صبح کی سرخی

یہ میرے دوست ایوان ساووف کی کہانی ہے جو بلغاری فوج کی تھرڈ بٹالین میں ایک سینئرماتحت افسر تھا اور میری نگاہوں کے سامنے سرویائی سلسلۂ کوہ میں ایبار اور موراوا کے درمیان قائم کردہ محاذ پر کام آیا۔جنگِ عظیم کے دوسرے سال کے اواخرِ خزاں میں میری سالگرہ سے اگلے روز کا قصہ ہے کہ میں سفیدے کے دو مُردہ درختوں کے بیچ جھاڑیوں میں اپنی سالگرہ کی خوشی منا رہا تھا۔ کیمپ کے جلتے الاؤ اور اُن کے بھڑکتے شعلوں میں سرمئی آسمان سے کبھی کبھار گرتے اکا دکا برف کے گالے مکمل تنہائی کے احساس کو مزید گہرا کر رہے تھے۔یاد پڑتا ہے کہ یہ منظر مجھے اچانک ذرا مزاحیہ سا لگا تھا۔ کسی معرکے سے ایک دن قبل محاذ پر سرگرم ایک سپاہی کے لئے صرف چوبیس برس قبل پیدا ہونے کا واقعہ آخر کیا اہمیت رکھتا تھا؟ پھر بھی موت کا خیال اتنا ہی لغو تھا۔ بھلا کوئی اپنی سالگرہ سے ایک دن پہلے بھی مرتا ہے! لہذا میں نے خود کو لمبے کوٹ میں مزید سختی سے لپیٹتے ہوئے جھنڈ کی آڑ میں پناہ لی اور مانوس درختوں کی بل کھاتی ننگی شاخوں کے بیچ سے جھانکتے آسمان پر چمکتے ہوئے ستاروں کو دیکھنے لگا۔

صبح تین بجے الارم بج گیا۔ بویریائی دستے کی فرسٹ انفنٹری بٹالین نے حملہ کرنا تھا۔ نیند میں گیلے جھنڈ سے باہر سرک رہا تھا کہ میں نے ایوان ساووف کو ایلپائن کور کے سٹاف افسروں کے ہمراہ گزرتے دیکھا۔ اس کے ہاتھ میں جی ایچ کیو کا ایک نقشہ تھا اور وہ شمال کی جانب اشارہ کر رہا تھا۔میں چھلانگ مار کر اس کی جانب بڑھتے ہوئے یہ کہنے ہی والاتھا کہ ’’ایوان ساووف، کیا میں تمہیں یاد ہوں؟ کیا جینا یاد نہیں، جب ہم ملے تھے؟ میں جانتا ہوں تم افسر ہو اور میں صرف ایک سپاہی لیکن مجھے آگے بڑھ کر ہاتھ تو ملانا ہی چاہئے۔‘‘دوسرے افسر شاید چونک کر پیچھے ہٹ جاتے کیوں کہ دو دستوں کے لئے کئی سالوں کی جدائی کے بعد کسی معرکے کی صبح ملنا کوئی معمولی بات نہیں تھی۔

لیکن میں ان دو درختوں کے درمیان سے باہر نہ نکلا۔وہیں دونوں گیلے تنوں کو ہاتھوں سے دبائے کھڑا رہا۔ میں سپاہی تھا اور آخر انتظار کرنا تو سیکھ ہی چکا تھا۔ایوان ساووف دوسروں کے ہمراہ دھند میں غائب ہو گیااور بٹالین آگے بڑھ گئی۔

لیکن صبح کی پہلی کرنوںمیں بے گیاہ اونچائیوں پر بکھری ہوئی پست قامت جھاڑیوں کے منور ہوتے سمے، جب وہ سرمئی سپاہی ایک بھوری ندی کو پار کرتے ہوئے ایک اجاڑ تنگنائے میں نیچے اتر رہے تھے تو مجھے ایک بار پھر ایوان ساووف کا خیال آیا۔

