زبیر سیفی کی نظمیں

ماں عرف افریقی کہاوت

 

وہ میری ماں تھی جو کہاوتوں میں موجود تھی

میرا باپ کہاوتوں سے ندارد تھا

‘اندھی پیس رہی ہے، کتے کھارہے ہیں!’

لیکن میری ماں اندھی نہیں تھی

بس کم دکھائی دیتا تھا اسے اور

اس سے بھی کم مجھے دکھائی دیتے رہے

تمام عمر ماں کے دکھ!

 

‘غریب کی جورو، سب کی بھابھی’

میں باپ ہوکر بھی نہیں موجود تھے

اس میں بھی ناموجود طور پر ماں ہی تھی

اور نہیں لکھا تھا باپ کے آگے غریب!

 

اور ایک دن

میرا بہنوئی بھی گھسیٹ لایا گیا کہاوت میں

وہ ہونا جو نہ ہونے کے برابر تھا

رانڈ کے جمائی میں چلاآیا

ماں داماد کے چکر میں زندہ گالی بن کر رہ گئی

۔۔

میں جو الگ تھلگ محسوس کرتا تھا خود کو

شاعر ہونے کے غرور میں بدمست

مجھے بھی ‘رنڈی کا جنا’ کہہ کر پکارا گیا تو

ماں رو دی

اور باپ مند مند مسکان دبائے اپنے کیے گئے عمل کے زندہ نتیجے کو دیکھ کر کچھ نہ بولا

 

وہ میری ماں تھی

جسے کسی کتاب میں، کسی گرنتھ میں لانے کے بجائے

ساری دنیا کہاوتوں میں لے آئی

سڑک پر کسی نے کہا

ہوس کا کھوپڑا اور رنڈی کا بھوسڑا کبھی نہ بھرا

میری ماں کو  پروس کر رکھ دیا گیا

تمام  برابریوں کے پرے ایک جملے میں

مغربی اتر پردیش کے کسی سائنس داں نے نہیں خارج کیا یہ اصول!

۔۔

بچپن سے جوانی تک آتے ہوئے

کہاوتیں سنیں اور ماں ہر کہاوت میں تھی

وہ ماں جو کبھی پھاٹک سے باہر نہ گئی

وہ ہر کہاوت میں رہی!

 

ایک دن کہیں آگئی افریقی کہاوت سامنے

عورت شیطان کو بھی دھوکا دے سکتی ہے!

میں  حیران تھا کہ ماں نے افریقہ کا دورہ کب کیا

براعظم کے اس طرف میری ماں ایک  کہاوت میں تھی!

۔۔

تب جانا

میری ماں نے تمام عمر ان شیطانوں کو دھوکا دیا

جو کہاوتیں رچتے تھے

ماں شیطان نہیں تھی، ماں ایک کہاوت تھی

جس نے مجھے دودھ پلایا

 

اور ماں اکثر کہتی تھی

عورت کی زبان ہڈیاں توڑ دیتی ہے!

پچھلے کچھ منٹوں سے وہ یہی تھی

اور

ماں نے آپ سب کی ہڈیاں توڑ دی ہیں!

٠٠٠

 

کُکر متّوں کا درس

 

ان کے بیچ ہی جنم پایا تھا میں نے

میں وہیں بڑا ہوا

میں انہیں کے اسکول میں پڑھا

انہیں کے اسکول میں پڑھی زبان میں یہ سب کہہ رہا ہوں آج

میں ان سے الگ نہیں تھا

میرے نہ چاہتے ہوئے بھی وہ حاوی تھے میرے اوپر

وہ اسکولوں میں بھی تھے، گھر پر بھی

بازاروں میں بھی

بس اپنے بھیتر نہیں تھے

وہ اتنے کھلے ہوئے تھے کہ ان سے بو نہیں آتی تھی موریوں کی

ان سے ناک کے بال جھلسادینے والے عطر کی بو آتی تھی

وہ مسواک رکھے ڈولتے تھے

وہ ٹانگوں کے درمیان کھجلاتے تھے بات چیت کے دوران

اور دماغ کھجاتے تھے دلائل مانگنے پر

وہ خود تو ‘والضالین’ کے بعد زور سے آمین کہتے تھے

مگر ان کی عورتیں بول نہیں سکتی تھیں!

