انوپم سنگھ کی نظمیں

تمہاری تیزابی ڈور اور میرا ہرنی جیسا دل

 

تمہاری نیم شب کی باتیں

میرے سفید بستر کو لال کردیتی ہیں

ادھورا پن کویتا کو جنم دیتا ہے

میری عورت کو صرف کویتا نہیں

تکمیلیت بھی چاہیے

 

تمہاری گہری سانسیں

میرا مچھلی جیسا کلیجہ

جسے پگھلاتے ہیں تمہارے مردانہ خیالات

اپنی تکمیلیت کے لیے میں

شہوت میں بھی لڑتی ہوں تم سے

میرے گھر میں میرے اصول نافذ ہوں گے

 

نیم شب جو پیاسی عورت کو بلاتے ہو

تو پوری طرح بلانا

آتے ہو تو پوری طرح آنا

دل دل سے مل کر عید منائے گا

جسم جسم کے ساتھ ہولی کھیلے گی

 

عورت کی نیم شب کی شہوت سے

شکست تو نہ کھا جائے گی

تمہاری صدیوں پرانی انا

لمحے بھر کے لیے اسے بھلا کر آسکو

تبھی چھو سکوگے عورت کی انتہا کو

 

نیم شب میں آؤ تو

بغیر آئینہ دیکھے آنا

ایک منتر سکھاؤں گی

تمہیں سمندر بناؤں گی

میں ناؤ بن جاؤں گی

 

دوست

سنو

کبھی میری طرح

چریختا ہے

تمہارا سینہ

جسم میں ندی کی تیز دھار

بہتی ہے کبھی؟

 

میری اپنی شہوت میں فرق دیکھو

تم جوش میں آئے

دھول اڑائی

راکھ برسائی

میرے جذبے نے رچے

تینوں زمان

جب تک تسکین نہیں مل جاتی

یہ ٹکے رہیں گے

 

کہا تھا نا!

انا مجروح نہ ہو

تبھی آنا

کہا تھا نا!

سمجھنا ہو عورت کی انتہا

تبھی آنا!

یہ کیا، چھید دیا نا

تم نے اپنے کمان کی تیزابی ڈور سے

میرا ہرنی جیسا دل

٠٠٠

 

میری کستوری

 

میری یکرنگی دنیا کی

سورنگی خواہشیں

جن کے درمیان نہ کوئی ڈگر

نہ پُل

بس! گھنی رات گھنے جنگل

 

گھر میں اکیلے رہتی خاموش آتما

بولنے سننے لگی تھی کوئی اور بولی بانی

 

میں زندگی کی کھڑی چڑھائی چڑھ رہی تھی

پھر وہ آیا

لگا جیسے طوفان آگیا ہو

جیسے اکھڑ جائیں گے اب کی بار سبھی درخت

بڑھ جائے گا شور، چیخ پکار

ندیوں کا بہاؤ

 

میں نے وسیع کرلیا اپنی آنکھوں کو

میں نے بلی کی طرح

ایک لمبی چھلانگ لگانی چاہی اس کے سینے پر

سبب جاننے کے بعد بھی بے سبب عشق کرنا چاہا

شرم آنے کے باوجود اس کے سامنے بے پردہ ہوجانا چاہا

 

سوچا کہ تعارف کے لیے کتنی کم ہے یہ زندگی

 

لیکن اس کی جلد بازی سے پتہ چلا کہ

بس وہ اپنی پیاس مٹانے آیا ہے

 

میں نے اسے اس طرح دیکھا کہ وہ سمجھ گیا

کہ جلد بازی میں چراغ بجھا دینا مجھے پسند نہیں

میں نے اسے اپنی کویتا کے بین السطور میں جگہ دی

 

وہ تھوڑا شرما گیا

میں نے اسے تھوڑی رعایت دے دی

 

اس نے پھر سے وہی جلد بازی دکھائی

زور سے پھونک ماری اور چراغ بجھا دیا

اور اس بار وہ بالکل نہیں شرمایا

 

