نیلیش رگھوونشی کی نظمیں

نِیلیش رگھوونشی کی نظمیں

 

شہر

 

کیسی گرد آلود تنہائی

چھائی ہوئی ہے چاروں طرف

شہر مرتے کیسے ہیں؟

دھماکوں کے ساتھ نہیں مرتے

برداشت کی حد پارکرنے اور

سمجھدار خاموشی سے مرتے ہیں شہر

٠٠٠

 

ٹیلی فون پر باپ کی آواز

 

ٹیلی فون پر

تھرتھراتی ہے باپ کی آواز

دیے کی لو کی طرح کانپتی ہوئی سی

دور سے آتی ہوئی

بے چینی اور دکھ کو چھپائے ہوئے

ٹیلی فون کے تار سے گزرتی ہوئی

کوستی، جھنجھلاتی

اس جدید آلے پر

تاروں کی طرح ٹمٹماتی

ٹوٹتی، جڑتی ہوئی سی آواز

کتنا سکون بخش ہے

باپ کو ٹیلی فون پر سننا

پہلے پہل کیسے پکڑا ہوگا انہوں نے ٹیلی فون

 

کڑکتی بجلی سی باپ کی آواز

کیسی سہمی سہمی سی  لگتی ہےٹیلی فون پر

بنتے بگڑتے بلبلوں کی طرح

باپ کی بھرائی ہوئی سی آواز

پکڑے رہے ہوں گے

ٹیلی فون دیر تک

اپنے ہی بچوں سے

دور سےباتیں کرتے ہوئے باپ

٠٠٠

 

بے گھر

 

تالے لگانے کے لیے دروازے نہیں تھے

سو انہیں سنبھالنے کے لیے چابیاں نہ تھیں

اس کے آنے سے پہلے

کوئی اس کے لیے دروازے نہیں کھولتا تھا

 

گھر نہیں تھا تو آنگن نہیں تھا

آنگن نہیں تھا تو چہل قدمی کی عادت نہ تھی

دیواریں نہیں تھیں تو کھڑکیاں نہیں تھیں

کھڑکیاں نہ ہونے سے جھانکنے کی عادت نہیں تھی

کسی کے آنے کی آس نہ تھی

کوئی اتنا زیادہ بھی نہیں آتا تھا کہ

وہ یہ سوچ پاتا کہ کاش اس سمے کوئی نہ آئے

گھر کے نہ ہونے سے

جیون میں کسی طرح کی کھٹکھٹاہٹ نہ تھی

 

کار میں وہ بنا گھر کے شہر میں رہتا ہے

گانوکے گھر میں کھاٹ تھی

جس پر وہ پانو پھیلا کر بیٹھتا اور پسر کر سوتا تھا

شہر کی بُلیرو میں نرم گدے دار سیٹ ہے

جس پر وہ قرینے سے بیٹھتا ہے اور

رات میں چادر بچھا کر گھٹنے موڑ کر سوتا ہے

 

گانو کے پانچ ایکڑ بنجر کھیت نے

اسے بے گھر بنجارا بنادیا ہے

بنجاروں جیسی مستی نہیں ہے اس کے پاس

وہ نیم خوابیدگی کے عالم میں کھویا رہتا ہے

شہر میں

ثابت گھروں کو ٹوٹتے اور پھر بنتے دیکھتا ہے

گھر کے ڈھہتے ہی

ملبہ اس کے بھیتر جگہ بنانے لگتا ہے

ٹوٹتے گھر کا ہر ایک کونا بجتا ہے اس کے بھیتر

ایک کونا چولہے پر دھدھکتی دیگچی کے لیے

ایک کونا گھڑونچی کے لیے

ایک کونا آنگن سے آکاش توڑنے کے لیے

ایک کونا پیڑوں سے جھڑ گئے پتوں اور

چڑیوں کے گھونسلوں کے لیے

ایک کونا جس میں سب اٹ جائے

ایک جینے کے لیے اور

ایک کونا ٹھنڈی سانس لے کر مرنے کے لیے

سناٹے سے بھرا سوچتا ہے وہ

کاش گاڑیوں کے اندر بھی کونے ہوتے

 