جینا کی و ہ پُرکیف راتیں میرے ذہن میں نہیں تھیں جب ہم بادۂ احمر سے لطف اٹھاتے، ملی ترانے گنگناتے ، ایک دوسرے سے بغل گیر، فلسفہ آمیز گپ شپ لگاتے آس پاس کے مطمئن شہری راہگیروں کے اضطراب کا باعث بن رہے تھے۔ نہیں ، میں اس فولادی نیلے بالوں، زیتونی چہرے پر اکڑی ہوئی پلکوں اور مضبوط مخروطی ہاتھوں والے نوجوان بلغاری مصور کے بارے میں بھی نہیں سوچ رہا تھا۔ ہمارے ان دوسرے رفیقوں کے نزدیک جن کے ساتھ ہم آسمان پر تاروں کے مدھم ہو جانے اور پرندوں کے گیت چھیڑنے تک ہم رقص رہتے، وہ کام میں صبح شام ایک کر دینے والا ایک خوش مزاج بانکا تھا جو سارا دن تو زایس اور شاٹ کی فیکٹریوں میں دو پیسے کمانے کے لئے اپنی تکنیکی تصویروں کے ساتھ مشغول رہتا اور رات کا پہر دو پہر بس نیند کے حملوں سے نبرد آزما رہنے میں گزار دیتا۔ میرے ذہن میں تو وہ خوش نصیب لمحہ تھا جب مجھے اس کا دوسرا روپ دیکھنے کا موقع ملا۔

ایک دن وہ مجھے اپنی مخصوص گوشۂ تنہائی میں لے گیا، ایک مخدوش سا چوبارہ جہاں ساری جگہ بس پلنگ ، میز، کرسی اور نقاش تپائی نے ہی گھیر رکھی تھی۔میری طرف بے توجہی سے ایک ایسی خاکہ کشی کی کتاب پھینکنے کے بعد جو بس عام سے فطری مناظر،انسانی شبیہوں اور عمارتوں پر مشتمل تھی، اس نے ایک پردہ سرکایا جس کے پیچھے چنی ہوئی سفید دیوار پر ایک بہت بڑا کینوس نظر آ رہا تھا۔میری آنکھوں کے سامنے اس کی زندگی کی محنت تھی، بلاشبہ وہ خود کو جتنا بھی صرف کر سکتا تھا۔ نوکیلے پہاڑوں کے خدوخال کے عقب میں موجود ایک سرخ آسمان کے مقابل دو پہلوان اپنی آخری سانس تک کشتی میں مشغول تھے۔ دیومالائی قوت و جسامت والے دو برہنہ آدمی جو گنبد افلاک کو اپنے شعلہ آگیں غیظ و غضب سے بھڑکائے دے رہے تھے۔زمین اپنی آب و تاب میں آسمان کو چُھو رہی تھی اور لڑنے والوں کے اعضاء ایک ایسے کرّے پر پھیل رہے تھے جو محور سے کٹ کر دو حصوں میں جدا ہوتا محسوس ہوتا تھا۔ اب یاد آتا ہے کہ اس منظر نے مجھے کتنا متاثر کیا تھا لیکن ایوان ساووف بول پڑا: ’’جوسن یہ سب کچھ غلط ہے! یہ سرخ رنگ شعلہ آتشیں ہونا چاہئے، صبح کی سرخی ۔۔۔‘‘

صرف میں ہی جانتا ہوں کہ ساووف نے اس رنگ کے لئے کیا کیا پاپڑ نہیں بیلے۔ اُس کی اذیت آسیبی تھی، غیرمعقول اور ناامید کر دینے والی۔ وہ اپنے حقیر سے تختۂ مصوری سے اس قسم کا سرخ رنگ تخلیق نہیں کر سکتا تھا اور باالآخر ایک دن اس نے مجھے کہہ ہی دیا کہ وہ اپنے وطن بلغاریہ میں ایک اور طلوعِ سحر دیکھے بغیر اس تصویر کو مزید ہاتھ نہیں لگا پائے گا۔ انہی گرمیوں میں جنگ شروع ہو گئی ۔میں نے خود کو اپنے دوست اور اُس کی اُس نامکمل تصویر سے جدا کیا جو یک لخت تقدیر کی لکھی ایک زمانی علامت میں ڈھل چکی تھی ۔۔۔او راب۔۔۔

