وسو گندھرو کی نظمیں

چشمہ

 

دادا جی نےجانے کی زبان

اور بھولنے کی زبان ، ایک ہی وقت پر سیکھنا شروع کی

 

ایسی آسانی سے وہ بھولتے گئے دنیا کی تمام چیزوں کو

جیسے یہ بھولنا فطرت نہیں، عادت ہو

 

جیسے زندگی بھر کی مصیبتوں کے بعد، انہوں نے موت سے پہلے

یادوں کے جھولے سے، ایک ایک چیز اٹھا کر

زمین پر بکھیرنا شروع کردی تھی

 

اور ایسے انت میں وہ بھول رہے تھے چلنا، اور سانس لینا

اور کھانا چبانا

 

جس نیند میں انہوں نے جسم کو الوداع کہا، اس نیند سے پہلے بھی انہوں نے

ایک سوچے سمجھے سبب سے، بھولا ہوگا کچھ، مثلاً اپنے گاؤں کا،

کسی دوست کا، یا دادی کا، یا پھر میرا نام

 

وہ تھوڑے زیادہ خالی تھے، تھوڑے زیادہ ہلکے

موت کی بانہوں میں جانے کے لیے زیادہ تیار

 

کبھی کبھی لگتا ہے ان کی بھولی یادیں ابھی تک لگی ہوئی ہیں

ان کی پرانی چیزوں پر

 

جیسے اس کنگھے پر ان کے سوکھے بالوں سے زیادہ ان کا کوئی پرانا دکھ چپکا ہے،

جب انہیں لگا تھا وہ اندھے ہوجائیں گے،

یا اپنی موت کا پہلا مضبوط خیال جس رات ان کے دل میں کوندھا ہوگا، یا اسی طرح کچھ

 

اور اس چشمے پر لگی دھوپ تو اس سورج کی ہے ہی نہیں، جو چمک رہا ہے ابھی آسمان میں

٠٠٠

 

داستان

 

یہ پیلی پرانی دھول کی کرکراہٹ ہے

جو تاریخ کے  سبھی دستاویزوں پر

پھیل جاتی ہے دھیرے سے

 

یہ کسی قدیم جوتے کا سفرنامہ ہے

جس نے دیکھے قبائلی راستے

اور جانوروں کی ہڈیوں سے پٹی پگڈنڈیاں

 

یہ گھوم کر آرہی ایک شام ہے

جس میں ایک پاگل آدمی اپنی  قبر کھود رہا ہے

اس میں سلا رہا ہے اپنے نیلے عکس کو

اور اوپر لگے چاند نما پتھر پر لکھ رہا ہے

اپنا نام بڑے حرفوں میں

 

یہ خواب میں قتل کردیے جانے  کے لیے

قلم کی تہذیب جتنا ایک مرثیہ ہے

یہ ایک نیند کا قصہ ہے

جو اب تک دوڑتی ہے جنگلوں میں

یہ سیاروں کی آوازوں جیسی غفلت میں ڈوبی

ایک رات کی داستان ہے

٠٠٠

 

ٹوٹتا ہوا درخت

 

ٹوٹتا ہوا درخت بہت دھیمی رفتار سے

زمین کو سونپتا ہے

اپنی روحانیت کے تنتر

گھاس کو سونپتا ہے اپنی چھال پر

چڑھ جانے کی جگہ

ان گنت گلہریوں، چڑیوں، بامبیوں میں رہتے حشرات کو

اپنا کمزورچوبی جسم

اور اپنی معدوم ہوتی آتما

 

کہ جب اس کے دل سے مکمل طور پر غائب ہوجائے زندگی کا سنگیت

تب بھی زمین پر جیون کی تمام گونجوں میں

وہ  شامل کرسکے اپنی آواز

 

اس طرح وہ ہوتا ہے امر

 

جس کابوس میں ڈوبتا اور ڈھہتا ہوں

اس میں سب سے زیادہ دکھائی دیتے ہیں عزیز

اور سینوں پر سوراخ سجائے

ان کی  بے رنگ، بے دم آتمائیں

٠٠٠

 

پریم کرنا

 

پریم کرنا

جیسے کبھی نہیں کھلے گی  کلی

پھوٹنے کی اپنی توقعات

زمیں بوس ہوتے ہوئے گم کردے گی

 