میرے سبھی محل ڈھیر ہوگئے

میری سبھائی کشتیاں، جو میرے فرار کا ذریعہ تھیں

طوفان کے بعد کی برسات میں ڈوب گئیں

خزاں نے سارے پتوں کا صفایا کردیا

میری تپسیا بے نتیجہ رہی

 

میرا جسم جلنے لگا کسی سجی ہوئی آرتی کی تھال کے مانند

لیکن وہ تو اپنے لیے آیا تھا اور آکر لوٹ گیا

اس کے جانے کے بعد مجھے اندازہ ہوا کہ اس نے میری رات میں سیندھ ماری تھی

 

میں ملبے میں اتنا دھنس گئی

کہ بھول گئی اپنے گاؤں کے

سبھی موسم اور پھل

کہ کون سے موسم میں بوئی جاتی ہے فصل

اس کی چٹان نما پیٹھ کے نیچے سبھی پھول مسل دیے گئے

 

میں نے ان پھولوں کو سوکھنے یا مرجھانے سے بچایا

میں نے انہیں خوب صاف پانی سے سینچا

اپنے گھر کے ہر کونے کو دوبارہ کِھلنے پر آمادہ کیا

میری بہت سی عمر خرچ ہوگئی

وہ ایک کونا تلاش کرنے میں مجھے پینتیس برس لگ گئے

جو جسم میں تھا

کسی کستوری کی طرح

٠٠٠

 

ہم عورتیں ہیں مکھوٹے نہیں

 

وہ اپنی بھٹیوں میں مکھوٹے تیار کرتا ہے

ان پر لیبل لگا کر سوکھنے کے لیے

بلیوں پر ٹانگ دیتا ہے

سوکھنے کے بعد ان کو

ان گنت کیمیائی تجربوں سے گزارتا ہے

کبھی سب سے تیز درجۂ حرارت پر رکھتا ہے

تو کبھی سب سے کم

ایسا لگاتار کرنے سے

کمال کی چمک آجاتی ہے ان میں

 

خطرناک ہتھیاروں سے لیس ان کے سپاہی

گھر گھر جا رہے ہیں

کبھی کھلے عام تو کبھی چھپ کر

گھر سے گھسیٹتے ہوئے

ان کو اپنی تجربہ گاہوں کی طرف لے جارہے ہیں

وہ چیخ رہی ہیں۔۔۔

پیٹ کے بل پڑی ہوئی چلا رہی ہیں

پھر بھی وہ لے جائی جارہی ہیں

 

ان کے چہروں کی پیمائش کرتے ہوئے وہ خوش ہیں

آپس میں بات کررہے ہیں

کہ اچھا ہوا ان کا دماغ نہیں بڑھا

چہرے لمبے گول، چھوٹے بڑے ہیں

لیکن وہ چاہتے ہیں

سبھی چہرے ایک جیسے ہوں

ایک ساتھ مسکرائیں

اور صرف مسکرائیں

تو انہوں نے اپنی دھاردار آری سے

ان کے چہروں کو سڈول اور

ایک طرح کا بنایا

اب وہ مکھوٹوں کو چہروں پر ٹھونک رہے ہیں۔۔۔

وہ چلا رہی ہیں

ہم عورتیں ہیں

صرف مکھوٹے نہیں

وہ ٹھونکے جارہے ہیں

ٹھک ٹھک لگاتار۔۔۔

 

اب وہ سڈول چہروں والی عورتیں

ان کی بھٹیوں سے نکلی

تجربہ گاہوں میں تیار کی گئی

شکلیں ہیں

٠٠٠

 

لڑکیاں جوان ہورہی ہیں

 

ہم لڑکیاں بڑی ہورہی تھیں

اپنے چھوٹے سے گاؤں میں

لڑکیاں اور بھی تھیں

چھوٹی ابھی زیادہ چھوٹی تھیں

جو بڑی ہوگئی تھیں

وہ بیاہ دی گئیں تھی صحیح سلامت

 

