زبیر سیفی کی نظمیں

ماں عرف افریقی کہاوت

 

وہ میری ماں تھی جو کہاوتوں میں موجود تھی

میرا باپ کہاوتوں سے ندارد تھا

‘اندھی پیس رہی ہے، کتے کھارہے ہیں!’

لیکن میری ماں اندھی نہیں تھی

بس کم دکھائی دیتا تھا اسے اور

اس سے بھی کم مجھے دکھائی دیتے رہے

تمام عمر ماں کے دکھ!

 

‘غریب کی جورو، سب کی بھابھی’

میں باپ ہوکر بھی نہیں موجود تھے

اس میں بھی ناموجود طور پر ماں ہی تھی

اور نہیں لکھا تھا باپ کے آگے غریب!

 

اور ایک دن

میرا بہنوئی بھی گھسیٹ لایا گیا کہاوت میں

وہ ہونا جو نہ ہونے کے برابر تھا

رانڈ کے جمائی میں چلاآیا

ماں داماد کے چکر میں زندہ گالی بن کر رہ گئی

۔۔

میں جو الگ تھلگ محسوس کرتا تھا خود کو

شاعر ہونے کے غرور میں بدمست

مجھے بھی ‘رنڈی کا جنا’ کہہ کر پکارا گیا تو

ماں رو دی

اور باپ مند مند مسکان دبائے اپنے کیے گئے عمل کے زندہ نتیجے کو دیکھ کر کچھ نہ بولا

 

وہ میری ماں تھی

جسے کسی کتاب میں، کسی گرنتھ میں لانے کے بجائے

ساری دنیا کہاوتوں میں لے آئی

سڑک پر کسی نے کہا

ہوس کا کھوپڑا اور رنڈی کا بھوسڑا کبھی نہ بھرا

میری ماں کو  پروس کر رکھ دیا گیا

تمام  برابریوں کے پرے ایک جملے میں

مغربی اتر پردیش کے کسی سائنس داں نے نہیں خارج کیا یہ اصول!

۔۔

بچپن سے جوانی تک آتے ہوئے

کہاوتیں سنیں اور ماں ہر کہاوت میں تھی

وہ ماں جو کبھی پھاٹک سے باہر نہ گئی

وہ ہر کہاوت میں رہی!

 

ایک دن کہیں آگئی افریقی کہاوت سامنے

عورت شیطان کو بھی دھوکا دے سکتی ہے!

میں  حیران تھا کہ ماں نے افریقہ کا دورہ کب کیا

براعظم کے اس طرف میری ماں ایک  کہاوت میں تھی!

۔۔

تب جانا

میری ماں نے تمام عمر ان شیطانوں کو دھوکا دیا

جو کہاوتیں رچتے تھے

ماں شیطان نہیں تھی، ماں ایک کہاوت تھی

جس نے مجھے دودھ پلایا

 

اور ماں اکثر کہتی تھی

عورت کی زبان ہڈیاں توڑ دیتی ہے!

پچھلے کچھ منٹوں سے وہ یہی تھی

اور

ماں نے آپ سب کی ہڈیاں توڑ دی ہیں!

٠٠٠

 

کُکر متّوں کا درس

 

ان کے بیچ ہی جنم پایا تھا میں نے

میں وہیں بڑا ہوا

میں انہیں کے اسکول میں پڑھا

انہیں کے اسکول میں پڑھی زبان میں یہ سب کہہ رہا ہوں آج

میں ان سے الگ نہیں تھا

میرے نہ چاہتے ہوئے بھی وہ حاوی تھے میرے اوپر

وہ اسکولوں میں بھی تھے، گھر پر بھی

بازاروں میں بھی

بس اپنے بھیتر نہیں تھے

وہ اتنے کھلے ہوئے تھے کہ ان سے بو نہیں آتی تھی موریوں کی

ان سے ناک کے بال جھلسادینے والے عطر کی بو آتی تھی

وہ مسواک رکھے ڈولتے تھے

وہ ٹانگوں کے درمیان کھجلاتے تھے بات چیت کے دوران

اور دماغ کھجاتے تھے دلائل مانگنے پر

وہ خود تو ‘والضالین’ کے بعد زور سے آمین کہتے تھے

مگر ان کی عورتیں بول نہیں سکتی تھیں!

