شبھا کی کویتائیں

ہمزاد

 

دکھ مجھ سے پہلے بیٹھا تھا

ماں کی کوکھ میں

ہم ساتھ ساتھ پیدا ہوئے

وہ مجھ سے بڑا تھا

٠٠٠

 

ایک خیال

 

وہ ٹیلا وہیں ہوگا

جھربیریاں اس پر چڑھ جانے کی کوشش میں ہوں گی

چیونٹیاں اپنے انڈے لیے بلوں کی جانب گامزن ہوں گی

ہرا ٹِڈا بھی مٹھی بھر گھاس پر بیٹھا ہوگا کچھ سوچتا ہوا

دوپہر کو اور سفید بنارہی ہوگی آسمان میں پاؤں ٹھہراکر اڑتی ہوئی چیل

کیکر کے پیڑوں سے ذرا آگے رکی کھڑی ہوگی ان کی پرچھائیں

کوے پیاسے بیٹھے ہوں گے اور بھی سب جاندار غیر جاندار ہوں گے وہاں

ایسے اٹھیں گے پتھر جیسے کوئی جلسہ کررہے ہوں

ہوا آرام کررہی ہو گی شیشم کی پتیوں میں چھپی

ہوسکتا ہے یہ سب میری یادوں میں ہی زندہ ہو

یہ بھی ہوسکتا ہے کہ میری یادہی نہ بچے

اور یہ سب اسی طرح قائم رہیں

٠٠٠

 

آخری انسانی دکھ

 

اتنا دکھ آنسوؤں سے نہیں اٹھایا جاتا

وہ ہار گئے کب کے

چیخ اسے اور بھیانک بناتی ہے

غصہ تو صرف راکھ پیدا کرتا ہے

کچھ دیر اسے خاموشی نے اٹھایا

کبھی ڈھویا کویتا نے

وچار نے جھیلا اسے

اور لادا دوستوں نے

مل کر گیت گاتے ہوئے

کمیونسٹ پارٹیاں بکھریں

کتنی بار اسے اٹھاتے ہوئے

اسے ڈھونے کے لیے

کچھ اور چاہیے

ان سب کے ساتھ

کوئی نیا طریقہ

اتہاس نے اسے اٹھایا کبھی کبھی

اب اس کی  دھجیاں بکھری ہیں

انہیں بچے ڈھو رہے ہیں

یہ پہنچ رہا ہے قدرت تک

طوفان اور گھپائیں

اٹھائیں گی اس کا بوجھ

اگر دھرتی اسے نہ اٹھا سکی

خلا میں ناچیں گی اس کی دھجیاں

٠٠٠

 

مکالمہ

 

اس دنیا کا سب سے آسان کام رہا ہے

یا یوں کہیے کہ سب سے مشکل

اصل میں سب سے آسان کام ہی

سب سے مشکل ہوتے ہیں

آسان کام ہوتا ہے ایسے

جیسے خود ہورہا ہو

اور جب وہ خود نہیں ہوتا

تو وہ سب سے مشکل کام ہوتا ہے

بسنت میں مکالمہ جاری رہتا ہے

ہر ذرے کے درمیان

جتنی کونپلیں اتنی بھاشا

جتنی تتلیاں اتنے رقص

جتنی اوس اتنی کرنیں

کچھ کم نہیں ہوتا

کچھ زیادہ نہیں ہوتا

جیسے سب اپنے آپ ہوتا ہے

اس کا مطلب نہ ہونا نہیں ہے

اس کا مطلب ساتھ ہونا ہے

جڑیں زمین میں چلتی ہیں

کونپلیں آسمان میں

گہرائی اور اونچائی

ایک ہی سمت ہوتی ہے

کیسے بنتی ہے ایک ہی سمت

جس میں ہوتی ہیں اتنی ہی بھاشائیں

جتنی ہوتی ہیں چڑیائیں

جتنی چیونٹیاں

اتنے ہی سانپ

گنتی میں نہیں تناسب میں

٠٠٠

 

گینگ ریپ

 

