کاتِک کا پہلا پھول

کمرے میں خاموشی کی سرگوشیاں  سی ہورہی تھیں۔سرگوشیوں میں خوابوں کی چھٹپٹاہٹ تھی ، یادوں کی بچی ہوئی کرچیاں تھیں۔

بڑھاپا عمر کا ریسٹ ہاؤس تھا۔اوجھا جی کو لگتا تھا کہ زندگی دھاگے کی ایک ریل ہے۔جس دن پوری ادھڑ جائے گی اسی دن ختم ہوجائے گی۔گھڑی ٹک ٹک کی رفتار سے بڑھے جارہی تھی۔کھڑکی سے سورج کا ایک نرم گرم ٹکڑا  کمرے میں اتر کر پھیل گیا تھا۔باہر ہلکی ہوا کے ساتھ دھول بھی تھی۔کاتِک کی خوشگوار صبح اب دوپہر کی طرف بڑھ رہی تھی۔ اوجھا جی کی ہتھیلیوں کی سوجی ہوئی نسوں میں، جھکی جھکی سی پیٹھ میں، چھاتی اور گھٹنوں کی پیچھے جھولتی چمڑی میں زندگی نے باقاعدہ عمر کے نوے دستخط ثبت کیے تھے۔انہوں نے بالش کے نیچے سے سٹیل کی ایک ننھی ڈبیا نکالی۔

کھینی دھیرے دھیرے رگڑ کر  نچلے ہونٹ کے پیچھے دبا لینے پر وہ مزہ نہیں دیتی تھی، جو بائیں ہتھیلی پر  رکھ کر اسے کس کس کر دوسری ہتھیلی سے پیٹنے کے بعد انگوٹھے سے خوب رگڑ کر ہونٹ میں داب لینے پر آتا تھا۔ روزبروز لگاتار کھینی بنانے کے کارن ہتھیلی کے  عین درمیان ایک کالا مٹ میلا نشان سا بن گیا تھا۔کھینی بناتے ہوئے اکثر ہی اوجھا جی بیتے ہوئے ریزگاری جیسے معمولی دنوں کی جگالی کرنے لگتے تھے۔

زندگی اُن چھُٹّے دنوں کی روٹیاں  کترتی معلوم ہوتی تھی۔یہ روٹیاں خواہشوں کی تھیں۔یاد یں  پتھر کی طرح سینے پر لدی رہتی تھیں۔اوجھا جی نے ان پتھروں کو توڑ تاڑ کر انہیں مٹی کردیا تھا۔اس مٹی میں ڈھیرسارے پودے لگائے تھے۔دروازے پر گلابی پھولوں سے لدی بوگنویلیا کی گھنی بیلیں پھیلی تھیں۔پھر ایک قطار سے گلاب اور چمبیلی کے پودے تھے۔کچھ اور آگے بڑھنے پر دائرے کی شکل  میں گیندے کے پودے لگائے  گئے تھے اور ان کے پاس ہی ہرسنگھار اور امرود کے گملے سجے تھے۔ایک دم آخر میں گڑھُل کا ایک پودا موجود تھا۔ یہ پوا وہ اپنی ناسِک والی بیٹی کے یہاں سے لائے تھے۔پودے فقط پھل پھولوں کے نہیں تھے۔ کچھ جنگلی پودوں کی پتیاں اور ڈالیں اس خوبصورتی سے چھانٹی گئی تھیں کہ ان کے سبب اس ننھے سے آنگن کی خوبصورتی کئی گنا  بڑھ گئی تھی۔ یہ سب کوئی نئی بات نہیں تھی۔

پارس ناتھ میں ریلوے کی اوپن لائن میں جب اوجھا جی تھے، تب بھی ان کے کوارئٹر کا دو ہاتھ بھر کا باغیچہ خوبصورت پھول پودوں سے سجا رہا کرتا تھا۔ایک بار تو جنرل مینجر نے انہیں سو روپے کا  انعام بھی دیا تھا۔ اوجھا جی کو اپنے پودے پر بہت فخر تھا۔ان پر ٹھہرنے والی ایک تعریفی نظر اوجھا جی  کے روئیں روئیں کو سرشار کردیتی تھی۔

