یاسمین حمید سے دس سوالات

تصنیف حیدر:جن لوگوں کو شاعری کرنی آتی ہے ان کے لیے یہ بہت آسان کام ہے۔ ا س میں ایسا کوئی کمال نہیں۔ کیا آپ اس بات سے اتفاق رکھتی ہیں؟

 

یاسمین حمید:یہ سوال اسی طرح ہے جیسے شیر سدھانے والے سے کہا جائے کہ آپ تو شیر کے منہ میں ہاتھ ڈال لیتے ہیں، آپ کے لیے یہ کام بہت آسان ہو گا۔ اس میں آپ کا کمال ہی کیا ہے؟ بات یہ ہے کہ کوئی شخص ، جس ہنرکو جس حد تک بھی جانتا ہے، اس پر جس قدر بھی دسترس رکھتا ہے، وہ وہاں تک ،کچھ مراحل طے کرنے کے بعد ہی پہنچتا ہے۔ اور یہ سفر ایسا بھی آسان نہیں ہوتا۔ یہ درست ہے کہ بنیادی صلاحیت یا رجحان (aptitude) کے بغیر، شاعری، مصوری، موسیقی اور اسی طرح کے دوسرے فنون میں تربیت حاصل کرنااور کامیابی کی منازل طے کرنا ممکن نہیں، لیکن یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ بنیادی صلاحیت کسی ایک حد تک ہی ساتھ دیتی ہے۔ تربیت کامرحلہ بہت اہم ہے۔ لکھنے والا پیغمبر تو ہوتا نہیں۔ اسے اپنے لیے خام مال تو خود ہی فراہم کرنا ہوتا ہے۔ لفظیات، تخیل، کرافٹ یا شعر کہنے کا ہنر ، اچھے برے کی پہچان ، یہ سب بنے بنائے تو کہیں سے آتے نہیں۔ عمر بھر کا مطالعہ بھی اکثر اوقات کم پڑ جاتا ہے۔ البتہ میں یہ ضرور کہا کرتی ہوں کہ ذہن اور اس کا مخصوص طریقے سے مشاہدہ کرنے اور سوچنے کا عمل وہ چیز ہے جسے ہم قدرت کی دین کہہ سکتے ہیں۔ ندرت اسی فکری انفرادیت سے پیدا ہوتی ہے۔ لیکن اس پر بھی ماحول اور تربیت کے اثرات بہت گہرے ہوتے ہیں۔ ہمارے پس ماندہ علاقوں میں نہ جانے کتنے بڑے بڑے ادیب، شاعر اور فنکار دو وقت کی روٹی کے لیے مزدوری کرتے ہوئے دنیا سے رخصت ہو جاتے ہوں گے، کیونکہ زندگی انھیں اپنی صلاحیتوں کو دریافت کرنے، اور تربیت کے مواقع فراہم نہیں کرتی۔ میں نے یہ سب باتیں خاصی تفصیل سے اپنے نئے شعری مجموعے ’ بے ثمر پیڑوں کی خواہش‘ کے تعارفی مضمون میں بیان کی ہیں۔

 

تصنیف حیدر:کیا شاعری میں عظیم ہو جانا سب کچھ ہے؟ ادبی حوالے سے کسی شاعرہ کا ویسا نام کیوں نہیں جیسا کہ اقبال اور ظفراقبال کا ہے۔

 

