کاتِک کا پہلا پھول

کمرے میں خاموشی کی سرگوشیاں  سی ہورہی تھیں۔سرگوشیوں میں خوابوں کی چھٹپٹاہٹ تھی ، یادوں کی بچی ہوئی کرچیاں تھیں۔

بڑھاپا عمر کا ریسٹ ہاؤس تھا۔اوجھا جی کو لگتا تھا کہ زندگی دھاگے کی ایک ریل ہے۔جس دن پوری ادھڑ جائے گی اسی دن ختم ہوجائے گی۔گھڑی ٹک ٹک کی رفتار سے بڑھے جارہی تھی۔کھڑکی سے سورج کا ایک نرم گرم ٹکڑا  کمرے میں اتر کر پھیل گیا تھا۔باہر ہلکی ہوا کے ساتھ دھول بھی تھی۔کاتِک کی خوشگوار صبح اب دوپہر کی طرف بڑھ رہی تھی۔ اوجھا جی کی ہتھیلیوں کی سوجی ہوئی نسوں میں، جھکی جھکی سی پیٹھ میں، چھاتی اور گھٹنوں کی پیچھے جھولتی چمڑی میں زندگی نے باقاعدہ عمر کے نوے دستخط ثبت کیے تھے۔انہوں نے بالش کے نیچے سے سٹیل کی ایک ننھی ڈبیا نکالی۔

کھینی دھیرے دھیرے رگڑ کر  نچلے ہونٹ کے پیچھے دبا لینے پر وہ مزہ نہیں دیتی تھی، جو بائیں ہتھیلی پر  رکھ کر اسے کس کس کر دوسری ہتھیلی سے پیٹنے کے بعد انگوٹھے سے خوب رگڑ کر ہونٹ میں داب لینے پر آتا تھا۔ روزبروز لگاتار کھینی بنانے کے کارن ہتھیلی کے  عین درمیان ایک کالا مٹ میلا نشان سا بن گیا تھا۔کھینی بناتے ہوئے اکثر ہی اوجھا جی بیتے ہوئے ریزگاری جیسے معمولی دنوں کی جگالی کرنے لگتے تھے۔

زندگی اُن چھُٹّے دنوں کی روٹیاں  کترتی معلوم ہوتی تھی۔یہ روٹیاں خواہشوں کی تھیں۔یاد یں  پتھر کی طرح سینے پر لدی رہتی تھیں۔اوجھا جی نے ان پتھروں کو توڑ تاڑ کر انہیں مٹی کردیا تھا۔اس مٹی میں ڈھیرسارے پودے لگائے تھے۔دروازے پر گلابی پھولوں سے لدی بوگنویلیا کی گھنی بیلیں پھیلی تھیں۔پھر ایک قطار سے گلاب اور چمبیلی کے پودے تھے۔کچھ اور آگے بڑھنے پر دائرے کی شکل  میں گیندے کے پودے لگائے  گئے تھے اور ان کے پاس ہی ہرسنگھار اور امرود کے گملے سجے تھے۔ایک دم آخر میں گڑھُل کا ایک پودا موجود تھا۔ یہ پوا وہ اپنی ناسِک والی بیٹی کے یہاں سے لائے تھے۔پودے فقط پھل پھولوں کے نہیں تھے۔ کچھ جنگلی پودوں کی پتیاں اور ڈالیں اس خوبصورتی سے چھانٹی گئی تھیں کہ ان کے سبب اس ننھے سے آنگن کی خوبصورتی کئی گنا  بڑھ گئی تھی۔ یہ سب کوئی نئی بات نہیں تھی۔

پارس ناتھ میں ریلوے کی اوپن لائن میں جب اوجھا جی تھے، تب بھی ان کے کوارئٹر کا دو ہاتھ بھر کا باغیچہ خوبصورت پھول پودوں سے سجا رہا کرتا تھا۔ایک بار تو جنرل مینجر نے انہیں سو روپے کا  انعام بھی دیا تھا۔ اوجھا جی کو اپنے پودے پر بہت فخر تھا۔ان پر ٹھہرنے والی ایک تعریفی نظر اوجھا جی  کے روئیں روئیں کو سرشار کردیتی تھی۔