کھینی کھاکر وہ اٹھے۔ جنیوو کو آہستہ آہستہ پیٹھ پر رگڑتے ہوئے آنگن میں آئے۔ ایک پودے کے پاس ٹھہرے۔رات بھر جھڑے اور سوکھے ہرسنگھار اور بھوری پتیوں کو انہوں نے صبح سے ہی چن کر صاف کردیا تھا۔ مٹی میں کافی نمی تھی۔گڑھُل کے علاوہ دیگر کسی پودے پر پھول یا کلی نہیں آئی تھی۔ جس انہماک سے مصور کینوس پر رنگ بھرتا ہوگا، جس ممتا سے ماں اپنے بچے کو دودھ پلاتی ہوگی، اوجھا جی اسی موہ ، ممتا اور محبت سے مٹی کی  نِرائی گُڑائی کیا کرتے تھے۔پودوں میں پانی دیا کرتے۔ان کی دھوتی مٹی میں لتھڑ جاتی۔ناخنوں میں جمی مٹی چبھنے لگتی تھی۔ مگر پودوں سے ان کا موہ بڑھتا ہی جارہا تھا۔ایک ایک پتہ، بوٹا بوٹا ان کے لمس کو جیسے پہچانتا تھا۔ماں کا سب سے کمزور بچہ ماں کی سب سے زیادہ ممتا پاتا ہے۔گڑھُل کا یہ پودا اوجھا جی کی ایسی ہی کمزور اولاد تھا۔اب تک کبھی اس  پر ایک بھی پھول پنپ نہیں سکا تھا۔پتے چکنے چمکیلے اور خوبصورت تھے۔ٹہنیاں بھی سڈول تھیں۔ اوجھا جی اکثر پودے کی چھنٹائی کیا کرتے تھے۔سمے سے کھاد پانی سب دیتے۔اس کی چکنی پتیوں کو پیار سے سہلاتے۔ان کی نسوں میں بہتا ہوا پریم اور جیون جیسے قطروں کی راہ ہوتا ہوا پودوں میں سماتا چلا جاتا۔وہ اس پودے کو کئی منٹوں تک نہارتے  رہتے۔اور دو دن پہلے ہی اوجھا جی نے اس پر گنگناتی ہوئی ننھی کلی دیکھی تھی۔کلی کسی بھی وقت کھل اٹھنے کی حالت میں تھی۔اوجھا  جی  نے آہستہ سے کلی کو چھوا۔مسکرائے اور نہانے کے لیے سیمنٹ کے بنے اونچے فرش پر آگئے۔ بورنگ کی ہتھی چلاتے وقت پیر کی نسیں تڑ تڑ کرتی معلوم ہوتی تھیں۔پورا بدن چٹختا تھا۔ بوڑھا آدمی جسم کی طاقت سے نہیں، ہمت سے چلتا ہے۔ ہمت ہی تھی ، جو ماننے نہیں دیتی تھی کہ ان کا جسم تھک رہا ہے۔حالانکہ وہ سب سے خود کہا کرتے تھے۔’بڑی عمر گئِل با ہمار!'(اب ہماری بہت عمر ہوگئی ہے۔)

مگر یہی ہمت تب چوکنے لگتی جب بخار سر پر چڑھنے لگتا یا پیٹ پریشان کرنے پر آمادہ ہوجاتا۔اوجھا جی اکثر ہی کہا کرتے، ‘جان کو جسم سے بہت لگاؤ ہوتا ہے۔جان جلدی جسم چھوڑنا نہیں چاہتی، مگر جسم تو ادھ موا ہو ہی جاتا ہے۔اسی موہ کے کارن موت کے سمے آدمی کو تکلیف ہوتی ہے۔’

جب تب یہی موہ انہیں باندھنے لگتا۔چھوٹی ہوئی چیزوں اور لوگوں کا موہ۔دوست، رشتہ دار، ساتھی ، پتنی۔اور پودوں کا موہ تو تھا ہی۔اس موہ کا کوئی مطلب ہے کیا؟ چھوٹی ہوئی چیزیں اور لوگ پاس نہیں تھے۔اور جو نہیں چھوٹے تھے وہ بھی آخر کتنی دیر پاس ہیں، اس کا کیا کوئی ٹھکانا ہے؟