یاسمین حمید:سوال کے پہلے حصے کا تو سیدھا سادہ جواب یہ ہے کہ عظمت کی منزل خواہ مرد ہو یا عورت، گنتی کے چند لوگوں کے حصے میں ہی آتی ہے۔ جہاں تک سوال کا دوسرا حصہ ہے تو سب سے پہلی بات یہ ہے کہ ایک ہی سانس میں اقبال اور ظفراقبال کا نام لینے میں احتیاط کرنی چاہیے۔ غزل کے کرافٹ پر ظفر اقبال صاحب کی گرفت یقیناًقابلِ توصیف ہے لیکن مبالغہ ‘ بہرحال مبالغہ ہے۔ اب آئیے اصل بحث کی طرف ۔بات قرۃ العین حیدر سے شروع کرتے ہیں۔ ان کی بڑائی کا تو آپ یقیناًاعتراف کرتے ہوں گے۔ اب اسی بات سے ہم ایک دوسرے سوال کی طرف آتے ہیں اور وہ یہ کہ اگر بیسویں صدی میں قرۃالعین حیدر جیسی بڑی تخلیق کار پیدا ہوسکتی ہے تو اس علاقے میں جسے ہم برصغیر کہتے ہیں ،اس سے پہلے کے ڈھائی ہزار سال میں ایسا کیوں نہ ہوا؟ اور برصغیر ہی میں نہیں‘ یہ سوال تو تانیثی نقادوں (feminist critics) نے پوری دُنیا میں اُٹھا یا ہے بلکہ اس کا جواب بھی تلاش کرنے کی کوشش کی ہے اور اس میں کسی حد تک کامیاب بھی ہوئے ہیں۔ یہ عالمی ادبی تاریخ کا ایسا phenomenon ہے جس کے اثرات بیسویں صدی تک آئے ہیں بلکہ ابھی تک موجود ہیں۔پہلی بات تو یہ ہے کہ ماضی میں خواتین کی تحریروں کو کبھی محفوظ نہیں کیا گیا۔۱۹۶۰ء کی دہائی تک، بلکہ اس کے بعد تک بھی مغرب میں یہ حال تھا کہ انگریزی ادب کے majors کے نصاب میں کم ترین درجے کے مرد شعرا اور ڈراما نگار تو پڑھائے جاتے تھے لیکن کسی عورت کی ایک بھی تحریر شامل نہ تھی۔ تانیثی تنقید کے مقاصد میں سے ایک یہ بھی ہے کہ خواتین کی گم شدہ تحریروں کو دریافت کیا جائے اور انہیں ان کا جائز مقام دلوایا جائے۔ سو پچھلے پچاس برس کی تحقیق کے دوران بے شمار خواتین کی تحریریں دریافت ہوئیں جنھیں انگریزی کی ادبی تاریخ سے حذف کر دیا گیا تھا۔ ان کے مقام کا از سر نو تعین بھی کیا گیا ہے۔ یہ تصور بھی سامنے آیا ہے کہ اس نوعیت کے سوالوں کے جواب ہمیشہ جذباتی اور داخلی سطح پر دیے گئے ہیں جبکہ ان کا فکری سطح پر جائزہ لیا جانا چاہیے۔ دراصل اُن حالات کا تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے جو کسی کو عظمت کے درجے تک پہنچانے میں معاون ہوتے ہیں۔ہم سب جانتے ہیں کہ زمانہ ء قدیم وماضی میں بیٹے عام طور پر باپ کا پیشہ ہی اختیار کرتے تھے۔ ان کی تربیت یا باپ خود کرتا تھا یا اس کی نگرانی میں کوئی استاد۔ یہ ایک مفروضہ (myth) ہے کہ صرف خداداد صلاحیت کی بنیاد پر مرد ادبی کارنامے سر انجام دیتے تھے اور عورت کے پاس کیونکہ یہ صلاحیت تھی ہی نہیں اس لیے وہ ایسا نہ کرسکی اور نہ کر سکتی ہے۔ خداداد صلاحیت عظمت کے درجے تک پہنچنے کے لیے بہت سے مراحل طے کرتی ہے جن کو طے کرنے کی آزادی اور سہولت عورت کو میسر نہیں تھی بلکہ آج تک بھی اُس طرح میسر نہیں ہے جس طرح مرد کو میسر ہے۔ عورت کے لیے معاشرے میں موجود تصورات اور اس کے لیے قائم کی گئی حدود کے سبب اس کی کوئی بھی صلاحیت یا خواہش جو گرہستی کے دائرے سے باہر ہو‘ ثانوی حیثیت رکھتی تھی اور معاشرہ اس کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا تھا۔اب جنوبی ایشیا کی طرف آئیں تو برصغیر میں بولی جانے والی جتنی اہم زبانیں ہیں، ان سب میں یہی صورت حا ل رہی ہے۔ آپ ہی کے ملک میں اس ضمن میں سوزی تھا رو (Susie Tharu) اور کے للیتا (K. Lalita) کی مرتبہ کتاب ہے، جس میں ہندوستان کی ۱۳ زبانو ں کی ۱۴۱ خواتین کی گم شدہ تحریروں کو دریافت کر کے ا ن کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ان خواتین کے حالاتِ زندگی کو دیکھیں تو کم وبیش وہی صورت ہے جس کا تذکرہ اوپر کیا گیا ہے۔ ایک طویل عرصے تک ،کون جانتا تھا کہ بنگالی شاعر چنڈی داس کی محبوبہ رامی کتنی عمدہ شاعر تھی۔ ہم میں سے کتنے لوگ جانتے ہوں گے کہ رابندر ناتھ ٹیگور کی بہن ناول نگار تھی۔ رشیدۃ النساء بیگم نے ۱۸۸۲ء میں ناول لکھا جو بارہ سال تک چھپ نہیں سکا کیونکہ کتاب پر مصنفہ کا نام لکھنے کا مسئلہ بڑا سنگین تھا۔ زاہدہ خاتون شیروانیہ جیسی زبان و بیان پر دسترس رکھنے والی، صاحبِ علم شاعر کو اگر پھلنے پھولنے اور social taboos سے آزاد ہوکر لکھنے کی اجازت ہوتی تو کیا ایک سو سال تک اس کا نام گم نامی کے اندھیروں میں پڑا رہتا۔ ہم عورت اور مرد لکھنے والوں کے خانے بڑی سہولت سے الگ الگ بنا لیتے ہیں حالانکہ خواتین ادیبوں کی فکری روایت مرد ادیبوں کی فکری روایت سے کوئی الگ چیز نہیں ہے۔ کسی بھی خاتون ادیب کی حسیت اپنے عہد کے مرد ادیبوں ہی سے مطابقت رکھتی ہے نہ کہ ان خواتین سے جو اس سے پہلے تھیں یا اس کے بعد آئیں گی۔ شاید لاشعوری طور پر بھی ہم ایسا کرتے ہیں کیونکہ عرصۂ دراز تک عورت کواس روایت سے باہر رکھا گیا ہے۔ مرد کا تخلیقی ذہن اور اس کا تخلیقی تشخص ڈھائی ہزار سال یا شاید اس سے بھی پہلے سے ارتقائی مراحل طے کر رہا ہے یعنی evolve ہو رہا ہے، جبکہ عورت کو تو پوری طرح سے ابھی ایک سو سال بھی نہیں ملے ہیں۔