اس طرح ہم ہی لڑکیاں تھیں

جن کی عمر بارہ تیرہ برس کی تھی

ہم سڑکوں کے بجائے

پگڈنڈیوں کے راستے آتیں جاتیں

کم چلتی ہوئی

اڑتے ہوئے زیادہ دکھائی دیتیں

گاؤ ںمیں نئی نئی بیاہ کر آئیں

دلہنوں کی بھی

سہیلیاں بن رہی تھیں ہم

کسی کے شادی بیاہ میں

ہم بوڑھی اور ادھیڑ عمر کی

عورتوں سے الگ بیٹھتیں

اور اپنے زمانے کے گیت گاتیں

ہماری ہنسی گاؤں میں بھنبھناہٹ کی طرح پھیل جاتی

 

گاؤں کے چھوٹے رقبے میں

ہماری زندگی کی وسعت کا موقع تھا

ہم اپنے جسم کے

ابھاروں کے تجربے سے

ایک ساتھ جھک کر چلنا سیکھ رہی تھیں

کبھی تو زندگی کو

ہرے چنے کی کٹھاس میں بھر دیتیں

تو کبھی ماں کی باتوں سے اکتاکر

آدھے پیٹ ہی سو جاتی تھیں

ہم اڑنا بھول کر

بھیڑ میں بیٹھنا سیکھ رہی تھیں

بھیڑ سے اٹھتیں، تو کن انکھیوں سے

ایک دوسرے کو پیچھے دیکھنے لیے کہتیں

جب کبھی ہمارے کپڑوں میں

حیض کا داغ لگ جاتا

تو جسم کے بھیتر سے لپٹیں اٹھتیں

اور چہرے پر راکھ بن کر پھیل جاتیں

ہم داغ دار چہرے والی لڑکیاں

عمر کے کچے پن میں اجتماعی دعا کرتیں

اے ایشور! ہماری اتنی سی بات سن لے

ہم لڑکیاں ان گنت دعائیں کرتی ہوئی

جوان ہورہی تھیں

لڑکیاں جوان ہورہی تھیں

ان کے حصے کی دھوپ، ہوا، رات

اور روشنیاں کم ہورہی تھیں

اب ہم باغ میں نہیں دکھتیں

گٹیاں کھیلتے ہوئے بھی نہیں

ہم گھروں کے پچھواڑے

لپ جھپ میں

ایک دوسرے سے مل لیتی ہیں

دیوار سے چپک کر ایسے بتیاتیں

جیسے لڑکیاں نہیں چھپکلیاں ہوں ہم

گھروں کے بڑے کہیں چلے جاتے تو

بوڑھی عورتیں چوکھٹ پر بیٹھ کر

ہماری رکھوالی کرتیں

کسی شہزادے کے انتظار

اور یقینی اداسی میں

ہرے کٹے پیڑ کی طرح اداس ہوتیں

ہم لڑکیاں جوان ہورہی ہیں۔۔۔

٠٠٠

 

دھرتی کی بہنیں

 

میں بالوں میں پھول کھونسے

دھرتی کی بہن بنی پھرتی ہوں

میں نے ایک گیند اپنے چھوٹے بھائی

آسمان کی طرف اچھال دی ہے

ہم تینوں کی ماں ندی ہے

ہمارے باپ کا پتہ نہیں

 

میرا پڑوسی سیارہ بدل گیا ہے

کوئی اور آیا ہے کرایے دار بن کر

اب سے میری ساری ڈاک اسی کے پتے پر آئے گی

 

میں نے جنت سے بلالیا ہے اپسراؤں کو

وہ اندر دیوتا سے چھٹکارا پاکر خوش ہیں

آج رات ہم سب سہیلیاں ساتھ سوئیں گی

وشنو کی موہنی چاہے

تو اپنی شراب لے کر ادھر رک سکتی ہے

٠٠٠

 

خواہش

 

سفید اور سیاہ دنوں میں بھی

کھلتے ہیں خواہشوں کے لال پھول

میرے شاعر کی ہزار کپلناؤں کے بعد بھی

میری عورت کی کچھ ٹھوس خواہشیں ہیں

 