چار دن بعد اُس سے دوبارہ ملا قات یوں ہوئی کہ میں ایک سرویائی گاؤں کے آگے نصب حفاظتی چوکی پر کھڑا تھا جب دو بلغاری افسران اپنے گھوڑوں پر سامنے سے آتے دکھائی دئیے۔ وہ ایک دوسرے کے پہلو میں سست رفتار دُلکی چال سے ہم رکاب تھے اور ایک کا بازو دوسرے کے کاندھوں پر تھا۔ ان کے سامنے سے گزرنے کے بعد ہی میں نے ایوان ساووف کو پہچانا۔ اسی صبح جب ہم ایک نامعلوم منزل یعنی آمسل کے معرکے کے لئے نکل رہے تھے تو میں نے اسے دوبارہ دیکھا لیکن کچھ نہیں بولا۔

پیش قدمی کا نقارہ بجتے ہی میرا دل بلیّوں اچھلنے لگا۔ ہم ایک پہاڑی کی چوٹی پر قبضہ کر چکے تھے اور ہمارے مقابل وادی کی دوسری جانب سرویائی تھے۔ سنگینیں چڑھاتے ہوئے دشمن کی گامزن گولیاں پرندوں کی طرح ہمارے اوپر سے گزر رہی تھیں کہ اچانک کمان دار کا حکم ہمارے کانوں میں گونجا،’’حملہ!‘‘۔ چلّاتے ہوئے حملے کے لئے بڑھے تو سیٹیاں بجاتی گولیاں ہمارے آس پاس سے گزر رہی تھیں۔ پہاڑوں کے نام کون جانتا تھا، بس اتنا ہی معلوم تھا کہ بلغاریہ اور مقدونیہ ہمارے بائیں جانب ہیں، مونٹی نیگرو دائیں اور دشمن شمال کی سمت میں ہے۔ مکئی کے ایک کھیت کو چیرتے، بھوسے اور جھاڑیوں کو قدموں تلے روندتے ہوئے ایک وادی سے گزرنے کے بعد اب ہم ایک چڑھائی چڑھ رہے تھے۔ اسی اثناء میں سرویائی ٹوپیوں والے دو جوانوں نے ہینڈ گرینیڈ پھینکے جن میں سے ایک ہمارے ایک ساتھی کو لگا ، لیکن بہرحال ہم نے پہاڑی پر قابض ہوتے ہوئے سرویائی جوانوں کو بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ آگے بڑھتے ہوئے لگاتار فائرنگ جاری تھی ، زمین مسلسل لرز رہی تھی اور ہم لڑکھڑاتے ہوئے خالی مورچوں کے درمیان سے گزر رہے تھے۔ایک جوان رک کر روٹی یا تمباکو کی تلاش میں ایک مردہ سرویائی کا رسدی تھیلا علیحدہ کرنے لگا۔ آخر کار ہم دوسری پہاڑی تک پہنچ گئے جہاں بھورے سبز سرویائیوں کا ایک لشکر ڈھلوان سے چپکا نظر آ ر ہاتھا۔ اسی جگہ دشمن سے تقریباً تین سو گز پہلے ہمارا رستہ ایک پتھریلی دیوار نے روکا۔حکم ملا کہ اس کے سامنے پوزیشن لیتے ہوئے فائرنگ جاری رکھیں۔دشمن بے تحاشہ فائر کر رہا تھا ، گولیوں کی بوچھاڑ پتھروں کو توڑ رہی تھی اور ہمارے قدموں تلے موجود خود رو جھاڑیوں کے چیتھڑے اڑا رہی تھی۔ ایک دفعہ پھر حملے کا حکم ملا تو ہم ایک وحشیانہ مسرت کے ساتھ جست لگا کر آگے بڑھے۔ سرویائی قطاریں افراتفری کا شکار ہو کر ٹوٹ گئیں،باریش اجنبی چہرے اپنی ٹوٹی پھوٹی ناکارہ بندوقوں کے ساتھ ہمارے ارد گرد موجود تھے۔ نقل و حمل دستے کے سپاہیوں نے قیدیوں کو نرغے میں لے لیا جب کہ ہم فرار ہوتے دشمن کے تعاقب میں دریا تک جا پہنچے۔

