مونچھیں

پرتاب جینتی پر اس بار سرکاری دفتر بند رہے۔ٹھاکر اس کے لیے برسوں سے  کوششیں کررہے تھے۔ وہ بہت ناراض تھے کہ ایرے غیروں کی جینتوں پر تو چھٹی رہے اور رانا پرتاپ کا کہیں شمار ہی نہ ہو۔بات سچی تھی۔ اتفاق سے وزیر اعظم ٹھاکر تھے اس لیے وہ اس سچائی کو محسوس کرسکے۔انہوں نے چھٹی کا سرکاری اعلان کروایا تو شہر بھر کے ٹھاکروں نے ایک بڑے ہال میں اکٹھا ہونے کا فیصلہ کیا۔پرتاپ جینتی کا دن ہی اس  کے لیے چنا گیا۔ٹھاکر لوگ پوری طرح سے روایتی پوشاکوں میں ملبوس تو نہیں تھے، مگر بندوقیں لانا ہرگز نہ بھولے تھے۔پتلون قمیص، پتلون کرتا، کرتا پاجامہ، دھوتی قمیص ہر طرح کی پوشاک پر کارتوسوں کی پیٹیاں کسے، کندھوں پر بندوقیں ٹانگے ہوئے،وہاں پہنچنے والوں میں سے زیادہ تر لوگوں کی مونچھیں تھیں۔مونچھیں طرح طرح کی تھیں جن میں بھاری گل مچھوں سے لے کر چھوٹی نوکدار مونچھوں تک پچیسوں طرح کی قسمیں تھیں۔سب کے چہروں پر رعب تھا اور وہ ایسی چال سے چل رہے تھے جیسے ان کے دلوں میں سرفروشی کی تمنا ہو۔

اجلاس کی کارروائی شروع ہوئی۔رانا پرتاپ کی زندگی کے تعلق سے مشہور و معلوم باتوں کو جوشیلے انداز کے ساتھ دوہرایا گیا۔تقریباً ہر مقرر کو گھاس کی روٹی کھانے کا واقعہ بتاکر فخر محسوس ہوا۔ایثار کے اس جذبے کا ٹھاکروں میں فقدان ہوگیا ہے، آج ضرورت ہے کہ ہم رانا پرتاپ کی طرح جئیں اور انہیں کی طرح موت کو گلے لگائیں۔بہت پہلے سرکار نے پرتاپ بھَوَن  کے لیے زمین دی تھی، آج اس زمین پر جھگیاں پھیل گئی ہیں۔

ان جھگیوں کو سرکار نے قانوناً جائز قراردے کر پورے ٹھاکر سماج کو چنوتی دی ہے۔ ہم سرکار کو ایک ہفتے کا نوٹس دیں گے اور اگر جھگیوں کو نہیں ہٹایا گیا تو ہم ان میں آگ لگا دیں گے اور وہاں تب تک گولیاں چلائیں گے جب تک زمین پر پرتاپ بھَوَن نہیں کھڑا ہوجاتا۔خوب تالیاں پیٹی گئیں۔ایک صاحب  جوش میں باہر نکل آئے اور ہوا میں گولیاں داغنے  لگے۔ہال ہنکاروں سے بھر اٹھا۔بھاشنوں کے بعد کھان پان کی محفل سجی۔لوگ جھنڈوں میں کھڑے ہوکر باتیں کرنے لگے۔بندوقوں کے لائسنس ملنے کی دقتوں، بندوقوں اور کارتوسوں کی بڑھتی قیمتوں کی شکایت کے ساتھ ساتھ اس بات  پر بھی تنقید ہوئی کہ بہت سے ٹھاکروں کے پاس بندوقیں نہیں ہیں۔اجلاس میں کچھ لوگ ایسے تھے جن کے پاس بندوقیں نہیں تھیں اور وہ شروع سے ہی بے عزتی محسوس کررہے تھے۔انہوں نے مونچھیں تو اچھی طرح تراشی تھیں مگر ان میں رعب نہیں تھا۔اس بات چیت  کے سبب ان کا اعتماد مزید کمزور ہوگیا تھا۔وہ اس احساس گناہ کے بوجھ کی وجہ سے   پچھڑ گئے اورخود کو چھپانے کے جتن کرنے لگے۔بات چیت کا ایک موضوع یہ بھی تھا کہ شہر میں نوکری کی غرض سے آنے والے ٹھاکروں کی مدد کرنے میں کوتاہی ہورہی ہے۔ جو ٹھاکر بڑے عہدوں پر ہیں ان کا یہ فرض ہے کہ وہ ٹھاکروں کو نوکری دلوائیں، مکان دلوائیں اور اگر کوئی بہت غریب ہے تو روپے پیسے سے اس  کی مدد کرنے کے لیے سماج کا ایسوسی ایشن تیار رہے۔کچھ لوگوں کا یہ ماننا بھی تھا کہ ٹھاکر قوم ناانصافی سے لڑنے کے لیے پیدا ہوئی ہے، اس لیے سماج میں جہاں کہیں ناانصافی ہو اس کے خلاف لڑائی کے لیے ٹھاکروں کو ہمیشہ تیار رہنا چاہیے۔ جبکہ آج یہ حالت ہے کہ ٹھاکر خود ناانصافی کا شکار ہورہے ہیں، بزدل اور دبُّو ہوگئے ہیں۔کھانے کے بعد محفل برخاست ہوئی۔ہال کے باہر نکل کر سبھی بندوق برداروں نے ہوا میں گولیاں داغیں۔قریب آدھے گھنٹے تک دھائیں دھائیں ہوتی رہی۔ پھر سب اپنے اپنے گھر چلے گئے۔

 

میرے پڑوس میں رہنے والے رام سنگھ ٹھاکر بھی اس اجلاس میں گئے تھے۔ ان کے پاس بندوق نہیں تھی، اس لیے وہ بڑے ہی اداس لوٹے۔میں اپنے دروازے پر لکڑی کی ریک دھو رہا تھا کہ وہ سامنے اپنے مکان میں گھسے۔میں نے پوچھا، ٹھاکر صاحب ہوآئے؟