تمام آسمان کی سیر کے بعد بھی

اسے چاہیے زمین پر ایک کچا گھر

مچھلیوں جیسی بے باک تیراکی کے بعد بھی

تپتی ریت پر چلنے کا رومانی لمحہ

 

اپنی خالی رہ گئی رات کو

کسی راہگیر سے مانگ کر بھرنے کا

سکھ چاہیے

 

بلی اپنے بچے کو جس احتیاط سے منہ میں دبائے رکھتی ہے

اسے دیکھ کر جڑواں بچوں کی  ماں بننا چاہتی ہے میرے اندر کی عورت

بس! کوئی نہ پوچھے بچے سے باپ کا نام

٠٠٠

 

انوپم سنگھ کا جنم 1986 میں اترپردیش کے پرتاپ گڑھ ضلع میں ہوا۔ اعلیٰ تعلیم الہ آباد یونیورسٹی سے حاصل کی اور دلی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ہندی کے موقر رسائل میں آپ کی نظمیں شائع ہوتی رہی ہیں۔ وہ خواتین کے حق میں اپنی تحریروں میں آواز بلند کرتی رہی ہیں۔

انوپم سنگھ کی نظمیں عورتوں سے جڑے ایسے پیچیدہ مسائل و معاملات پر انگلی رکھتیں ہیں، جنہیں اتنی حساسیت اور فنکاری سے شاعری کے سانچے میں پرونا ہر کسی کےبس کی بات نہیں۔صرف عورت ہی نہیں، وہ سماج میں ہونے والی دیگر ناانصافیوں، ڈھونگ اور اندھ وشواس کو بہت باریکی سے چن کر علیحدہ کرکے دکھاتی ہیں۔وہ پوری بے باکی سے عورت کی جنسی غیر تکملیت  کو اپنا موضوع بناتی ہیں اور مردوں کے سماج میں عورت کو محض تسکین حاصل کرنے کا ذریعہ بنادینے والوں پر سوال قائم کرتی ہیں، ساتھ ہی ساتھ وہ اس بات پر زور دیتی ہیں کہ عورت کوئی بے جان یا تفریح کی شے نہیں ہے، بلکہ اس کے اندر بھی وہی جذباتی اور جنسی اتھل پتھل  اسی طرح مصروف کار ہے، جیسا کہ مردوں کے یہاں ہے ، مگر مرد اپنی جلد بازی اور اناڑی پن میں عورتوں کی لذت کوشی کے درمیان کس طرح ایک دشمن کے مانند حائل ہوجاتے ہیں، اس پر بھی وہ پوری سچائی سے قلم اٹھاتی ہیں۔اردو میں ان کی نظموں کے تجربے کا غالباً یہ پہلا موقع ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Attention Required! | Cloudflare

Sorry, you have been blocked

You are unable to access wajibjp.cfd

Why have I been blocked?

This website is using a security service to protect itself from online attacks. The action you just performed triggered the security solution. There are several actions that could trigger this block including submitting a certain word or phrase, a SQL command or malformed data.

What can I do to resolve this?

You can email the site owner to let them know you were blocked. Please include what you were doing when this page came up and the Cloudflare Ray ID found at the bottom of this page.

