شہر سے دشت سے زندان سے دیکھا میں نے
آسماں ایک تھا ہر آن سے دیکھا میں نے
آخری شب تری دہلیز سے پا کر خیرات
اپنے کاسے کو بہت شان سے دیکھا میں نے
ایک دن باپ کی صورت نظر آئی مجھ کو
ایک دن آئنے کو دھیان سے دیکھا میں نے
میں کسی پھول کی صورت ہوا گھر میں داخل
اور اسے میز کے گلدان سے دیکھا میں نے
دل کو دیوانہ بناتی ہوئی کافر آنکھیں
جن کو نشّے میں بھی ایمان سے دیکھا میں نے
یہ مجھے ذہنی مسرت کے سوا کچھ بھی نہیں
شاعری کو اسی امکان سے دیکھا میں نے
—
2
تری امید کا دل میں خرام ہو جانا
مرے فرار کے رستوں کا خام ہو جانا
نظر اٹھانا ترا خیمۂ عدو سے اور
مرا ہی کیا مری صف کا غلام ہو جانا
کوئی خیال اترنا ہوائے صبح کے ساتھ
پھر اس کو سوچتے رہنے میں شام ہو جانا
مثالِ عکس ہے تو بام بام گھر میں رہوں
سفر کروں تو ترا گام گام ہو جانا
یہ معرکہ بھی کوئی کم نہیں ابھی کے لیے
ترے اسیروں میں اپنا بھی نام ہو جانا
تمہارا گھر سے نکل آنا زلف کھولے ہوئے
اور آدھے شہر کی سڑکوں پہ جام ہو جانا
کسی کے خط سرِ بازار کھولنے کی طرح
گناہ ہے مرے شعروں کا عام ہو جانا
کبھی جو دل کی سنانے کا جی کرے ‘آشو’
تم اپنے آئنے سے ہم کلام ہو جانا
—
3
آنکھوں میں مری دفن سمندر ہے کسی کا
یہ آخری احسان مرے سر ہے کسی کا
پہلے تو نہیں تھی ترے لہجے میں یہ تلخی
لگتا تو یہی ہے کہ تجھے ڈر ہے کسی کا
پیش آئی ہے کس طرح یہ دنیا مرے دل سے
اتنا بھی نہیں سوچا کہ یہ گھر ہے کسی کا
درکار کوئی اور ہے دریافت کوئی اور
بانہیں ہیں کسی اور کی بستر ہے کسی کا
ہم ہو گئے ہیں یوں تو ترے کھیل میں شامل
حالانکہ نشانہ کہیں بہتر ہے کسی کا
ہے دائمی لکھا ہوا شہ رگ پہ ترا نام
اب میرے لیے پھول بھی خنجر ہے کسی کا
بس میں تو چڑھے تھے تری پرچھائیں کے پیچھے
اب اترے ہیں تو ہاتھ میں نمبر ہے کسی کا
—
4
اس سے یوں ملتا ہوں جو بیٹھا ہے دو سو میل پر
دھیان فوٹو پر لگا لیتا ہوں فوٹو کیل پر
وقت ہی اب طے کرے گا کون کتنا تیز ہے
چیل کی آنکھیں پرندے پر ہیں میری چیل پر
سوچ دونوں نے الگ رکھا ہے لو بجھنے کے بعد
آنکھ دونوں کی لگی ہے آخری قندیل پر
اور اب دنیا مرے تنہائی میں دیتی ہے دخل
میں بھی پتھر پھینکتا رہتا تھا ٹھہری جھیل پر
پھول دینے میں اسے کچھ دیر کی جس کے سبب
وقت طعنے کس رہا ہے اب ہماری ڈھیل پر
آپ نے بولا چلے جاؤ، چلا آیا ہوں میں
حکم دے کر آپ خوش، میں حکم کی تعمیل پر
—
5
یتیم قافیوں کے سر پہ چھت نہیں تمہارے بعد
کسی غزل پہ میرے دستخط نہیں تمہارے بعد
تمہارے بعد میں کسی بھی طور میں نہیں رہا
یہ آئنہ بھی آئنہ صفت نہیں تمہارے بعد
نگہ کے بند و بست میں ہمارے دل کے دشت میں
کسی غزال کی چلت پھرت نہیں تمہارے بعد
گلاب کی کتاب کی حسیں جہانِ خواب کی
یہاں تلک شراب کی بھی لت نہیں تمہارے بعد
جو اشک بن کے آنکھ میں قیام کر رہے ہو تم
تمہارا یہ رویہ کیا غلط نہیں تمہارے بعد؟
—
6
بے نور خیالات کی بارات ہے مجھ میں
تم دیکھ کے آنا کہ بہت رات ہے مجھ میں
سمجھاتا ہوں لیکن یہ سمجھتی ہی نہیں ہے
دل جیسی کوئی شے بڑی بد ذات ہے مجھ میں
دم بھر رہے ہیں اب نئے موسم مرے اندر
مایوس ہوں یہ آخری برسات ہے مجھ میں
کچھ وقت نے توڑا ہے بھرم اور کچھ اس نے
میں تو یہ سمجھتا تھا کوئی بات ہے مجھ میں
تم کہتے ہو میں قید سے باہر ہوں تمہاری
پھر بیڑیوں کا شور جو دن رات ہے مجھ میں
ہر شخص سے ملنے کا سبب کیا کہوں ‘آشو’
برسوں سے ٹلی ایک ملاقات ہے مجھ میں
—
7
کر کے اقرار تو بن آئی ہے جاں پر میری
اس نے وہ حشر اٹھا رکھا ہے ہاں پر میری
اک نظر تم پہ پڑی ایک نظر دنیا پر