کیا کہا؟ انہیں میرا لہجہ دوستانہ نہیں لگا۔انہوں نے سمجھا کہ میں ان پر پھبتی  کس رہا ہوں۔وہ تڑپ کر پلٹے اور مجھے ایسے گھورنے لگے کہ کیا بتاؤں۔وہ کالونی کے زیادہ تر لوگوں سے جھگڑ چکے  ہیں۔ جھگڑنے میں وہ کسی دلیل ولیل  کے چکر میں نہیں پڑتے، اٹھاپٹخ پر اتر آتے ہیں، اپنی تیکھی آواز میں بری طرح چیختے ہیں۔میں ان کی نظر دیکھ کر سمجھ گیا کہ وہ اٹھا پٹخ کرسکتے ہیں۔ میں دوبارہ ریک پر جھک گیا۔مگر وہ میرے پاس آدھمکے اور بولے، گھبراؤمت، میں جلدی  ہی بندوق خرید لوں گا۔وہ چلے گئے ، میں دھیرے سے مسکرایا۔کہتے ہیں گھبراؤ مت اور خریدنے والے ہیں بندوق۔میں انہیں مشورہ دوں گا، بندوق نہ خریدیں۔غصیل آدمی ہیں، غصے میں کبھی چلا بیٹھے تو ان کے لیے مسئلہ ہوجائے گا۔مگر میں یہ کہوں گا تب، جب وہ اچھے موڈ میں ہوں گے اور بار بار جیب سے لونگ نکال کر بڑے انکسار سے کہہ رہے ہوں گے، لونگ کھائیے لونگ۔

آخر میں ان کے ایک دم سامنے رہتا ہوں۔خوش مزاج آدمی ہیں۔خاص کر ٹھاکر صاحب کی  سدا تنی رہنے والی مونچھوں، بھووں اور چھوٹے سے لنٹھ شریر کی دھمکی بھری ٹھسک دیکھ کر مجھے اکثر ہنسی آجاتی ہے۔کبھی کبھی وہ دیکھ لیتے ہیں اور کہتے ہیں، کیوں ہنس رہے ہیں؟ میں کہہ دیتا ہوں، کچھ نہیں ایک چُٹکُلہ یاد آگیا یا کل کی فلم کا سین یاد آگیا تھا یا ایسا ہی کچھ اور۔کبھی کبھی دیکھ کر وہ چپ رہتے ہیں۔ ان کا چپ رہنا ایک طرح سے گانٹھ باندھنے جیسا ہوتا ہے۔وہ کئی گانٹھیں باندھ چکے ہیں۔اپنے ڈھنگ سے گانٹھیں کھولنے کی کوشش میں اکثر کرتا رہتا ہوں۔جیسے ان کے آنے کا وقت ہوا کہ میں نے ان کے بچوں کو اپنے پاس بلا لیا اور ان سے ہنسنے بولنے لگا۔کبھی ان کے بچے کو سائیکل پر بٹھا کر اس سڑک پر نکل گیا جس پر وہ آتے ملیں یا مِیرا سے کہہ کر ان کی پتنی کو اپنے گھر چائے پر بلا لیا۔ کبھی میرا اور بچوں کو لے کر ان کے یہاں ٹی وی دیکھنے پہنچ گیا۔انہیں ٹی وی خریدنے پر بڑا فخر ہے۔جس دن انہوں نے خریدا تھا،اس روز ان کی شان دیکھتے بنتی تھی۔بار بار گھر میں گھستے۔ وہ اتنی شان کے ساتھ ٹی وی دیکھتے ہیں کہ کیا کوئی اور دیکھتا ہوگا۔ٹی وی کے سامنےصوفے پر بیچوں بیچ بیٹھ جاتے ہیں، لگاتار مونچھیں اور ہر دس منٹ میں ٹی وی کے کان اُمیٹھتے ہیں۔بٹن گھماتے سمے ان کے چہرے پر ایک مکینک کا  جوشیلا انداز چھاجاتا ہے۔دیکھنے والوں کو اس سے پریشانی تو ہوتی ہے مگر وہ کہہ بھی کیا سکتے ہیں، یہ بار بارکہتے جاتے ہیں کہ اب پہلے سے زیادہ صاف دکھ رہا ہے۔کالونی کے جو لوگ ان کے یہاں ٹی وی دیکھنے نہیں گئے، ان لوگوں سے  بہت ناراض ہوچکے ہیں اور یہ ناراضی دن بدن بڑھ رہی ہے۔

ٹی وی خریدنے کی حیثیت ان کی تھی  نہیں، وہ خریدتے بھی نہیں، اگر کالونی کی پانچ سات چھتوں پر انٹینا نہ لہرانے لگتے۔اور جب انہوں نے دیکھا کہ کوہلی ٹی وی لے آیا ہے تو ان سے رہا نہ گیا۔کوہلی ان کا دشمن نمبر ایک ہے۔ پہلے وہ اسی کے مکان کے سامنے رہتے تھے۔ کل دو مہینے رہے اور اتنا لڑے کہ حد ہوگئی۔کوہلی بھی ہیکڑ  ہے۔ٹھیکے داری کرتا ہے، پیسے کا اسے نشہ ہے، جوانی میں پہلوانی کا شوقین رہا ہے۔ وہ ٹھاکر صاحب سے دبا نہیں،برابری سے لڑا اور انہیں اس مکان سے نکلوانے میں بھی کامیاب ہوگیا۔ تبھی سے ٹھاکر صاحب اس سے لڑنے کا کوئی نہ کوئی بہانہ ڈھونڈتے ہیں۔وہ بہانہ زمین پر ڈھونڈتے ہیں جبکہ کوہلی آسمان میں رہتا ہے۔ کوہلی کے یہاں ٹی وی ٹھیک ایسے آیا کہ کوئی ٹارچ یا سروتا خریدا کرتا ہے اور جب انہوں نے ٹی وی خریدا تو سمجھیے پوری کالونی کو ہلکان کردیا۔ٹی وی خریدنے کے بعد ان کی لنٹھ ہیکڑی میں رئیسانہ بھڑکیلا پن آگیا۔وہ اب لنگی بنیان میں باہر نہ نکلتے، بچوں کو سجا دھجا کر رکھتے، برتن مانجھنے والی لگالی، ان کے گھر دھوبی آنے لگا اور وہ انگلش پینے لگے۔تھوڑی سی لیتے اور کئی لوگوں کے گھر ہوآتے، کہتے ہیں کہ انگلش کا اپنامزہ ہے۔ پہلے وہ دیسی پیتے تھے، ایسا نہیں کہ روز پیتے تھے، مگر کہتے تھے بنا پیے نیند نہیں آتی۔اب انگلش پیتے ہیں اور کہتے ہیں   کہ انگلش پی کر اچھی نیند آتی ہے۔یہاں یہ بتا دینا ٹھیک ہے کہ وہ سرکار کے شعبۂ جنگلات میں  یُو ڈی سی ہیں۔تنخواہ تو وہی ہے جو یوڈی سیوں  کی ہوتی ہے مگر اوپری کمائی بھی کرلیتے ہیں۔بتاتے ہیں  بہت ہوجاتا ہے مگر مجھے پتہ ہے کہ کبھی کہیں سے کچھ نوچ کھروچ  لیا تو ٹھیک، نہیں تو کوری تنخواہ  پر  ہی ان کا گزارہ ہوتا ہے۔

