نشانت کوشک کی نظمیں

بھول کے سرے سے اُگتی تمہاری یاد

 

تم کو دیکھتا ہوں

تو جیسے بھول جاتا ہوں

سامنے دکھائی دیتے پھول کا نام

 

جیسے بھول جاتا ہوں

ہتھیلی پر رکھا

میر کا شعر

جس میں سرسوں کی بھی بات ہے

 

تم کو دیکھ کر یاد آتے ہیں

ندیوں کے پرانے نام

جس میں سُندرتا کی چھینٹیں بچی ہوسکتی ہیں

پانی اور ماضی کے علاوہ

 

نظم کے روزمرہ میں

بار بار عمدہ تشریح کی حقدار ہوتم

 

کچھ نہ کام آئے

تو مناؤں تمہیں نظم سے

اور تم مان جاؤ میری محنت مگر

نظم کو پھر بھی رد کرو

 

میں جانوں دکھ کا سبب

کہ نظم محنت سے نہیں پھوٹتی

 

تم پھول کا غلط نام لو

اور میں اس کو دبی زبان میں کہا گیا حرف مانوں

سجھاؤں صحیح نام کسی چٹھی میں

نثر میں

تم نثر سے بے حد عشق کرو

پھول کو پھر بھی غلط  نام سے پکارو

٠٠٠

 

 

نظم

 

نیند ایک مکان ہے

لوٹتا ہوں جس میں بے طرح

دنیا بھر کے دفتری کام نمٹا کر

ایک مقدس کونا ہے

جس میں جاتے ہی

ضرورت نہیں

خود کو دی گئی کسی مقبولیت کی سند کی

نیند کی دہلیز پار کرنے سے پہلے

ڈوبتا ہوں تمام ممنوعات میں

سکھ کی لذتیں

اور صبح سے شروع کرسکنے والے

نئی زندگی کے عہد

نیند سب کچھ نگل لیتی ہے

میرے گناہ و ثواب

جھجھک، کفارہ، کپٹ

اور باقی سبھی  کپکپاہٹوں کو

نیند ایک گہرا کنواں ہے

جو واپس نہیں آنے دیتا

پھینکے گئے پتھر کی آواز

زندگی میں

جاگنے کی ہر کوشش

نیند سے ہو کر گزرتی ہے

٠٠٠

 

نظم

 

لمس کی خواہش سے بھاگتے ہوئے تمہارے پیر

لمس کی خواہشوں سے ہی بنائے گئے ہیں

٠٠٠

 

نظم

 

کتنا لکھا جا رہا ہے

دیکھا تو جارہا ہے اس سے بھی زیادہ

 

فکشن، کلٹ، کلاسیک

اور اَن پُٹ ڈاؤن ایبل (unputdownable)

 

کوئی بھی کتاب چھوؤ

وہ اس کا بارہواں ایڈیشن ہوگا

 

ایک فلم سے چوک جاؤ

تو

بھاردواج رنگن ٭سمجھ میں نہیں آتا

 

کبھی جوش تھا

کبھی پڑھنے کا وعدہ

 

کچھ کو

نہ پڑھنے کی سزا تھی

قارئین کے سماج میں

 

اور باقی سارے کام بھی

نیند ٹوٹتے ہی چلے آتے ہیں

ترجیحات کی فہرست لیے

 

خود کا منتخب کیا ہوا بھی

باسی ہوا جاتا ہے

 

جو جتنا ہوسکا

پلٹ کر دیکھا

وہی سکھ ہوگیا

 

تِس پر بھی کبھی پیٹھ دُکھتی ہے

کبھی آنکھیں

 

نہ جانے کتنی جنگیں ہیں

جو باقی رہ جانے کی سزا جھیل رہی ہیں

 

باقی اتنا سب کچھ تھا کہ

ایک بوند بھی پانی جب پیا

پیاس کااتہاس کھُلتا چلا گیا

٠٠٠

 

٭بھاردواج رنگن: فلمی نقاد اور مصنف

 

نظم

 

چوتھے پہر سے

بارش کی آخری لڑی لٹکی ہوئی ہے

لیمپ پوسٹ پر پسری تکان

پتیوں پر چمکتی گیلی روشنی

ایک گزرتی ہوئی گاڑی

سڑک پر جمع پانی کو

اس کا چیرتے ہوئے گزرنا

رات کی بارشوں کے

رنگ نہیں ہوتے

 

دیر سے کھلے گا آسمان

دیر سے لگیں گی ریڑھیاں

بروقت ملیں گے اخبارات

بے شکل بارش

اپناتی چلی جائے گی

صبح کا چہرہ

تھمنے لگی ہے تھک کر

جیسے پہنچ رہی ہو اب

پلیٹ فارم پر

لمبی دوری کی ٹرین

٠٠٠

 

نظم

 

