لالو

میرے بچپن کا ایک دوست تھا جس کا نام تھا لالو۔  یہ کوئی پچاس برس پرانی بات ہے ۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ میں ٹھیک ٹھیک بتا نہیں سکتا کہ کتنی پرانی بات ہےــ ہم ایک چھوٹے سے بنگلہ اسکول میں ساتھ ساتھ پڑھتے تھے۔ اس وقت ہم دس گیارہ برس کے رہے ہوں گے۔  لالو کا دماغ شیطانیوں کا گھر تھا جن سے کام لے کر وہ یا تو لوگوں کو ڈراتا تھا یا پھر ان پر غالب آنے کی کوشش کرتا تھا۔  ایک دن اس نے ربڑ کے سانپ سے اپنی ماں کو اس بری طرح ڈرا دیا کہ اس بے چاری کے پاؤں میں موچ آگئی اور اگلے  سات آٹھ دن تک وہ بیچاری لنگڑا کر چلتی رہی۔ اس واقعے سے  اسے اتنا غصہ آیا کہ اس نے لالو کے لیے ایک ٹیوٹر کا انتظام کرنے کا حکم دے ڈالا تاکہ لالو کی ساری شامیں ٹیوٹر کی نذر ہونے لگیں اور لوگوں کو ستانے کے لئے اس کے پاس وقت نہ رہے۔ 

لالو کے باپ  اس منصوبے سے متفق نہیں تھے اور انہوں نے ٹیوٹر کا انتظام کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ انہوں نے خود کبھی ٹیوٹر سے نہیں پڑھا تھا۔ سخت مشقت جھیل کر اور نہایت جانفشانی سے مطالعہ کر کے انہوں نے  تعلیم پوری کی تھی اور آج ایک کامیاب وکیل تھے۔ ان کی خواہش تھی کہ ان کا بیٹا بھی اسی طرح پڑھے۔ البتہ ان کی ایک شرط تھی وہ یہ کہ اگر لالو اپنی کلاس میں اوّل نہیں آیا تو گھر پر پڑھانے کے لئے ماسٹر لگا دیا جائے گا۔  چنانچہ اس بار تو لالو کو نجات مل گئی لیکن دل ہی دل میں  وہ اپنی ماں سے سخت برہم تھا۔ وجہ یہ تھی کہ ماں نے اس پر ماسٹر مسلط کرنے کی کوشش کی تھیــ اور ان دنوں گھر پر ماسٹر  بلانا بالکل ایسے ہی تھا جیسے پولیس کو بلانا۔

لالو کے والد ایک اچھے گرہست تھے۔  کچھ ہی برس   بعد انہوں نے اپنا  پرانا گھر تڑوا کر ایک بہت بڑی تین منزلہ عمارت بنوائی۔  جب نیا گھر بن گیا تو لالو کی ماں کی خواہش ہوئی کہ ان کے گھر پر ان کے گرو دَیو پدھاریں اور اپنا آشیرباد دیں۔  فرید پور سے اتنا طویل سفر کر کے آنے میں ان بزرگ کو تامّل تھا لیکن اتفاق سے ایسے  حالات بن گئے کہ گرودیو آ سکیں۔  گرو دیو اسمرتی رتن سورج گرہن دیکھنے کے لیے کاشی گئے ہوئے تھے۔ وہاں سے انھوں نے چٹھی بھیجی کہ واپس لوٹتے ہوئے نند رانی کو آشیر باد دینے کے لیے وہ ان کے گھر آئیں گے۔ لالو کی ماں کی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا۔  انہوں نے جوش و خروش سے تیاریاں شروع کردیں۔ آخر کار وہ دن آ رہا تھا جب  گرو دیو کے قدموں سے یہ گھر  پوتر ہو جائے گا۔

نچلی منزل سے سارا فرنیچر ہٹا دیا گیا۔  ایک نیا نواڑی پلنگ اور نیا بستر گرو دیو کے آرام کے لئے منگا لیا گیا۔ تیسری منزل پر پوجا کے کمرے تک جانے کے لیے سیڑھیاں چڑھنے میں چونکہ گرودیو کو دشواری ہو سکتی تھی  اس خیال سے اسی کمرے کے ایک گوشے میں ان کے لئے پوجا پاٹھ کا اہتمام کر دیا گیا تھا۔

