔‘‘۔

وہ خاموش رہی،اس نے اپنے پیر کی انگلیوں کو جنبش دی۔اپنی نس پر رینگتی ہوئی میری انگلی اس نے انگلیوں کے بیچ دبا لی،اس کی آنکھوں میں نمی اتر آئی۔وہ اب زندہ مچھلی کی طرح لگ رہی تھی،اس کی انگلیوں کا شکنجہ مضبوط ہو رہا تھا گویا وہ میری انگلی توڑ دینا چاہتی ہو،دھیرے دھیرے اس کے ہونٹ وا ہوئے،میں نے پہلی بار دیکھا کہ ہونٹ بھی اداس ہوتے ہیں۔میں نے اپنی انگلی کھینچ لی،میرا گلاس خالی ہو گیا تھا،اسے میں نے نیچے گھاس پر رکھ دیا۔

’’میں چلوں گا۔‘‘میں نے کہا

’’ابھی نہیں،رکو۔‘‘وہ تھوڑا آگے کی طرف جھک گئی،کچھ پل میں بیٹھا رہا،میں اس کے دائرہ نگاہ میں تھا۔

’’کب تک؟‘‘

’’جب تک بلی منڈیر پر ہے‘‘۔

میں نے منڈیر کی طرف دیکھا،بلی اس پر چپکی گہری نیند میں تھی،شاید اسے صبح تک وہیں سونا تھا۔

میں نے گھاس پر رکھا گلاس اٹھا لیا، تھوڑی سی شراب بنائی،اس نے سر جھکا کر اپنے گلاس سے ایک گھونٹ بھرا۔

’’تو روح کو تماش بین ہونا چاہیے،زندگی کے ڈرامہ کی تماش بین‘‘۔اس نے کہا۔

اس کی آواز اب بھاری ہو گئی تھی۔پتہ نہیںٹھنڈ سے ،شراب سے یا پھر اندر کی سیال اداسی سے۔

’’ہاں !جب ایسے فیصلے کرنے ہوں‘‘

’’کیا یہ ممکن ہے؟‘‘

’’ہاں‘‘

’’آسان ہے؟‘‘

’’ہاں‘‘

’’نہیں ،زندگی میں اتنا حساب کتاب نہیں چلتا،تم کر پائے کبھی ایسا؟‘‘

’’کیا؟‘‘

’’وہی ،ایسا کوئی فیصلہ جس پر تمہاری پوری زندگی کا انحصار ہو،روح کی شمولیت کے بغیر اسے صرف تماش بین بنا کر۔‘‘

میں نے سنا اور بالکل اسی پل میرے اندرون میں ایک نقطہ چمکا، اورپھراپنی تابانی کے ساتھ شریانوں میں گردش کرنے لگا ،گہرا خیال بن کر ۔۔۔۔۔۔۔بے قابو خواہش بن کر۔۔۔۔۔۔۔

میں حیران تھا یاکہ دم بخود ۔جسے ہم اپنی زندگی کہتے ہیں،جسے غیر مرئی حالات سے تعمیرلیکن انتہائی مانوس پناہ مانتے ہیںوہ درحقیقت کتنی نا مانوس،پراسرار اور ناقابل اعتماد ہے۔

’’بتاؤ‘‘اس نے پھر پوچھا ۔

اس کی نظریں مجھ پر جمی ہوئی تھیں،میں نے اسے غور سے دیکھا،لیکن اس بار صرف ایک جسم کے زاویہ سے جائزہ لیا،اس چاندنی میں ،اس طلسم میں اترا ہوا ملائم،مختصر اور دودھیاسفیدی سے روشن ایک جسم۔اس کے ہاتھوں کے سنہرے روئیں،اس کے پیروںکی ننھی انگلیاں،اس کی سفید گردن،اس کی طبلے جیسی چست جلد اور اس پر چھایا ہواا شہوت انگیز خوشبوؤں کا ایک جنگل۔

مجھے معلوم تھا کہ وہ پچھلے چار برس سے شادی کی پیشکش کی منتظر ہے ۔۔۔۔۔خاموش۔۔۔۔پرسکون۔۔۔۔۔ اور مہر بہ لب۔

ہمارے سارے شناسا حیران تھے کہ ہر طرح سے مناسب اور پرخلوص نظر آنے والی لڑکی کے سلسلہ میں اب تک میں نے کوئی حتمی فیصلہ کیوں نہیں کیا تھا۔مجھے بھی نہیں معلوم تھا کہ میں نے کیوں غفلت برتی۔مجھے یہ بھی احساس تھا کہ وہ بہت شدت اور گہرائی سے مجھ سے محبت کرتی ہے۔غالباً یہ اسی انتہائی محبت کا معجزہ تھا کہ آخر کارکسی بھی ردعمل یا توقع سے بے نیازوہ خاموش ہو گئی تھی۔میں اسی طرح کبھی کبھی اس کے ساتھ بیٹھتا تھا،میں نے اس کا مستقبل پڑھنے کے لئے صرف ایک بار اس کی ہتھیلی چھوئی تھی ،مجھے اس کی جلد کا وہ لمس ہمیشہ یاد رہا،اس آنکھوں میں چمکنے والااس ایک پل کا سکون یا خواب بھی۔

عین اسی لمحہ وہی لمس میرے اندر ایک پرندے کی طرح پھڑپھڑاتا ہوا اچھلا تھا۔رضامند اور شہ دیتا ہوا س کا پورا جسم میرے سامنے تھا،اس کے جسم کا خیال،اس کی شدید خواہش اسی جادو کا اثر تھی۔اس نے پوچھا تھا کہ میرا وہ فیصلہ جس پر میری زندگی کا انحصار ہواور جس میں روح کی حیثیت صرف گواہ کی ہو اور وہ محض ڈرامہ کی تماش بین بن کر تالی بجائے،میں نے کب لیا،وہ یہی تھا۔

اس کا جسم چھونے کا مطلب تھا اس کے سارے خوابوں ،ساری خواہشوں کو بال وپر دینا،ایک نئے تعلق کو جنم دینا،اس کی توقعات ،اس کے اختیارات، اوراس کے وجود کی سچائی کوتسلیم کرنا،اس کے تخیلات و تصورات کو متحرک کرنا اور ایک غیر منکشف جنین کو زندگی کی روشنی دینا تھا۔ممکن تھا جسم سے حصول لذت کے بعد ہمارے درمیان صرف امیدیں باقی رہ جائیں ،اس کا بھی امکان تھا کہ صرف بے رحم اور سفاک ردعمل سانس لیتے رہیں ،یہ بھی احتمال تھا کہیں یہ رشتہ ہی اپنی کشش نہ کھو  بیٹھے۔

یہ ایک مشکل فیصلہ تھا،یہ ہم دونوں کی زندگی میں ایک ایساشگاف(خلا)پیدا کرسکتا تھا ،جس کے دوسری جانب ایک دوسری دنیاآباد تھی اور اس دنیا میں قدم رکھنا قطعی میرا مقصد ومنشانہیں تھا۔وہ دنیا میری آرزو،میری فطرت اور میری اصلیت نہیں تھی۔میری روح واقعتا اس کے لئے آمادہ نہیں تھی،ایک جانب تومیری خواہشات،میرے شکوک و شبہات اور میرا جوش و خروش اوردوسری طرف میری روح کے ناوابستگی اور بے نیازی کا یہ عالم؟کیایہی وہ تصادم ،کشمکش اور دوئی تھی جس کا سوال وہ مجھ سے کر رہی تھی؟ اور جس کا  اظہار میں نے ابھی ایک فلسفہ کی طرح کیا تھا۔

