زبیر سیفی کی نظمیں

ماں عرف افریقی کہاوت

 

وہ میری ماں تھی جو کہاوتوں میں موجود تھی

میرا باپ کہاوتوں سے ندارد تھا

‘اندھی پیس رہی ہے، کتے کھارہے ہیں!’

لیکن میری ماں اندھی نہیں تھی

بس کم دکھائی دیتا تھا اسے اور

اس سے بھی کم مجھے دکھائی دیتے رہے

تمام عمر ماں کے دکھ!

 

‘غریب کی جورو، سب کی بھابھی’

میں باپ ہوکر بھی نہیں موجود تھے

اس میں بھی ناموجود طور پر ماں ہی تھی

اور نہیں لکھا تھا باپ کے آگے غریب!

 

اور ایک دن

میرا بہنوئی بھی گھسیٹ لایا گیا کہاوت میں

وہ ہونا جو نہ ہونے کے برابر تھا

رانڈ کے جمائی میں چلاآیا

ماں داماد کے چکر میں زندہ گالی بن کر رہ گئی

۔۔

میں جو الگ تھلگ محسوس کرتا تھا خود کو

شاعر ہونے کے غرور میں بدمست

مجھے بھی ‘رنڈی کا جنا’ کہہ کر پکارا گیا تو

ماں رو دی

اور باپ مند مند مسکان دبائے اپنے کیے گئے عمل کے زندہ نتیجے کو دیکھ کر کچھ نہ بولا

 

وہ میری ماں تھی

جسے کسی کتاب میں، کسی گرنتھ میں لانے کے بجائے

ساری دنیا کہاوتوں میں لے آئی

سڑک پر کسی نے کہا

ہوس کا کھوپڑا اور رنڈی کا بھوسڑا کبھی نہ بھرا

میری ماں کو  پروس کر رکھ دیا گیا

تمام  برابریوں کے پرے ایک جملے میں

مغربی اتر پردیش کے کسی سائنس داں نے نہیں خارج کیا یہ اصول!

۔۔

بچپن سے جوانی تک آتے ہوئے

کہاوتیں سنیں اور ماں ہر کہاوت میں تھی

وہ ماں جو کبھی پھاٹک سے باہر نہ گئی

وہ ہر کہاوت میں رہی!

 

ایک دن کہیں آگئی افریقی کہاوت سامنے

عورت شیطان کو بھی دھوکا دے سکتی ہے!

میں  حیران تھا کہ ماں نے افریقہ کا دورہ کب کیا

براعظم کے اس طرف میری ماں ایک  کہاوت میں تھی!

۔۔

تب جانا

میری ماں نے تمام عمر ان شیطانوں کو دھوکا دیا

جو کہاوتیں رچتے تھے

ماں شیطان نہیں تھی، ماں ایک کہاوت تھی

جس نے مجھے دودھ پلایا

 

اور ماں اکثر کہتی تھی

عورت کی زبان ہڈیاں توڑ دیتی ہے!

پچھلے کچھ منٹوں سے وہ یہی تھی

اور

ماں نے آپ سب کی ہڈیاں توڑ دی ہیں!

٠٠٠

 

کُکر متّوں کا درس

 

ان کے بیچ ہی جنم پایا تھا میں نے

میں وہیں بڑا ہوا

میں انہیں کے اسکول میں پڑھا

انہیں کے اسکول میں پڑھی زبان میں یہ سب کہہ رہا ہوں آج

میں ان سے الگ نہیں تھا

میرے نہ چاہتے ہوئے بھی وہ حاوی تھے میرے اوپر

وہ اسکولوں میں بھی تھے، گھر پر بھی

بازاروں میں بھی

بس اپنے بھیتر نہیں تھے

وہ اتنے کھلے ہوئے تھے کہ ان سے بو نہیں آتی تھی موریوں کی

ان سے ناک کے بال جھلسادینے والے عطر کی بو آتی تھی

وہ مسواک رکھے ڈولتے تھے

وہ ٹانگوں کے درمیان کھجلاتے تھے بات چیت کے دوران

اور دماغ کھجاتے تھے دلائل مانگنے پر

وہ خود تو ‘والضالین’ کے بعد زور سے آمین کہتے تھے

مگر ان کی عورتیں بول نہیں سکتی تھیں!