کیا خبر رہ گئی بینائی کہاں پر میری
یہ جو کھل آتا ہے بے وجہ تری یاد کا پھول
داغ بن جاتا ہے پوشاکِ خزاں پر میری
میری غزلوں کو مرے دل کی طرح مت جانو
وہاں پر آپ کی چلتی ہے یہاں پر میری
اس نے تو صاحبِ دیوان بنا ڈالا مجھے
بات جو آ نہیں پائی تھی زباں پر میری
کیسے بازار میں چمکوں گا کہ رہتا ہی نہیں
شاعری کے سوا کچھ اور دکاں پر میری
—
8
بناوٹ سے ہنر میں بہتری شاید نہ آئے
تمہیں مے خواریوں سے شاعری شاید نہ آئے
جدا جس پیڑ کے سائے میں دو سائے ہوئے ہوں
مسافر کو وہاں پھر نیند بھی شاید نہ آئے
میں غارِ خود پرستی کا مکیں ہونے لگا ہوں
یہاں تک اب تمہاری روشنی شاید نہ آئے
بہت ممکن ہے آ جائے تمہارے جیسا کوئی
پر اس کے جانے پر ایسی کمی شاید نہ آئے
مجھے اول کسی کی یاد آتی ہی نہیں ہے
کسی کی آ بھی جائے پر تری شاید نہ آئے
—
9
رات بھر اس کی آوارہ گردی گوارا نہیں کر سکا
اسی لیے چاند کو میں ترا استعارہ نہیں کر سکا
عشق کتنے کیے یاد کچھ بھی نہیں، یاد ہے بھی تو بس
میری پہلی محبت جسے میں دوبارہ نہیں کر سکا
اس گلی کا سفر عمر کھا لے گا میری، پتا تھا تجھے
اے مرے وقت! کم بخت! تو اک اشارہ نہیں کر سکا؟
راتیں، باتیں، ملاقاتیں آتی رہیں میرے حصے نئی
معذرت میں گزاری ہوئی پر گزارا نہیں کر سکا
کوئی شانہ سہارا نہیں کر سکا اس بھری بھیڑ میں
اور تنہائی میں کوئی گانا سہارا نہیں کر سکا
اک تمہارے سوا شکل آئی نہیں آئنے میں کوئی
کوئی نسخہ مرے اس نشے کا اتارا نہیں کر سکا
تیری زلفیں اندھیرا نہیں کر سکیں میرے اوپر کبھی
سو اجالا کبھی میری قسمت کا تارا نہیں کر سکا
—
10
زمین اپنی ہے اور اینٹ گارا اس کا ہے
مکانِ عشق میں حصہ ہمارا اس کا ہے
شروع دن سے ہی میں جنگ کا مخالف تھا
مگر میں کیا کروں اب کے اشارہ اس کا ہے
میں یہ جو ساتھ لیے پھرتا ہوں خزانۂ عشق
اگر وہ ہاتھ اٹھا دے تو سارا اس کا ہے
وہ دوست جس سے کہ اب بات بھی نہیں ہوتی
اگر میں گر پڑوں پہلا سہارا اس کا ہے
بچھڑ کے اور بھی نزدیک آ گیا ہے صنم
میں آنکھیں بند کروں اور نظارہ اس کا ہے
اب اس کی پھیلتی خوشبو سے کیا گلہ “آشو”
تمہیں تو کہتے تھے پھول استعارہ اس کا ہے
—
11
کب یہ شورِ فغاں سے کم ہوگی
خامشی تو بیاں سے کم ہوگی
ان دنوں اک عجب گھٹن ہے مجھے
اور یہ تیری ہاں سے کم ہوگی
تارِ ماضی کو چھونے والے بتا
اب اداسی کہاں سے کم ہوگی
ایک رہگیر راہ چھوڑے گا
ایک کھڑکی مکاں سے کم ہوگی
اک ستارہ فلک سے ٹوٹے گا
اک جبیں آستاں سے کم ہوگی
شہرِ آشفتگاں کی ویرانی
میرے طرزِ بیاں سے کم ہوگی
—
12
وہ ایک شخص اگر محوِ انتظار نہ ہو
سفر سے آئے ہوؤں میں مرا شمار نہ ہو
قبول کر کے اسے رابطہ بحال کرو
کہیں یہ پھول میری آخری پکار نہ ہو
ترے جمال نے سورج کو روشنی دی ہے
سو کون ہے جو یہاں تیرا قرض دار نہ ہو
وہ تیغِ چشم مرے سامنے ہے اور اس کا
خدا کرے کہ کوئی دوسرا شکار نہ ہو
تمام رات کی بیداریوں سے لگتا ہے
ہمارا خواب کسی آنکھ پر ادھار نہ ہو
***
آشو مشرا 1993 میں پیدا ہوئے۔تعلق بدایوں سے ہے، مگر گزشتہ کئی برسوں سے بریلی میں رہ رہے ہیں۔کمپیوٹر سائنس میں گریجویشن اور فلسفے میں ایم اے کیا ہے۔اردو میں وہ اپنی مختلف اور دلچسپ شعری انفرادیت کی بنیاد پر پسند کیے جارہے ہیں۔ آشو مشرا کے یہاں شاعر کی انانیت اور محبت کے درمیان ایک قسم کی تیکھی گفتگو سے اکثر کام لیا گیا ہے۔ زندگی کو قریب سے دیکھنے اور اس کے معمولی پہلوؤں کو غیر معمولی انداز میں برتنے میں انہیں کمال حاصل ہے۔ مشاعروں میں بھی آشو اپنی اسی معیاری مگر مقبول عام شاعری کی بنیاد پر اچھی خاصی جگہ بنارہےہیں۔