گاڑی کی چابی کو چمکاتا پھرتا

قسطوں کے ختم ہونے کا انتظار کرتا

وہ ریل گاڑیوں کو آتے اور جاتے دیکھتا ہے

پانو سیدھے کرتا ہے پلیٹ فارم کی بینچ پر

نل  پر اوک سے پانی پیتا ہے

پٹریوں پر کرتا ہے غسل

لوٹے کی پرچھائیں تیرتی ہے پانی میں

گھر کی یاد آتی ہے جو بہت ستاتی ہے

وہ ٹرین پر ایسے چڑھتا ہے

چڑھ رہا ہو جیسے گھر کی سیڑھیاں

مسافروں  سے ایسے بتیاتا ہے

بتیارہا ہو جیسے پڑوسیوں سے

جاتی ہوئی ریل گاڑیوں کو کرتا ہے وداع

وداع کیا جیسے اسے اس کے کھیت کھلیان نے

اس کے من اور تن پر کئی کھرونچیں ہیں

لیکن قسطوں کی بلیرو پر

ایک بھی کھرونچ نہیں آنے دیتا

بلیرو اس کے من کی کھڑکی ہے

جس پر کوئی پردا نہیں ہے

 

شہر میں کار کو اپنا گھر بنانے والے

بے گھر آدمی کو

کار کے نہیں، گھر کے خواب آتے ہیں

٠٠٠

 

ملاح کا شوک گیت

 

جب پہلی بار ملاح لکڑی کے ٹکڑے پر چڑھ کر

سمندر کے اس پار تک گیا

افق اسے دیکھ کر ہنسا ، لہروں نے گلے لگالیا

مارے خوشی کے پانی کی اندرونی لہر نے ناؤ سمیت بھنور میں کھینچ لیا

مچھلیاں تٹ تک چھوڑنے آئیں، ریت اس کے بدن پر چمک بن کر چھاگئی

ایسا کیوں ہوا نہیں جانتا ملاح

کانٹے میں پھنسی مچھلی کی طرح

کبھی سمندر ملاح کے ہاتھوں میں ہوتا ہے کبھی ملاح سمندر کے ہاتھوں میں

ہر وہ چیز چپ ہے آج جس کا جنم گیت سمندر ہے

ہر پل ڈول رہی ہے دھرتی لگتا ہے ڈر اب  پانی سے

میری آنکھوں کے سامنے میں نے اپنی بیٹی کو پانی میں جاتے دیکھا ہے

کہتے ہوئے منہ پھیرلیتی ہے بوڑھی مچھوارن

 

اب تو سمندر نہ نگلتے بنتا ہے نہ اگلتے

بھاگو بھاگو پانی پانی کی آواز سے اندھیری رات میں بھاگتے ہیں سب

میری ماں کو سنامی لے گئی ماں مجھے  روز خوابوں میں آکر بلاتی ہے

نہیں، میں کچھ نہیں یاد کرنا چاہتا

ہمارا باپ تھا ، بزرگ تھا وہ، ایسا کرے گا ہمیں یقین ہی نہیں ہوتا

کیوں کیوں وہ ہمارا دشمن بن گیا

اب تو اس کی طرف پیٹھ کرنے کا بھی دل نہیں

ہر رات اندھیرے میں کالا بھورا پانی چڑھتا ہے ، ریت میں دھنس گئے ہیں پانو

بھاگتے ہوئے بھی بھا گ نہیں پا رہا میں

سب لٹ گیا لٹ گیا سب کچھ، کچھ مت پوچھو ہم سے

نہ سمندر سمندر رہااور نہ ہم مچھوارے مچھوارے رہے

ہزاروں ہزار بحری سفر کیے ہیں میں نے لیکن

اتوار کو آئی سنامی لہر کے بعد نفرت ہوگئی ہے مجھے اس کے تلاطم سے

زندگی بھر پیار کیا ہے جس سے اسی پر تھوکتا ہوں آج

اس کو میرے بیٹے اور میری بیوی کو چھوڑ دینا چاہیے تھا

میرے پوتے شانتن کی جگہ یہ بزدل دھوکے باز مجھے ہی نگل لیتا

یہ تو شاپ بن گیا ہے میری زندگی کا

میرے گھر کے برتن بھی کھاگیا اور گدے کو نمک میں ڈبو کر پیڑ پر لٹکادیا

میری ناؤ  اور مچھلی پکڑنے کا جال کہتے ہوئے

کوچو بابا کا گلا رُندھ جاتا ہے

میں روز یہیں بیٹھ کر حیرت زدہ ہوکر دیکھتا ہوں سمندر کو

یہ اتنی بری طرح سے کیسے مجھے زخمی کرسکتا ہے

دیکھو اس کی بربریت ، سب مجھے سمندر کا کچھوا کہتے تھے

میرے پوتے شانتن کو جب یہ لے جارہا تھا

تب میں ایک بہتی لکڑی بھی نہیں  بن سکا تھا

 

