مور

پرانی بات ہے ، ایک چھوٹی سی ریاست کے راجا نے ایک مور پالا۔ ویسے تو سبھی مور اچھا ناچتے ہیں، مگر اس مور کی بات الگ تھی۔وہ چَوپڑا کے کنارےگہرے درختوں  کے جھنڈ میں رہتا تھا۔ اسی جگہ سادھو کا آشرم تھا، ایک مندر اور راج پریوار کے مرحومین کی سمادھیاں تھیں۔ایسی سمادھیاں  کم ہی دیکھنے میں آتی ہیں۔ صاحب علم و نظر انہیں فن تعمیر کا نادر نمونہ قرار دیتے ہیں، وہ مور انہیں سمادھیوں کے آس پاس پھرا کرتا تھا۔ اسے ناچنے کا بڑا شوق تھا، گویا وہ جانتا ہو کہ قصبے کے لوگ اس کا ناچ دیکھنے کے لیے ترستے  رہتے ہیں۔لوگوں  کی انسیت اس سے اس قدر تھی کہ گلیوں  اور گھروں میں اکثر اس کا تذکرہ  ہوتا رہتا تھا۔ ویسے تو  وہاں اور بھی دوسرے پنچھی بہت تھے  اور وہ لوگوں کے آس پاس کچھ نہ کچھ کرتے رہتے تھے مگر لوگوں کی نظر میں وہ مور جیسی  خاص جگہ نہ بنا سکے تھے۔شادی بیاہ، تیج تہوار پر کسی کے یہاں باہر سے کوئی آئے تو اسے مور ضرور دکھایا جاتا تھا۔ مور کے علاوہ اس قصبے میں دکھانے لائق کچھ اور تھا بھی نہیں، ایک قلعہ تھا جس میں سکول لگتا تھا اور اتنا معمولی قسم کا قلعہ تھا کہ بجائے کسی پہاڑی کے ایک ٹیلے پر بنا ہوا تھا اور چاروں طرف سے مکانوں سے گھرچکا تھا۔

کچھ لوگ اپنی بستی کی ڈینگیں  ہانکنے میں ماہر ہوتے ہیں، جیسے میرے بھائی صاحب بچپن میں  ساگر کو دنیا کا سب سے سندر اور بڑا شہر، ساگر کے تالاب کو دنیا کا سب سے بڑا تالاب، ساگر کی  ہاکی ٹیم کو دنیا کی  سب اچھی ہاکی ٹیم اور اپنے ایک دوست کے پِتا کو دنیا میں سب سے اچھی انگریزی بولنے والا مانتے تھے اور انہیں اپنی باتوں کی سچائی پر ذرا بھی شبہ نہیں تھا۔کچھ کہو تو لڑ بیٹھتے تھے۔جب وہ تھوڑے بڑے ہوئے تو یہی باتیں وہ مدھیہ پردیش کے بارے میں کہنے لگے، آج کل بھارت کی ڈینگیں ہانکنے کے ساتھ ساتھ ایشیا کی عظمت کے دعوے کرتے ہیں اور انہیں کوئی ڈِگا نہیں سکتا۔ایسے لوگوں کی تو اس قصبے میں بھرمار تھی۔ وہ کہتے، ایسا مور  پورے سنسار میں دوسرا نہیں ہے، اس کی عمر بہت لمبی ہے۔پہلے یہ والمیکی آشرم کے آس پاس گھوما کرتا تھا۔ آدمی کی بولی سمجھتا ہے۔ ایک بار اس نے ایک سادھو  سے باتیں بھی کی تھیں۔اگر یہ مور چاہے تو شیر بن سکتا ہے، تتلی بن سکتا ہے، ایک بار یہ چوپڑا کے پانی میں کمل بن گیا تھا اور کمل پر کوئی بڑی ہی سندر دیوی براجمان تھیں۔اسی طرح کی نہ جانے کتنی باتیں  ہیں کہ  جن سے پورا مور پُران بن جائے۔سنتے ہیں، ایک بار ایک سوتے ہوئے بچے کو آسمان میں بہت اوپر لے جاکر گھما بھی لایا ہے۔وہ بچہ اب بڑا ہوگیا ہے مگر ساری باتیں اسے اب تک ٹھیک ٹھیک یاد ہیں۔بستی کے ایک  معتبر جیوتشی کا کہنا  تھا کہ مور پچھلے جنم میں اربوں میل دور کے ایک سیارے پر اتنی بڑی چڑیا تھا کہ جب وہ چڑیا اڑتی تھی تو آکاش گنگاؤں میں دھول اڑتی تھی اور بڑے بڑے سیارے اسے دیکھنے اپنی بالکنیوں میں کھڑے ہوجاتے تھے۔

لوگ کہا  کرتے تھے، مور امر ہے۔خود برہما جی نے اسے یہ وردان دیا ہے اور اب کوئی اسے مار نہیں سکتا۔مگر سوچیے اس بستی کے لوگوں کی  کیا حالت ہوئی ہوگی جب ایک بھرما بندوق کی معمولی سی بارود نے اس مور کی جان لے لی! جب یہ خبر پھیلی کہ مور کی ہتیا ہوگئی، لوگوں کو یقین ہی نہیں آیا، وہ مر ہی نہیں سکتا!۔۔۔کچھ لوگ اس کے چیتھڑے  دیکھ کر بستی کی طرف دوڑے تو بھگڈر مچ گئی۔ مور کو کسی انگریز نے مارا ہے، یہ سن کر لوگوں کا پارہ چڑھ گیا۔ کوئی کہتا وہ سپاہی تھا، کوئی  کہتا افسر۔ایک کاچھی بولا۔ڈلہوزی نے مارا ہے، تو کسی نے کہا۔یہاں کہاں رکھا ہے ڈلہوزی۔مگر وہ کہنے لگا کہ اس نے ڈلہوزی کو دیکھا تھا۔ جہاز سے اترا، اس نے مور کو بندوق سے مارا اور جہاز میں چڑھ کر بھاگ گیا۔

راجا اس روز کہیں گئے ہوئے تھے۔ رانی صاحبہ تھیں۔ کچھ لوگ حویلی کی طرف بھاگے۔دیوان جی نے ان  لوگوں کو تسلی دی کہ مناسب کارروائی کی جائے گی۔مگر اب مور تو واپس نہیں آسکتا۔ایک انگریز سپاہی نے مارا ہے اور مارنے کی جھونک میں مارا ہے، چنانچہ کوئی کچھ نہ بولے، ورنہ ہوسکتا ہے کہ کل کے روز کوئی مصیبت کھڑی ہوجائے۔