چند دن کے بعد گرودیو آ گئے۔ لیکن موسم کتنا خراب ہو گیا تھا! کالے کالے بادل آسمان   پر چھا گئے  اور  اپنے ساتھ طوفان اور موسلا دھار  بارش لائے۔  اس دوران لالو کی ماں مٹھائیاں بنانےاور پھل پھول کا انتظام کرنے میں اس بری طرح مصروف رہیں کہ انہیں دم لینے کی بھی فرصت نہ ملی۔  یہ سب کرتے کرتے بھی انہوں نے گرودیو کا  بستر صاف کرنے اور اس پر مچھردانی لگانے کا وقت نکال ہی لیا۔  کافی دیر باتیں کرنے کے بعد  تھکے ہوئے گرو نے رات کا کھانا  کھایا اور سونے کے لئے لیٹ گئے۔  نوکر چاکر بھی رخصت ہوئے۔  صاف ستھرے اور آرام دہ بستر پر لیٹ کر گرودیو ایک بار پھر اندرانی کو آسیس دیے بغیر نہ رہ سکے۔

لیکن اچانک آدھی رات کو ان کی آنکھ کھل گئی۔  چھت سے ٹپکتی ہوئی پانی کی بوندیں مچھردانی پار کرکے ان کے پیٹ پر گر رہی تھیں۔  اف! پانی کس قدر ٹھنڈا تھا! وہ تیزی سے بستر سے اٹھ کھڑے ہوئے اور اپنا پیٹ پونچھنے لگے۔ پھر انہوں نے اپنے دل میں کہا،’ نندرانی نے مکان تو اچھا بنوایا ہے لیکن سورج کی  پچھمی تیز کرنوں نے اس میں ابھی سے دراڑیں ڈال دی ہیں۔‘

نواڑی پلنگ بھاری نہیں تھا۔ چنانچہ گرو  دیو نے اسے کمرے کے دوسرے گوشے میں مچھر دانی سمیت  گھسیٹ لیا اور پھر سے سونے کے لئے لیٹ گئے۔  انہیں آنکھیں بند کئے ہوئے ابھی آدھا منٹ ہی گزرا ہوگا کہ ٹھنڈے پانی کی چند بوندیں پھر سے ان کے پیٹ پر ٹپک پڑیں۔  اسمرتی رتن پھر سے اٹھے  اور چارپائی کو کمرے کے دوسرے سرے پر گھسیٹتے ہوئے بولے، ’لگتا ہے چھت پر بڑی بڑی دراڑیں ایک سرے سے دوسرے سرے تک پھیلی ہوئی ہیں۔‘

 وہ لیٹ گئے۔ لیکن پانی کی بوندیں پھر سے ان کے پیٹ پر گرنے لگیں۔  پلنگ کو ادھر ادھر  کھسکانے سے مسئلہ کسی طرح حل نہ ہوا۔ پانی کی بوندیں گرتی رہیں۔ تب انہیں احساس ہوا کہ بستر اس قدر بھیگ چکا ہے کہ وہ اس پر اب لیٹ بھی نہیں سکتے۔ گرو واقعی  مصیبت میں تھے۔ وہ بوڑھے آدمی تھے۔ ان کے لیے کمرے میں رکنا حالانکہ خطرے سے خالی نہ تھا لیکن اس اجنبی جگہ پر کمرے سے باہر نکلنے کے خیال سے ڈر بھی رہے تھے۔  یہ چٹخی ہوئی چھت اگر میرے سر پر گر پڑی تو کیا ہوگا؟ موت کا خیال آتے ہی انہوں نے دروازہ کھولا اور برآمدے میں آگئے۔ وہاں گوکہ ایک لالٹین روشن کر دی گئی تھی تاہم  باہر گہرا اندھیرا چھایا ہوا تھا اور دور دور تک کسی کا اتاپتا نہ تھا۔