‘نمامیش  میشان نِروان روپم’ کا پاٹھ ایک عرصے سے چھوٹا ہوا تھا۔چھوٹا سا شیو لنگ کونے  میں دھکیل دیا گیا تھا۔ان پر اب بیل پتر نہیں چڑھا کرتا تھا۔کمرے میں کاٹھ کا ایک کالا بکسا تھا۔بکسے میں ڈھیر ساری پرانی کتابیں اور رسالے تھے۔بانوے، ترانوے تک  کے ‘کادمبنی ‘ کے شمارے تھے۔کبھی بہت چاؤ سے انہوں نے یہ کتابیں خریدی تھیں۔ان پر دُلار سے اخبار کی جلد مڑھی تھی۔اب تو اس طرف دیکھنے تک کا من نہیں کرتا۔بکسے میں دھول اٹی پڑی تھی۔اوجھا جی کپڑوں سے دھول جھاڑ کر کتابیں سجا رہے تھے۔بہو کھانا لے کر آئی تھی۔’بابو جی کھانا۔’

‘رکھ دو۔’

اوجھا جی پہلے کی طرح کتابیں سجاتے رہے۔بہو کھانا پانی رکھ کر چلی گئی۔کتابیں رکھ کر انہوں نے بکسا بند کردیا۔ سامنے کھانے کی تھالی تھی۔ کھانا دیکھ کر انہیں پتنی بے طرح یاد آتی تھی۔پتنی کو ان دنوں  نام سے پکارنے کا رواج نہیں تھا۔

‘سن تاروُ ہو(سنتی ہو)۔۔۔’کہہ کر ہی کام چلا لیا جاتا تھا۔پتنی خاموشی سے ہی آگے پیچھے ڈولتی رہتی تھیں۔ ان کے آسن پر بیٹھ  جانے کے بعد ہی تھالی میں گرم کھانا پروستیں۔اوجھا جی  جتنی  دیر کھاتے وہ  پنکھا جھلتی جاتی تھیں۔انہیں سبزی تیکھی چاہیے ہوتی تو تیکھی ہی ملتی۔میٹھا کھانے کا من ہوتا تو  میٹھا حاضر ہوجاتا تھا۔اوجھا جی کام میں مصروف رہتے۔پتنی بار بار پہلے کھانا کھالینے پر اصرار کرتیں۔وہ سنی ان سنی کردیتے۔کافی وقت بعد کام سے فارغ ہوتے، اس کے باوجود کھانا ہمیشہ گرم ہی ملتا۔

اس روز بارش ہوری تھی۔باغیچے کے ہر پودے تک پانی جانے کے لیے وہ راستہ بنارہے تھے کہ پتنی پکوڑے لے کر برآمدے میں حاضر ہوگئیں۔پتنی بار بار پہلے گرم گرم پکوڑے کھالینے کی ضد کررہی تھیں۔انہوں نے بری طرح جھڑک دیا۔’ہر سمے کیا کھالیجیے، کھالیجیے کی رٹ لگائے رہتی ہو؟ دیکھتی نہیں کام نمٹا رہا ہوں۔ تمہیں تو بس اپنے پکوڑوں کی  پڑی ہے۔’

پتنی شاید اندر تک سہم گئی تھیں۔دھیرے سے بولی تھیں۔’جب ہم نا رہب نا تب بجھائی تہارا۔'(جب ہم نہیں رہیں گے نا، تب معلوم ہوگا تمہیں۔)

دوپہر کسی اداس پرانی دھن کی طرح سر  چڑھ رہی تھی۔ کھانے پر مکھی بھنبھنانے لگی۔ اوجھا جی نے ہتھیلی ہلاکر مکھی بھگا دی۔دیوار کے کونوں پر مکڑی کے جالے لٹک آئے تھے۔ کھڑکی پر بیٹھا کبوتر پنکھ پھڑپھڑاتا ہوا اڑگیا۔

سویرے اٹھ کر اوجھا جی پودوں کو ‘صبح مبارک’ کہنے آئے تو گڑھُل پر ایک ننھا پھول کھل چکا تھا۔اجلے پھول کی پنکھڑیوں کے نچلے سروں پر کتھئی رنگ کے دھبے تھے۔پورے باغیچے میں موسم کا پہلا پھول شرمایا شرمایا سا مسکرارہا تھا۔ارہر کی جھاڑو سے آنگن بُہارتے ہوئے کئی دفعہ نظر ادھر ہی کو اٹھ جاتی۔جیسے کتھئی سیاہی میں انگلی بھگو کر اجلے پھول پر چھڑک دی گئی ہو۔یہ جس کی بھی کلاکاری تھی، بڑی خوبصورت تھی۔دن پھول کے ارد گرد، اس سے ہی سرابور ہوتے ہوئے گزرا۔کاتِک کی نارنجی شام اب بھاگنے لگی تھی۔ ہوا  میں کہرا سا تھا۔ایک پوتا اوجھا جی کے پاس ہی بیٹھا موبائل چلا رہا تھا۔بچوں کو موبائل چلاتے دیکھ کر اوجھا جی کو جیسے کچھ ہونے لگتا تھا۔کوئی الجھن  کا سا احساس۔