’’تو‘‘۔اس نے پوچھا

’’ہاں میں نے ایسا فیصلہ کیا ہے‘‘۔میں نے کہا

میری آواز مدھم تھی،انتہائی مدھم،اس میں میری روح کی قوت نہیں تھی ،صرف جسم کی شہوت انگیز پھسپھساہٹ تھی۔

’’‘کیا؟‘‘

’’پھر کبھی‘‘۔میں نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا،بے تکلف وبے اختیار وہ مسکرائی۔اپنی ننھی سی ہتھیلی اس نے میری پاؤں میں رکھ دی،میں نے اسے دبایا،اس نے میری آنکھوں میں دیکھامیرے پیر کے نیچے اس کی ہتھیلی معمولی پرندہ کی طرح پھڑپھڑائی۔اس کے چہرے پر دھیرے دھیرے آسودگی اور سکون کی چادر چھانے لگی،اس کے چہرے کی چست جلد ڈھیلی پڑنے لگی۔

مجھے یقین تھا کہ وہ مکمل طور پر آمادہ ہو چکی ہے،میں نے آہستہ سے اسے اپنی طرف کھینچا۔

’’رکو‘‘۔اس نے کہا۔

وہ گھاس پر کھڑی ہوئی۔اپنے گلاس کی بچی ہوئی شراب اس نے ایک ہی سانس میں حلق میں انڈیل لی،گلاس گھاس پر لڑھکا کر وہ میرے پاس بیٹھ گئی۔

’’بلی اٹھنے والی ہے‘‘۔اس نے  منڈیر کی طرف اشارہ کیا اور میرے سینے میں دبک گئی۔میں نے اس کے کان پر سے بالوں کو ہٹا کر اس پر اپنی زبان پھیری۔

’’یہ بات یاد رکھنا!اس سے پہلے بھی ہمارے بیچ کچھ نہیں تھا اس کے بعد بھی کچھ نہیں ہوگا۔بس یہی،اتنی دیر کا سچ ہے جتنی دیر اسے ہم جئیں گے،بالکل اتنا ہی،پیدا ہوا اور مر گیا‘‘۔

مجھے اپنی آواز پہلی بار کمزور ،بے جان  اور کانپتی ہوئی محسوس ہوئی۔مجھے یہ بھی لگا کہ زندگی کے جس حصے میں روح نہیں ہوتی،وہ حصہ زندگی کا صرف سایہ اورعکس محض ہوتا ہے۔

اس نے اپنا سر اوپر اٹھایا،اس کی آنکھیں میری آنکھوں سے قریب تھیں ۔۔۔۔۔بالکل قریب ۔۔۔۔۔۔مجھے ان کا کتھئی پن نظر آرہا تھا،چاندنی اس کے چہرے پرچھٹک رہی تھی،ہونٹ نم تھے،کپکپاتی اوس اس کی ابھری ہوئی نسوں پر تھی،اس نے کچھ لمحے مجھے دیکھا،اس نظر میں ایک طویل شیریں حکایت تھی،کائنات کے سارے اسرار تھے،زندگی کے سارے نادیدنی اورمخفی ذرات پنہاں تھے۔اس نظر میں لمحہ بھر کے لئے پانی اترا۔اس میں ویسی ہی تھرتھراہٹ تھی جیسی شاخ سے ٹوٹ کر گرتے ہوئے پتے میں ہوتی ہے۔نظر کا وہ پانی پھر اڑ گیا۔وہاں محبت اتر آئی۔۔۔۔۔۔ نشہ سے مخمور ۔۔۔۔۔۔۔خواہش کی چمک  سے معمور۔۔۔۔۔۔انفرادیت سے بھرپور۔۔۔۔۔۔

وہ مسکرائی،میں نے کہا نا !یہ اس کی آمادگی اور رضا مندی کا اشارہ تھا،مجھے معلوم تھا کہ یہی ہونا ہے،مجھے یقین تھا کہ میرا کوئی بھی سکھ اس کے لئے قابل قبول ہوگا۔

اس نے میرے سینے میں اپنا سردے دیا۔

’’یہیں‘‘۔اس نے سرگوشی کی۔’’اسی جادو میں۔‘‘

میں نے اس بار اس کے ہونٹوں کی نمی  پر زبان پھیری،مجھ سے الگ ہو کر وہ بینچ پر لیٹ گئی۔اس پر جھکنے سے پہلے میں نے منڈیر کی طرف دیکھا،وہاں اب بلی نہیں تھی،وہاں اب میری روح بیٹھی ہوئی تماش بین کی طرح تالی بجارہی تھی۔میں نے اس کی بند ہوتی آنکھوں میں دیکھا،اس کی روح وہیں تھی۔

اس کے سات مہینے بعد اس نے شادی کر لی

اس رات سب کچھ جلدی ختم ہو گیا تھا۔میں ناتجربہ کار تھا،مجھے نسوانی جسم کے اصول وضوابط،اس کی ہئیت اور ساخت،اس کی لے اور اس کے نشیب و فراز کا اندازہ نہیں تھا۔اس نے مجھے برداشت ہی کیا تھا بس۔جانے سے پہلے میں نے ایک بار پھر اپنے خوف سے آزادی چاہی تھی۔

’’جتنی دیر بھی ہم ساتھ تھے ،سمجھ لو کہ یہ وقت ہم نے یک غار میں گزاراہے،جسم کا یہ غار ہمارا سچ نہیں ہے،اس کے باہر کی دنیا،اس کی ہوا روشنی سچ ہے‘‘۔

اس نے مجھے چپ چاپ دیکھا تھا ایک بار،پھر جھک کر گھاس پر پڑے ہوئے دونوں گلاس اٹھا لئے تھے۔

’’جاؤاب‘‘۔اس نے دھیرے سے کہا تھا،میںچلا آیا تھا۔

اس کے بعد پھر دو مرتبہ اس سے ملاقات ہوئی لیکن ہمارے درمیان اس رات کا کوئی ذکر نہیں آیا۔

اسی کے بعد اس نے شادی کرنے کا فیصلہ کر لیا۔مجھے کوئی حیرت نہیں ہوئی ،اسےایک مرد کی ضرورت تھی اور اس کی بیمار ماں کو بھی۔ لڑکے کے سامنے اس نے ایک ہی شرط رکھی کہ وہ شہر کبھی نہیں چھوڑے گی،اسے معلوم تھا کہ میراارادہ زندگی بھر اسی شہر میں رہنے کا ہے۔

شادی کے بعد ماں کو وہ اپنے ساتھ نئے گھر لے گئی تھی،میں اس کے نئے گھر کبھی نہیں گیا تھا،اس نے بلایا بھی نہیں،شادی کے بعد مہینوں تک وہ کہیں نظر نہیں آئی۔

ہم دونوں اپنی اپنی زندگی الگ الگ طریقہ سے بسر کر رہے تھے۔

میں نہیں جانتا کہ دکھ کا سرچشمہ کہاں ہے،کس طرح وجود میں ا ٓتاہے اور کیسے معدوم ہو جاتا ہے اس کی وسعت و حکمرانی کے دائرہ کابھی مجھے علم نہیں۔لیکن ہاں !سردیوں کی اس دوپہر کو ایک ننھے سے دھوپ کے ٹکڑے سے میرا وہ دکھ پیدا ہوا ۔۔۔۔۔۔خاموش۔۔۔۔۔پاکیزہ۔۔۔۔۔۔تابندہ۔۔۔۔۔