۔۔

اتنی پرہیزگاری تھی ان کے لباس میں کہ فرشتے معلوم پڑتے تھے

مگر چھوٹے بچوں کی تاک میں لگی رہتی تھی ان کی پرہیز گاری

وہ چھوٹی بچیوں کو مغرب سے کچھ ساعت پہلے تک پڑھاتے تھے

اور چھوٹے لڑکوں سے صاف کراتے تھے وضوخانہ!

 

وہ داڑھیوں میں خلال کرتے تھے

وہ بڑبولے تھے

اتنے بڑبولے کہ جب بولنے بیٹھتے تو پاتال میں دھنسا دیتے

قصبوں میں ان دنوں بس دوردرشن آتا تھا

اور آتے تھے دھوپ میں ایلمونیم کا اینٹینا دو ٹافی میں ایک گھنٹہ پکڑ کر کھانے والے بچے

لیکن وہ دوردرشن کے باپ تھے!

ہر کسی لڑکی کا چکر پتہ تھا

اور برا کا ناپ بھی

وہ جانتے تھے کس عورت کے کولہوں پر کس نمبر کی پینٹی پھنستی ہے

۔۔

ان کو ہی کہتے سنا تھا کہ فلاں گرلز اسکول کے ٹینک کی صفائی میں ایک کوئنٹل مولی اور گاجر نکلے

محلے میں مالا ڈی کی گولیاں سب سے زیادہ شبو دودھ والے کی لڑکی مانگتی ہے

وہی بتلاتے تھے کہ ایک مالن عورت کے بینگن سے مشت زنی کرتے وقت بینگن کا اگلا حصہ اندر ٹوٹنے پر

آپریشن سے نکلوانے میرٹھ جانا پڑا تھا

وہی چٹخارے لے کر کہتے تھے کہ سگریٹ کی جڑ میں اور عورت کے دھڑ میں مزہ ہی مزہ ہے

وہی محلے کے بچوں سے پوچھتے تھے ‘آج تو تیری امی نہائی ہوگی، جمعہ ہے آج؟’

تیرے باپ نے جمعرات منائی ہوگی!

اور بھدی ہنسی ہنستے تھے

وہ بچوں کے نیکر اتار دیتے تھے

وہی گلی کے کونے پر بیٹھتے تو نگاہوں سے آنے جانے والی عورتوں کے کپڑے اتار دیتے

وہ بکریوں، بھینسوں کے گپت انگوں کے بارے میں بھی بات کرتے

وہ اتنے خالی تھے (اسے بھرے ہوئے پڑھا جائے)

کہ کہیں بھی خالی ہوجانا چاہتے تھے

اور اتنے بھرے ہوئے کہ حد درجہ خالی لگتے تھے

ان کی باتیں چھیدوں کے ارد گرد گھومتیں

اور دھڑوں، چوتڑوں کے آس پاس!

وہ مشت زنی کے بارے میں بھی بات کرتے تھے

اور سدومیت کے بارے میں بھی

وہ بچوں کو بہکا کر باغ میں لے جانے والے چھلاوے تھے

۔۔

وہ موبائل کی چپوں میں پورن بھرواکر لاتے، داڑھی رکھتے

اور اشاروں میں کہتے ڈاؤن لوڈنگ کی دکانوں پر ‘گھوڑے والی ڈالو، گھوڑے والی، تگڑی سی’

اور پھر گھوڑے کی شکل میں خود کا تصور کرتے تھے

۔۔

ان پر ہر جمعہ نہانا عین  واجب نہ تھا

لیکن ان کی عورتیں روز نہاتی تھیں

وہ خو کو گرم رکھنے کے لیے طرح طرح کی غذائیں اور گوشت بسم اللہ پڑھ کر کھاتے تھے

اور بنا بسم اللہ کے کھاتے تھے ٹھنڈا گوشت!

 

ایک دن ان کا نکاح بھی ہوگیا

ان کا دبدبہ ایسا تھاکہ  اگر آپ ان سے کہتے، نکاح؟

تو وہ بتلاتے انگریزی میں

‘وی کریئیٹڈ یو اِن پیئرز’

لیکن ان کے جوڑ کا کوئی نہ تھا

وہ مولانا تھے

اتنے کہ ان کے ناڑے  صرف ایک سرا پکڑ کر کھینچ دینے  سے ہی کھل جایا کرتے تھے

۔۔

میں نے انہیں مولانا سے درس پایا  ہے

پیغمبر کی حدیث ہے، ضعیف ہی سہی

‘علم حاصل کرنے کے لیے اگر چین بھی جانا پڑے تو جاؤ’

میں چین نہیں جاسکا اور حدیث بھی مجھے مولانا کے سوا کہیں نہیں لے جاسکی!