‘کا ٹیپ ٹاپ کررہے ہو؟’

‘کچھ نہیں۔’پوتے نے موبائل میں گردن ڈالے ڈالے کہا۔

کسی کا بھی اپنے آس پاس بیٹھنا اوجھا جی کو  کچھ جوشیلا سا بنا دیتا تھا۔گزرے دنوں کی  پرشور جگالی کرنے کے لیے دل  زور مارنے لگتا۔مگر اب یادیں، سوچیں، تصورات اور خواب آپس میں اس قدر گڈ مڈ ہوگئے تھے کہ ایک  ایک سوت کو الگ کرپانا ناممکن لگتا تھا۔کچھ بھی کہنے سے پہلے من ہی من جیسے کوئی تیاری چلتی تھی۔سوچے ہوئے اور بولے کا فرق معدوم سا ہوتا ہوا نظر آتا۔کئی بار کچھ باتیں اوجھا جی دل میں اتنی بار دوہرا لیتے کہ انہیں ایسا لگتا کہ وہ اسے دوسروں کو کئی دفعہ سنا چکے ہیں۔کئی بار اس کے برعکس بھی ہوتا تھا کہ دوسروں سے کی ہوئی باتیں بھی دل میں دوہرائی ہوئی سی معلوم ہوتی تھیں۔دن بھر کمرے میں اوجھا جی کی سانس کے الاؤکی آواز بس چوہوں کی بھاگ دوڑ جیسے شور کی مانند لگتی تھی۔ایسے میں بولتا ہوا ٹی وی بھی بے جان لگتا تھا۔ اوجھا جی نے کھنکھار کر کچھ جملے اچھالنا شروع کیا تھا۔پوتے نے بیزار لہجے میں کہا۔’سنائی ہوئی کہانی کتنی بار سنائیں گے بابا؟’

اوجھا جی کے پاس آگے کہنے کے لیے کچھ نہیں بچتا تھا۔

دنیا کے ہر آدمی کے پاس ایک  ترشول ہوا کرتا ہے، تیکھا اور نوکیلاترشول۔اوجھا جی کے  اندر بھی کوئی ترشول موجود تھا۔ اوجھا جی اپنے اندر کے ترشول کو لگاتار گھستے رہتے تھے کہ وہ ملائم، نرم اور ریشمی بنا رہے تاکہ جب بھی کسی سے ان کا یہ ترشول ٹکرائے تو سامنے والے کو کم سے کم چوٹ پہنچے۔لیکن دنیا کے پاس نہ تو اتنا صبر ہوتا تھا نہ وقت۔۔۔اس لیے اوجھا جی سے ٹکرانے والے دنیا کے ہر ترشول کی چوٹ بہت کاری ہوتی تھی۔

یادوں کی ریت جدھر جی چاہے پھسل جایا کرتی تھی۔ پانچ بیٹیوں میں جب سب سے بڑی سیانی ہوئی تو اوجھا جی نے منجھلے بھائی سے بر ڈھونڈنے میں مدد مانگی۔بھائی شام کی بتی میں گھی ڈالتے ہوئے بولے تھے،’سیٹھ ٹوڈرمل کہتا ہے کہ بھائی بیٹی اپنے دم پر پالتا ہے کہ بھائی کے دم پر؟’

اوجھا جی چپ ہوگئے۔دھیرے دھیرے ساری بیٹیاں اپنے اپنے گھر کی ہوگئی تھیں۔چھٹیوں میں ان سے ملنے آتیں۔دلار جتایا جاتا۔ شکایتیں درج ہوتیں۔

‘آپ چھوٹی کو زیادہ چاہتے ہیں۔’

‘آپ بڑی کو زیادہ مانتے ہیں۔’

شبد کی کئی تہیں تھیں۔ایک شبد سے کئی معنی سادھے جاسکتے تھے۔اوجھا جی  یہ مانتے مانتے تھک سے گئے تھے۔