جیسے اڑے گا نہیں پرندہ

گھاس میں بھول جائے گا راستہ

ہوا میں ایک  لازوال امید کی طرح کھو جائے گی

اس کے دو پنکھوں کی جگہ

 

جیسے کوئی جملہ برسوں سوچنے کے بعد بھی نہیں کہا جائے گا

جیسے زندگی میں کام رہ جائیں گے ادھورے

جیسے امیدیں ٹوٹیں گی اور خواب بھی

 

ادھوری چیزیں پوری نہیں ہوں گی

کھوئی چیزیں مل کر بھی نہیں ملیں گی

 

پریم ہوگا ، نہیں ہوگا

٠٠٠

 

بوسہ

 

کس بوسے  کی زیادتی  نے پھول کو ہجرت کرنے پر آمادہ کیا

اور وہ آسمان کا سورج بن گیا

 

کس  تنہابوسے کے بیانات سے جھڑتی ہوئی دھول نے

سمتیں بنائیں

 

کس بوسے کے راستے پہنچی ہم تک تنہائی

ایڑیوں میں بھرتا ٹھنڈا پن

دیوار کی گرد میں ابھارتا ہوا اپنی شکل

 

کس بوسے نے ہمارے ساتھ کی اندرونی تہوں میں

دبا دیا ایک اندھے درخت کا بیج

جس کے بے سمت پھیلاؤ سے

ٹوٹ گئے دو جسموں کے درمیان موجود قدرتی کنارے

تمہارے پھول کی بو  میری جڑوں میں پیوست ہوئی

اور ان کا اندھیرا تمہارے خطوں میں اتر گیا

 

کس بوسے نے ہمیں کِیلوں کی طرح ٹھوکا اپنے  طے شدہ سانچوں میں

کہ بارش میں بھیگتے

اپنی زنگ آلود ہوتی شبیہ میں ڈوبتے، ختم ہوتے

ہم دیکھ ہی نہیں پائے کہ کس طرف تھی مُکتی

کس بوسے نے دی ہمیں بے حد و حساب امکانات کی ایک رات

 

اور بغیر امکانات کی بے حد و حساب راتیں

٠٠٠

 

بہت دنوں بعد

 

ایک دن، بہت دنوں بعد

تمہیں یاد کرتے ہوئے میں پاؤں گا کہ میں جسے

یاد کررہا ہوں وہ تم نہیں ہو

 

بہت دنوں بعد، دماغ میں گڑبڑا جائیں گی چیزیں، کسی اور

چیز کو پکاروں گا کسی اور نام سے، مردہ لوگوں سے کروں گا باتیں،

دوہراؤں گا ان سے اپنے دل کی بے ہنگم بکواس جو کسی زندہ

شخص نے نہیں سنی کبھی

 

بہت دھیمے سے جاؤں گا فراموشی کے پاس، اور اسے دوں گا اپنی

زندگی کا جمع کیا ہوا سب سرمایہ

 

ابھی جو کچھ بھی چھوٹتا ہے ہاتھوں سے، لگتا ایسا ہی ہے کہ کچھ

دور چل کر پالیا جائے اسے واپس، بشرطیکہ اتنی دور جانے میں

تھک نہ جائیں پاؤں

 

لیکن ان سب سے  بے پروا، سینےمیں لہراتا،

بڑھتا چلا جاتا ہے کالا پانی

 

جھک کر دیکھنے پر دکھتی ہیں بس ڈوبی، پانی میں گلتی، گم ہوتی ہوئی چیزیں

٠٠٠

 

زبانیں

 

زبانیں پہلے اپنی خاموشی  کو جنم دیتی ہیں

آنکتی ہیں منظر اور رنگ اور موسم

شام کے اور صبح کے  الگ الگ شور کو

الگ الگ خانوں میں رکھتی ہیں

 

بوسوں سے مانگتی ہیں ہونٹ اورگہری تپن کا اندازہ

ہوس سے مانگتی ہیں اپنا اسلوب جس میں تاریخ کی

بے انتہا ظلمت تلاش کرسکے اپنے چہرے جتنی جگہ

دکھ سے ہی مانگتی ہیں دکھ کے سب سے مقدس الفاظ

خواب سے ہی مانگتی ہیں اپنی ترتیب کا بکھراؤ

بین سے مانگتی ہیں سانس لینے کی جگہیں

جہاں نہیں آنا  ہی ان کا کام ہے

 