مگر وہ سپاہی ہے کہاں اور اس نے مور کو مارا کیوں؟ اس سوال کے جوش سے معمور لوگ  چوپڑا پہنچے۔دوپہر کا وقت تھا، تیز گرمی پڑ رہی تھی۔چوپڑا  کا پانی لگ بھگ سوکھ گیا تھا اور وہ گندگی سے بھرے ہوئے بڑے گڈھے کی طرح چلچلا رہا تھا۔سادھو کے آشرم کے پاس اور چوپڑا کے چاروں طرف لوگ ہی لوگ تھے اور وہ انگریز بندوق لیے چوپڑا کی دلدل میں گھٹنوں تک دھنسا ہوا لوگوں کے پتھروں سے بچنے کی کوشش کررہا تھا۔ لیکن اتنے پتھر اس پر برس رہے تھے کہ جلد ہی وہ بری طرح گھائل ہوگیا۔تبھی تھانے سے سپاہیوں کا ایک دستہ تھانے دار کی اگوائی میں ہوائی فائر کرتا ہوا آیا اور اس انگریز کو نکال کر لے گیا۔

لوگ اب تھانے کی طرف امڈے، مگر تبھی تھانے دار نے اعلان کیا کہ سب لوگ اپنے  اپنے گھر چلے جائیں۔جو بھی سڑک پر ملے گا اسے گولی مار دی جائے گی۔ تھانے دار بہت ظالم تھا اور مارنے کی اسے پوری چھوٹ تھی، اس لیے جلد ہی تھانے کے پاس سے کیڑے مکوڑے تک نکل بھاگے۔

تھوڑی دیر بعد ہُلّے کاچھی دارو  کے نشے میں لڑکھڑاتا ہوا آیا اور تھانے کے آگے اکیلا کھڑا ہوکر گالیاں بکنے لگا۔اپنے نام پر ماں بہن کی گالیاں سن کر تھانے دار باہر نکلا اور ایک معمولی سے ناٹے قد کے پھوہڑ شرابی کو ایسا کرتے ہوئے دیکھ کر پہلے تو چکرایا، پھر اس پر ٹوٹ پڑا۔ہُلے کی جم کر پٹائی ہوئی۔وہ جتنا  پٹتا جاتا، اتنی ہی زور سے گالیاں بکتا۔آخر اسے گھسیٹ کر تھانے میں ڈال دیا گیا۔ وہ بے ہوشی میں بھی گالیاں بکتا رہا۔

خبر بستی بھر میں پھیل گئی کہ ہُلے کاچھی نے تھانے دار کی ماں بہن ایک کردی۔اس کی بہت پٹائی  ہوئی اور اب حوالات میں پڑا ہے۔

بستی میں کسی کی ہمت نہیں ہوئی کہ تھانے جاکر ہُلے کو چھڑالائے۔ہُلے کی عورت رام وتی کو جب یہ پتہ چلا  تو وہ کاچھِن  انٹی میں روپے دباکر سیدھی تھانے پہنچ گئی۔پہنچ کر اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، روپے تھانے دار کی میز پر پھینکے اور ایک طرف لڑھکے ہوئے اپنے آدمی کو ہلا ڈلا کر ہوش میں لانے کے جتن کرنے لگی۔تھانے دار گرجا ، تو کون ہے تو بولی کہ میں اس کی لُگائی ہوں، اور یہ رہا پیسہ۔

ایک سپاہی نے جس کی کسان جیسی مونچھیں تھیں، ایک لوٹا پانی ہُلے کے منہ پر پھینکا۔ہُلے نے آنکھیں کھول دیں اور اپنی عورت کو دیکھ کر اٹھ کھڑا ہوا۔تھانے دار چلایا، چل بھاگ یہاں سے۔

ہُلے تھانے کے بڑے دروازے تک پہنچا، وہاں سے پلٹ کر اس نے تھانے دار کو گھور کر دیکھا اور گالیاں بکتا ہوا چلا گیا۔

بستی کے سارے جی دار لوگ جیل میں تھے۔ آزادی کی لڑائی میں حصہ لینے والے وہ لوگ  اگر اس موقع پر یہاں ہوتے تو شاید مور کی اس بے تکی ہتیا کے خلاف کچھ ہلچل ہوتی۔دوسرے دن راجا صاحب لوٹ آئے اور لوگوں نے دیکھا کہ وہ کوئی کارروائی نہیں کرنا چاہتے ہیں۔انگریز زخمی حالت میں ضلع ہسپتال میں بھرتی تھا۔راجا صاحب نے دیوان جی کو ہسپتال بھیج کر اس کا حال چال  دریافت کروایا تو لوگوں کے لیے ایک طرف سے سارا معاملہ ہی ٹھنڈا پڑگیا۔پھر سننے میں آیا کہ رانی ایلزبتھ کو مور کی ہتیا کا دکھ ہے اور وہ اس ہتیارے انگریز کوانگلینڈ واپس بلا کر خود اپنے منہ سے ڈانٹیں گی۔ان کا تذکرہ لوگوں میں چل پڑا کہ وہ بہت غصیل اور خوبصورت عورت ہیں۔

یہ جان کر کہ ملکہ انصاف پسند ہیں، لوگوں کو کچھ تسلی ہوئی مگر ان کی سمجھ میں یہ نہیں آیا کہ جو مور امر تھا، اتنا  پرانا تھا، وہ برہما جی کی مرضی کے بغیر مر کیسے گیا! کچھ لوگوں نے کہا کہ اس کا جسم مرا ہے، اس کی روح نہیں مری ہے۔وہ اجر-امر ہے اور کبھی کبھی رات میں چوپڑا کے پاس دکھ جاتا ہے۔روح دیے کی لو کی مانند ہوتی ہے ، خواہ کیسا بھی اندھیرا  اور آندھی کیوں نہ ہو، وہ ڈٹی رہتی ہے۔

