شہر لاہور کی کہانیاں

اردو کے ادبی منظر نامے پر اظہر حسین کی شناخت کے کئی حوالے ہیں؛ وہ ادب کے پر شوق قاری ہیں، ایک بے لاگ اور تند و تیز ادبی مبصر ہیں، پاکستان اور ہندوستان سے شائع ہونے والے دو کتابی سلسلوں “لاہور” اور “کسوٹی” کے مدیر ہیں اور شاعر ہیں۔ شاعری البتہ ان کا ابتدائی ادبی حوالہ تھا۔ لیکن گزشتہ کچھ برسوں سے وہ خود کو ایک اچھے فکشن نگار کے طور پر منوانے میں بھی نہ صرف کامیاب ہوے ہیں بلکہ اس وقت یہی ان کا سب سے نمایاں حوالہ ہے۔ میں اس مضمون میں حال ہی میں شائع ہونے والے ان کی کہانیوں کے مجموعے ‘دنیا رنگ بازی پر قائم ہے’ سے متعلق کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں۔

 

اجمل کمال کے ادارے سٹی پریس بک شاپ سے چھپنے والا یہ مجموعہ کل سات کہانیوں پر مشتمل ہے جن میں سے بیشتر کہانیاں اس سے پہلے کتابی سلسلے ‘آج’ کے شماروں میں شائع ہو چکی ہیں۔

 

مجموعے کی پہلی کہانی ‘مشن ڈم ڈم’ ایک مہم جوئی کی کہانی ہے۔ مہم جو کسی نچلی ذات سے تعلق رکھنے والے تین دوست ہیں جو کہ لڑکپن کی عمر سے گذر رہے ہیں۔ کہانی کا مقام یا ان کا علاقہ باقی کہانیوں کی طرح شہر کے پوش علاقے سے پرے آباد ایک پسماندہ اور ناخواندہ محلہ ہے۔ یہ دوست اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق محلے کے کرداروں کو دیکھتے ہیں اور اپنی مہمات سے اپنے تئیں منفی کرداروں اور محلے کی غلط کاریوں کی اصلاح کرتے ہیں۔ دوستوں میں ایک، جو باقی دو سے عمر میں کچھ سال بڑا ہے، کہانی میں ایک جگہ برملا کہتا ہے: “اگر یہ اور آئندہ طے کیے گئے دو تین مشن کامیابی سے مکمل ہو گئے تو صرف ہمارے ہی نہیں بلکہ ہماری پوری برادری کے مسئلے حل ہو جائیں گے۔” ایک نہایت دلچسپ قصے کے پیرائے میں کہانی پچھڑی ذاتوں سے برتی جانے والی نفرت اور ناانصافی کے ردعمل میں ان ذاتوں کی طرف سے غم و غصے کے اظہار کا ایک بیان ہے۔

 

‘اگڑم بگڑم’ کا مرکزی کردار ٹیڈی کا ابا ہے۔ ٹیڈی کا ابا گردا پیتا اور بیچتا ہے ، پرائز بانڈ کی غیر قانونی اسکیموں میں حصہ لیتا ہے ، گلی محلے کے اکثر و بیشتر لوگوں سے ادھار لے کے کھاتا ہے اور اسی وجہ سے کہیں پہنچنے کے لیے مرکزی رستے کے بجائے ٹیڑھے رستوں کا انتخاب کرتا ہے۔ ٹیڈی کا خیال ہے کہ اس کے ابے کا دل بڑا پکا ہے اور اسے اپنے سوا کسی سے پیار نہیں ۔ ‘اگڑم بگڑم’ کی کہانی میں باپ بیٹا صبح سویرے گھر سے نکل کر پرائز بانڈ کی قرعہ اندازی میں شامل ہونے کے لیے اڈے کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔ ابے کے خیال میں آج اسکا ‘لکی ڈے’ ہے؛ اس لیے آج اس کا بانڈ ہر صورت لگے گا۔ یہی امید اسے اڈے پر پہنچنے سے پہلے مختلف مظاہر میں ہر سو دکھائی دیتی رہتی ہے۔ صبح بالکونی میں کبوتروں کی غٹرغوں اور اڈے پہ جاتے ہوے ایک دوست منشی ٹوکے والے کا خندہ پیشانی سے ملنے کو ابا قرعہ اندازی کے لیے نیک شگون خیال کرتا ہے۔ لیکن کہانی کے آخر میں “لکی ڈے” سے متعلق اس کی امیدیں دم توڑ دیتی ہیں۔