عضو تناسل کی عام نمائش

جسے ہم گینگ ریپ کہتے ہیں

باقاعدہ ٹیم بناکر

اتحاد کے جذبے کے ساتھ لگائی جاتی ہے

اکیلے میں عورت کے ساتھ

زور زبردستی تو خیر

تہذیب کا حصہ رہی ہے

جنگوں اور دشمنیوں کے معاملے میں

مردانگی دکھانے کے لیے بھی

بلاتکار ایک ہتھیار رہا ہے

مگر یہ نئی بات ہے

لگ بھگ بغیر کسی بات کے

عضو تناسل کی جنگی نمائش

مرد جب اٹھتے بیٹھتے ہیں

تب بھی ایسا لگتا ہے

جیسے وہ اس ہتھیار کی نمائش لگانا چاہتے ہیں

کھجلی جیسے بہانوں کے ساتھ بھی

وہ ایسا بڑے پیمانے پر کرتے ہیں

ماں بہن کی گالیاں دیتے ہوئے بھی

 

وہ اپنے اس عضو پر اترا رہے ہوتے ہیں

آخر اسے دیکھ کر ہی

ماں باپ تھالی بجانے لگتے ہیں

دائیاں ناچنے لگتی ہیں

لوگ مٹھائی کے لیے منہ پھاڑے آنے لگتے ہیں

یہ زیادہ پرانی بات نہیں ہے

جب فرائڈ مہاشے

اس عضو پر اتنے فدا ہوئے

کہ وہ ایک پیچیدہ ڈھانچے

کو سمجھ نہیں سکے

اس کے روپ پر مبہوت

وہ اسی  طرح ناچنے لگے

جیسے ہماری دائیاں ناچتی ہیں

سرمایے اور ہمہ گیریت کے ملاپ سے

ساخت اور طاقت میں گٹھ جوڑ ہوگیا ہے

ظاہر ہے کہ معیار کا سوال

مفلسوں اور محروموں سے ہونا تھا

ہمارے شاستر، پُران، عظیم مذہبی اعمال اور نفسیات

مٹھائی اور ناتے رشتوں کے یوگ سے

عضو تناسل کو اس طرح قائم کیا گیا

جیسے عظیم طاقتور خدا کو کیا جاتا ہے

عجب نہیں کہ ماں  کی تعریفیں

کئی بار عضو تناسل کے قصیدوں کی طرح سنائی دیتی ہیں

اس کی جنگی نمائش

اس وقت ضروری ہوجاتی ہے

جب مرد انگی کی عظیم عمارت ڈھہ رہی ہو

فرج، بچہ دانی، انڈہ دانی، چھاتیاں، دودھ کی گلٹیوں

اور ضمیر زدہ جسم کے ساتھ

طے شدہ معیار سے الگ انسان

جب مردوں کے سماج میں داخل ہوتا ہے

تو وہ ایک چنوتی ہے

عضو تناسل پر فدا

بے ضمیر مرد اجتماعی طور پر اپنا

ڈگمگاتا اقتدار قائم رکھنا چاہتا ہے

٠٠٠

 

مستقبل کی طرف

 

بچے زہریلی گیس سے اچھی طرح

نیلے پڑگئے ہیں

ان پر بیماریوں کے جراثیم کی بارش  بھی کی گئی ہے میزائلوں سے

پہلے وہ بھیک مانگ رہے تھے

انہوں نے بچہ مزدور بنے رہنے کی بھی کوشش کی

سیکس بازار میں وہ دھیمی آواز میں روئے

رفیوجی کیمپ میں وہ سردی سے

ادھ مرے ہوگئے اور بس آہستہ سے کنمنائے

انہوں نے کچھ کہا نہیں

ان کی معصومیت

کسی کام نہ آئی

پنکھڑیوں جیسے دل

ایک دھماکے سے خون میں غرق ہوگئے

رات کو سوتے ہوئے وہ

بارود سے ڈھک دیے گئے ہیں اچھی طرح

وہ ہمارا مستقبل ہیں

٠٠٠

 

مجبور

 

کبھی پھیپھڑے بھر جاتے ہیں

گونگے دکھ سے

دل کا کہیں پتہ نہیں ملتا

وہم کی پیٹھ دکھائی دیتی ہے

چہرہ نہیں

٠٠٠

 

دلربا کے سُر

 