۔۔

اتنی پرہیزگاری تھی ان کے لباس میں کہ فرشتے معلوم پڑتے تھے

مگر چھوٹے بچوں کی تاک میں لگی رہتی تھی ان کی پرہیز گاری

وہ چھوٹی بچیوں کو مغرب سے کچھ ساعت پہلے تک پڑھاتے تھے

اور چھوٹے لڑکوں سے صاف کراتے تھے وضوخانہ!

 

وہ داڑھیوں میں خلال کرتے تھے

وہ بڑبولے تھے

اتنے بڑبولے کہ جب بولنے بیٹھتے تو پاتال میں دھنسا دیتے

قصبوں میں ان دنوں بس دوردرشن آتا تھا

اور آتے تھے دھوپ میں ایلمونیم کا اینٹینا دو ٹافی میں ایک گھنٹہ پکڑ کر کھانے والے بچے

لیکن وہ دوردرشن کے باپ تھے!

ہر کسی لڑکی کا چکر پتہ تھا

اور برا کا ناپ بھی

وہ جانتے تھے کس عورت کے کولہوں پر کس نمبر کی پینٹی پھنستی ہے

۔۔

ان کو ہی کہتے سنا تھا کہ فلاں گرلز اسکول کے ٹینک کی صفائی میں ایک کوئنٹل مولی اور گاجر نکلے

محلے میں مالا ڈی کی گولیاں سب سے زیادہ شبو دودھ والے کی لڑکی مانگتی ہے

وہی بتلاتے تھے کہ ایک مالن عورت کے بینگن سے مشت زنی کرتے وقت بینگن کا اگلا حصہ اندر ٹوٹنے پر

آپریشن سے نکلوانے میرٹھ جانا پڑا تھا

وہی چٹخارے لے کر کہتے تھے کہ سگریٹ کی جڑ میں اور عورت کے دھڑ میں مزہ ہی مزہ ہے

وہی محلے کے بچوں سے پوچھتے تھے ‘آج تو تیری امی نہائی ہوگی، جمعہ ہے آج؟’

تیرے باپ نے جمعرات منائی ہوگی!

اور بھدی ہنسی ہنستے تھے

وہ بچوں کے نیکر اتار دیتے تھے

وہی گلی کے کونے پر بیٹھتے تو نگاہوں سے آنے جانے والی عورتوں کے کپڑے اتار دیتے

وہ بکریوں، بھینسوں کے گپت انگوں کے بارے میں بھی بات کرتے

وہ اتنے خالی تھے (اسے بھرے ہوئے پڑھا جائے)

کہ کہیں بھی خالی ہوجانا چاہتے تھے

اور اتنے بھرے ہوئے کہ حد درجہ خالی لگتے تھے

ان کی باتیں چھیدوں کے ارد گرد گھومتیں

اور دھڑوں، چوتڑوں کے آس پاس!

وہ مشت زنی کے بارے میں بھی بات کرتے تھے

اور سدومیت کے بارے میں بھی

وہ بچوں کو بہکا کر باغ میں لے جانے والے چھلاوے تھے

۔۔

وہ موبائل کی چپوں میں پورن بھرواکر لاتے، داڑھی رکھتے

اور اشاروں میں کہتے ڈاؤن لوڈنگ کی دکانوں پر ‘گھوڑے والی ڈالو، گھوڑے والی، تگڑی سی’

اور پھر گھوڑے کی شکل میں خود کا تصور کرتے تھے

۔۔

ان پر ہر جمعہ نہانا عین  واجب نہ تھا

لیکن ان کی عورتیں روز نہاتی تھیں

وہ خو کو گرم رکھنے کے لیے طرح طرح کی غذائیں اور گوشت بسم اللہ پڑھ کر کھاتے تھے

اور بنا بسم اللہ کے کھاتے تھے ٹھنڈا گوشت!

