یشسوی پاٹھک کی نظمیں

پِتا جب مایوس ہوتے ہیں

 

پِتا جب مایوس ہوتے ہیں

تب سلنے بیٹھتے ہیں

اپنا ادھڑا ہوا کرتا

ٹیڑھے میڑھے ٹانکے لگاتے ہوئے

وہ اتنا ڈوب جاتے ہیں

کرتے کا گھاؤ بھرنے میں

کہ اس وقت وہ سل سکتے ہیں سب کچھ

جہاں جہاں جو کچھ بھی کٹا پھٹا ہے

جو پھٹا کٹا نہیں ہے وہ بھی

وہ رفو کرسکتے ہیں ساری کھرونچیں

اندر سے لے کر باہر تک

درزی! کس گھٹن  کا نتیجہ ہے کہ وہ

محض کرتا ہی سِل پاتے ہیں

٠٠٠

 

رات

 

رات میں جاگنا منع تھا

رات میں پڑھنا منع تھا

رات میں باتیں کرنا منع تھا

رات میں دہلیز پار کرنا سخت منع تھا

رات میں بہت خطرے تھے

رات کو خطرناک بنایا گیا تھا

میں رات سے دور تھی

اسی طرح جیسے دنیا کی زیادہ تر لڑکیاں

مجھے دن دیا گیا تھا

اسی طرح جیسے دنیا کی زیادہ تر لڑکیوں کو دیا جاتا ہے

 

شدید سرد راتوں میں

میں رات کی طرف بڑھی

جس رات جامعہ کی لائبریری میں

سرکاری پولس بل کے جوان

لاٹھیاں توڑ رہے تھے

میں ممانعت کی ساری رسیاں

جبر کے سب قلعے توڑ کر

رات میں اتر گئی

میں دن کی حد کے پار گئی

رات کے آنگن میں رقص کرتی ہوئی

 

رات میں رات سے باتیں کرتے ہوئے

میں نے کئی بار چاہا بس رات ہی رات رہے

اور بات ہی بات رہے

میں رات پر کھلی

رات مجھ پر کھلی

اس نے مجھے دن کے اجالوں میں

اجلی دکھائی پڑنے والی چیزیں دکھائیں

وہ اب اپنی اصل شکل میں تھیں

عریاں، بے لوث، سستاتی ہوئی

اس نے مجھے چور-اُچکوں، جگولو

ویشیاؤں اور ان کے گاہکوں سے ملوایا

سوتے ہوئے مزدوروں، جاگتے کتوں سے ملوایا

تنگ آچکے تیمارداروں، شکرگزاری سے مرتے

مریضوں کی اکتاہٹ دکھائی

پتنیوں کے پتیوں ، پتیوں کی بیٹیوں اوربیٹیوں کے پریمیوں سے ملوایا

مٹھوں میں سادھوؤں۔سادھویوں کی

شب گزاری سے متعارف کروایا

رات مجھے

ان ان تہوں

ان ان تلوں پر لے گئی

جہاں میری رسائی دن میں ناممکن تھی

یعنی میرا دن بھی کٹا پھٹا تھا

اس میں رات کے بہت سے پیوند تھے

 

رات میں حد ہوئی

حد سے بڑھ کر رات

میں نے پریم کو سب سے زیادہ رات میں محسوس کیا

سب سے زیادہ بے قرار میں رات میں ہوئی

سب سے زیادہ میں رات میں روئی

دن میں ملی خوش خبری رات میں زہر کی مانند چڑھی

دکھ رات ہی مجھ سے نہ سنبھلا

سب سے تیز بھوک رات میں لگی

روح کو طمانیت رات میں ملی

سب سے زیادہ آزادی میں نے رات میں محسوس کی

سب سے زیادہ ڈر رات میں دور ہوئے

سب سے زیادہ جھوٹ میں نے رات کے کارن بولے

سب سے زیادہ سچ میں نے رات کے سبب جیے

کبھی کبھی  میں نے رات کو بدن سمیت پانا چاہا

اس کی آنکھوں میں اترنا چاہا

ختم ہوتے ہوئے جنگلی جانور کی طرح بچا لینا چاہا

جلتے انگارے کی طرح پکڑلینا چاہا

اور جگنوؤں کی طرح چھوڑنا چاہا

مجھے رات سے زیادہ حسین

رات سے زیادہ باغی کچھ نہیں معلوم ہوتا

بھارت مہان!