کھینی کھاکر وہ اٹھے۔ جنیوو کو آہستہ آہستہ پیٹھ پر رگڑتے ہوئے آنگن میں آئے۔ ایک پودے کے پاس ٹھہرے۔رات بھر جھڑے اور سوکھے ہرسنگھار اور بھوری پتیوں کو انہوں نے صبح سے ہی چن کر صاف کردیا تھا۔ مٹی میں کافی نمی تھی۔گڑھُل کے علاوہ دیگر کسی پودے پر پھول یا کلی نہیں آئی تھی۔ جس انہماک سے مصور کینوس پر رنگ بھرتا ہوگا، جس ممتا سے ماں اپنے بچے کو دودھ پلاتی ہوگی، اوجھا جی اسی موہ ، ممتا اور محبت سے مٹی کی  نِرائی گُڑائی کیا کرتے تھے۔پودوں میں پانی دیا کرتے۔ان کی دھوتی مٹی میں لتھڑ جاتی۔ناخنوں میں جمی مٹی چبھنے لگتی تھی۔ مگر پودوں سے ان کا موہ بڑھتا ہی جارہا تھا۔ایک ایک پتہ، بوٹا بوٹا ان کے لمس کو جیسے پہچانتا تھا۔ماں کا سب سے کمزور بچہ ماں کی سب سے زیادہ ممتا پاتا ہے۔گڑھُل کا یہ پودا اوجھا جی کی ایسی ہی کمزور اولاد تھا۔اب تک کبھی اس  پر ایک بھی پھول پنپ نہیں سکا تھا۔پتے چکنے چمکیلے اور خوبصورت تھے۔ٹہنیاں بھی سڈول تھیں۔ اوجھا جی اکثر پودے کی چھنٹائی کیا کرتے تھے۔سمے سے کھاد پانی سب دیتے۔اس کی چکنی پتیوں کو پیار سے سہلاتے۔ان کی نسوں میں بہتا ہوا پریم اور جیون جیسے قطروں کی راہ ہوتا ہوا پودوں میں سماتا چلا جاتا۔وہ اس پودے کو کئی منٹوں تک نہارتے  رہتے۔اور دو دن پہلے ہی اوجھا جی نے اس پر گنگناتی ہوئی ننھی کلی دیکھی تھی۔کلی کسی بھی وقت کھل اٹھنے کی حالت میں تھی۔اوجھا  جی  نے آہستہ سے کلی کو چھوا۔مسکرائے اور نہانے کے لیے سیمنٹ کے بنے اونچے فرش پر آگئے۔ بورنگ کی ہتھی چلاتے وقت پیر کی نسیں تڑ تڑ کرتی معلوم ہوتی تھیں۔پورا بدن چٹختا تھا۔ بوڑھا آدمی جسم کی طاقت سے نہیں، ہمت سے چلتا ہے۔ ہمت ہی تھی ، جو ماننے نہیں دیتی تھی کہ ان کا جسم تھک رہا ہے۔حالانکہ وہ سب سے خود کہا کرتے تھے۔’بڑی عمر گئِل با ہمار!'(اب ہماری بہت عمر ہوگئی ہے۔)

مگر یہی ہمت تب چوکنے لگتی جب بخار سر پر چڑھنے لگتا یا پیٹ پریشان کرنے پر آمادہ ہوجاتا۔اوجھا جی اکثر ہی کہا کرتے، ‘جان کو جسم سے بہت لگاؤ ہوتا ہے۔جان جلدی جسم چھوڑنا نہیں چاہتی، مگر جسم تو ادھ موا ہو ہی جاتا ہے۔اسی موہ کے کارن موت کے سمے آدمی کو تکلیف ہوتی ہے۔’

جب تب یہی موہ انہیں باندھنے لگتا۔چھوٹی ہوئی چیزوں اور لوگوں کا موہ۔دوست، رشتہ دار، ساتھی ، پتنی۔اور پودوں کا موہ تو تھا ہی۔اس موہ کا کوئی مطلب ہے کیا؟ چھوٹی ہوئی چیزیں اور لوگ پاس نہیں تھے۔اور جو نہیں چھوٹے تھے وہ بھی آخر کتنی دیر پاس ہیں، اس کا کیا کوئی ٹھکانا ہے؟