۔۔

اتنی پرہیزگاری تھی ان کے لباس میں کہ فرشتے معلوم پڑتے تھے

مگر چھوٹے بچوں کی تاک میں لگی رہتی تھی ان کی پرہیز گاری

وہ چھوٹی بچیوں کو مغرب سے کچھ ساعت پہلے تک پڑھاتے تھے

اور چھوٹے لڑکوں سے صاف کراتے تھے وضوخانہ!

 

وہ داڑھیوں میں خلال کرتے تھے

وہ بڑبولے تھے

اتنے بڑبولے کہ جب بولنے بیٹھتے تو پاتال میں دھنسا دیتے

قصبوں میں ان دنوں بس دوردرشن آتا تھا

اور آتے تھے دھوپ میں ایلمونیم کا اینٹینا دو ٹافی میں ایک گھنٹہ پکڑ کر کھانے والے بچے

لیکن وہ دوردرشن کے باپ تھے!

ہر کسی لڑکی کا چکر پتہ تھا

اور برا کا ناپ بھی

وہ جانتے تھے کس عورت کے کولہوں پر کس نمبر کی پینٹی پھنستی ہے

۔۔

ان کو ہی کہتے سنا تھا کہ فلاں گرلز اسکول کے ٹینک کی صفائی میں ایک کوئنٹل مولی اور گاجر نکلے

محلے میں مالا ڈی کی گولیاں سب سے زیادہ شبو دودھ والے کی لڑکی مانگتی ہے

وہی بتلاتے تھے کہ ایک مالن عورت کے بینگن سے مشت زنی کرتے وقت بینگن کا اگلا حصہ اندر ٹوٹنے پر

آپریشن سے نکلوانے میرٹھ جانا پڑا تھا

وہی چٹخارے لے کر کہتے تھے کہ سگریٹ کی جڑ میں اور عورت کے دھڑ میں مزہ ہی مزہ ہے

وہی محلے کے بچوں سے پوچھتے تھے ‘آج تو تیری امی نہائی ہوگی، جمعہ ہے آج؟’

تیرے باپ نے جمعرات منائی ہوگی!

اور بھدی ہنسی ہنستے تھے

وہ بچوں کے نیکر اتار دیتے تھے

وہی گلی کے کونے پر بیٹھتے تو نگاہوں سے آنے جانے والی عورتوں کے کپڑے اتار دیتے

وہ بکریوں، بھینسوں کے گپت انگوں کے بارے میں بھی بات کرتے

وہ اتنے خالی تھے (اسے بھرے ہوئے پڑھا جائے)

کہ کہیں بھی خالی ہوجانا چاہتے تھے

اور اتنے بھرے ہوئے کہ حد درجہ خالی لگتے تھے

ان کی باتیں چھیدوں کے ارد گرد گھومتیں

اور دھڑوں، چوتڑوں کے آس پاس!

وہ مشت زنی کے بارے میں بھی بات کرتے تھے

اور سدومیت کے بارے میں بھی

وہ بچوں کو بہکا کر باغ میں لے جانے والے چھلاوے تھے

۔۔

وہ موبائل کی چپوں میں پورن بھرواکر لاتے، داڑھی رکھتے

اور اشاروں میں کہتے ڈاؤن لوڈنگ کی دکانوں پر ‘گھوڑے والی ڈالو، گھوڑے والی، تگڑی سی’

اور پھر گھوڑے کی شکل میں خود کا تصور کرتے تھے

۔۔

ان پر ہر جمعہ نہانا عین  واجب نہ تھا

لیکن ان کی عورتیں روز نہاتی تھیں

وہ خو کو گرم رکھنے کے لیے طرح طرح کی غذائیں اور گوشت بسم اللہ پڑھ کر کھاتے تھے

اور بنا بسم اللہ کے کھاتے تھے ٹھنڈا گوشت!

 

ایک دن ان کا نکاح بھی ہوگیا

ان کا دبدبہ ایسا تھاکہ  اگر آپ ان سے کہتے، نکاح؟

تو وہ بتلاتے انگریزی میں

‘وی کریئیٹڈ یو اِن پیئرز’

لیکن ان کے جوڑ کا کوئی نہ تھا

وہ مولانا تھے

اتنے کہ ان کے ناڑے  صرف ایک سرا پکڑ کر کھینچ دینے  سے ہی کھل جایا کرتے تھے

۔۔

میں نے انہیں مولانا سے درس پایا  ہے

پیغمبر کی حدیث ہے، ضعیف ہی سہی

‘علم حاصل کرنے کے لیے اگر چین بھی جانا پڑے تو جاؤ’

میں چین نہیں جاسکا اور حدیث بھی مجھے مولانا کے سوا کہیں نہیں لے جاسکی!