 

‘اگڑم بگڑم’ کو پڑھتے ہوے شدت سے احساس ہوتا ہے کہ یہ کسی بڑی کہانی (یا ناولٹ) کا ایک حصہ ہے۔ ٹیڈی کی ماں ، ٹیڈی کے باپ کا دوست چچا باطل اور اڈے کا مالک آپھی پہلوان ایسے کردار ہیں جن کے متعلق مزید جاننے کی خواہش ہوتی ہے۔ اڈے پر جاتے ہوے رستے میں جیتو کبوتری کا مختصر قصہ ( ؛ اگرچہ اس سے ہمیں یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ٹیڈی کے باپ بانڈز کے دھندے سے پہلے کبوتر پالنے کا شغل بھی اختیار کر چکا ہے) ، فضا سازی میں رچاؤ پیدا کرتا ہے۔

 

‘فیصلہ’ دو ایسے بہن بھائیوں کی کہانی ہے جن کا بچپن گھر کے کشیدہ ماحول کی وجہ سے غارت ہو رہا ہے۔ گھر میں غیر معمولی حالات پیدا ہو جائیں تو بچے بعض اوقات اپنی عمر سے پہلے بڑے ہو جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایسا تب ہوتا ہے جب بچوں کا سکول چھوٹ جائے اور انھیں گھر کا خرچ چلانے کے لیے کچی عمر میں کام پہ لگنا پڑ ے۔ یا تب جب بچے اپنے گھر کے بجائے کسی قریبی رشتے دار کے گھر پل کر بڑے ہوں اور گارڈین کے رویے کے اس فرق کو محسوس کریں جو وہ اپنے سگے بچوں اور ان پلنے والے بچوں میں روا رکھتا رہتا ہے۔

 

‘فیصلہ’ میں ماں باپ گھریلو کشیدگی کی وجہ سے الگ ہو چکے ہیں۔ سکول سے چھٹی کے وقت بڑا بھائی اپنی سائیکل پر سکول کے باہر موجود ہے۔ اس نے بہن کو سکول سے گھر پہنچانے والے رکشے والے کو چلتا کیا ہے کیونکہ وہ آج خود سے چند سال چھوٹی بہن، جسے ننھی کہہ کر مخاطب کرتا ہے ، سے ملاقات کا ارادہ رکھتا ہے۔ بھائی بہن کو بتاتا ہے کہ کچھ دن بعد نانی اور باقی سب بڑے لوگ مل کر بیٹھیں گے اور اسکا فیصلہ ہو گا کہ بچے ماما کے پاس رہیں گے یا پاپا کے پاس۔ بھائی چونکہ ماما کے پاس رہ رہا ہے تو وہ چاہتا ہے کہ ننھی بھی ماما کے پاس رہے۔ لیکن ننھی ماں کے سخت رویے سے خائف ہے۔ وہ ماں کے گھر رہنا تو درکنار اس ٹھیلے والے سے گولہ تک نہیں کھانا چاہتی جو ماں کے گھر کے قریب موجود ہے۔ کہانی بتاتی ہے کہ ایک کنبے کا ٹوٹنا بچوں کے لئے کس قدر تکلیف دہ ہو سکتا ہے۔ بچے ماں باپ کے سخت رویے سے جذباتی طور پر کس قدر متاثر ہوتے ہیں۔ اور ضد اور انا کی بنیاد پر لئے گئے یکطرفہ فیصلے کس طرح ان کے اپنے ہی بچوں کا بچپن غارت کر دیتے ہیں۔ کہانی کی بنت شاندار ہے۔ بہن بھائی کی ملاقات اپنی جزئیات نگاری میں معصومیت سے بھری پڑی ہے۔ لازم ہے کہ ایسی شاندار کہانی کو انگریزی ، پنجابی ، ہندی اور دیگر زبانوں میں ترجمہ کر کے ایک بڑی ریڈرشپ تک پہنچایا جائے۔

