نِیلیش رگھوونشی کی نظمیں
شہر
کیسی گرد آلود تنہائی
چھائی ہوئی ہے چاروں طرف
شہر مرتے کیسے ہیں؟
دھماکوں کے ساتھ نہیں مرتے
برداشت کی حد پارکرنے اور
سمجھدار خاموشی سے مرتے ہیں شہر
٠٠٠
ٹیلی فون پر باپ کی آواز
ٹیلی فون پر
تھرتھراتی ہے باپ کی آواز
دیے کی لو کی طرح کانپتی ہوئی سی
دور سے آتی ہوئی
بے چینی اور دکھ کو چھپائے ہوئے
ٹیلی فون کے تار سے گزرتی ہوئی
کوستی، جھنجھلاتی
اس جدید آلے پر
تاروں کی طرح ٹمٹماتی
ٹوٹتی، جڑتی ہوئی سی آواز
کتنا سکون بخش ہے
باپ کو ٹیلی فون پر سننا
پہلے پہل کیسے پکڑا ہوگا انہوں نے ٹیلی فون
کڑکتی بجلی سی باپ کی آواز
کیسی سہمی سہمی سی لگتی ہےٹیلی فون پر
بنتے بگڑتے بلبلوں کی طرح
باپ کی بھرائی ہوئی سی آواز
پکڑے رہے ہوں گے
ٹیلی فون دیر تک
اپنے ہی بچوں سے
دور سےباتیں کرتے ہوئے باپ
٠٠٠
بے گھر
تالے لگانے کے لیے دروازے نہیں تھے
سو انہیں سنبھالنے کے لیے چابیاں نہ تھیں
اس کے آنے سے پہلے
کوئی اس کے لیے دروازے نہیں کھولتا تھا
گھر نہیں تھا تو آنگن نہیں تھا
آنگن نہیں تھا تو چہل قدمی کی عادت نہ تھی
دیواریں نہیں تھیں تو کھڑکیاں نہیں تھیں
کھڑکیاں نہ ہونے سے جھانکنے کی عادت نہیں تھی
کسی کے آنے کی آس نہ تھی
کوئی اتنا زیادہ بھی نہیں آتا تھا کہ
وہ یہ سوچ پاتا کہ کاش اس سمے کوئی نہ آئے
گھر کے نہ ہونے سے
جیون میں کسی طرح کی کھٹکھٹاہٹ نہ تھی
کار میں وہ بنا گھر کے شہر میں رہتا ہے
گانوکے گھر میں کھاٹ تھی
جس پر وہ پانو پھیلا کر بیٹھتا اور پسر کر سوتا تھا
شہر کی بُلیرو میں نرم گدے دار سیٹ ہے
جس پر وہ قرینے سے بیٹھتا ہے اور
رات میں چادر بچھا کر گھٹنے موڑ کر سوتا ہے
گانو کے پانچ ایکڑ بنجر کھیت نے
اسے بے گھر بنجارا بنادیا ہے
بنجاروں جیسی مستی نہیں ہے اس کے پاس
وہ نیم خوابیدگی کے عالم میں کھویا رہتا ہے
شہر میں
ثابت گھروں کو ٹوٹتے اور پھر بنتے دیکھتا ہے
گھر کے ڈھہتے ہی
ملبہ اس کے بھیتر جگہ بنانے لگتا ہے
ٹوٹتے گھر کا ہر ایک کونا بجتا ہے اس کے بھیتر
ایک کونا چولہے پر دھدھکتی دیگچی کے لیے
ایک کونا گھڑونچی کے لیے
ایک کونا آنگن سے آکاش توڑنے کے لیے
ایک کونا پیڑوں سے جھڑ گئے پتوں اور
چڑیوں کے گھونسلوں کے لیے
ایک کونا جس میں سب اٹ جائے
ایک جینے کے لیے اور
ایک کونا ٹھنڈی سانس لے کر مرنے کے لیے
سناٹے سے بھرا سوچتا ہے وہ
کاش گاڑیوں کے اندر بھی کونے ہوتے
گاڑی کی چابی کو چمکاتا پھرتا
قسطوں کے ختم ہونے کا انتظار کرتا
وہ ریل گاڑیوں کو آتے اور جاتے دیکھتا ہے
پانو سیدھے کرتا ہے پلیٹ فارم کی بینچ پر
نل پر اوک سے پانی پیتا ہے
پٹریوں پر کرتا ہے غسل
لوٹے کی پرچھائیں تیرتی ہے پانی میں
گھر کی یاد آتی ہے جو بہت ستاتی ہے
وہ ٹرین پر ایسے چڑھتا ہے