اس دن ہم نے سات پہاڑیوں پر پیش قدمی کی۔ ساعتیں شمار کرنے کا موقع کہاں تھا، نہ اماں ابا کا کوئی خیال، شام ڈھلے ہی ہم پر کُھلا کہ ہم کہاں پہنچ چکے ہیں۔یہ ایک اونچی پتھریلی پہاڑی تھی جس پر کسی قسم کی کوئی آڑ موجود نہیں تھی۔ ہمارے مقابل پہاڑی کے پیچھے، افق پر سرویائی فوجیوں کے محفوظ دستے موجود تھے۔ وہ اب بھی مسلسل فائر کررہے تھے لیکن جیت ہماری ہی تھی۔ اب پہلی بار ہمارے افسروں نے نقشے نکالے اور یہ معلوم ہوا کہ ہم احکامات میں دی گئی مطلوبہ سرحد سے آگے نکل آئے ہیں۔لہٰذا ہم نے ایک گھنٹہ واپسی کا سفر کیا اور خیمہ زن ہو گئے۔

اب یہ معلوم ہوا کہ ہم ایک افسر پیچھے بھول آئے ہیں۔ جب ہم اس اونچی پہاڑی کی ڈھلوان پر لیٹے تھے تو کمپنی نمبر ۲ کا کماندار ،نوجوان کپتان ’پی‘صرف ایک جوان کے ہمراہ اس مقصد سے ہاتھوں پیروں کے بل چلتا ہوا وادی میں داخل ہوا تھا کہ ایک ایسی بارودی چرخی پر قبضہ کر لے جس کی مدد سے دشمن مسلسل فائر کر رہا تھا۔شام ڈھلے واپس لوٹتے ہوئے ہم اس بہادر سپاہی کو بھول آئے تھے، لہٰذا کرنل نے کپتان کو واپس لانے کے لئے رضاکار طلب کئے۔ اچانک بجلی سی کوند گئی، جوان اُچک اُچک کر خود کو پیش کر رہے تھے، میں نے دیکھا کہ ایوان ساووف اس پارٹی کی کمان کے لئے خود کو پیش کر رہا تھا اور تھوڑی پس و پیش کے بعد کرنل نے آخر کار اس کی بات مان لی۔ ہم ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ رہتے ہوئے اس ساکت و پُراسرار رات میں نکل پڑے۔