مگر ہُلے کو ان باتوں سے کوئی مطلب نہیں تھا۔اس نرے ان پڑھ شرابی نے مور کی ہتیا سے تھانے کو جوڑ دیا اور روز اس سے ٹکرانے لگا۔ لوگ  حیران رہ گئے، جب دوسرے دن شام کو کلاری سے نکل کر ہُلے اپنے کچھوارے کی طرف لوٹتا ہوا تھانے دار کو گالیاں دیتا  اور لڑکھڑاتا ہوا دکھا۔گھٹنوں تک چڑھی دھوتی، بنڈی اور صافے میں وہ دھول بھری سڑک پر ننگے پاؤں چل رہا تھا۔دکانوں سے چھنتی دھیمی روشنی میں اس کے باہر نکلے بڑے بڑے پیلے دانت دکھ جاتے تھے۔تھانے  کے آگے رک کر اس نے ہنکار لگائی۔تھانے دار کا نام لے کر چلایا اور گالیاں بکنے لگا۔تھانے میں کنور صاحب تھانے دار کے ساتھ بیٹھے تھے۔میز پر گیس کا ہنڈا جل رہا تھا۔ ہُلے کی گالم گلوج سن کر دو سپاہی باہر دوڑے اور اسے پکڑ کر اندر لے گئے۔ وہ گھسٹتا ہوا گالیاں بکتا رہا۔میز کے پاس پہنچ کر وہ کنور صاحب کے پیروں پر سر رکھ کر اکڑوں بیٹھ گیا اور بولا۔’سرکار ان ہتیاروں کے پاس بیٹھتے ہو، ان نے مور مارنے والے انگریز سپاہی کو نہیں مارا اور موئے مارا۔’

کنور صاحب نے اسے ڈپٹا اور بولے،’چل سیدھا حویلی پہنچ۔میں آتا ہوں، چل سیدھا۔’تھانے دار ہنس کر کچھ کہنے کو ہوا  مگر کنور صاحب بولے۔’ٹھہریے! میں آج اس کی خبر لیتا ہوں۔’

حویلی میں ہُلے کو دس جوتوں کی سزا ملی۔جوتے کھاکر وہ سیدھا کلاری گیا۔وہاں اس نے ایک پاؤ چڑھائی اور تھانے کے سامنے کھڑا ہوکر گالیاں بکنے لگا۔تھانے دار تھانے میں تھے نہیں۔منشی جی پان کھاکر تھانے میں گھس رہے تھے۔ہنس کر بولے، ‘جاؤ بھیا، گھر جاؤ۔تھانے دار ابھی نہیں ہے۔’

ہُلے کا کچھوارا بستی سے لگا ہوا تھا۔زرخیز زمین تھی، کنواں تھا، محنتی عورت تھی، ہُلے بھی محنت کرتا تھا یا پھر دن بھر پڑا سوتا رہتا تھا۔کچھوارے سے آمدنی اچھی تھی اور خرچ بہت کم تھا، بال بچے تھے نہیں،نہ بھائی بہن ہی تھے۔دارو پینے کے علاوہ کوئی عیب ہُلے  میں نہیں تھا۔پاس ہی میں جوئے کا ایک اڈا تھا مگر ہُلے وہاں کبھی پھٹکا تک نہیں۔مور کی ہتیا کے بعد تھانے دار کو گالی دینے کا خرچ بڑھ گیا تھا۔پولیس والے اسے حوالات  میں ڈال دیتے اور اس کی عورت روپے دے کر اسے چھڑاتی۔چار سال بعد جب دیش آزاد ہوگیا اور دیسی سرکار بن گئی تو پولیس اور بھی سختی سے پیش آنے لگی۔کبھی کبھی وہ اتنی بری طرح پیٹا جاتا کہ چار آٹھ دن کے لیے کھاٹ پکڑ لیتا، مگر جیسے ہی چلنے پھرنے کے لائق ہوتا تو پھر ٹھیکے پر پہنچ جاتا اور لڑکھڑاتا ہوا تھانے کے آگے رک کر گالیاں بکنے لگتا۔کئی بار اسے پولیس کچہری لے جاتی اور جرمانہ لگادیتی۔اس کی عورت  نے کبھی یہ نہیں ہونے دیا کہ ہُلے کو جیل میں ہی رہنا پڑا ہو، وہ کہتی کہ تھانے دار کو گالی دیے بنا اسے چین نہیں پڑتا تو کیا اسے جیل میں سڑنے دیں؟ سرکار روپیہ لے کر گالی دینے دیتی ہے۔

پچیسوں تھانے دار بدلے۔قصبہ بدلا۔بجلی آئی۔کالج کھلے۔پرانی پیڑھی مرکھپ گئی۔ چین سے لڑائی ہوچکی، نہروجی چل بسے۔اندراجی کا راج آیا۔ایمرجنسی لگی۔مگر ہُلے نہیں بدلا۔لوگ مور کو بھول گئے۔اس کی ہتیا کو بھول گئے، یہاں تک کہ ہُلے کو اور اس کی روز کی گالم گلوج کو بھول گئے۔مگر ہُلے نے مور کی ہتیا سے شروع ہونے والے تھانے دار کو دی جانے والی گالیوں کا سلسلہ ختم نہیں کیا۔جیسے اُپواس کرنے، مندر جانے، سندھیا پوجا کرنے کامعمول لوگوں کا مرتے دم تک نہیں  ٹوٹتا، ہُلے کا یہ عمل بھی نہیں رکا۔اگر حساب لگایا جائے تو تیس پینتیس برسوں میں اس نے پولیس کے ہزاروں بینت کھائے، پچاسوں بار حوالات میں پٹخا گیا، سیکڑوں بار اس کی عورت نے جرمانہ دے کر اسے چھڑایا، مگر اس نے کبھی  یہ نہیں کہا کہ تھانے دار کو گالیاں دینا چھوڑ دو۔

اگر آپ کبھی اس قصبے میں گئے ہوں تو آپ نے شام کو دیکھا ہوگا کہ لوگ سڑک پر آجارہے ہیں۔اور ایک کالا کمزور آدمی کچی شراب کے نشے میں چور تھانے کے آگے کھڑا کھڑا تھانے دار کو چنوتی دے رہا ہے، گالیاں بک رہا ہے اور کسی کا بھی اس کی طرف دھیان نہیں ہے۔لوگوں کے لیے  یہ ایک روزمرہ کی بات ہوچکی تھی۔جیسے کتوں کا بھونکنا، بجلی کے کھمبوں کا ایک جگہ کھڑے رہنا اور پیڑ کا ہِلنا وغیرہ وغیرہ۔لوگ تو یہ تک بھول گئے تھے کہ وہ گالیاں دیتا کیوں ہے؟ جب کوئی نیا تھانیدار آتا تو وہ بوکھلا کر کارروائی کرتا۔پھر اسے تھانے کے پرانے لوگ سمجھاتے کہ صاحب اس کے منہ کیا لگنا، یہ تو زمانے سے  یہی سب کرتا آرہا ہے۔اسے کاٹ کر بھی پھینک دیں تو بھی یہ گالیاں بکنے سے باز نہیں آئے گا۔تھانے دار اگر تھوڑا نرم مزاج ہوتا ، جیسا کہ مشکل سے ہی ہوتا ہے، تو وہ ہُلے سے الجھنا چھوڑ دیتا اور اگر لنٹھ آدمی ہوتا ، جو کہ عام طور پر ہوتا ہے، تو وہ ہُلے کو مارتا بھی، اسے بند بھی کرتا اور اس کی عورت سے روپیہ بھی اینٹتھا۔