 طوفان زوروں پر تھا اور بارش رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ ایسے میں سیدھے کھڑے ہونا بھی مشکل تھا۔ گرودیو کو معلوم نہ تھا کہ نوکر کس کمرے میں سو رہے ہوں گے۔ انہوں نے زور سے پکارا لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔ برآمدے کے ایک گوشے میں لالو کے والد کے غریب موکلوں کے لیے لکڑی کی بنچ پڑی ہوئی تھی جس پر وہ وکیل صاحب سے ملاقات کے انتظار میں  بیٹھا کرتے تھے۔  گرو دیو وہیں بیٹھ گئے حالانکہ انہیں  اس بات کا احساس تھا کہ ایسا کرنا ان کے آتم سمّان کے خلاف ہے۔  لیکن کوئی اور چارا بھی تو نہ تھا۔سرد  شمالی ہوا  نے پانی کی  تھوڑی سی پھوار ان کے اوپر الٹ دی اور وہ  سردی سے کانپ اٹھے۔  انہوں نے اپنے پاؤں اٹھا کر بیچ میں رکھ لیے اور دھوتی کے سرے سے اپنے بدن کو ڈھانپ کر  اس سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کی۔  دن بھر کی تھکن سے چور اور ٹھنڈ سے سن پڑتا بدن،  دل میں تلخی،  نیند سے بھاری پپوٹے، شام کو کھائے پکوانوں سے پیدا شدہ بے چینی  اور بے خوابی اس پر مستزادــگرو دیو سچ مچ مصیبت میں تھے۔تبھی اچانک ایک اور نئی مصیبت  مسلط ہو گئی۔  موٹے موٹے مچھروں نے ان کے کان کے پاس گنگنانا شروع کر دیا۔  مچھروں نے بڑا جھنڈ بنا کر حملہ کیا تھا۔ اس سے گھبرا کر شروع میں تو وہ  پلک کبھی نہ جھپکا  سکے لیکن دو ہی پل میں انھیں اندازہ ہوگیا کہ مچھر بے شمار ہیں۔  دنیا میں کوئی  آدمی ایسا بہادر نہ ہوگا جو  اس فوج کے مقابل ٹھہر سکے۔  مچھروں کا کاٹنا جتنا ناقابل برداشت تھا اتنا ہی ناقابل برداشت  کھجانا بھی ہو گیا۔

 اسمرتی رتن ترنت وہاں سے ہٹ گئے لیکن مچھر ان کے پیچھے پیچھے چلے آئے۔ کمرے میں پانی تھا اور باہر مچھرــ وہ سچ مچ بڑی مصیبت میں تھے۔ انہوں نے اپنے ہاتھ پاؤں ہلانے اور پھڑپھڑانے شروع کر دیے اور اپنے گمچھے سے مچھروں کو مارنے کی بھی کوشش کی۔ لیکن سب بے سود۔ کمرے کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک بھاگ دوڑ کرتے اس ٹھنڈی رات میں بھی وہ پسینے میں شرابور ہو چکے تھے۔  ان کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ گلا پھاڑ پھاڑ کر چیخنے لگیں اور  اس بچکانی حرکت سے انہوں نے خود کو بڑی مشکل سے روکا۔  انہوں نے اپنے تصور میں دیکھا کہ نندرانی اپنے آرام دہ بستر پر مچھردانی لگائے چین کی نیند سو رہی ہیں اور گھر کا ہر فرد آرام سے سویا ہوا ہے، صرف میری مصیبتوں کا کوئی انت نہیں۔  گھڑی نے جیسے  تیسے چار بجائے۔  تن بہ تقدیر ہو کر انہوں نے کہا، ’چلو جتنا چاہو کاٹتے رہوــاب میں اور نہیں لڑ سکتا۔‘

 وہ برآمدے کے دوسرے گوشے میں آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئے اور ممکن حد تک اپنی پیٹھ کو مچھروں سے بچانے میں کامیاب ہو گئے۔ 

’اگر میں صبح تک  جیوت رہ گیا تو اس بھیانک استھان پر اب بالکل نہیں رکوں گا، پہلی ٹرین پکڑ کر چلا جاؤں گا۔‘  انہوں نے دل ہی دل میں عہد کیا۔

اب انہیں اندازہ ہوا کہ وہ اس شہر میں کیوں نہیں آنا چاہتے تھے لیکن جلد ہی گہری نیند نے آکر رات کی کلفتوں کا خاتمہ کردیا اور وہ تقریبا بے ہوشی کے عالم میں گہری نیند سو گئے۔ 

