تمہاری تیزابی ڈور اور میرا ہرنی جیسا دل
تمہاری نیم شب کی باتیں
میرے سفید بستر کو لال کردیتی ہیں
ادھورا پن کویتا کو جنم دیتا ہے
میری عورت کو صرف کویتا نہیں
تکمیلیت بھی چاہیے
تمہاری گہری سانسیں
میرا مچھلی جیسا کلیجہ
جسے پگھلاتے ہیں تمہارے مردانہ خیالات
اپنی تکمیلیت کے لیے میں
شہوت میں بھی لڑتی ہوں تم سے
میرے گھر میں میرے اصول نافذ ہوں گے
نیم شب جو پیاسی عورت کو بلاتے ہو
تو پوری طرح بلانا
آتے ہو تو پوری طرح آنا
دل دل سے مل کر عید منائے گا
جسم جسم کے ساتھ ہولی کھیلے گی
عورت کی نیم شب کی شہوت سے
شکست تو نہ کھا جائے گی
تمہاری صدیوں پرانی انا
لمحے بھر کے لیے اسے بھلا کر آسکو
تبھی چھو سکوگے عورت کی انتہا کو
نیم شب میں آؤ تو
بغیر آئینہ دیکھے آنا
ایک منتر سکھاؤں گی
تمہیں سمندر بناؤں گی
میں ناؤ بن جاؤں گی
دوست
سنو
کبھی میری طرح
چریختا ہے
تمہارا سینہ
جسم میں ندی کی تیز دھار
بہتی ہے کبھی؟
میری اپنی شہوت میں فرق دیکھو
تم جوش میں آئے
دھول اڑائی
راکھ برسائی
میرے جذبے نے رچے
تینوں زمان
جب تک تسکین نہیں مل جاتی
یہ ٹکے رہیں گے
کہا تھا نا!
انا مجروح نہ ہو
تبھی آنا
کہا تھا نا!
سمجھنا ہو عورت کی انتہا
تبھی آنا!
یہ کیا، چھید دیا نا
تم نے اپنے کمان کی تیزابی ڈور سے
میرا ہرنی جیسا دل
٠٠٠
میری کستوری
میری یکرنگی دنیا کی
سورنگی خواہشیں
جن کے درمیان نہ کوئی ڈگر
نہ پُل
بس! گھنی رات گھنے جنگل
گھر میں اکیلے رہتی خاموش آتما
بولنے سننے لگی تھی کوئی اور بولی بانی
میں زندگی کی کھڑی چڑھائی چڑھ رہی تھی
پھر وہ آیا
لگا جیسے طوفان آگیا ہو
جیسے اکھڑ جائیں گے اب کی بار سبھی درخت
بڑھ جائے گا شور، چیخ پکار
ندیوں کا بہاؤ
میں نے وسیع کرلیا اپنی آنکھوں کو
میں نے بلی کی طرح
ایک لمبی چھلانگ لگانی چاہی اس کے سینے پر
سبب جاننے کے بعد بھی بے سبب عشق کرنا چاہا
شرم آنے کے باوجود اس کے سامنے بے پردہ ہوجانا چاہا
سوچا کہ تعارف کے لیے کتنی کم ہے یہ زندگی
لیکن اس کی جلد بازی سے پتہ چلا کہ
بس وہ اپنی پیاس مٹانے آیا ہے
میں نے اسے اس طرح دیکھا کہ وہ سمجھ گیا
کہ جلد بازی میں چراغ بجھا دینا مجھے پسند نہیں
میں نے اسے اپنی کویتا کے بین السطور میں جگہ دی
وہ تھوڑا شرما گیا
میں نے اسے تھوڑی رعایت دے دی
اس نے پھر سے وہی جلد بازی دکھائی
زور سے پھونک ماری اور چراغ بجھا دیا
اور اس بار وہ بالکل نہیں شرمایا
میرے سبھی محل ڈھیر ہوگئے
میری سبھائی کشتیاں، جو میرے فرار کا ذریعہ تھیں
طوفان کے بعد کی برسات میں ڈوب گئیں
خزاں نے سارے پتوں کا صفایا کردیا
میری تپسیا بے نتیجہ رہی
میرا جسم جلنے لگا کسی سجی ہوئی آرتی کی تھال کے مانند
لیکن وہ تو اپنے لیے آیا تھا اور آکر لوٹ گیا
اس کے جانے کے بعد مجھے اندازہ ہوا کہ اس نے میری رات میں سیندھ ماری تھی
میں ملبے میں اتنا دھنس گئی
کہ بھول گئی اپنے گاؤں کے
سبھی موسم اور پھل
کہ کون سے موسم میں بوئی جاتی ہے فصل