مگر

دین انسان کو کہاں سے کہاں لے جاتا ہے!

٠٠٠

 

ایک  مہان بھاشا میں بولتے ہوئے

 

یہ کوئی عام بھاشا نہیں ہے

اس بھاشا کی نظمیں سود مند ہیں  شاعر قنوطی

یہ بھاشا اکادمیوں کے دروازوں پر پڑی رہتی ہے

اس کے ادیب ریڑھ جھکائے حکومت کے جوتے چاٹتے ہیں

یہ بھاشا ‘لُٹین زون’ کے غلام شاعروں کی پیاری بھاشا ہے

۔۔

اس بھاشا کے شاعروں کے لیے  اناج کھانا پہلا عمل نہیں

سب سے پہلا کام ہے ایڈیٹروں کے چوتڑوں میں گھسنا

یہ مہان بھاشا مشاعروںمیں پائی جاتی ہے، عورتوں اور صرف عورتوں پر اوچھے مذاقوں اور پھبتیوں میں

یہ بھاشا شاعر عہد کے قدموں میں وقف ہے

۔۔

اس بھاشا کا کوئی سُر نہیں ہے

اور دنیا کی تمام بھاشاؤں کی طرح ہوتے ہوئے بھی ایسی محض ایک بھاشا ہے یہ

جو سرکار سے ڈرتی اور انعاموں سے خوش ہوتی ہے

اسی بھاشا میں قاتلوں کی مدح لکھی جاتی ہے

اسی بھاشا میں بولا جاتا ہے ‘جے!’

اسی بھاشا میں بولتا ہے لال قلعے سے دیو

اسی بھاشا میں ادھیڑی جاتی ہے تھانوں میں چمڑی!

اس بھاشا پر قابض ہوگئے ہیں بزرگ اور اشراف

یہ وزارتوں کی بھاشا ہے اور وزیروں کی بھاشا اس سے کہیں گئی گزری ہے

یہ بھاشا ڈھانچوں کی بھاشا ہے

سمادھیوں کی بھاشا ہے

قتل کی بھاشا بھی یہی ہے!

اسی بھاشا میں ہیں ہندی شعبوں پر گدھ کی طرح پنجے گڑائے پروفیسر!

اسی بھاشا میں جان بوجھ کر زندگی برباد کرتے ہوئے زیادہ تر طلبا ہیں

یہی بھاشا بلاتکاریوں کو مہان ثابت کرتی ہے

اسی بھاشا میں پیڈوفائل غریبوں کا شاعر ہے

۔۔

بھارت کا استحصال بھی اسی بھاشا میں ہوا!

اسی بھاشا میں دیا گیا بے لگام سرکار کا پارلیمنٹ میں پہلا بھاشن

اسی بھاشا میں ادیبوں نے چاٹی اقتدار کی ملائی!

۔۔

یہ بھاشا محض بھاشا نہیں

یہ استحصال کی پہلی ندا ہے!

یہ بھاشا بولنا چاہتی ہے

مگر سرکار نے اس کا ٹینٹوا پکڑا ہوا ہے!

٠٠٠

 

سروں کی بھیڑ میں ایک نظم

 

یہ جتنے سر دکھائی دیتے ہیں

ابھی کچھ دیر بعد ان کے سروں سے ٹوپیاں اتر جائیں گی

جب یہ نکلیں گے تو ان میں سے کچھ ایک سر متشدد بھیڑ کی شکل لے لیں گے

ایسی قاتل بھیڑ  جو خدا کے نام پر قتل کرتے ہوئے نہیں ہچکچائے گی!

 

ان نکلنے والوں میں، ان اترتی ٹوپیوں میں سے، ان جھکتے ہوئے سروں سے ابھی کچھ دیر بعد ہی نکل آئے گا کوئی بلاتکاری

انہیں میں سے کوئی جاکر نمک تیز ہونے پر بیلٹ سے ادھیڑ ڈالے گا بیوی کی کمر

انہیں میں سے ایک نکلے گا جو قوم کے رہبر کی شکل اختیار کرے گا اور بینروں پر چھپے گا

 

انہیں میں سے نکلے گا زمین کا دلال

انہیں میں سے نکلیں گے روغن گر اور کلال

انہیں میں سے ہوں گے، ہوگا جن کے پاس حرام کا مال!