سنکی اور ضدی آدمی کتنا اچھا لگتا ہے، جب اس کی ضد اور سنک میں اس کا اہنکار شامل نہیں ہوتا۔غریب ہے، کمزور ہے  مگر مصیبتوں میں کسی سہارے کے لیے ہاتھ نہیں پھیلاتا، بلکہ سامنا کرتا ہوا پِٹتا چلا جاتا ہے۔ نہیں چاہتا کہ کوئی اس کی طرف دھیان دے۔آخری سانس تک اپنی ضد اور سنک میں رہتا ہے۔کتنا مشکل ہوتا ہے ایک ایسا آدمی جبکہ بستیاں آبادیوں سے بھری پڑی ہیں۔کتنے کم لوگ اس طرح جیتے ہیں جنہیں کچھ بھی بٹورنا نہیں ہے، نہ کسی کو لوٹنا ہے۔کسی سے کچھ نہیں چاہیے۔نہ کسی سے شکایت کرنی ہے، نہ کسی پر حملہ کرنا ہے۔بس جو اپنے جذبات کی ایک لہر میں جی رہے ہیں،ہُلے اسی طرح جیا اور اسی طرح مرگیا۔

ایک تھانے دار آیا ، اس کا نام تھا پانڈے۔نوابی اس کا ٹھاٹھ تھا۔بہت بڑی توند پر بیلٹ لپیٹے جب وہ بستی میں نکلتا تو ہاتھ کے بینت، کمر کی پستول، نکیلی مونچھیں دیکھ کر اچھے اچھوں کے گلے سوکھنے لگتے۔وہ اتنی زور سے چلاتا کہ اگر خرگوش کھڑا ہوتو دبک جائے۔وہ دو بیویاں ساتھ لے کر آیا تھااور یہاں وہاں منہ مارنے کے لیے سانپ کی طرح بستی میں پھرا کرتا تھا۔دن بھر کھانے کے بعد رات بھر شراب پیتا تھا۔ اس کے ڈر سے بدمعاش شریفوں کی طرح اور شریف غلاموں کی طرح چلا کرتے تھے۔گلیوں میں بھونکنے والے کتے اسے دیکھ کر دم دبائے نالی میں گھسنے لگتے تھے اور پنچھی پیڑوں سے جان چھڑا کر بھاگ نکلتے تھے۔بلیاں اسے دیکھ لیں تو منڈیروں سے پھسل کر نیچے گر پڑیں ۔گائیں گوبر کردیں اور کنکھجورے اپنے  ہی کان میں گھس جائیں۔اس نے تھانہ ڈھائی لاکھ میں خریدا تھا اور تین سال میں اسے دس لاکھ چاہیے تھے۔ اوپر سے نیچے تک اس کی ایسی پکڑ تھی کہ وہ کسی کی آنتیں نکال کر پھینک دے تب بھی کہیں سنوائی نہ ہو۔ابھی جب وہ بستی میں آیا بھی نہیں تھا، اس کے آنے کی خبر سے ہی دہشت پھیل گئی تھی۔ پورے علاقے میں اس کا شور تھا۔لوگ ڈاکوؤں سے اتنا نہیں ڈرتے تھے، جتنا اس کا خوف تھا۔اس کی آمد پر سبھی نے اس کا سواگت کیا، ہُلے نے بھی۔

اس مہابلی تھانےدار نے گالی کبھی کھائی نہیں تھی، اس لیے وہ ایک دم پگلا سا گیا۔وہ اتنی زور سے چلایا کہ تھانے کی مضبوط دیواریں ہل گئیں اور کمزور دیواریں گرپڑیں۔دروازوں اور کھڑکیوں کے پلے بھڑبھڑانے لگے اور سڑک پر جو جہاں تھا، وہیں گر پڑا۔ہوا رک گئی اور بلبوں کی روشنی اتنی تیزی سے بڑھنے لگی ، جیسے کہ ان میں آگ لگ گئی ہو۔اس سناٹے میں ہُلے کی آواز اونچی ہوتی گئی۔’نکل پانڈے تیری ماں کی۔۔۔’

تھانے دار نے جھپٹ کر ہلے کی گردن پکڑلی اور اسے اتنی زور سے پھینکا کہ وہ سیدھا اپنے کچھوارے میں جا کر گرا۔پھینک کر وہ اسے ڈھونڈنے لگا مگر وہ ملتا بھی کیسے! میل بھر دور جو پڑا تھا۔اس کی ہڈی پسلی سب برابر ہوگئی تھی مگر اس نے اتنی زور سے گالی دی کہ تھانے تک پہنچ گئی۔’نکل پانڈے تیری تھانے دار۔۔’سارے سپاہی  سڑک پر ، دکانوں میں، نالیوں میں ہُلے کو ڈھونڈنے لگے۔اور تھانے دار پیروں کو چوڑائے، بینت لیے بیچ سڑک پر کھڑے ہوکر پھنکارنے لگا۔اس کا غصہ اتنا زبردست تھا کہ چاند پیلا پڑگیا اور تارے آسمان میں چھید کرکے پیچھے کی طرف نکل بھاگے۔

‘تھانے دار تیری بہن۔۔۔’ہُلے کی گالیاں اس کے سر پر گریں تو اس کے منہ سے جھاگ نکلنے لگا۔اس نے ہوا میں بینت گھمایا، فائر کیا اور چلایا، ‘کہاں ہے سالے!سامنے آ۔۔’

میل بھر دور کھچوارے میں یہ چنوتی پہنچی تو ہُلے نے کھینچ کر گالی دے ماری اور چلایا۔’ادھر آ تھانے دار کے۔۔۔۔’

‘کدھرکدھر؟’ تھانے دار پھنپھناتا ہوا کئی گھروں کے دروازے روندتا، چھتوں پر ایڑیاں بجاتا، لوگوں کی چھاتیوں پر سے گزرنے لگا اور گرجا۔’کدھر ہے تو؟’

‘ادھر حرامی، ادھر کچھوارے میں۔۔۔’

پورا تھانہ کچھوارے کی طرف دوڑا۔تھانے دار نے تین قدم میں میل بھر کی دوری ناپی اور کانٹوں کی باڑ میں پڑے ہُلے کی گردن پکڑ کر اسے اتنی زور سے پھینکا کہ اب کے وہ تھانے میں جاگرا۔سنسان تھانے میں گرتے ہی اس نے کمرمیں  ٹھنسی ہوئی شراب کی شیشی نکال کر باقی شراب چڑھائی اور چلایا۔’حرامی تھانے دار پانڈے، سالے مادر۔۔۔’