اس کی چٹان نما پیٹھ کے نیچے سبھی پھول مسل دیے گئے
میں نے ان پھولوں کو سوکھنے یا مرجھانے سے بچایا
میں نے انہیں خوب صاف پانی سے سینچا
اپنے گھر کے ہر کونے کو دوبارہ کِھلنے پر آمادہ کیا
میری بہت سی عمر خرچ ہوگئی
وہ ایک کونا تلاش کرنے میں مجھے پینتیس برس لگ گئے
جو جسم میں تھا
کسی کستوری کی طرح
٠٠٠
ہم عورتیں ہیں مکھوٹے نہیں
وہ اپنی بھٹیوں میں مکھوٹے تیار کرتا ہے
ان پر لیبل لگا کر سوکھنے کے لیے
بلیوں پر ٹانگ دیتا ہے
سوکھنے کے بعد ان کو
ان گنت کیمیائی تجربوں سے گزارتا ہے
کبھی سب سے تیز درجۂ حرارت پر رکھتا ہے
تو کبھی سب سے کم
ایسا لگاتار کرنے سے
کمال کی چمک آجاتی ہے ان میں
خطرناک ہتھیاروں سے لیس ان کے سپاہی
گھر گھر جا رہے ہیں
کبھی کھلے عام تو کبھی چھپ کر
گھر سے گھسیٹتے ہوئے
ان کو اپنی تجربہ گاہوں کی طرف لے جارہے ہیں
وہ چیخ رہی ہیں۔۔۔
پیٹ کے بل پڑی ہوئی چلا رہی ہیں
پھر بھی وہ لے جائی جارہی ہیں
ان کے چہروں کی پیمائش کرتے ہوئے وہ خوش ہیں
آپس میں بات کررہے ہیں
کہ اچھا ہوا ان کا دماغ نہیں بڑھا
چہرے لمبے گول، چھوٹے بڑے ہیں
لیکن وہ چاہتے ہیں
سبھی چہرے ایک جیسے ہوں
ایک ساتھ مسکرائیں
اور صرف مسکرائیں
تو انہوں نے اپنی دھاردار آری سے
ان کے چہروں کو سڈول اور
ایک طرح کا بنایا
اب وہ مکھوٹوں کو چہروں پر ٹھونک رہے ہیں۔۔۔
وہ چلا رہی ہیں
ہم عورتیں ہیں
صرف مکھوٹے نہیں
وہ ٹھونکے جارہے ہیں
ٹھک ٹھک لگاتار۔۔۔
اب وہ سڈول چہروں والی عورتیں
ان کی بھٹیوں سے نکلی
تجربہ گاہوں میں تیار کی گئی
شکلیں ہیں
٠٠٠
لڑکیاں جوان ہورہی ہیں
ہم لڑکیاں بڑی ہورہی تھیں
اپنے چھوٹے سے گاؤں میں
لڑکیاں اور بھی تھیں
چھوٹی ابھی زیادہ چھوٹی تھیں
جو بڑی ہوگئی تھیں
وہ بیاہ دی گئیں تھی صحیح سلامت
اس طرح ہم ہی لڑکیاں تھیں
جن کی عمر بارہ تیرہ برس کی تھی
ہم سڑکوں کے بجائے
پگڈنڈیوں کے راستے آتیں جاتیں
کم چلتی ہوئی
اڑتے ہوئے زیادہ دکھائی دیتیں
گاؤ ںمیں نئی نئی بیاہ کر آئیں
دلہنوں کی بھی
سہیلیاں بن رہی تھیں ہم
کسی کے شادی بیاہ میں
ہم بوڑھی اور ادھیڑ عمر کی
عورتوں سے الگ بیٹھتیں
اور اپنے زمانے کے گیت گاتیں
ہماری ہنسی گاؤں میں بھنبھناہٹ کی طرح پھیل جاتی
گاؤں کے چھوٹے رقبے میں
ہماری زندگی کی وسعت کا موقع تھا
ہم اپنے جسم کے
ابھاروں کے تجربے سے
ایک ساتھ جھک کر چلنا سیکھ رہی تھیں
کبھی تو زندگی کو
ہرے چنے کی کٹھاس میں بھر دیتیں
تو کبھی ماں کی باتوں سے اکتاکر
آدھے پیٹ ہی سو جاتی تھیں
ہم اڑنا بھول کر
بھیڑ میں بیٹھنا سیکھ رہی تھیں
بھیڑ سے اٹھتیں، تو کن انکھیوں سے
ایک دوسرے کو پیچھے دیکھنے لیے کہتیں
جب کبھی ہمارے کپڑوں میں
حیض کا داغ لگ جاتا
تو جسم کے بھیتر سے لپٹیں اٹھتیں
اور چہرے پر راکھ بن کر پھیل جاتیں
ہم داغ دار چہرے والی لڑکیاں
عمر کے کچے پن میں اجتماعی دعا کرتیں
اے ایشور! ہماری اتنی سی بات سن لے
ہم لڑکیاں ان گنت دعائیں کرتی ہوئی
جوان ہورہی تھیں
لڑکیاں جوان ہورہی تھیں
ان کے حصے کی دھوپ، ہوا، رات