 

تصنیف حیدر:آپ نسائیت والی ٹیپکل شاعری سے بہت حد تک اپنی شاعری میں بچی رہی ہیں۔ کیا اس کا ایک سبب زندگی میں میسر آنے والی کوئی ایسی ذہنی آسودگی ہے جو عورتوں کے حصے میں عام طو رپر نہیں آتی؟

 

یاسمین حمید:پہلے تو میں یہ جاننا چاہوں گی کہ یہ نسائی شاعری ہوتی کیا ہے۔ تو کیا کوئی غیر نسائی شاعری بھی ہوتی ہے؟ پھر تو مردانہ اور غیر مردانہ شاعری بھی ضرور ہوتی ہوگی۔ آپ خود ہی دیکھ لیجیے، ابھی تک آپ نے جتنے سوال کیے ہیں ان میں عورت کو ایک subculture کی حیثیت دے دی ہے۔ خیر، سوال کی طرف آئیں تو آپ نے یہ بھی کہاہے کہ میں نسائی شاعری سے بچی رہی ہوں۔ گویا نسائی شاعری ( جو بھی اس کے معنی ہیں) کوئی کم تر قسم کی شاعری ہے جس سے میں حادثاتی طور پر بچ گئی۔ دیکھیے ، ایسا نہیں ہوتا۔ شاعری نسائی یا غیر نسائی نہیں ہوتی صرف شاعری ہوتی ہے، انفرادی تجربے کا اظہار ، سفاک، بے لاگ، سچائی سے آراستہ‘ بناوٹ سے پاک۔ میں وہی لکھوں گی جو میں ہوں اورمیں وہ ہوں جو میرا ذہن ہے‘ جو میرا فکری اور جذباتی تشخص ہے، جو میرا مادی اور عقلی اور روحانی وجود ہے، میری زندگی ہے، میرا تجربہ ہے، میرا ماحول ہے، میری دُنیا ہے۔ آپ کے سوا ل سے یہ بھی اخذ ہوتا ہے کہ غیر نسائی شاعری وہ خواتین کرتی ہیں جو ذہنی طور پر آسودہ ہوں۔ اب یہ بھی جان لیجیے کہ تخلیقی ذہن دنیاوی آسائشوں سے آسودہ نہیں ہوتا۔ آسودگی اس کا مقدر ہی نہیں۔ تخلیقی ذہن تو ایک نا قابلِ حل معما ہے۔ ناآسودگی اس کی سب سے بڑی توانائی ہے۔

 

تصنیف حیدر:ترجمہ نگاری زیادہ مشکل کام ہے یا شاعری؟ کیوں؟

 