‘نمامیش  میشان نِروان روپم’ کا پاٹھ ایک عرصے سے چھوٹا ہوا تھا۔چھوٹا سا شیو لنگ کونے  میں دھکیل دیا گیا تھا۔ان پر اب بیل پتر نہیں چڑھا کرتا تھا۔کمرے میں کاٹھ کا ایک کالا بکسا تھا۔بکسے میں ڈھیر ساری پرانی کتابیں اور رسالے تھے۔بانوے، ترانوے تک  کے ‘کادمبنی ‘ کے شمارے تھے۔کبھی بہت چاؤ سے انہوں نے یہ کتابیں خریدی تھیں۔ان پر دُلار سے اخبار کی جلد مڑھی تھی۔اب تو اس طرف دیکھنے تک کا من نہیں کرتا۔بکسے میں دھول اٹی پڑی تھی۔اوجھا جی کپڑوں سے دھول جھاڑ کر کتابیں سجا رہے تھے۔بہو کھانا لے کر آئی تھی۔’بابو جی کھانا۔’

‘رکھ دو۔’

اوجھا جی پہلے کی طرح کتابیں سجاتے رہے۔بہو کھانا پانی رکھ کر چلی گئی۔کتابیں رکھ کر انہوں نے بکسا بند کردیا۔ سامنے کھانے کی تھالی تھی۔ کھانا دیکھ کر انہیں پتنی بے طرح یاد آتی تھی۔پتنی کو ان دنوں  نام سے پکارنے کا رواج نہیں تھا۔

‘سن تاروُ ہو(سنتی ہو)۔۔۔’کہہ کر ہی کام چلا لیا جاتا تھا۔پتنی خاموشی سے ہی آگے پیچھے ڈولتی رہتی تھیں۔ ان کے آسن پر بیٹھ  جانے کے بعد ہی تھالی میں گرم کھانا پروستیں۔اوجھا جی  جتنی  دیر کھاتے وہ  پنکھا جھلتی جاتی تھیں۔انہیں سبزی تیکھی چاہیے ہوتی تو تیکھی ہی ملتی۔میٹھا کھانے کا من ہوتا تو  میٹھا حاضر ہوجاتا تھا۔اوجھا جی کام میں مصروف رہتے۔پتنی بار بار پہلے کھانا کھالینے پر اصرار کرتیں۔وہ سنی ان سنی کردیتے۔کافی وقت بعد کام سے فارغ ہوتے، اس کے باوجود کھانا ہمیشہ گرم ہی ملتا۔

اس روز بارش ہوری تھی۔باغیچے کے ہر پودے تک پانی جانے کے لیے وہ راستہ بنارہے تھے کہ پتنی پکوڑے لے کر برآمدے میں حاضر ہوگئیں۔پتنی بار بار پہلے گرم گرم پکوڑے کھالینے کی ضد کررہی تھیں۔انہوں نے بری طرح جھڑک دیا۔’ہر سمے کیا کھالیجیے، کھالیجیے کی رٹ لگائے رہتی ہو؟ دیکھتی نہیں کام نمٹا رہا ہوں۔ تمہیں تو بس اپنے پکوڑوں کی  پڑی ہے۔’

پتنی شاید اندر تک سہم گئی تھیں۔دھیرے سے بولی تھیں۔’جب ہم نا رہب نا تب بجھائی تہارا۔'(جب ہم نہیں رہیں گے نا، تب معلوم ہوگا تمہیں۔)

دوپہر کسی اداس پرانی دھن کی طرح سر  چڑھ رہی تھی۔ کھانے پر مکھی بھنبھنانے لگی۔ اوجھا جی نے ہتھیلی ہلاکر مکھی بھگا دی۔دیوار کے کونوں پر مکڑی کے جالے لٹک آئے تھے۔ کھڑکی پر بیٹھا کبوتر پنکھ پھڑپھڑاتا ہوا اڑگیا۔