اور روشنیاں کم ہورہی تھیں
اب ہم باغ میں نہیں دکھتیں
گٹیاں کھیلتے ہوئے بھی نہیں
ہم گھروں کے پچھواڑے
لپ جھپ میں
ایک دوسرے سے مل لیتی ہیں
دیوار سے چپک کر ایسے بتیاتیں
جیسے لڑکیاں نہیں چھپکلیاں ہوں ہم
گھروں کے بڑے کہیں چلے جاتے تو
بوڑھی عورتیں چوکھٹ پر بیٹھ کر
ہماری رکھوالی کرتیں
کسی شہزادے کے انتظار
اور یقینی اداسی میں
ہرے کٹے پیڑ کی طرح اداس ہوتیں
ہم لڑکیاں جوان ہورہی ہیں۔۔۔
٠٠٠
دھرتی کی بہنیں
میں بالوں میں پھول کھونسے
دھرتی کی بہن بنی پھرتی ہوں
میں نے ایک گیند اپنے چھوٹے بھائی
آسمان کی طرف اچھال دی ہے
ہم تینوں کی ماں ندی ہے
ہمارے باپ کا پتہ نہیں
میرا پڑوسی سیارہ بدل گیا ہے
کوئی اور آیا ہے کرایے دار بن کر
اب سے میری ساری ڈاک اسی کے پتے پر آئے گی
میں نے جنت سے بلالیا ہے اپسراؤں کو
وہ اندر دیوتا سے چھٹکارا پاکر خوش ہیں
آج رات ہم سب سہیلیاں ساتھ سوئیں گی
وشنو کی موہنی چاہے
تو اپنی شراب لے کر ادھر رک سکتی ہے
٠٠٠
خواہش
سفید اور سیاہ دنوں میں بھی
کھلتے ہیں خواہشوں کے لال پھول
میرے شاعر کی ہزار کپلناؤں کے بعد بھی
میری عورت کی کچھ ٹھوس خواہشیں ہیں
تمام آسمان کی سیر کے بعد بھی
اسے چاہیے زمین پر ایک کچا گھر
مچھلیوں جیسی بے باک تیراکی کے بعد بھی
تپتی ریت پر چلنے کا رومانی لمحہ
اپنی خالی رہ گئی رات کو
کسی راہگیر سے مانگ کر بھرنے کا
سکھ چاہیے
بلی اپنے بچے کو جس احتیاط سے منہ میں دبائے رکھتی ہے
اسے دیکھ کر جڑواں بچوں کی ماں بننا چاہتی ہے میرے اندر کی عورت
بس! کوئی نہ پوچھے بچے سے باپ کا نام
٠٠٠
انوپم سنگھ کا جنم 1986 میں اترپردیش کے پرتاپ گڑھ ضلع میں ہوا۔ اعلیٰ تعلیم الہ آباد یونیورسٹی سے حاصل کی اور دلی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ہندی کے موقر رسائل میں آپ کی نظمیں شائع ہوتی رہی ہیں۔ وہ خواتین کے حق میں اپنی تحریروں میں آواز بلند کرتی رہی ہیں۔
انوپم سنگھ کی نظمیں عورتوں سے جڑے ایسے پیچیدہ مسائل و معاملات پر انگلی رکھتیں ہیں، جنہیں اتنی حساسیت اور فنکاری سے شاعری کے سانچے میں پرونا ہر کسی کےبس کی بات نہیں۔صرف عورت ہی نہیں، وہ سماج میں ہونے والی دیگر ناانصافیوں، ڈھونگ اور اندھ وشواس کو بہت باریکی سے چن کر علیحدہ کرکے دکھاتی ہیں۔وہ پوری بے باکی سے عورت کی جنسی غیر تکملیت کو اپنا موضوع بناتی ہیں اور مردوں کے سماج میں عورت کو محض تسکین حاصل کرنے کا ذریعہ بنادینے والوں پر سوال قائم کرتی ہیں، ساتھ ہی ساتھ وہ اس بات پر زور دیتی ہیں کہ عورت کوئی بے جان یا تفریح کی شے نہیں ہے، بلکہ اس کے اندر بھی وہی جذباتی اور جنسی اتھل پتھل اسی طرح مصروف کار ہے، جیسا کہ مردوں کے یہاں ہے ، مگر مرد اپنی جلد بازی اور اناڑی پن میں عورتوں کی لذت کوشی کے درمیان کس طرح ایک دشمن کے مانند حائل ہوجاتے ہیں، اس پر بھی وہ پوری سچائی سے قلم اٹھاتی ہیں۔اردو میں ان کی نظموں کے تجربے کا غالباً یہ پہلا موقع ہے۔