مگر

دین انسان کو کہاں سے کہاں لے جاتا ہے!

٠٠٠

 

ایک  مہان بھاشا میں بولتے ہوئے

 

یہ کوئی عام بھاشا نہیں ہے

اس بھاشا کی نظمیں سود مند ہیں  شاعر قنوطی

یہ بھاشا اکادمیوں کے دروازوں پر پڑی رہتی ہے

اس کے ادیب ریڑھ جھکائے حکومت کے جوتے چاٹتے ہیں

یہ بھاشا ‘لُٹین زون’ کے غلام شاعروں کی پیاری بھاشا ہے

۔۔

اس بھاشا کے شاعروں کے لیے  اناج کھانا پہلا عمل نہیں

سب سے پہلا کام ہے ایڈیٹروں کے چوتڑوں میں گھسنا

یہ مہان بھاشا مشاعروںمیں پائی جاتی ہے، عورتوں اور صرف عورتوں پر اوچھے مذاقوں اور پھبتیوں میں

یہ بھاشا شاعر عہد کے قدموں میں وقف ہے

۔۔

اس بھاشا کا کوئی سُر نہیں ہے

اور دنیا کی تمام بھاشاؤں کی طرح ہوتے ہوئے بھی ایسی محض ایک بھاشا ہے یہ

جو سرکار سے ڈرتی اور انعاموں سے خوش ہوتی ہے

اسی بھاشا میں قاتلوں کی مدح لکھی جاتی ہے

اسی بھاشا میں بولا جاتا ہے ‘جے!’

اسی بھاشا میں بولتا ہے لال قلعے سے دیو

اسی بھاشا میں ادھیڑی جاتی ہے تھانوں میں چمڑی!

اس بھاشا پر قابض ہوگئے ہیں بزرگ اور اشراف

یہ وزارتوں کی بھاشا ہے اور وزیروں کی بھاشا اس سے کہیں گئی گزری ہے

یہ بھاشا ڈھانچوں کی بھاشا ہے

سمادھیوں کی بھاشا ہے

قتل کی بھاشا بھی یہی ہے!

اسی بھاشا میں ہیں ہندی شعبوں پر گدھ کی طرح پنجے گڑائے پروفیسر!

اسی بھاشا میں جان بوجھ کر زندگی برباد کرتے ہوئے زیادہ تر طلبا ہیں

یہی بھاشا بلاتکاریوں کو مہان ثابت کرتی ہے

اسی بھاشا میں پیڈوفائل غریبوں کا شاعر ہے

۔۔

بھارت کا استحصال بھی اسی بھاشا میں ہوا!

اسی بھاشا میں دیا گیا بے لگام سرکار کا پارلیمنٹ میں پہلا بھاشن

اسی بھاشا میں ادیبوں نے چاٹی اقتدار کی ملائی!

۔۔

یہ بھاشا محض بھاشا نہیں

یہ استحصال کی پہلی ندا ہے!

یہ بھاشا بولنا چاہتی ہے

مگر سرکار نے اس کا ٹینٹوا پکڑا ہوا ہے!

٠٠٠

 

سروں کی بھیڑ میں ایک نظم

 

یہ جتنے سر دکھائی دیتے ہیں

ابھی کچھ دیر بعد ان کے سروں سے ٹوپیاں اتر جائیں گی

جب یہ نکلیں گے تو ان میں سے کچھ ایک سر متشدد بھیڑ کی شکل لے لیں گے

ایسی قاتل بھیڑ  جو خدا کے نام پر قتل کرتے ہوئے نہیں ہچکچائے گی!

 

ان نکلنے والوں میں، ان اترتی ٹوپیوں میں سے، ان جھکتے ہوئے سروں سے ابھی کچھ دیر بعد ہی نکل آئے گا کوئی بلاتکاری

انہیں میں سے کوئی جاکر نمک تیز ہونے پر بیلٹ سے ادھیڑ ڈالے گا بیوی کی کمر

انہیں میں سے ایک نکلے گا جو قوم کے رہبر کی شکل اختیار کرے گا اور بینروں پر چھپے گا

 

انہیں میں سے نکلے گا زمین کا دلال

انہیں میں سے نکلیں گے روغن گر اور کلال

انہیں میں سے ہوں گے، ہوگا جن کے پاس حرام کا مال!