آواز کھچوارے میں پہنچی تو تھانے دار نے کچے مکان کو جوتے کی ایک ٹھوکر ماری۔مکان بھربھرا کر گرا اور ملبے میں سے ایک عورت چلاتی ہوئی باہر نکلی۔تھانے دار نے عورت دیکھی، سپاہیوں سے کہا، تھانے جاؤ، میں آتا ہوں۔پھر وہ عورت پر جھپٹا۔کاچھن بوڑھی  ہوکر بھی مضبوط تھی، وہ مقابلہ کرنے لگی۔مگر تھوڑی چھٹپٹاہٹ کے بعد ہی سمجھ گئی کہ وہ بچ نہیں سکتی، اس کا شکار ہوکر رہے گا۔وہ چھوٹ کر بھاگی، مگر تھانے دار اس کے چاروں طرف پھیل کر اسے گھیرنے لگا۔وہ اس کی ٹانگوں کے بیچ سے نکل گئی، مگر تھانے دار کی پکڑ میں اس کا ہاتھ آگیا۔کاچھن نے چھوٹنے کے لیے اتنی زور سے جھٹکا دیا کہ اس کا ہاتھ بازو سے اکھڑ کر تھانے دار کے ہاتھ میں رہ گیا اور وہ بھاگ کر کنوئیں میں کود گئی۔

تھانے دار نے دیکھا کہ عورت ڈوب مری۔عورت کا ہاتھ ہی رہ گیا ہے اور ہاتھ میں سونے کی ایک چوڑی ہے۔اس نے چوڑی اتار کر جیب کے حوالے کی۔کاچھن کے ہاتھ کو بینت کی طرح ہلاتا ہوا وہ تھانے کی طرف چل دیا۔

سامنے سے ہُلے چلاآرہا تھا۔ اس کی شراب اتر چکی تھی، اس نے تھانے دار کو دیکھ کر سلام کیا اور آگے بڑھنے لگا تو تھانے دار نے اس کاچھن کا ہاتھ اسے تھماتے ہوئے کہا۔’لے جا، یہی بچا ہے۔’

آزادی ہند کے لیے لڑنے والے ایک شخص  کا بستی بھر میں بڑا نام تھا۔ وہ تو کبھی کے پرلوک سدھار چکے تھے مگر ان کے لڑکے بچے تھے اور سرکاری پارٹی میں ان کا اچھا خاصہ  اثرو رسوخ تھا۔خوب پیسہ کمانے کے بعد انہیں یہ بات کھٹکی کہ ان کے اتنے مہان پِتا کا کوئی مجسمہ نہیں ہے۔وہ لوگ پانڈے تھے اور پھر تھانے دار بھی پانڈے  تھے، اس پر ان کا آپس میں میل جول بھی تھا۔ایک دن انہوں نے تھانے دار  سے اپنے من کی بات کہی۔تھانے دار نے ساری ذمہ داری اپنے سر پر لے لی۔جگہ کی تلاش شروع ہوئی تو پتہ چلا کہ وہ مرد آہن ہُلے کے باپ کے دوست تھے۔دوست تو نہیں مگر اکثر ہُلے کے کچھوارے میں بیٹھ کر کچھ بحث و مباحثہ کیا کرتے تھے۔طے کیا گیا کہ کچھوارے کے اسی مقام پر ان کا مجسمہ نصب کیا جائے گا۔ہُلے کی زمین سے لگے ہوئے پانڈوں کے بڑے بڑے کھیت تھے۔ ہُلے کا کچھوارا سڑک کنارے تھا۔ہُلے کے پاس جب یہ خبر بھیجی گئی تو وہ پلاسٹر باندھے کھاٹ پر پڑا تھا اور ایک کسان اس کے لیے چلم بھر رہا تھا۔

اس رات کے واقعے کے بعد سے ہُلے باہر نہیں نکلا تھا۔ اس نے عورت گنوادی تھی۔ صرف اس کا مردہ سوکھا ہاتھ باقی بچا تھا۔جس ہاتھ سے وہ ہُلے کے کچھوارے میں کام کرتی تھی، اسے چھڑانے کے لیے پولیس کے آگے روپے پھینکتی تھی، ہُلے کو سنبھالے ہوئے تھانے سے باہر لاتی تھی، وہی ہاتھ  کھاٹ کے نیچے پڑا ہوا تھا۔

پانڈوں کے آدمی نے کہا۔’اس کے بدلے تمہیں کہیں اور زمین مل جائے گی، بھیا نے کہا ہے وہاں کنواں بھی کھدوادیں گے۔’

‘نہیں، ہم یہ کنواں نہیں چھوڑیں گے، اس میں جنی ہے۔’

تبھی کنویں میں سے آواز آئی۔’مت چھوڑنا۔۔مت چھوڑنا۔’

‘نہیں چھوڑوں گا، کبھی نہیں چھوڑوں گا۔’

کنویں میں سے پھر آواز آئی۔’مت چھوڑنا، مت چھوڑنا۔’

پانڈوں کا آدمی آواز سے ڈر گیا۔ اور بنا کچھ بولے جلدی سے بھاگ کھڑا ہوا۔شام کو ہُلے نے کسان سے پگڑی بندھوائی، بنڈی پہنوائی اور کلاری کی طرف گھسٹتا چلا گیا۔ سڑک پر کسی نے اس کی طرف دھیان نہیں دیا۔دیوالی کا دن تھا۔ خوب روشنی  تھی۔لوگوں نے نئے کپڑے پہن رکھے تھے۔دکانوں میں لکشمی پوجا ہورہی تھی اور حلوائیوں کے یہاں لوگوں کی بھیڑ لگی تھی۔

کلاری تک کے راستے میں ہُلے دس بار بیٹھا ہوگا۔کسان اس کے ساتھ تھا اور اسے سہارا دے رہا تھا۔ کئی دنوں بعد اس نے دارو پی، اسے جسم میں طاقت محسوس ہوئی اور وہ تھانے کی طرف گھسٹتا ہوا چل پڑا۔وہ لڑکھڑا کر گرنے کو ہوتا تو کسان اسے تھامنے لگتا، مگر وہ ایک جھٹکے سے اس کا ہاتھ ہٹا دیتا۔تھانے کے باہر پہنچ کر اس نے چلا کر تھانے دار کو للکارا اور گالیوں کی جھڑی لگادی۔