 

ایک دن ان کا نکاح بھی ہوگیا

ان کا دبدبہ ایسا تھاکہ  اگر آپ ان سے کہتے، نکاح؟

تو وہ بتلاتے انگریزی میں

‘وی کریئیٹڈ یو اِن پیئرز’

لیکن ان کے جوڑ کا کوئی نہ تھا

وہ مولانا تھے

اتنے کہ ان کے ناڑے  صرف ایک سرا پکڑ کر کھینچ دینے  سے ہی کھل جایا کرتے تھے

۔۔

میں نے انہیں مولانا سے درس پایا  ہے

پیغمبر کی حدیث ہے، ضعیف ہی سہی

‘علم حاصل کرنے کے لیے اگر چین بھی جانا پڑے تو جاؤ’

میں چین نہیں جاسکا اور حدیث بھی مجھے مولانا کے سوا کہیں نہیں لے جاسکی!

مگر

دین انسان کو کہاں سے کہاں لے جاتا ہے!

٠٠٠

 

ایک  مہان بھاشا میں بولتے ہوئے

 

یہ کوئی عام بھاشا نہیں ہے

اس بھاشا کی نظمیں سود مند ہیں  شاعر قنوطی

یہ بھاشا اکادمیوں کے دروازوں پر پڑی رہتی ہے

اس کے ادیب ریڑھ جھکائے حکومت کے جوتے چاٹتے ہیں

یہ بھاشا ‘لُٹین زون’ کے غلام شاعروں کی پیاری بھاشا ہے

۔۔

اس بھاشا کے شاعروں کے لیے  اناج کھانا پہلا عمل نہیں

سب سے پہلا کام ہے ایڈیٹروں کے چوتڑوں میں گھسنا

یہ مہان بھاشا مشاعروںمیں پائی جاتی ہے، عورتوں اور صرف عورتوں پر اوچھے مذاقوں اور پھبتیوں میں

یہ بھاشا شاعر عہد کے قدموں میں وقف ہے

۔۔

اس بھاشا کا کوئی سُر نہیں ہے

اور دنیا کی تمام بھاشاؤں کی طرح ہوتے ہوئے بھی ایسی محض ایک بھاشا ہے یہ

جو سرکار سے ڈرتی اور انعاموں سے خوش ہوتی ہے

اسی بھاشا میں قاتلوں کی مدح لکھی جاتی ہے

اسی بھاشا میں بولا جاتا ہے ‘جے!’

اسی بھاشا میں بولتا ہے لال قلعے سے دیو

اسی بھاشا میں ادھیڑی جاتی ہے تھانوں میں چمڑی!

اس بھاشا پر قابض ہوگئے ہیں بزرگ اور اشراف

یہ وزارتوں کی بھاشا ہے اور وزیروں کی بھاشا اس سے کہیں گئی گزری ہے

یہ بھاشا ڈھانچوں کی بھاشا ہے

سمادھیوں کی بھاشا ہے

قتل کی بھاشا بھی یہی ہے!

اسی بھاشا میں ہیں ہندی شعبوں پر گدھ کی طرح پنجے گڑائے پروفیسر!

اسی بھاشا میں جان بوجھ کر زندگی برباد کرتے ہوئے زیادہ تر طلبا ہیں

یہی بھاشا بلاتکاریوں کو مہان ثابت کرتی ہے

اسی بھاشا میں پیڈوفائل غریبوں کا شاعر ہے

۔۔

بھارت کا استحصال بھی اسی بھاشا میں ہوا!

اسی بھاشا میں دیا گیا بے لگام سرکار کا پارلیمنٹ میں پہلا بھاشن

اسی بھاشا میں ادیبوں نے چاٹی اقتدار کی ملائی!

۔۔

یہ بھاشا محض بھاشا نہیں

یہ استحصال کی پہلی ندا ہے!

یہ بھاشا بولنا چاہتی ہے

مگر سرکار نے اس کا ٹینٹوا پکڑا ہوا ہے!

٠٠٠

 

سروں کی بھیڑ میں ایک نظم

 

یہ جتنے سر دکھائی دیتے ہیں

ابھی کچھ دیر بعد ان کے سروں سے ٹوپیاں اتر جائیں گی

جب یہ نکلیں گے تو ان میں سے کچھ ایک سر متشدد بھیڑ کی شکل لے لیں گے

ایسی قاتل بھیڑ  جو خدا کے نام پر قتل کرتے ہوئے نہیں ہچکچائے گی!