میری راتیں مجھے سونپ دو

میری ان گنت طویل زندہ راتیں

تم پر یُگوں سے ادھار ہیں

٠٠٠

 

نہیں

 

بٹیا کے سکھ اور سکھی سنسار کے لیے

بابل مغزماری نہیں کرتے

وہ بلا ٹالتے ہیں

‘بابل کی دعائیں لیتی جا۔۔۔’جیسے گیت

بیٹیوں کو مورکھ بنانے کے لیے لکھے گئے

جو باپ اپنی بیٹیوں کو سکھی سنسار نہ دے سکے

وداع کرتے ہوئے ان کے منہ سے

سکھی سنسار کی دعا گالی کی طرح لگتی ہے

 

انہیں فکر رہی اپنے نسب انساب کی

سماج اور عزت کی

یہ تو کوئی ہم لڑکیوں سے پوچھے

ہم اپنے پِتا سے کس طرح زچ ہوئی  ہیں

وہ لذت و عیش میں ڈوبے ہوئے

کبھی نمبردار تھے

کبھی ‘نمبردارکا نیلا’

ہم نے ان کی عزت کی

جن کا برتاؤ چوکیدار، ٹھیکدار

مرد کی حمایت میں بات کرتے ہوئے لگ بھگ دلالوں جیسا تھا

 

زمین ان کی

گھر ان کا

سماج ان کا

قانون ان کے

پھر سکھی سنسار ہمیں کیسے ملتا

ان کے اصولوں کی پاسداری نہ کرنے کا مطلب تھا

رشتہ توڑلینا

ان سے رشتہ بھی کیا تھا

خوف کا؟

غصہ کا؟

لحاظ کا؟

 

کوئی عیارآدمی تھا وہ

نہایت مکار

محبت کرتی ہوئی بیٹی کی تاب نہ لاسکا

اس کی آزادی

اس کی شخصیت

کچل کر

بنایا اسے جذباتی  مورکھ

اعلان کیا۔۔۔

پِتا سب سے زیادہ پیار کرتے ہیں بیٹیوں سے

اس  چھل کو چھپانے کے لیے

لکھے جاتے ہیں لاڈ پیار کے گیت

یہ طلسم اب ٹوٹنا چاہیے

اس مکاری سے پردہ اٹھانا چاہیے

نہیں کرتے پِتا اپنی بیٹیوں سے پریم

نہیں کرتے

نہیں کرتے

٠٠٠

 

گمنامی

 

گمنامی بچاتی ہے

مقابلے کی کلفت سے

خوبصورت، افضل ترین بنے رہنے کی بوجھل لالچ سے

قابلیت کی کرونی کو

دیسی گھی ثابت کرنے سے

وہ بچالیتی ہے عالم و فاضل کے نیلے انگوٹھوں کے خبط سے

گُٹوں میں محفوظ بیٹھ کر

رایوں کو ووٹوں کی طرح گننے سے بچاتی ہے گمنامی

بچاتی ہے وہ شرمندہ نہ ہونے بھر جتنی ایمانداری

تعریفوں کے سیلاب میں

خودشناسی کی کسوٹی کا

چولہا جوڑنے بھر بخشتی ہے ایندھن

انا کی ‘ناک’ پر

گمنامی آبیٹھتی ہے

مکھی  کی طرح

مہانتا کو معمولی بناتی ہوئی

وہ رکھتی ہے

کسی دن گمنام ہوجانے

یا کردیے جانے کے ڈر سے آزاد

بازار شہرت کے چڑھتے شیئر مارکیٹ میں

رشتوں کی خطرناک میکانکیت

اور کردار کی روزانہ ریہرسل سے بچ کر

گمنام رہنے کا پرزور جتن کرتا

شرمیلا پن

انسانی فطرت سے مجبور ہوکر کس طرف جائے؟

نہ جائے بیچ لوگوں کے تو

جہاں

پنجے جھاڑ کر بیٹھی ہے

شہرت

٠٠٠

 

یقین

 

جنگل دھوں دھوں کرتا جل رہا ہے

جانور چیخ رہے ہیں

ایک ضدی بلبل

اپنے بچوں کی چونچ میں

رکھ رہی ہے پپیتے کا میٹھا گودا

پِتا کا ابھیمان

راکھ بن کر اڑ رہا ہے

ماں کا ایشور پر یقین بڑھ رہا ہے

چیلیں نئے  سیاروں پر ہجرت کررہی ہیں

بھادوں کے غراتے بادل

جنوب سے چڑھتے آرہے ہیں

سواہا ہورہی میں

بے تاب ہوں

سُگبُگاہٹ ہوگی

جنم ہوگا

نئے روئیں آئیں گے

وہ دوبارہ مجھے پیارے لگیں گے

انہیں میں

٠٠٠

 