میں چھت پر تھا،میرے پیروں کے پاس سوپ کی شکل کا دھوپ کا ایک ٹکڑا تھا،چھت کے ایک کونے میں کپڑے سوکھ رہے تھے،چھت پر پودے تھے،چڑیاں تھیں،اناج کے دانے تھے،رکا ہوا پانی تھا،میری آنکھوں کی قید میں نیلگوں چمکدارا آسمان تھا۔ اس کے نیچے سنہری دھوپ تھی۔۔۔۔۔۔ہلکی ہلکی کانپتی اور آنچ دیتی ہوئی۔۔۔۔۔اس سنہرے پن سے دورمل کی ٹھنڈی چمنی تھی،چرچ کا مینار تھا،کوتوالی کی گھڑی تھی،پرانی عمارتیں تھیں،ان کی وسیع و عریض چھتیں،سو سال پرانی دیواریں ،نقش و نگار سے مزین کھڑکیوں کے دریچے تھے،ابھرے پتھروں پر کندہ نام تھے،اس سے بھی پرانے پیڑ تھے،ان کی شاخیں تھیں،خاموشی کا لا متناہی سلسلہ تھا،فطرت کی ناقابل تسخیراور وسیع حکمرانی کااحساس تھا،اور اس میں ننھی سی کشتی جیسا تیرتاہوا میرا وجود تھا۔

میں اس پورے منظر نامہ میں یکا و تنہاتھا۔میری نظرمعمول سے ذراہٹ کر ان سب چیزوں کا جائزہ لے رہی تھی۔میں ان نظاروں میں محو تھا کہ عین اسی وقت میری خود کلامی ،وجود و ذات کے تحرک و تھرتھراہٹ اور روح کے لمس سے اس دکھ نے جنم لیا۔ مراقبہ،تطہیروتزکیہ، ناوابستگی اور شدید تنہائی سے بنے دکھ کی وجہ سے میری بصارت کا دائرہ سیع ترہو رہا تھا۔

میں خود اپنی نظر کی زد میں تھا،ہلکی خشک سی کھال،بوجھل آنکھیں،افسردہ چہرہ،مضمحل شریانیں،خوابیدہ احساسات،ایک پرانی غیر متعلق غیر ضروری زندگی ہی میرا کل سرمایہ تھی۔لیکن عجیب بات ہے کہ آگہی کا یہ دکھ تکلیف دہ نہیں  تھا،اس میں درد اور اذیت نہیں تھی ۔اس سے نجات پانے کی بے چینی بھی نہیں تھی۔البتہ اسے خود تک آنے دینے اور اسے ملبوس کرلینے کی سرشاری ضرور تھی۔

ٹھیک اسی پل مجھے چھیلتی اور آتش دان  کی طرح دہکاتی ہوئی ایک شدید قسم کی تڑپ کے ساتھ اس کے فسوں کار جسم کی یاد آئی۔مجھے لگا کہ اس پوری کائنات اور مکمل تخلیق میں،اس دھوپ اور چھت کی تنہائی میں اورخود ساختہ ہجرت کی بے کسی میں مجھے اس کے جسم کی اشد ضرورت ہے۔اسی لمحہ مجھ پر ایک نیا انکشاف ہوا اور وہ یہ تھا کہ گہرے دکھ میں نسوانی جسم ایک پناہ ہے،چولہے کی آنچ میں جیسے کوئی کچی چیز پختہ ہوتی ہے اس  طرح مرد کے مجروح و منتشر وجود کو وہ جسم سنبھالتا ہے۔دھیرے دھیرے اپنی آنچ میں پھر سے پکا کر زندگی دیتا ہے۔نسوانی جسم کتنی مرتبہ ،کتنی طرح سے چپ چاپ مرد کو زندگی دیتا ہے،اس کا احساس مرد کو نہیں ہوتا۔

میں نیچے اتر کر آیا۔میرے پاس اس کا فون نمبر تھا۔اس بیچ اسے دیکھے یا بات کئے ہوئے کافی لمبا عرصہ گزر گیا تھا۔کچھ دیر گھنٹی بجنے کے بعد اسی نے فون ریسیو کیا۔

’’کیسی ہو تم؟‘‘

’’‘تم؟‘‘

’’میں ٹھیک ہوں ،آنا چاہتا ہوں‘‘۔میں نے کہا۔

اس نے لمحہ بھر توقف کیا،پھر بولی۔

’’کیا ہو گیا؟‘‘

’’کچھ نہیں‘‘

’’پھر؟‘‘

’’بس چاہتا ہوں‘‘

’’کب؟‘‘

’’ابھی ،اسی وقت‘‘

وہ کچھ دیر خاموش رہی ،پھر بولی۔

’’رکو ،میں دیکھ لوں ذرا‘‘۔اس نے فون رکھ دیا۔کچھ دیر بعد وہ پلٹ کر آئی۔

’’تمہیں گھر معلوم ہے؟‘‘

’’ہاں،اور بقیہ لوگ کہاں ہیں؟‘‘

’’ماں پیچھے آنگن میں لیٹی ہے‘‘

’’اور؟‘‘

’’وہ باہر ہے،رات تک واپس آئے گا‘‘

’’میں آ رہا ہوں ‘‘

میں نے فون رکھ دیا۔

میں پہلی بار اس کے گھر گیا،دو سیڑھیاں چڑھنے کے بعد پیچھے تک پھیلا ہوا دوپہر کا سناٹا تھا،ہو کا یہ عالم تھاکہ باہر ہوا میں اڑتے پتوں کے دوڑنے کی آواز آ رہی تھی۔

دروازہ اسی نے کھولا،چند ثانئے مجھے دیکھا ،پھر دروازہ سے ہٹ گئی،میں اندر آیا۔

کمرہ میں اندھیرا تھا،اوپر کے روشن دان سے ایک کرن آ رہی تھی،وہ اوپر ہی اوپر تھی،اس کے نیچے اندھیرا تھا،وہ مجھے اور اندر کے کمرہ میں لے گئی،اس کے سونے کے کمرہ سے پہلا کمرہ،چھوٹا سا ایک حصہ تھا،فرش پر بیٹھنے کا انتظام تھا۔۔۔گدا۔۔۔کشن۔۔۔قالین۔۔۔۔۔کونے میں لیمپ جل رہا تھا،اسی کی روشنی تھی۔

’’بیٹھو ‘‘۔اس نے اشارہ کیا۔

میں ٹیک لگا کر بیٹھ گیا،وہ بھی پاس بیٹھ گئی۔

’’کچھ لوگے؟‘‘

’’نہیں‘‘

’’کیا ہو گیا؟‘‘

’’کیوں؟‘‘

’’بس یونہی اس طرح اچانک؟‘‘

میں نے اسے غور سے دیکھا،اس کا چہرہ تھوڑا سوج گیا تھا،جلد کی چمک ہلکی ماند پڑ گئی تھی،جسم ذرابھاری ہو گیا تھا۔

’’کوئی آئے گا تو نہیں؟‘‘میں نے پوچھا۔

اس نے مجھے ایک بار دیکھا۔

’’نہیں‘‘

’’بند کردو‘‘۔میں نے لیمپ کی طرف اشارہ کیا۔

وہ اٹھی اور لیمپ بجھا دیا،پھر میرے پاس آ کر بیٹھ گئی۔میں نے اس کی وہی ننھی ہتھیلی اپنے ہاتھوںمیں دبا لی،اسے میں نے کھینچا،اس کا چہرہ میرے بالکل پاس آ گیا۔

’’اسی غار میں چلیں‘‘۔میں اس کے کان میں سرگوشی کی۔

وہ خاموش رہی،اس نے سر اٹھایا،میری آنکھوں میں دیکھا،اس اندھیرے میں بھی واضح طور پر دیکھ رہا تھا کہ اس کی روح اس رات کی طرح پھر اس کی آنکھوں میں تھی۔میری قالین کے ایک کونے پر اکڑی ہوئی بیٹھی تھی۔