‘کانا منافق’ ضیاع دور کے پس منظر میں لکھی گئی کہانی ہے۔ ایک ایسے غریب مولوی گھرانے کی ہڈ بیتی جو بوجوہ حکومت مخالف ہے۔ مولوی اور اسکے کم سن بیٹے ، دونوں کا اپنے پڑوس میں ایک ایک ضیاع نما سے واسطہ ہے ؛ اپنی ہی برادری کے ایک مولوی اور اسکے بیٹے سے جو ان کے خیال میں جھوٹے اور منافق ہیں اور جن سے کسی کا فائدہ نہیں ہو سکتا۔ یہ کہانی خاص طور سے بچپن کی یادوں کی کانٹ چھانٹ سے بنائی گئی معلوم ہوتی ہے۔ کہانی کا کردار جو سب سے زیادہ پڑھنے والے کو متوجہ کرتا ہے وہ غریب مولوی کی بیوی اور راوی کی بدقسمت ماں کا ہے ؛ اسکا کڑھنا سڑنا ، سر باندھنا اور مرے ہوئے بھائی کو یاد کر کے حال دہائی مچانا ۔۔۔ پھر راوی کی اپنے حریف حنیفے کیساتھ چشمک ، حنیفے کی شیطانیت بھری چالیں ، ایک آنکھ بند کر کے کنچے کا نشانہ باندھنا اور ہارنے والے کے حال پہ ہنسنا ۔۔۔ یہ سب رویے کہانی میں حقیقت کا رنگ بھر دیتے ہیں ۔ یہ کہانی خاص طور سے اپنے قصے سے زیادہ اپنی بنت کی وجہ سے متوجہ کرتی ہے۔

کتاب کی ٹائٹل کہانی ‘دنیا رنگ بازی پر قائم ہے’ فتح گڑھ اور فتح گڑھیوں کی کہانی ہے۔ فتح گڑھ مغلپورہ رام گڑھ سے مشرق کی سمت چند کلومیٹر کی مسافت پہ آباد ایک قدیم آبادی ہے۔ یہی علاقہ مصنف کی جم پل ہے۔ فتح گڑھ کی اکثریتی آبادی اوسط تعلیم و تربیت رکھنے والے افراد پر مشتمل ہے۔ ایسے لوگ زیادہ ہیں جن کا بیشتر علم سنی سنائی اور سینہ گزٹ باتوں پہ مشتمل ہے، جن کے ہاں توہمات اور قیاس آرائی پر کثرت سے یقین کیا جاتا ہے۔ یہاں اپنی چودھراہٹ قائم کرنے کے لئے کسی حقیقی چودھراہٹ کے حصول کی قطعا کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ بس تھوڑی رنگ بازی درکار ہے۔ لوگوں کی اوسط ذہانت سے بڑھ کر کوئی بات کہہ دو اور مطلب سمجھانے کے بجائے اسے بھید میں ڈال دو۔ جیسا کہ اس کہانی کا ایک کردار مانا کہتا ہے: “کالا چٹا سب اوکے۔”

 

کہانیوں کا لوکیل فتح گڑھ اور اس سے ملحقہ شمالی لاہور کے دیگر علاقے (مغلپورہ ، رام گڑھ ، سنگھ پورہ ، باغبانپورہ بھوگیوال ، گڑھی شاہو وغیرہ) ہیں۔ یہی مقام اور یہاں کے مخصوص کردار کہانیوں کی مخصوص زبان کو متشکل کر رہے ہیں اور اسی علاقے کے بیشتر کرداروں کے رویوں سے ‘رنگ بازی’ کا عنوان اخذ کیا گیا ہے. مجموعے میں شامل قریب قریب سبھی کہانیوں کے کردار بچپن اور لڑکپن کی عمر سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کم سن کرداروں کے خلاقانہ برتاؤ نے کہانیوں میں حقیقت پسندی اور معصومیت کے رنگ بھر دیے ہیں۔ ذیل میں ٹائٹل کہانی ‘دنیا رنگ بازی پر قائم ہے’ سے ایک ذرا طویل اقتباس ملاحظہ فرمائیں۔ فکشن کے پیرائے میں ‘لہوریوں’ کی اس سے زیادہ vivid description بہت کم دیکھنے کو ملے گی:

