اردو کی قدیم ترین لغت

ایک سیاح کی نوٹ بک:

ببلیو تک ناسیونال پیرس کے اردو کے مخطوطات میں ایک نوٹ بک میری نظر سے گزری۔یہ نوٹ بک شارل دوشوا(Charles d’Ochoa)کی ہے۔ دوشوا کے بارے میں زیادہ معلومات مجھے نہ مل سکیں۔نوٹ بک سے اتنا معلوم ہوتا ہے کہ دوشوا ایک سائنٹفک مشن کا انچارج تھا جسے حکومت فرانس کے وزیرِ تعلیم نے 1843 ؁ء میں ہندوستان بھیجا تھا۔ یہ نوٹ بک کافی دل چسپ ہے۔اس نوٹ بک کے صفحہ147پر دوشوا نے اردو قواعد لکھنی شروع کی، لیکن صرف ایک صفحہ لکھا۔ابتدائی نوٹ کا ترجمہ یہ ہے:

’’ہندوستانی زبان کو ہندی، اردو اور ریختہ کہتے ہیں۔یہ زبان ہندی اور برج بھاشا سے بنی ہے جو اب بھی بعض جگہ بولی جاتی ہے۔مثلاً قنوج میں جو ایرانی اور عرب فاتحین کا دارالحکومت تھا۔ہندوستان کے جزیرہ نما کے مغرب میں ہندوستانی نئی دکھنی زبان بولی جاتی ہے جو عربی اور دیوناگری دونوں حروف میں لکھی جاتی ہے لیکن زیادہ تر عربی رسم الخط استعمال کیا جاتا ہے۔ دیوناگری رسم الخط صرف برج بھاشا اور ہندوی بولیوں کو لکھتے وقت استعمال کیا جاتا ہے۔‘‘

 

اردو قواعد کے مخالفین کے جواب میں:

اردو مخطوطات میں ایک فرانسیسی اردو ڈکشنری ہے جسے اوساں(Aussant)نے 1784 ؁ء میں لکھا تھا۔ اس ڈکشنری کے شروع میں نوٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ اوساں بنگال میں شاہی مترجم تھے۔ انہوں نے اردو زبان سیکھنے میں کافی کاوش کی تھی۔چنانچہ مخطوطات میں ایک کتاب موسومہ’ کتاب آموز المنشی‘ بھی ہے جو اوساں کے لیے 1782 ؁ء میں لکھی گئی تھی ۔قواعد، الفاظ، محاورے، کہانیاں وغیرہ درج ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ اوساں نے زبان سیکھنے کے لیے بہت کاوش کی اور صرف دو سال کے عرصے میں زبان پر اس قدر عبور حاصل کرلیا کہ 1784 ؁ء میں فرانسیسی اردو ڈکشنری لکھ دی۔

اس ڈکشنری کے شروع میں ایک طویل نوٹ ہے جس میں اوساں نے اردو زبان کے ان مخالفین کے اعتراضات کا جواب دیا ہے جو کہتے تھے کہ اردو زبان اس قابل نہیں کہ اس کی قواعد وغیرہ بنائی جاسکے۔ اوساں کے نوٹ کا خلاصہ یہ ہے:

’’گریمرکے بغیر کسی زبان کو سیکھنے کی کوشش کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص موسیقی کے اصول سے واقف ہوئے بغیر کوئی ساز بجانا شروع کردے۔ اردو زبان پر جو اعتراضات کیے جارہے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس زبان میں قواعد کے اصول متعین کیے جانے کی صلاحیت نہیں ہے اور یہ کہ اردو زبان فارسی زبان سے اس قدر منسلک ہے کہ اسے علیحدہ نہیں کیا جاسکتا۔ میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ خیال بالکل غلط ہے۔ اردو زبان میں قواعد کے اصول متعین کیے جانے کی پوری پوری صلاحیت ہے، اور اگر کوئی شخص اردو اور فارسی کی زبانیں سیکھنا چاہے تو بہتر ہوگا کہ وہ اردو قواعد سے ابتدا کرے۔اس اعتراض میں بھی کوئی جان نہیں کہ اردو میں فارسی کے الفاظ کی بہتات ہے اس لیے اردو سیکھنے کی ضرورت نہیں ، صرف فارسی کافی ہے۔انگریزی زبان میں یونانی الاصل الفاظ کی بہتات ہے لیکن اس کے باوجود انگریزی زبان پر یہ اعتراض نہیں کیا جاتا اور یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ جو فارسی الفاظ اردو میں آگئے ہیں وہ زیادہ تر اردو قواعد کے اصولوں کے لحاظ سے استعمال ہوتے ہیں نہ کہ فارسی میں قواعد کے اصولوں کے لحاظ سے۔‘‘