انہیں میں ہیں، چیخنے والے رنڈی اور چھنال!

 

ابھی اس بھیڑ کو نگاہ گڑائے دیکھتے رہو،

ان میں  ہی شامل ہیں وہ آنکھیں بھی جو عورتوں کا ایکسرے مفت میں کرتی ہیں

انہیں سیڑھیوں سے اترتے قدموں میں ہوگی وہ لات

جس کے نشان ایک بچے کی کمر سے نہ جائیں گے عمر بھر

 

اس بھیڑ کو جانچتے رہو

ابھی یہ صفوں سے باہر آئے گی اژدہوں کی طرح

لپلپاتی جیبھیں لیے دوڑتے ہوئے گوشت کی تلاش میں

ابھی یہ سروں کی بھیڑعبادت میں گم ہے!

 

ابھی اس بھیڑ سے کوئی نکلے گا!

جس کے فقط کچھ لفظ کہنے پر یہ سر ہتھیار ہوجائیں گے!

ابھی یہ مار دیں گے مجھے

فقط کچھ گھڑیوں بعد

ٹوپیاں اترنے کے بعد!

٠٠٠

 

یہ ایک لنڈ کویتا ہے

 

ہر ایک بات کے بیچ، ہر ایک جھگڑے میں

ہر زمین کے بٹوارے میں

ہر ایک کھیت کی مینڈ کے مسئلے میں

ایک چیز ہمیشہ رہی

ہر گلی محلے کی کشتم کشتگی میں

لنڈ!

 

محلے کے دبنگوں نے کمزور لوگوں کے کندھوں پر ہمیشہ رکھا جسے

مرد ہمیشہ اپنے ماتھے پر ٹانگے گھومتے رہے اسے

دوستوں نے بات بات پر پکڑا دیا لنڈ

چھوٹے بھائی نے مانگا پشتینی مکان میں حصہ تو بڑے بھائی نے کہا کہ ‘لنڈ لے لو!’

اور کچھ نہیں بگاڑ سکا عدالتی نظام اس کا!

 

بزرگ شاعروں نے کہا نوجوان شعرا کو پیٹھ پیچھے

‘وہ ! میرا لنڈ شاعر ہے!’

اور یہ بات ہندی ادب کے اتہاس میں نہیں لکھی گئی!

 

کوئی ایسی جگہ نہیں ہے دنیا کے نقشے میں جہاں لنڈ نہ پایا جاتا ہو اور بھارت کے سوا کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں اسے عام بول چال کی بھاشا میں اتنا برتا گیا ہو!

 

جذبات کے بہاؤ میں ‘لنڈ چپ کرو! رلاؤ گے کیا؟’

غصے میں ابلتے ہوئے ‘لنڈ دے دوں گا تمہارے منہ میں’

حیرت کی انتہا پر ‘لنڈ آدمی ہو یار’

تعجب سے منہ کھولے ہوئے’اجی میرا لنڈ!’

قواعد  کا کوئی ایسا فعل نہیں رہا

جسے لنڈ کے ساتھ وابستہ نہ کیا جاسکتا ہو

کوئی جملہ ایسا نہیں جہاں اسے گھسایا نہ جاسکے

مگر ہم مردوں نے اسے کہاں کہاں گھسانے کی کوشش کی

زندہ چلتے پھرتے انسانوں میں!

 

کئی صدیوں سے لنڈ ہاتھوں میں لیے گھومتا رہا مرد

یہ تہذیبوں کے ارتقا سے بھی پہلے کا واقعہ ہے

تاریخ دوبارہ لکھی جانی چاہیے کہ

پہیے کو گول گھمائے جانے سے قبل مرد نے لنڈ پکڑنا سیکھا تھا  ہاتھ میں!

 

ہمارے باپ اس کے دم پر ‘سپر مین’ بنے گھومتے رہے

جیسے یہ کوئی نادیدہ میڈل ہے، جو گردن کے بجائے ٹانگوں کے بیچ پہنایا گیا تھا ازل سے

اسی نرگسیت کا شکار ہوکر انہوں نے سنسار بھر کو اپنے آگے معمولی گردانا!

انہوں نے ناپ لیں غائب زمینیں، جیت لیے ہوائی قلعے

اس تختی کو ٹانگے  ہوئے کہ’ہمارے لنڈ میں دم ہے’

اور جب کہ حقیقت میں انہوں نے ایسا کوئی کام نہیں کیا تھا، جس سے دم لفظ کے ساتھ انصاف کرسکیں!