یاسمین حمید:مشکل یا آسان کی بجائے اگر یہ کہیں کہ یہ دونوں مختلف قسم کے کام ہیں تو زیادہ مناسب ہو گا۔ ترجمہ کسی وقت بھی کیا جاسکتا ہے (کم سے کم اپنی حد تک میںیہ کہہ سکتی ہوں)۔ ارادہ کریں‘ کتابیں کھولیں اور یکسو ہو کر کام میں لگ جائیں۔ ہاں مگر ترجمہ جان جوکھوں کا کام بھی ہے۔ مناسب الفاظ کا انتخاب ، متن کی معنوی تہوں کو کھولنا اور از سرِ نو ایک دوسری زبان میں مرتب کرنا، اصل کی روح سے قریب تررہنا اور غیر زبان کے ساتھ اس کے مفہوم اور تاثر کو ہم آہنگ کرنا‘ یہ سب ایک challenge کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بعض اوقات بہت سی سطریں، بہت سے مصرعے سہولت سے دوسری زبان میں منتقل ہو جاتے ہیں اور بعض اوقات کوئی ایک مصرع، کوئی ایک ترکیب یا کوئی ایک خیال جان کو آجاتا ہے اور کئی کئی بار نئے نئے طریقوں سے لکھنا پڑتا ہے۔ مشکل یہ ہے کہ کبھی پوری طرح اطمینان بھی نہیں ہوتا کیونکہ سچی بات یہ ہے کہ دنیا کا بہترین ترجمہ بھی اصل کے ساتھ مکمل انصاف نہیں کر سکتا۔ اگر اصل سے بہتر ہوگیا تب بھی مسائل پیدا ہوں گے۔ بہر حال ترجمے کی اہمیت سے بھی انکار نہیں ہوسکتا۔اپنی حد تک مجھے شاعری کا ترجمہ کرنا زیادہ پسند ہے۔ مجھے شاعری کے ترجمے میں لطف زیادہ آتا ہے جبکہ نثر کے ترجمے سے اکتاہٹ ہوتی ہے۔ اس کا سبب غالباً یہ ہے کہ شاعری کے ترجمے میں ایک شے کو توڑ کر از سرِ نو تخلیق کرنے کا التباس پیدا ہوتا ہے اور یہی بات لطف دیتی ہے۔یہ بات میں نے صرف اپنے لیے کہی ہے، ضروری نہیں کہ اور لوگ بھی ا س سے اتفاق کریں۔رہا شعر کہنے کا عمل تو اس کی ایک جہت ماورائی بھی ہے۔ اس کا دائرہ مختلف ہے۔ شاعر جب تخلیقی phase میں داخل ہوتا ہے تو تخیل کی گرہیں آپ ہی آپ کھلتی چلی جاتی ہیں‘ ذہن رواں ہو جاتا ہے۔ غیر تخلیقی لمحوں میں البتہ شاعر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی تربیت سے غافل نہ رہے اور تربیت کا سب سے بہتر ذریعہ میرے نزدیک مطالعہ ہے۔ مشاہد ہ اور تجربہ تو زندگی خود بخود فراہم کر دیتی ہے۔

 

تصنیف حیدر:یاسمین حمید کیا یہ چاہیں گی کہ ادب میں انھیں ہمیشہ یاد رکھا جائے یا پھر وہ واقعی بغیر کسی امید کے کتابیں شائع کروا رہی ہیں؟

 

یاسمین حمید:صرف یاد رکھے جانے کی خواہش میں تو کبھی بھی کسی نے نہیں لکھاہوگا۔ لکھنے والا ‘ کتابوں کے ساتھ زندگی گذارنے والا‘ اپنے کام کے ساتھ عشق میں مبتلا ہوتا ہے۔ یہ پڑھنا لکھنا بھی نشے کی طرح ہے۔ اور یاد رکھے جانا تو بہت بڑا privilege ہے۔ یہ تو بڑے بڑوں کو نصیب نہیں ہوتا۔ کیسے کیسے نام ذہنوں سے محو ہو جاتے ہیں، تاریخ کی بھول بھلیوں میں کھو جاتے ہیں تو پھر ’ہم کہاں کے دانا ہیں کس ہنر میں یکتا ہیں‘ ؟

 

تصنیف حیدر:آپ کا کون سا شعری مجموعہ آپ کو خود بہت زیادہ پسند ہے ؟ کیوں؟

 

یاسمین حمید:مجھے اپنا کوئی بھی شعری مجموعہ نا پسند نہیں ہے‘ نہ ہی کوئی اتنا پسند ہے کہ اس سے بہتر کی خواہش نہ کی جائے۔ میری ایک عادت ‘ اچھی یا بُری یہ ہے کہ میری نظر عیب پر فوراً جاتی ہے۔ اپنے ہر کام میں perfection کے حصول نے مجھے ہمیشہ مضطرب رکھا ہے ۔ سو میں کہہ سکتی ہوں کہ میں بہت دیر تک اپنے کسی بھی کام سے بہت خوش نہیں رہتی۔ جی چاہتا ہے کہ ابھی اور بہت کچھ لکھوں اور پہلے سے مختلف لکھوں لیکن تخلیقی سفر کے بارے میں یقین سے کچھ کہنا مشکل ہے۔

 

تصنیف حیدر:آپ کے نزدیک بہترین ادبی معاشرہ کیسے قائم ہو سکتا ہے۔ کیا اس کے کچھ اصول بنائے جا سکتے ہیں؟