ہوا میں خنکی بڑھ رہی تھی۔سوتی شال بدن پر ڈھیلی پڑ گئی تھی۔ اندھیرا گاڑا تھا۔ اوجھا جی لالٹین جلانے کمرے میں جانے لگے۔ آنگن کے کونے میں گڑھُل مسکرا رہا تھا۔اوجھا جی اس کے پاس گئے۔اس کی پنکھڑیوں کا موتی سا اُجلا پن چمک رہا تھا۔اوجھا جی دھیمے سے بولے۔’تمہارے پاس تو کوئی ترشول نہیں ہے؟’

کاتِک کے ایک ہلکے جھونکے سے پھول کانپ اٹھا۔

صبح اوجھا جی سب سے پہلے ہرسنگھار کے پاس گئے۔اس کے پھول چن کر اوجھا جی پھینکتے نہیں تھے۔انہوں نے سارے پھول پیڑ کی جڑوں کے چاروں طرف گول گھیرے میں رکھ دیے۔کیاریوں کی اینٹیں ٹیڑھی میڑھی ہوگئی تھیں۔اینٹیں سیدھی کرتے ہوئے اوجھا جی کی نظر اچانک گڑھُل پر پڑگئی ۔ڈال سونی تھی۔اوجھا جی کا دل دھک سے ہوگیا۔کس نے کیا یہ؟ انہوں نے بہو کو آواز لگائی۔۔۔

‘یہ گڑھُل کا پھول کس نے توڑا؟’

‘آج ایکادشی ہے تو پوجا کے لیے میں نے ہی توڑ لیا۔’ بہو دھیرے سے بولی۔اوجھا  جی کا دل روہانسا ہوگیا۔وہ خاموش بیٹھے کیاری کی اینٹیں ٹھیک کرنے لگے۔بوگنویلیا کی شاخوں کے پاس چھت پر کبوتر تھا۔ کبوتر ٹُکر ٹُکر اوجھا جی کو دیکھ رہا تھا۔ گڑھُل کی وہ سونی ڈال کاتِک کے جھونکے سے اب بھی جھوم رہی تھی۔

٠٠٠

 

اب ایسی کہانیاں بہت کم لکھی جاتی ہیں، جن میں زندگی کے معمولی اداس تجربوں کو اتنی خوبصورتی سے قید کردیا جائے، جیسا کہ اس کہانی میں کیا گیا ہے۔اُپاسنا کی یہ مختصر سی کہانی ، ایک بوڑھے آدمی  اور زندگی کے درمیان شرارت بھری رسہ کشی کا ایک عمدہ قصہ ہے۔اس قصے کی سب سے خوبصورت بات، اس  پر چھڑکی گئی وہ افشاں ہے، جسے مرنے سے کچھ پہلے ایک آدمی کی زندگی کے نہایت بور لمحے مان کر محض یوں ہی نظر انداز کردیا جاتا ہے۔کتنی معمولی اور چھوٹی باتوں سے اس کی خوشی اور غم ، یادیں اور خواب، خوشیاں اور پچھتاوے وابستہ ہوتے ہیں، اس کہانی میں اُپاسنا نے انہیں بہت اچھی طرح پرویا ہے۔میں ان کے انداز نگارش اور علاقائی زبان  کی جڑوں سے ان کے  گہرےتعلق کو بہت اہم چیز مانتا ہوں۔ایسی کہانیاں جب بھی نظر سے ٹکراتی ہیں، زندگی  ایک ہی پل میں کتنی بے معنی مگر پرلطف دکھائی دینے لگتی ہے۔

اُپاسنا کا جنم 8 اکتوبر ، 1984 کو چترنجن ، مغربی بنگال میں ہوا۔ہندی ادب اور تدریس میں ایم اے، بی ایڈ کے ساتھ انہوں نے پینٹنگ میں ڈپلومہ بھی حاصل کیا ہے۔کچھ برسوں تک وہ سکول میں پڑھاتی بھی رہی ہیں۔بچوں کے لیے بھی انہوں نے عمدہ ادب لکھا ہے۔ان کی مطبوعہ کتابوں میں ‘ایک زندگی۔۔۔ایک سکرپٹ بھر!’ اور’دریا بندر کوٹ’ نام کے دو افسانوی مجموعے، ‘ڈیسک پر لکھے نام  کے عنوان سے بچوں کے لیے لکھا گیا ایک ناول اور’ بینگن نہیں آئے’ کے نام سے بچوں کے لیے ہی ایک ڈراما شامل ہیں۔بچوں کے لیے لکھی گئی ان کی تحریروں کا مراٹھی میں ترجمہ بھی ہوچکا ہے۔انہیں  اپنی کہانیوں کے سبب ‘بھارتیہ گیان پیٹھ نولیکھن ایوارڈ’،’ونمالی وششٹ کتھا سمان’ اور ‘وجے موہن سنگھ کتھا سمان’ سے نوازا جاچکا ہے۔ہندی میں ان کی طویل کہانی ‘ایک زندگی ۔۔۔ایک سکرپٹ بھر’ نے نئی معاصر فکشن نگاری میں ان کے نام کو مستحکم کیا ہے۔یہ کہانی ہندی کے صف اول کے رسالے ‘تَدبھَو’ میں شائع کی گئی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Attention Required! | Cloudflare