میں نے اوساں کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن اس کے لیے مزید وقت کی ضرورت ہے۔میں نے ببلیوتک ناسیونال کے ماہر ہندوستانیات سے کہا ہے کہ وہ اوساں کے بارے میں معلومات فراہم کریں۔

 

اردو کی قدیم ترین لغت:

اسی کتب خانے کے مشرقی شعبے میں مجھے ایک لغت ملی۔یہ لغت چار زبانوں لاطینی، ہندی، فرانسیسی اور اردو میں لکھی گئی تھی۔اس لغت کے پیرس میں آنے کی داستان دلچسپ ہے۔مخطوطے کے شروع میں ایک نوٹ ہے جس کا خلاصہ یہ ہے:

’’1758 ؁ء میں ،میں سورت میں تھا اور پہلوی زند کتابوں کا ترجمہ کررہا تھا۔مقامی پارسی عالموں سے بات چیت کرنے کے لیے جدید فارسی زبان استعمال کرتا تھا لیکن روز مرہ کی گفتگو کے لیے اور سورت اور ہندوستان کے دوسرے علاقوں مثلاً کارومنڈل، مالابار، بنگال وغیرہ میں سیر وسیاحت کے لیے مور(Maure)یا ہندوستانی زبان بولنا پڑتی تھی۔میں نے سورت میں ایک کاپوچین مشنری کے ہاں ایک پرانا لیکن نہایت بیش قیمت مخطوطہ دیکھا۔یہ ایک’مور۔فرانسیسی‘ لغت تھی۔میرا ارادہ تھا کہ اس کی نقل کرلوں لیکن میری علالت،مصروفیات اور سورت میں بعض دیگر پریشانیوں کی وجہ سے میں یہ کام نہ کرسکا۔اس کے بعد مجھے سخت افسوس رہا کہ میں نے اس بیش قیمت لغت کی نقل نہ کی۔آخر1778 ؁ء میں ، میں نے ایک کتاب (Alphabetum Brahmanicum)دیکھی جو 1771 ؁ء میں روم سے شائع ہوئی تھی۔ اس کتاب کے دیباچے میں لکھا تھا کہ روم کے صیغۂ تبلیغ واشاعت کے کتب خانے میں ہندوستانی زبان کی لغت کا ایک نسخہ موجود ہے جو سورت میں ایک مشنری نے لکھا تھا۔اس نسخے کے بارے میں جو تفصیل تحریر کی گئی تھی اس سے مجھے شبہ ہوا کہ غالباً یہ وہی مخطوطہ یا اُ س کی نقل تھی جو میں نے سورت میں دیکھا تھا۔

پاپائے روم کو جب یہ معلوم ہوا کہ میں ایک ہندوستانی ڈکشنری لکھنا چاہتا تھا، موصوف نے مربیانہ مدد فرمائی اور 14اکتوبر 1782 ؁ء کو یہ مخطوطہ ملا۔اس عنایتِ خسروانہ نے میری بے انتہا ہمت افزائی کی اور میری رگوں میں جوانی کا خون دوڑادیا اور مجھے ایک بار پھر وہی جوانی کی طاقت بخش دی جس کے بل پر میں نے ہندوستان کے قیام کے دوران میں مغربی ساحل کے دشوار گزار گھاٹوں کا سفر کیا تھا، بادو باراں اور طوفانوں کی مصیبتیں برداشت کی تھیں اور تمام مشکلات کا مقابلہ کرکے تین مردہ زبانیں زند، پہلوی اور سنسکرت سیکھی تھی۔

اور میں نے اس پورے مخطوطے موسومہ’ ہندوستانی زبانوں کا خزانہ ‘کو نقل کرلیا اور یہ احتیاط برتی کہ اصل و نقل میں ایک نقطے کا بھی فرق نہ رہے۔چنانچہ میں نے نقل کا اصل مخطوطے سے تین مرتبہ مقابلہ کیا۔یہ کتاب اس لغت کی بنیاد ہوگی جو میں لاطینی، فرانسیسی، مور، فارسی اور فرانسیسی میں مرتب کررہا ہوں۔‘‘