 

یاسمین حمید:ادبی معاشرے کو اجتماعی معاشرے سے الگ تو نہیں کیا جاسکتا ۔ بہترین ادبی معاشرہ اسی اجتماعی معاشرے میں ممکن ہے جس میں انسانی اقدار کی بہترین مثالیں موجود ہوں‘ وہی معیار ٹھہریں اور صحیح غلط کی‘ اچھے برے کی تمیز قائم کی جائے۔ اب تو یوں ہے کہ اقدار کا معاملہ بھی اضافی ہے۔ جو باتیں کچھ عرصہ پہلے تک ناپسندیدہ سمجھی جاتی تھیں وہ اب قابلِ قبول ہیں اور کچھ احمق‘ misfit بدلتے ہوئے اقداری منظرنامے میں ششدر و حیران کھڑے ہیں اور گوشہ نشینی میں عافیت محسوس کرتے ہیں۔ میرے اپنے خیال میں جس معاشرے میں علم کی حیثیت اشیاء کے مقابلے میں کم تر ٹھہرے وہ اپنی روح میں خالی ہوتا چلا جاتا ہے۔ استحقاق کے معنی بھی تبدیل ہو جاتے ہیں۔ اچھے ذہن اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو اشیا کے حصول کی دوڑ میں صرف کرنے لگتے ہیں اور نااہل اس منصب پر قابض ہو جاتے ہیں جس کے وہ متحمل نہیں ۔ بد نظمی پیدا ہوتی ہے‘ انتشاربڑھتا ہے۔ سیاسی اور معاشی سطح پر کمزور معاشروں میں صورت حال اور بھی زیادہ گمبھیر ہو جاتی ہے۔ اب بہترین ادبی معاشرہ بنانے کا کوئی فارمولا تو ہے نہیں۔ یقیناً مثالی یا آئیڈیل معاشروں کے اصول تو ضرور ہوتے ہیں لیکن وہ غیر محسوس طریقے سے قائم ہوتے ہیں۔ انھیں کسی منشور کی شکل میں لکھ دینے یا کانفرنسوں اور سیمنیاروں میں ان پر گفتگو کرنے سے کسی تبدیلی کی توقع نہیں کی جاسکتی۔

 

تصنیف حیدر:اُردو کی وہ کون سی اہم کتابیں ہیں جنھیں آپ انگریزی میں ترجمہ کروانا چاہیں گی‘ جوآپ کے نزدیک بہترین عالمی ادب کے انتخاب میں شامل بھی ہو سکیں۔

 

یاسمین حمید:ہمارے ہاں آج تک جتنا بھی تر جمے کا کام ہوا ہے وہ کسی معقول منصوبے کے تحت‘ کسی منظم طریقے سے نہیں ہوا۔ بعض لوگوں نے انفرادی حیثیت میں اچھے ترجمے کیے ہیں، اُردوسے انگریزی میں اور انگریزی سے اُردو میں بھی۔ لیکن ادبی متون کے ترجمے کے لیے کوئی ایسا مرکز قائم نہیں ہوا جہاں عہد بہ عہد اہم کتابوں کی نشاندہی کی گئی ہو اور تربیت یافتہ ترجمہ نگاروں سے معیاری ترجمہ کروایا گیا ہو۔ اس ضمن میں سنجیدہ اقدام کی اشدضرورت ہے۔آپ کا سوال ان کتابوں سے متعلق ہے جن کا انگریزی میں ترجمہ ہونا چاہیے۔ تو ایسی کتابیں بے شمار ہیں۔ آٹھ دس یا پندرہ بیس نہیں جن کے نام گنوائے جاسکیں۔ تین سو برس یا اس سے کچھ زیادہ کا احاطہ کیا جائے اور سرسری طور پر بھی فہرست تیار کی جائے تو ان گنت کتابیں ہیں جنھیں دوسری زبانوں میں منتقل کیا جانا چاہیے۔جس طرح لوگ روسی، ہسپانوی،، عربی، جاپانی اور دنیا کی دوسری زبانوں کا ادب ترجموں کے ذریعے پڑھتے ہیں، اسی طرح ہمار ادب بھی دنیا بھر میں پہنچنا چاہیے اور پڑھا جانا چاہیے۔ کلی طور پر اُردو ادب کا سرمایہ ایسا ہے اور اتنا ہے کہ عالمی سطح پر اس کی جامع اور مضبوط شناخت قائم ہو سکے۔ ظاہر ہے کہ یہ کام ترجمے کے بغیر ممکن نہیں‘ لیکن شرط موثر منصوبہ بندی، مناسب وسائل اور بہترین معیار ہے۔