نندرانی صبح تڑکے جاگ گئیں۔ انہیں اپنے گرودیو کی سیوا کرنی تھی۔  انہوں نے رات کو حالانکہ بھرپیٹ کھانا کھایا تھا لیکن  وہ محسوس کر رہی تھیں کہ  گرودیو نے کم کھایا۔  انہوں نے دل ہی دل میں عزم کیا کہ آج دن بھر ان کی خدمت میں طرح طرح کے کھانے پیش کرکے وہ اس کی تلافی کرلیں گی۔ جب وہ نیچے اتر کر آئیں تو دیکھا کہ دروازہ کھلا ہے۔ انہیں شرمندگی ہوئی کہ میرے اٹھنے سے پہلے ہی گردیو جاگ چکے ہیں۔ انہوں نے کمرے میں جھانکا تو پایا کہ وہ کمرے میں نہیں ہیں۔ لیکن کچھ تو گڑبڑ ہوئی تھی!  انہوں نے دیکھا کہ پلنگ جو جنوبی سرے پر پر تھا اب شمال کی جانب بچھا تھا۔  گرودیو کا کینوس کا تھیلا جو کھڑکی کے نیچے رکھا تھا اب کمرے کے بیچوں  بیچ تھا۔ اور ان کی پوجا کے لیے جو برتن رکھے گئے تھے وہ سب کمرے میں بکھرے پڑے تھے۔ ان کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا ہوا ہے۔ کمرے سے  باہر آ کر انہوں نے ملازموں کو آواز دی لیکن ابھی تک کوئی نہیں جاگا تھا۔ گرودیو آخر اکیلے کہاں گئے؟ ان کی نظر کسی شے پر پڑی۔ یہ کیا ہے؟ اندھیرے میں ڈوبے برآمدے کے ایک سرے پر کوئی آدمی نما شے پڑی ہے؟ ہمت کرکے اس کے قریب گئیں اور جھک کر دیکھا۔ وہ گرودیو ہی تھے۔  ناقابل بیان خوف کی گرفت میں آکر وہ چیخ پڑیں، ’ ٹھاکر موشائی !  ٹھاکر موشائی!‘

اسمرتی رتن جاگ گئے۔ انہوں نے آنکھیں کھولیں اور دھیرے دھیرے اٹھ بیٹھے۔  تکلیف اور شرم کے مارے نندرانی نے رونا شروع کردیا۔ انہوں نے گرودیو سے پوچھا، ’ٹھاکر موشائی!  آپ یہاں کیسے؟‘

اسمرتی رتن کھڑے ہو گئے اور بولے، ’ساری رات میرے کٹھنائیوں کا کوئی انت ہی نہ تھا ماں۔‘ 

’ کیوں بابا؟‘

’بے شک تمہارا مکان نیا ہے لیکن اس کی چھت ہر جگہ سے ٹوٹی ہوئی ہے۔ بارش ساری رات باہر نہیں،  میرے بدن پر ہوتی رہی۔  میں اپنے پلنگ کو جدھر بھی لے گیا بارش وہیں ہوتی رہی۔ میں اس ڈر سے کمرے سے باہر چلا گیا کہ چھت ہی میرے سر پر نہ گر پڑے۔ میں کبھی ادھر جاتا تھا تو کبھی ادھر۔  میرا خیال ہے کہ میرے بدن میں آدھا بھی خون نہیں بچا ماں۔‘

اپنے گرودیو کی یہ قابل رحم حالت دیکھ کر نندرانی رو ہی  پڑیں، جنھیں وہ لاکھ جتن کرکے، خوشامد درآمد کے بعد اپنے گھر بلانے میں کامیاب ہوئی تھیں۔ 

’ لیکن بابا گھر تو تین منزلہ ہے،‘  وہ بولیں، ’آپ کے کمرے کے اوپر دو کمرے اور ہیں۔ تو تین کمروں کی چھتیں بھید کر بارش کا پانی کیسے آسکتا ہے؟‘ کہتے کہتے انہیں اچانک احساس ہوا کہ اس معاملے کے میں کہیں بدمعاش لالو کی  کوئی شرارت تو نہیں۔  وہ دوڑ کر بستر کے پاس پہنچیں اور دیکھا کہ بستر کی چادر بیچوں بیچ  تربتر تھی اور پانی کی بوندیں اب بھی مچھر دانی سے ٹپک رہی تھیں۔  انہوں نے جلدی سے مچھردانی اتاری اور دیکھا کہ کپڑے میں لپٹا ہوا برف کا ٹکڑا اس پر رکھا ہے جس کا بیشتر حصہ پگھل چکا تھا لیکن چھوٹا سا ٹکڑا ابھی باقی تھا۔