ہمارے کندھے اس طرح بچوں کو اٹھانے کے لیے

نہیں بنے ہیں

کیا یہ بچہ اس لیے پیدا ہوا تھا

تیرہ سال کی عمر میں گولی کھانے کے لیے

کیا بچے ہسپتال، جیل اور قبر کے لیے بنے ہیں

کیا وہ اندھے ہونے کے لیے بنے ہیں

اپنے دریا کا پانی ان کے لیے بہت تھا

اپنے پیڑ گھاس۔پتیاں اور ساتھ کے بچے ان کے لیے بہت تھے

چھوٹا موٹا سکول ان کے لیے بہت تھا

ذرا سا سالن اور چاول ان کے لیے بہت تھا

آس پاس کے بزرگ اور معمولی لوگ ان کے لیے بہت تھے

وہ اپنی ماں کے ساتھ پھول، پتے، لکڑیاں چنتے ہوئے اپنا جیون بتا دیتے

میمنوں کے ساتھ ہنستے کھیلتے

وہ اپنی زمین پرتھے

اپنوں کے سکھ دکھ میں شریک تھے

تم بیچ میں کہاں سے آگئے

سارے معاہدے توڑدینے والے

جیل میں  ڈالنے والے

گولیاں چلانے والے

تم بیچ میں کہاں سے آگئے

ہمارے بچے باغی ہوگئے

نہ کوئی ٹریننگ، نہ ہتھیار

وہ خالی ہاتھ  تمہاری طرف آئے

تم نے ان پر چھرے برسائے

اندھے ہوتے ہوئے انہوں نے پتھر اٹھائے جو

ان کے ہی خون اور آنسوؤں سے تر تھے

 

سارے معاہدے توڑنے والو

گولیوں اور چھروں کی

برسات کرنے والو

دریا بچوں کی طرف ہے

اگنا اور بڑھنا

ہوائیں اور پت جھڑ

جاڑا اور بارش

سب بچوں کی طرف ہے

بچے اپنی کانگڑی نہیں چھوڑیں گے

ماں کا دامن نہیں چھوڑیں گے

بچے سب ادھر ہیں

 

معاہدے توڑنے والو

سارے معاہدے درمیان میں رکھے جائیں گے

بچوں کے نام ان کے کھلونے

درمیان میں رکھے جائیں گے

عورتوں کے پھٹے دامن

درمیان میں رکھے جائیں گے

مارے گئے لوگوں کی بے گناہی

درمیان میں رکھی جائے گی

ہمیں وجود میں لانے والی دھرتی

درمیان میں رکھی جائے گی

مقدمہ تو چلے گا

شناخت تو ہوگی

حشر تو یہیں پر اٹھے گا

سکول بند ہیں

شادیوں کے شامیانے اکھڑے پڑے ہیں

عید پر ماتم پسرا ہے

 

بچوں کو قبرستان لے جاتے لوگ

گردن جھکائے ہیں

ان پر چھروں اور گولیوں کی برسات ہورہی ہے

٠٠٠

 

آدم خور

 

1

آدم خور اٹھالیتا ہے

چھ سال کی بچی

لہولہان کردیتا ہے اسے

اپنا ہتھیار پونچھتا ہے

اور گھر پہنچ جاتا ہے

منہ ہاتھ دھوتا ہے اور

کھانا کھاتا ہے

رہتا ہے بالکل شریف آدمی کی طرح

شریف آدمی کو بھی لگتا ہے

بالکل شریف آدمی جیسا

٠٠٠

 

2

 

ایک عورت بات کرنے کی کوشش کررہی ہے

تم اس کا چہرہ الگ کردیتے ہو دھڑ سے

تم اس کی چھاتیاں الگ کردیتے ہو

تم اس کی رانیں الگ کردیتے ہو

تم اکیلے میں اسے کھاتے ہو

آدم خور تم اسے تشدد بھی نہیں مانتے

٠٠٠

 

خوش قسمتی

 

یکمُشت

بدن کا درد محسوس کرنا

جیسے گھر لوٹنا ہواہو

آتما کی اداسی دیکھنا

جیسے کسی عزیز سے ملنا ہواہو

٠٠٠

 