سویرے اٹھ کر اوجھا جی پودوں کو ‘صبح مبارک’ کہنے آئے تو گڑھُل پر ایک ننھا پھول کھل چکا تھا۔اجلے پھول کی پنکھڑیوں کے نچلے سروں پر کتھئی رنگ کے دھبے تھے۔پورے باغیچے میں موسم کا پہلا پھول شرمایا شرمایا سا مسکرارہا تھا۔ارہر کی جھاڑو سے آنگن بُہارتے ہوئے کئی دفعہ نظر ادھر ہی کو اٹھ جاتی۔جیسے کتھئی سیاہی میں انگلی بھگو کر اجلے پھول پر چھڑک دی گئی ہو۔یہ جس کی بھی کلاکاری تھی، بڑی خوبصورت تھی۔دن پھول کے ارد گرد، اس سے ہی سرابور ہوتے ہوئے گزرا۔کاتِک کی نارنجی شام اب بھاگنے لگی تھی۔ ہوا  میں کہرا سا تھا۔ایک پوتا اوجھا جی کے پاس ہی بیٹھا موبائل چلا رہا تھا۔بچوں کو موبائل چلاتے دیکھ کر اوجھا جی کو جیسے کچھ ہونے لگتا تھا۔کوئی الجھن  کا سا احساس۔

‘کا ٹیپ ٹاپ کررہے ہو؟’

‘کچھ نہیں۔’پوتے نے موبائل میں گردن ڈالے ڈالے کہا۔

کسی کا بھی اپنے آس پاس بیٹھنا اوجھا جی کو  کچھ جوشیلا سا بنا دیتا تھا۔گزرے دنوں کی  پرشور جگالی کرنے کے لیے دل  زور مارنے لگتا۔مگر اب یادیں، سوچیں، تصورات اور خواب آپس میں اس قدر گڈ مڈ ہوگئے تھے کہ ایک  ایک سوت کو الگ کرپانا ناممکن لگتا تھا۔کچھ بھی کہنے سے پہلے من ہی من جیسے کوئی تیاری چلتی تھی۔سوچے ہوئے اور بولے کا فرق معدوم سا ہوتا ہوا نظر آتا۔کئی بار کچھ باتیں اوجھا جی دل میں اتنی بار دوہرا لیتے کہ انہیں ایسا لگتا کہ وہ اسے دوسروں کو کئی دفعہ سنا چکے ہیں۔کئی بار اس کے برعکس بھی ہوتا تھا کہ دوسروں سے کی ہوئی باتیں بھی دل میں دوہرائی ہوئی سی معلوم ہوتی تھیں۔دن بھر کمرے میں اوجھا جی کی سانس کے الاؤکی آواز بس چوہوں کی بھاگ دوڑ جیسے شور کی مانند لگتی تھی۔ایسے میں بولتا ہوا ٹی وی بھی بے جان لگتا تھا۔ اوجھا جی نے کھنکھار کر کچھ جملے اچھالنا شروع کیا تھا۔پوتے نے بیزار لہجے میں کہا۔’سنائی ہوئی کہانی کتنی بار سنائیں گے بابا؟’

اوجھا جی کے پاس آگے کہنے کے لیے کچھ نہیں بچتا تھا۔

دنیا کے ہر آدمی کے پاس ایک  ترشول ہوا کرتا ہے، تیکھا اور نوکیلاترشول۔اوجھا جی کے  اندر بھی کوئی ترشول موجود تھا۔ اوجھا جی اپنے اندر کے ترشول کو لگاتار گھستے رہتے تھے کہ وہ ملائم، نرم اور ریشمی بنا رہے تاکہ جب بھی کسی سے ان کا یہ ترشول ٹکرائے تو سامنے والے کو کم سے کم چوٹ پہنچے۔لیکن دنیا کے پاس نہ تو اتنا صبر ہوتا تھا نہ وقت۔۔۔اس لیے اوجھا جی سے ٹکرانے والے دنیا کے ہر ترشول کی چوٹ بہت کاری ہوتی تھی۔

یادوں کی ریت جدھر جی چاہے پھسل جایا کرتی تھی۔ پانچ بیٹیوں میں جب سب سے بڑی سیانی ہوئی تو اوجھا جی نے منجھلے بھائی سے بر ڈھونڈنے میں مدد مانگی۔بھائی شام کی بتی میں گھی ڈالتے ہوئے بولے تھے،’سیٹھ ٹوڈرمل کہتا ہے کہ بھائی بیٹی اپنے دم پر پالتا ہے کہ بھائی کے دم پر؟’

اوجھا جی چپ ہوگئے۔دھیرے دھیرے ساری بیٹیاں اپنے اپنے گھر کی ہوگئی تھیں۔چھٹیوں میں ان سے ملنے آتیں۔دلار جتایا جاتا۔ شکایتیں درج ہوتیں۔