 

تصنیف حیدر:ہندوستان میں لکھنے والی کن عورتوں سے آپ واقف ہیں؟

 

یاسمین حمید:ہندوستان کی جن خواتین کو میں نے پڑھا ہے ان میں کچھ تو بہت ہی مشہور و معروف ہیں جنھیں سب ہی پڑھتے ہیں: امرتا پریتم، قرۃالعین حیدر، عصمت چغتائی، جیلانی بانو، اور پھر ارون دھتی رائے کی کوئی بھی کتاب آئے تو پڑھنے کا اشتیاق ہوتا ہے۔ بعض ہندوستانی نثراد خواتین جو امریکہ میں ہیں ان میں انیتا ڈیسائی اور جھمپا لہری کو پڑھا ہے۔ گیتاپٹیل کی میرا ؔ جی پر کتاب مجھے بہت پسند ہے۔ پھر مہر افشاں ہیں جن سے رابطہ بھی رہتا ہے۔ ان کے علاوہ شاعروں میں مجھے شفیق فاطمہ شعریٰ کے کلیات کا مطالعہ کرنے کا اتفاق ہوا ہے۔ یہ کتاب کراچی سے تقریباً پندرہ سولہ برس پہلے شائع ہوئی تھی اور اس کا طویل تعارف حمید نسیم نے لکھا تھا:

دکھ رہا ہے دل بہت، کوئی ہے جو بانٹ لے

ایسے روزوشب کا بار، ایسی زندگی کا درد

فرصتِ ازل ملی ، مہلتِ ابد ملی

اور ہر نفس کے ساتھ تاک میں لحد ملی

زاہدہ زیدی اور ساجدہ زیدی کی نظمیں بھی یہاں شائع ہوتی رہی ہیں۔ داراب بانو وفا سے تئیس برس پہلے دوبئی کے ایک مشاعرے میں ملاقات ہوئی تھی۔اس کے علاوہ جن خواتین کے تحقیقی کام سے میں نے استفادہ کیا ہے ان کا ذکر میں اس سے پہلے کر چکی ہوں۔ پھر کچھ ہندوستانی خواتین ہیں جن کی شاعری کا میں نے اُردو میں ترجمہ کر رکھا ہے لیکن وہ ابھی شائع نہیں ہوا۔ ان میں کملا داس، نونیتا دیب سین ، نو کانتا پروا، پدماسچدیو، وملا رتنا کمار، سگاتھا کماری اور چند اور بھی ہیں۔

 

تصنیف حیدر:اُردو ادب میں نئی نسل میں کوئی ڈھنگ کی ایسی ادیبہ نظر نہیں آتی جس کی تخلیقیت یا ادبی فہم کا حوالہ دیا جاسکے کیا آپ کے نزدیک ایسا کوئی نام ہے؟

 

یاسمین حمید: ادب میں کوئی چھوٹی موٹی جگہ بنانے کے لیے بھی ایک عمر کی ریاضیت درکار ہے۔ یہ کام نہ تو کسی منصوبے کے تحت کیا جاسکتا ہے‘ نہ ہی کسی جادو کی چھڑی کے ذریعے ۔ سچی لگن‘ صلاحیت اور محنت ہی ہے جس سے کچھ حاصل ہو تو ہو اور اس کے بارے میں بھی کچھ یقین سے نہیں کہا جاسکتا۔ دیکھیے‘ بہت سے لکھنے والوں میں جہاں بہت سی خامیاں ہوتی ہوں گی وہاں کچھ خوبیاں بھی ہوتی ہیں۔ انھیں وقت دینا چاہیے اور موقع دینا چاہیے۔ کسی کی کاوش کو یکسر رد کر دینا مناسب نہیں۔ اول اول بعض اوقات یہ اندازہ نہیں لگایا جاسکتا کہ کون لکھنے والا کتنی سانس کھنیچ سکے گااور کبھی کبھی اندازے غلط بھی ہو جاتے ہیں۔ پھر ہمیں یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ بہت بڑے تخلیق کار آئے دن پیدا نہیں ہو تے ۔ ایسا کبھی بھی نہیں ہوا۔آپ نے پھر خواتین کے بارے میں ہی سوال کیا ہے تو ایسا ہے کہ کچھ خواتین کچھ عرصے سے یکسوئی سے لکھ رہی ہیں۔ انھیں لکھنے دیجیے اور انتظار کیجیے۔ جلدی کیا ہے۔ شاعری میں حمیدہ شاہین کا نام پچھلے چند برسوں میں نمایاں ہوا ہے۔ تنقید میں نجیبہ عارف کی تحریر کی میں بہت قائل ہوں۔ ثروت زہرا اچھی نظم لکھ رہی ہیں۔اس کے علاوہ اور بھی چند خواتین ہیں جو مستقل مزاجی سے اپنے کام میں مصروف ہیں۔ تو دیکھیے۔ بہت سی باتوں کا فیصلہ تو وقت کرتا ہے۔ویسے تو مردوں کے خانے میں بھی اس وقت بڑا قحط ہے۔ نئی نسل میں ہمارے بڑوں کی جگہ لینے والا کیا کوئی ہے؟ کہیں کہیں اچھا شعرکہنے والے یا اچھی نثر لکھنے والے تو ہوں گے لیکن مکمل اور بھرپور تخلیقی شخصیت یا اس کے آثار بھی کہیں نظر آتے ہیں؟ ایسی شخصیت کی نشوو نما کے لیے وقت، محنت اور اخلاص درکار ہے۔ مصنوعی شہرت کی دوڑ اور مشاعرہ بازی اس کے لیے کافی نہیں۔ پھر بھی ہمیں اچھی امید رکھنی چاہیے۔جیسا کہ پہلے میں نے کہا، بعض دفعہ اندازے غلط بھی ہو جاتے ہیں۔

