چشمہ
دادا جی نےجانے کی زبان
اور بھولنے کی زبان ، ایک ہی وقت پر سیکھنا شروع کی
ایسی آسانی سے وہ بھولتے گئے دنیا کی تمام چیزوں کو
جیسے یہ بھولنا فطرت نہیں، عادت ہو
جیسے زندگی بھر کی مصیبتوں کے بعد، انہوں نے موت سے پہلے
یادوں کے جھولے سے، ایک ایک چیز اٹھا کر
زمین پر بکھیرنا شروع کردی تھی
اور ایسے انت میں وہ بھول رہے تھے چلنا، اور سانس لینا
اور کھانا چبانا
جس نیند میں انہوں نے جسم کو الوداع کہا، اس نیند سے پہلے بھی انہوں نے
ایک سوچے سمجھے سبب سے، بھولا ہوگا کچھ، مثلاً اپنے گاؤں کا،
کسی دوست کا، یا دادی کا، یا پھر میرا نام
وہ تھوڑے زیادہ خالی تھے، تھوڑے زیادہ ہلکے
موت کی بانہوں میں جانے کے لیے زیادہ تیار
کبھی کبھی لگتا ہے ان کی بھولی یادیں ابھی تک لگی ہوئی ہیں
ان کی پرانی چیزوں پر
جیسے اس کنگھے پر ان کے سوکھے بالوں سے زیادہ ان کا کوئی پرانا دکھ چپکا ہے،
جب انہیں لگا تھا وہ اندھے ہوجائیں گے،
یا اپنی موت کا پہلا مضبوط خیال جس رات ان کے دل میں کوندھا ہوگا، یا اسی طرح کچھ
اور اس چشمے پر لگی دھوپ تو اس سورج کی ہے ہی نہیں، جو چمک رہا ہے ابھی آسمان میں
٠٠٠
داستان
یہ پیلی پرانی دھول کی کرکراہٹ ہے
جو تاریخ کے سبھی دستاویزوں پر
پھیل جاتی ہے دھیرے سے
یہ کسی قدیم جوتے کا سفرنامہ ہے
جس نے دیکھے قبائلی راستے
اور جانوروں کی ہڈیوں سے پٹی پگڈنڈیاں
یہ گھوم کر آرہی ایک شام ہے
جس میں ایک پاگل آدمی اپنی قبر کھود رہا ہے
اس میں سلا رہا ہے اپنے نیلے عکس کو
اور اوپر لگے چاند نما پتھر پر لکھ رہا ہے
اپنا نام بڑے حرفوں میں
یہ خواب میں قتل کردیے جانے کے لیے
قلم کی تہذیب جتنا ایک مرثیہ ہے
یہ ایک نیند کا قصہ ہے
جو اب تک دوڑتی ہے جنگلوں میں
یہ سیاروں کی آوازوں جیسی غفلت میں ڈوبی
ایک رات کی داستان ہے
٠٠٠
ٹوٹتا ہوا درخت
ٹوٹتا ہوا درخت بہت دھیمی رفتار سے
زمین کو سونپتا ہے
اپنی روحانیت کے تنتر
گھاس کو سونپتا ہے اپنی چھال پر
چڑھ جانے کی جگہ
ان گنت گلہریوں، چڑیوں، بامبیوں میں رہتے حشرات کو
اپنا کمزورچوبی جسم
اور اپنی معدوم ہوتی آتما
کہ جب اس کے دل سے مکمل طور پر غائب ہوجائے زندگی کا سنگیت
تب بھی زمین پر جیون کی تمام گونجوں میں
وہ شامل کرسکے اپنی آواز
اس طرح وہ ہوتا ہے امر
جس کابوس میں ڈوبتا اور ڈھہتا ہوں
اس میں سب سے زیادہ دکھائی دیتے ہیں عزیز
اور سینوں پر سوراخ سجائے
ان کی بے رنگ، بے دم آتمائیں
٠٠٠
پریم کرنا
پریم کرنا
جیسے کبھی نہیں کھلے گی کلی
پھوٹنے کی اپنی توقعات
زمیں بوس ہوتے ہوئے گم کردے گی
جیسے اڑے گا نہیں پرندہ
