بے وقت افطار

آمیز رضا اپنے نچلے بدن پر پرانا کمبل اوڑھے، ہاتھ میں جھلنے والا پنکھا لیے، چھت پربچھے اپنے بستر پر لیٹا ہوا تھا۔

گرم ہوا جو شہر کے اس جنوبی حصے کی دھوپ کھائی ہوئی کچی اینٹوں کی چھتوں کے اوپر چل رہی تھی، شہر کی بھیڑبھری سڑکوں کے شوروغل، کسی بس کے ہارن کی لمبی چیخ یا کسی خوشحال گھر میں بجتے ریڈیو کی دوردست اور خوابناک آواز کو اپنے ساتھ لے آئی تھی۔ یہ ہوا اس کی پسینے سے تر قمیص کو چھو رہی تھی لیکن اترتی شام کی سخت گرمی کو کم کرنے کے لیے کافی نہ تھی، اور اسے، جو قمیص اوپر کیے دستی پنکھا جھلنے میں مصروف تھا، کسی طرح ٹھنڈک نہ پہنچا رہی تھی۔

گردوغبار، جو معمول کے مطابق مغرب کے قریب تہران کے آسمان کو ڈھانپ لیتا ہے، اب تک جنوبِ شہر کے اس خاک آلود محلے میں تیرتا پھر رہا تھا، اور ایک کھمبے پر لگا ٹمٹماتا بلب اور کھمبے کے تار دھندلی، نیم تاریک ہوا میں سے اب بھی دکھائی دے رہے تھے۔ اگر ریڈیو کے آڑے ترچھے ایریل یا مچھردانیوں کے بانس نہ ہوتے تو ہر شے ان کچی اینٹوں سے ڈھکی ہوئی معلوم ہوتی۔ جہاں تک نگاہ کام کرتی تھی، خاک رنگ چھتیں اور ان کی چھوٹی بڑی بَلّیاں دکھائی دیتی تھیں اور کہیں کہیں کوئی اونچا سا بھدّا بادگیر، تہہ خانے کی گھٹی ہوئی سیلن زدہ ہوا کو محلے کے تنگ آسمان تک پہنچاتا ہوا، چاند کی پھیکی روشنی میں دکھائی دے جاتا۔

چھت کی اونچی نیچی منڈیروں میں سے اردگرد ہونے والی ہر چیز آدمی کو کم یا بیش دکھائی دے سکتی تھی۔ گلی کے کھمبے میں لگے بلب اورشروع مہینے کے بےنور چاند کی روشنی میں ہمسائے کے گھر کی چھت پر تازہ بچھائے ہوے بستر نظر آ رہے تھے، اور ان کے نیچے بچھی ہوئی چٹائیاں اور پرانے لحاف گدوں کی مسکی ہوئی جگہوں میں سے جھانکتی روئی بھی دکھائی دے رہی تھی۔

چھتیں اب تک خالی تھیں۔ لوگ رات کے لیے اپنے بستر وہاں بچھا کر اس وقت تک کے لیے لوٹ گئے تھے جب جلتے ہوے سورج کی تپش چھتوں سے چلی جائے اور وہ اپنے تھکے ہوے سروں اور خستہ حال جسموں کو رات بھر کی نیند کے لیے ان بستروں پر پھیلا سکیں اور دم بھر کو آرام پا سکیں۔

شہر کے شمالی حصے کا شوروشغب اب تک نہ تھما تھا، نہ گاڑیوں کے ہارنوں کی کرخت آوازیں کم ہوئی تھیں۔ دور کہیں دو اخبارفروشوں کی اونچی آوازیں، اس تمام شوروغل کے درمیان سے، اخبار کی خاص خاص خبروں کو جنوب شہر کے باشندوں تک پہنچا رہی تھیں، جو نہ تو پڑھنا جانتے تھے اور نہ )اگر پڑھنا جانتے بھی ہوتے تو( اخبار خریدنے کی سکت رکھتے تھے۔

گلیوں میں بھیک مانگنے والوں کی صدائیں رفتہ رفتہ خاموش پڑتی جا رہی تھیں۔ یہ لوگ، جو صبح سویرے راستے کے کنارے پر اپنی ہزار طرح کی بساطیں بچھا کر بیٹھ جاتے، اور ایک سے ایک بڑھ کر رقت انگیز طریقوں سے راہگیروں کے سامنے اپنی بدبختی اور مفلسی کے اسباب کی نمائش کیا کرتے تھے، اب گلیوں میں اترتے اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر اپنے معرکے کے میدان سے ایک ایک کر کے کھسکتے اور پیچھے کی تنگ گلیوں کے الجھاوے میں گم ہوتے جا رہے تھے اور اپنی بےسود آہ و بکا اور رائیگاں دعاؤں کو بھی اپنے پیچھے گھسیٹتے ہوے لے جا رہے تھے۔