آرام سے پڑھوں گی تمہیں

 

آرام سے پڑھوں گی تمہیں

کہیں کوئی رواں باقی نہ رہے گا

آہستہ چکھوں گی تمہارے ہونٹوں پر رکھی ہوئی بات

ملتی ہوئی بھنووں کے گھنے جنگلوں میں بھٹکوں گی

مجھ سے پوچھتے ہو،

میں تم سے آنکھ ملانے سے کتراتی کیوں ہو؟

تمہارے اس سوال کا کیا جواب دوں تمہیں؟

تم چاہتے ہو: میں تمہیں پڑھتی جاؤں

تمہاری کتابوں کے قارئین کی طرح

بلکہ اس طرح جیسے دل سے دیکھنے والے پڑھتے ہیں بریل لپی

تمہارے ماتھے کے شفاف آسمان میں جھومتے کالے بادل

جب گرج برس کر تھک جاتے ہیں

تب کنپٹی پر نمودار ہوتی ہیں پسینے کی ننھی بوندیں

انہیں اپنی انگلیوں کی سطح پر محسوس کرنا

مجھے زندگی سے بھر دیتا ہے

تمہاری ہتھیلیاں ربر کی پتیاں ہیں

جن میں اگی لال دھاریوں کی دھُن

کان لگا کر سننے کو جی چاہتا ہے

تمہیں اپنی طرف آتے دیکھنا یا

کسی سٹیشن پر میرے انتظار میں کھڑے ہوئے پانا

میری دھڑکنوں کی رفتار بڑھا دیتا ہے

تمہارا وجود میری دنیا کے سُندر ہونے کی گواہی ہے

تم لفظوں کے خدا ہو

میں تم پر ایمان لانے والی واحد لڑکی

مجھ پر فرض ہے کہ میں تمہیں حفظ کرلوں

٠٠٠

 

یشسوی پاٹھک مزاجاً عزلت نشیں ہیں۔انہوں نے کم لکھا ہے، مگر جتنا لکھا ہے، وہ ان کی گہری فکر اور تخلیقی ہنر کاری   کا ثبوت ہے۔ ان  کے یہاں بغاوت بھی ہے اور سماج کے دوہرے رویوں پر جھنجھلاہٹ بھی اور وہ اسے بیان کرنے کے لیے کسی بھی طرح کی لاگ لپیٹ سے کام نہیں لیتیں۔پریم بھی ان کی شاعری میں محض پھول کا استعارہ بن کر نمودار نہیں ہوتا، بلکہ وہ اسے راہ پرخار کی طرح ہی قبول بھی کرتی ہیں اور پسند بھی۔ریاست کے جبر، خاندانی سیاست کا دوہرا پن اور شہرت پسند سماج میں اکیلے ہوجانے کے ڈر سے مکالمہ  کرتی ہوئی ان کی نظمیں اپنی جانب متوجہ کرتی ہیں۔انہوں نے عورت دشمن سماج   پر اکثر اپنی نظموں میں کھل کر دھاوا بولا ہے۔

یشسوی پاٹھک  اترپردیش کے شہر سلطان پور میں  5 ستمبر کو پیدا ہوئیں۔ان کی بنیادی تعلیم سلطان پور میں ہوئی، جبکہ اعلیٰ تعلیم کے لیے وہ دہلی آگئیں اور دلی یونیورسٹی سے انہوں نے پہلے جرنلزم میں اور بعد ازاں پولیٹکل سائنس میں ایم اے کیا۔ان کی نظمیں ہندی کے موقر ادبی جرائد ‘سدانیرا’،’کرتی بہومت’ ،’پوشم پا’ اور’ون مالی کتھا’ میں شائع ہوچکی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