اس کے بعد اس مخطوطے کے بارے میں کچھ تفصیلات درج ہیں۔آخر میں لکھا ہے۔

’’۔۔۔۔جناب پاپائے روم کا یہ فیصلہ کہ یہ مخطوطہ میرے پاس پیرس میں بھیج دیا جائے، یورپ کے لیے ایک مثال ہے اس امر کی کہ تمام اہلِ علم ایک خاندان کی طرح ہیں۔میں استدعا کرتا ہوں کہ موصوف اس لطف وکرم کے لیے میرا سپاسِ عقیدت قبول فرمائیں۔

 

پیرس، 10مارچ، 1784

انکتل دوپروں(Anquetil Duperron)سیاح، رکن اکادمی ادبیاتِ عالیہ و مترجم شاہی براے السنۂ مشرقیہ۔‘‘

دوپروں نے اپنے نوٹ میں چند اور اہم باتیں بھی بیان کی ہیں۔اس نے لکھا ہے کہ اس لغت کا اصل نسخہ جو سورت میں لکھا گیا تھا، 1704 ؁ء میں روم کے شعبۂ تبلیغ و اشاعت کے کتب خانے میں داخل کیا گیا۔اس کے معنی یہ ہوئے کہ یہ لغت سترھویں صدی میں لکھی گئی تھی ۔دوپروں کو جب یہ نسخہ 14اکتوبر 1783 ؁ کو پیرس میں ملا تو اس کی عمر 52سال کی تھی۔اس عمر میں بھی اس نے اس کام میں بہت ہمت کا ثبوت دیا اور صرف پانچ مہینے میں اس ضخیم لغت کی نقل کی اور اس کا اصل نسخہ وزیر اعظم وقت نت ورژن کو واپس کردیا تاکہ وہ اسے روم واپس بھیج دیں۔

اس لغت کی اہمیت تاریخی حیثیت کے علاوہ علمی بھی ہے۔اس وقت کوئی فرانسیسی اردو لغت موجود نہیں ہے۔ میں نے پیرس میں ڈاکٹر حمیداﷲ سے کہا تھا کہ وہ ایک فرانسیسی اردو لغت تیار کرنے کے بارے میں غور فرمائیں۔لیکن انہوں نے معذرت کی اور کہا کہ انہوں نے کچھ کام اپنے سر لیے ہیں اس کے لیے وقت نکالنا ممکن نہ ہوگا۔بہرحال ببلیوتک ناسیونال کے اس مخطوطے کو فرانسیسی اردو ڈکشنری کی اساس کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ چار مشرقی اور مغربی زبانوں میں اس پائے کی لغت شاید ہی دنیا میں کہیں اور موجود ہو۔کاش اردو زبان کے قدردان اس طرف توجہ کریں۔

اس لغت کو دیکھ کر مجھے دوپروں کی شخصیت سے دل چسپی پیدا ہوگئی اور مجھے اس کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کی جستجو ہوئی۔چنانچہ میں نے ببلیوتک ناسیونال کے صیغۂ مطبوعات (مغربی) اور ایکول ناسیونال وے لانگزو غیانتال ویوانت پیرس کے کتب خانوں میں دوپروں کے حالات کی تلاش شروع کی۔مجھے خوشی ہوئی کہ مجھے نہ صرف دوپروں کی زندگی کے دلچسپ حالات مل گئے بکہ اس کی تصانیف بھی مل گئیں۔مشہور فرانسیسی دوگانے لکھا ہے۔