ایوان ساووف راستے سے خوب واقف تھا اسی لئے اس نے خود کو راہنمائی کے لئے پیش کیا تھا۔ میں جلد ہی باقی ساتھیوں کے بیچ سے گزرتا ہوا اس کے بازو میں پہنچ گیا۔میں نے ابھی ’’جینا، جوسن،‘‘ ہی کہا تھا کہ اس نے اپنی گہری کھنکھارتی آواز میں قہقہہ لگایا اور ہم ایک دوسرے سے لپٹ گئے۔ رات کی تاریکی میں دور دور سے لپکتی گولیوں کی جھنکارسنائی دے رہی تھی۔ میں اسے چار ہفتے قبل فرانس کے ایک معرکے میں کام آ جانے والے اپنے بھائی کے متعلق بتاتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ اب اس ملک میں وہی میرا بھائی ہے۔ ہم ایک دوسرے کا ہاتھ مضبوطی سے تھامے ،آہستگی سے دھند کی ایک سرنگ میں نشیب و فراز طے کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے، جب گئے دنوں کی طرح ایک بار پھر تفلسف آمیز گپ شپ شروع ہو گئی ۔ اُس تصویر ، ان دو پہلوانوں اور شعلہ آگیں آسمان کا ذکر چھڑ گیا۔ ’’میں نے اب تک اسے پینٹ نہیں کیا،‘‘ اس نے میرے ہمراہ ایک ہیولا نما اونچائی طے کرتے ہوئے سرگوشی کی۔۔۔’’جنگ کے بعد ہم ایک بار پھر اکٹھے ہوں گے، جینا، میونخ یا صوفیہ میں۔‘‘

اچانک پتہ چلا کہ ہم ایک غلط پگڈنڈی پر ہیں۔ مکمل ابر آلود آسمان سے ہمیں ذرا سی روشنی بھی میسر نہیں تھی اور جب ہم نے سمت نما کے مطابق چلنے کی کوشش کی تو پہاڑی نالوں اور کھائیوں تک تو پہنچے لیکن اس گہری وادی کا کوئی نشان نہ تھا جہاں بارودی چرخی نصب تھی۔ دشمن کے فائر کی گونج ہمیں اِدھر اُدھر بھٹکاتی رہی، دھند روشن ہوتی گئی ، یہاں تک کہ صبح کے تقریباً پانچ بجے ہمیں اپنے نیچے ا س منحوس سرویائی بارودی چرخی کے پہیے نظر آئے۔

دور اونچائی سے آتی سرویائی گولیوں کی مسلسل سیٹیوں تلے ، ہم بہت دھیان سےہاتھوں پیروں کے بل نیچے جانے لگے۔ عجیب بات تھی کہ چرخی جنگلی پہاڑی چشمے کےتیز دھارے کی قوت سے اب بھی چل رہی تھی۔ ہم رینگتے ہوئے قریب پہنچے ، کوئی حرکت تو نہیں تھی لیکن ہمیں پہیے کے نیچے ایک آدمی بیٹھا نظر آیا۔ اپنی بندوقوں سے حفاظتی قفل ہٹاتے ہوئے ہم نے اسے للکارا۔ وہ کمپنی نمبر ۲ کا حوالدار ’کے‘ تھا جس کے قدموں میں کپتان ’پی‘ پڑا تھا جو ران میں گولی لگنے کے باعث زیادہ خون بہہ جانے سے مر چکا تھا۔ لاش کی حفاظت کرتے جوان کو ہوش میں لانے میں کافی وقت لگا۔ پھر ہم نے ایک قبر کھودی اور مردہ آدمی کو اس طرح اُس میں لٹا دیا کہ چہرہ دشمن کی طرف تھا اور ٹانگیں شمال میں بنجر پہاڑ کی ڈھلوان کی جانب۔ زمین سخت اور پتھریلی تھی اور ہماری کدالیں چل رہی تھیں کہ صبح کاذب کی روشنی دکھائی دی۔قبر کے دامن میں صلیب نصب کرتے کرتے مردہ جوان کی ہیلمٹ ایک لطیف سی سرخی میں نہا گئی۔ ہمیں فوراً دوڑتے ہوئے آڑ لینی چاہئے تھی لیکن سورج ہم سے زیادہ طاقت ور تھا۔ وہ مشرق میں موجود دندانی پہاڑیوں کے عقب میں ہمارے خوابیدہ وطن بلغاریہ سے آہستگی سے ابھرا اور مقدونی پہاڑیوں کو اپنے سیلِ نُور میں بہا کر لے گیا۔ایبار اور موراوا کے بیچ صبح کی سرخ چمک نے ہم پرانے ، سخت جان سپاہیوں کو اپنے گھٹنوں پر گرا دیا۔