تمہیں یاد کروں

تو تمہارا سنسار بھی ساتھ ہی چلا آتا ہے

پردے اور برتن

تازہ پُتی ہوئی دیواریں

مرتبان

اور اُرد سے بننے والی

سب چیزیں

 

میں بس خوش ہوں

کہ ان سب کے درمیان

تمہارے بغیر بھی رہ لیتا ہوں

 

پہلے تو اتنا کتابی تھا ہجر

کہ دکھ میں بھی

معاصر نظموں میں

ڈھونڈنا پڑتا تھا

اپنی ذہنی حالت  جیساکوئی شاعر

٠٠٠

 

نشانت کوشک 1991 میں جبلپور، مدھیہ پردیش میں پیدا ہوئے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ سے انہوں نے  ترکی زبان  و ادب میں ایم اے کیا۔اور ممبئی یونیورسٹی  سے فارسی میں ڈپلومہ اور ایڈوانس ڈپلومہ حاصل کیا۔وہ اردو، ہندی، آذربائیجانی، پنجابی اور انگریزی سے ہندی میں تراجم کرتے آئے ہیں۔ ان کے ترجمے ہندی کی مشہور ویب سائٹس سدانیرا، سمالوچن ، انوِتی اور ہندوی وغیرہ کی زینت بنتے رہے ہیں۔ وہ تبصروں، تراجم، ڈائری اور شاعری کے ساتھ ساتھ سب سے زیادہ مطالعے کے تعلق سے اپنی دلچسپی کے لیے جانے جاتے ہیں۔فی الحال  2023 سے پونے میں مقیم ہیں اور وہیں نوکری بھی کررہے ہیں۔

نشانت کوشک کی یہ نظمیں   سرگوشیاں کرتی ہوئی معلوم ہوتی ہیں۔ وہ جس طبیعت کے انسان ہیں، وہاں ویسے بھی خود کو مشتہر کرنے کی خواہش بہت زیادہ نہیں ہے۔ لکھتے پڑھتے رہنے کے عمل میں جنم لینے والی یہ تھوڑی سی نظمیں ان کے شانت سبھاؤ اور غم دوراں کے ساتھ غم جاناں کی بھی کچھ عمدہ جھلکیاں پیش کرتی ہیں۔ ان نظموں میں مناظر ہیں، دیکھے اور جیے ہوئے، ٹھہرے اور بہتے ہوئے، سمٹے اور بکھرے ہوئے۔انہیں سے یہ نظمیں  اپنی ایک الگ شناخت بنانے میں کامیاب ہوئی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

news-3011

yakinjp


sabung ayam online

yakinjp

yakinjp

yakinjp

rtp yakinjp

yakinjp

yakinjp

yakinjp

yakinjp

yakinjp

yakinjp

yakinjp

yakinjp

yakinjp

judi bola online

slot thailand

yakinjp

yakinjp

yakinjp

yakinjp

yakinjp

4000

4001

4002

4003

4004

4005

4006

4007

4008

4009

4010

4011

4012

4013

4014

4015

4016

4017

4018

4019

3106

3107

3108

3109

3110

3111

3112

3113

3114

3115

4020

4021

4022

4023

4024

4025

4026

4027

4028

4029

4030

4031

4032

4033

4034

4035

4036

4037

4038

4039

5046

5047

5048

5049

5050

5051

5052

5053

5054

5055

5061

5062

5063

5064

5065

5066

5067

5068

5069

5070

4040

4041

4042

4043

4044

4045

4046

4047

4048

4049

4050

4051

4052

4053

4054

4055

4056

4057

4058

4059

3126

3127

3128

3129

3130

3131

3132

3133

3134

3135

3136

3137

3138

3139

3140

3141

3142

3143

3144

3145

4080

4081

4082

4083

4084

4085

4086

4087

4088

4089

4090

4091

4092

4093

4094

4095

4096

4097

4098

4099

5036

5037

5038

5039

5040

5071

5072

5073

5074

5075

3076

3077

3078

3079

3080

3081

3082

3083

3084

3085

4100

4101

4102

4103

4104

4105

4106

4107

4108

4109

4110

4111

4112

4113

4114

4115

4116

4117

4118

4119

5026

5027

5028

5029

5030

5031

5032

5033

5034

5035

5076

5077

5078

5079

5080

5081

5082

5083

5084

5085

5001

5002

5003

5004

5005

5006

5007

5008

5009

5010

5011

5012

5013

5014

5015

5056

5057

5058

5059

5060

5086

5087

5088

5089

5090

5091

5092

5093

5094

5095

5016

5017

5018

5019

5020

5021

5022

5023

5024

5025

5096

5097

5098

5099

5100

8001

8002

8003

8004

8005

8006

8007

8008

8009

8010

8011

8012

8013

8014

8015

8016

8017

8018

8019

8020

news-3011