جس روز وہ اجلاس سے لوٹے اس دن مجھ سے ناراض ہوگئے تھے، اس لیے دو دن بعد تعطیل ہوئی تو صبح صبح میں ٹھاکر صاحب، ٹھاکر صاحب کہتا ہوا ان کے گھر جا پہنچا۔وہ باہر کے کمرے میں کاغذ پتر پھیلائے کچھ حساب کتاب کررہے تھے۔انہوں نے چشمہ چڑھا رکھا تھا۔مجھے دیکھ کر مسکرائے اور بولے،آؤ آؤ۔کوئی ان کے گھر پہنچ جائے تو انہیں بڑکپن  کا احساس ہوتا ہے، خاص کر مجھ جیسا کوئی ، جو رنگین رسالوں کے اشتہارات میں چھپنے والے مردوں جیسا لگتا ہے، ویسے ہی مسکراتا ہے، اسی طرح کے کپڑے پہنتا ہے۔بیٹھتے ہی میں نے بڑی ملائمت سے پوچھا، کچھ کام کررہے ہیں؟ وہ کاغذ سمیٹتے ہوئے بولے، نہیں کچھ خاص نہیں۔پھر میرے سامنے کی کرسی پر بیٹھ کر مونچھ اُمیٹھنے لگے۔ان کی کنجی آنکھوں میں بغض کی چمک کے  ساتھ ساتھ میزبانی کا مٹ  میلا رنگ تھا۔میں نے کہا، اس دن آپ کو شاید برا لگ گیا۔انہوں نے تپاک سے کہا، نہیں آپ  کی بات کا برا نہیں لگا۔وہاں سبھا میں میرے پاس بندوق نہیں تھی، اس پر لوگوں نے بڑی باتیں بنائیں۔میں تو آپ کو یہی بتارہا تھا کہ بندوق خریدوں گا۔

میں نے کہا، ہاں آپ جیسے ٹھاکر کے پاس بندوق نہیں ہے یہ دیکھ کر اٹ پٹا تو مجھے بھی لگتا ہے۔ وہ بولے، بندوقیں تو کئی ہیں مگر سب گاؤں میں ہیں اور وہاں اتنے جھگڑے ہیں کہ وہاں سے بندوق لائی نہیں جاسکتی۔

مجھے پتہ تھا کہ گاؤں میں ان کے بوڑھے پِتا کے علاوہ کوئی نہیں ہے اور وہ اتنے غریب ہیں کہ بندوق ہوتی تو اسے بیچ کر تھوڑے دنوں کی روٹی جُٹا لیتے۔مگر میں نے ٹھاکرصاحب کی چاپلوسی کرتے ہوئے کہا، وہ تو ہے ہی۔وہاں سے بندوق لانے کی بجائے یہیں نیا لائسنس لینا ٹھیک ہوگا۔جب آپ سبھا میں جارہے تھے تو مجھے خود برا لگ رہا تھا کہ آپ بندوق کے بنا جارہے ہیں۔

انہوں نے اوپر کی جیب سے لونگ نکال کر میری طرف بڑھا دی، لونگ کھائیے لونگ۔میں نے ایک لونگ کھالی۔لونگ کھا کر میں نے کہا، مگر ٹھاکر صاحب آپ کے پاس بندوق ہونا مجھے دوسرے کارن سے ٹھیک نہیں لگتا۔آپ ان لوگوں  میں سے تو ہیں نہیں جو بندوق محض ٹانگنے کے لیے خرید لیں، آپ کا غصہ تیز ہے، بندوق چلاتے آپ کو دیر نہیں لگے گی۔

بھویں چڑھا کر وہ بولے، یہ تو ہے۔

اس لیے میں سوچتا ہوں کہ آپ بندوق نہ خریدیں ورنہ بچے  کبھی بھی مصیبت میں پڑسکتے ہیں۔وہ سخت لہجے میں بولے، میں آگا پیچھا نہیں سوچتا، جو ہونا ہو، ہوجائے گا۔آخر میں ایک ٹھاکر ہوں، کوئی بنیا باہمن نہیں۔میں نے کہا، ہاں یہ تو ہے ہی مگر۔مگر وہ نہیں مانے۔بندوق خریدنے  پر ان کی طبیعت ایسی آمادہ تھی کہ مجھے اپنی کوشش بیکار لگی۔اس لیے میں نے پلٹی کھائی اور اٹھتے اٹھتے  کہا، خیر یہ تو میں خود چاہوں گا کہ آپ ٹھاکروں کی سبھا سوسائٹی میں جائیں تو آپ کا کندھا خالی نہ رہے۔یہ طے تھا کہ ٹھاکر صاحب بندوق لیں گے، اس بندوق سے خود کو بچانے کے سوا ان کے لیے میں کچھ بھی نہیں کرسکتا تھا۔