احتجاج کی نسائی آوازیں (پرتی رودھ کا اِستری سؤر)  جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے،سویتا سنگھ کی ترتیب دی ہوئی ایک ایسی کتاب ہے، جس میں موجودہ دور کی ایسی باغی ہندی شاعروں کی  کویتائیں جمع کی گئی ہیں، جنہوں نے  ریاست اور سماج کے جبر کو خاموشی سے تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے۔وہ اپنی بات کہہ رہی ہیں۔دنیا بھر کے ساتھ ساتھ اپنے ملک اور اپنے خطے میں موجود اپنی ہم جنسوں، بچوں اور مظلوموں کی حمایت  میں کھل کر بول رہی ہیں۔یہ نڈر اور حساس آوازیں ہیں، جن کو کسی بھی طور فراموش نہیں کیا جاسکتا۔اس کتاب میں شامل سبھی شاعروں کی نظمیں جستہ جستہ اردو میں ترجمہ کرکے آپ سبھی کے سامنے لائی جاتی رہیں گی۔ترجمے کی اجازت دینے کے لیے میں سویتا سنگھ کا خاص طور پر شکرگزار ہوں۔یہ کتاب راج کمل پرکاشن کی جانب سے 2023 میں پہلی بار شائع ہوئی ہے۔اس  سے آپ ان نظموں کے اپنے عہد سے موجود گہرے تعلق کا اندازہ کرسکتے ہیں۔کتاب میں موجود تمام شاعروں کا تعارف کتاب سے ترجمہ کرکے یہاں پیش کیا جائے گا۔شکریہ

‘احتجاج کی نسائی آوازیں’ نامی  کتاب میں شامل شُبھا پہلی شاعر ہیں۔وہی شُبھا جنہوں نے آج تک اپنا ایک مجموعہ بھی شائع نہیں کروایا، لیکن جن کی کویتائیں اس آدم خور تہذیب کی جائز تنقید کرتی  رہی ہیں، ہمیں جھنجھوڑتی  رہی ہیں۔ان کی جہدآمیز زندگی سے نکلنے والی یہ کویتائیں ان موتیوں کی طرح ہیں جن سے اس کتاب  میں ہم ایک ایسی مالا تیار کرنا چاہتے ہیں، جس کی خوبصورتی سے لوگ مبہوت ہوجائیں۔ان کی کویتائیں گینگ ریپ سے لے کر ‘سخت دل مستقبل کی جانب’جانے تک پھیلی ہوئی ہیں،اور  جن کے حقائق کا یہاں تجزیہ بھی موجود ہے ۔ ان سب سے باہر نکلنے کا راستہ بھی انہی کویتاؤں میں سجھایا گیا ہے۔یہ سب کتنا مشکل ہے یہ ان کی کویتاؤن کو معلوم ہے۔’آدم خور اٹھالیتا ہے/چھ سال کی بچی کو/لہو لہان کردیتا ہے اسے۔۔۔’ایسے حالات میں کویتا بھی تو لہو لہان ہوتی ہے جسے شُبھا دیکھتی اور محسوس کرتی ہیں۔ اور اس پر اپنا احتجاج درج کرواتی ہیں۔(سویتا سنگھ)

شُبھا 6 ستمبر 1953 کو علی گڑھ میں پیدا ہوئیں ، آٹھویں دہائی کی اہم شاعر ہیں۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے پڑھائی کے بعد جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے مکتی بودھ کے وِچاروں اور شاعری پر پی ایچ ڈی کی۔سیاسی طور پر سرگرم شُبھا ہریانہ کے سانپلا کے راجکیہ مہیلا ودیالیہ میں پرنسپل  کے عہدے سے ریٹائر ہوئیں۔وہ ‘سرچ’ راجیہ سنسادھن کیندر، ہریانہ اور ‘بھارت گیان ۔وگیان سمِتی’ سے بھی جڑی رہیں۔شُبھا ‘ایڈوا(آل انڈیا ڈیموکریٹک ویمنس ایسوسی ایشن)’ نامی نسوانی تنظیم کے بنیاد گزاروں  میں شامل رہی ہیں۔ہریانہ میں مختلف ناٹک منڈلیوں کی تشکیل کرکے انہوں نے گاؤں میں حاشیے پر موجود دلتوں، محروموں اور عورتوں میں بیداری پیدا کرنے کا کام بھی کیا ہے۔’پہل’،’نیا گیان اُدے’،’ورتمان ساہتیہ’،’کتھن’،’نیاپتھ’،’شُکروار’، ‘نئی دنیا’ وغیرہ جیسے باوقار رسائل میں ان کی کویتائیں شائع ہوچکی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