news-1701

yakinjp

yakinjp

maujp

MAUJP

MAUJP

MAUJP

article 48666670301

article 48666670302

article 48666670303

article 48666670304

article 48666670305

article 48666670306

article 48666670307

article 48666670308

article 48666670309

article 48666670310

article 48666670311

article 48666670312

article 48666670313

article 48666670314

article 48666670315

article 48666670316

article 48666670317

article 48666670318

article 48666670319

article 48666670320

article 48666670321

article 48666670322

article 48666670323

article 48666670324

article 48666670325

article 48666670326

article 48666670327

article 48666670328

article 48666670329

article 48666670330

article 48666670331

article 48666670332

article 48666670333

article 48666670334

article 48666670335

article 48666670336

article 48666670337

article 48666670338

article 48666670339

article 48666670340

article 48666670341

article 48666670342

article 48666670343

article 48666670344

article 48666670345

article 48666670346

article 48666670347

article 48666670348

article 48666670349

article 48666670350

article 48666670351

article 48666670352

article 48666670353

article 48666670354

article 48666670355

article 48666670356

article 48666670357

article 48666670358

article 48666670359

article 48666670360

noticias 000000031

noticias 000000032

noticias 000000033

noticias 000000034

noticias 000000035

noticias 000000036

noticias 000000037

noticias 000000038

noticias 000000039

noticias 000000040

noticias 000000041

noticias 000000042

noticias 000000043

noticias 000000044

noticias 000000045

noticias 000000046

noticias 000000047

noticias 000000048

noticias 000000049

noticias 000000050

noticias 000000051

noticias 000000052

noticias 000000053

noticias 000000054

noticias 000000055

noticias 000000056

noticias 000000057

noticias 000000058

noticias 000000059

noticias 000000060

noticias 000000061

noticias 000000062

noticias 000000063

noticias 000000064

noticias 000000065

noticias 000000066

noticias 000000067

noticias 000000068

noticias 000000069

noticias 000000070

noticias 000000071

noticias 000000072

noticias 000000073

noticias 000000074

noticias 000000075

noticias 000000076

noticias 000000077

noticias 000000078

noticias 000000079

noticias 000000080

noticias 000000081

noticias 000000082

noticias 000000083

noticias 000000084

noticias 000000085

noticias 000000086

noticias 000000087

noticias 000000088

noticias 000000089

noticias 000000090

noticias 000000091

noticias 000000092

noticias 000000093

noticias 000000094

noticias 000000095

noticias 000000096

noticias 000000097

noticias 000000098

noticias 000000099

noticias 000000100

noticias 000000101

noticias 000000102

noticias 000000103

noticias 000000104

noticias 000000105

noticias 000000106

noticias 000000107

noticias 000000108

noticias 000000109

noticias 000000110

noticias 000000111

noticias 000000112

noticias 000000113

noticias 000000114

noticias 000000115

noticias 000000116

noticias 000000117

noticias 000000118

noticias 000000119

noticias 000000120

komunitas praya menyoroti perubahan pembahasan putaran gratis mahjong ways

selong tren diskusi mahjong wins tengah munculnya game digital baru

kreator konten tanjung mengangkat cerita perkembangan mahjong ways media sosial

sumbawa besar membahas tiga elemen visual mahjong wins 3 ubin emas naga scatter

komunitas digital semarang menelaah pengaruh animasi terhadap identitas game mahjong modern

yogyakarta menjadi sorotan diskusi perpaduan tradisi asia teknologi game

pengamat surabaya mengulas perubahan gaya ilustrasi seri mahjong digital

makassar membahas peran komunitas online menyebarkan tren konten mahjong

medan hingga palembang perbedaan perspektif penggemar terhadap visual mahjong ways

denpasar menyoroti perkembangan narasi budaya asia desain game mahjong kontemporer

sweet bonanza kabupaten pangkajene kepulauan mengenal mekanisme fitur putaran gratis

gates of olympus kabupaten muara enim perpaduan kisah mitologi teknologi animasi modern

lucky neko kota langsa cara simbol tradisional menyesuaikan diri selera generasi digital

wild bandito mahjong ways kabupaten garut perbandingan dua karakter visual berbeda

warga kabupaten lebak mengkaji cara membedakan klaim permainan informasi memiliki bukti

mahjong wins kota tanjungbalai menelaah fungsi simbol membentuk pengalaman visual

mengapa efek cahaya sering muncul fitur bonus pengamatan kabupaten tapanuli utara

lucky neko kabupaten hulu sungai selatan kombinasi karakter animasi ornamen bernuansa emas

gates of olympus kabupaten aceh besar memahami konsep peluang tanpa bergantung ramalan

sweet bonanza kota gorontalo menelusuri peran desain ceria membentuk identitas game

wild bandito kabupaten halmahera utara eksplorasi tema petualangan format interaktif

mahjong pgsoft kabupaten musi banyuasin perubahan pengalaman pengguna saat bermain melalui layar ponsel