انہیں میں ہیں، چیخنے والے رنڈی اور چھنال!

 

ابھی اس بھیڑ کو نگاہ گڑائے دیکھتے رہو،

ان میں  ہی شامل ہیں وہ آنکھیں بھی جو عورتوں کا ایکسرے مفت میں کرتی ہیں

انہیں سیڑھیوں سے اترتے قدموں میں ہوگی وہ لات

جس کے نشان ایک بچے کی کمر سے نہ جائیں گے عمر بھر

 

اس بھیڑ کو جانچتے رہو

ابھی یہ صفوں سے باہر آئے گی اژدہوں کی طرح

لپلپاتی جیبھیں لیے دوڑتے ہوئے گوشت کی تلاش میں

ابھی یہ سروں کی بھیڑعبادت میں گم ہے!

 

ابھی اس بھیڑ سے کوئی نکلے گا!

جس کے فقط کچھ لفظ کہنے پر یہ سر ہتھیار ہوجائیں گے!

ابھی یہ مار دیں گے مجھے

فقط کچھ گھڑیوں بعد

ٹوپیاں اترنے کے بعد!

٠٠٠

 

یہ ایک لنڈ کویتا ہے

 

ہر ایک بات کے بیچ، ہر ایک جھگڑے میں

ہر زمین کے بٹوارے میں

ہر ایک کھیت کی مینڈ کے مسئلے میں

ایک چیز ہمیشہ رہی

ہر گلی محلے کی کشتم کشتگی میں

لنڈ!

 

محلے کے دبنگوں نے کمزور لوگوں کے کندھوں پر ہمیشہ رکھا جسے

مرد ہمیشہ اپنے ماتھے پر ٹانگے گھومتے رہے اسے

دوستوں نے بات بات پر پکڑا دیا لنڈ

چھوٹے بھائی نے مانگا پشتینی مکان میں حصہ تو بڑے بھائی نے کہا کہ ‘لنڈ لے لو!’

اور کچھ نہیں بگاڑ سکا عدالتی نظام اس کا!

 

بزرگ شاعروں نے کہا نوجوان شعرا کو پیٹھ پیچھے

‘وہ ! میرا لنڈ شاعر ہے!’

اور یہ بات ہندی ادب کے اتہاس میں نہیں لکھی گئی!

 

کوئی ایسی جگہ نہیں ہے دنیا کے نقشے میں جہاں لنڈ نہ پایا جاتا ہو اور بھارت کے سوا کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں اسے عام بول چال کی بھاشا میں اتنا برتا گیا ہو!

 

جذبات کے بہاؤ میں ‘لنڈ چپ کرو! رلاؤ گے کیا؟’

غصے میں ابلتے ہوئے ‘لنڈ دے دوں گا تمہارے منہ میں’

حیرت کی انتہا پر ‘لنڈ آدمی ہو یار’

تعجب سے منہ کھولے ہوئے’اجی میرا لنڈ!’

قواعد  کا کوئی ایسا فعل نہیں رہا

جسے لنڈ کے ساتھ وابستہ نہ کیا جاسکتا ہو

کوئی جملہ ایسا نہیں جہاں اسے گھسایا نہ جاسکے

مگر ہم مردوں نے اسے کہاں کہاں گھسانے کی کوشش کی

زندہ چلتے پھرتے انسانوں میں!

 

کئی صدیوں سے لنڈ ہاتھوں میں لیے گھومتا رہا مرد

یہ تہذیبوں کے ارتقا سے بھی پہلے کا واقعہ ہے

تاریخ دوبارہ لکھی جانی چاہیے کہ

پہیے کو گول گھمائے جانے سے قبل مرد نے لنڈ پکڑنا سیکھا تھا  ہاتھ میں!

 

ہمارے باپ اس کے دم پر ‘سپر مین’ بنے گھومتے رہے

جیسے یہ کوئی نادیدہ میڈل ہے، جو گردن کے بجائے ٹانگوں کے بیچ پہنایا گیا تھا ازل سے

اسی نرگسیت کا شکار ہوکر انہوں نے سنسار بھر کو اپنے آگے معمولی گردانا!