‘آپ چھوٹی کو زیادہ چاہتے ہیں۔’

‘آپ بڑی کو زیادہ مانتے ہیں۔’

شبد کی کئی تہیں تھیں۔ایک شبد سے کئی معنی سادھے جاسکتے تھے۔اوجھا جی  یہ مانتے مانتے تھک سے گئے تھے۔

ہوا میں خنکی بڑھ رہی تھی۔سوتی شال بدن پر ڈھیلی پڑ گئی تھی۔ اندھیرا گاڑا تھا۔ اوجھا جی لالٹین جلانے کمرے میں جانے لگے۔ آنگن کے کونے میں گڑھُل مسکرا رہا تھا۔اوجھا جی اس کے پاس گئے۔اس کی پنکھڑیوں کا موتی سا اُجلا پن چمک رہا تھا۔اوجھا جی دھیمے سے بولے۔’تمہارے پاس تو کوئی ترشول نہیں ہے؟’

کاتِک کے ایک ہلکے جھونکے سے پھول کانپ اٹھا۔

صبح اوجھا جی سب سے پہلے ہرسنگھار کے پاس گئے۔اس کے پھول چن کر اوجھا جی پھینکتے نہیں تھے۔انہوں نے سارے پھول پیڑ کی جڑوں کے چاروں طرف گول گھیرے میں رکھ دیے۔کیاریوں کی اینٹیں ٹیڑھی میڑھی ہوگئی تھیں۔اینٹیں سیدھی کرتے ہوئے اوجھا جی کی نظر اچانک گڑھُل پر پڑگئی ۔ڈال سونی تھی۔اوجھا جی کا دل دھک سے ہوگیا۔کس نے کیا یہ؟ انہوں نے بہو کو آواز لگائی۔۔۔

‘یہ گڑھُل کا پھول کس نے توڑا؟’

‘آج ایکادشی ہے تو پوجا کے لیے میں نے ہی توڑ لیا۔’ بہو دھیرے سے بولی۔اوجھا  جی کا دل روہانسا ہوگیا۔وہ خاموش بیٹھے کیاری کی اینٹیں ٹھیک کرنے لگے۔بوگنویلیا کی شاخوں کے پاس چھت پر کبوتر تھا۔ کبوتر ٹُکر ٹُکر اوجھا جی کو دیکھ رہا تھا۔ گڑھُل کی وہ سونی ڈال کاتِک کے جھونکے سے اب بھی جھوم رہی تھی۔

٠٠٠

 

اب ایسی کہانیاں بہت کم لکھی جاتی ہیں، جن میں زندگی کے معمولی اداس تجربوں کو اتنی خوبصورتی سے قید کردیا جائے، جیسا کہ اس کہانی میں کیا گیا ہے۔اُپاسنا کی یہ مختصر سی کہانی ، ایک بوڑھے آدمی  اور زندگی کے درمیان شرارت بھری رسہ کشی کا ایک عمدہ قصہ ہے۔اس قصے کی سب سے خوبصورت بات، اس  پر چھڑکی گئی وہ افشاں ہے، جسے مرنے سے کچھ پہلے ایک آدمی کی زندگی کے نہایت بور لمحے مان کر محض یوں ہی نظر انداز کردیا جاتا ہے۔کتنی معمولی اور چھوٹی باتوں سے اس کی خوشی اور غم ، یادیں اور خواب، خوشیاں اور پچھتاوے وابستہ ہوتے ہیں، اس کہانی میں اُپاسنا نے انہیں بہت اچھی طرح پرویا ہے۔میں ان کے انداز نگارش اور علاقائی زبان  کی جڑوں سے ان کے  گہرےتعلق کو بہت اہم چیز مانتا ہوں۔ایسی کہانیاں جب بھی نظر سے ٹکراتی ہیں، زندگی  ایک ہی پل میں کتنی بے معنی مگر پرلطف دکھائی دینے لگتی ہے۔