’’نوجوانی کے زمانے میں زند زبان کے چند مخطوطات انکتویل دوپروں کے ہاتھ لگ گئے۔اس نوجوان کو یہ زبان دیگر مشرقی زبانیں لکھنے شوق پیدا ہوا۔آخر کار یہ بحریہ میں بھرتی ہوکر ہندوستان آگیا، جہاں اس نے ہندوستان کے محتلف علاقوں کا دورہ کیا۔زند زبان سے پارسیوں کی مذہبی کتابوں کا ترجمہ کیا۔اپنشد کے ایک فارسی نسخے سے فرانسیسی میں ترجمہ کیا اور ہندوستان کی تاریخ، جغرافیہ، سیاسیات وغیرہ پر تحقیق کی۔جب واپس فرانس آیا تو دوپروں مال و زر کے اعتبار سے خالی ہاتھ تھا، لیکن قدیم ہندوستانی مخطوطات کا ایک بیش قیمت خزانہ مخطوطات کی صورت میں اپنے ساتھ پیرس لایا اور ان مخطوطات کی صورت میں اپنے ساتھ پیرس لایا اور ان مخطوطات کو شاہی کتب خانے(جسے اب ببلیوتک ناسیونال کہتے ہیں)میں داخل کیا۔اور ہندوستان کے بارے میں تصنیف و تالیف میں مشغول ہوگیا۔کچھ عرصے بعد وہ مشرقی زبانوں کے لیے شاہی مترجم مقرر ہوا اور اس کے بعد فرانس کی اعلیٰ ادبیات کی اکادمی کا رکن منتخب ہوگیا۔1805 ؁ء میں پیرس میں اس کا انتقال ہوگا۔‘‘

انکتویل دوپروں کی زندگی میں اور بہت سے حالات کافی دلچسپ ہیں۔ مثلاً یہ کہ انگریزوں نے پچاس ہزار فرانک کی رقم دوپروں کو زند زبان کے اس مخطوطے کے لیے پیش کی جس سے اس نے پارسیوں کی مذہبی کتاب کا ترجمہ کیا تھا، لیکن دوپروں نے یہ پیش کش قبول نہ کی۔اس کی تصنیفات بھی بہت دلچسپ ہیں۔اس نے اپنی کتابوں میں اٹھارہویں صدی میں ہندوستان کی سیاست پر بہت محققانہ بحثیں کی ہیں۔زبان کے بارے میں اس کا ایک بیان نقل کرتا ہوں۔اپنی کتاب’ہندوستان کی تاریخ اور جغرافیہ پرتحقیقات میں دوپروں لکھتا ہے:

’’ہنددستان میں اس وقت سب سے زیادہ اہم زبان جسے کافی حد تک عمومیت حاصل ہے جدید فارسی زبان ہے۔ہندوستان کے نواب، ان کے وزرا اور ان کے سیکریٹری یہی زبان بولتے اور لکھتے ہیں۔یہ زبان مال دیپ اور مشرقی سال میں (کذا)بھی بولی جاتی ہے۔فارسی کے ساتھ ساتھ دوسری زبان’ہندوستانی‘ (Industani)ہے جو شمال سے لے کر خلیج بنگال ، کھمبایت ، دکن اور دونوں ساحلوں میں بولی جاتی ہے۔یورپینیوں نے اسے ’مور‘(Maure)کا نام دیا ہے۔ہندوستانی ناگری (سنسکرت)حروف میں بھی لکھی جاتی ہے اور فارسی حروف میں بھی۔فارسی حروف میں لکھتے وقت بعض حروف میں کچھ نقطوں کا اضافہ کردیا جاتا ہے، تاکہ تلفظ میں وہ آوازیں نکالی جاسکیں جن کے لیے فارسی زبان میں حروف موجود نہیں۔اس زبان میں عربی، فارسی، ترکی، بنگالی، مرہٹی وغیرہ سب زبانوں کے الفاظ موجود ہیں۔‘‘

 

 

حواشی:

1۔آغا صاحب کی کتاب ’’یورپ میں تحقیقی مطالعے‘‘(مجلس ترقی ادب، لاہور1967) میں ایک طویل مضمون ’’اردوکی بابت فرانسیسیوں کی چند تحریریں‘‘ شامل ہے۔اس میں سے لغات سے متعلق حصہ پیشِ خدمت ہے۔(ڈاکٹر رؤف پاریکھ)

2۔ببلیوتک ناسیونال، پیرس، اردو مخطوطات کیٹلاگ نمبر 832(آغا افتخار)

3۔ببلیوتک ناسیونال پیرس، فہرست ردو مخطوطات نمبر843(آغا افتخار)

4۔Thesaurus Linguae Indiane(آغا افتحار)

5۔افسوس ہے کہ انکتول دوپروں اپنے ارادے کی تکمیل نہ کرسکا اور یہ لغت نہ لکھ سکا جس کا غالباً سبب یہ ہے کہ پانچ سال بعد یعنی 1789 ؁ء میں انقلابِ فرانس رونما ہوا اور اس کے بعد ہنگامی حالات نے اسے اس کام کی مہلت نہ دی۔1805 ؁ء میں دوپروں کا انتقال ہوگیا۔(آغا افتخار)