زبانیں بھوک سے بنتی ہیں، اور آگ سے

اور چوٹ سے رستے مواد کی طرح ان سے بہتی ہیں تہذیبیں

 

زبانیں نمک سے بنتی ہیں ، اور لہو سے

اور سمندر انہیں دیتے ہیں اپنا شور

 

جلتے ہوئے جنگل، مرتے ہوئے لوگ، مٹتے ہوئے شہر

کوکھ میں کسی بچے کے تھرتھراتے ہونٹ

 

جشن اور  مایوسی

 

تمام فراموش کردہ بیانوں سے لپٹا ہے ان کا جسم اس طرح

کہ کوئی کہا گیا معمولی جملہ بھی گونجتا رہتا ہے دیر تک

٠٠٠

 

یہ

 

اسے اس طرح نہ دیکھا جائے کہ جاگنے سے ایک سنسار ٹوٹتا ہے

نیند کا یا خواب کا

کہ بکھرتے ہیں جیسے پتھریلے آثارِ زندگی، ادھوری رہتی ہے کوئی کہانی

 

اسے اس طرح بھی نہ دیکھا جائے کہ کتاب کے رکھتے ہی

دھول کی طرح جھڑ جاتا ہے باہر کی طرف کہانی کار

 

اگر نیند ایک درخت ہے

تو کلہاڑی کی طرح اس پر گرتا

اس کے دل کو چھیدتا، یہ کسی الارم گھڑی کا شور نہیں

 

اگر پریم ہے ، تو اسے ناامیدی تک سینچتا

یہ کوئی خواب کا پانی نہیں

 

یہ بس ہمارے ہونٹوں کا الگ ہونا ہے

 

یہ بس ایک بوسہ کا بکھرنا ہے

٠٠٠

 

وَسو گندھرو کی پیدائش 8 فروری 2001 کو امبیکاپور ، چھتیس گڑھ میں ہوئی۔انہوں نے انگریزی کے علاوہ معاشیات اور نفسیات جیسے مضامین میں  گریجویشن کیا۔ان کی نظموں کے  تین مجموعے ‘رچنا سمے’، ‘کسی رات کی لِکھِت اداسی میں’ اور ‘وِیت راگ’ شائع ہوچکے ہیں۔ ترجمہ شدہ نظمیں ان کے موخرالذکر مجموعے سے لی گئی ہیں، جو کہ اسی برس شائع ہوا ہے۔وہ شاستریہ سنگیت کے سنجیدہ طالب علم بھی رہے ہیں ۔ فی الحال حیدرآباد میں مقیم ہیں۔ادب کے علاوہ فلسفے اور معاشیات میں ان کی گہری دلچسپی ہے۔ انہوں نے کئی  ادبی تراجم بھی کیے ہیں۔

ہندی شاعری اور بالخصوص ہندی کویتا گزرتے وقت کے ساتھ نئے اسالیب اور نئی بھاشاؤں کو دریافت کررہی ہے۔ وَسُو گندھرو  نے بھی اپنا اسلوب اختراع کیا ہے۔ ان کا لہجہ ان کے معاصرین میں الگ سے پہچانا جاسکتا ہے۔ وہ سبک اور نرم خیالی کے قائل معلوم ہوتے ہیں۔ الفاظ کے چناؤ اور خیال کی بنت  کے عمل میں ان کے یہاں جو زبان   پیدا ہوئی ہے، اس میں اکہرا پن بالکل نہیں ہے،ساتھ ہی  وہ  مشکل اور  الجھے ہوئے  معاملات سے  ہر قدم پر نمٹنے کے باوجود بہت تازہ دم معلوم ہوتی ہے۔ ان کے یہاں انسان، اس کی ہجرت، لمس اور یادوں  کے تعلق سے  جو رنگ نظر آتے ہیں، وہ دلچسپ معلوم ہوتے ہیں۔ اور کسی بھی شاعر کے  لیے جس عمیق مشاہدے کی دریافت کا عمل لازمی ہے، وہ ان کے یہاں  بہت عمدہ طور پر شامل تخلیق ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔وَسُو گندھرو کی نظموں کے اردو تراجم کا غالباً یہ  پہلا موقع ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