اُپاسنا کا جنم 8 اکتوبر ، 1984 کو چترنجن ، مغربی بنگال میں ہوا۔ہندی ادب اور تدریس میں ایم اے، بی ایڈ کے ساتھ انہوں نے پینٹنگ میں ڈپلومہ بھی حاصل کیا ہے۔کچھ برسوں تک وہ سکول میں پڑھاتی بھی رہی ہیں۔بچوں کے لیے بھی انہوں نے عمدہ ادب لکھا ہے۔ان کی مطبوعہ کتابوں میں ‘ایک زندگی۔۔۔ایک سکرپٹ بھر!’ اور’دریا بندر کوٹ’ نام کے دو افسانوی مجموعے، ‘ڈیسک پر لکھے نام  کے عنوان سے بچوں کے لیے لکھا گیا ایک ناول اور’ بینگن نہیں آئے’ کے نام سے بچوں کے لیے ہی ایک ڈراما شامل ہیں۔بچوں کے لیے لکھی گئی ان کی تحریروں کا مراٹھی میں ترجمہ بھی ہوچکا ہے۔انہیں  اپنی کہانیوں کے سبب ‘بھارتیہ گیان پیٹھ نولیکھن ایوارڈ’،’ونمالی وششٹ کتھا سمان’ اور ‘وجے موہن سنگھ کتھا سمان’ سے نوازا جاچکا ہے۔ہندی میں ان کی طویل کہانی ‘ایک زندگی ۔۔۔ایک سکرپٹ بھر’ نے نئی معاصر فکشن نگاری میں ان کے نام کو مستحکم کیا ہے۔یہ کہانی ہندی کے صف اول کے رسالے ‘تَدبھَو’ میں شائع کی گئی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