سمندر جس سے پیار کرتا ہے اسے تیسرے دن زندہ واپس کردیتا ہے

وہ میری ماں سے بہت پیار کرتا ہے

ماں نے پورے پچاسی برس گزارے ہیں اس کے ساتھ

ماں اور سمندر کا ساتھ دیکھتے پورے پینسٹھ برس ہوگئے مجھے

کنویں سے بھی گہری آواز میں بولتا تیاگ راجن

کچھ کہنے سننے کا موقع ہی نہیں دیا سنامی نے

تھوڑا سا وقت دیتی تو ماں بتاتی اسے سمندر کے بارے میں

دیکھنا لہریں جیسے لے کر گئی تھیں ماں کو ویسے ہی لوٹابھی دیں گی

ماں اور سمندر ایک دوسرے کو پیار جو کرتے تھے

 

میں اور میری بہن دابو کھانا کھارہے تھے

جیسے ہی لہر آئی میں بھاگا اور بچ گیا

لہروں نے  میری ماں کو گھسیٹ لیا اور زور سے دیوار پر پٹک دیا

یہ سب میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، میرے بھیتر اس سمے سمندر زندہ تھا

نہیں تو بھلا میں ماں اور بہن کو چھوڑ کر بھاگتا

مجھے بھی گھاتی بنادیا اس نے

سب کچھ بہہ گیا سنامی میں بچا ہے تو صرف میرا وشواس گھات

 

سمندر کیوں چھل کرتا ہے جہاں تہاں زندگی کے ساتھ

کیوں ملاح کے گھر پر ہنسی  اورخوشی ڈیرا نہیں ڈالتیں

کیوں چھل اور تٹ ایک دوسرے کے ہم معنی ہیں

ہائے ہم نے بھی جیون بھر لاکھوں کروڑوں کو مارا

پانی جن کا جیون تھا ، انہیں پانی سے ہی الگ کیا

ملاحوں کی قسمت

مچھلی کو ماریں تو من سے مریں، نہ ماریں تو پیٹ سے مریں

پھپھک پھپھک کر روتا ہے بوڑھا ملاح

تونے جنم ہی کیوں لیا اس دھرتی پر

نہ ہم دیو تا ہیں، نہ شیطان ، کیوں باربار زہر اگلتا ہے

ہم میں سے کوئی شِو نہیں ہے جو تیرے زہر کو گلے میں دھر لے

نیل کنٹھ

تم نے دیوتاؤں کے لیے زہر نگل لیا، بھول گئے تم

زمین پر مچھوارے بھی بستے ہیں

جنہیں اپنی مرضی سے چھلتا ہے سمندر اور ہنستا ہے

اگر یہ کہانی سچ ہوتی تو

دیوتا اور شیطان کے درمیان ہم مچھوارے بھی ہوتے

ملاح چھل نہیں کرتا، چھل کو پسند کرنے والا نہیں ہے وہ

ارے ناسمجھ! تیرے بھیتر کے سارے انمول رتن لُٹ گئے

تیرا امرت بھی تیرا نہ رہا، تو ہمیشہ کے لیے کھارا ہوگیا

پھر بھی ہم نے تجھے اپنے جی سے لگایا اور تو ہے کہ ہمیں سے دھوکا کرتا ہے

جا چلو بھر پانی میں ڈوب مر

 

سکھ ا ور دکھ جیون کے دو پہیے۔۔۔پہیے دو جیون کے سکھ اور دکھ

دونوں کی گٹھری بنا ڈُبکی لگائیں جو ہوا اسے بھول جائیں ، او رے او بے غرض جا تجھے معاف کیا

گا رہی ہی ملاحِن ، رو رہا ہے سمندر بوڑھے ملاح کے ساتھ ساتھ

٠٠٠

 