اسی لمحے میں نے ایوان ساووف کو عبادت کی سرشاری میں ڈوبے ہوئے ایک انسان کے رُوپ میں دیکھا۔ اُس کی تجسس سے لبریز آنکھوں پر ایک پردہ سا پڑا تھا، ایک ایسا پردہ جو نزدیک ہوتی موت کو آنکھوں سے اوجھل کر دے۔ وہ موت کو آتے نہیں دیکھ سکتا تھا کہ اس لمحے موت اس کے لیے قطعی نامانوس تھی۔ لیکن میں، اس کا دوست، موت کو بخوبی دیکھ رہا تھا ۔۔۔ایوان ساووف اوپر اٹھا تو چہرہ اُس کے وطن کی جانب تھا۔ صبح کی کرب انگیز ، پرسکون سرخی دیکھتے ہوئے وہ میری جانب مڑا اور کہا:’’تم نے دن نکلتے دیکھا۔ یہ ہوتا ہے سرخ۔۔۔‘‘ اسی لمحے پہاڑی کے بالائی کنارے سے ایک گولی آ کر اسے لگی۔ میں نے اس کے لبوں پر ایک متکبرانہ سی مسکراہٹ دیکھی لیکن گولی اس کا دل چیر چکی تھی۔ اس نے صبح کی سرخی میں اپنا وطن دیکھ لیا تھا۔ کاش وہ اسے پینٹ بھی کر سکتا۔۔۔!

تو اب ہمیں ایک اور قبر کھودنا تھی ۔ لیکن ہم نے ایوان ساووف کو جرمن افسر کے بازو میں ہی دفنا دیا، چند قد م مشترکہ زمین پر موجود دو فوجی کامریڈوں کے بیچ سرحدوں کی ضرورت بھی کیا تھی۔ جرمن قبر کی مٹی ہی بلغاری سینے پر گر رہی تھی سو ہم نے ان کے ہاتھ ایک دوسرے میں تھما دئیے۔ جب ہم صبح کی سرخی میں واپس لوٹ رہے تھے تو مکمل سکوت تھا ۔آخری گولی چل چکی تھی۔