news-1701

yakinjp

yakinjp

rtp yakinjp

yakinjp

yakinjp

yakin jp

yakinjp id

maujp

maujp

maujp

sabung ayam online

sabung ayam online

SLOT MAHJONG

sabung ayam online

article 838000638

article 838000639

article 838000640

article 838000641

article 838000642

article 838000643

article 838000644

article 838000645

article 838000646

article 838000647

article 838000648

article 838000649

article 838000650

article 838000651

article 838000652

article 838000653

article 838000654

article 838000655

article 838000656

article 838000657

article 838000658

article 838000659

article 838000660

article 838000661

article 838000662

article 838000663

article 838000664

article 838000665

article 838000666

article 838000667

article 838000668

article 838000669

article 838000670

article 838000671

article 838000672

article 838000673

article 838000674

article 838000675

article 838000676

article 838000677

article 838000678

article 838000679

article 838000680

article 838000681

article 838000682

article 838000683

article 838000684

article 838000685

article 838000686

article 838000687

article 838000688

article 838000689

article 838000690

article 838000691

article 838000692

article 838000693

article 838000694

article 838000695

article 838000696

article 838000697

article 238000456

article 238000457

article 238000458

article 238000459

article 238000460

article 238000461

article 238000462

article 238000463

article 238000464

article 238000465

article 238000466

article 238000467

article 238000468

article 238000469

article 238000470

article 238000471

article 238000472

article 238000473

article 238000474

article 238000475

article 238000476

article 238000477

article 238000478

article 238000479

article 238000480

article 238000481

article 238000482

article 238000483

article 238000484

article 238000485

article 238000486

article 238000487

article 238000488

article 238000489

article 238000490

article 238000491

article 238000492

article 238000493

article 238000494

article 238000495

article 238000496

article 238000497

article 238000498

article 238000499

article 238000500

article 238000501

article 238000502

article 238000503

article 238000504

article 238000505

article 238000506

article 238000507

article 238000508

article 238000509

article 238000510

article 238000511

article 238000512

article 238000513

article 238000514

article 238000515

article 7700246

article 7700247

article 7700248

article 7700249

article 7700250

article 7700251

article 7700252

article 7700253

article 7700254

article 7700255

article 7700256

article 7700257

article 7700258

article 7700259

article 7700260

article 7700261

article 7700262

article 7700263

article 7700264

article 7700265

article 7700266

article 7700267

article 7700268

article 7700269

article 7700270

article 7700271

article 7700272

article 7700273

article 7700274

article 7700275

article 7700276

article 7700277

article 7700278

article 7700279

article 7700280

article 7700281

article 7700282

article 7700283

article 7700284

article 7700285

article 2000431

article 2000432

article 2000433

article 2000434

article 2000435

article 2000436

article 2000437

article 2000438

article 2000439

article 2000440

article 2000441

article 2000442

article 2000443

article 2000444

article 2000445

article 2000446

article 2000447

article 2000448

article 2000449

article 2000450

article 2000451

article 2000452

article 2000453

article 2000454

article 2000455

article 2000456

article 2000457

article 2000458

article 2000459

article 2000460

article 2000461

article 2000462

article 2000463

article 2000464

article 2000465

article 2000466

article 2000467

article 2000468

article 2000469

article 2000470

article 2000471

article 2000472

article 2000473

article 2000474

article 2000475

article 2000476

article 2000477

article 2000478

article 2000479

article 2000480

article 2000481

article 2000482

article 2000483

article 2000484

article 2000485

article 2000486

article 2000487

article 2000488

article 2000489

article 2000490

article 2990581

article 2990582

article 2990583

article 2990584

article 2990585

article 2990586

article 2990587

article 2990588

article 2990589

article 2990590

article 2990591

article 2990592

article 2990593

article 2990594

article 2990595

article 2990596

article 2990597

article 2990598

article 2990599

article 2990600

article 2990601

article 2990602

article 2990603

article 2990604

article 2990605

article 2990606

article 2990607

article 2990608

article 2990609

article 2990610

article 2990611

article 2990612

article 2990613

article 2990614

article 2990615

article 2990616

article 2990617

article 2990618

article 2990619

article 2990620

article 10000416

article 10000417

article 10000418

article 10000419

article 10000420

article 10000421

article 10000422

article 10000423

article 10000424

article 10000425

article 10000426

article 10000427

article 10000428

article 10000429

article 10000430

article 10000431

article 10000432

article 10000433

article 10000434

article 10000435

article 10000436

article 10000437

article 10000438

article 10000439

article 10000440

article 10000441

article 10000442

article 10000443

article 10000444

article 10000445

article 10000446

article 10000447

article 10000448

article 10000449

article 10000450

news-1701