چڑھ رہا ہو جیسے گھر کی سیڑھیاں
مسافروں سے ایسے بتیاتا ہے
بتیارہا ہو جیسے پڑوسیوں سے
جاتی ہوئی ریل گاڑیوں کو کرتا ہے وداع
وداع کیا جیسے اسے اس کے کھیت کھلیان نے
اس کے من اور تن پر کئی کھرونچیں ہیں
لیکن قسطوں کی بلیرو پر
ایک بھی کھرونچ نہیں آنے دیتا
بلیرو اس کے من کی کھڑکی ہے
جس پر کوئی پردا نہیں ہے
شہر میں کار کو اپنا گھر بنانے والے
بے گھر آدمی کو
کار کے نہیں، گھر کے خواب آتے ہیں
٠٠٠
ملاح کا شوک گیت
جب پہلی بار ملاح لکڑی کے ٹکڑے پر چڑھ کر
سمندر کے اس پار تک گیا
افق اسے دیکھ کر ہنسا ، لہروں نے گلے لگالیا
مارے خوشی کے پانی کی اندرونی لہر نے ناؤ سمیت بھنور میں کھینچ لیا
مچھلیاں تٹ تک چھوڑنے آئیں، ریت اس کے بدن پر چمک بن کر چھاگئی
ایسا کیوں ہوا نہیں جانتا ملاح
کانٹے میں پھنسی مچھلی کی طرح
کبھی سمندر ملاح کے ہاتھوں میں ہوتا ہے کبھی ملاح سمندر کے ہاتھوں میں
ہر وہ چیز چپ ہے آج جس کا جنم گیت سمندر ہے
ہر پل ڈول رہی ہے دھرتی لگتا ہے ڈر اب پانی سے
میری آنکھوں کے سامنے میں نے اپنی بیٹی کو پانی میں جاتے دیکھا ہے
کہتے ہوئے منہ پھیرلیتی ہے بوڑھی مچھوارن
اب تو سمندر نہ نگلتے بنتا ہے نہ اگلتے
بھاگو بھاگو پانی پانی کی آواز سے اندھیری رات میں بھاگتے ہیں سب
میری ماں کو سنامی لے گئی ماں مجھے روز خوابوں میں آکر بلاتی ہے
نہیں، میں کچھ نہیں یاد کرنا چاہتا
ہمارا باپ تھا ، بزرگ تھا وہ، ایسا کرے گا ہمیں یقین ہی نہیں ہوتا
کیوں کیوں وہ ہمارا دشمن بن گیا
اب تو اس کی طرف پیٹھ کرنے کا بھی دل نہیں
ہر رات اندھیرے میں کالا بھورا پانی چڑھتا ہے ، ریت میں دھنس گئے ہیں پانو
بھاگتے ہوئے بھی بھا گ نہیں پا رہا میں
سب لٹ گیا لٹ گیا سب کچھ، کچھ مت پوچھو ہم سے
نہ سمندر سمندر رہااور نہ ہم مچھوارے مچھوارے رہے
ہزاروں ہزار بحری سفر کیے ہیں میں نے لیکن
اتوار کو آئی سنامی لہر کے بعد نفرت ہوگئی ہے مجھے اس کے تلاطم سے
زندگی بھر پیار کیا ہے جس سے اسی پر تھوکتا ہوں آج
اس کو میرے بیٹے اور میری بیوی کو چھوڑ دینا چاہیے تھا
میرے پوتے شانتن کی جگہ یہ بزدل دھوکے باز مجھے ہی نگل لیتا
یہ تو شاپ بن گیا ہے میری زندگی کا
میرے گھر کے برتن بھی کھاگیا اور گدے کو نمک میں ڈبو کر پیڑ پر لٹکادیا
میری ناؤ اور مچھلی پکڑنے کا جال کہتے ہوئے
کوچو بابا کا گلا رُندھ جاتا ہے
میں روز یہیں بیٹھ کر حیرت زدہ ہوکر دیکھتا ہوں سمندر کو
یہ اتنی بری طرح سے کیسے مجھے زخمی کرسکتا ہے
دیکھو اس کی بربریت ، سب مجھے سمندر کا کچھوا کہتے تھے
میرے پوتے شانتن کو جب یہ لے جارہا تھا
تب میں ایک بہتی لکڑی بھی نہیں بن سکا تھا
سمندر جس سے پیار کرتا ہے اسے تیسرے دن زندہ واپس کردیتا ہے
وہ میری ماں سے بہت پیار کرتا ہے