ماہِ مبارک کی ساتویں شب تھی۔ آمیزرضا، جس نے افطار کے وقت پیٹ بھر کر تربوز کھایا تھا اور برف کے پانی کے گلاس پر گلاس پیے تھے، دوسرے لوگوں سے پہلے ہی چھت پر چلا آیا تھا اور چاند کی پھیکی روشنی میں بستر پر دراز ہو کر اپنے پھولے ہوے پیٹ کو ہوا جھل رہا تھا۔ سوچ رہا تھا کہ پورے مہینے وہ کس طرح روزے رکھ سکے گا۔ ابھی پہلے چھ روزے ہی گزرے تھے اور وہ جس نے احتیاطاً ایک روز پہلے ہی سے روزے رکھنے شروع کر دیے تھے، ساتویں روزے پر اپنا دم نکلتا محسوس کر رہا تھا۔

بھوک کی اس کے نزدیک کوئی خاص اہمیت نہ تھی، لیکن پیاس…الامان! وہ جو محض ایک خردہ فروش دلال تھا، اور جسے ان لمبے دنوں کی تیز دھوپ میں صبح سے شام تک اِدھر سے اُدھر آناجانا پڑتا تھا، کس طرح اپنی پیاس کو قابو میں رکھ سکتا تھا۔

وہ بازار کے ان خوشحال دلالوں میں سے نہ تھا جو گرم بازاری میں اتنا کما لیتے ہیں کہ ان کے لیے سال بھر کو کافی ہو، جو جامع مسجد کے چالیس ستونوں والے خنک ہال کے ایک کونے میں صبح دس بجے سے سہ پہر تین بجے تک نماز اور دعا میں مشغول رہ سکتے ہیں اور وہاں سے نکل کر سیدھے اپنے گھروں کے ٹھنڈے تہہ خانے میں جا پہنچتے ہیں اور افطار سے پہلے وہاں سے باہر نہیں نکلتے۔ اور نہ وہ کوئی ایسا معتبر، صاحبِ دفتر تاجر تھا جو دوپہر سے کچھ پہلے اپنی گاڑی میں بیٹھ کر بازار پہنچے کہ اپنے کاروبار کا جائزہ لے سکے اور پھر شمیران کے مالدار محلے کو لوٹ کر اپنے باغیچے کے گوشے میں گدےدار آرام کرسی پر دراز ہو جائے جبکہ اس کی تازہ بیاہ کر لائی ہوئی دلہن اس کے پہلو میں ہو۔ اور وہ خدا کو بھولے ہوے ان بےدین لوگوں میں سے بھی نہ تھا کہ کسی نہ کسی بہانے سے اس مبارک مہینے کے روزوں سے دور رہتے تھے۔

آمیزرضا ایک بےمایہ مگر خداترس دلال تھا اور ہرگز اس پر تیار نہ تھا کہ پچھلے چند برسوں کے اپنے ہمکاروں کی طرح غلط سلط طریقوں سے اپنی آمدنی بڑھائے۔ وہ اب تک اپنا اور اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے اسی دوڑبھاگ پر مجبور تھا۔

اب تک اس کی ایک بیٹی کی شادی ہوئی تھی اور چوتھا بیٹا جو ابھی پانچ مہینے کا ہوا تھا، دودھ کی کمی اور سخت گرمی کے باعث رو رو کر اس کے اور اس کی بیوی کے لیے دن کے اجالے کو اندھیری رات کیے دیتا تھا۔ خاص طور پر ماہِ مبارک کے ان دنوں میں، جب اس کی بیوی روزہ چھوڑنے پر تیار نہ تھی، بچہ مسلسل رویا کرتا، یہاں تک کہ متواتر چیخ پکار سے اس کے فوطے پھول گئے اور اس کے ماں باپ کی زندگی اجیرن ہو گئی تھی۔

آمیزرضا دن بھر میں چار بوری شکر یا دو تھیلے ہلدی کے سودے پر بھی مطمئن ہو جاتا اور اس سے زیادہ کے لیے دوڑدھوپ نہ کرتا، کیونکہ اس کا عقیدہ تھا کہ اگر اس سے زیادہ کی ہوس کی تو سواے جوتے گھسانے کے کوئی فائدہ نہ ہو گا۔ اسے گویا معلوم تھا کہ روزِازل سے اس کی قسمت میں اس سے بھی کم روزی لکھ دی گئی تھی۔ جب کبھی اس کی آمدنی اس سطح سے بڑھ جاتی یا مہینے میں ایک آدھ سودا زیادہ ہو جاتا تو وہ بوکھلا جاتا اور اسے یقین ہو جاتا کہ وہ کسی اور کی روزی چھین رہا ہے، اور اس خیال سے کہ دوسروں سے چھینا ہوا نوالہ کہیں اس کے حلق میں اٹک نہ جائے، جاڑوں میں قم جا کر چند دن زیارت میں مصروف رہتا اور اگر آج کل کی طرح گرمیاں ہوتیں تو بیوی بچوں کو ساتھ لے کر امامزادہ داؤد کے مزار کی زیارت کے لیے کچھ روز فرح زاد یا اوین کے مقام پر گزارتا۔