 

ان نکلنے والوں میں، ان اترتی ٹوپیوں میں سے، ان جھکتے ہوئے سروں سے ابھی کچھ دیر بعد ہی نکل آئے گا کوئی بلاتکاری

انہیں میں سے کوئی جاکر نمک تیز ہونے پر بیلٹ سے ادھیڑ ڈالے گا بیوی کی کمر

انہیں میں سے ایک نکلے گا جو قوم کے رہبر کی شکل اختیار کرے گا اور بینروں پر چھپے گا

 

انہیں میں سے نکلے گا زمین کا دلال

انہیں میں سے نکلیں گے روغن گر اور کلال

انہیں میں سے ہوں گے، ہوگا جن کے پاس حرام کا مال!

انہیں میں ہیں، چیخنے والے رنڈی اور چھنال!

 

ابھی اس بھیڑ کو نگاہ گڑائے دیکھتے رہو،

ان میں  ہی شامل ہیں وہ آنکھیں بھی جو عورتوں کا ایکسرے مفت میں کرتی ہیں

انہیں سیڑھیوں سے اترتے قدموں میں ہوگی وہ لات

جس کے نشان ایک بچے کی کمر سے نہ جائیں گے عمر بھر

 

اس بھیڑ کو جانچتے رہو

ابھی یہ صفوں سے باہر آئے گی اژدہوں کی طرح

لپلپاتی جیبھیں لیے دوڑتے ہوئے گوشت کی تلاش میں

ابھی یہ سروں کی بھیڑعبادت میں گم ہے!

 

ابھی اس بھیڑ سے کوئی نکلے گا!

جس کے فقط کچھ لفظ کہنے پر یہ سر ہتھیار ہوجائیں گے!

ابھی یہ مار دیں گے مجھے

فقط کچھ گھڑیوں بعد

ٹوپیاں اترنے کے بعد!

٠٠٠

 

یہ ایک لنڈ کویتا ہے

 

ہر ایک بات کے بیچ، ہر ایک جھگڑے میں

ہر زمین کے بٹوارے میں

ہر ایک کھیت کی مینڈ کے مسئلے میں

ایک چیز ہمیشہ رہی

ہر گلی محلے کی کشتم کشتگی میں

لنڈ!

 

محلے کے دبنگوں نے کمزور لوگوں کے کندھوں پر ہمیشہ رکھا جسے

مرد ہمیشہ اپنے ماتھے پر ٹانگے گھومتے رہے اسے

دوستوں نے بات بات پر پکڑا دیا لنڈ

چھوٹے بھائی نے مانگا پشتینی مکان میں حصہ تو بڑے بھائی نے کہا کہ ‘لنڈ لے لو!’

اور کچھ نہیں بگاڑ سکا عدالتی نظام اس کا!

 

بزرگ شاعروں نے کہا نوجوان شعرا کو پیٹھ پیچھے

‘وہ ! میرا لنڈ شاعر ہے!’

اور یہ بات ہندی ادب کے اتہاس میں نہیں لکھی گئی!

 

کوئی ایسی جگہ نہیں ہے دنیا کے نقشے میں جہاں لنڈ نہ پایا جاتا ہو اور بھارت کے سوا کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں اسے عام بول چال کی بھاشا میں اتنا برتا گیا ہو!

 

جذبات کے بہاؤ میں ‘لنڈ چپ کرو! رلاؤ گے کیا؟’

غصے میں ابلتے ہوئے ‘لنڈ دے دوں گا تمہارے منہ میں’

حیرت کی انتہا پر ‘لنڈ آدمی ہو یار’

تعجب سے منہ کھولے ہوئے’اجی میرا لنڈ!’

قواعد  کا کوئی ایسا فعل نہیں رہا

جسے لنڈ کے ساتھ وابستہ نہ کیا جاسکتا ہو

کوئی جملہ ایسا نہیں جہاں اسے گھسایا نہ جاسکے

مگر ہم مردوں نے اسے کہاں کہاں گھسانے کی کوشش کی

زندہ چلتے پھرتے انسانوں میں!

 

کئی صدیوں سے لنڈ ہاتھوں میں لیے گھومتا رہا مرد

یہ تہذیبوں کے ارتقا سے بھی پہلے کا واقعہ ہے

تاریخ دوبارہ لکھی جانی چاہیے کہ

پہیے کو گول گھمائے جانے سے قبل مرد نے لنڈ پکڑنا سیکھا تھا  ہاتھ میں!