تھانے کے آنگن میں تھانے دار کچھ معززین کے ساتھ بیٹھا ہوا تاش کھیل رہا تھا۔اس نے باہر آکر دیکھا اور چلایا۔’پکڑو اور یہاں لاؤ۔’

دو سپاہی ہُلے کو اس کی گالیوں سمیت گھسیٹ کر اندر لے آئے۔تھانے دار کرسی سے اٹھا اور اس نے اپنے بھاری بوٹ سے ہُلے کی چھاتی کچل دی۔اندر سے ہڈی کے چرمرانے کی آواز آئی اور پوری بستی کا فیوز اڑ گیا۔صرف دیے ٹمٹاتے رہ گئے۔تھانے میں اندھیرا ہوگیا۔ تھوڑی دیر میں میز پر دو موم بتیاں جل اٹھیں۔اسے گھسیٹ کر باہر پھینک دو۔تھانے دار  حکم دے کر  واپس اپنی جگہ بیٹھ کر پتے سنبھالنے لگا۔

سپاہیوں نے ہُلے کو گھسیٹا تو اس کی چھاتی وہیں کھل کر پھیل گئی۔جتناممکن ہوسکا، اتنے حصے کو باہر پھینک دیا گیا۔کسان نے اسے اپنے انگوچھے میں باندھا اور کچھوارے کی طرف چل پڑا، تبھی لائٹ آگئی۔

دوسرے دن بستی کے لوگوں نے دیکھا، مور کی چونچ میں کاچھن کا سوکھا مردہ  ہاتھ تھا۔مور کچھوارے سے نکلا اور چوپڑ ے کی طرف بڑھنے لگا۔اس کے سنہرے پنکھ  پھیلے ہوئے تھے۔لوگ اس کے پیچھے لگ گئے۔جب وہ تھانے کے سامنے پہنچا تو رک گیا اور ناچنے لگا۔اس کے ناچنے سے برسات ہونے لگی۔لوگ بھیگتے  ہوئے اسے دیکھتے رہے۔تھوڑی دیر ناچنے کے بعد وہ چوپڑے کی طرف بڑھا۔متجسس لوگ اس کے پیچھے پیچھے چوپڑے تک گئے۔ اس نے چوپڑے کا ایک چکر لگایا اور چونچ میں عورت کا ہاتھ دبائے ہوئے لوگوں کو دیکھتے دیکھتے چوپڑے کے پانی میں ڈوب گیا۔تھوڑی دیر بلبلے اٹھتے رہے، پھر پانی شانت ہوگیا۔

ہُلے کو مرے برسوں گزر گئے ہیں۔ اس کی زمین پر پانڈوں کے پتا کا مجسمہ بن گیا ہے۔مجسمے کے ارد گرد ایک خوبصورت اور گھنا باغیچہ ہے۔کنویں کی جگت سیمنٹ کی ہوگئی ہے۔بہت دنوں تک تو اس کنویں سے کسی نے پانی نہیں نکالا، پھر لوگ سب کچھ بھول بھال گئے۔باغیچے میں پکنکیں منائی جاتی ہیں تو لوگ اسی کنویں کا پانی پیتے ہیں۔

ایک دن کنویں سے پانی کھینچا جارہا تھا تو بالٹی بھاری لگنے لگی۔کھینچنے والے نے جھانک کر دیکھا تو بالٹی میں ایک لڑکے کو دیکھ کر وہ چکرا گیا۔غنیمت ہوئی کہ وہ گھبرایا نہیں اور اس نے سنبھال کر بالٹی اوپر کھینچ لی۔

سب اسے گھیر کر کھڑے ہوگئے۔وہ ایک سانولا لڑکا تھا، جس کی بڑی بڑی شفاف آنکھیں تھیں۔

‘کیا تم کنویں میں گر گئے تھے؟”

‘میں نہیں، میری ماں گر گئی تھی۔’

‘تمہاری ماں مرگئی تھی؟ تمہارا باپ کون ہے؟’

‘ہُلے کاچھی۔۔!’یہ کہہ کر لڑکا مسکرانے لگا۔

کون ہُلے کاچھی؟ وہ لوگ ہُلے کو نہیں جانتے تھے۔

٠٠٠

 

نوین ساگر 29 نومبر 1948 میں ساگر، مدھیہ پردیش میں پیدا ہوئے اور 14 اپریل 2000 میں ان کا انتقال ہوگیا۔ انہوں نے اپنی باون برس کی اس زندگی میں کئی کہانیاں لکھیں اور کمال کی شاعری کی۔ ‘نیند سے لمبی رات’، ‘جب خود نہیں تھا’اور ‘گھر گھر سے غائب’ نامی ان کے تین شعری مجموعے شائع ہوئے۔ان کی نظموں نے بغیر کسی تشہیر کے بہت سے دلوں میں اپنے لیے جگہ بنائی، البتہ کہانیاں کافی عرصے تک یکجا نہیں ہوسکیں۔مگر کچھ عرصہ قبل ہندی میں ان کی اب تک کی دستیاب تمام کہانیاں ‘نوین ساگر کی کہانیاں ‘ کے نام سے شائع ہوکر سامنے آئی۔کہا جاسکتا ہے کہ نظم و نثر پر ان کی دسترس یکساں تھی اور وہ ان دونوں میدانوں میں کامیاب رہے۔

نوین ساگر کی کہانی مور ایک غریب، نہتے مگر اڑیل آدمی کے احتجاج کی ایک ایسی کہانی بیان کرتی ہے، جس میں سب کچھ حقیقت کی تختی پر نہیں لکھا گیا ہے، بلکہ کچھ باتوں کو خاص مجازی رنگ دے کر اسے کسی بھی طرح کے خاص زمان و مکان سے الگ کردیا گیا ہے۔اس طرح یہ انسانی احتجاج پر لکھی گئی آفاقی قسم کی کہانیوں میں سے ایک بن گئی ہے اور اس کی کامیابی یہی ہے کہ یہ طاقت اور جبر کے سامنے نہ جھکنے والے ایک فرد کی ایسی گاتھا سناتی ہے، جو اپنے ہونے کے نشے کو دولت اور طاقت کے تمام نشوں سے برتر اور بہتر مانتا ہے۔وہ اس کی قیمت بھی چکاتا ہے، اسے کوئی جانتا بھی نہیں مگر پھر بھی اس کے پاؤں اس میدان میں ذرا سی دیر کے لیے بھی ڈگمگاتے نہیں ہیں۔ یہ نوین ساگر کی لکھی ہوئی بہترین کہانیوں میں سے ایک ہے۔ بلکہ ہندی ادب کی بہترین کہانیوں میں سے ایک کہا جائے ، تب بھی غلط نہ ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Attention Required! | Cloudflare

Sorry, you have been blocked

You are unable to access wajibjp.cfd

Why have I been blocked?