گھاس میں بھول جائے گا راستہ
ہوا میں ایک لازوال امید کی طرح کھو جائے گی
اس کے دو پنکھوں کی جگہ
جیسے کوئی جملہ برسوں سوچنے کے بعد بھی نہیں کہا جائے گا
جیسے زندگی میں کام رہ جائیں گے ادھورے
جیسے امیدیں ٹوٹیں گی اور خواب بھی
ادھوری چیزیں پوری نہیں ہوں گی
کھوئی چیزیں مل کر بھی نہیں ملیں گی
پریم ہوگا ، نہیں ہوگا
٠٠٠
بوسہ
کس بوسے کی زیادتی نے پھول کو ہجرت کرنے پر آمادہ کیا
اور وہ آسمان کا سورج بن گیا
کس تنہابوسے کے بیانات سے جھڑتی ہوئی دھول نے
سمتیں بنائیں
کس بوسے کے راستے پہنچی ہم تک تنہائی
ایڑیوں میں بھرتا ٹھنڈا پن
دیوار کی گرد میں ابھارتا ہوا اپنی شکل
کس بوسے نے ہمارے ساتھ کی اندرونی تہوں میں
دبا دیا ایک اندھے درخت کا بیج
جس کے بے سمت پھیلاؤ سے
ٹوٹ گئے دو جسموں کے درمیان موجود قدرتی کنارے
تمہارے پھول کی بو میری جڑوں میں پیوست ہوئی
اور ان کا اندھیرا تمہارے خطوں میں اتر گیا
کس بوسے نے ہمیں کِیلوں کی طرح ٹھوکا اپنے طے شدہ سانچوں میں
کہ بارش میں بھیگتے
اپنی زنگ آلود ہوتی شبیہ میں ڈوبتے، ختم ہوتے
ہم دیکھ ہی نہیں پائے کہ کس طرف تھی مُکتی
کس بوسے نے دی ہمیں بے حد و حساب امکانات کی ایک رات
اور بغیر امکانات کی بے حد و حساب راتیں
٠٠٠
بہت دنوں بعد
ایک دن، بہت دنوں بعد
تمہیں یاد کرتے ہوئے میں پاؤں گا کہ میں جسے
یاد کررہا ہوں وہ تم نہیں ہو
بہت دنوں بعد، دماغ میں گڑبڑا جائیں گی چیزیں، کسی اور
چیز کو پکاروں گا کسی اور نام سے، مردہ لوگوں سے کروں گا باتیں،
دوہراؤں گا ان سے اپنے دل کی بے ہنگم بکواس جو کسی زندہ
شخص نے نہیں سنی کبھی
بہت دھیمے سے جاؤں گا فراموشی کے پاس، اور اسے دوں گا اپنی
زندگی کا جمع کیا ہوا سب سرمایہ
ابھی جو کچھ بھی چھوٹتا ہے ہاتھوں سے، لگتا ایسا ہی ہے کہ کچھ
دور چل کر پالیا جائے اسے واپس، بشرطیکہ اتنی دور جانے میں
تھک نہ جائیں پاؤں
لیکن ان سب سے بے پروا، سینےمیں لہراتا،
بڑھتا چلا جاتا ہے کالا پانی
جھک کر دیکھنے پر دکھتی ہیں بس ڈوبی، پانی میں گلتی، گم ہوتی ہوئی چیزیں
٠٠٠
زبانیں
زبانیں پہلے اپنی خاموشی کو جنم دیتی ہیں
آنکتی ہیں منظر اور رنگ اور موسم
شام کے اور صبح کے الگ الگ شور کو
الگ الگ خانوں میں رکھتی ہیں
بوسوں سے مانگتی ہیں ہونٹ اورگہری تپن کا اندازہ
ہوس سے مانگتی ہیں اپنا اسلوب جس میں تاریخ کی
بے انتہا ظلمت تلاش کرسکے اپنے چہرے جتنی جگہ
دکھ سے ہی مانگتی ہیں دکھ کے سب سے مقدس الفاظ
خواب سے ہی مانگتی ہیں اپنی ترتیب کا بکھراؤ
بین سے مانگتی ہیں سانس لینے کی جگہیں