 

ہمارے باپ اس کے دم پر ‘سپر مین’ بنے گھومتے رہے

جیسے یہ کوئی نادیدہ میڈل ہے، جو گردن کے بجائے ٹانگوں کے بیچ پہنایا گیا تھا ازل سے

اسی نرگسیت کا شکار ہوکر انہوں نے سنسار بھر کو اپنے آگے معمولی گردانا!

انہوں نے ناپ لیں غائب زمینیں، جیت لیے ہوائی قلعے

اس تختی کو ٹانگے  ہوئے کہ’ہمارے لنڈ میں دم ہے’

اور جب کہ حقیقت میں انہوں نے ایسا کوئی کام نہیں کیا تھا، جس سے دم لفظ کے ساتھ انصاف کرسکیں!

 

ادیبوں کو جان لینا چاہیے کہ

لنڈ کی کوئی تعریف نہیں ہوسکتی، کوئی تنقید نہیں ہوسکتی

کیونکہ تعریفیں اور تنقیدیں

خود میں ایک مکمل لنڈ ہیں

 

پاخانوں میں کی جانے والی  اور بیڈروم میں ہونے والی حرکتوں کے  پرے بھی موجود رہا لنڈ

انسانی زندگی کے ہر ایک لمحے میں

اتنا کہ ذرا سا تناؤ ڈھیلا ہوا تو شہر بھر کی دیواروں پر ‘ہفتے کے روز ملیں’کے اشتہار چھپ گئے جن کے ساتھ شرطیہ علاج سائلنٹ رہا!

 

‘ان لنڈ والے آدمیوں نے لنڈ کے زور پر بنادیا دنیا کو ایک دن لنڈ

اور لنڈ پر لکھی کویتا بھی لنڈ ہی جیسی کویتا ہوئی’

(بقول بزرگ شاعر)

 

اور اسے پڑھنے سے پہلے

نگاہ گھمائیے اپنے نیچے کی جانب

دنیا کو اس کے آپ کے پاس ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا

اس حالت میں یہ بس ایک لٹکی ہوئی بے جان چیز ہے!

٠٠٠

 

زبیر سیفی 1993 میں گلاوٹھی، بلند شہر یں پیدا ہوئے۔ہندی  شعرا کی نئی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ان کی نظمیں سدانیرا، ہندوی اور دوسرے ویب پورٹلز کے ساتھ رسائل کی زینت بھی بنتی رہی ہیں۔انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے  میڈیا میں گریجویشن اور ہندی میں پوسٹ گریجویشن کی ڈگریاں حاصل کی ہیں۔اور فی الحال وہ جامعہ میں ہی’ پی جی ڈپلومہ ٹرانسلیشن کے طالب علم ہیں۔ریختہ فائونڈیشن  کی ویب سائٹ صوفی نامہ سے وابستہ ہیں اور کئی اہم اردو کی کتابوں کو ہندی میں منتقل کرنے کا کام کررہے ہیں۔

گالی دنیا کی تمام تہذیبوں میں احتجاج کی ایک بڑی علامت کے طور پر سامنے آتی رہی ہے۔زبیر سیفی کا تعلق ہندوستان کے اس معاشرے سے ہے، جسے مدت سے اس سماجی نظام نے حاشیے پر رکھ چھوڑا ہے۔ ایسے میں اپنے  معاشرے کے سچ کو بیان کرنے کے لیے انہوں نے جو زبان اختیار کی ہے، وہ اشرافیہ اور زبان کے سکہ بند ٹھیکیداروں کو ضرور چبھ سکتی ہے، مگر وہ اپنی روش میں بالکل سچے اور کھرے معلوم  پڑتے ہیں۔ وہ سماج کو اپنی کویتاؤں میں اس قدر نڈر اور نئے طور پر دکھاتے ہیں  کہ ہمارے اپنے ننگے وجود اور بھیانک شکلیں ہماری کھلی اڑاتی معلوم پڑتی ہیں۔ ‘اور اردو ‘ کے لیے ان نظموں کا انتخاب انہوں نے خود کیا ہے۔