This website is using a security service to protect itself from online attacks. The action you just performed triggered the security solution. There are several actions that could trigger this block including submitting a certain word or phrase, a SQL command or malformed data.

What can I do to resolve this?

You can email the site owner to let them know you were blocked. Please include what you were doing when this page came up and the Cloudflare Ray ID found at the bottom of this page.

news-1701

yakinjp

yakinjp

maujp

TOTOMACAU

sabung ayam online

sabung ayam online

sabung ayam online

sabung ayam online

article 10000486

article 10000487

article 10000488

article 10000489

article 10000490

article 10000491

article 10000492

article 10000493

article 10000494

article 10000495

article 10000496

article 10000497

article 10000498

article 10000499

article 10000500

article 10000501

article 10000502

article 10000503

article 10000504

article 10000505

article 10000506

article 10000507

article 10000508

article 10000509

article 10000510

article 10000511

article 10000512

article 10000513

article 10000514

article 10000515

article 10000516

article 10000517

article 10000518

article 10000519

article 10000520

article 10000521

article 10000522

article 10000523

article 10000524

article 10000525

article 10000526

article 10000527

article 10000528

article 10000529

article 10000530

article 10000531

article 10000532

article 10000533

article 10000534

article 10000535

article 10000536

article 10000537

article 10000538

article 10000539

article 10000540

article 10000541

article 10000542

article 10000543

article 10000544

article 10000545

mahjong 000106

mahjong 000107

mahjong 000108

mahjong 000109

mahjong 000110

mahjong 000111

mahjong 000112

mahjong 000113

mahjong 000114

mahjong 000115

mahjong 000116

mahjong 000117

mahjong 000118

mahjong 000119

mahjong 000120

mahjong 000121

mahjong 000122

mahjong 000123

mahjong 000124

mahjong 000125

mahjong 000126

mahjong 000127

mahjong 000128

mahjong 000129

mahjong 000130

mahjong 000131

mahjong 000132

mahjong 000133

mahjong 000134

mahjong 000135

mahjong 000136

mahjong 000137

mahjong 000138

mahjong 000139

mahjong 000140

mahjong 000141

mahjong 000142

mahjong 000143

mahjong 000144

mahjong 000145

mahjong 000146

mahjong 000147

mahjong 000148

mahjong 000149

mahjong 000150

mahjong 000151

mahjong 000152

mahjong 000153

mahjong 000154

mahjong 000155

mahjong 000156

mahjong 000157

mahjong 000158

mahjong 000159

mahjong 000160

mahjong 2990606

mahjong 2990607

mahjong 2990608

mahjong 2990609

mahjong 2990610

mahjong 2990611

mahjong 2990612

mahjong 2990613

mahjong 2990614

mahjong 2990615

mahjong 2990616

mahjong 2990617

mahjong 2990618

mahjong 2990619

mahjong 2990620

mahjong 2990621

mahjong 2990622

mahjong 2990623

mahjong 2990624

mahjong 2990625

mahjong 2990626

mahjong 2990627

mahjong 2990628

mahjong 2990629

mahjong 2990630

mahjong 2990631

mahjong 2990632

mahjong 2990633

mahjong 2990634

mahjong 2990635

mahjong 2000546

mahjong 2000547

mahjong 2000548

mahjong 2000549

mahjong 2000550

mahjong 2000551

mahjong 2000552

mahjong 2000553

mahjong 2000554

mahjong 2000555

mahjong 2000556

mahjong 2000557

mahjong 2000558

mahjong 2000559

mahjong 2000560

mahjong 2000561

mahjong 2000562

mahjong 2000563

mahjong 2000564

mahjong 2000565

mahjong 2000566

mahjong 2000567

mahjong 2000568

mahjong 2000569

mahjong 2000570

mahjong 2000571

mahjong 2000572

mahjong 2000573

mahjong 2000574

mahjong 2000575

artikel 000000091

artikel 000000092

artikel 000000093

artikel 000000094

artikel 000000095

artikel 000000096

artikel 000000097

artikel 000000098

artikel 000000099

artikel 000000100

artikel 000000101

artikel 000000102

artikel 000000103

artikel 000000104

artikel 000000105

artikel 000000106

artikel 000000107

artikel 000000108

artikel 000000109

artikel 000000110

artikel 000000111

artikel 000000112

artikel 000000113

artikel 000000114

artikel 000000115

artikel 000000116

artikel 000000117

artikel 000000118

artikel 000000119

artikel 000000120

article 7700331

article 7700332

article 7700333

article 7700334

article 7700335

article 7700336

article 7700337

article 7700338

article 7700339

article 7700340

article 7700341

article 7700342

article 7700343

article 7700344

article 7700345

article 7700346

article 7700347

article 7700348

article 7700349

article 7700350

article 7700351

article 7700352

article 7700353

article 7700354

article 7700355

article 7700356

article 7700357

article 7700358

article 7700359

article 7700360

article 7700361

article 7700362

article 7700363

article 7700364

article 7700365

article 7700366

article 7700367

article 7700368

article 7700369

article 7700370

article 7700371

article 7700372

article 7700373

article 7700374

article 7700375

article 7700376

article 7700377

article 7700378

article 7700379

article 7700380

article 7700381

article 7700382

article 7700383

article 7700384

article 7700385

article 7700386

article 7700387

article 7700388

article 7700389

article 7700390

article 7700391

article 7700392

article 7700393

article 7700394

article 7700395

article 7700396

article 7700397

article 7700398

article 7700399

article 7700400

article 238000561

article 238000562

article 238000563

article 238000564

article 238000565

article 238000566

article 238000567

article 238000568

article 238000569

article 238000570

article 238000571

article 238000572

article 238000573

article 238000574

article 238000575

article 238000576

article 238000577

article 238000578

article 238000579

article 238000580

article 238000581

article 238000582

article 238000583

article 238000584

article 238000585

article 238000586

article 238000587

article 238000588

article 238000589

article 238000590

mahjong 238000591

mahjong 238000592

mahjong 238000593

mahjong 238000594

mahjong 238000595

mahjong 238000596

mahjong 238000597

mahjong 238000598

mahjong 238000599

mahjong 238000600

mahjong 238000601

mahjong 238000602

mahjong 238000603

mahjong 238000604

mahjong 238000605

mahjong 238000606

mahjong 238000607

mahjong 238000608

mahjong 238000609

mahjong 238000610

mahjong 238000611

mahjong 238000612

mahjong 238000613

mahjong 238000614

mahjong 238000615

mahjong 238000616

mahjong 238000617

mahjong 238000618

mahjong 238000619

mahjong 238000620

mahjong 9998000686

mahjong 9998000687

mahjong 9998000688

mahjong 9998000689

mahjong 9998000690

mahjong 9998000691

mahjong 9998000692

mahjong 9998000693

mahjong 9998000694