میں شرارتی آدمی ہوں۔جوانی کے دنوں میں اس وجہ سے کئی بار بکھیڑوں میں پھنس چکا ہوں اور دو چار بار تو مجھے سر عام پٹنا تک پڑا ہے۔اب میں اڑتیس سال کا شادی شدہ مرد ہوں مگر اب بھی وہ عادت پوری طرح گئی نہیں ہے۔ اب آپ ہی سوچیے ان ٹھاکر صاحب سے پنگا لینے کی حماقت مجھے کیونکر کرنی چاہیے مگر میں ان کے معاملے میں بے قابو ہوجاتا ہوں۔اور بھی کئی ٹھاکروں سے قربت رہی ہے، کچھ تو میرے اچھے دوست بھی رہے۔وہ غصیل تو تھے مگر بات بات میں مرنے مارنے پر آمادہ نہیں ہوتے تھے۔وہ یہ قبول کرچکے تھے کہ زمانہ بدل گیا ہے، اب یہ ممکن نہیں کہ باہمن دھرم کا پرچم لہرا کے راج کریں، ٹھاکر تلواریں گھما کے، بنیے ساری دولت اپنے تلے دبالیں اور چھوٹی ذات والے جوتے کھاتے پھریں۔مگر ان ٹھاکر صاحب کے لیے زمانہ رتی بھر نہیں بدلا تھا۔وہ ایک ایسے راجا کی طرح  غصیل ہیں جس کا راج پاٹ چھن گیا ہے اور جو اپنی ہی ریاست میں ایک عام شادی شدہ شخص کا چولا پہن کر زندگی گزار رہا ہے۔میں نے ایک ایسے راجا کو اتر پردیش کے ایک چھوٹے سے قصبے میں دیکھا ہے جو بھارت میں ریاستوں کے ادغام کو قبول نہیں کرپایااور پاگل ہوگیا۔وہ اپنی حویلی کے پیچھے موجود احاطے میں ایک راجا کی طرح  غصے میں زمینی  حملے کرتا ہوا مرگیا۔وہ حکم دیتا  تھا اور نہ جانے کیا کیا اور کرتا پھرتا تھا۔مگر اس کی بات سمجھ میں آتی تھی۔راجا کا لڑکا تھا، اس کی تاجپوشی ہونے والی تھی، نہیں ہوسکی، چنانچہ صدمے سے پاگل ہوگیا۔یہ تو راجا نہیں ہیں، ٹھاکر صاحب ہیں۔ گاؤں میں سینہ تان کر رہتے ہوں گے، چماروں  مہتروں کو کبھی پیٹ پاٹ لیتے ہوں گے۔اب شہر میں نوکری کرتے ہیں تو وہ رعب داب نہیں چلتا، اتنا ہی تو ہوا ہے ان کے ساتھ! مگر ان کا غصہ اس پاگل راج کنور سے کسی طور کم نہیں۔مجھ سے اکثر کہا کرتے ہیں، کچھ بھی ہورہا ہے سالا، جسے دیکھو تن کے چل رہا ہے۔کسی کا کوئی لحاظ نہیں۔ذرا کسی کو سدھارنے کی کوشش کی اور راجنیتی بیچ میں کودی۔حد ہوگئی سالی! بنیے باہمن تو ٹھیک، سالے چمار بھی راج کررہے ہیں، تبھی تو چین  نے دُچلی بنادی۔

اپنی ایسی باتوں سے مجھے اور بھی شرارتی بنا دیتے ہیں۔ میں جانتا ہوں کسی دن ان کے تاؤ کا شکار ہوا تو دھنک کے رکھ دیں گے۔ایسا نہیں ہے کہ وہ دارا سنگھ ہیں اور میں ٹئی، بس اتنی سی بات ہے کہ ان میں لڑنے کا  جوش ہے، پرانے مشاق ہیں، جبکہ میرا جسم پٹتے وقت سُن ہوجاتا ہے اور جیسی بھی جو طاقت مجھ میں ہے، وہ ناف کے پاس اکھٹی ہوکر ہُل ہُل کرنے لگتی ہے۔یہ سب جانتے بوجھتے ہوئے بھی میں نے شرارت کی۔چھُٹی کا دن تھا۔میں کالونی کے باتونی لوگوں کو بتاآیا کہ ٹھاکر صاحب بندوق خرید رہے ہیں۔بات جلد ہی سب میں پھیل گئی۔کالونی کا بچہ بچہ جان گیا کہ وہ بندوق خرید رہے ہیں۔جن لوگوں سے ان کی بول چال تھی ان لوگوں نے ان سے پوچھا، سنا ہے آپ بندوق خرید رہے ہیں۔شام کو وہ دفتر سے لوٹیں تو لوگ دیکھیں کہ وہ بندوق لائے ہیں یا نہیں۔کبھی کوئی پوچھ بھی بیٹھتا، آپ بندوق نہیں لائے؟ کب لارہے ہیں، جس دن لائیں، ہوائی فائر ضرور کریں، بہت دنوں سے بندوق کی آواز نہیں سنی۔ہم تو مٹھائی کھائیں گے۔انہیں لوگوں کی ان باتوں نے اتنا پریشان کردیا کہ ایک دن طیش میں وہ میرے پاس آئے اور بولے، آپ نے ٹھیک نہیں کیا، میں آپ کی عزت کرتا ہوں۔ میں نے کہا، اگر آپ بتادیتے کہ اس بات کو چھپا کر رکھنا ہے تو میں اپنی مِسز تک کو نہیں بتاتا۔میں نے سوچا، آپ بندوق لائیں گے تو کھلم کھلا لائیں گے۔اس لیے اس بات کو چھپانے کی مجھے سوجھی ہی نہیں۔

وہ چلے گئے تو میں نے پڑوس میں جاکر بتایا، ٹھاکر صاحب نے بندوق لینے کا ارادہ ترک کردیا ہے۔اگلے دن کئی لوگوں نے ان سے پوچھا، سنا ہے اب آپ  بندوق نہیں خریدرہے ہیں؟ ٹھاکر صاحب کی پتنی نے چین کی سانس لی اور میری پتنی سے بولیں، اچھا ہوا جو ان کا یہ بھوت اترا، نہیں تو دن رات اسی جگاڑ میں پھرتے تھے کہ کہیں سے قرض مل جائے، کوئی لائسنس دلادے۔میں نے دیکھا کہ ٹھاکر صاحب مجھے بہت غصے سے دیکھتے ہوئے گھر میں گھسے۔میں نے فوراً بچوں کو بھیج کر انہیں  پورے خاندان سمیت گھرپر بلالیا۔میرے اس دوستانہ رویے کا اثر ہوا۔وہ چائے پیتے ہوئے بولے، اس کالونی کے لوگوں کو بڑی چہل چڑھی ہے، بتاؤں گا سب کو۔میں نے کہا، ہاں میری بھی سمجھ میں نہیں آتا کہ لوگوں کو آپ کی بندوق سے کیا لینا دینا ہے۔آپ سے ہی کیا، مجھ سے بھی دن میں دس بار پوچھتے ہیں۔میں نے ایک دن غصے میں کہہ دیا کہ وہ بندوق نہیں خریدیں گے، جائیے۔وہ ایک دم تڑپ کر بولے، بندوق تو ضرور خریدی جائے گی۔تھوڑی دیر رکے اور پھر عزت نفس کی حفاظت کرتے ہوئے بولے، میں نے اپنا ٹی وی تین ہزار میں خریدا تھا، چار مہینے چلایا ہے، آپ اسے ڈھائی ہزار میں خرید لیجیے۔میں  حیران رہ گیا۔ان کی پتنی اور ان کے بچوں نے بھی انہیں ایسے دیکھا جیسے وہ پاگل ہوگئے ہوں۔مجھے چونکہ دو دن پہلے ایئریر ملا تھا، اس لیے میری پتنی نے میری طرف دیکھا۔میں نے ٹال مٹول کی،مگر وہ اڑ گئے۔شام کو انہوں نے ٹی وی میرے گھر میں فٹ کردیا۔میں آج نہیں تو کل ٹی وی خریدتا ہی، پانچ سو کی بچت دیکھتی تو نانُکُر کرتے ہوئے لے لیا۔

پتہ نہیں چل پایا کہ باقی کی رقم انہیں کہاں سے ملی، مگر ایک ہفتے بعد اتوار کے دن ٹھاکر صاحب ایک معمولی بندوق لے آئے۔میں بندوق دیکھنے گیا۔میں نے بندوق کی بہت تعریف کی۔میں نے یہ بھی کہا کہ آپ بندوق کے ساتھ ایسے لگیں گے، میں نے اس کا تصور بھی نہیں کیا تھا۔وہ بہت خوش تھے مگر ان کے بچوں اور ان کی پتنی کا تو جیسے جہان  ہی لُٹ گیا تھا۔کہاں وہ بولتی گاتی تصویروں والی سُندر مشین اور کہاں یہ دھائیں دھائیں کرنے والا لوہا لنگڑ!