news-1701

sabung ayam online

yakinjp

yakinjp

rtp yakinjp

slot thailand

yakinjp

yakinjp

yakin jp

yakinjp id

maujp

maujp

maujp

maujp

slot mahjong

SGP Pools

slot mahjong

sabung ayam online

slot mahjong

SLOT THAILAND

article 999990036

article 999990037

article 999990038

article 999990039

article 999990040

article 999990041

article 999990042

article 999990043

article 999990044

article 999990045

article 999990046

article 999990047

article 999990048

article 999990049

article 999990050

article 710000081

article 710000082

article 710000083

article 710000084

article 710000085

article 710000086

article 710000087

article 710000088

article 710000089

article 710000090

article 710000091

article 710000092

article 710000093

article 710000094

article 710000095

article 710000096

article 710000097

article 710000098

article 710000099

article 710000100

article 710000101

article 710000102

article 710000103

article 710000104

article 710000105

article 710000106

article 710000107

article 710000108

article 710000109

article 710000110

article 710000111

article 710000112

article 710000113

article 710000114

article 710000115

article 710000116

article 710000117

article 710000118

article 710000119

article 710000120

cuaca 638000021

cuaca 638000022

cuaca 638000023

cuaca 638000024

cuaca 638000025

cuaca 638000026

cuaca 638000027

cuaca 638000028

cuaca 638000029

cuaca 638000030

cuaca 638000031

cuaca 638000032

cuaca 638000033

cuaca 638000034

cuaca 638000035

cuaca 638000036

cuaca 638000037

cuaca 638000038

cuaca 638000039

cuaca 638000040

cuaca 638000041

cuaca 638000042

cuaca 638000043

cuaca 638000044

cuaca 638000045

cuaca 638000046

cuaca 638000047

cuaca 638000048

cuaca 638000049

cuaca 638000050

cuaca 638000051

cuaca 638000052

cuaca 638000053

cuaca 638000054

cuaca 638000055

cuaca 638000056

cuaca 638000057

cuaca 638000058

cuaca 638000059

cuaca 638000060

cuaca 638000061

cuaca 638000062

cuaca 638000063

cuaca 638000064

cuaca 638000065

cuaca 638000066

cuaca 638000067

cuaca 638000068

cuaca 638000069

cuaca 638000070

cuaca 638000071

cuaca 638000072

cuaca 638000073

cuaca 638000074

cuaca 638000075

cuaca 638000076

cuaca 638000077

cuaca 638000078

cuaca 638000079

cuaca 638000080

cuaca 638000081

cuaca 638000082

cuaca 638000083

cuaca 638000084

cuaca 638000085

cuaca 638000086

cuaca 638000087

cuaca 638000088

cuaca 638000089

cuaca 638000090

cuaca 638000091

cuaca 638000092

cuaca 638000093

cuaca 638000094

cuaca 638000095

cuaca 638000096

cuaca 638000097

cuaca 638000098

cuaca 638000099

cuaca 638000100

cuaca 898100101

cuaca 898100102

cuaca 898100103

cuaca 898100104

cuaca 898100105

cuaca 898100106

cuaca 898100107

cuaca 898100108

cuaca 898100109

cuaca 898100110

cuaca 898100111

cuaca 898100112

cuaca 898100113

cuaca 898100114

cuaca 898100115

cuaca 898100116

cuaca 898100117

cuaca 898100118

cuaca 898100119

cuaca 898100120

cuaca 898100121

cuaca 898100122

cuaca 898100123

cuaca 898100124

cuaca 898100125

cuaca 898100126

cuaca 898100127

cuaca 898100128

cuaca 898100129

cuaca 898100130

cuaca 898100131

cuaca 898100132

cuaca 898100133

cuaca 898100134

cuaca 898100135

article 868100071

article 868100072

article 868100073

article 868100074

article 868100075

article 868100076

article 868100077

article 868100078

article 868100079

article 868100080

article 868100081

article 868100082

article 868100083

article 868100084

article 868100085

article 868100086

article 868100087

article 868100088

article 868100089

article 868100090

article 888000081

article 888000082

article 888000083

article 888000084

article 888000085

article 888000086

article 888000087

article 888000088

article 888000089

article 888000090

article 888000091

article 888000092

article 888000093

article 888000094

article 888000095

article 888000096

article 888000097

article 888000098

article 888000099

article 888000100

article 328000646

article 328000647

article 328000648

article 328000649

article 328000650

article 328000651

article 328000652

article 328000653

article 328000654

article 328000655

article 328000656

article 328000657

article 328000658

article 328000659

article 328000660

news-1701
news-0801

yakinjp


sabung ayam online

yakinjp

yakinjp

rtp yakinjp

yakinjp

yakinjp