وحشت زدہ وہ دوڑتی ہوئی کمرے سے باہر آئیں اور جو بھی پہلا ملازم نظر آیا اس پر چیخنے لگیں، ’وہ بدمعاش لالو کہاں ہے؟  سب کام چھوڑ کر پہلے اسے ڈھونڈو اور جہاں کہیں بھی یہ راکشس نظر آئے اسے پیٹتے ہوئے یہاں لے کر آؤ۔‘

لالو کے والد اسی وقت  سیڑھیوں سے اتر رہے تھے۔ اپنی بیوی کا حال دیکھ کر پریشان ہو اٹھے اور بولے، ’کیا کر رہی ہو؟ کیا ہوا بھئی؟‘

نندرانی روتی ہوئی بولیں، ’یا تو تم اپنے لالو کو گھر سے نکال دو یا پھر میں ہی اس پاپی سے نجات کے لئے آج ہی گنگا میں جا ڈوبوں گی۔‘

’اس نے کیا کر دیا؟‘

’جائیے اور خود ہی دیکھ لیجئے کہ اس نے بلاوجہ گرودیو کے ساتھ کیا کیا ہے۔‘

وہ سب کمرے میں آئے۔ نندرانی نے ساری کہانی سنائی اور انہیں ہر چیز دکھائی۔ پھر وہ اپنے شوہر سے بولیں، ’اب آپ ہی بتائیے کہ ایسے راکشس کے ہوتے ہوئے میں اس گھر کو کیسے سنبھالوں؟‘

گرودیو کی سمجھ میں سارا معاملہ آچکا تھا۔ اپنی بیوقوفی کا اندازہ کرکے وہ قہقہہ لگا کر ہنس پڑے۔ لالو کے باپ نے اپنا چہرہ  دوسری طرف گھما لیا۔

ملازم کمرے میں داخل ہوا اور اس نے اطلاع دی تھی کہ لالو گھر میں نہیں ہے۔  دوسرے نے آ کر بتایا کہ لالو اپنی ماسی کے گھر میں  بیٹھا کھانا کھا رہا ہے۔ ماسی اسے یہاں نہیں آنے دے رہی ہے۔ 

ماسی نندرانی کی چھوٹی بہن تھی۔ اس کا شوہر بھی وکیل تھا اور وہ لوگ دوسرے محلے میں رہتے تھے۔

 

اس واقعے کے بعد کوئی 15 دن تک لالو اپنے گھر کے آس پاس بھی نہیں پھٹکا۔

٠٠٠٠٠

 

’دیوداس‘ اور ’پرینیتا‘  کے خالق کے طور پر شہرت پانے والے شرت چندر چٹوپادھیائے 15 ستمبر 1876  مغربی بنگال کے ضلع ہُگلی کے گاؤں  دیونند پور میں پیدا ہوئے۔ ان کی بچپن کا بیشتر حصہ اپنی ماں کے ساتھ نانہیالی شہر  بھاگلپور میں گزرا۔   وہیں دو سال تک یونیورسٹی میں تعلیم پائی لیکن  مکمل نہیں کی۔  27 برس کی عمر میں  رنگون چلے گئے اور 1916 میں لوٹنے کے بعد  پہلے ہاوڑہ اور پھر کلکتے میں رہائش اختیار کی۔  16جنوری 1938 میں انتقال ہوا۔ شرت چند کی پہلی کہانی 1903 میں ان کے چچا سریندرناتھ گانگولی کے نام سے شائع ہوئی  لیکن طویل مختصر افسانہ یا ناولٹ ’بارا دیدی‘  1907 میں اپنے ہی نام سے شائع کرایا۔  بھاگلپور کے زمانۂ قیام میں ہی انھوں نے لکھنا شروع کر دیا تھا۔  ناول ’دیوداس‘  1901 میں لکھا لیکن وہ 1917 میں شائع ہوا۔ ’ دیوداس‘ پر تین اور ’پرینیتا‘  پر دو کامیاب ہندی فلمیں بن چکی ہیں۔  زیرنظر کہانی ’لالو‘دراصل  ان کے بچپن کے دوست راجندر ناتھ مجومدار  کی  شرارتوں کی ایک جھلک  پیش کرتی ہے۔ 