بلا ٹکٹ سفر کرتی ہوئی لڑکی

 

بلا ٹکٹ سفر کرتی ہوئی لڑکی

ہوتے ہوئے سب کے ساتھ بھی

سب سے بچاتی ہے اپنے آپ کو

کسی سے بھی آنکھیں نہیں ملاتی

بلا ٹکٹ سفر کرتی ہوئی لڑکی

 

چھپاتی ہے اپنی گھبراہٹ

جیب میں ہاتھ ڈال کر چپ چاپ ٹٹولتی ہے روپے

ٹکٹ چیکر کو دیکھ کر مسکراتی ہے

پاس آتا ہے ٹکٹ چیکر

تو کھڑکی سے باہر جھانکنے لگتی ہے

بلا ٹکٹ سفر کرتی ہوئی لڑکی

 

راحت کی سانس لیتی ہے

بلاٹکٹ سفر کرتی ہوئی لڑکی

پیڑ ، پہاڑ اور آسمان بھی تو

ہیں اسی کی طرح بلا ٹکٹ

بلاٹکٹ ہی سفر کرتی ہیں چڑیاں سارے آسمان میں

پچیس روپے کا ٹکٹ لو

اس مہنگائی اور بے روزگاری کے دنوں میں

اکھرتا ہے کتنا

ان پچیس روپوں میں لے جاسکتی ہے پھل باپ کے لیے

خرید سکتی ہے

ایک ضروری کتاب

اپنی چھوٹی بہن کے لیے

 

بوگی میں بیٹھے لوگ بتیاتے ہیں

‘چہرہ بتا دیتا ہے صاب

کون چل رہا ہے بلاٹکٹ’

من ہی من میں ہنستی ہے

اور ہنسی کو چھپاتی ہے

بلاٹکٹ سفر کرتی ہوئی لڑکی

پکڑے جانے کے اندیشے سے

اندر ہی اندر سہم جاتی ہے

بلاٹکٹ سفر کرتی ہوئی لڑکی

٠٠٠

 

ڈھیر سارے کام

 

کیا تم مارچ کے آخر یا اپریل کے شروع میں آؤ گے؟

اب تو جلن ہونے لگی ہے تم سے

ڈھیروں کام یاد آرہے ہیں ان دنوں

تمہارے لیے کپڑے، مالش کا انتظام

ایک آیا ڈھونڈنی ہے ابھی سے

تاکہ جب آفس جاؤں تو وہ تمہیں  شناسا لگے

حاملہ عورت اور بچے کی پرورش پر کتابیں پڑھتی ہوں ان دنوں

ڈھیر سارے نام تلاش کرتی پھرتی ہوں

ہر دن دودھ والے کی جان کھاتی ہوں

دن بھر انہیں چکلّسوں میں الجھی رہتی ہوں

پھر بھی کام ہیں کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے

٠٠٠

نیلیش رگھوونشی ، جدید ہندی کویتا کا ایک اہم نام ہیں۔ان کا جنم  چار اگست 1969 کو گنج باسودا، مدھیہ پردیش میں ہوا۔ان کو اپنی  نظم ‘ہنڈا’ پر  بھارت بھوشن اگروال انعام دیا گیا جو کہ انہوں نے 1997 میں لکھی تھی۔ان کی نظموں کے تین مجموعے ‘گھر نکاسی'(1997)، ‘پانی کا سواد'(2004)، اور ‘انتم پنکتی میں'(2008) شائع ہوچکے ہیں۔ساتھ ہی ساتھ دو ناول ‘ایک قصبے کے نوٹس’ اور ‘شہر سے دس کلو میٹر’ بھی شائع ہوچکے ہیں۔ان کو بھارت بھوش اگروال  سمان کے ساتھ کیدارسمان، یُوا لیکھ پُرسکار جیسے اعزازات سے بھی نوازا گیا ہے۔فی الحال وہ مدھیہ پردیش میں ہی مقیم ہیں۔