ابھی تک کربلا یا مکہ جانے کی آرزو تک نے اس کے ذہن میں سر نہ اٹھایا تھا اور جب کبھی وہ مسجد میں یا اور جگہوں پر لوگوں کو نماز کے بعد گڑگڑا گڑگڑا کر دعائیں مانگتے دیکھتا کہ خدا ان کی آرزو پوری کر دے، تو اپنے خیالوں میں ڈوب جاتا۔ اپنی دعا یا آیت کو بھول کر وہ ٹکٹکی باندھ کر اپنی سجدہ گاہ کو تکنے لگتا اور مسحور سا ہو جاتا۔ وہ نہیں سمجھ سکتا تھا کہ ایسے وقت میں کون سے خیالات اس کے ذہن سے گزرتے تھے۔ لیکن اسے اتنا یقین تھا کہ ایسی دوردراز کی آرزو کا اس کے ذہن میں کبھی گزر نہیں ہوا تھا اور اس نے اس کے لیے کبھی چھوٹی سی دعا تک نہ کی تھی۔

اپنی واجبی حرف شناسی کی بدولت، جب کبھی اس کا بڑا بیٹا اخبار گھر میں لے آتا تو وہ اخبا ر کا نام اور سرخیاں پڑھ سکتا تھا لیکن سمجھ کچھ نہ پاتا، اور بیٹے سے اس کی تشریح کرنے کو کہتا۔

ایک بات پر اس کا دل بہت جلتا تھا، وہ یہ کہ اس کا بیٹا، جس نے پارسال چھٹی جماعت پاس کی تھی، قرآن پڑھنے سے نابلد تھا، اور اس سے بھی بدتر یہ کہ جب کبھی وہ یہ شکایت لے کر اس کے اسکول گیا تو اسے یہ ڈھٹائی بھرا جواب ملا: ’’…ارے صاحب، اس پر کیوں اصرار کرتے ہیں! آخر آگے چل کر اس کا بچے کو کیا فائدہ ہو گا؟ اور آج کل کون ان چیزوں کی پروا کرتا ہے!…‘‘ لیکن وہ اس مبہم جواب سے مطمئن نہ ہوتا اور اس بےدین پرور نظام پر لعنت بھیجا کرتا، مگر چونکہ اس کے پاس کوئی چارہ نہ تھا، اپنی یہ کوفت وہ اپنی بیوی پر اتارتا اور تمام قصوراسی کے سر منڈھتا۔

دن بھر تہران کی سڑکوں پر دوڑتے بھاگتے اسے یہ سوچنے کی مہلت نہ ملتی کہ لوگ پچھلے برسوں کی بہ نسبت اس قدر بےدین کیوں ہو گئے ہیں۔ لیکن وہ یہ بات برداشت نہ کر سکتا تھا کہ کوئی بےدین شخص سرِبازار کچھ کھا رہا ہو یا سگریٹ پی رہا ہو اور وہ خاموش رہے۔

گلی میں چلتے اور زیرِلب دعا پڑھتے ہوے وہ سوچا کرتا: خدا کی پناہ! اِمسال مشکل ہی سے کوئی ایسا شخص نظر آتا ہے جو ان بےدینوں میں سے نہ ہو۔ شاید یہ لوگ اس مبارک مہینے سے اپنی عداوت ظاہر کرنے کے لیے جان بوجھ کر گلیوں میں سگریٹ پھونکا کرتے ہیں۔ یا نہیں، صرف اس کو اشتعال دلانے کے لیے یہ دکھاوا کرتے ہیں۔

اسے باور نہ آتا تھا کہ بےدینی اس قدر بڑھ گئی ہے اورلوگ اتنے بےپروا، بےشرم اور خوفِ خدا وبندگانِ خدا سے اتنے بے نیاز ہو گئے ہیں کہ سرِعام اسے جتاتے پھرتے ہیں۔اب تک کئی بار ایسا ہو چکا تھا کہ وہ ان لندھوروں سے الجھ پڑا اور انھیں وہ تمام آبدار اور ناتراشیدہ گالیاں سنا ڈالیں جو اس کی روزہ دار زبان سے ادا ہو سکتی تھیں۔ یہاں تک کہ ایک بار تو اسے اس کا پانچ تومان اور دس ریال جرمانہ بھی ادا کرنا پڑا، اور اگر تھانیدار، خدا اس کے باپ کی مغفرت کرے، مسلمان آدمی نہ ہوتا اور انھی لاابالی لوگوں کی قماش کا ہوتا تو یقیناً اس سے کہیں زیادہ جرمانہ وصول کرتا۔ بلکہ اس بھک منگے کو ہرجانہ دینے کا بھی مطالبہ کرتا اور کچھ دن کے لیے حوالات میں بھی ڈال دیتا۔

اس واقعے کا، جو ماہِ مبارک کی دوسری تاریخ کو پیش آیا تھا، اس نے اپنی بیوی سے بالکل ذکر نہ کیا تھا، اور کوئی اور شخص بھی نہ جانتا تھا کہ کس طرح اس نے سڑک کے کنارے بیٹھ کر چلم پیتے ہوے اس بھک منگے کے منھ پر طمانچہ مارا تھا اور اس کی ناک کو خونم خون کر دیا تھا۔