ماں نے پورے پچاسی برس گزارے ہیں اس کے ساتھ
ماں اور سمندر کا ساتھ دیکھتے پورے پینسٹھ برس ہوگئے مجھے
کنویں سے بھی گہری آواز میں بولتا تیاگ راجن
کچھ کہنے سننے کا موقع ہی نہیں دیا سنامی نے
تھوڑا سا وقت دیتی تو ماں بتاتی اسے سمندر کے بارے میں
دیکھنا لہریں جیسے لے کر گئی تھیں ماں کو ویسے ہی لوٹابھی دیں گی
ماں اور سمندر ایک دوسرے کو پیار جو کرتے تھے
میں اور میری بہن دابو کھانا کھارہے تھے
جیسے ہی لہر آئی میں بھاگا اور بچ گیا
لہروں نے میری ماں کو گھسیٹ لیا اور زور سے دیوار پر پٹک دیا
یہ سب میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، میرے بھیتر اس سمے سمندر زندہ تھا
نہیں تو بھلا میں ماں اور بہن کو چھوڑ کر بھاگتا
مجھے بھی گھاتی بنادیا اس نے
سب کچھ بہہ گیا سنامی میں بچا ہے تو صرف میرا وشواس گھات
سمندر کیوں چھل کرتا ہے جہاں تہاں زندگی کے ساتھ
کیوں ملاح کے گھر پر ہنسی اورخوشی ڈیرا نہیں ڈالتیں
کیوں چھل اور تٹ ایک دوسرے کے ہم معنی ہیں
ہائے ہم نے بھی جیون بھر لاکھوں کروڑوں کو مارا
پانی جن کا جیون تھا ، انہیں پانی سے ہی الگ کیا
ملاحوں کی قسمت
مچھلی کو ماریں تو من سے مریں، نہ ماریں تو پیٹ سے مریں
پھپھک پھپھک کر روتا ہے بوڑھا ملاح
تونے جنم ہی کیوں لیا اس دھرتی پر
نہ ہم دیو تا ہیں، نہ شیطان ، کیوں باربار زہر اگلتا ہے
ہم میں سے کوئی شِو نہیں ہے جو تیرے زہر کو گلے میں دھر لے
نیل کنٹھ
تم نے دیوتاؤں کے لیے زہر نگل لیا، بھول گئے تم
زمین پر مچھوارے بھی بستے ہیں
جنہیں اپنی مرضی سے چھلتا ہے سمندر اور ہنستا ہے
اگر یہ کہانی سچ ہوتی تو
دیوتا اور شیطان کے درمیان ہم مچھوارے بھی ہوتے
ملاح چھل نہیں کرتا، چھل کو پسند کرنے والا نہیں ہے وہ
ارے ناسمجھ! تیرے بھیتر کے سارے انمول رتن لُٹ گئے
تیرا امرت بھی تیرا نہ رہا، تو ہمیشہ کے لیے کھارا ہوگیا
پھر بھی ہم نے تجھے اپنے جی سے لگایا اور تو ہے کہ ہمیں سے دھوکا کرتا ہے
جا چلو بھر پانی میں ڈوب مر
سکھ ا ور دکھ جیون کے دو پہیے۔۔۔پہیے دو جیون کے سکھ اور دکھ
دونوں کی گٹھری بنا ڈُبکی لگائیں جو ہوا اسے بھول جائیں ، او رے او بے غرض جا تجھے معاف کیا
گا رہی ہی ملاحِن ، رو رہا ہے سمندر بوڑھے ملاح کے ساتھ ساتھ
٠٠٠
بلا ٹکٹ سفر کرتی ہوئی لڑکی
بلا ٹکٹ سفر کرتی ہوئی لڑکی
ہوتے ہوئے سب کے ساتھ بھی
سب سے بچاتی ہے اپنے آپ کو
کسی سے بھی آنکھیں نہیں ملاتی
بلا ٹکٹ سفر کرتی ہوئی لڑکی
چھپاتی ہے اپنی گھبراہٹ
جیب میں ہاتھ ڈال کر چپ چاپ ٹٹولتی ہے روپے
ٹکٹ چیکر کو دیکھ کر مسکراتی ہے
پاس آتا ہے ٹکٹ چیکر
تو کھڑکی سے باہر جھانکنے لگتی ہے
بلا ٹکٹ سفر کرتی ہوئی لڑکی
راحت کی سانس لیتی ہے
بلاٹکٹ سفر کرتی ہوئی لڑکی
پیڑ ، پہاڑ اور آسمان بھی تو
ہیں اسی کی طرح بلا ٹکٹ