اپنی نظموں یا کویتاؤں میں بہت ہی سرلتا اور سہجتا کے ساتھ زندگی کے مختلف زاویوں کو اتارتی ہوئی  نیلیش رگھوونشی اپنے انوکھے انداز کی وجہ سے ہندی کے جدید شاعروں میں اپنے لیے ایک الگ مقام بناچکی ہیں۔نیلیش  کی چھ نظمیں یہاں ترجمہ کی گئی ہیں، یہ پوری طرح تو ان کی نمائندگی نہیں کرتی ہیں، مگر چونکہ ان میں دو طویل نظمیں بھی شامل ہیں، اس سے امید کی جاسکتی ہے کہ پڑھنے والوں کو ان کے شعری سروکار کا اندازہ ہوسکے گا۔نیلیش رگھوونشی  کی اکثر کویتاؤں میں انسان کے من یا ذہن میں ہونے والی کھسپھساہٹ کو بہت عمدگی سے رقم کیا جاتا ہے۔وہ ایک بہتر نظم نگار کی طرح اکثر زندگی میں گھٹنے والی معمولی گھٹناؤں کو بھی پھیلا کر اور ان سے ذرا دور ہٹ کر اطمینان سے دیکھا کرتی ہیں۔منظر نگاری ہو یا کردار نگاری  ان دونوں میں ان کے یہاں وہ آہستہ رو تخلیقی عمل کام کرتا ہے، جس سے قاری اس ان کہی تک بھی پہنچ جاتا ہے، جو لفظوں کی چادر پر دکھائی نہیں دیتی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