judi bola online

slot thailand

yakinjp

yakinjp

yakinjp

yakinjp

ayowin

mahjong ways

judi bola online

mahjong ways 2

JUDI BOLA ONLINE

maujp

maujp

sabung ayam online

maujp

maujp

maujp

maujp

sabung ayam online

mahjong ways slot

sbobet88

live casino online

Situs Agen Togel

MAUJP

118000021

118000022

118000023

118000024

118000025

118000026

118000027

118000028

118000029

118000030

118000031

118000032

118000033

118000034

118000035

118000036

118000037

118000038

118000039

118000040

118000041

118000042

118000043

118000044

118000045

118000046

118000047

118000048

118000049

118000050

128000021

128000022

128000023

128000024

128000025

128000026

128000027

128000028

128000029

128000030

128000031

128000032

128000033

128000034

128000035

128000036

128000037

128000038

128000039

128000040

128000041

128000042

128000043

128000044

128000045

128000046

128000047

128000048

128000049

128000050

138000021

138000022

138000023

138000024

138000025

138000026

138000027

138000028

138000029

138000030

138000031

138000032

138000033

138000034

138000035

138000036

138000037

138000038

138000039

138000040

138000041

138000042

138000043

138000044

138000045

138000046

138000047

138000048

138000049

138000050

148000026

148000027

148000028

148000029

148000030

148000031

148000032

148000033

148000034

148000035

148000036

148000037

148000038

148000039

148000040

148000041

148000042

148000043

148000044

148000045

148000046

148000047

148000048

148000049

148000050

148000051

148000052

148000053

148000054

148000055

148000056

148000057

148000058

148000059

148000060

148000061

148000062

148000063

148000064

148000065

148000066

148000067

148000068

148000069

148000070

158000041

158000042

158000043

158000044

158000045

158000046

158000047

158000048

158000049

158000050

158000051

158000052

158000053

158000054

158000055

158000056

158000057

158000058

158000059

158000060

158000061

158000062

158000063

158000064

158000065

158000066

158000067

158000068

158000069

158000070

168000011

168000012

168000013

168000014

168000015

168000016

168000017

168000018

168000019

168000020

168000021

168000022

168000023

168000024

168000025

168000026

168000027

168000028

168000029

168000030

168000031

168000032

168000033

168000034

168000035

168000036

168000037

168000038

168000039

168000040

178000036

178000037

178000038

178000039

178000040

178000041

178000042

178000043

178000044

178000045

178000046

178000047

178000048

178000049

178000050

178000051

178000052

178000053

178000054

178000055

178000056

178000057

178000058

178000059

178000060

178000061

178000062

178000063

178000064

178000065

188000141

188000142

188000143

188000144

188000145

188000146

188000147

188000148

188000149

188000150

188000151

188000152

188000153

188000154

188000155

188000156

188000157

188000158

188000159

188000160

188000161

188000162

188000163

188000164

188000165

188000166

188000167

188000168

188000169

188000170

198000031

198000032

198000033

198000034

198000035

198000036

198000037

198000038

198000039

198000040

198000041

198000042

198000043

198000044

198000045

198000046

198000047

198000048

198000049

198000050

198000051

198000052

198000053

198000054

198000055

198000056

198000057

198000058

198000059

198000060

218000021

218000022

218000023

218000024

218000025

218000026

218000027

218000028

218000029

218000030

218000031

218000032

218000033

218000034

218000035

218000036

218000037

218000038

218000039

218000040

218000041

218000042

218000043

218000044

218000045

218000046

218000047

218000048

218000049

218000050

228000016

228000017

228000018

228000019

228000020

228000021

228000022

228000023

228000024

228000025

228000026

228000027

228000028

228000029

228000030

228000031

228000032

228000033

228000034

228000035

228000036

228000037

228000038

228000039

228000040

228000041

228000042

228000043

228000044

228000045

228000046

228000047

228000048

228000049

228000050

238000001

238000002

238000003

238000004

238000005

238000006

238000007

238000008

238000009

238000010

238000011

238000012

238000013

238000014

238000015

238000016

238000017

238000018

238000019

238000020

news-0801