اس کے بعد چھ برس گزر گئے۔

ایک دن وہ مجھے  مارکیٹ میں ملی۔

اس کے ساتھ ایک چھوٹا بچہ تھا،وہ دبلی ہو گئی تھی،اس کا چہرہ بے کیف (بے رنگ۔۔بے نور)ہو رہاتھا،اس نے بتایا کہ اس کی ماں کا انتقال ہو گیا،’وہ‘ اکثر باہر رہتا ہے۔

’’یہ کب ہوا؟‘‘۔میں نے بچہ کی طرف اشارہ کیا۔

’’دیکھ سکتے ہو‘‘۔وہ آہستہ سے ہنسی،اس کی ہنسی کے ساتھ ہی تیز بو پھیلی

’’تم نے شراب پی ہے؟‘‘میں نے حیرانی سے پوچھا

’’تھوڑی سی،ڈاکٹر سے پوچھ کرــ‘‘۔اسے سانس لینے میں بھی دشواری ہو رہی تھی ،وہ ہانپ رہی تھی۔

’’روزانہ پیتی ہو؟‘‘

’’ہاں‘‘

’’سارا دن؟‘‘

’’نہیں‘‘

’’کیوں؟‘‘

اس نے منہ پھیر لیا۔

’’چلوں گی‘‘۔اس نے بچہ کا  ہاتھ پکڑ لیا۔

’’تم ٹھیک تو ہو؟‘‘ ۔چلنے سے پہلے اس نے سوال کیا،میں خاموش رہا۔اس نے ایک بار مجھے دیکھا پھر بچے کا ہاتھ پکڑ کر چلی گئی۔

تین سال بعد وہ پھر ملی۔

دوسرے شہر کی ایک شادی میں۔

ان تین برسوں میں اس نے بس ایک بار مجھے اپنے بچہ کی سال گرہ پر بلانے کے لئے فون کیا تھا،لیکن میں نہیں گیا تھا۔

شادی کی تقریب سے ہم ساتھ لوٹے تھے،ان دنوں ٹرین میں دو برتھ والا فرسٹ کلاس کا  کیبن ہوتاتھا،میں نے رشوت دے کر ایک کیبن ریزرو کروا لیا تھا،اسٹیشن پر ہی وہ مجھے مل گئی تھی،اس کا بچہ اب بڑا ہو گیا تھا،بولنے لگا تھا،وہ مضبوطی سے اس کا ہاتھ پکڑے تھی،ہمارا سفر پوری رات کا تھا۔

کیبن میں ہم بیٹھ گئے،کچھ ہی دیر میں ٹرین نے اسٹیشن چھوڑ دیا ،میں نے کیبن ا ندر سے بند کر لیا۔

’’تم نے کچھ کھایا؟‘‘۔میں نے پوچھا

’’ہاں‘‘۔اس نے بچہ کو کپڑے سے ڈھکتے  ہوئے جواب دیا۔

کھڑکی سے تیز ہوا آ رہی تھی۔اکتوبر کے ہی دن تھے۔رات ہو چکی تھی۔اس نے برتھ کے سب سے کنارے بچہ کولٹا دیا،اس کے بعد وہ بیٹھی تھی،پھر میں تھا،بچہ ہاتھ پیر چلا رہا تھا،وہ اسے تھپکی دیتے ہوئے اس سے بات کر رہی تھی۔

’’یہ کب سوتا ہےــ؟‘‘میں نے پوچھا ۔

’’ابھی سو جائے گا۔‘‘

میں نے کھڑکی سے باہر دیکھا،کھیتوں کے پار چاند نکلنا شروع ہو گیا تھا۔۔۔۔۔ایک دم سرخ۔۔۔مکمل دائرہ جیساچاند شہروں میں نظر نہیں آتا تھا۔

’’دیکھو‘‘۔میں نے اس کا شانہ ہلایا،اس نے سر گھما کر چاند کو دیکھا اوردیر تک دیکھتی رہی ۔اس کا جسم میرے جسم کو مس کر رہا تھا،میں دیکھ رہا تھاکہ اس کے جسم کی تابانی زائل ہو چکی ہے اور بہت تیزی سے اس کا جسم گھل رہا ہے۔

’’تم ٹھیک نہیں ہو۔‘‘میں نے کہا

’’کیوں؟‘‘

’’بہت کمزور ہو چکی ہو۔‘‘

’’ہاں!بہت بوجھ ہے،ماں کے بعد کوئی نہیں ہے ،’وہ‘ ہمیشہ باہر رہتا ہے،بچہ بھی بڑا ہو رہا ہے۔

’’ان باتوں سے جسم ایسا نہیں ہوتا ،تم کثرت سے شراب نوشی کر رہی ہو۔‘‘

’’ہاں وہ بھی ہے‘‘۔وہ نرمی سے ہنسی۔

ایک ہاتھ سے وہ مسلسل بچے کو تھپکیاں دے رہی تھی،اس کا  دوسرا ہاتھ میں نے اپنی ہتھیلی میں دبا لیا،اس کی چھوٹی  ملائم انگلیوں کی ہڈیاں ابھر آئی تھیں،میں انہیں سہلاتا رہا۔

’’تم ایسا کیوں کرتی ہو؟‘‘میں نے دھیرے سے پوچھا ،وہ کچھ نہیں بولی۔

’’ہم اپنی زندگی ایک منفرد انداز سے بسر کر سکتے تھے نا؟‘‘کچھ دیر بعد وہ گویا ہوئی۔

’’لیکن اس رات تم خوف زدہ ہو گئے تھے تبھی تم نے وہ فلسفہ بگھارا تھا‘‘۔

میں نے سر گھما کر دیکھا ،اس کا چہرہ دھندلا تھا،کیبن کے اندرمکمل اندھیرے کی حکمرانی تھی،چاند تھوڑا اوپر آ گیا تھا،اس کی سرخی ختم ہو گئی تھی،اس کی روشنی کیبن کے ایک حصہ میں تھی،اسی روشنی میں اس کا چہرہ نظر آ رہا تھا۔۔۔۔۔پیشانی کی سلوٹیں ۔۔۔۔۔۔۔اس کے کانوں پر گرے بال۔۔۔۔۔اداس تھکی تھکی آنکھیں۔

’’ زندگی میں اس قدر اور اس طرح میںکبھی نہیں روئی جتنا اس رات روئی۔۔۔۔ماں کے مرنے پر بھی نہیں۔۔۔۔۔تمہارے جانے کے بعد میں نے پورے کپڑے پہنے،باہر نکلی اور سنسان سڑکوں پر گھومتی رہی ،میرے آنسو بہہ رہے تھے،میں سڑکوں پر بدحواسی کے عالم میںبے اختیار روتی ہوئی تیز قدموں سے چل رہی تھی،ہوا میں کپڑے لہرا رہے تھے،بال بکھر گئے تھے،چاند،شبنم کی ٹھنڈک اور گھروں کی دیواروں کے نیچے پھیلے اندھیرے کے گچھے (گولے)پاؤں پسارے پڑے تھے۔کوئی مجھے اس وقت دیکھتا توایک آوارہ اور بد چلن لڑکی سمجھتایا پھر پاگل۔مجھے یاد ہے کہ اس رات میری حالت دونوںسے مشابہ تھی۔عین اسی وقت اوپر سے ایک جہاز گزرا،اسی پل ایک کتا منہ اٹھا کر رویا،اسی لمحہ میرا پیر جلی ہوئی راکھ پر پڑااور اسی گھڑی میں نے طے کیاکہ شادی کر لوں گی۔اسی ثانیہ میں نے یہ فیصلہ بھی کیا کہ روح کو اس سے الگ رکھوں گی جیسا تم نے بتایا تھا،یہ شک و تردد کا فیصلہ تھا،اچھا ہے کہ پہلے ہی اسے الگ کر دو۔اس رات جب میں گھر لوٹی تو سب کچھ میرے سامنے عیاں تھا،سارے حقائق منکشف تھے۔۔۔۔غار کے۔۔۔۔۔روح کے۔۔۔ماں کے مستقبل کے۔۔۔۔‘‘