content-1701

article 838000411

article 838000412

article 838000413

article 838000414

article 838000415

article 838000416

article 838000417

article 838000418

article 838000419

article 838000420

article 838000421

article 838000422

article 838000423

article 838000424

article 838000425

article 838000426

article 838000427

article 838000428

article 838000429

article 838000430

article 838000431

article 838000432

article 838000433

article 838000434

article 838000435

article 838000436

article 838000437

article 838000438

article 838000439

article 838000440

article 838000441

article 838000442

article 838000443

article 838000444

article 838000445

article 838000446

article 838000447

article 838000448

article 838000449

article 838000450

article 00036

article 00037

article 00038

article 00039

article 00040

article 00041

article 00042

article 00043

article 00044

article 00045

article 00046

article 00047

article 00048

article 00049

article 00050

article 00051

article 00052

article 00053

article 00054

article 00055

article 00056

article 00057

article 00058

article 00059

article 00060

article 00061

article 00062

article 00063

article 00064

article 00065

article 00066

article 00067

article 00068

article 00069

article 00070

article 00071

article 00072

article 00073

article 00074

article 00075

article 0000131

article 0000132

article 0000133

article 0000134

article 0000135

article 0000136

article 0000137

article 0000138

article 0000139

article 0000140

article 0000141

article 0000142

article 0000143

article 0000144

article 0000145

article 0000146

article 0000147

article 0000148

article 0000149

article 0000150

article 0000151

article 0000152

article 0000153

article 0000154

article 0000155

article 0000156

article 0000157

article 0000158

article 0000159

article 0000160

article 0000161

article 0000162

article 0000163

article 0000164

article 0000165

article 0000166

article 0000167

article 0000168

article 0000169

article 0000170

article 2000126

article 2000127

article 2000128

article 2000129

article 2000130

article 2000131

article 2000132

article 2000133

article 2000134

article 2000135

article 2000136

article 2000137

article 2000138

article 2000139

article 2000140

article 2000141

article 2000142

article 2000143

article 2000144

article 2000145

article 2000146

article 2000147

article 2000148

article 2000149

article 2000150

article 2000151

article 2000152

article 2000153

article 2000154

article 2000155

article 2000156

article 2000157

article 2000158

article 2000159

article 2000160

article 2000161

article 2000162

article 2000163

article 2000164

article 2000165

articel 000000161

articel 000000162

articel 000000163

articel 000000164

articel 000000165

articel 000000166

articel 000000167

articel 000000168

articel 000000169

articel 000000170

articel 000000171

articel 000000172

articel 000000173

articel 000000174

articel 000000175

articel 000000176

articel 000000177

articel 000000178

articel 000000179

articel 000000180

articel 000000181

articel 000000182

articel 000000183

articel 000000184

articel 000000185

articel 000000186

articel 000000187

articel 000000188

articel 000000189

articel 000000190

articel 000000191

articel 000000192

articel 000000193

articel 000000194

articel 000000195

articel 000000196

articel 000000197

articel 000000198

articel 000000199

articel 000000200

content-1701
news-0801

yakinjp


sabung ayam online

yakinjp

yakinjp

rtp yakinjp

yakinjp

yakinjp

judi bola online

slot thailand

yakinjp

yakinjp

yakinjp

yakinjp

ayowin

mahjong ways

judi bola online

mahjong ways 2

JUDI BOLA ONLINE

maujp

maujp

sabung ayam online

maujp

maujp

maujp

maujp

sabung ayam online

mahjong ways slot

sbobet88

live casino online

Situs Agen Togel

MAUJP

118000021

118000022

118000023

118000024

118000025

118000026

118000027

118000028

118000029

118000030

118000031

118000032

118000033

118000034

118000035

118000036

118000037

118000038

118000039

118000040

118000041

118000042

118000043

118000044

118000045

118000046

118000047

118000048

118000049

118000050

128000021

128000022

128000023

128000024

128000025

128000026

128000027

128000028

128000029

128000030

128000031

128000032

128000033

128000034

128000035

128000036

128000037

128000038

128000039

128000040

128000041

128000042

128000043

128000044

128000045

128000046

128000047

128000048

128000049

128000050

138000021

138000022

138000023

138000024

138000025

138000026

138000027

138000028

138000029

138000030

138000031

138000032

138000033

138000034

138000035

138000036

138000037

138000038

138000039

138000040

138000041

138000042

138000043

138000044

138000045

138000046

138000047

138000048

138000049

138000050

148000026

148000027

148000028

148000029

148000030

148000031

148000032

148000033

148000034

148000035

148000036

148000037

148000038

148000039

148000040

148000041

148000042

148000043

148000044

148000045

148000046

148000047

148000048

148000049

148000050

148000051

148000052

148000053

148000054

148000055

148000056

148000057

148000058

148000059

148000060

148000061

148000062

148000063

148000064

148000065

148000066

148000067

148000068

148000069

148000070

158000041

158000042

158000043

158000044

158000045

158000046

158000047

158000048

158000049

158000050

158000051

158000052

158000053

158000054

158000055

158000056

158000057

158000058

158000059

158000060

158000061

158000062

158000063

158000064

158000065

158000066

158000067

158000068

158000069

158000070

168000011

168000012

168000013

168000014

168000015

168000016

168000017

168000018

168000019

168000020

168000021

168000022

168000023

168000024

168000025

168000026

168000027

168000028

168000029

168000030

168000031

168000032

168000033

168000034

168000035

168000036

168000037

168000038

168000039

168000040

178000036

178000037

178000038

178000039

178000040

178000041

178000042

178000043

178000044

178000045

178000046

178000047

178000048

178000049

178000050

178000051

178000052

178000053

178000054

178000055

178000056

178000057

178000058

178000059

178000060

178000061

178000062

178000063

178000064

178000065

188000141

188000142

188000143

188000144

188000145

188000146

188000147

188000148

188000149

188000150

188000151

188000152

188000153

188000154

188000155

188000156

188000157

188000158

188000159

188000160

188000161

188000162

188000163

188000164

188000165

188000166

188000167

188000168

188000169

188000170

198000031

198000032

198000033

198000034

198000035

198000036

198000037

198000038

198000039

198000040

198000041

198000042

198000043

198000044

198000045

198000046

198000047

198000048

198000049

198000050

198000051

198000052

198000053

198000054

198000055

198000056

198000057

198000058

198000059

198000060

218000021

218000022

218000023

218000024

218000025

218000026

218000027

218000028

218000029

218000030

218000031

218000032

218000033

218000034

218000035

218000036

218000037

218000038

218000039

218000040

218000041

218000042

218000043

218000044

218000045

218000046

218000047

218000048

218000049

218000050

228000016

228000017

228000018

228000019

228000020

228000021

228000022

228000023

228000024

228000025

228000026

228000027

228000028

228000029

228000030

228000031

228000032

228000033

228000034

228000035

228000036

228000037

228000038

228000039

228000040

228000041

228000042

228000043

228000044

228000045

228000046

228000047

228000048

228000049

228000050

238000001

238000002

238000003

238000004

238000005

238000006

238000007

238000008

238000009

238000010

238000011

238000012

238000013

238000014

238000015

238000016

238000017

238000018

238000019

238000020

news-0801