باہر کے کمرے میں بندوق ٹنگی رہتی اور اس کے نیچے تخت پر ٹھاکر صاحب بیٹھے رہتے۔کبھی شام کو بندوق ٹانگ کر کہیں ہوآتے۔ایک دن انہوں نے دو ہوائی فائر بھی کیے۔

 

میں جس مکان میں رہتا تھا۔اس کی داہنی طرف ایک لمبا چوڑا پلاٹ خالی پڑا تھا۔ایک دن وہاں کچھ لوگ آئے، ناپ واپ لی گئی، اگلے دن سے ٹرک آنے لگے، پھر مزدور آئے اور عمارت بنائی جانے لگی۔پتہ چلا کہ کوئی سِسودیا جی اس کے مالک ہیں۔دو ایک دن میں وہ اپنی کار سے آتے، تھوڑی دیر معائنہ کرتے اور چلے جاتے۔ہمارے ٹھاکر صاحب میں ایک نئی اکڑ آگئی۔وہ دفتر جانے سے پہلے اور دفتر سے لوٹنے کے بعد وہیں بنے رہتے گویا  کہ ٹھیکیدار ہوں۔ایک دن کار میں بیٹھے سسودیا جی سے ان کی کچھ بات چیت ہوئی، پھر  تو وہ اور بھی مستعد ہوگئے۔ایک دن کہنے لگے، برادری کے ہیں، ریلوے کے سب سے بڑے ٹھیکیدار ہیں، ان کے دو لڑکے ڈاکٹر اور ایک لڑکا  فورین میں انجینئر ہے، لڑکی کی شادی ایک منسٹر کے یہاں ہوئی ہے۔اب اپن کو کسی سالے سے کوئی مطلب نہیں۔

عمارت اتنی تیزی سے بن رہی تھی کہ روز اس کا منظر بدل جاتا۔ٹھاکر صاحب ایک کرسی پر بیٹھے تیز نظروں سے کام دیکھتے رہتے۔کالونی والوں سے ان کی بول چال بہت کم ہوگئی تھی۔ان کے پاس فرصت ہی نہیں تھی۔صبح سات بجے سے  جو وہاں بیٹھتے تو دس بجے اٹھتے اور دفتر سے لوٹ کر آدھی رات تک وہیں بنے رہتے۔مزدوروں پر ناراض ہوتے تو ان کے چیخنے چلانے کی آواز میرے گھر تک پہنچتی۔کبھی کبھی بندوق لے جاتے تو مجھے اندیشہ ہوتا کہ کہیں جوش میں فائر نہ کربیٹھیں۔مگر ایسا نہیں ہوا۔عمارت بن گئی۔مزدور زندہ سلامت واپس لوٹ گئے۔

جلد ہی فرنیچر اور دوسرے سامانوں سے عمارت بھر دی گئی۔پھر ایک شام اچھی خاصی تقریب ہوئی۔بڑے بڑے لوگ آئے۔کالونی کی ساری سڑکیں اور گلیاں کاروں، سکوٹروں سے بھر گئیں۔ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت، صحت مند اور ایک سے ایک رعب دار اور سنجیدہ پروقار لوگ شامیانے میں  دکھائی دینے لگے۔کالونی والوں کو بھی بلایا گیا تھا۔ٹھاکر صاحب کالونی کے اکیلے خاص مہمان تھے۔وہ بندوق ٹانگ کر پہنچے۔دربان کے علاوہ صرف انہیں کے پاس بندوق تھی، اس لیے وہ الگ سے دکھائی دے رہے تھے۔ان کے چہرے کی چمک اور مونچھوں کی نوکیں دیکھتے ہی بنتی تھیں۔وہ شامیانے میں یہاں سے وہاں بھاگ دوڑ کررہے تھے۔ان کے چہرے پر میزبانوں کی سی  ہڑبڑاہٹ تھی۔وہ لوگوں سے کھانے پینے کی چیزوں کے لیے حد سے زیادہ اصرار کرتے اور اگر کوئی کچھ لے لیتا تو نہال ہوجاتے۔کالونی والوں کا انہوں نے خاص طور پر دھیان رکھا۔ کالونی کے مدعوئین کی فہرست  بنانے کی ذمہ داری چونکہ انہیں کو سونپی گئی تھی، اس لیے کوہلی  یا اس جیسے دوسرے کئی لوگ وہاں نہیں تھے۔کالونی کے وہی لوگ تھے جن سے ٹھاکر صاحب کو نفرت نہیں تھی اور ان کا دھیان رکھنے میں انہیں بڑکپن کا احساس ہورہا تھا۔عمارت کی جانب وہ ایسی تعریفی نظروں سے دیکھتے گویا اپنی پیٹھ آپ تھپتھپارہے ہوں۔میں سمجھتا ہوں، ٹھاکر صاحب کی زندگی کا وہ سب سے فخریہ دن تھا۔آخر کار وہ دن بھی ڈھل گیا۔دھیرے دھیرے لوگوں کا جانا شروع ہوا۔اور انت میں سسودیا جی کے نوکر اور ٹھاکر صاحب ہی بچے۔وہ شاید اس لیے رکے تھے کہ آخر میں خاندان کے لوگ ہی بچیں گے، تب آپسی باتیں اور ہنسی ٹھٹھا ہوگا۔مگر سسودیا جی کے پریوار والے یا تو کاروں میں بیٹھ کر کہیں گھومنے نکل گئے یا بھیتر چلے گئے۔ٹھاکر صاحب نے اب اپنے مکان کی طرف دیکھااور عجیب نظروں سے اسے دیکھتے  ہوئے اس میں گھس گئے۔