“ایک موہنی صبح کو مشہور کبوتر باز استاد اکی بھین یا لاہور شہر کے محلے محلے سے آئے ہوئے پورے پانچ درجن کبوتر بازوں کے گھیرے میں کھڑا تھا۔ سب کی نظریں اکی کے پیچھے کھڑے اعلی نسلی کبوتروں سے بھرے جال پر ٹکی ہوئی تھیں۔ صبح سویرے کا وقت تھا۔ اکی اپنی تین بار چیمپین بننے والی جوسریوں کا شوق کرانے والا تھا۔ ان جوسری کبوتریوں کو لوگوں نے اب تک صرف پروازی حالتوں میں دیکھا تھا۔ سب کو آس تھی کہ جیتو کبوتریوں کو استاد اکی کے ہاتھوں میں دیکھیں۔ استاد کے دکھانے اور سادہ دیکھنے میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ استاد جال سے دانا پکڑتے ہی اس کی ساری رمزوں کو محسوس کر کے بیان کر سکتا تھا۔ جلد ہی استاد اکی جال میں سے ایک پیور مادی نکال کر شوق کرا رہا تھا۔ شوق کراتے ہوئے وہ مانے کا ذکر اس انداز سے کر رہا تھا جیسے وہ اس پر صدقے واری جا رہا ہو :

“ہاں یہ دیکھو بھئی. دیکھتے ہی ماشاءاللہ ضرور کہنا ، چاہے دل ہی میں کہہ لینا۔ رب نظر بد سے بچائے میری بختو کو۔ سب سے پہلے تو اس کی جسامت دیکھو؛ نہ بھاری ہے نہ پنجری۔ درمیانی ہے ، بالکل درمیانی۔ جسے متوازن کہتے ہیں۔ یہاں میری جند جان رحمانا موجود ہے۔ وہ میری بات سے اتفاق کرے گا کہ جوسری کا وزن اتنا پورا پورا ہے کہ یہ بڑے سے بڑے کبوتر پرور کے لیے بھی مثال کا درجہ رکھتا ہے۔ جتنی بہتر پرواز برابر وزن والا پرندہ کر سکتا ہے ، موٹا یا جہازی پرندہ نہیں کر سکتا۔ اور یہ توازن پرندے کے وزن سے لے کر اس کے پروں پنجوں دم اور خوراک میں بھی ہونا چاہیے۔ جوسری میں ایسا ہی توازن ہے۔ یار ، تھوڑا سا پیچھے ہٹ جاؤ ، تم سب تو میرے اوپر ہی چڑھ آئے ہو۔ بڑے چھوٹے کا بھی تو خیال رکھو ناں۔ ہاں اب ٹھیک ہے۔ تو میں بات کر رہا تھا توازن کی۔ اب جوسری کے ان پنجوں ہی کو دیکھ لو۔ ہیں ناں ہمارے وزیروں کے مزاجوں کی طرح خشک ؟ کہیں بھی اوپر نیچے تری یا نرمی نہیں نظر اتی۔ پنجوں کی انگلیاں دیکھو۔ آشا پوسلے کی انگلیوں جیسی ہیں؛ نہ زیادہ موٹی نہ بہت پتلی۔ ناخنوں کا رنگ بھی ایک سا ہے۔ درمیانی انگلی سولہ دھاری ہے۔ سولہ دھاری کا مطلب جانتے ہو؟ کوئی خلیفوں کا خلیفہ ہی بتا سکتا ہے کہ پنجے کی درمیانی انگلی پر سولہ دھاریوں کا کیا مطلب ہوتا ہے۔ ایک قسم کی یہ گیدڑ سنگھی ہے جو ہر چھوٹے بڑے کے کان میں نہیں بتائی جا سکتی۔ مگر اج جی خوش ہے ، اج کوئی گیدڑ سنگھی چھپائی نہیں جائے گی۔ یوں بھی رحمانے سے کیا چھپا ہے۔ مانا ہنس رہا ہے کہ اکی بھین یا بجھارتیں ڈال رہا ہے۔ ایسا نہیں، یار مانے۔ آج کل کے بچے سونے جیسی بات کو کھوہ میں پھینک دیتے ہیں۔ کچھ باتیں تیس تیس سال لگا کر کھٹی وٹی ہوتی ہیں۔ انہیں ضائع ہوتے دیکھ کر دل بیمار کبوتری کی طرح اؤں اؤں کرنے لگتا ہے۔ لیکن اج کا دن ایسا نہیں کہ اپنے یاروں اور نئے لڑکوں سے چھپن چھپائی کھیلی جائے۔ لو پھر سنو۔ درمیانی انگلی پر کم سے کم پندرہ دھاریاں ہوں تو پٹھا یا پٹھی پرواز کے لیے اہل قرار پاتی ہے۔ اسے قابل قبول سمجھا جاتا ہے۔ پندرہ سے کم ہونے کا مطلب ہوتا ہے کہ کچھ کمی ہے ۔ پرندے میں اور پروازی پرندے میں چھوٹی سے چھوٹی کمی کا مطلب جیت سے ایک قدم پیچھے کھسکنا ہے۔ ہزاروں پرندوں میں سے کسی ایک میں ہوتا ہے کہ اس کی بیچ والی انگلی کی دھاریاں پوری سولہ ہوں۔ جوسری ان ہزاروں میں سے ایک ہے۔ پوری سولہ دھاری۔ سب مالک کی عطا ہے۔ جند جان مانے کی دعا ہے”