جہاں نہیں آنا ہی ان کا کام ہے
زبانیں بھوک سے بنتی ہیں، اور آگ سے
اور چوٹ سے رستے مواد کی طرح ان سے بہتی ہیں تہذیبیں
زبانیں نمک سے بنتی ہیں ، اور لہو سے
اور سمندر انہیں دیتے ہیں اپنا شور
جلتے ہوئے جنگل، مرتے ہوئے لوگ، مٹتے ہوئے شہر
کوکھ میں کسی بچے کے تھرتھراتے ہونٹ
جشن اور مایوسی
تمام فراموش کردہ بیانوں سے لپٹا ہے ان کا جسم اس طرح
کہ کوئی کہا گیا معمولی جملہ بھی گونجتا رہتا ہے دیر تک
٠٠٠
یہ
اسے اس طرح نہ دیکھا جائے کہ جاگنے سے ایک سنسار ٹوٹتا ہے
نیند کا یا خواب کا
کہ بکھرتے ہیں جیسے پتھریلے آثارِ زندگی، ادھوری رہتی ہے کوئی کہانی
اسے اس طرح بھی نہ دیکھا جائے کہ کتاب کے رکھتے ہی
دھول کی طرح جھڑ جاتا ہے باہر کی طرف کہانی کار
اگر نیند ایک درخت ہے
تو کلہاڑی کی طرح اس پر گرتا
اس کے دل کو چھیدتا، یہ کسی الارم گھڑی کا شور نہیں
اگر پریم ہے ، تو اسے ناامیدی تک سینچتا
یہ کوئی خواب کا پانی نہیں
یہ بس ہمارے ہونٹوں کا الگ ہونا ہے
یہ بس ایک بوسہ کا بکھرنا ہے
٠٠٠
وَسو گندھرو کی پیدائش 8 فروری 2001 کو امبیکاپور ، چھتیس گڑھ میں ہوئی۔انہوں نے انگریزی کے علاوہ معاشیات اور نفسیات جیسے مضامین میں گریجویشن کیا۔ان کی نظموں کے تین مجموعے ‘رچنا سمے’، ‘کسی رات کی لِکھِت اداسی میں’ اور ‘وِیت راگ’ شائع ہوچکے ہیں۔ ترجمہ شدہ نظمیں ان کے موخرالذکر مجموعے سے لی گئی ہیں، جو کہ اسی برس شائع ہوا ہے۔وہ شاستریہ سنگیت کے سنجیدہ طالب علم بھی رہے ہیں ۔ فی الحال حیدرآباد میں مقیم ہیں۔ادب کے علاوہ فلسفے اور معاشیات میں ان کی گہری دلچسپی ہے۔ انہوں نے کئی ادبی تراجم بھی کیے ہیں۔
ہندی شاعری اور بالخصوص ہندی کویتا گزرتے وقت کے ساتھ نئے اسالیب اور نئی بھاشاؤں کو دریافت کررہی ہے۔ وَسُو گندھرو نے بھی اپنا اسلوب اختراع کیا ہے۔ ان کا لہجہ ان کے معاصرین میں الگ سے پہچانا جاسکتا ہے۔ وہ سبک اور نرم خیالی کے قائل معلوم ہوتے ہیں۔ الفاظ کے چناؤ اور خیال کی بنت کے عمل میں ان کے یہاں جو زبان پیدا ہوئی ہے، اس میں اکہرا پن بالکل نہیں ہے،ساتھ ہی وہ مشکل اور الجھے ہوئے معاملات سے ہر قدم پر نمٹنے کے باوجود بہت تازہ دم معلوم ہوتی ہے۔ ان کے یہاں انسان، اس کی ہجرت، لمس اور یادوں کے تعلق سے جو رنگ نظر آتے ہیں، وہ دلچسپ معلوم ہوتے ہیں۔ اور کسی بھی شاعر کے لیے جس عمیق مشاہدے کی دریافت کا عمل لازمی ہے، وہ ان کے یہاں بہت عمدہ طور پر شامل تخلیق ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔وَسُو گندھرو کی نظموں کے اردو تراجم کا غالباً یہ پہلا موقع ہے۔