***

ترجمہ: عاصم بخشی

content-1701

article 8998000441

article 8998000442

article 8998000443

article 8998000444

article 8998000445

article 8998000446

article 8998000447

article 8998000448

article 8998000449

article 8998000450

article 8998000451

article 8998000452

article 8998000453

article 8998000454

article 8998000455

article 8998000456

article 8998000457

article 8998000458

article 8998000459

article 8998000460

article 8998000461

article 8998000462

article 8998000463

article 8998000464

article 8998000465

article 8998000466

article 8998000467

article 8998000468

article 8998000469

article 8998000470

article 2000126

article 2000127

article 2000128

article 2000129

article 2000130

article 2000131

article 2000132

article 2000133

article 2000134

article 2000135

article 2000136

article 2000137

article 2000138

article 2000139

article 2000140

article 2000141

article 2000142

article 2000143

article 2000144

article 2000145

article 2000146

article 2000147

article 2000148

article 2000149

article 2000150

article 2000151

article 2000152

article 2000153

article 2000154

article 2000155

article 2000156

article 2000157

article 2000158

article 2000159

article 2000160

article 2000161

article 2000162

article 2000163

article 2000164

article 2000165

article 2000166

article 2000167

article 2000168

article 2000169

article 2000170

article 2000166

article 2000167

article 2000168

article 2000169

article 2000170

article 2000171

article 2000172

article 2000173

article 2000174

article 2000175

article 2000176

article 2000177

article 2000178

article 2000179

article 2000180

article 2000181

article 2000182

article 2000183

article 2000184

article 2000185

article 2000186

article 2000187

article 2000188

article 2000189

article 2000190

article 2000191

article 2000192

article 2000193

article 2000194

article 2000195

article 2000196

article 2000197

article 2000198

article 2000199

article 2000200

article 2000201

article 2000202

article 2000203

article 2000204

article 2000205

article 2000206

article 2000207

article 2000208

article 2000209

article 2000210

article 2000211

article 2000212

article 2000213

article 2000214

article 2000215

article 2000216

article 2000217

article 2000218

article 2000219

article 2000220

article 2000221

article 2000222

article 2000223

article 2000224

article 2000225

article 2990216

article 2990217

article 2990218

article 2990219

article 2990220

article 2990221

article 2990222

article 2990223

article 2990224

article 2990225

article 2990226

article 2990227

article 2990228

article 2990229

article 2990230

article 2990231

article 2990232

article 2990233

article 2990234

article 2990235

article 2990236

article 2990237

article 2990238

article 2990239

article 2990240

article 2990241

article 2990242

article 2990243

article 2990244

article 2990245

article 2990246

article 2990247

article 2990248

article 2990249

article 2990250

article 2990251

article 2990252

article 2990253

article 2990254

article 2990255

article 2990256

article 2990257

article 2990258

article 2990259

article 2990260

article 2990261

article 2990262

article 2990263

article 2990264

article 2990265

article 888866

article 888867

article 888868

article 888869

article 888870

article 888871

article 888872

article 888873

article 888874

article 888875

article 888876

article 888877

article 888878

article 888879

article 888880

article 888881

article 888882

article 888883

article 888884

article 888885

article 888886

article 888887

article 888888

article 888889

article 888890

article 888891

article 888892

article 888893

article 888894

article 888895

article 888896

article 888897

article 888898

article 888899

article 888900

article 888901

article 888902

article 888903

article 888904

article 888905

article 888906

article 888907

article 888908

article 888909

article 888910

article 888911

article 888912

article 888913

article 888914

article 888915

article 888916

article 888917

article 888918

article 888919

article 888920

article 888921

article 888922

article 888923

article 888924

article 888925

article 0000221

article 0000222

article 0000223

article 0000224

article 0000225

article 0000226

article 0000227

article 0000228

article 0000229

article 0000230

article 0000231

article 0000232

article 0000233

article 0000234

article 0000235

article 0000236

article 0000237

article 0000238

article 0000239

article 0000240

article 0000241

article 0000242

article 0000243

article 0000244

article 0000245

article 0000246

article 0000247

article 0000248

article 0000249

article 0000250

article 0000251

article 0000252

article 0000253

article 0000254

article 0000255

article 0000256

article 0000257

article 0000258

article 0000259

article 0000260

article 0000261

article 0000262

article 0000263

article 0000264

article 0000265

article 0000266

article 0000267

article 0000268

article 0000269

article 0000270

article 5500126

article 5500127

article 5500128

article 5500129

article 5500130

article 5500131

article 5500132

article 5500133

article 5500134

article 5500135

article 5500136

article 5500137