news-1501

yakinjp


sabung ayam online

yakinjp

yakinjp

rtp yakinjp

yakinjp

yakinjp

judi bola online

slot thailand

yakinjp

yakinjp

yakinjp

yakinjp

ayowin

mahjong ways

judi bola online

mahjong ways 2

JUDI BOLA ONLINE

maujp

maujp

sabung ayam online

maujp

maujp

maujp

maujp

MAUJP

sabung ayam online

mahjong ways slot

sbobet88

live casino online

Situs Agen Togel

MAUJP

sv388

maujp

maujp

maujp

maujp

sabung ayam online

118000111

118000112

118000113

118000114

118000115

118000116

118000117

118000118

118000119

118000120

118000121

118000122

118000123

118000124

118000125

118000126

118000127

118000128

118000129

118000130

118000131

118000132

118000133

118000134

118000135

118000136

118000137

118000138

118000139

118000140

118000141

118000142

118000143

118000144

118000145

118000146

118000147

118000148

118000149

118000150

118000151

118000152

118000153

118000154

118000155

128000121

128000122

128000123

128000124

128000125

128000126

128000127

128000128

128000129

128000130

128000131

128000132

128000133

128000134

128000135

128000136

128000137

128000138

128000139

128000140

128000141

128000142

128000143

128000144

128000145

128000146

128000147

128000148

128000149

128000150

128000151

128000152

128000153

128000154

128000155

128000156

128000157

128000158

128000159

128000160

128000161

128000162

128000163

128000164

128000165

138000101

138000102

138000103

138000104

138000105

138000106

138000107

138000108

138000109

138000110

138000111

138000112

138000113

138000114

138000115

138000116

138000117

138000118

138000119

138000120

138000121

138000122

138000123

138000124

138000125

138000126

138000127

138000128

138000129

138000130

148000136

148000137

148000138

148000139

148000140

148000141

148000142

148000143

148000144

148000145

148000146

148000147

148000148

148000149

148000150

148000151

148000152

148000153

148000154

148000155

148000156

148000157

148000158

148000159

148000160

148000161

148000162

148000163

148000164

148000165

168000106

168000107

168000108

168000109

168000110

168000111

168000112

168000113

168000114

168000115

168000116

168000117

168000118

168000119

168000120

168000121

168000122

168000123

168000124

168000125

168000126

168000127

168000128

168000129

168000130

168000131

168000132

168000133

168000134

168000135

178000121

178000122

178000123

178000124

178000125

178000126

178000127

178000128

178000129

178000130

178000131

178000132

178000133

178000134

178000135

178000136

178000137

178000138

178000139

178000140

178000141

178000142

178000143

178000144

178000145

178000146

178000147

178000148

178000149

178000150

178000151

178000152

178000153

178000154

178000155

178000156

178000157

178000158

178000159

178000160

178000161

178000162

178000163

178000164

178000165

188000196

188000197

188000198

188000199

188000200

188000201

188000202

188000203

188000204

188000205

188000206

188000207

188000208

188000209

188000210

188000211

188000212

188000213

188000214

188000215

188000216

188000217

188000218

188000219

188000220

188000221

188000222

188000223

188000224

188000225

198000101

198000102

198000103

198000104

198000105

198000106

198000107

198000108

198000109

198000110

198000111

198000112

198000113

198000114

198000115

198000116

198000117

198000118

198000119

198000120

198000121

198000122

198000123

198000124

198000125

198000126

198000127

198000128

198000129

198000130

238000021

238000022

238000023

238000024

238000025

238000026

238000027

238000028

238000029

238000030

238000091

238000092

238000093

238000094

238000095

238000096

238000097

238000098

238000099

238000100

238000101

238000102

238000103

238000104

238000105

238000106

238000107

238000108

238000109

238000110

238000111

238000112

238000113

238000114

238000115

238000116

238000117

238000118

238000119

238000120

238000121

238000122

238000123

238000124

238000125

238000126

238000127

238000128

238000129

238000130

238000131

238000132

238000133

238000134

238000135

news-1501
news-0801

yakinjp


sabung ayam online

yakinjp

yakinjp

rtp yakinjp

yakinjp

yakinjp

judi bola online

slot thailand

yakinjp

