مہانگر کی ایک رات

‘تم نے ٹیکسی میں شیڈز کیوں لگائے ہیں؟ رات میں ان کی کیا ضرورت ہے؟’ اننیا نے جھلاتے ہوئے دونوں کھڑکیوں سے شیڈز ہٹادیے۔کانچ پر کالی کوٹنگ بین ہوگئی ہے پھر بھی یہ لوگ۔۔۔دن میں تو دھوپ ہوتی ہے مگر رات میں کیا ضرورت ہے! اس کی نظر پیچھے والے گلاس پر پڑی۔ کمال ہے۔۔۔یہاں […]
غلط پتے کی چٹھیاں

ایک تھی صاندلی رانی۔کھاتی سنار کی تھی، گاتی کمہار کی تھی۔ سنار دن بھر پسینہ بہاتا۔ اس کے لیے سندر جھمکے اور بالیاں گڑھتا۔ پھر اسے پہناتا۔ ہر بار بالی اور جھمکے کے لیے اسے کانوں میں نئے چھید کرنے پڑتے۔کان چھدوانے کی تکلیف میں اس کی آنکھیں نم ہو جاتیں۔مگر وہ چھدوائے جارہی تھی۔کمہار […]
مونچھیں

پرتاب جینتی پر اس بار سرکاری دفتر بند رہے۔ٹھاکر اس کے لیے برسوں سے کوششیں کررہے تھے۔ وہ بہت ناراض تھے کہ ایرے غیروں کی جینتوں پر تو چھٹی رہے اور رانا پرتاپ کا کہیں شمار ہی نہ ہو۔بات سچی تھی۔ اتفاق سے وزیر اعظم ٹھاکر تھے اس لیے وہ اس سچائی کو محسوس کرسکے۔انہوں […]
پراگ پاون کی نظمیں

میں تمہاری بھوک سے خوفزدہ ہوں میں تمہارے ملک سے اور تمہاری دنیا سے بری طرح تھک چکا ہوں تاج کی طرح چنڈال ہنسی اپنے سر پر سجائے تمہاری آتماؤں کے بدبو دار رسم و رواج اب سہے نہیں جاتے تمہارے ترازو پر اپنی زندگی رکھ کر سانسوں کا آواگون دیکھنا بہت ہی […]
کاتِک کا پہلا پھول

کمرے میں خاموشی کی سرگوشیاں سی ہورہی تھیں۔سرگوشیوں میں خوابوں کی چھٹپٹاہٹ تھی ، یادوں کی بچی ہوئی کرچیاں تھیں۔ بڑھاپا عمر کا ریسٹ ہاؤس تھا۔اوجھا جی کو لگتا تھا کہ زندگی دھاگے کی ایک ریل ہے۔جس دن پوری ادھڑ جائے گی اسی دن ختم ہوجائے گی۔گھڑی ٹک ٹک کی رفتار سے بڑھے جارہی تھی۔کھڑکی […]
تماش بین

ہم ایک طلسم کے حصار میں تھے۔ اسی طرح جیسے محبت،خواب یا دکھ کے حصار میں ہوتے ہیں۔ اس کیفیت میں ہم پہلی مرتبہ تھے ،حالانکہ دوسری ساری چیزیں معمول کے مطابق تھیں۔چھوٹا سا لان،امرود کا پیڑ،صبح دو بجے کی چاندنی،اکتوبر کے آخری دن،شبنم،سناٹا اورچہار دیواری کی منڈیر پر اونگھتی بلی۔یہ سب ہمیشہ ہی اس […]
مور

پرانی بات ہے ، ایک چھوٹی سی ریاست کے راجا نے ایک مور پالا۔ ویسے تو سبھی مور اچھا ناچتے ہیں، مگر اس مور کی بات الگ تھی۔وہ چَوپڑا کے کنارےگہرے درختوں کے جھنڈ میں رہتا تھا۔ اسی جگہ سادھو کا آشرم تھا، ایک مندر اور راج پریوار کے مرحومین کی سمادھیاں تھیں۔ایسی سمادھیاں کم […]
نشانت کوشک کی نظمیں

بھول کے سرے سے اُگتی تمہاری یاد تم کو دیکھتا ہوں تو جیسے بھول جاتا ہوں سامنے دکھائی دیتے پھول کا نام جیسے بھول جاتا ہوں ہتھیلی پر رکھا میر کا شعر جس میں سرسوں کی بھی بات ہے تم کو دیکھ کر یاد آتے ہیں ندیوں کے پرانے نام جس میں […]
زیور زبان سے آراستہ غزلیں

یہ ایک دلچسپ بات ہے کہ غزل ، جسے عام طور پر ہر زمانے میں نئی زبان اور بیان کا لباس پہنتے ہم نے دیکھا ہے۔وہ سید کاشف رضا کے یہاں کچھ ایسے زیورات میں ملبوس نظر آتی ہے، جنہیں ہم سرسری نگاہ سے دیکھیں تو شاید کلاسیکی اردو زبان کا ہم رنگ قرار دے […]
جنگل کی تین کہانیاں

(اکرام اللہ کے افسانوں ‘جنگل’، ‘لے گئی پون اڑا’ اور ‘راہ کا پتھر’ کے تناظر میں) عمدہ کہانیاں ایک طرح کی سیپ جیسی ہوتی ہیں، ان میں موتی ہے یا نہیں، اس سے زیادہ اہم بات ان کی بناوٹ میں ہوتی ہے۔ایسا ہردم معلوم ہونا چاہیے کہ اندر کچھ ہے یا پھر اس ساخت کے […]