اس شام کے بعد عمارت کا بڑا گیٹ بند ہوگیا اور اس پر چوبیسوں گھنٹے ایک بندوق بردار دربار تعینات کردیا گیا۔کار آتی تو گیٹ کھلتا، کار جاتی تو کھلتا، باقی سمے بند رہتا۔ٹھاکر صاحب اپنے دروازے پر کھڑے ہوکر گیٹ کی طرف دیکھتے رہتے۔گیٹ تک جاتے اور دربان سے ہنس کر دو باتیں کرکے  لوٹ آتے۔مگر ان  کا دل نہ مانتا، وہ پھر پھر جاتے اور لوٹ آتے۔کبھی کار سے سسودیا جی نکلتے تو ٹھاکر صاحب بڑے ادب سے انہیں سلام ٹھونکتے اور سسودیا جی ذرا سی گردن ہلا کر نکل جاتے۔عمارت کے لان میں شام کو بچے اور جوان لڑکے لڑکیاں خوب ہنستے، بیڈ منٹن وغیرہ کھیلا جاتا۔ٹھاکر صاحب کی گردن کو نہ جانے کیا ہوگیا تھا کہ جب دیکھو تب اسی طرف کو مڑی رہتی۔وہ مجھ سے بات بھی کررہے ہوتے تب بھی بار بار اس طرف دیکھتے۔ان کے کمرے کی وہ کھڑکی پھٹی آنکھ کی طرح کھلی رہنے لگی جو پہلے بند رہتی تھی اور جس میں سے وہ عمارت دکھائی دیتی تھی۔ٹھاکر صاحب کو سب سے زیادہ تکلیف اس بات کی تھی کہ ان کا دشمن نمبر ایک کوہلی اکثر شام کو وہاں دکھائی دیتا۔کالونی کے دوسرے بڑے لوگوں کا بھی وہاں آنا جانا تھا۔ٹھاکر صاحب کی ہمت اندر گھسنے کی نہ ہوتی اور نہ انہیں کبھی بلایا ہی جاتا۔

وہ مجھ سے کبھی اس بارے میں بات نہ کرتے۔یعنی وہ گانٹھوں پر گانٹھیں لگاتے جارہے تھے۔اب ان کی آنکھوں کی  بغض بھری چمک اور بھی ابھر آتی ، ان کا چہرہ بے عزتی  کے ہتھوڑے سے کچلا ہوا سا معلوم ہوتا۔وہ بہت کم بولتے۔لوگوں سے ان کا لڑنا بھڑنا قریب قریب ختم ہی ہوگیا تھا۔ وہ ایسے لگتے جیسے کسی نے ان کا حق چھین لیا ہو اور حق چھین کر سامنے کھڑا  ہنس رہا ہو۔ کبھی میرے پاس آبیٹھتے تو معلوم ہوتا کہ کچھ بات کریں گے مگر تمتمایا ہوا سا چہرہ لیے  اپنے آپ میں گم رہتے، کنپٹیاں لال کرلیتے۔میں نے کئی بار سوچا، انہیں سمجھاؤں۔مگر سوچا، کیا سمجھاؤں۔ٹھاکر صاحب کی انا پرگہری ضرب پڑی ہے، ایسے میں انہیں کیا سمجھایا جاسکتا ہے۔اب تو دربان سے بھی ناراض ہیں۔اس کی طرف یا تو دیکھتے ہی نہیں  اور دیکھتے بھی ہیں تو اتنی نفرت اور غصے سے کہ اگر وہ سخت جان نہ ہو تو وہیں ڈھیر ہوجائے۔ٹھاکر صاحب کی پتنی میری پتنی سے پوچھتیں، انہیں ہوا کیا ہے؟ دن بھر غصے میں بھرے رہتے ہیں، جب دیکھو بچوں کو پیٹ ڈالتے ہیں۔

ایک دن میں اپنے باہر کے کمرے میں بیٹھا بچوں کو پڑھا رہا تھا کہ دھائیں دھائیں کی آواز آئی۔آواز اتنے پاس سے آئی تھی کہ بچے ہی نہیں، میں بھی ڈر گیا۔ڈر کر میں ایک دم کھڑا ہوگیا۔باہر احتیاط کے ساتھ  جھانک  کر دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ٹھاکر صاحب اپنے دروازے پر بندوق تانے کھڑے ہیں، سامنے گلی میں ایک بھاری بھرکم کتا پڑا ہے، سسودیا جی کا کتا۔کتے کی زنجیر چھوڑ کر بھاگا ہوا نوکر دربار کے پاس کھڑا زور زور سے چلا رہا ہے۔کتے کے بدن سے خون بہہ رہا ہے، وہ تڑپ رہا ہے اور عجیب سی آواز نکال رہا ہے۔ میں نے دروازہ بند کرلیا اور کھڑکی پر جا کھڑا ہوا۔ٹھاکر صاحب نے ایک گولی اور ماری۔کتے کی آواز بند ہوگئی۔

سسودیا جی کے بنگلے کا گیٹ کھلا اور ان کے کئی نوکر باہر آکھڑے ہوئے۔پھر بنگلے میں سے موٹی ادھیڑ عورت نکلی اور کتے کے پاس آکر کھڑی ہوگئی۔ٹھاکر صاحب اندر جاچکے تھے۔

عورت نے دکھ سے کتے کو دیکھا اور تڑپ کر بولی، اس آدمی کو ہتھکڑی لگواؤں گی۔وہ چلی گئی۔نوکر کتے کی لاش گھسیٹ لے گئے۔

اور سچ مچ آدھے گھنٹے کے اندر اندر پولیس کی چپ آپہنچی۔میں نے کھڑکی سے دیکھا کہ ٹھاکر صاحب ہتھکڑی باندھے اپنے گھر سے نکلے۔وہ جیپ  میں نہیں بٹھائے گئے، انہیں پیدل لے جایا گیا تاکہ لوگ انہیں اچھی طرح سے دیکھ سکیں۔

٠٠٠

 

ہندوستان میں جاتی کے مسئلے پر لکھی ہوئی کہانیوں میں جب بھی سب سے عمدہ کہانیوں کا انتخاب ہو، نوین ساگر کی اس کہانی کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ زمانہ بدلا، قانون اور ریاست کی شکل بدلی، زمینداری گئی، چھوا چھوت کو مٹانے کی کوششیں بھی ہوئیں، مگر یہ بیماری ہمارے سماج کی جڑوں میں اتنی گہری ہے کہ اس سے چھٹکارا پانا ممکن نہیں ہے، چاہے اس فخر کا عذاب جھیلتے جھیلتے اور بدلے ہوئے زمانے کی سچائی کو قبول  نہ کرنے کے زعم میں جرم کے راستے پر ہی کیوں نہ چلنا پڑے۔نوین ساگر نے اس مسئلے کو بڑی باریکی اور نازکی کے ساتھ چھوا ہے، اس میں ان کا مخصوص مزاحیہ تخلیقی عنصر بھی شامل ہے، جس نے کہانی میں موجود المناک واقعات کی تیزی کو اور کاٹ دار بنادیا ہے۔اس سے پہلے ‘اور اردو’ کی ویب سائٹ پر نوین ساگر کی ایک کہانی ‘مور’  کا ترجمہ بھی شائع کیا جاچکا ہے اور پڑھنے والوں نے اسے پسند کیا ہے، امید ہے یہ کہانی بھی دوستوں کو عمدہ  اور منفرد معلوم ہوگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Attention Required! | Cloudflare

Sorry, you have been blocked

You are unable to access wajibjp.cfd

Why have I been blocked?