وہ بھک منگا بھی غالباً اپنا سبق خوب یاد کیے ہوے تھا۔ اس نے ایسی چیخ پکار مچائی اور اس شہر میں اپنے نووارد اجنبی ہونے کی ایسی دہائی دی کہ لوگ جمع ہو گئے اور اسے ملامت کرنے لگے کہ ’’صاحب، تمھیں کیا پتا، شاید یہ بیمار ہو۔ایسی بات خدا کو پسند نہیں آئے گی۔‘‘ اور آمیزرضا نے، جس کی گردن کی رگیں پھولی ہوئی تھیں اور چہرہ شعلے کی طرح سرخ ہو رہا تھا، چیخ کر ان لوگوں کو جواب دیا تھا، ’’اس حرامزادے کی گردن ٹوٹے! یہ کسی کونے کھدرے میں جا کر زہرماری کیوں نہیں کرتا! سرِبازار چلم پینا، یہ تو خدا کے خلاف اعلانِ جنگ ہے!‘‘ اس کے بعد کہیں سے سپاہی نمودار ہو گیا اور ان دونوں کو تھانے لے گیا۔ لیکن پھربھی شکر کا مقام ہے کہ جرمانہ زیادہ نہیں ہوا۔ اس کے باوجود، سچ یہ ہے کہ دل کی تہہ میں وہ خوش تھا کہ اس نے نہی عن المنکر کا فرض نبھا دیا۔

آمیزرضا پر اس قدر تھکن طاری تھی کہ اسے سونا مشکل ہو رہا تھا۔ وہ اب تک خود کو پنکھا جھل رہا تھا اور اس کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ ایسی حالت میں، اور تربوز اور پانی کے گلاسوں سے افطار کرنے کے نتیجے میں پھولے ہوے پیٹ کے ساتھ، وہ کیونکر برکت بھری راتوں میں شب زندہ داری کر سکے گا، اور کس طرح کل صبح منھ اندھیرے اٹھ کر مسجد جا سکے گا۔

ان چھ دنوں میں وہ خود کو ہر شام بڑی دقت سے چھت تک پہنچاتا رہا تھا۔ پھر مسجد تک جانا، چھ شبانہ روز قضا نماز پڑھنا، صبح تک جاگنا، ہر رات کم سے کم تین مرتبہ دعاےکمیل اور سمات اور جوشن کبیر ختم کرنا، اور آخر قرآن سر پر رکھ کر بلند آواز سے یااﷲ والغوث پڑھنا… سچ مچ وہ ایک طرح کی بند گلی میں پھنس گیا تھا۔

روزہ خوری تو وہ ہرگز نہیں کرسکتا تھا۔ لیکن اگر روزہ رکھنے کے بعد ہر شام اس کی یہی حالت ہو اور وہ اسی طرح بستر پر لاش کی طرح پڑ جایا کرے تب بھی ان برکت بھری راتوں کے فرائض کو کیسے نظرانداز کر سکتا تھا۔

وہ سوچ رہا تھا: سال میں یہی دو تین راتیں ہوتی ہیں جن میں سب کچھ پیش آتا ہے — عفوورحمت، تقسیمِ روزی، تعینِ تقدیر، سب کچھ انھی راتوں میں پیشانی سے لوح ِمحفوظ پر منتقل ہوتا ہے۔ اور اگر وہ اس موقعے سے فائدہ اٹھا کر ان بابرکت راتوں میں اپنے گناہوں کی تلافی نہ کر سکا، اور شاید اس پر کوئی افتاد آ پڑے اور وہ مر جائے، اگلا رمضان دیکھ ہی نہ سکے، تو اپنے سر پر کیسی کیسی خاک ڈالے گا۔

آمیزرضا یہیں تک سوچ پایا تھا کہ اسے نیند نے آ لیا۔

 

سہ پہر دو بجے کا وقت تھا۔ سڑکوں پر دکانیں سب بند تھیں اور ان کے مالک یا تو دکانوں کے بند دروازوں کے پیچھے چھپ کر کھانا کھا رہے تھے یا اگر مومن تھے تو وعظ سننے مسجد گئے ہوے تھے۔

بازار سنسان تھا۔ لوگ جنھیں کوئی کام نہ تھا، تیز دھوپ سے نڈھال ہو کر بازار کے گنبدوں اور محرابوں کے سائے میں پناہ لیے ہوے تھے۔ دکاندار مکھیاں اڑا رہے تھے اور کارندوں اور منشیوں کو چھٹی مل گئی تھی کہ حال میں پائی ہوئی بخشش یا مالک سے چوری چھپے بیچے ہوے مال کے بارے میں بات چیت کریں اور آپس میں صلاح مشورے کریں۔

آمیزرضا ، جس کا دن بھر کی دوڑدھوپ کے باوجود کوئی سودا نہ پٹا تھا، اور جس کی دو تھیلے ہلدی مسالہ فروش نے اس سے وعدہ کرنے کے باوجود اس سے ایک شاہی فی تومان کم پر کسی اور کو بیچ دی تھی، افسردہ اور نڈھال جامع مسجد سے باہر نکلا۔

اس کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ ایسی حالت میں وہ باجماعت نماز کیونکر ادا کرے۔ قرآن کی جو سورت اسے پڑھنی تھی اس نے نہ پڑھی اور واعظ کا بھی انتظار نہ کیا جسے آنے میں کچھ دیر ہو گئی تھی۔ اس نے اپنی جانماز سمیٹ لی اور اپنے چپل مسجد کے ستون کے پاس سے اٹھا کر بغل میں داب لیے، اور تسبیح ہاتھ میں تھامے، کہ نماز کے بعد کی دعا راستے میں پڑھ سکے، مسجد سے باہر نکل آیا۔