 ارجمند آرا معروف اردو ادیب و مترجم ہیں۔انہوں نے بہت سی اہم کتابوں، کہانیوں، مضامین کا انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمہ کیا ہے۔شرت چند کی یہ کہانی مختصر ہونے کے باوجود دلچسپ اور ایک لڑکے کی تخلیقی شرارت کی ایسی عمدہ تصویر دکھاتی ہے کہ اس کے آگے اچھے اچھے استاد اپنے دانتوں میں انگلیاں دبا لیں۔ ارجمند آرا نے کہانی کو انگریزی سے ترجمہ کرنے کے باوجود اس کے بنگلہ وصف کو قائم رکھنے کے لیے ترجمہ کرتے وقت زبان کا استعمال بڑی مہارت سے کیا ہے۔جس کی وجہ سے اس کی علاقائی چمک ماند نہیں ہوئی ہے۔

news-1601

yakinjp


sabung ayam online

yakinjp

yakinjp

rtp yakinjp

yakinjp

yakinjp

judi bola online

slot thailand

yakinjp

yakinjp

yakinjp

yakinjp

ayowin

mahjong ways

judi bola online

mahjong ways 2

JUDI BOLA ONLINE

maujp

maujp

sabung ayam online

maujp

maujp

maujp

maujp

MAUJP

sabung ayam online

mahjong ways slot

sbobet88

live casino online

Situs Agen Togel

MAUJP

sv388

maujp

maujp

maujp

maujp

sabung ayam online

118000111

118000112

118000113

118000114

118000115

118000116

118000117

118000118

118000119

118000120

118000121

118000122

118000123

118000124

118000125

118000126

118000127

118000128

118000129

118000130

118000131

118000132

118000133

118000134

118000135

118000136

118000137

118000138

118000139

118000140

118000141

118000142

118000143

118000144

118000145

118000146

118000147

118000148

118000149

118000150

118000151

118000152

118000153

118000154

118000155

128000121

128000122

128000123

128000124

128000125

128000126

128000127

128000128

128000129

128000130

128000131

128000132

128000133

128000134

128000135

128000136

128000137

128000138

128000139

128000140

128000141

128000142

128000143

128000144

128000145

128000146

128000147

128000148

128000149

128000150

128000151

128000152

128000153

128000154

128000155

128000156

128000157

128000158

128000159

128000160

128000161

128000162

128000163

128000164

128000165

138000101

138000102

138000103

138000104

138000105

138000106

138000107

138000108

138000109

138000110

138000111

138000112

138000113

138000114

138000115

138000116

138000117

138000118

138000119

138000120

138000121

138000122

138000123

138000124

138000125

138000126

138000127

138000128

138000129

138000130

148000136

148000137

148000138

148000139

148000140

148000141

148000142

148000143

148000144

148000145

148000146

148000147

148000148

148000149

148000150

148000151

148000152

148000153

148000154

148000155

148000156

148000157

148000158

148000159

148000160

148000161

148000162

148000163

148000164

148000165

168000106

168000107

168000108

168000109

168000110

168000111

168000112

168000113

168000114

168000115

168000116

168000117

168000118

168000119

168000120

168000121

168000122

168000123

168000124

168000125

168000126

168000127

168000128

168000129

168000130

168000131

168000132

168000133

168000134

168000135

178000121

178000122

178000123

178000124

178000125

178000126

178000127

178000128

178000129

178000130

178000131

178000132

178000133

178000134

178000135

178000136

178000137

178000138

178000139

178000140

178000141

178000142

178000143

178000144

178000145

178000146

178000147

178000148

178000149

178000150

178000151

178000152

178000153

178000154

178000155

178000156

178000157

178000158

178000159

178000160

178000161

178000162

178000163

178000164

178000165

188000196

188000197

188000198

188000199

188000200

188000201

188000202

188000203

188000204

188000205

188000206

188000207

188000208

188000209

188000210

188000211

188000212

188000213

188000214

188000215

188000216

188000217

188000218

188000219

188000220

188000221

188000222

188000223

188000224

188000225

198000101

198000102

198000103

198000104

198000105

198000106

198000107

198000108

198000109

198000110

198000111

198000112

198000113

198000114

198000115

198000116

198000117

198000118

198000119

198000120

198000121

198000122

198000123

198000124

198000125

198000126

198000127

198000128

198000129

198000130

238000021

238000022

238000023

238000024

238000025

238000026

238000027

238000028

238000029

238000030

238000091

238000092

238000093

238000094

238000095

238000096

238000097

238000098

238000099

238000100

238000101

238000102

238000103

238000104

238000105

238000106

238000107

238000108

238000109

238000110

238000111

238000112

238000113

238000114

238000115

238000116

238000117

238000118

238000119

238000120

238000121

238000122

238000123

238000124

238000125