This website is using a security service to protect itself from online attacks. The action you just performed triggered the security solution. There are several actions that could trigger this block including submitting a certain word or phrase, a SQL command or malformed data.

What can I do to resolve this?

You can email the site owner to let them know you were blocked. Please include what you were doing when this page came up and the Cloudflare Ray ID found at the bottom of this page.

news-1701

yakinjp

yakinjp

maujp

CUAN100

CUAN100

k1togel link alternatif

RAHWANATOGEL

RAHWANATOGEL

TOTOMACAU

article 10000486

article 10000487

article 10000488

article 10000489

article 10000490

article 10000491

article 10000492

article 10000493

article 10000494

article 10000495

article 10000496

article 10000497

article 10000498

article 10000499

article 10000500

article 10000501

article 10000502

article 10000503

article 10000504

article 10000505

article 10000506

article 10000507

article 10000508

article 10000509

article 10000510

article 10000511

article 10000512

article 10000513

article 10000514

article 10000515

article 10000516

article 10000517

article 10000518

article 10000519

article 10000520

article 10000521

article 10000522

article 10000523

article 10000524

article 10000525

article 10000526

article 10000527

article 10000528

article 10000529

article 10000530

article 10000531

article 10000532

article 10000533

article 10000534

article 10000535

article 10000536

article 10000537

article 10000538

article 10000539

article 10000540

article 10000541

article 10000542

article 10000543

article 10000544

article 10000545

mahjong 000106

mahjong 000107

mahjong 000108

mahjong 000109

mahjong 000110

mahjong 000111

mahjong 000112

mahjong 000113

mahjong 000114

mahjong 000115

mahjong 000116

mahjong 000117

mahjong 000118

mahjong 000119

mahjong 000120

mahjong 000121

mahjong 000122

mahjong 000123

mahjong 000124

mahjong 000125

mahjong 000126

mahjong 000127

mahjong 000128

mahjong 000129

mahjong 000130

mahjong 000131

mahjong 000132

mahjong 000133

mahjong 000134

mahjong 000135

mahjong 000136

mahjong 000137

mahjong 000138

mahjong 000139

mahjong 000140

mahjong 000141

mahjong 000142

mahjong 000143

mahjong 000144

mahjong 000145

mahjong 000146

mahjong 000147

mahjong 000148

mahjong 000149

mahjong 000150

mahjong 000151

mahjong 000152

mahjong 000153

mahjong 000154

mahjong 000155

mahjong 000156

mahjong 000157

mahjong 000158

mahjong 000159

mahjong 000160

mahjong 2990591

mahjong 2990592

mahjong 2990593

mahjong 2990594

mahjong 2990595

mahjong 2990596

mahjong 2990597

mahjong 2990598

mahjong 2990599

mahjong 2990600

mahjong 2990601

mahjong 2990602

mahjong 2990603

mahjong 2990604

mahjong 2990605

mahjong 2990606

mahjong 2990607

mahjong 2990608

mahjong 2990609

mahjong 2990610

mahjong 2990611

mahjong 2990612

mahjong 2990613

mahjong 2990614

mahjong 2990615

mahjong 2990616

mahjong 2990617

mahjong 2990618

mahjong 2990619

mahjong 2990620

mahjong 2990621

mahjong 2990622

mahjong 2990623

mahjong 2990624

mahjong 2990625

mahjong 2990626

mahjong 2990627

mahjong 2990628

mahjong 2990629

mahjong 2990630

article 2000521

article 2000522

article 2000523

article 2000524

article 2000525

article 2000526

article 2000527

article 2000528

article 2000529

article 2000530

article 2000531

article 2000532

article 2000533

article 2000534

article 2000535

article 2000536

article 2000537

article 2000538

article 2000539

article 2000540

article 2000541

article 2000542

article 2000543

article 2000544

article 2000545

article 2000546

article 2000547

article 2000548

article 2000549

article 2000550

article 2000551

article 2000552

article 2000553

article 2000554

article 2000555

article 2000556

article 2000557

article 2000558

article 2000559

article 2000560

article 7700331

article 7700332

article 7700333

article 7700334

article 7700335

article 7700336

article 7700337

article 7700338

article 7700339

article 7700340

article 7700341

article 7700342

article 7700343

article 7700344

article 7700345

article 7700346

article 7700347

article 7700348

article 7700349

article 7700350

article 7700351

article 7700352

article 7700353

article 7700354

article 7700355

article 7700356

article 7700357

article 7700358

article 7700359

article 7700360

article 7700361

article 7700362

article 7700363

article 7700364

article 7700365

article 7700366

article 7700367

article 7700368

article 7700369

article 7700370

article 7700371

article 7700372

article 7700373

article 7700374

article 7700375

article 7700376

article 7700377

article 7700378

article 7700379

article 7700380

article 7700381

article 7700382

article 7700383

article 7700384

article 7700385

article 7700386

article 7700387

article 7700388

article 7700389

article 7700390

article 7700391

article 7700392

article 7700393

article 7700394

article 7700395

article 7700396

article 7700397

article 7700398

article 7700399

article 7700400

article 238000561

article 238000562

article 238000563

article 238000564

article 238000565

article 238000566

article 238000567

article 238000568

article 238000569

article 238000570

article 238000571

article 238000572

article 238000573

article 238000574

article 238000575

article 238000576

article 238000577

article 238000578

article 238000579

article 238000580

article 238000581

article 238000582

article 238000583

article 238000584

article 238000585

article 238000586

article 238000587

article 238000588

article 238000589

article 238000590

mahjong 238000591

mahjong 238000592

mahjong 238000593

mahjong 238000594

mahjong 238000595

mahjong 238000596

mahjong 238000597

mahjong 238000598

mahjong 238000599

mahjong 238000600

mahjong 238000601

mahjong 238000602

mahjong 238000603

mahjong 238000604

mahjong 238000605

mahjong 238000606

mahjong 238000607

mahjong 238000608

mahjong 238000609

mahjong 238000610

mahjong 238000611

mahjong 238000612

mahjong 238000613

mahjong 238000614

mahjong 238000615

mahjong 238000616

mahjong 238000617

mahjong 238000618

mahjong 238000619

mahjong 238000620

mahjong 9998000686

mahjong 9998000687

mahjong 9998000688

mahjong 9998000689

mahjong 9998000690

mahjong 9998000691

mahjong 9998000692

mahjong 9998000693

mahjong 9998000694

mahjong 9998000695

mahjong 9998000696

mahjong 9998000697

mahjong 9998000698

mahjong 9998000699

mahjong 9998000700