princess starlight kota palangka raya mengulas fungsi cahaya elemen penceritaan

lucky neko sweet bonanza perbedaan pendekatan warna membangun identitas desain

warga kabupaten ende menelusuri pengaruh cerita budaya terhadap pembentukan karakter game digital

mengapa pemain lebih mudah mengingat kemenangan besar penjelasan bias ingatan kota madiun

bukan hanya hiburan warga kabupaten bekasi membahas pentingnya memahami batas pengeluaran digital

mahjong ways kabupaten magetan contoh memahami fenomena ilusi pola hasil acak

gates of olympus kota pagar alam menguraikan kesalahpahaman prediksi hasil permainan

warga kabupaten flores timur mengamati pengaruh notifikasi terhadap perhatian pengguna ponsel

sweet bonanza kota sukabumi membahas perbedaan ekspektasi pengguna peluang

wild bandito mahjong wins mengapa perbedaan desain bisa menarik kelompok pengguna beragam

lucky neko kabupaten tanah laut mengkaji simbol keberuntungan perspektif lintas budaya

literasi digital kabupaten sumbawa memahami rtp agar tidak terjebak penafsiran keliru

princess starlight kota tegal menelaah kontribusi tokoh pengalaman hiburan interaktif

article 88666670351

article 88666670352

article 88666670353

article 88666670354

article 88666670355

article 88666670356

article 88666670357

article 88666670358

article 88666670359

article 88666670360

article 88666670361

article 88666670362

article 88666670363

article 88666670364

article 88666670365

article 88666670366

article 88666670367

article 88666670368

article 88666670369

article 88666670370

informasi terbaru kabupaten belu 00000021

informasi terbaru kabupaten belu 00000022

informasi terbaru kabupaten belu 00000023

informasi terbaru kabupaten belu 00000024

informasi terbaru kabupaten belu 00000025

informasi terbaru kabupaten belu 00000026

informasi terbaru kabupaten belu 00000027

informasi terbaru kabupaten belu 00000028

informasi terbaru kabupaten belu 00000029

informasi terbaru kabupaten belu 00000030

informasi terbaru kabupaten belu 00000031

informasi terbaru kabupaten belu 00000032

informasi terbaru kabupaten belu 00000033

informasi terbaru kabupaten belu 00000034

informasi terbaru kabupaten belu 00000035

informasi terbaru kabupaten belu 00000036

informasi terbaru kabupaten belu 00000037

informasi terbaru kabupaten belu 00000038

informasi terbaru kabupaten belu 00000039

informasi terbaru kabupaten belu 00000040

informasi terbaru kabupaten belu 00000041

informasi terbaru kabupaten belu 00000042

informasi terbaru kabupaten belu 00000043

informasi terbaru kabupaten belu 00000044

informasi terbaru kabupaten belu 00000045

informasi terbaru kabupaten belu 00000046

informasi terbaru kabupaten belu 00000047

informasi terbaru kabupaten belu 00000048

informasi terbaru kabupaten belu 00000049

informasi terbaru kabupaten belu 00000050

informasi terbaru kabupaten belu 00000051

informasi terbaru kabupaten belu 00000052

informasi terbaru kabupaten belu 00000053

informasi terbaru kabupaten belu 00000054

informasi terbaru kabupaten belu 00000055

informasi terbaru kabupaten belu 00000056

informasi terbaru kabupaten belu 00000057

informasi terbaru kabupaten belu 00000058

informasi terbaru kabupaten belu 00000059

informasi terbaru kabupaten belu 00000060

informasi terbaru kabupaten belu 00000061

informasi terbaru kabupaten belu 00000062

informasi terbaru kabupaten belu 00000063

informasi terbaru kabupaten belu 00000064

informasi terbaru kabupaten belu 00000065

informasi terbaru kabupaten belu 00000066

informasi terbaru kabupaten belu 00000067

informasi terbaru kabupaten belu 00000068

informasi terbaru kabupaten belu 00000069

informasi terbaru kabupaten belu 00000070

informasi terbaru kabupaten belu 00000071

informasi terbaru kabupaten belu 00000072

informasi terbaru kabupaten belu 00000073

informasi terbaru kabupaten belu 00000074

informasi terbaru kabupaten belu 00000075

informasi terbaru kabupaten belu 00000076

informasi terbaru kabupaten belu 00000077

informasi terbaru kabupaten belu 00000078

informasi terbaru kabupaten belu 00000079

informasi terbaru kabupaten belu 00000080

news-1701