وہ سانس لے کر چپ ہو گئی،اس کی انگلیاں میری انگلیوں میں کانپ رہی تھیں،ہلکی سی پسیج بھی گئی تھیں۔

میں کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا،کھڑکی کے باہر سب سفیدی میں ڈوب چکاتھا۔۔۔۔۔جھونپڑے۔۔۔۔۔مویشی۔۔۔۔کھیت۔۔۔کنویں۔۔۔۔۔نہر۔۔۔۔۔تھرتھراتے پل۔۔۔۔

میں یک ٹک باہر دیکھتا رہا۔

زندگی اورموت،محبت اور خواب،فتح وشکست سے ہی سارا عالم عبارت ہے ،مکمل تاریخ انہیں کی ہے۔سب کی اپنی اپنی حکمرانی ہے،ان کے معانی و مطالب اور وسعتیںہیں۔کس کو زندگی میں کیا ملتا ہے اور کیوں نہیں ملتا یہ ایک گہرا راز ہے۔جس کی تعریف لفظوں کی گرفت میں نہیں آ سکتی ۔۔۔۔۔۔جس کے بیان کا یارا زبان کو نہیں۔

میرا خوف اور اس کا سکون واطمینان تقریباً ہم معنی تھے ،اس کی روح اور میرے جسم کے حقائق ایک تھے،میرے خوف اور اس کے خوف کی منطق،اس کی طمانیت اور اس کی طمانیت کی منطق ایک ہی دائرہ میں گردش کر رہی تھی۔میں قصوروار تھا یا وہ؟یا ہمارے درمیان  پھیلا ہوا کائنات کا وہ ازلی ابدی اسرارجو دو روحوں کو ایک دوسرے میں ضم نہیں ہونے دیتا؟یہ کیوں ہوتا ہے؟کیوں اتنی مختصر سی زندگی آسان اورمعین اصولوں پر کاربند  نہیں ہوتی؟ایک لمحہ کا سو واں حصہ بھی کیوں ہزاروں لوگ مختلف طریقوں سے بسر کرتے ہیں۔روح اور جسم کے فارمولے کیوں ریاضی کے فارمولوں کی طرح مسلم و معروف نہیں ہوتے؟

اس کا دوسرا ہاتھ میری ہتھیلی پر آیا،میں نے سر گھما کر دیکھا ،اس نے بچے کو تھپکی دینابند کر دیا تھا۔

’’سو گیا‘‘۔وہ دھیرے سے بولی۔

ا س کی نم انگلیاں میری انگلیوں سے پھسل گئیں ،وہ برتھ سے اٹھ کھڑی ہوئی اور بچے کو برتھ کے بالکل کنارے لٹا دیا،برتھ پر کافی جگہ بن گئی تھی۔

وہ واپس نہیں بیٹھی،میرے سامنے آ کر کھڑی ہو گئی،اس نے ہاتھ بڑھا کر میرا چہرہ اپنی ہتھیلیوں میں دبایا،میرے کانوں کو سہلایا،میرے سر کو پھر اپنے سینے میں چھپالیا،میں دیر تک اسی طرح دبکا رہا،میرے کانوں پر دو گرم بوندیں گریں،اس نے میرا سر خود سے الگ کیا۔اسے اوپر اٹھا کر میری آنکھوں میں دیکھا۔

’’اسی غار میں چلیں؟‘‘اس نے پوچھا۔

اس کا چہرہ ابھی اندھیرے میں تھا،اس کی آنکھوں کی نمی صاف نظر آ رہی تھی،میں نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا۔

برتھ پر وہ لیٹی توپوری چاندنی اس کے چہرے پر تھی۔میں نے دیکھا۔۔۔۔اس کی روح وہیں تھی جہاں رہتی تھی۔۔۔۔میں نے لمحہ بھر کے لیے کھڑکی سے باہر دیکھا۔۔۔۔۔۔میری روح چاند پر بیٹھی تالیاں بجا رہی تھی۔

دو سال بعد

قبرستان کے پیچھے محکمہ آثار قدیمہ کی چھوٹی سی پرانی عمارت تھی،میں ان دنوں وہیں بیٹھ رہا تھا،کچھ پرانے سکے کسی کھدائی میں ملے تھے،ان کا رسم الخط پڑھنا تھا۔

یہ شہر سے باہر کا حصہ تھا۔۔۔پر سکون اور کھلا ہوا۔۔۔۔۔میری میز کے سامنے کھڑکی تھی،وہاں سے قبرستان کا ایک صاف حصہ نظر آتا تھا،پرانے ٹوٹے ہوئے پتھر۔۔۔۔۔۔۔بکھرے ہوئے کتبے۔۔۔۔۔قبروں پر خود رو جنگلی گھاس۔۔۔۔سوکھے پتے۔۔۔۔۔زنگ آلودلوہے کا گیٹ۔

اس قبرستان کے متوازی ایک سڑک جاتی تھی،یہ سڑک دونوں طرف سے ڈھال سے آ کر بلندی پر ملتی تھی۔میرے سامنے والی سڑک سے جو بھی آتا تھا وہ حصوں میں نظر آنا شروع ہوتا تھا۔پہلے بال۔۔۔۔۔پھر پیشانی۔۔۔۔پھر چہرہ۔۔۔۔پھر مکمل جسم۔

سکوں پر انڈو بیکٹرین (کھروشٹی رسم الخط)اسکرپٹ میں کچھ لکھا تھا ،بہت دیر تک حروف ترتیب دینے کے بعد میں تھک گیا تھا،کرسی کی پشت سے ٹکا ہوا میںسامنے کی کھڑکی سے آتے ہوئے لوگوں کو دیکھ رہا تھا۔شام کا وقت تھا،سڑک  سنسان تھی،میری اسسٹنٹ کافی بنانے اندر گئی تھی۔

تبھی میں نے اسے دیکھا۔سڑک کی چڑھائی سے وہ دھیرے دھیرے نظر آنا شروع ہوئی۔پہلے بال۔۔۔۔۔۔پھر پیشانی۔۔۔۔۔پھر گردن۔۔۔۔پھر دھیرے دھیرے آتا ہوا تھکا ماندہ جسم۔اب وہ مکمل طور پر میری نگاہوں کے سامنے تھی،وہ اب سڑک پر آ گئی تھی ۔ایک گھر کی دیوار کے ساتھ ہاتھ ٹیک کر کھڑی ہو گئی،وہ گہری سانسیں لے رہی تھی،اس کے جسم میں تھرتھراہٹ تھی،اس کے ہاتھ خالی تھے،وہ قبرستان کے عقبی حصہ سے نکلی تھی۔۔۔۔شاید کسی قبر پر آئی تھی۔۔۔۔اتنے دنوں میں اس کا جسم او ر لاغر ہو گیا تھا۔

متحیر اور دم بخود میں اسے دیکھتا رہا،کچھ دیر اسی حالت میں کھڑے رہ کر اس نے سانسیں اندر بھریں،دیوار سے ہاتھ ہٹایااور پھر دھیرے دھیرے ڈھلوان سے اترتی ہوئی اوجھل ہو گئی۔