انہوں نے ناپ لیں غائب زمینیں، جیت لیے ہوائی قلعے

اس تختی کو ٹانگے  ہوئے کہ’ہمارے لنڈ میں دم ہے’

اور جب کہ حقیقت میں انہوں نے ایسا کوئی کام نہیں کیا تھا، جس سے دم لفظ کے ساتھ انصاف کرسکیں!

 

ادیبوں کو جان لینا چاہیے کہ

لنڈ کی کوئی تعریف نہیں ہوسکتی، کوئی تنقید نہیں ہوسکتی

کیونکہ تعریفیں اور تنقیدیں

خود میں ایک مکمل لنڈ ہیں

 

پاخانوں میں کی جانے والی  اور بیڈروم میں ہونے والی حرکتوں کے  پرے بھی موجود رہا لنڈ

انسانی زندگی کے ہر ایک لمحے میں

اتنا کہ ذرا سا تناؤ ڈھیلا ہوا تو شہر بھر کی دیواروں پر ‘ہفتے کے روز ملیں’کے اشتہار چھپ گئے جن کے ساتھ شرطیہ علاج سائلنٹ رہا!

 

‘ان لنڈ والے آدمیوں نے لنڈ کے زور پر بنادیا دنیا کو ایک دن لنڈ

اور لنڈ پر لکھی کویتا بھی لنڈ ہی جیسی کویتا ہوئی’

(بقول بزرگ شاعر)

 

اور اسے پڑھنے سے پہلے

نگاہ گھمائیے اپنے نیچے کی جانب

دنیا کو اس کے آپ کے پاس ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا

اس حالت میں یہ بس ایک لٹکی ہوئی بے جان چیز ہے!

٠٠٠

 

زبیر سیفی 1993 میں گلاوٹھی، بلند شہر یں پیدا ہوئے۔ہندی  شعرا کی نئی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ان کی نظمیں سدانیرا، ہندوی اور دوسرے ویب پورٹلز کے ساتھ رسائل کی زینت بھی بنتی رہی ہیں۔انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے  میڈیا میں گریجویشن اور ہندی میں پوسٹ گریجویشن کی ڈگریاں حاصل کی ہیں۔اور فی الحال وہ جامعہ میں ہی’ پی جی ڈپلومہ ٹرانسلیشن کے طالب علم ہیں۔ریختہ فائونڈیشن  کی ویب سائٹ صوفی نامہ سے وابستہ ہیں اور کئی اہم اردو کی کتابوں کو ہندی میں منتقل کرنے کا کام کررہے ہیں۔

گالی دنیا کی تمام تہذیبوں میں احتجاج کی ایک بڑی علامت کے طور پر سامنے آتی رہی ہے۔زبیر سیفی کا تعلق ہندوستان کے اس معاشرے سے ہے، جسے مدت سے اس سماجی نظام نے حاشیے پر رکھ چھوڑا ہے۔ ایسے میں اپنے  معاشرے کے سچ کو بیان کرنے کے لیے انہوں نے جو زبان اختیار کی ہے، وہ اشرافیہ اور زبان کے سکہ بند ٹھیکیداروں کو ضرور چبھ سکتی ہے، مگر وہ اپنی روش میں بالکل سچے اور کھرے معلوم  پڑتے ہیں۔ وہ سماج کو اپنی کویتاؤں میں اس قدر نڈر اور نئے طور پر دکھاتے ہیں  کہ ہمارے اپنے ننگے وجود اور بھیانک شکلیں ہماری کھلی اڑاتی معلوم پڑتی ہیں۔ ‘اور اردو ‘ کے لیے ان نظموں کا انتخاب انہوں نے خود کیا ہے۔

Attention Required! | Cloudflare

Sorry, you have been blocked

You are unable to access wajibjp.cfd

Why have I been blocked?

This website is using a security service to protect itself from online attacks. The action you just performed triggered the security solution. There are several actions that could trigger this block including submitting a certain word or phrase, a SQL command or malformed data.

What can I do to resolve this?