 

اظہر حسین کی یہ کہانیاں نہ صرف یہ کہ شہر لاہور اور اسکے کرداروں کو دلچسپ قصوں کے پیرائے میں بیان کرتی ہیں بلکہ یہ اپنے اسلوب ، زبان اور کردار نگاری کے لحاظ سے شائع ہونے والی دیگر معاصر کہانیوں سے اپنا امتیاز بھی قائم رکھے ہوے ہیں۔ جس کی وجہ سے سنجیدہ ادب کے قارئین نہ صرف انہیں پڑھیں گے بلکہ ایک عرصے تک یاد رکھیں گے۔

٠٠٠

 

طاہر رسول لاہور، پاکستان سے تعلق رکھنے والے ادب کے پرشوق قاری ہیں۔ فکشن کا مطالعہ اور تبصرہ نگاری ان کا خاص میدان ہے۔ فلم اور ادب سے متعلق ان کی تحریریں ‘ہم سب’ اور ‘لاہور’ میں شائع ہو چکی ہیں۔طاہر رسول کا یہ مضمون دراصل حال میں ہی اظہر حسین کے شائع ہونے والے افسانوی مجموعے ‘دنیا رنگ بازی پر قائم ہے’ پر ایک تبصرہ ہے۔ اسے تبصرے سے زیادہ مصنف اور کتاب کے  ایک تعارف کے طور پر پڑھا جانا چاہیے ۔کتابوں پر ایسی باتیں ایک طرف تخلیقی کاموں کی خبر دیتی رہتی ہیں تو دوسری طرف ان پر مزید گفتگو اور تنقید کی راہیں بھی استوار کرتی ہیں۔امید ہے  کہ اس تحریر کے ذریعے بھی دوست اظہر حسین کی کہانیوں  کے ساتھ ساتھ اس تبصرے پربھی  اپنی رائے پیش کریں گے۔شکریہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