ایک سال بعدمجھے پتہ چلا کہ وہ دس دن ہاسپٹل میں رہ کر گھر لوٹی ہے۔میں نے اسے فون کیا،اسی نے فون ریسیو کیا۔

’’کیا ہوا تھا؟‘‘۔میں نے پوچھا

’’کچھ نہیں ،بس یونہی‘‘

’’یونہی کوئی ہاسپٹل میں ایڈمٹ نہیں ہوتاہے،اب ٹھیک ہو؟‘‘

’’ہاں‘‘

’’کون ہے گھر میں؟‘‘

’’کوئی نہیں ہے ،’وہ‘ باہر ہے‘‘

’’میں آ رہا ہوں‘‘

وہ کچھ نہیں بولی،اس نے فون رکھ دیا۔

میں دوسری مرتبہ اس کے گھر گیا،دروازہ اندر سے کھلا تھا،میں نے کواڑ کو دھکا دیا،اسے میری آہٹ سنائی دی یا شاید مجھ پر نظر پڑی۔

’’بند کر کے آ جاؤ۔‘‘

ایک کمرہ کے اندر سے اس کی آواز آئی،میں نے دروازہ بند کر دیا،اندر ایک دوسرا کمرہ تھا،وہ اس میںپلنگ پر لیٹی ہوئی تھی۔کمرہ کی کھڑکیوں کی جالی سے تھوڑی دھوپ آ رہی تھی۔۔اسی کی روشنی سے کمرہ بھرا (معمور۔۔روشن)تھا۔

وہ پلنگ پر تھی۔۔۔۔تکیہ پر اس کا سر تھا۔۔۔۔۔بال کھلے تھے۔۔۔۔گلے تک وہ کمبل سے خود کو ڈھکے ہوئی تھی۔۔۔۔میں قریب کی کرسی پر بیٹھ گیا۔۔۔۔اس نے پلنگ پر ہاتھ تھپتھپایا۔۔۔۔۔میں اٹھ کر سرہانے پلنگ پر بیٹھ گیا۔

’’کیا ہوا تھا؟‘‘۔میں نے دریافت کیا

’’خون کی خرابی تھی(فساد تھا)،دس دن ہاسپٹل میں رہنا پڑا۔‘‘

’’کیوں ہوا؟‘‘

وہ خاموش رہی۔

’’شراب سے؟‘‘

اس نے چہرہ دوسری جانب کر لیا۔

’’اب؟‘‘

’’اب نہیں ،چھوڑ دی ہے‘‘۔اس نے سر گھما کر مجھے دیکھا

’’دوائیں چلیں گی،مروں گی نہیں ابھی۔‘‘

’’اس حالت میں اکیلی کیوں ہو؟‘‘

’’کام وا لی ابھی گئی ہے،تم آ رہے تھے اس لئے بھیج دیا۔‘‘بولنے میں وہ تھک رہی تھی۔

بہت نحیف ہو گئی تھی،پورا جسم سکڑ گیا تھا،اس نے کمبل کے نیچے سے اپنا ایک ہاتھ باہر نکالا،میری ہتھیلی پر رکھا،میں نے اس کی ہتھیلی دیکھی، جھریوں سے بھری ہوئی جلدچٹخ کرانگلیوں کی ہڈیوں سے الگ پڑی ہوئی تھی۔

’’کیسے ہو؟‘‘ اس نے دھیرے سے  پوچھا،اس کی نگاہوں میں محبت تھی۔

’’ٹھیک ہوں‘‘

’’تمہارے کچھ بال سفید ہو گئے‘‘

’’ہاں!عمر ہو رہی ہے۔‘‘

’’ہم بہت جی لئے شاید؟‘‘

’’ہاں ‘‘

’’اسے سمجھتے ہوئے،قبول کرتے ہوئے ۔۔۔۔۔۔اپنے اپنے سکھوں کے ساتھ ایک دوسرے کو سکھ دیتے ہوئے۔‘‘

میں خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔

’’میں نے تمہیں سکھ دیا نا؟‘‘اس نے اچانک سوا ل کیا۔

’’ہاں۔‘‘

’’میں کبھی پیچھے نہیں ہٹی،جتنی بھی دیر جب بھی تم نے چاہابغیرکسی الجھن کے اپنی روح کے ساتھ تمہیں آسودگی دے دی۔ہر بار میری روح میری آنکھوں میں تھی ۔۔۔۔میرے سکھ دینے میں شریک تھی۔۔۔۔۔تم نے اسے دیکھا ہو گا۔‘‘

’’ہاں !کیوں کیا ایسا؟‘‘

’’معلوم نہیں،شاید پچھلے جنم کا کچھ ہو،یا شاید محبت ایسی ہی ہوتی ہو۔‘‘

میں اسے دیکھ رہا تھا،اس کی ہتھیلی میری ہتھیلی پر تھی۔

’’کیا دیکھ رہے ہو؟‘‘۔اس نے دھیرے سے پوچھا۔

’’تمہارا حال۔‘‘

اس نے کمبل گلے سے ہٹا دیا۔

’’دیکھو ٹھیک سے۔‘‘

کمبل کے نیچے ایک کپڑا تھا۔۔۔بدن سے کھسکا  ہوا۔۔۔۔وہ ایک ڈراونی بڑھیا میں تبدیل ہو چکی تھی،اس کے پستان بالکل پچک گئے تھے،ران اور کولہوں کا گوشت لٹک گیا تھا،اس کے چہرہ سے بو آ رہی تھی ،اس جسم کی بے مثل نیرنگیوں کا مشاہدہ میں نے بارہا کیا تھا،جسم کی یہ خستگی بھی پہلی مرتبہ دیکھی تھی۔

اس نے میری ہتھیلی پکڑ کر مجھے کھینچا،میں اس کے جسم پر جھک گیا،وہ میری ہتھیلی پر انگلیاں پھیرتی رہی،اس کا برہنہ جسم میرے نیچے دبا تھا،ہم دیر تک اسی حالت میں پڑے رہے،وہ گہری سانسیں لے رہی تھی،اس کے نتھنوں سے آواز آ رہی تھی،پچکی ہوئی چھاتی اوپر نیچے ہو رہی تھی،اس نے اپنی ہتھیلی سے میرے جسم کے دوسرے حصہ کو سہلایا۔

’’مرد کی اس خواہش کو سمجھنے میں عورت کبھی خطا نہیں کرتی۔‘‘

میں حیران تھاکہ اس کی اس حالت میں ،کراہیت پیدا کرتے جسم کے لئے بھی میرے اندرواقعی حرص جاگ رہی تھی۔

’’کمبل ڈھک لو۔‘‘اس نے کہا۔

میں نے کمبل اوپر کھینچ لیا،کمبل پورا ڈھکنے سے پہلے میں نے دیکھا ،اس کی روح  پھر ان بے نور آنکھوں میں تھی،میری کھڑکی پر تماشائی بنی بیٹھی تالی بجا رہی تھی۔

کچھ دیر کے بعد میں اس سے الگ ہوا،اس کے اعضا میں خشکی تھی،عمر ،ڈپریشن یا پھر میرے ہمیشہ کے ناکارہ پن کی وجہ سے۔میں پلنگ سے اتر گیا۔

’’مجھے سہارا دو۔‘‘کچھ دیر بعد وہ بھی پلنگ سے تھوڑا اٹھی،میں نے اسے ہاتھ سے پکڑ لیا،وہ پلنگ سے نیچے اتر آئی،کمرے میں گہری خاموشی تھی،اس کے ہانپنے کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی،وہ دیوار کا سہارا لے کر کھڑی تھی،جھکی ہوئی۔۔۔۔۔کراہیت پیدا کرتی ہوئی ۔۔۔۔۔ کچھ دیر وہ مجھے دیکھتی رہی۔