news-0801

yakinjp


sabung ayam online

yakinjp

yakinjp

rtp yakinjp

yakinjp

yakinjp

judi bola online

slot thailand

yakinjp

yakinjp

yakinjp

yakinjp

ayowin

mahjong ways

judi bola online

mahjong ways 2

JUDI BOLA ONLINE

maujp

maujp

sabung ayam online

maujp

maujp

maujp

maujp

sabung ayam online

mahjong ways slot

sbobet88

live casino online

Situs Agen Togel

MAUJP

118000021

118000022

118000023

118000024

118000025

118000026

118000027

118000028

118000029

118000030

118000031

118000032

118000033

118000034

118000035

118000036

118000037

118000038

118000039

118000040

118000041

118000042

118000043

118000044

118000045

118000046

118000047

118000048

118000049

118000050

128000021

128000022

128000023

128000024

128000025

128000026

128000027

128000028

128000029

128000030

128000031

128000032

128000033

128000034

128000035

128000036

128000037

128000038

128000039

128000040

128000041

128000042

128000043

128000044

128000045

128000046

128000047

128000048

128000049

128000050

138000021

138000022

138000023

138000024

138000025

138000026

138000027

138000028

138000029

138000030

138000031

138000032

138000033

138000034

138000035

138000036

138000037

138000038

138000039

138000040

138000041

138000042

138000043

138000044

138000045

138000046

138000047

138000048

138000049

138000050

148000026

148000027

148000028

148000029

148000030

148000031

148000032

148000033

148000034

148000035

148000036

148000037

148000038

148000039

148000040

148000041

148000042

148000043

148000044

148000045

148000046

148000047

148000048

148000049

148000050

148000051

148000052

148000053

148000054

148000055

148000056

148000057

148000058

148000059

148000060

148000061

148000062

148000063

148000064

148000065

148000066

148000067

148000068

148000069

148000070

158000041

158000042

158000043

158000044

158000045

158000046

158000047

158000048

158000049

158000050

158000051

158000052

158000053

158000054

158000055

158000056

158000057

158000058

158000059

158000060

158000061

158000062

158000063

158000064

158000065

158000066

158000067

158000068

158000069

158000070

168000011

168000012

168000013

168000014

168000015

168000016

168000017

168000018

168000019

168000020

168000021

168000022

168000023

168000024

168000025

168000026

168000027

168000028

168000029

168000030

168000031

168000032

168000033

168000034

168000035

168000036

168000037

168000038

168000039

168000040

178000036

178000037

178000038

178000039

178000040

178000041

178000042

178000043

178000044

178000045

178000046

178000047

178000048

178000049

178000050

178000051

178000052

178000053

178000054

178000055

178000056

178000057

178000058

178000059

178000060

178000061

178000062

178000063

178000064

178000065

188000141

188000142

188000143

188000144

188000145

188000146

188000147

188000148

188000149

188000150

188000151

188000152

188000153

188000154

188000155

188000156

188000157

188000158

188000159

188000160

188000161

188000162

188000163

188000164

188000165

188000166

188000167

188000168

188000169

188000170

198000031

198000032

198000033

198000034

198000035

198000036

198000037

198000038

198000039

198000040

198000041

198000042

198000043

198000044

198000045

198000046

198000047

198000048

198000049

198000050

198000051

198000052

198000053

198000054

198000055

198000056

198000057

198000058

198000059

198000060

218000021

218000022

218000023

218000024

218000025

218000026

218000027

218000028

218000029

218000030

218000031

218000032

218000033

218000034

218000035

218000036

218000037

218000038

218000039

218000040

218000041

218000042

218000043

218000044

218000045

218000046

218000047

218000048

218000049

218000050

228000016

228000017

228000018

228000019

228000020

228000021

228000022

228000023

228000024

228000025

228000026

228000027

228000028

228000029

228000030

228000031

228000032

228000033

228000034

228000035

228000036

228000037

228000038

228000039

228000040

228000041

228000042

228000043

228000044

228000045

228000046

228000047

228000048

228000049

228000050

238000001

238000002

238000003

238000004

238000005

238000006

238000007

238000008

238000009

238000010

238000011

238000012

238000013

238000014

238000015

238000016

238000017

238000018

238000019

238000020

news-0801