article 5500138

article 5500139

article 5500140

article 5500141

article 5500142

article 5500143

article 5500144

article 5500145

article 5500146

article 5500147

article 5500148

article 5500149

article 5500150

article 5500151

article 5500152

article 5500153

article 5500154

article 5500155

article 7700156

article 7700157

article 7700158

article 7700159

article 7700160

article 7700161

article 7700162

article 7700163

article 7700164

article 7700165

article 7700166

article 7700167

article 7700168

article 7700169

article 7700170

article 7700171

article 7700172

article 7700173

article 7700174

article 7700175

article 7700176

article 7700177

article 7700178

article 7700179

article 7700180

article 7700181

article 7700182

article 7700183

article 7700184

article 7700185

content-1701
news-0801

yakinjp


sabung ayam online

yakinjp

yakinjp

rtp yakinjp

yakinjp

yakinjp

judi bola online

slot thailand

yakinjp

yakinjp

yakinjp

yakinjp

ayowin

mahjong ways

judi bola online

mahjong ways 2

JUDI BOLA ONLINE

maujp

maujp

sabung ayam online

maujp

maujp

maujp

maujp

sabung ayam online

mahjong ways slot

sbobet88

live casino online

Situs Agen Togel

MAUJP

118000021

118000022

118000023

118000024

118000025

118000026

118000027

118000028

118000029

118000030

118000031

118000032

118000033

118000034

118000035

118000036

118000037

118000038

118000039

118000040

118000041

118000042

118000043

118000044

118000045

118000046

118000047

118000048

118000049

118000050

128000021

128000022

128000023

128000024

128000025

128000026

128000027

128000028

128000029

128000030

128000031

128000032

128000033

128000034

128000035

128000036

128000037

128000038

128000039

128000040

128000041

128000042

128000043

128000044

128000045

128000046

128000047

128000048

128000049

128000050

138000021

138000022

138000023

138000024

138000025

138000026

138000027

138000028

138000029

138000030

138000031

138000032

138000033

138000034

138000035

138000036

138000037

138000038

138000039

138000040

138000041

138000042

138000043

138000044

138000045

138000046

138000047

138000048

138000049

138000050

148000026

148000027

148000028

148000029

148000030

148000031

148000032

148000033

148000034

148000035

148000036

148000037

148000038

148000039

148000040

148000041

148000042

148000043

148000044

148000045

148000046

148000047

148000048

148000049

148000050

148000051

148000052

148000053

148000054

148000055

148000056

148000057

148000058

148000059

148000060

148000061

148000062

148000063

148000064

148000065

148000066

148000067

148000068

148000069

148000070

158000041

158000042

158000043

158000044

158000045

158000046

158000047

158000048

158000049

158000050

158000051

158000052

158000053

158000054

158000055

158000056

158000057

158000058

158000059

158000060

158000061

158000062

158000063

158000064

158000065

158000066

158000067

158000068

158000069

158000070

168000011

168000012

168000013

168000014

168000015

168000016

168000017

168000018

168000019

168000020

168000021

168000022

168000023

168000024

168000025

168000026

168000027

168000028

168000029

168000030

168000031

168000032

168000033

168000034

168000035

168000036

168000037

168000038

168000039

168000040

178000036

178000037

178000038

178000039

178000040

178000041

178000042

178000043

178000044

178000045

178000046

178000047

178000048

178000049

178000050

178000051

178000052

178000053

178000054

178000055

178000056

178000057

178000058

178000059

178000060

178000061

178000062

178000063

178000064

178000065

188000141

188000142

188000143

188000144

188000145

188000146

188000147

188000148

188000149

188000150

188000151

188000152

188000153

188000154

188000155

188000156

188000157

188000158

188000159

188000160

188000161

188000162

188000163

188000164

188000165

188000166

188000167

188000168

188000169

188000170

198000031

198000032

198000033

198000034

198000035

198000036

198000037

198000038

198000039

198000040

198000041

198000042

198000043

198000044

198000045

198000046

198000047

198000048

198000049

198000050

198000051

198000052

198000053

198000054

198000055

198000056

198000057

198000058

198000059

198000060

218000021

218000022

218000023

218000024

218000025

218000026

218000027

218000028

218000029

218000030

218000031

218000032

218000033

218000034

218000035

218000036

218000037

218000038

218000039

218000040

218000041

218000042

218000043

218000044

218000045

218000046

218000047

218000048

218000049

218000050

228000016

228000017

228000018

228000019

228000020

228000021

228000022

228000023

228000024

228000025

228000026

228000027

228000028

228000029

228000030

228000031

228000032

228000033

228000034

228000035

228000036

228000037

228000038

228000039

228000040

228000041

228000042

228000043

228000044

228000045

228000046

228000047

228000048

228000049

228000050

238000001

238000002

238000003

238000004

238000005

238000006

238000007

238000008

238000009

238000010

238000011

238000012

238000013

238000014

238000015

238000016

238000017

238000018

238000019

238000020

news-0801