’’آج پھر تم نے سنی ہوگی؟‘‘وہ نحیف آوازمیں بولی۔

’’کیا؟‘‘

’’ہر بار کی طرح ڈرامہ ختم ہونے پر اپنی تماشائی روح کی تالیوں کی آواز؟‘‘

میں چپ چاپ اسے دیکھتا رہا،ہانپتی ہوئی وہ بول رہی تھی۔

’’میں نے اسے ہر بار دیکھا ہے ،اس کی تالیاں سنی ہیں۔۔۔منڈیر پر۔۔۔قالین پر۔۔۔چاند پر۔۔۔اور آج کھڑکی پر۔۔۔۔میں ہر بار انتظار کرتی رہی کہ شاید اس مرتبہ ایسا نہ ہولیکن آج بھی جب سب چیزیں اپنے انجام کو پہنچ رہی ہیں۔۔۔۔موت ہے۔۔۔چل چلاؤ ہے۔۔۔۔یعنی پوری زندگی ہم بسر کر چکے لیکن اب بھی وہ تمہارے اندر نہیں تھی۔اس کا چہرہ تیزی سے پیلا پڑ رہا تھا۔

میں کچھ نہیں بولا،سر جھکا کر چپ چاپ کپڑے پہننے  لگا،اچانک میں لڑکھڑایا اور چوکھٹ سے ٹکرا گیا۔

اس نے مجھے لات ماری تھی۔

میں نے گھوم کر دیکھا،وہ ہنس رہی تھی۔اس کی بے رونق آنکھوں میں وہی پرانی چمک تھی،اس کی روح ہمیشہ کی طرح اس بے مثل روشنی کے آبشار سے شرابوراس کی آنکھوں میںموجود تھی۔

میں نے لمحہ بھر اسے دیکھا ،پھر خاموشی باہر نکل آیا۔

٠٠٠

پریمود(تلفظ priyamvad)کا جنم کانپورشہر میں 22 دسمبر 1942 کو ہوا۔انہوں نے ‘قدیم بھارتی تاریخ و تہذیب’میں ایم اے کیا۔انہوں نے تاریخ کے مختلف موضوعات پر اہم کتابیں بھی لکھی ہیں۔وہ ہندی کے منفرد کہانی کار ہیں۔’اکار’ نامی ایک رسالہ بھی شائع کرتے ہیں۔ان کے ناولوں میں ‘پرچھائیں ناچ’ اور  ‘وہ وہاں قید ہیں’ خاصے مقبول ہیں۔ ان کی کئی کہانیوں پر فلمیں بھی بن چکی ہیں۔فی الحال کانپور شہر میں ہی مقیم ہیں۔

پریمود اپنی کہانیوں میں سفاک سچائیوں کو بیان کرتے ہوئے ہر لحاظ سے بے لحاظ رہے ہیں۔انہوں نے انسانی اعمال و جذبات کی تصویر کشی میں کسی بھی طرح کی مروت سے کام نہیں لیا ہے۔ان کی یہی صاف گوئی بعض اوقات ان کے ناقدین کو ان پر گرجنے برسنے کا موقع فراہم کرتی رہتی ہے۔انسانی زندگی کی پیچیدہ جنسی خواہشات اور جبلت کے انوکھے پن پر ان کا یقین گہرا ہے۔ اس کہانی میں بھی کچھ ایسی باتیں ہیں، جو یوں تو ہمارے سماجوں میں بہت عام ہیں، مگر ہمیشہ انہیں چھپائے رکھنے میں ہی عافیت سمجھی جاتی ہے۔ احسن ایوبی نے اس کہانی کا ترجمہ قریب آٹھ دس برس قبل کیا تھا اور یہ کہانی اردو کے ایک رسالے ‘اردو چینل’ میں بہت عرصہ قبل شائع بھی ہوچکی ہے۔یہاں اسے مترجم کی مرضی اور شکریے کے ساتھ دوبارہ شائع کیا جارہا ہے۔ 

 