news-1701

yakinjp


sabung ayam online

yakinjp

yakinjp

rtp yakinjp

slot thailand

yakinjp

yakinjp

yakin jp

ayowin

yakinjp id

maujp

maujp

sabung ayam online

sv388

taruhan bola online

maujp

maujp

sabung ayam online

sabung ayam online

sabung ayam online

judi bola online

sabung ayam online

judi bola online

slot mahjong ways

slot mahjong

sabung ayam online

judi bola

live casino

sabung ayam online

judi bola

live casino

slot mahjong

118000556

118000557

118000558

118000559

118000560

118000561

118000562

118000563

118000564

118000565

118000566

118000567

118000568

118000569

118000570

118000571

118000572

118000573

118000574

118000575

118000576

118000577

118000578

118000579

118000580

118000581

118000582

118000583

118000584

118000585

118000586

118000587

118000588

118000589

118000590

118000591

118000592

118000593

118000594

118000595

118000596

118000597

118000598

118000599

118000600

118000601

118000602

118000603

118000604

118000605

118000606

118000607

118000608

118000609

118000610

118000611

118000612

118000613

118000614

118000615

118000616

118000617

118000618

118000619

118000620

118000621

118000622

118000623

118000624

118000625

118000626

118000627

118000628

118000629

118000630

128000621

128000622

128000623

128000624

128000625

128000626

128000627

128000628

128000629

128000630

128000631

128000632

128000633

128000634

128000635

128000636

128000637

128000638

128000639

128000640

128000641

128000642

128000643

128000644

128000645

128000646

128000647

128000648

128000649

128000650

128000651

128000652

128000653

128000654

128000655

128000656

128000657

128000658

128000659

128000660

128000661

128000662

128000663

128000664

128000665

128000666

128000667

128000668

128000669

128000670

128000671

128000672

128000673

128000674

128000675

128000676

128000677

128000678

128000679

128000680

128000681

128000682

128000683

128000684

128000685

128000686

128000687

128000688

128000689

128000690

128000691

128000692

128000693

128000694

128000695

138000421

138000422

138000423

138000424

138000425

208000296

208000297

208000298

208000299

208000300

208000301

208000302

208000303

208000304

208000305

208000306

208000307

208000308

208000309

208000310

208000311

208000312

208000313

208000314

208000315

208000316

208000317

208000318

208000319

208000320

208000321

208000322

208000323

208000324

208000325

208000326

208000327

208000328

208000329

208000330

208000331

208000332

208000333

208000334

208000335

208000336

208000337

208000338

208000339

208000340

208000341

208000342

208000343

208000344

208000345

208000346

208000347

208000348

208000349

208000350

208000351

208000352

208000353

208000354

208000355

208000356

208000357

208000358

208000359

208000360

208000361

208000362

208000363

208000364

208000365

208000366

208000367

208000368

208000369

208000370

news-1701
news-0801

yakinjp


sabung ayam online

yakinjp

yakinjp

rtp yakinjp

yakinjp

yakinjp

judi bola online

slot thailand

yakinjp

yakinjp

yakinjp

yakinjp

ayowin

mahjong ways

judi bola online

mahjong ways 2

JUDI BOLA ONLINE

maujp

maujp

sabung ayam online

maujp

maujp

maujp

maujp

sabung ayam online

mahjong ways slot

sbobet88

live casino online

Situs Agen Togel

MAUJP

118000021

118000022

118000023

118000024

118000025

118000026

118000027

118000028

118000029

118000030

118000031

118000032

118000033

118000034

118000035

118000036

118000037

118000038

118000039

118000040

118000041

118000042

118000043

118000044

118000045

118000046

118000047

118000048

118000049

118000050

128000021

128000022

128000023

128000024

128000025

128000026

128000027

128000028

128000029

128000030

128000031

128000032

128000033

128000034

128000035

128000036

128000037

128000038

128000039

128000040

128000041

128000042

128000043

128000044

128000045

128000046

128000047

128000048

128000049

128000050

138000021

138000022

138000023

138000024

138000025

138000026

138000027

138000028

138000029

138000030

138000031

138000032

138000033

138000034

138000035

138000036

138000037

138000038

138000039

138000040

138000041

138000042

138000043

138000044

138000045

138000046

138000047

138000048

138000049

138000050

148000026

148000027

148000028

148000029

148000030

148000031

148000032

148000033

148000034

148000035

148000036

148000037

148000038

148000039

148000040

148000041

148000042

148000043

148000044

148000045

148000046

148000047

148000048

148000049

148000050

148000051

148000052

148000053

148000054

148000055

148000056

148000057

148000058

148000059

148000060

148000061

148000062

148000063

148000064

148000065

148000066

148000067

148000068

148000069

148000070

158000041

158000042

158000043

158000044

158000045

158000046

158000047

158000048

158000049

158000050

158000051

158000052

158000053

158000054

158000055

158000056

158000057

158000058

158000059

158000060

158000061

158000062

158000063

158000064

158000065

158000066

158000067

158000068

158000069

158000070

168000011

168000012

168000013

168000014

168000015

168000016

168000017

168000018

168000019

168000020

168000021

168000022

168000023

168000024

168000025

168000026

168000027

168000028

168000029

168000030

168000031

168000032

168000033

168000034

168000035

168000036

168000037

168000038

168000039

168000040

178000036

178000037

178000038

178000039

178000040

178000041

178000042

178000043

178000044

178000045

178000046

178000047

178000048

178000049

178000050

178000051

178000052

178000053

178000054

178000055

178000056

178000057

178000058

178000059

178000060

178000061

178000062

178000063

178000064

178000065

188000141

188000142

188000143

188000144

188000145

188000146

188000147

188000148

188000149

188000150

188000151

188000152

188000153

188000154

188000155

188000156

188000157

188000158

188000159

188000160

188000161

188000162

188000163

188000164

188000165

188000166

188000167

188000168

188000169

188000170

198000031

198000032

198000033

198000034

198000035

198000036

198000037

198000038

198000039

198000040

198000041

198000042

198000043

198000044

198000045

198000046

198000047

198000048

198000049

198000050

198000051

198000052

198000053

198000054

198000055

198000056

198000057

198000058

198000059

198000060

218000021

218000022

218000023

218000024

218000025

218000026

218000027

218000028

218000029

218000030

218000031

218000032

218000033

218000034

218000035

218000036

218000037

218000038

218000039

218000040

218000041

218000042

218000043

218000044

218000045

218000046

218000047

218000048

218000049

218000050

228000016

228000017

228000018

228000019

228000020

228000021

228000022

228000023

228000024

228000025

228000026

228000027

228000028

228000029

228000030

228000031

228000032

228000033

228000034

228000035

228000036

228000037

228000038

228000039

228000040

228000041

228000042

228000043

228000044

228000045

228000046

228000047

228000048

228000049

228000050

238000001

238000002

238000003

238000004

238000005

238000006

238000007

238000008

238000009

238000010

238000011

238000012

238000013

238000014

238000015

238000016

238000017

238000018

238000019

238000020

news-0801