content-1701

article 0000141

article 0000142

article 0000143

article 0000144

article 0000145

article 0000146

article 0000147

article 0000148

article 0000149

article 0000150

article 0000151

article 0000152

article 0000153

article 0000154

article 0000155

article 0000156

article 0000157

article 0000158

article 0000159

article 0000160

article 0000161

article 0000162

article 0000163

article 0000164

article 0000165

article 0000166

article 0000167

article 0000168

article 0000169

article 0000170

article 0000171

article 0000172

article 0000173

article 0000174

article 0000175

article 0000176

article 0000177

article 0000178

article 0000179

article 0000180

article 0000181

article 0000182

article 0000183

article 0000184

article 0000185

article 0000186

article 0000187

article 0000188

article 0000189

article 0000190

article 00046

article 00047

article 00048

article 00049

article 00050

article 00051

article 00052

article 00053

article 00054

article 00055

article 00056

article 00057

article 00058

article 00059

article 00060

article 00061

article 00062

article 00063

article 00064

article 00065

article 00066

article 00067

article 00068

article 00069

article 00070

article 00071

article 00072

article 00073

article 00074

article 00075

article 00076

article 00077

article 00078

article 00079

article 00080

article 00081

article 00082

article 00083

article 00084

article 00085

article 00086

article 00087

article 00088

article 00089

article 00090

article 00091

article 00092

article 00093

article 00094

article 00095

article 888836

article 888837

article 888838

article 888839

article 888840

article 888841

article 888842

article 888843

article 888844

article 888845

article 888846

article 888847

article 888848

article 888849

article 888850

article 888851

article 888852

article 888853

article 888854

article 888855

article 888856

article 888857

article 888858

article 888859

article 888860

article 888861

article 888862

article 888863

article 888864

article 888865

articel 000000171

articel 000000172

articel 000000173

articel 000000174

articel 000000175

articel 000000176

articel 000000177

articel 000000178

articel 000000179

articel 000000180

articel 000000181

articel 000000182

articel 000000183

articel 000000184

articel 000000185

articel 000000186

articel 000000187

articel 000000188

articel 000000189

articel 000000190

articel 000000191

articel 000000192

articel 000000193

articel 000000194

articel 000000195

articel 000000196

articel 000000197

articel 000000198

articel 000000199

articel 000000200

articel 000000201

articel 000000202

articel 000000203

articel 000000204

articel 000000205

articel 000000206

articel 000000207

articel 000000208

articel 000000209

articel 000000210

articel 000000211

articel 000000212

articel 000000213

articel 000000214

articel 000000215

articel 000000216

articel 000000217

articel 000000218

articel 000000219

articel 000000220

article 2000136

article 2000137

article 2000138

article 2000139

article 2000140

article 2000141

article 2000142

article 2000143

article 2000144

article 2000145

article 2000146

article 2000147

article 2000148

article 2000149

article 2000150

article 2000151

article 2000152

article 2000153

article 2000154

article 2000155

article 2000156

article 2000157

article 2000158

article 2000159

article 2000160

article 2000161

article 2000162

article 2000163

article 2000164

article 2000165

article 2000166

article 2000167

article 2000168

article 2000169

article 2000170

article 2000171

article 2000172

article 2000173

article 2000174

article 2000175

article 2000176

article 2000177

article 2000178

article 2000179

article 2000180

article 2000181

article 2000182

article 2000183

article 2000184

article 2000185

article 838000421

article 838000422

article 838000423

article 838000424

article 838000425

article 838000426

article 838000427

article 838000428

article 838000429

article 838000430

article 838000431

article 838000432

article 838000433

article 838000434

article 838000435

article 838000436

article 838000437

article 838000438

article 838000439

article 838000440

article 838000441

article 838000442

article 838000443

article 838000444

article 838000445

article 838000446

article 838000447

article 838000448

article 838000449

article 838000450

article 838000451

article 838000452

article 838000453

article 838000454

article 838000455