238000126

238000127

238000128

238000129

238000130

238000131

238000132

238000133

238000134

238000135

news-1601
news-0801

yakinjp


sabung ayam online

yakinjp

yakinjp

rtp yakinjp

yakinjp

yakinjp

judi bola online

slot thailand

yakinjp

yakinjp

yakinjp

yakinjp

ayowin

mahjong ways

judi bola online

mahjong ways 2

JUDI BOLA ONLINE

maujp

maujp

sabung ayam online

maujp

maujp

maujp

maujp

sabung ayam online

mahjong ways slot

sbobet88

live casino online

Situs Agen Togel

MAUJP

118000021

118000022

118000023

118000024

118000025

118000026

118000027

118000028

118000029

118000030

118000031

118000032

118000033

118000034

118000035

118000036

118000037

118000038

118000039

118000040

118000041

118000042

118000043

118000044

118000045

118000046

118000047

118000048

118000049

118000050

128000021

128000022

128000023

128000024

128000025

128000026

128000027

128000028

128000029

128000030

128000031

128000032

128000033

128000034

128000035

128000036

128000037

128000038

128000039

128000040

128000041

128000042

128000043

128000044

128000045

128000046

128000047

128000048

128000049

128000050

138000021

138000022

138000023

138000024

138000025

138000026

138000027

138000028

138000029

138000030

138000031

138000032

138000033

138000034

138000035

138000036

138000037

138000038

138000039

138000040

138000041

138000042

138000043

138000044

138000045

138000046

138000047

138000048

138000049

138000050

148000026

148000027

148000028

148000029

148000030

148000031

148000032

148000033

148000034

148000035

148000036

148000037

148000038

148000039

148000040

148000041

148000042

148000043

148000044

148000045

148000046

148000047

148000048

148000049

148000050

148000051

148000052

148000053

148000054

148000055

148000056

148000057

148000058

148000059

148000060

148000061

148000062

148000063

148000064

148000065

148000066

148000067

148000068

148000069

148000070

158000041

158000042

158000043

158000044

158000045

158000046

158000047

158000048

158000049

158000050

158000051

158000052

158000053

158000054

158000055

158000056

158000057

158000058

158000059

158000060

158000061

158000062

158000063

158000064

158000065

158000066

158000067

158000068

158000069

158000070

168000011

168000012

168000013

168000014

168000015

168000016

168000017

168000018

168000019

168000020

168000021

168000022

168000023

168000024

168000025

168000026

168000027

168000028

168000029

168000030

168000031

168000032

168000033

168000034

168000035

168000036

168000037

168000038

168000039

168000040

178000036

178000037

178000038

178000039

178000040

178000041

178000042

178000043

178000044

178000045

178000046

178000047

178000048

178000049

178000050

178000051

178000052

178000053

178000054

178000055

178000056

178000057

178000058

178000059

178000060

178000061

178000062

178000063

178000064

178000065

188000141

188000142

188000143

188000144

188000145

188000146

188000147

188000148

188000149

188000150

188000151

188000152

188000153

188000154

188000155

188000156

188000157

188000158

188000159

188000160

188000161

188000162

188000163

188000164

188000165

188000166

188000167

188000168

188000169

188000170

198000031

198000032

198000033

198000034

198000035

198000036

198000037

198000038

198000039

198000040

198000041

198000042

198000043

198000044

198000045

198000046

198000047

198000048

198000049

198000050

198000051

198000052

198000053

198000054

198000055

198000056

198000057

198000058

198000059

198000060

218000021

218000022

218000023

218000024

218000025

218000026

218000027

218000028

218000029

218000030

218000031

218000032

218000033

218000034

218000035

218000036

218000037

218000038

218000039

218000040

218000041

218000042

218000043

218000044

218000045

218000046

218000047

218000048

218000049

218000050

228000016

228000017

228000018

228000019

228000020

228000021

228000022

228000023

228000024

228000025

228000026

228000027

228000028

228000029

228000030

228000031

228000032

228000033

228000034

228000035

228000036

228000037

228000038

228000039

228000040

228000041

228000042

228000043

228000044

228000045

228000046

228000047

228000048

228000049

228000050

238000001

238000002

238000003

238000004

238000005

238000006

238000007

238000008

238000009

238000010

238000011

238000012

238000013

238000014

238000015

238000016

238000017

238000018

238000019

238000020

news-0801