6۔دوپروں کی تاریخِ پیدائش 7اکتوبر1731 ؁ئبیان کی گئی ہے۔ملاحظہ ہوکتابVoyage Aux Indes Orientalesمصنفہ انکتویل دوپروں صفحہ8، ببلیوتک ناسیونال پیرس، کیٹلاگ نمبرOK2 104(آغا افتخار)

7۔ملاحظہ ہوDugat(Gustave)کی کتابHistoire Des Orientales-de L’Europe du XVIII-IX Siecle(کتب خانہ ایکول ناسیونال دے لانگزوغیانتال دیوانت پیرس)صفحہ29(آغا افتخار)

8۔ملاحظہ ہوRecherches histoirique et Geographique Sure I’Indenببلیوتک ناسیونال پیرس۔کیٹلاگ نمبر(O2K27)۔صفحہ نمبر 10۔اس کتاب کا ایک اور نسخہ کیٹلاگ نمبرO2K1136بھی موجود ہے۔یہ نسخہ شاہی محل Fontainblueکے کتب خانے سے حاصل کیا گیا تھا۔اس نسخے میں کچھ صفحات غائب ہیں اور وہ حصہ بھی غائب ہے جس میں ہندوستان کی زبانوں کے بارے میں لکھا گیا ہے۔اس لیے محققین کیٹلاگ نمبر O2K271ملاحظہ فرمائیں۔(آغا افتخار)