mahjong 9998000701

mahjong 9998000702

mahjong 9998000703

mahjong 9998000704

mahjong 9998000705

mahjong 9998000706

mahjong 9998000707

mahjong 9998000708

mahjong 9998000709

mahjong 9998000710

mahjong 9998000711

mahjong 9998000712

mahjong 9998000713

mahjong 9998000714

mahjong 9998000715

mahjong 9998000716

mahjong 9998000717

mahjong 9998000718

mahjong 9998000719

mahjong 9998000720

mahjong 9998000721

mahjong 9998000722

mahjong 9998000723

mahjong 9998000724

mahjong 9998000725

mahjong 838000773

mahjong 838000774

mahjong 838000775

mahjong 838000776

mahjong 838000777

mahjong 838000778

mahjong 838000779

mahjong 838000780

mahjong 838000781

mahjong 838000782

mahjong 838000783

mahjong 838000784

mahjong 838000785

mahjong 838000786

mahjong 838000787

mahjong 838000788

mahjong 838000789

mahjong 838000790

mahjong 838000791

mahjong 838000792

mahjong 838000793

mahjong 838000794

mahjong 838000795

mahjong 838000796

mahjong 838000797

mahjong 838000798

mahjong 838000799

mahjong 838000800

mahjong 838000801

mahjong 838000802

news-1701
news-1701

yakinjp

yakinjp

rtp yakinjp

yakinjp

yakinjp

yakin jp

yakinjp id

maujp

maujp

maujp

sabung ayam online

sabung ayam online

SLOT MAHJONG

sabung ayam online

article 838000638

article 838000639

article 838000640

article 838000641

article 838000642

article 838000643

article 838000644

article 838000645

article 838000646

article 838000647

article 838000648

article 838000649

article 838000650

article 838000651

article 838000652

article 838000653

article 838000654

article 838000655

article 838000656

article 838000657

article 838000658

article 838000659

article 838000660

article 838000661

article 838000662

article 838000663

article 838000664

article 838000665

article 838000666

article 838000667

article 838000668

article 838000669

article 838000670

article 838000671

article 838000672

article 838000673

article 838000674

article 838000675

article 838000676

article 838000677

article 838000678

article 838000679

article 838000680

article 838000681

article 838000682

article 838000683

article 838000684

article 838000685

article 838000686

article 838000687

article 838000688

article 838000689

article 838000690

article 838000691

article 838000692

article 838000693

article 838000694

article 838000695

article 838000696

article 838000697

article 238000456

article 238000457

article 238000458

article 238000459

article 238000460

article 238000461

article 238000462

article 238000463

article 238000464

article 238000465

article 238000466

article 238000467

article 238000468

article 238000469

article 238000470

article 238000471

article 238000472

article 238000473

article 238000474

article 238000475

article 238000476

article 238000477

article 238000478

article 238000479

article 238000480

article 238000481

article 238000482

article 238000483

article 238000484

article 238000485

article 238000486

article 238000487

article 238000488

article 238000489

article 238000490

article 238000491

article 238000492

article 238000493

article 238000494

article 238000495

article 238000496

article 238000497

article 238000498

article 238000499

article 238000500

article 238000501

article 238000502

article 238000503

article 238000504

article 238000505

article 238000506

article 238000507

article 238000508

article 238000509

article 238000510

article 238000511

article 238000512

article 238000513

article 238000514

article 238000515

article 7700246

article 7700247

article 7700248

article 7700249

article 7700250

article 7700251

article 7700252

article 7700253

article 7700254

article 7700255

article 7700256

article 7700257

article 7700258

article 7700259

article 7700260

article 7700261

article 7700262

article 7700263

article 7700264

article 7700265

article 7700266

article 7700267

article 7700268

article 7700269

article 7700270

article 7700271

article 7700272

article 7700273

article 7700274

article 7700275

article 7700276

article 7700277

article 7700278

article 7700279

article 7700280

article 7700281

article 7700282

article 7700283

article 7700284

article 7700285

article 2000431

article 2000432

article 2000433

article 2000434

article 2000435

article 2000436

article 2000437

article 2000438

article 2000439

article 2000440

article 2000441

article 2000442

article 2000443

article 2000444

article 2000445

article 2000446

article 2000447

article 2000448

article 2000449

article 2000450

article 2000451

article 2000452

article 2000453

article 2000454

article 2000455

article 2000456

article 2000457

article 2000458

article 2000459

article 2000460

article 2000461

article 2000462

article 2000463

article 2000464

article 2000465

article 2000466

article 2000467

article 2000468

article 2000469

article 2000470

article 2000471

article 2000472

article 2000473

article 2000474

article 2000475

article 2000476

article 2000477

article 2000478

article 2000479

article 2000480

article 2000481

article 2000482

article 2000483

article 2000484

article 2000485

article 2000486

article 2000487

article 2000488

article 2000489

article 2000490

article 2990581

article 2990582

article 2990583

article 2990584

article 2990585

article 2990586

article 2990587

article 2990588

article 2990589

article 2990590

article 2990591

article 2990592

article 2990593

article 2990594

article 2990595

article 2990596

article 2990597

article 2990598

article 2990599

article 2990600

article 2990601

article 2990602

article 2990603

article 2990604

article 2990605

article 2990606

article 2990607

article 2990608

article 2990609

article 2990610

article 2990611

article 2990612

article 2990613

article 2990614

article 2990615

article 2990616

article 2990617

article 2990618

article 2990619

article 2990620

article 10000416

article 10000417

article 10000418

article 10000419

article 10000420

article 10000421

article 10000422

article 10000423

article 10000424

article 10000425

article 10000426

article 10000427

article 10000428

article 10000429

article 10000430

article 10000431

article 10000432

article 10000433

article 10000434

article 10000435

article 10000436

article 10000437

article 10000438

article 10000439

article 10000440

article 10000441

article 10000442

article 10000443

article 10000444

article 10000445

article 10000446

article 10000447

article 10000448

article 10000449

article 10000450

news-1701