article 838000456

article 838000457

article 838000458

article 838000459

article 838000460

content-1701
news-0801

yakinjp


sabung ayam online

yakinjp

yakinjp

rtp yakinjp

yakinjp

yakinjp

judi bola online

slot thailand

yakinjp

yakinjp

yakinjp

yakinjp

ayowin

mahjong ways

judi bola online

mahjong ways 2

JUDI BOLA ONLINE

maujp

maujp

sabung ayam online

maujp

maujp

maujp

maujp

sabung ayam online

mahjong ways slot

sbobet88

live casino online

Situs Agen Togel

MAUJP

118000021

118000022

118000023

118000024

118000025

118000026

118000027

118000028

118000029

118000030

118000031

118000032

118000033

118000034

118000035

118000036

118000037

118000038

118000039

118000040

118000041

118000042

118000043

118000044

118000045

118000046

118000047

118000048

118000049

118000050

128000021

128000022

128000023

128000024

128000025

128000026

128000027

128000028

128000029

128000030

128000031

128000032

128000033

128000034

128000035

128000036

128000037

128000038

128000039

128000040

128000041

128000042

128000043

128000044

128000045

128000046

128000047

128000048

128000049

128000050

138000021

138000022

138000023

138000024

138000025

138000026

138000027

138000028

138000029

138000030

138000031

138000032

138000033

138000034

138000035

138000036

138000037

138000038

138000039

138000040

138000041

138000042

138000043

138000044

138000045

138000046

138000047

138000048

138000049

138000050

148000026

148000027

148000028

148000029

148000030

148000031

148000032

148000033

148000034

148000035

148000036

148000037

148000038

148000039

148000040

148000041

148000042

148000043

148000044

148000045

148000046

148000047

148000048

148000049

148000050

148000051

148000052

148000053

148000054

148000055

148000056

148000057

148000058

148000059

148000060

148000061

148000062

148000063

148000064

148000065

148000066

148000067

148000068

148000069

148000070

158000041

158000042

158000043

158000044

158000045

158000046

158000047

158000048

158000049

158000050

158000051

158000052

158000053

158000054

158000055

158000056

158000057

158000058

158000059

158000060

158000061

158000062

158000063

158000064

158000065

158000066

158000067

158000068

158000069

158000070

168000011

168000012

168000013

168000014

168000015

168000016

168000017

168000018

168000019

168000020

168000021

168000022

168000023

168000024

168000025

168000026

168000027

168000028

168000029

168000030

168000031

168000032

168000033

168000034

168000035

168000036

168000037

168000038

168000039

168000040

178000036

178000037

178000038

178000039

178000040

178000041

178000042

178000043

178000044

178000045

178000046

178000047

178000048

178000049

178000050

178000051

178000052

178000053

178000054

178000055

178000056

178000057

178000058

178000059

178000060

178000061

178000062

178000063

178000064

178000065

188000141

188000142

188000143

188000144

188000145

188000146

188000147

188000148

188000149

188000150

188000151

188000152

188000153

188000154

188000155

188000156

188000157

188000158

188000159

188000160

188000161

188000162

188000163

188000164

188000165

188000166

188000167

188000168

188000169

188000170

198000031

198000032

198000033

198000034

198000035

198000036

198000037

198000038

198000039

198000040

198000041

198000042

198000043

198000044

198000045

198000046

198000047

198000048

198000049

198000050

198000051

198000052

198000053

198000054

198000055

198000056

198000057

198000058

198000059

198000060

218000021

218000022

218000023

218000024

218000025

218000026

218000027

218000028

218000029

218000030

218000031

218000032

218000033

218000034

218000035

218000036

218000037

218000038

218000039

218000040

218000041

218000042

218000043

218000044

218000045

218000046

218000047

218000048

218000049

218000050

228000016

228000017

228000018

228000019

228000020

228000021

228000022

228000023

228000024

228000025

228000026

228000027

228000028

228000029

228000030

228000031

228000032

228000033

228000034

228000035

228000036

228000037

228000038

228000039

228000040

228000041

228000042

228000043

228000044

228000045

228000046

228000047

228000048

228000049

228000050

238000001

238000002

238000003

238000004

238000005

238000006

238000007

238000008

238000009

238000010

238000011

238000012

238000013

238000014

238000015

238000016

238000017

238000018

238000019

238000020

news-0801