 

ادیبوں کو جان لینا چاہیے کہ

لنڈ کی کوئی تعریف نہیں ہوسکتی، کوئی تنقید نہیں ہوسکتی

کیونکہ تعریفیں اور تنقیدیں

خود میں ایک مکمل لنڈ ہیں

 

پاخانوں میں کی جانے والی  اور بیڈروم میں ہونے والی حرکتوں کے  پرے بھی موجود رہا لنڈ

انسانی زندگی کے ہر ایک لمحے میں

اتنا کہ ذرا سا تناؤ ڈھیلا ہوا تو شہر بھر کی دیواروں پر ‘ہفتے کے روز ملیں’کے اشتہار چھپ گئے جن کے ساتھ شرطیہ علاج سائلنٹ رہا!

 

‘ان لنڈ والے آدمیوں نے لنڈ کے زور پر بنادیا دنیا کو ایک دن لنڈ

اور لنڈ پر لکھی کویتا بھی لنڈ ہی جیسی کویتا ہوئی’

(بقول بزرگ شاعر)

 

اور اسے پڑھنے سے پہلے

نگاہ گھمائیے اپنے نیچے کی جانب

دنیا کو اس کے آپ کے پاس ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا

اس حالت میں یہ بس ایک لٹکی ہوئی بے جان چیز ہے!

٠٠٠

 

زبیر سیفی 1993 میں گلاوٹھی، بلند شہر یں پیدا ہوئے۔ہندی  شعرا کی نئی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ان کی نظمیں سدانیرا، ہندوی اور دوسرے ویب پورٹلز کے ساتھ رسائل کی زینت بھی بنتی رہی ہیں۔انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے  میڈیا میں گریجویشن اور ہندی میں پوسٹ گریجویشن کی ڈگریاں حاصل کی ہیں۔اور فی الحال وہ جامعہ میں ہی’ پی جی ڈپلومہ ٹرانسلیشن کے طالب علم ہیں۔ریختہ فائونڈیشن  کی ویب سائٹ صوفی نامہ سے وابستہ ہیں اور کئی اہم اردو کی کتابوں کو ہندی میں منتقل کرنے کا کام کررہے ہیں۔

گالی دنیا کی تمام تہذیبوں میں احتجاج کی ایک بڑی علامت کے طور پر سامنے آتی رہی ہے۔زبیر سیفی کا تعلق ہندوستان کے اس معاشرے سے ہے، جسے مدت سے اس سماجی نظام نے حاشیے پر رکھ چھوڑا ہے۔ ایسے میں اپنے  معاشرے کے سچ کو بیان کرنے کے لیے انہوں نے جو زبان اختیار کی ہے، وہ اشرافیہ اور زبان کے سکہ بند ٹھیکیداروں کو ضرور چبھ سکتی ہے، مگر وہ اپنی روش میں بالکل سچے اور کھرے معلوم  پڑتے ہیں۔ وہ سماج کو اپنی کویتاؤں میں اس قدر نڈر اور نئے طور پر دکھاتے ہیں  کہ ہمارے اپنے ننگے وجود اور بھیانک شکلیں ہماری کھلی اڑاتی معلوم پڑتی ہیں۔ ‘اور اردو ‘ کے لیے ان نظموں کا انتخاب انہوں نے خود کیا ہے۔

Attention Required! | Cloudflare

Sorry, you have been blocked

You are unable to access wajibjp.cfd

Why have I been blocked?

This website is using a security service to protect itself from online attacks. The action you just performed triggered the security solution. There are several actions that could trigger this block including submitting a certain word or phrase, a SQL command or malformed data.

What can I do to resolve this?

You can email the site owner to let them know you were blocked. Please include what you were doing when this page came up and the Cloudflare Ray ID found at the bottom of this page.