Sorry, you have been blocked

You are unable to access wajibjp.cfd

Why have I been blocked?

This website is using a security service to protect itself from online attacks. The action you just performed triggered the security solution. There are several actions that could trigger this block including submitting a certain word or phrase, a SQL command or malformed data.

What can I do to resolve this?

You can email the site owner to let them know you were blocked. Please include what you were doing when this page came up and the Cloudflare Ray ID found at the bottom of this page.

news-1701

yakinjp

yakinjp

maujp

CUAN100

CUAN100

k1togel link alternatif

RAHWANATOGEL

RAHWANATOGEL

TOTOMACAU

article 10000486

article 10000487

article 10000488

article 10000489

article 10000490

article 10000491

article 10000492

article 10000493

article 10000494

article 10000495

article 10000496

article 10000497

article 10000498

article 10000499

article 10000500

article 10000501

article 10000502

article 10000503

article 10000504

article 10000505

article 10000506

article 10000507

article 10000508

article 10000509

article 10000510

article 10000511

article 10000512

article 10000513

article 10000514

article 10000515

article 10000516

article 10000517

article 10000518

article 10000519

article 10000520

article 10000521

article 10000522

article 10000523

article 10000524

article 10000525

article 10000526

article 10000527

article 10000528

article 10000529

article 10000530

article 10000531

article 10000532

article 10000533

article 10000534

article 10000535

article 10000536

article 10000537

article 10000538

article 10000539

article 10000540

article 10000541

article 10000542

article 10000543

article 10000544

article 10000545

mahjong 000106

mahjong 000107

mahjong 000108

mahjong 000109

mahjong 000110

mahjong 000111

mahjong 000112

mahjong 000113

mahjong 000114

mahjong 000115

mahjong 000116

mahjong 000117

mahjong 000118

mahjong 000119

mahjong 000120

mahjong 000121

mahjong 000122

mahjong 000123

mahjong 000124

mahjong 000125

mahjong 000126

mahjong 000127

mahjong 000128

mahjong 000129

mahjong 000130

mahjong 000131

mahjong 000132

mahjong 000133

mahjong 000134

mahjong 000135

mahjong 000136

mahjong 000137

mahjong 000138

mahjong 000139

mahjong 000140

mahjong 000141

mahjong 000142

mahjong 000143

mahjong 000144

mahjong 000145

mahjong 000146

mahjong 000147

mahjong 000148

mahjong 000149

mahjong 000150

mahjong 000151

mahjong 000152

mahjong 000153

mahjong 000154

mahjong 000155

mahjong 000156

mahjong 000157

mahjong 000158

mahjong 000159

mahjong 000160

mahjong 2990591

mahjong 2990592

mahjong 2990593

mahjong 2990594

mahjong 2990595

mahjong 2990596

mahjong 2990597

mahjong 2990598

mahjong 2990599

mahjong 2990600

mahjong 2990601

mahjong 2990602

mahjong 2990603

mahjong 2990604

mahjong 2990605

mahjong 2990606

mahjong 2990607

mahjong 2990608

mahjong 2990609

mahjong 2990610

mahjong 2990611

mahjong 2990612

mahjong 2990613

mahjong 2990614

mahjong 2990615

mahjong 2990616

mahjong 2990617

mahjong 2990618

mahjong 2990619

mahjong 2990620

mahjong 2990621

mahjong 2990622

mahjong 2990623

mahjong 2990624

mahjong 2990625

mahjong 2990626

mahjong 2990627

mahjong 2990628

mahjong 2990629

mahjong 2990630

article 2000521

article 2000522

article 2000523

article 2000524

article 2000525

article 2000526

article 2000527

article 2000528

article 2000529

article 2000530

article 2000531

article 2000532

article 2000533

article 2000534

article 2000535

article 2000536

article 2000537

article 2000538

article 2000539

article 2000540

article 2000541

article 2000542

article 2000543

article 2000544

article 2000545

article 2000546

article 2000547

article 2000548

article 2000549

article 2000550

article 2000551

article 2000552

article 2000553

article 2000554

article 2000555

article 2000556

article 2000557

article 2000558

article 2000559

article 2000560

article 7700331

article 7700332

article 7700333

article 7700334

article 7700335

article 7700336

article 7700337

article 7700338

article 7700339

article 7700340

article 7700341

article 7700342

article 7700343

article 7700344

article 7700345

article 7700346

article 7700347

article 7700348

article 7700349

article 7700350

article 7700351

article 7700352