content-1701

article 8998000441

article 8998000442

article 8998000443

article 8998000444

article 8998000445

article 8998000446

article 8998000447

article 8998000448

article 8998000449

article 8998000450

article 8998000451

article 8998000452

article 8998000453

article 8998000454

article 8998000455

article 8998000456

article 8998000457

article 8998000458

article 8998000459

article 8998000460

article 8998000461

article 8998000462

article 8998000463

article 8998000464

article 8998000465

article 8998000466

article 8998000467

article 8998000468

article 8998000469

article 8998000470

article 2000126

article 2000127

article 2000128

article 2000129

article 2000130

article 2000131

article 2000132

article 2000133

article 2000134

article 2000135

article 2000136

article 2000137

article 2000138

article 2000139

article 2000140

article 2000141

article 2000142

article 2000143

article 2000144

article 2000145

article 2000146

article 2000147

article 2000148

article 2000149

article 2000150

article 2000151

article 2000152

article 2000153

article 2000154

article 2000155

article 2000156

article 2000157

article 2000158

article 2000159

article 2000160

article 2000161

article 2000162

article 2000163

article 2000164

article 2000165

article 2000166

article 2000167

article 2000168

article 2000169

article 2000170

article 2000166

article 2000167

article 2000168

article 2000169

article 2000170

article 2000171

article 2000172

article 2000173

article 2000174

article 2000175

article 2000176

article 2000177

article 2000178

article 2000179

article 2000180

article 2000181

article 2000182

article 2000183

article 2000184

article 2000185

article 2000186

article 2000187

article 2000188

article 2000189

article 2000190

article 2000191

article 2000192

article 2000193

article 2000194

article 2000195

article 2000196

article 2000197

article 2000198

article 2000199

article 2000200

article 2000201

article 2000202

article 2000203

article 2000204

article 2000205

article 2000206

article 2000207

article 2000208

article 2000209

article 2000210

article 2000211

article 2000212

article 2000213

article 2000214

article 2000215

article 2000216

article 2000217

article 2000218

article 2000219

article 2000220

article 2000221

article 2000222

article 2000223

article 2000224

article 2000225

article 2990216

article 2990217

article 2990218

article 2990219

article 2990220

article 2990221

article 2990222

article 2990223

article 2990224

article 2990225

article 2990226

article 2990227

article 2990228

article 2990229

article 2990230

article 2990231

article 2990232

article 2990233

article 2990234

article 2990235

article 2990236

article 2990237

article 2990238

article 2990239

article 2990240

article 2990241

article 2990242

article 2990243

article 2990244

article 2990245

article 2990246

article 2990247

article 2990248

article 2990249

article 2990250

article 2990251

article 2990252

article 2990253

article 2990254

article 2990255

article 2990256

article 2990257

article 2990258

article 2990259

article 2990260

article 2990261

article 2990262

article 2990263

article 2990264

article 2990265

article 888866

article 888867

article 888868

article 888869

article 888870

article 888871

article 888872

article 888873

article 888874

article 888875

article 888876

article 888877

article 888878

article 888879

article 888880

article 888881

article 888882

article 888883

article 888884

article 888885

article 888886

article 888887

article 888888

article 888889

article 888890

article 888891

article 888892

article 888893

article 888894

article 888895

article 888896

article 888897

article 888898

article 888899

article 888900

article 888901

article 888902

article 888903

article 888904

article 888905

article 888906

article 888907

article 888908

article 888909

article 888910

article 888911

article 888912

article 888913

article 888914

article 888915

article 888916

article 888917

article 888918

article 888919

article 888920

article 888921

article 888922

article 888923

article 888924

article 888925

article 0000221

article 0000222

article 0000223

article 0000224

article 0000225

article 0000226

article 0000227

article 0000228

article 0000229

article 0000230

article 0000231

article 0000232

article 0000233

article 0000234

article 0000235

article 0000236

article 0000237

article 0000238

article 0000239

article 0000240

article 0000241

article 0000242

article 0000243

article 0000244

article 0000245

article 0000246

article 0000247

article 0000248

article 0000249

article 0000250

article 0000251

article 0000252

article 0000253