news-1701

yakinjp

yakinjp

rtp yakinjp

yakinjp

yakinjp

yakin jp

yakinjp id

maujp

maujp

maujp

\

sabung ayam online

sabung ayam online

SLOT MAHJONG

sabung ayam online

article 10000336

article 10000337

article 10000338

article 10000339

article 10000340

article 10000341

article 10000342

article 10000343

article 10000344

article 10000345

article 10000346

article 10000347

article 10000348

article 10000349

article 10000350

article 10000351

article 10000352

article 10000353

article 10000354

article 10000355

article 10000356

article 10000357

article 10000358

article 10000359

article 10000360

article 10000361

article 10000362

article 10000363

article 10000364

article 10000365

article 10000366

article 10000367

article 10000368

article 10000369

article 10000370

article 10000371

article 10000372

article 10000373

article 10000374

article 10000375

article 2990476

article 2990477

article 2990478

article 2990479

article 2990480

article 2990481

article 2990482

article 2990483

article 2990484

article 2990485

article 2990486

article 2990487

article 2990488

article 2990489

article 2990490

article 2990491

article 2990492

article 2990493

article 2990494

article 2990495

article 2990496

article 2990497

article 2990498

article 2990499

article 2990500

article 2990501

article 2990502

article 2990503

article 2990504

article 2990505

article 2990506

article 2990507

article 2990508

article 2990509

article 2990510

article 2990511

article 2990512

article 2990513

article 2990514

article 2990515

article 2000301

article 2000302

article 2000303

article 2000304

article 2000305

article 2000306

article 2000307

article 2000308

article 2000309

article 2000310

article 2000311

article 2000312

article 2000313

article 2000314

article 2000315

article 2000316

article 2000317

article 2000318

article 2000319

article 2000320

article 2000321

article 2000322

article 2000323

article 2000324

article 2000325

article 2000326

article 2000327

article 2000328

article 2000329

article 2000330

article 2000331

article 2000332

article 2000333

article 2000334

article 2000335

article 2000336

article 2000337

article 2000338

article 2000339

article 2000340

article 2000341

article 2000342

article 2000343

article 2000344

article 2000345

article 2000346

article 2000347

article 2000348

article 2000349

article 2000350

article 2000351

article 2000352

article 2000353

article 2000354

article 2000355

article 5500286

article 5500287

article 5500288

article 5500289

article 5500290

article 5500291

article 5500292

article 5500293

article 5500294

article 5500295

article 5500296

article 5500297

article 5500298

article 5500299

article 5500300

article 5500301

article 5500302

article 5500303

article 5500304

article 5500305

article 5500306

article 5500307

article 5500308

article 5500309

article 5500310

article 5500311

article 5500312

article 5500313

article 5500314

article 5500315

article 5500316

article 5500317

article 5500318

article 5500319

article 5500320

article 5500321

article 5500322

article 5500323

article 5500324

article 5500325

article 5500326

article 5500327

article 5500328

article 5500329

article 5500330

article 5500331

article 5500332

article 5500333

article 5500334

article 5500335

article 838000508

article 838000509

article 838000510

article 838000511

article 838000512

article 838000513

article 838000514

article 838000515

article 838000516

article 838000517

article 838000518

article 838000519

article 838000520

article 838000521

article 838000522

article 838000523

article 838000524

article 838000525

article 838000526

article 838000527

article 838000508

article 838000509

article 838000510

article 838000511

article 838000512

article 838000513

article 838000514

article 838000515

article 838000516

article 838000517

article 838000518

article 838000519

article 838000520

article 838000521

article 838000522

article 838000523

article 838000524

article 838000525

article 838000526

article 838000527

article 838000528

article 838000529

article 838000530

article 838000531

article 838000532

article 838000533

article 838000534

article 838000535

article 838000536

article 838000537

article 838000538

article 838000539

article 838000540

article 838000541

article 838000542

article 838000543

article 838000544

article 838000545

article 838000546

article 838000547

article 838000548

article 838000549

article 838000550

article 838000551

article 838000552

article 838000553

article 838000554

article 838000555

article 838000556

article 838000557

article 9998000521

article 9998000522

article 9998000523

article 9998000524

article 9998000525

article 9998000526

article 9998000527

article 9998000528

article 9998000529

article 9998000530

article 9998000531

article 9998000532

article 9998000533

article 9998000534

article 9998000535

article 9998000536

article 9998000537

article 9998000538

article 9998000539

article 9998000540

article 9998000541

article 9998000542

article 9998000543

article 9998000544

article 9998000545

article 9998000546

article 9998000547

article 9998000548

article 9998000549

article 9998000550

article 9998000551

article 9998000552

article 9998000553

article 9998000554

article 9998000555

article 9998000556

article 9998000557

article 9998000558

article 9998000559

article 9998000560

article 9998000561

article 9998000562

article 9998000563

article 9998000564

article 9998000565

article 9998000566

article 9998000567

article 9998000568

article 9998000569

article 9998000570

news-1701