اسے معلوم نہ تھا کہ اس صبح اس نے کتنی مسافت طے کی۔ جو بھی ہو، اس کی زبان ماچس کی تیلی کی طرح سوکھ گئی تھی اور پیاس کے مارے دماغ پھٹا جاتا تھا۔ اس نے کربلا کے صحرا اور فرزندانِ زہرا کی تشنگی کو یاد کرنے کی کتنی ہی کوشش کی، اس کی پیاس رفع نہ ہوئی۔ جیب میں رکھے پیتل کے جام کو مسجد کے تالاب کے پانی سے بھر کر سر اور منھ پر ڈالتا رہا، لیکن کچھ فائدہ نہ ہوا۔ وہ پاگل سا ہوا جا رہا تھا۔

مسجد کے دروازے سے باہر آیا۔ لیکن کہاں جائے؟اسے کچھ معلوم نہ تھا۔ وہ ہر روز کے مقابلے میں زیادہ دیر تک بازار میں رہا تھا اور اب اس نے خود کو سڑک کے بیچ سہ پہر کے وقت سخت دھوپ میں پایا۔ وہ کسی ارادے کے بغیر چل رہا تھا، لیکن کدھر؟…شاید اپنے دماغ کی تہہ میں وہ جانتا تھا کہ کدھر جا رہا ہے لیکن اسے اپنے تخیل پر آشکار اور بےپردہ کرنا نہیں چاہتا تھا اس لیے اس کوشش میں تھا کہ اس کے روبرو نہ ہونا پڑے۔

شب کُلاہ اس نے جیب سے نکال کر سر پر اوڑھ لی۔ تسبیح، جس پر ذکر پڑھنا اب تک اس کے ذہن سے فراموش رہا تھا، جیب میں ڈال لی اور قدم تیز کر دیے۔ دو نمبر کی بس میں سوار ہوا اور سیدھا قزوین کے بس اڈے پر جا اترا۔

اسے کچھ ٹھیک سے یاد نہ تھا کہ کس گاڑی یا بس میں سوار ہوا تھا، لیکن آخر بچہ تہران کا تھا اور اس کے کونوں کھدروں سے اچھی طرح واقف۔ اور پھر پیاس کی شدت اسے دیوانہ کیے دے رہی تھی۔

کرج کو جانے والی بس بھر چکی تھی اور روانہ ہونے ہی کو تھی کہ آمیزرضا نے اسے جا لیا۔ وہ سیدھے ہاتھ پر مسافروں کے درمیان جا بیٹھا۔ بس بہت تیز چل رہی تھی۔ راستے میں نہ اس کا ٹائر پنکچر ہوا نہ اس میں پانی ڈالنے کی ضرورت پڑی۔ لیکن کوئی نہ جان سکا کہ آمیزرضا نے یہ مدت کس طرح بسر کی۔ صرف ڈرائیور کا شاگرد کرایہ جمع کرتا ہوا اس کے پاس پہنچا تو اسے سویا ہوا پایا اور اس کا دل نہ ہوا کہ جگا دے۔ اس نے سوچا کہ اترتے وقت کرایہ وصول کر لے گا۔ اس رات، افطار کے بعد، جب وہ اس دن کے واقعات اپنی بیوی کو سنا رہا تھا، اور سونے کے بعد ہونے والے معاملے کی تفصیل بیان کر رہا تھا، تب بھی اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ بس میں بیٹھ کر کس طرح کرج جا پہنچا، اور آیا وہ سو رہا تھا کہ اپنے حال سے بےخبر ہو چکا تھا۔

بس روانہ ہونے کے گھنٹے بھر کے اندر کرج جا پہنچی۔ سب مسافر اتر کر اپنے اپنے کاموں کی سمت چل پڑے۔آمیزرضا، جو اس تمام مملکت میں شاہ عبدالعظیم اور شمیران کے سوا کسی مقام سے واقف نہ تھا، پوچھتا پاچھتا کسی طرح ایک قہوہ خانے تک پہنچا۔اس نے قہوہ خانے کے دروازے کا ایک پٹ آہستہ سے کھولا اور اندر داخل ہو گیا۔

ایک دو گھنٹے بعد، جب اسے کرج لانے والی بس کے تہران واپس جانے کا وقت ہوا، وہ اس میں سوار ہو کر افطار کے وقت تہران واپس پہنچ گیا۔

 

افطار کے وقت نہ اس نے تربوز کھایا اور نہ برف کے پانی کی طرف کچھ رغبت دکھائی۔اس نے صرف چند لقمے نان کے شامی کوفتوں کے ساتھ کھائے اور اس پر چائے کے دو تین پیالے پیے۔ اس کی بیوی، جو کہیں زیادہ ہوشیار تھی، فوراً تاڑ گئی کہ کچھ بات ضرور ہے۔ اس نے بھی خود میں بات چھپانے کا بوتا نہ پا کر سب کچھ کہہ سنایا۔