mahjong 9998000695

mahjong 9998000696

mahjong 9998000697

mahjong 9998000698

mahjong 9998000699

mahjong 9998000700

mahjong 9998000701

mahjong 9998000702

mahjong 9998000703

mahjong 9998000704

mahjong 9998000705

mahjong 9998000706

mahjong 9998000707

mahjong 9998000708

mahjong 9998000709

mahjong 9998000710

mahjong 9998000711

mahjong 9998000712

mahjong 9998000713

mahjong 9998000714

mahjong 9998000715

mahjong 9998000716

mahjong 9998000717

mahjong 9998000718

mahjong 9998000719

mahjong 9998000720

mahjong 9998000721

mahjong 9998000722

mahjong 9998000723

mahjong 9998000724

mahjong 9998000725

mahjong 838000773

mahjong 838000774

mahjong 838000775

mahjong 838000776

mahjong 838000777

mahjong 838000778

mahjong 838000779

mahjong 838000780

mahjong 838000781

mahjong 838000782

mahjong 838000783

mahjong 838000784

mahjong 838000785

mahjong 838000786

mahjong 838000787

mahjong 838000788

mahjong 838000789

mahjong 838000790

mahjong 838000791

mahjong 838000792

mahjong 838000793

mahjong 838000794

mahjong 838000795

mahjong 838000796

mahjong 838000797

mahjong 838000798

mahjong 838000799

mahjong 838000800

mahjong 838000801

mahjong 838000802

news-1701
news-1701

yakinjp

yakinjp

rtp yakinjp

yakinjp

yakinjp

yakin jp

yakinjp id

maujp

maujp

maujp

sabung ayam online

sabung ayam online

SLOT MAHJONG

sabung ayam online

article 838000638

article 838000639

article 838000640

article 838000641

article 838000642

article 838000643

article 838000644

article 838000645

article 838000646

article 838000647

article 838000648

article 838000649

article 838000650

article 838000651

article 838000652

article 838000653

article 838000654

article 838000655

article 838000656

article 838000657

article 838000658

article 838000659

article 838000660

article 838000661

article 838000662

article 838000663

article 838000664

article 838000665

article 838000666

article 838000667

article 838000668

article 838000669

article 838000670

article 838000671

article 838000672

article 838000673

article 838000674

article 838000675

article 838000676

article 838000677

article 838000678

article 838000679

article 838000680

article 838000681

article 838000682

article 838000683

article 838000684

article 838000685

article 838000686

article 838000687

article 838000688

article 838000689

article 838000690

article 838000691

article 838000692

article 838000693

article 838000694

article 838000695

article 838000696

article 838000697

article 238000456

article 238000457

article 238000458

article 238000459

article 238000460

article 238000461

article 238000462

article 238000463

article 238000464

article 238000465

article 238000466

article 238000467

article 238000468

article 238000469

article 238000470

article 238000471

article 238000472

article 238000473

article 238000474

article 238000475

article 238000476

article 238000477

article 238000478

article 238000479

article 238000480

article 238000481

article 238000482

article 238000483

article 238000484

article 238000485

article 238000486

article 238000487

article 238000488

article 238000489

article 238000490

article 238000491

article 238000492

article 238000493

article 238000494

article 238000495

article 238000496

article 238000497

article 238000498

article 238000499

article 238000500

article 238000501

article 238000502

article 238000503

article 238000504

article 238000505

article 238000506

article 238000507

article 238000508

article 238000509

article 238000510

article 238000511

article 238000512

article 238000513

article 238000514

article 238000515

article 7700246

article 7700247

article 7700248

article 7700249

article 7700250

article 7700251

article 7700252

article 7700253

article 7700254

article 7700255

article 7700256

article 7700257

article 7700258

article 7700259

article 7700260

article 7700261

article 7700262

article 7700263

article 7700264

article 7700265

article 7700266

article 7700267

article 7700268

article 7700269

article 7700270

article 7700271

article 7700272

article 7700273

article 7700274

article 7700275

article 7700276

article 7700277

article 7700278

article 7700279

article 7700280

article 7700281

article 7700282

article 7700283

article 7700284

article 7700285

article 2000431

article 2000432

article 2000433

article 2000434

article 2000435

article 2000436

article 2000437

article 2000438

article 2000439

article 2000440

article 2000441

article 2000442

article 2000443

article 2000444

article 2000445

article 2000446

article 2000447

article 2000448

article 2000449

article 2000450

article 2000451

article 2000452

article 2000453

article 2000454

article 2000455

article 2000456

article 2000457

article 2000458

article 2000459

article 2000460

article 2000461

article 2000462

article 2000463

article 2000464

article 2000465

article 2000466

article 2000467

article 2000468

article 2000469

article 2000470

article 2000471

article 2000472

article 2000473

article 2000474

article 2000475

article 2000476

article 2000477

article 2000478

article 2000479

article 2000480

article 2000481

article 2000482

article 2000483

article 2000484

article 2000485

article 2000486

article 2000487

article 2000488

article 2000489

article 2000490

article 2990581

article 2990582

article 2990583

article 2990584

article 2990585

article 2990586

article 2990587

article 2990588

article 2990589

article 2990590

article 2990591

article 2990592

article 2990593

article 2990594

article 2990595

article 2990596

article 2990597

article 2990598

article 2990599

article 2990600

article 2990601

article 2990602

article 2990603

article 2990604

article 2990605

article 2990606

article 2990607

article 2990608

article 2990609

article 2990610

article 2990611

article 2990612

article 2990613

article 2990614

article 2990615

article 2990616

article 2990617

article 2990618

article 2990619

article 2990620

article 10000416

article 10000417

article 10000418

article 10000419

article 10000420

article 10000421

article 10000422

article 10000423

article 10000424

article 10000425

article 10000426

article 10000427

article 10000428

article 10000429

article 10000430

article 10000431

article 10000432

article 10000433

article 10000434

article 10000435

article 10000436

article 10000437

article 10000438

article 10000439

article 10000440

article 10000441

article 10000442

article 10000443

article 10000444

article 10000445

article 10000446

article 10000447

article 10000448

article 10000449

article 10000450

news-1701