(کہانی کا ہندی عنوان: درشک)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

news-1701

sabung ayam online

yakinjp

yakinjp

rtp yakinjp

slot thailand

yakinjp

yakinjp

yakin jp

yakinjp id

maujp

maujp

maujp

maujp

sabung ayam online

sabung ayam online

judi bola online

sabung ayam online

judi bola online

slot mahjong ways

slot mahjong

sabung ayam online

judi bola

live casino

sabung ayam online

judi bola

live casino

SGP Pools

slot mahjong

sabung ayam online

slot mahjong

SLOT THAILAND

berita 128000726

berita 128000727

berita 128000728

berita 128000729

berita 128000730

berita 128000731

berita 128000732

berita 128000733

berita 128000734

berita 128000735

berita 128000736

berita 128000737

berita 128000738

berita 128000739

berita 128000740

berita 128000741

berita 128000742

berita 128000743

berita 128000744

berita 128000745

berita 128000746

berita 128000747

berita 128000748

berita 128000749

berita 128000750

berita 128000751

berita 128000752

berita 128000753

berita 128000754

berita 128000755

artikel 128000821

artikel 128000822

artikel 128000823

artikel 128000824

artikel 128000825

artikel 128000826

artikel 128000827

artikel 128000828

artikel 128000829

artikel 128000830

artikel 128000831

artikel 128000832

artikel 128000833

artikel 128000834

artikel 128000835

artikel 128000836

artikel 128000837

artikel 128000838

artikel 128000839

artikel 128000840

artikel 128000841

artikel 128000842

artikel 128000843

artikel 128000844

artikel 128000845

artikel 128000846

artikel 128000847

artikel 128000848

artikel 128000849

artikel 128000850

article 138000756

article 138000757

article 138000758

article 138000759

article 138000760

article 138000761

article 138000762

article 138000763

article 138000764

article 138000765

article 138000766

article 138000767

article 138000768

article 138000769

article 138000770

article 138000771

article 138000772

article 138000773

article 138000774

article 138000775

article 138000776

article 138000777

article 138000778

article 138000779

article 138000780

article 138000781

article 138000782

article 138000783

article 138000784

article 138000785

article 138000816

article 138000817

article 138000818

article 138000819

article 138000820

article 138000821

article 138000822

article 138000823

article 138000824

article 138000825

article 138000826

article 138000827

article 138000828

article 138000829

article 138000830

article 138000831

article 138000832

article 138000833

article 138000834

article 138000835

article 138000836

article 138000837

article 138000838

article 138000839

article 138000840

article 138000841

article 138000842

article 138000843

article 138000844

article 138000845

article 138000786

article 138000787

article 138000788

article 138000789

article 138000790

article 138000791

article 138000792

article 138000793

article 138000794

article 138000795

article 138000796

article 138000797

article 138000798

article 138000799

article 138000800

article 138000801

article 138000802

article 138000803

article 138000804

article 138000805

article 138000806

article 138000807

article 138000808

article 138000809

article 138000810

article 138000811

article 138000812

article 138000813

article 138000814

article 138000815

story 138000816

story 138000817

story 138000818

story 138000819

story 138000820

story 138000821

story 138000822

story 138000823

story 138000824

story 138000825

story 138000826

story 138000827

story 138000828

story 138000829

story 138000830

story 138000831

story 138000832

story 138000833

story 138000834

story 138000835

story 138000836

story 138000837

story 138000838

story 138000839

story 138000840

story 138000841

story 138000842

story 138000843

story 138000844

story 138000845

article 138000726

article 138000727

article 138000728

article 138000729

article 138000730

article 138000731

article 138000732

article 138000733

article 138000734

article 138000735

article 138000736

article 138000737

article 138000738

article 138000739

article 138000740

article 138000741

article 138000742

article 138000743

article 138000744

article 138000745

article 208000456

article 208000457

article 208000458

article 208000459

article 208000460

article 208000461

article 208000462

article 208000463

article 208000464

article 208000465

article 208000466

article 208000467

article 208000468

article 208000469

article 208000470

journal-228000376

journal-228000377

journal-228000378

journal-228000379

journal-228000380

journal-228000381

journal-228000382

journal-228000383

journal-228000384

journal-228000385

journal-228000386

journal-228000387

journal-228000388

journal-228000389

journal-228000390

journal-228000391

journal-228000392

journal-228000393

journal-228000394

journal-228000395

journal-228000396

journal-228000397

journal-228000398

journal-228000399

journal-228000400

journal-228000401

journal-228000402

journal-228000403

journal-228000404

journal-228000405

article 228000376

article 228000377

article 228000378

article 228000379

article 228000380

article 228000381

article 228000382

article 228000383

article 228000384

article 228000385

article 228000386

article 228000387

article 228000388

article 228000389

article 228000390

article 228000391

article 228000392

article 228000393

article 228000394

article 228000395

article 228000396

article 228000397

article 228000398

article 228000399

article 228000400

article 228000401

article 228000402

article 228000403

article 228000404

article 228000405

article 228000406

article 228000407

article 228000408

article 228000409

article 228000410

article 228000411

article 228000412

article 228000413

article 228000414

article 228000415

article 228000416

article 228000417

article 228000418

article 228000419

article 228000420

article 228000421

article 228000422

article 228000423

article 228000424

article 228000425

article 228000426

article 228000427

article 228000428

article 228000429

article 228000430

article 228000431

article 228000432

article 228000433

article 228000434

article 228000435

article 238000461

article 238000462

article 238000463

article 238000464

article 238000465

article 238000466

article 238000467

article 238000468

article 238000469

article 238000470

article 238000471

article 238000472

article 238000473

article 238000474

article 238000475

article 238000476

article 238000477

article 238000478

article 238000479

article 238000480

article 238000481

article 238000482

article 238000483

article 238000484

article 238000485

article 238000486

article 238000487

article 238000488

article 238000489

article 238000490

article 238000491

article 238000492

article 238000493

article 238000494

article 238000495

article 238000496

article 238000497

article 238000498

article 238000499

article 238000500

article 238000501

article 238000502

article 238000503

article 238000504

article 238000505

article 238000506

article 238000507

article 238000508

article 238000509

article 238000510

article 238000511

article 238000512

article 238000513

article 238000514

article 238000515

article 238000516

article 238000517

article 238000518

article 238000519

article 238000520

update 238000492

update 238000493

update 238000494

update 238000495

update 238000496

update 238000497

update 238000498

update 238000499

update 238000500

update 238000501

update 238000502

update 238000503

update 238000504

update 238000505

update 238000506

update 238000507

update 238000508

update 238000509

update 238000510

update 238000511

update 238000512

update 238000513

update 238000514

update 238000515

update 238000516

update 238000517

update 238000518

update 238000519

update 238000520

update 238000521

sumbar-238000396

sumbar-238000397

sumbar-238000398

sumbar-238000399

sumbar-238000400

sumbar-238000401

sumbar-238000402

sumbar-238000403

sumbar-238000404

sumbar-238000405

sumbar-238000406

sumbar-238000407

sumbar-238000408

sumbar-238000409

sumbar-238000410

news-1701
news-0801

yakinjp


sabung ayam online

yakinjp

yakinjp

rtp yakinjp

yakinjp

yakinjp

judi bola online

slot thailand

yakinjp

yakinjp

yakinjp

yakinjp

ayowin

mahjong ways

judi bola online

mahjong ways 2

JUDI BOLA ONLINE

maujp

maujp

sabung ayam online

maujp

maujp

maujp

maujp

sabung ayam online

mahjong ways slot

sbobet88

live casino online

Situs Agen Togel

MAUJP

118000021

118000022

118000023

118000024

118000025

118000026

118000027

118000028

118000029

118000030

118000031

118000032

118000033

118000034

118000035

118000036

118000037

118000038

118000039

118000040

118000041

118000042

118000043

118000044

118000045

118000046

118000047

118000048

118000049

118000050

128000021

128000022

128000023

128000024

128000025

128000026

128000027

128000028

128000029

128000030

128000031

128000032

128000033

128000034

128000035

128000036

128000037

128000038

128000039

128000040

128000041

128000042

128000043

128000044

128000045

128000046

128000047

128000048

128000049

128000050

138000021

138000022

138000023

138000024

138000025

138000026

138000027

138000028

138000029

138000030

138000031

138000032

138000033

138000034

138000035

138000036

138000037

138000038

138000039

138000040

138000041

138000042

138000043

138000044

138000045

138000046

138000047

138000048

138000049

138000050

148000026

148000027

148000028

148000029

148000030

148000031

148000032

148000033

148000034

148000035

148000036

148000037

148000038

148000039

148000040

148000041

148000042

148000043

148000044

148000045

148000046

148000047

148000048

148000049

148000050

148000051

148000052

148000053

148000054

148000055

148000056

148000057

148000058

148000059

148000060

148000061

148000062

148000063

148000064

148000065

148000066

148000067

148000068

148000069

148000070

158000041

158000042

158000043

158000044

158000045

158000046

158000047

158000048

158000049

158000050

158000051

158000052

158000053

158000054

158000055

158000056

158000057

158000058

158000059

158000060

158000061

158000062

158000063

158000064

158000065

158000066

158000067

158000068

158000069

158000070

168000011

168000012

168000013

168000014

168000015

168000016

168000017

168000018

168000019

168000020

168000021

168000022

168000023

168000024

168000025

168000026

168000027

168000028

168000029

168000030

168000031

168000032

168000033

168000034

168000035

168000036

168000037

168000038

168000039

168000040

178000036

178000037

178000038

178000039

178000040

178000041

178000042

178000043

178000044

178000045

178000046

178000047

178000048

178000049

178000050

178000051

178000052

178000053

178000054

178000055

178000056

178000057

178000058

178000059

178000060

178000061

178000062

178000063

178000064

178000065

188000141

188000142

188000143

188000144

188000145

188000146

188000147

188000148

188000149

188000150

188000151

188000152

188000153

188000154

188000155

188000156

188000157

188000158

188000159

188000160

188000161

188000162

188000163

188000164

188000165

188000166

188000167

188000168

188000169

188000170

198000031

198000032

198000033

198000034

198000035

198000036

198000037

198000038

198000039

198000040

198000041

198000042

198000043

198000044

198000045

198000046

198000047

198000048

198000049

198000050

198000051

198000052

198000053

198000054

198000055

198000056

198000057

198000058

198000059

198000060

218000021

218000022

218000023

218000024

218000025

218000026

218000027

218000028

218000029

218000030

218000031

218000032

218000033

218000034

218000035

218000036

218000037

218000038

218000039

218000040

218000041

218000042

218000043

218000044

218000045

218000046

218000047

218000048

218000049

218000050

228000016

228000017

228000018

228000019

228000020

228000021

228000022

228000023

228000024

228000025

228000026

228000027

228000028

228000029

228000030

228000031

228000032

228000033

228000034

228000035

228000036

228000037

228000038

228000039

228000040

228000041

228000042

228000043

228000044

228000045

228000046

228000047

228000048

228000049

228000050

238000001

238000002

238000003

238000004

238000005

238000006

238000007

238000008

238000009

238000010

238000011

238000012

238000013

238000014

238000015

238000016

238000017

238000018

238000019

238000020

news-0801