اس کا بیٹا یہ بات سن کر بے اختیار ہنس پڑا، لیکن پھر ماں کی جھڑکی سن کر بسورتا ہوا ایک کونے میں جا بیٹھا۔موضوع چنداں بحث کے قابل نہ تھا۔ لیکن اس کی بیوی، جو خداجانے مسجد میں کسی سے جانماز پر جھگڑا ہونے پر چڑی ہوئی تھی یا اس روز بھوک جھیلنے سے بےحال ہو رہی تھی، معاملے کو یوں جانے دینے پر تیار نہ ہوئی۔ اس نے اپنا منھ کھولا اور ملامت اور کوسنوں کا ایک سیلاب امڈ آیا:

’’واہ! احمق گدھے! میں تو جیسے آدمی کا بچہ ہوں نہیں جو دن بھر شیرخوار بچے کے ساتھ اپنا جگر نوچا کروں، جیسے پیٹ میں کسی نے چاقو گھونپ دیا ہو۔ شرم نہیں آتی کہ کرج آنے جانے میں چار تومان خرچ کر ڈالے اور وہاں چائے کے پیالے سے روزہ توڑ ڈالا؟ اور وہ بھی سہ پہر کے وقت؟ اور اس پر خدا سے رحم کی بھی امید رکھتے ہو؟ اگر مرد نہیں ہو تو روزہ رکھنے ہی کی کیا ضرورت تھی؟ کسی نے تمھیں مجبور کیا تھا؟ یہ نہ ہوا کہ ان چار تومان کے انگور خرید لاتے کہ میں اور تمھاری اولادیں افطار کے وقت زہرمار کر لیتیں!‘‘

آمیزرضا، جو جھگڑا بڑھانا نہیں چاہتا تھا ، ڈرتا تھا کہ چیخ پکار سن کر ہمسائے اپنی چھتوں کی منڈیروں پر آ کر تماشا دیکھنے لگیں گے اور پوری بات جان جائیں گے، دبی ہوئی آواز میں اپنی بیوی کو چپ کرانے کی کوشش کرنے لگا۔ ’’بڑھیا، اب بس کر! خدا ناراض ہو گا۔ چھتوں پر سب لوگ سن رہے ہیں۔ عورت! آخر سوچ کہ تو کیا کہہ رہی ہے! مجھے اپنے فرائض تجھ سے اچھی طرح معلوم ہیں۔ میں نے آقا سے مسئلہ پوچھ لیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ اس میں کوئی اشکال نہیں۔ تو پھر تو کیوں ضد پر اڑی ہوئی ہے…‘‘

جب اس کی بیوی کو پتا چلا کہ اس نے آقا سے مسئلہ بھی دریافت کر لیا ہے تو بےاختیار ہنسنے لگی۔ اپنا غصہ بھول کر ہنسی روکتے ہوے مذاق کے انداز میں کہنے لگی،’’واہ! تمھارے سر میں خاک! تم اور تمھارا آقا! شرم تو نہیں آتی۔ واجبات تک کے مسئلوں سے واقف نہیں!‘‘

آمیزرضا اس آخری بات پر یقین نہیں کرنا چاہتا تھا۔ بڑی مشکلوں سے اس نے عورت کو خاموش کرایا اور اس تمام جھگڑے کو جلدی سے نمٹانے کی کوشش میں اپنا دستی پنکھا لے کر چھت پر چلا آیا۔

شیرخوار بچہ متواتر چیخ چیخ کر رو رہا تھا۔ گرم ہوا، جو اب تک چل رہی تھی، کہیں دور سے عزاداری کی آوازیں اپنے ساتھ لا رہی تھی۔ شہر کے کسی کونے سے آتی ہوئی ’یاحسین!‘ اور ’یاابوالفضل!‘ کی صدائیں اور سینہ زنی کی ہم آہنگ گونج شہر کے اوپر ہر طرف پھیل رہی تھی۔ ہمسایوں کی چھت پر دھویں سے اٹی لالٹین کی کمزور روشنی میں کچھ لوگ حلقہ بنا کر کسی سے مثنوی سننے میں ہمہ تن گوش تھے۔

آٹھویں تاریخ کا چاند آسمان کے ایک کونے میں دبکا ہوا تھا اور افسردہ اور غمگین قیافے کے ساتھ اس پوری بساط کو حسرت سے تک رہا تھا۔ ستارے کچھ تو اس تمام بےعقلی اور مفلسی کو تکتے رہنے سے اپنی تاب وتواں گنوا کر ناگہاں موت کا شکار ہو گئے تھے اور آسمان میں اپنے مقام سے گر کر تاریکی اور وحشت کی دنیا میں گم ہو رہے تھے اور اپنے پیچھے اپنی زندگی کی آخری رمق کے طور پر روشنی کی ایک لکیر چھوڑتے جا رہے تھے، اور کچھ جو زیادہ دلیراور قوی تھے وہ، سورج کو نگاہ جما کر دیکھنے والے لوگوں کی طرح، اس رنج و مذلت کی دنیا کو خیرہ ہو کر تک رہے تھے اور ان کی پلکیں نابینا ہو جانے کے خوف سے باربار بند ہو رہی تھیں۔ یا…میں نہیں کہہ سکتا، شاید اس تمام بدبختی اور جہل کو دیکھ کر ہنس رہے ہوں، ایک دوسرے کو چشم و ابرو سے اشارے کر کر کے ہمارا مذاق اڑا رہے ہوں!