You can email the site owner to let them know you were blocked. Please include what you were doing when this page came up and the Cloudflare Ray ID found at the bottom of this page.

news-1701

yakinjp

yakinjp

rtp yakinjp

yakinjp

yakinjp

yakin jp

yakinjp id

maujp

maujp

maujp

sabung ayam online

sabung ayam online

SLOT MAHJONG

sabung ayam online

article 838000638

article 838000639

article 838000640

article 838000641

article 838000642

article 838000643

article 838000644

article 838000645

article 838000646

article 838000647

article 838000648

article 838000649

article 838000650

article 838000651

article 838000652

article 838000653

article 838000654

article 838000655

article 838000656

article 838000657

article 838000658

article 838000659

article 838000660

article 838000661

article 838000662

article 838000663

article 838000664

article 838000665

article 838000666

article 838000667

article 838000668

article 838000669

article 838000670

article 838000671

article 838000672

article 838000673

article 838000674

article 838000675

article 838000676

article 838000677

article 838000678

article 838000679

article 838000680

article 838000681

article 838000682

article 838000683

article 838000684

article 838000685

article 838000686

article 838000687

article 838000688

article 838000689

article 838000690

article 838000691

article 838000692

article 838000693

article 838000694

article 838000695

article 838000696

article 838000697

article 238000456

article 238000457

article 238000458

article 238000459

article 238000460

article 238000461

article 238000462

article 238000463

article 238000464

article 238000465

article 238000466

article 238000467

article 238000468

article 238000469

article 238000470

article 238000471

article 238000472

article 238000473

article 238000474

article 238000475

article 238000476

article 238000477

article 238000478

article 238000479

article 238000480

article 238000481

article 238000482

article 238000483

article 238000484

article 238000485

article 238000486

article 238000487

article 238000488

article 238000489

article 238000490

article 238000491

article 238000492

article 238000493

article 238000494

article 238000495

article 238000496

article 238000497

article 238000498

article 238000499

article 238000500

article 238000501

article 238000502

article 238000503

article 238000504

article 238000505

article 238000506

article 238000507

article 238000508

article 238000509

article 238000510

article 238000511

article 238000512

article 238000513

article 238000514

article 238000515

article 7700246

article 7700247

article 7700248

article 7700249

article 7700250

article 7700251

article 7700252

article 7700253

article 7700254

article 7700255

article 7700256

article 7700257

article 7700258

article 7700259

article 7700260

article 7700261

article 7700262

article 7700263

article 7700264

article 7700265

article 7700266

article 7700267

article 7700268

article 7700269

article 7700270

article 7700271

article 7700272

article 7700273

article 7700274

article 7700275

article 7700276

article 7700277

article 7700278

article 7700279

article 7700280

article 7700281

article 7700282

article 7700283

article 7700284

article 7700285

article 2000431

article 2000432

article 2000433

article 2000434

article 2000435

article 2000436

article 2000437

article 2000438

article 2000439

article 2000440

article 2000441

article 2000442

article 2000443

article 2000444

article 2000445

article 2000446

article 2000447

article 2000448

article 2000449

article 2000450

article 2000451

article 2000452

article 2000453

article 2000454

article 2000455

article 2000456

article 2000457

article 2000458

article 2000459

article 2000460

article 2000461

article 2000462

article 2000463

article 2000464

article 2000465

article 2000466

article 2000467

article 2000468

article 2000469

article 2000470

article 2000471

article 2000472

article 2000473

article 2000474

article 2000475

article 2000476

article 2000477

article 2000478

article 2000479

article 2000480

article 2000481

article 2000482

article 2000483

article 2000484

article 2000485

article 2000486

article 2000487

article 2000488

article 2000489

article 2000490

article 2990581

article 2990582

article 2990583

article 2990584

article 2990585

article 2990586

article 2990587

article 2990588

article 2990589

article 2990590

article 2990591

article 2990592

article 2990593

article 2990594

article 2990595

article 2990596

article 2990597

article 2990598

article 2990599

article 2990600

article 2990601

article 2990602

article 2990603

article 2990604

article 2990605

article 2990606

article 2990607

article 2990608

article 2990609

article 2990610

article 2990611

article 2990612

article 2990613

article 2990614

article 2990615

article 2990616

article 2990617

article 2990618

article 2990619

article 2990620

article 10000416

article 10000417

article 10000418

article 10000419

article 10000420

article 10000421

article 10000422

article 10000423

article 10000424

article 10000425

article 10000426

article 10000427

article 10000428

article 10000429

article 10000430

article 10000431

article 10000432

article 10000433

article 10000434

article 10000435

article 10000436

article 10000437

article 10000438

article 10000439

article 10000440

article 10000441

article 10000442

article 10000443

article 10000444

article 10000445

article 10000446

article 10000447

article 10000448

article 10000449

article 10000450

news-1701