article 0000254

article 0000255

article 0000256

article 0000257

article 0000258

article 0000259

article 0000260

article 0000261

article 0000262

article 0000263

article 0000264

article 0000265

article 0000266

article 0000267

article 0000268

article 0000269

article 0000270

content-1701
news-0801

yakinjp


sabung ayam online

yakinjp

yakinjp

rtp yakinjp

yakinjp

yakinjp

judi bola online

slot thailand

yakinjp

yakinjp

yakinjp

yakinjp

ayowin

mahjong ways

judi bola online

mahjong ways 2

JUDI BOLA ONLINE

maujp

maujp

sabung ayam online

maujp

maujp

maujp

maujp

sabung ayam online

mahjong ways slot

sbobet88

live casino online

Situs Agen Togel

MAUJP

118000021

118000022

118000023

118000024

118000025

118000026

118000027

118000028

118000029

118000030

118000031

118000032

118000033

118000034

118000035

118000036

118000037

118000038

118000039

118000040

118000041

118000042

118000043

118000044

118000045

118000046

118000047

118000048

118000049

118000050

128000021

128000022

128000023

128000024

128000025

128000026

128000027

128000028

128000029

128000030

128000031

128000032

128000033

128000034

128000035

128000036

128000037

128000038

128000039

128000040

128000041

128000042

128000043

128000044

128000045

128000046

128000047

128000048

128000049

128000050

138000021

138000022

138000023

138000024

138000025

138000026

138000027

138000028

138000029

138000030

138000031

138000032

138000033

138000034

138000035

138000036

138000037

138000038

138000039

138000040

138000041

138000042

138000043

138000044

138000045

138000046

138000047

138000048

138000049

138000050

148000026

148000027

148000028

148000029

148000030

148000031

148000032

148000033

148000034

148000035

148000036

148000037

148000038

148000039

148000040

148000041

148000042

148000043

148000044

148000045

148000046

148000047

148000048

148000049

148000050

148000051

148000052

148000053

148000054

148000055

148000056

148000057

148000058

148000059

148000060

148000061

148000062

148000063

148000064

148000065

148000066

148000067

148000068

148000069

148000070

158000041

158000042

158000043

158000044

158000045

158000046

158000047

158000048

158000049

158000050

158000051

158000052

158000053

158000054

158000055

158000056

158000057

158000058

158000059

158000060

158000061

158000062

158000063

158000064

158000065

158000066

158000067

158000068

158000069

158000070

168000011

168000012

168000013

168000014

168000015

168000016

168000017

168000018

168000019

168000020

168000021

168000022

168000023

168000024

168000025

168000026

168000027

168000028

168000029

168000030

168000031

168000032

168000033

168000034

168000035

168000036

168000037

168000038

168000039

168000040

178000036

178000037

178000038

178000039

178000040

178000041

178000042

178000043

178000044

178000045

178000046

178000047

178000048

178000049

178000050

178000051

178000052

178000053

178000054

178000055

178000056

178000057

178000058

178000059

178000060

178000061

178000062

178000063

178000064

178000065

188000141

188000142

188000143

188000144

188000145

188000146

188000147

188000148

188000149

188000150

188000151

188000152

188000153

188000154

188000155

188000156

188000157

188000158

188000159

188000160

188000161

188000162

188000163

188000164

188000165

188000166

188000167

188000168

188000169

188000170

198000031

198000032

198000033

198000034

198000035

198000036

198000037

198000038

198000039

198000040

198000041

198000042

198000043

198000044

198000045

198000046

198000047

198000048

198000049

198000050

198000051

198000052

198000053

198000054

198000055

198000056

198000057

198000058

198000059

198000060

218000021

218000022

218000023

218000024

218000025

218000026

218000027

218000028

218000029

218000030

218000031

218000032

218000033

218000034

218000035

218000036

218000037

218000038

218000039

218000040

218000041

218000042

218000043

218000044

218000045

218000046

218000047

218000048

218000049

218000050

228000016

228000017

228000018

228000019

228000020

228000021

228000022

228000023

228000024

228000025

228000026

228000027

228000028

228000029

228000030

228000031

228000032

228000033

228000034

228000035

228000036

228000037

228000038

228000039

228000040

228000041

228000042

228000043

228000044

228000045

228000046

228000047

228000048

228000049

228000050

238000001

238000002

238000003

238000004

238000005

238000006

238000007

238000008

238000009

238000010

238000011

238000012

238000013

238000014

238000015

238000016

238000017

238000018

238000019

238000020

news-0801