 

(فارسی عنوان: افطارِ بیموقع)

 

فارسی سے ترجمہ: اجمل کمال

content-1701

article 0000161

article 0000162

article 0000163

article 0000164

article 0000165

article 0000166

article 0000167

article 0000168

article 0000169

article 0000170

article 0000171

article 0000172

article 0000173

article 0000174

article 0000175

article 0000176

article 0000177

article 0000178

article 0000179

article 0000180

article 0000181

article 0000182

article 0000183

article 0000184

article 0000185

article 0000186

article 0000187

article 0000188

article 0000189

article 0000190

article 0000191

article 0000192

article 0000193

article 0000194

article 0000195

article 0000196

article 0000197

article 0000198

article 0000199

article 0000200

article 0000201

article 0000202

article 0000203

article 0000204

article 0000205

article 0000206

article 0000207

article 0000208

article 0000209

article 0000210

article 0000211

article 0000212

article 0000213

article 0000214

article 0000215

article 0000216

article 0000217

article 0000218

article 0000219

article 0000220

article 00066

article 00067

article 00068

article 00069

article 00070

article 00071

article 00072

article 00073

article 00074

article 00075

article 00076

article 00077

article 00078

article 00079

article 00080

article 00081

article 00082

article 00083

article 00084

article 00085

article 00086

article 00087

article 00088

article 00089

article 00090

article 00091

article 00092

article 00093

article 00094

article 00095

article 00096

article 00097

article 00098

article 00099

article 00100

article 00101

article 00102

article 00103

article 00104

article 00105

article 00106

article 00107

article 00108

article 00109

article 00110

article 00111

article 00112

article 00113

article 00114

article 00115

article 00116

article 00117

article 00118

article 00119

article 00120

article 00121

article 00122

article 00123

article 00124

article 00125

article 888836

article 888837

article 888838

article 888839

article 888840

article 888841

article 888842

article 888843

article 888844

article 888845

article 888846

article 888847

article 888848

article 888849

article 888850

article 888851

article 888852

article 888853

article 888854

article 888855

article 888856

article 888857

article 888858

article 888859

article 888860

article 888861

article 888862

article 888863

article 888864

article 888865

article 888866

article 888867

article 888868

article 888869

article 888870

article 888871

article 888872

article 888873

article 888874

article 888875

article 888876

article 888877

article 888878

article 888879

article 888880

article 888881

article 888882

article 888883

article 888884

article 888885

article 888886

article 888887

article 888888

article 888889

article 888890

article 888891

article 888892

article 888893

article 888894

article 888895

articel 000000191

articel 000000192

articel 000000193

articel 000000194

articel 000000195

articel 000000196

articel 000000197

articel 000000198

articel 000000199

articel 000000200

articel 000000201

articel 000000202

articel 000000203

articel 000000204

articel 000000205

articel 000000206

articel 000000207

articel 000000208

articel 000000209

articel 000000210

articel 000000211

articel 000000212

articel 000000213

articel 000000214

articel 000000215

articel 000000216

articel 000000217

articel 000000218

articel 000000219

articel 000000220

articel 000000221

articel 000000222

articel 000000223

articel 000000224

articel 000000225

articel 000000226

articel 000000227

articel 000000228

articel 000000229

articel 000000230

articel 000000231

articel 000000232

articel 000000233

articel 000000234

articel 000000235

articel 000000236

articel 000000237

articel 000000238

articel 000000239

articel 000000240

articel 000000241

articel 000000242

articel 000000243

articel 000000244

articel 000000245

articel 000000246

articel 000000247

articel 000000248

articel 000000249

articel 000000250

article 2000156

article 2000157

article 2000158

article 2000159

article 2000160

article 2000161

article 2000162

article 2000163

article 2000164

article 2000165

article 2000166

article 2000167

article 2000168

article 2000169

article 2000170

article 2000171

article 2000172

article 2000173

article 2000174

article 2000175

article 2000176

article 2000177

article 2000178

article 2000179

article 2000180

article 2000181

article 2000182

article 2000183

article 2000184

article 2000185

article 2000186

article 2000187

article 2000188

article 2000189

article 2000190

article 2000191

article 2000192

article 2000193

article 2000194

article 2000195

article 2000196

article 2000197

article 2000198

article 2000199

article 2000200

article 2000201

article 2000202

article 2000203

article 2000204

article 2000205

article 2000206

article 2000207

article 2000208

article 2000209

article 2000210

article 2000211

article 2000212

article 2000213

article 2000214

article 2000215

article 838000431

article 838000432

article 838000433

article 838000434

article 838000435

article 838000436

article 838000437

article 838000438

article 838000439

article 838000440

article 838000441

article 838000442

article 838000443

article 838000444

article 838000445

article 838000446

article 838000447

article 838000448

article 838000449

article 838000450

article 838000451

article 838000452

article 838000453

article 838000454

article 838000455