article 7700353

article 7700354

article 7700355

article 7700356

article 7700357

article 7700358

article 7700359

article 7700360

article 7700361

article 7700362

article 7700363

article 7700364

article 7700365

article 7700366

article 7700367

article 7700368

article 7700369

article 7700370

article 7700371

article 7700372

article 7700373

article 7700374

article 7700375

article 7700376

article 7700377

article 7700378

article 7700379

article 7700380

article 7700381

article 7700382

article 7700383

article 7700384

article 7700385

article 7700386

article 7700387

article 7700388

article 7700389

article 7700390

article 7700391

article 7700392

article 7700393

article 7700394

article 7700395

article 7700396

article 7700397

article 7700398

article 7700399

article 7700400

article 238000561

article 238000562

article 238000563

article 238000564

article 238000565

article 238000566

article 238000567

article 238000568

article 238000569

article 238000570

article 238000571

article 238000572

article 238000573

article 238000574

article 238000575

article 238000576

article 238000577

article 238000578

article 238000579

article 238000580

article 238000581

article 238000582

article 238000583

article 238000584

article 238000585

article 238000586

article 238000587

article 238000588

article 238000589

article 238000590

mahjong 238000591

mahjong 238000592

mahjong 238000593

mahjong 238000594

mahjong 238000595

mahjong 238000596

mahjong 238000597

mahjong 238000598

mahjong 238000599

mahjong 238000600

mahjong 238000601

mahjong 238000602

mahjong 238000603

mahjong 238000604

mahjong 238000605

mahjong 238000606

mahjong 238000607

mahjong 238000608

mahjong 238000609

mahjong 238000610

mahjong 238000611

mahjong 238000612

mahjong 238000613

mahjong 238000614

mahjong 238000615

mahjong 238000616

mahjong 238000617

mahjong 238000618

mahjong 238000619

mahjong 238000620

mahjong 9998000686

mahjong 9998000687

mahjong 9998000688

mahjong 9998000689

mahjong 9998000690

mahjong 9998000691

mahjong 9998000692

mahjong 9998000693

mahjong 9998000694

mahjong 9998000695

mahjong 9998000696

mahjong 9998000697

mahjong 9998000698

mahjong 9998000699

mahjong 9998000700

mahjong 9998000701

mahjong 9998000702

mahjong 9998000703

mahjong 9998000704

mahjong 9998000705

mahjong 9998000706

mahjong 9998000707

mahjong 9998000708

mahjong 9998000709

mahjong 9998000710

mahjong 9998000711

mahjong 9998000712

mahjong 9998000713

mahjong 9998000714

mahjong 9998000715

mahjong 9998000716

mahjong 9998000717

mahjong 9998000718

mahjong 9998000719

mahjong 9998000720

mahjong 9998000721

mahjong 9998000722

mahjong 9998000723

mahjong 9998000724

mahjong 9998000725

mahjong 838000773

mahjong 838000774

mahjong 838000775

mahjong 838000776

mahjong 838000777

mahjong 838000778

mahjong 838000779

mahjong 838000780

mahjong 838000781

mahjong 838000782

mahjong 838000783

mahjong 838000784

mahjong 838000785

mahjong 838000786

mahjong 838000787

mahjong 838000788

mahjong 838000789

mahjong 838000790

mahjong 838000791

mahjong 838000792

mahjong 838000793

mahjong 838000794

mahjong 838000795

mahjong 838000796

mahjong 838000797

mahjong 838000798

mahjong 838000799

mahjong 838000800

mahjong 838000801

mahjong 838000802

news-1701
news-1701

yakinjp

yakinjp

rtp yakinjp

yakinjp

yakinjp

yakin jp

yakinjp id

maujp

maujp

maujp

sabung ayam online

sabung ayam online

SLOT MAHJONG

sabung ayam online

article 838000638

article 838000639

article 838000640

article 838000641

article 838000642

article 838000643

article 838000644

article 838000645

article 838000646

article 838000647

article 838000648

article 838000649

article 838000650

article 838000651

article 838000652

article 838000653

article 838000654

article 838000655

article 838000656

article 838000657

article 838000658

article 838000659

article 838000660

article 838000661

article 838000662

article 838000663

article 838000664

article 838000665

article 838000666

article 838000667

article 838000668

article 838000669

article 838000670

article 838000671

article 838000672

article 838000673

article 838000674

article 838000675

article 838000676

article 838000677

article 838000678

article 838000679

article 838000680

article 838000681

article 838000682

article 838000683

article 838000684