بلاٹکٹ ہی سفر کرتی ہیں چڑیاں سارے آسمان میں
پچیس روپے کا ٹکٹ لو
اس مہنگائی اور بے روزگاری کے دنوں میں
اکھرتا ہے کتنا
ان پچیس روپوں میں لے جاسکتی ہے پھل باپ کے لیے
خرید سکتی ہے
ایک ضروری کتاب
اپنی چھوٹی بہن کے لیے
بوگی میں بیٹھے لوگ بتیاتے ہیں
‘چہرہ بتا دیتا ہے صاب
کون چل رہا ہے بلاٹکٹ’
من ہی من میں ہنستی ہے
اور ہنسی کو چھپاتی ہے
بلاٹکٹ سفر کرتی ہوئی لڑکی
پکڑے جانے کے اندیشے سے
اندر ہی اندر سہم جاتی ہے
بلاٹکٹ سفر کرتی ہوئی لڑکی
٠٠٠
ڈھیر سارے کام
کیا تم مارچ کے آخر یا اپریل کے شروع میں آؤ گے؟
اب تو جلن ہونے لگی ہے تم سے
ڈھیروں کام یاد آرہے ہیں ان دنوں
تمہارے لیے کپڑے، مالش کا انتظام
ایک آیا ڈھونڈنی ہے ابھی سے
تاکہ جب آفس جاؤں تو وہ تمہیں شناسا لگے
حاملہ عورت اور بچے کی پرورش پر کتابیں پڑھتی ہوں ان دنوں
ڈھیر سارے نام تلاش کرتی پھرتی ہوں
ہر دن دودھ والے کی جان کھاتی ہوں
دن بھر انہیں چکلّسوں میں الجھی رہتی ہوں
پھر بھی کام ہیں کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے
٠٠٠
نیلیش رگھوونشی ، جدید ہندی کویتا کا ایک اہم نام ہیں۔ان کا جنم چار اگست 1969 کو گنج باسودا، مدھیہ پردیش میں ہوا۔ان کو اپنی نظم ‘ہنڈا’ پر بھارت بھوشن اگروال انعام دیا گیا جو کہ انہوں نے 1997 میں لکھی تھی۔ان کی نظموں کے تین مجموعے ‘گھر نکاسی'(1997)، ‘پانی کا سواد'(2004)، اور ‘انتم پنکتی میں'(2008) شائع ہوچکے ہیں۔ساتھ ہی ساتھ دو ناول ‘ایک قصبے کے نوٹس’ اور ‘شہر سے دس کلو میٹر’ بھی شائع ہوچکے ہیں۔ان کو بھارت بھوش اگروال سمان کے ساتھ کیدارسمان، یُوا لیکھ پُرسکار جیسے اعزازات سے بھی نوازا گیا ہے۔فی الحال وہ مدھیہ پردیش میں ہی مقیم ہیں۔
اپنی نظموں یا کویتاؤں میں بہت ہی سرلتا اور سہجتا کے ساتھ زندگی کے مختلف زاویوں کو اتارتی ہوئی نیلیش رگھوونشی اپنے انوکھے انداز کی وجہ سے ہندی کے جدید شاعروں میں اپنے لیے ایک الگ مقام بناچکی ہیں۔نیلیش کی چھ نظمیں یہاں ترجمہ کی گئی ہیں، یہ پوری طرح تو ان کی نمائندگی نہیں کرتی ہیں، مگر چونکہ ان میں دو طویل نظمیں بھی شامل ہیں، اس سے امید کی جاسکتی ہے کہ پڑھنے والوں کو ان کے شعری سروکار کا اندازہ ہوسکے گا۔نیلیش رگھوونشی کی اکثر کویتاؤں میں انسان کے من یا ذہن میں ہونے والی کھسپھساہٹ کو بہت عمدگی سے رقم کیا جاتا ہے۔وہ ایک بہتر نظم نگار کی طرح اکثر زندگی میں گھٹنے والی معمولی گھٹناؤں کو بھی پھیلا کر اور ان سے ذرا دور ہٹ کر اطمینان سے دیکھا کرتی ہیں۔منظر نگاری ہو یا کردار نگاری ان دونوں میں ان کے یہاں وہ آہستہ رو تخلیقی عمل کام کرتا ہے، جس سے قاری اس ان کہی تک بھی پہنچ جاتا ہے، جو لفظوں کی چادر پر دکھائی نہیں دیتی۔