article 838000456

article 838000457

article 838000458

article 838000459

article 838000460

article 2000126

article 2000127

article 2000128

article 2000129

article 2000130

article 2000131

article 2000132

article 2000133

article 2000134

article 2000135

article 2000136

article 2000137

article 2000138

article 2000139

article 2000140

article 2000141

article 2000142

article 2000143

article 2000144

article 2000145

article 2000146

article 2000147

article 2000148

article 2000149

article 2000150

article 2000151

article 2000152

article 2000153

article 2000154

article 2000155

article 2000156

article 2000157

article 2000158

article 2000159

article 2000160

article 2000161

article 2000162

article 2000163

article 2000164

article 2000165

article 2000166

article 2000167

article 2000168

article 2000169

article 2000170

article 2000171

article 2000172

article 2000173

article 2000174

article 2000175

article 2000176

article 2000177

article 2000178

article 2000179

article 2000180

article 2000181

article 2000182

article 2000183

article 2000184

article 2000185

content-1701
news-0801

yakinjp


sabung ayam online

yakinjp

yakinjp

rtp yakinjp

yakinjp

yakinjp

judi bola online

slot thailand

yakinjp

yakinjp

yakinjp

yakinjp

ayowin

mahjong ways

judi bola online

mahjong ways 2

JUDI BOLA ONLINE

maujp

maujp

sabung ayam online

maujp

maujp

maujp

maujp

sabung ayam online

mahjong ways slot

sbobet88

live casino online

Situs Agen Togel

MAUJP

118000021

118000022

118000023

118000024

118000025

118000026

118000027

118000028

118000029

118000030

118000031

118000032

118000033

118000034

118000035

118000036

118000037

118000038

118000039

118000040

118000041

118000042

118000043

118000044

118000045

118000046

118000047

118000048

118000049

118000050

128000021

128000022

128000023

128000024

128000025

128000026

128000027

128000028

128000029

128000030

128000031

128000032

128000033

128000034

128000035

128000036

128000037

128000038

128000039

128000040

128000041

128000042

128000043

128000044

128000045

128000046

128000047

128000048

128000049

128000050

138000021

138000022

138000023

138000024

138000025

138000026

138000027

138000028

138000029

138000030

138000031

138000032

138000033

138000034

138000035

138000036

138000037

138000038

138000039

138000040

138000041

138000042

138000043

138000044

138000045

138000046

138000047

138000048

138000049

138000050

148000026

148000027

148000028

148000029

148000030

148000031

148000032

148000033

148000034

148000035

148000036

148000037

148000038

148000039

148000040

148000041

148000042

148000043

148000044

148000045

148000046

148000047

148000048

148000049

148000050

148000051

148000052

148000053

148000054

148000055

148000056

148000057

148000058

148000059

148000060

148000061

148000062

148000063

148000064

148000065

148000066

148000067

148000068

148000069

148000070

158000041

158000042

158000043

158000044

158000045

158000046

158000047

158000048

158000049

158000050

158000051

158000052

158000053

158000054

158000055

158000056

158000057

158000058

158000059

158000060

158000061

158000062

158000063

158000064

158000065

158000066

158000067

158000068

158000069

158000070

168000011

168000012

168000013

168000014

168000015

168000016

168000017

168000018

168000019

168000020

168000021

168000022

168000023

168000024

168000025

168000026

168000027

168000028

168000029

168000030

168000031

168000032

168000033

168000034

168000035

168000036

168000037

168000038

168000039

168000040

178000036

178000037

178000038

178000039

178000040

178000041

178000042

178000043

178000044

178000045

178000046

178000047

178000048

178000049

178000050

178000051

178000052

178000053

178000054

178000055

178000056

178000057

178000058

178000059

178000060

178000061

178000062

178000063

178000064

178000065

188000141

188000142

188000143

188000144

188000145

188000146

188000147

188000148

188000149

188000150

188000151

188000152

188000153

188000154

188000155

188000156

188000157

188000158

188000159

188000160

188000161

188000162

188000163

188000164

188000165

188000166

188000167

188000168

188000169

188000170

198000031

198000032

198000033

198000034

198000035

198000036

198000037

198000038

198000039

198000040

198000041

198000042

198000043

198000044

198000045

198000046

198000047

198000048

198000049

198000050

198000051

198000052

198000053

198000054

198000055

198000056

198000057

198000058

198000059

198000060

218000021

218000022

218000023

218000024

218000025

218000026

218000027

218000028

218000029

218000030

218000031

218000032

218000033

218000034

218000035

218000036

218000037

218000038

218000039

218000040

218000041

218000042

218000043

218000044

218000045

218000046

218000047

218000048

218000049

218000050

228000016

228000017

228000018

228000019

228000020

228000021

228000022

228000023

228000024

228000025

228000026

228000027

228000028

228000029

228000030

228000031

228000032

228000033

228000034

228000035

228000036

228000037

228000038

228000039

228000040

228000041

228000042

228000043

228000044

228000045

228000046

228000047

228000048

228000049

228000050

238000001

238000002

238000003

238000004

238000005

238000006

238000007

238000008

238000009

238000010

238000011

238000012

238000013

238000014

238000015

238000016

238000017

238000018

238000019

238000020

news-0801