yakinjp

yakinjp

yakinjp

ayowin

mahjong ways

judi bola online

mahjong ways 2

JUDI BOLA ONLINE

maujp

maujp

sabung ayam online

maujp

maujp

maujp

maujp

sabung ayam online

mahjong ways slot

sbobet88

live casino online

Situs Agen Togel

MAUJP

118000021

118000022

118000023

118000024

118000025

118000026

118000027

118000028

118000029

118000030

118000031

118000032

118000033

118000034

118000035

118000036

118000037

118000038

118000039

118000040

118000041

118000042

118000043

118000044

118000045

118000046

118000047

118000048

118000049

118000050

128000021

128000022

128000023

128000024

128000025

128000026

128000027

128000028

128000029

128000030

128000031

128000032

128000033

128000034

128000035

128000036

128000037

128000038

128000039

128000040

128000041

128000042

128000043

128000044

128000045

128000046

128000047

128000048

128000049

128000050

138000021

138000022

138000023

138000024

138000025

138000026

138000027

138000028

138000029

138000030

138000031

138000032

138000033

138000034

138000035

138000036

138000037

138000038

138000039

138000040

138000041

138000042

138000043

138000044

138000045

138000046

138000047

138000048

138000049

138000050

148000026

148000027

148000028

148000029

148000030

148000031

148000032

148000033

148000034

148000035

148000036

148000037

148000038

148000039

148000040

148000041

148000042

148000043

148000044

148000045

148000046

148000047

148000048

148000049

148000050

148000051

148000052

148000053

148000054

148000055

148000056

148000057

148000058

148000059

148000060

148000061

148000062

148000063

148000064

148000065

148000066

148000067

148000068

148000069

148000070

158000041

158000042

158000043

158000044

158000045

158000046

158000047

158000048

158000049

158000050

158000051

158000052

158000053

158000054

158000055

158000056

158000057

158000058

158000059

158000060

158000061

158000062

158000063

158000064

158000065

158000066

158000067

158000068

158000069

158000070

168000011

168000012

168000013

168000014

168000015

168000016

168000017

168000018

168000019

168000020

168000021

168000022

168000023

168000024

168000025

168000026

168000027

168000028

168000029

168000030

168000031

168000032

168000033

168000034

168000035

168000036

168000037

168000038

168000039

168000040

178000036

178000037

178000038

178000039

178000040

178000041

178000042

178000043

178000044

178000045

178000046

178000047

178000048

178000049

178000050

178000051

178000052

178000053

178000054

178000055

178000056

178000057

178000058

178000059

178000060

178000061

178000062

178000063

178000064

178000065

188000141

188000142

188000143

188000144

188000145

188000146

188000147

188000148

188000149

188000150

188000151

188000152

188000153

188000154

188000155

188000156

188000157

188000158

188000159

188000160

188000161

188000162

188000163

188000164

188000165

188000166

188000167

188000168

188000169

188000170

198000031

198000032

198000033

198000034

198000035

198000036

198000037

198000038

198000039

198000040

198000041

198000042

198000043

198000044

198000045

198000046

198000047

198000048

198000049

198000050

198000051

198000052

198000053

198000054

198000055

198000056

198000057

198000058

198000059

198000060

218000021

218000022

218000023

218000024

218000025

218000026

218000027

218000028

218000029

218000030

218000031

218000032

218000033

218000034

218000035

218000036

218000037

218000038

218000039

218000040

218000041

218000042

218000043

218000044

218000045

218000046

218000047

218000048

218000049

218000050

228000016

228000017

228000018

228000019

228000020

228000021

228000022

228000023

228000024

228000025

228000026

228000027

228000028

228000029

228000030

228000031

228000032

228000033

228000034

228000035

228000036

228000037

228000038

228000039

228000040

228000041

228000042

228000043

228000044

228000045

228000046

228000047

228000048

228000049

228000050

238000001

238000002

238000003

238000004

238000005

238000006

238000007

238000008

238000009

238000010

238000011

238000012

238000013

238000014

238000015

238000016

238000017

238000018

238000019

238000020

news-0801