content-1701

article 838000411

article 838000412

article 838000413

article 838000414

article 838000415

article 838000416

article 838000417

article 838000418

article 838000419

article 838000420

article 838000421

article 838000422

article 838000423

article 838000424

article 838000425

article 838000426

article 838000427

article 838000428

article 838000429

article 838000430

article 838000431

article 838000432

article 838000433

article 838000434

article 838000435

article 838000436

article 838000437

article 838000438

article 838000439

article 838000440

article 838000441

article 838000442

article 838000443

article 838000444

article 838000445

article 838000446

article 838000447

article 838000448

article 838000449

article 838000450

article 00036

article 00037

article 00038

article 00039

article 00040

article 00041

article 00042

article 00043

article 00044

article 00045

article 00046

article 00047

article 00048

article 00049

article 00050

article 00051

article 00052

article 00053

article 00054

article 00055

article 00056

article 00057

article 00058

article 00059

article 00060

article 00061

article 00062

article 00063

article 00064

article 00065

article 00066

article 00067

article 00068

article 00069

article 00070

article 00071

article 00072

article 00073

article 00074

article 00075

article 0000131

article 0000132

article 0000133

article 0000134

article 0000135

article 0000136

article 0000137

article 0000138

article 0000139

article 0000140

article 0000141

article 0000142

article 0000143

article 0000144

article 0000145

article 0000146

article 0000147

article 0000148

article 0000149

article 0000150

article 0000151

article 0000152

article 0000153

article 0000154

article 0000155

article 0000156

article 0000157

article 0000158

article 0000159

article 0000160

article 0000161

article 0000162

article 0000163

article 0000164

article 0000165

article 0000166

article 0000167

article 0000168

article 0000169

article 0000170

article 2000126

article 2000127

article 2000128

article 2000129

article 2000130

article 2000131

article 2000132

article 2000133

article 2000134

article 2000135

article 2000136

article 2000137

article 2000138

article 2000139

article 2000140

article 2000141

article 2000142

article 2000143

article 2000144

article 2000145

article 2000146

article 2000147

article 2000148

article 2000149

article 2000150

article 2000151

article 2000152

article 2000153

article 2000154

article 2000155

article 2000156

article 2000157

article 2000158

article 2000159

article 2000160

article 2000161

article 2000162

article 2000163

article 2000164

article 2000165

articel 000000161

articel 000000162

articel 000000163

articel 000000164

articel 000000165

articel 000000166

articel 000000167

articel 000000168

articel 000000169

articel 000000170

articel 000000171

articel 000000172

articel 000000173

articel 000000174

articel 000000175

articel 000000176

articel 000000177

articel 000000178

articel 000000179

articel 000000180

articel 000000181

articel 000000182

articel 000000183

articel 000000184

articel 000000185

articel 000000186

articel 000000187

articel 000000188

articel 000000189

articel 000000190

articel 000000191

articel 000000192

articel 000000193

articel 000000194

articel 000000195

articel 000000196

articel 000000197

articel 000000198

articel 000000199

articel 000000200

content-1701
news-0801

yakinjp


sabung ayam online

yakinjp

yakinjp

rtp yakinjp

yakinjp

yakinjp

judi bola online

slot thailand

yakinjp

yakinjp

yakinjp

yakinjp

ayowin

mahjong ways

judi bola online

mahjong ways 2

JUDI BOLA ONLINE

maujp

maujp

sabung ayam online

maujp

maujp

maujp

maujp

sabung ayam online

mahjong ways slot

sbobet88

live casino online

Situs Agen Togel

MAUJP

118000021

118000022

118000023

118000024

118000025

118000026

118000027

118000028

118000029

118000030

118000031

118000032

118000033

118000034

118000035

118000036

118000037

118000038

118000039

118000040

118000041

118000042

118000043

118000044

118000045

118000046

118000047

118000048

118000049

118000050

128000021

128000022

128000023

128000024

128000025

128000026

128000027

128000028

128000029

128000030

128000031

128000032

128000033

128000034

128000035

128000036

128000037

128000038

128000039

128000040

128000041

128000042

128000043

128000044

128000045

128000046

128000047

128000048

128000049

128000050

138000021

138000022

138000023

138000024

138000025

138000026

138000027

138000028

138000029

138000030

138000031

138000032

138000033

138000034

138000035

138000036

138000037

138000038

138000039

138000040

138000041

138000042

138000043

138000044

138000045

138000046

138000047

138000048

138000049

138000050

148000026

148000027

148000028

148000029

148000030

148000031

148000032

148000033

148000034

148000035

148000036

148000037

148000038

148000039

148000040

148000041

148000042

148000043

148000044

148000045

148000046

148000047

148000048

148000049

148000050

148000051

148000052

148000053

148000054

148000055

148000056

148000057

148000058

148000059

148000060

148000061

148000062

148000063

148000064

148000065

148000066

148000067

148000068

148000069

148000070

158000041

158000042

158000043

158000044

158000045

158000046

158000047

158000048

158000049

158000050

158000051

158000052

158000053

158000054

158000055

158000056

158000057

158000058

158000059

158000060

158000061

158000062

158000063

158000064

158000065

158000066

158000067

158000068

158000069

158000070

168000011

168000012

168000013

168000014

168000015

168000016

168000017

168000018

168000019

168000020

168000021

168000022

168000023

168000024

168000025

168000026

168000027

168000028

168000029

168000030

168000031

168000032

168000033

168000034

168000035

168000036

168000037

168000038

168000039

168000040

178000036

178000037

178000038

178000039

178000040

178000041

178000042

178000043

178000044

178000045

178000046

178000047

178000048

178000049

178000050

178000051

178000052

178000053

178000054

178000055

178000056

178000057

178000058

178000059

178000060

178000061

178000062

178000063

178000064

178000065

188000141

188000142

188000143

188000144

188000145

188000146

188000147

188000148

188000149

188000150

188000151

188000152

188000153

188000154

188000155

188000156

188000157

188000158

188000159

188000160

188000161

188000162

188000163

188000164

188000165

188000166

188000167

188000168

188000169

188000170

198000031

198000032

198000033

198000034

198000035

198000036

198000037

198000038

198000039

198000040

198000041

198000042

198000043

198000044

198000045

198000046

198000047

198000048

198000049

198000050

198000051

198000052

198000053

198000054

198000055

198000056

198000057

198000058

198000059

198000060

218000021

218000022

218000023

218000024

218000025

218000026

218000027

218000028

218000029

218000030

218000031

218000032

218000033

218000034

218000035

218000036

218000037

218000038

218000039

218000040

218000041

218000042

218000043

218000044

218000045

218000046

218000047

218000048

218000049

218000050

228000016

228000017

228000018

228000019

228000020

228000021

228000022

228000023

228000024

228000025

228000026

228000027

228000028

228000029

228000030

228000031

228000032

228000033

228000034

228000035

228000036

228000037

228000038

228000039

228000040

228000041

228000042

228000043

228000044

228000045

228000046

228000047

228000048

228000049

228000050

238000001

238000002

238000003

238000004

238000005

238000006

238000007

238000008

238000009

238000010

238000011

238000012

238000013

238000014

238000015

238000016

238000017

238000018

238000019

238000020

news-0801