article 838000685

article 838000686

article 838000687

article 838000688

article 838000689

article 838000690

article 838000691

article 838000692

article 838000693

article 838000694

article 838000695

article 838000696

article 838000697

article 238000456

article 238000457

article 238000458

article 238000459

article 238000460

article 238000461

article 238000462

article 238000463

article 238000464

article 238000465

article 238000466

article 238000467

article 238000468

article 238000469

article 238000470

article 238000471

article 238000472

article 238000473

article 238000474

article 238000475

article 238000476

article 238000477

article 238000478

article 238000479

article 238000480

article 238000481

article 238000482

article 238000483

article 238000484

article 238000485

article 238000486

article 238000487

article 238000488

article 238000489

article 238000490

article 238000491

article 238000492

article 238000493

article 238000494

article 238000495

article 238000496

article 238000497

article 238000498

article 238000499

article 238000500

article 238000501

article 238000502

article 238000503

article 238000504

article 238000505

article 238000506

article 238000507

article 238000508

article 238000509

article 238000510

article 238000511

article 238000512

article 238000513

article 238000514

article 238000515

article 7700246

article 7700247

article 7700248

article 7700249

article 7700250

article 7700251

article 7700252

article 7700253

article 7700254

article 7700255

article 7700256

article 7700257

article 7700258

article 7700259

article 7700260

article 7700261

article 7700262

article 7700263

article 7700264

article 7700265

article 7700266

article 7700267

article 7700268

article 7700269

article 7700270

article 7700271

article 7700272

article 7700273

article 7700274

article 7700275

article 7700276

article 7700277

article 7700278

article 7700279

article 7700280

article 7700281

article 7700282

article 7700283

article 7700284

article 7700285

article 2000431

article 2000432

article 2000433

article 2000434

article 2000435

article 2000436

article 2000437

article 2000438

article 2000439

article 2000440

article 2000441

article 2000442

article 2000443

article 2000444

article 2000445

article 2000446

article 2000447

article 2000448

article 2000449

article 2000450

article 2000451

article 2000452

article 2000453

article 2000454

article 2000455

article 2000456

article 2000457

article 2000458

article 2000459

article 2000460

article 2000461

article 2000462

article 2000463

article 2000464

article 2000465

article 2000466

article 2000467

article 2000468

article 2000469

article 2000470

article 2000471

article 2000472

article 2000473

article 2000474

article 2000475

article 2000476

article 2000477

article 2000478

article 2000479

article 2000480

article 2000481

article 2000482

article 2000483

article 2000484

article 2000485

article 2000486

article 2000487

article 2000488

article 2000489

article 2000490

article 2990581

article 2990582

article 2990583

article 2990584

article 2990585

article 2990586

article 2990587

article 2990588

article 2990589

article 2990590

article 2990591

article 2990592

article 2990593

article 2990594

article 2990595

article 2990596

article 2990597

article 2990598

article 2990599

article 2990600

article 2990601

article 2990602

article 2990603

article 2990604

article 2990605

article 2990606

article 2990607

article 2990608

article 2990609

article 2990610

article 2990611

article 2990612

article 2990613

article 2990614

article 2990615

article 2990616

article 2990617

article 2990618

article 2990619

article 2990620

article 10000416

article 10000417

article 10000418

article 10000419

article 10000420

article 10000421

article 10000422

article 10000423

article 10000424

article 10000425

article 10000426

article 10000427

article 10000428

article 10000429

article 10000430

article 10000431

article 10000432

article 10000433

article 10000434

article 10000435

article 10000436

article 10000437

article 10000438

article 10000439

article 10000440

article 10000441

article 10000442

article 10000443

article 10000444

article 10000445

article 10000446

article 10000447

article 10000448

article 10000449

article 10000450

news-1701