کُشل دبے پاؤں اس طرح گھر میں گھسا تھا، جیسے گھر اس کا اپنا نہ ہو اور کھانسی آنے پر وہ گلی میں جاکر اس طرح جی بھر کھانس آیا تھا، جیسے مدن کو نصیحت کرنے کا موقع نہ دینے کے لیے وہ اکثر دُکان کے باہر جاکر کھانسا کرتا ہے۔پھر اس نے سوچا کہ وہ شاید اپنے اچانک آجانے سے ترِپتا کو چونکانا چاہتا ہے۔یہ سوچ کر وہ مسکرا دیا کہ کیا چونکانے کے لیے اب یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہی رہ گئی ہیں۔
ترپتا نے کُشل کو دیکھا تو واقعی چونک گئی۔اس نے کشل کو دیکھتے ہی کاغذوں کا ایک پلندہ ٹرنک میں چھپادیا، جسے وہ دیوار سے پیٹھ ٹکائے پھسپھسا کر بڑے انہماک سے پڑھ رہی تھی۔ اس کی آواز میں اتار چڑھاؤ کو بھی پہچانا جاسکتا تھا۔اس نے حال ہی میں دھوئے ہوئے بالوں کو جوڑے کی شکل میں اکٹھا کرکے ان پر اپنا سر اس ڈھنگ سے رکھا ہوا تھا جیسے بالوں سے تکیے کا کام لے رہی ہو۔کشل کو دیکھتے ہی اس کے ماتھے پر ڈھیر سا پسینہ اکٹھا ہوگیا اور وہ کھڑی ہوگئی۔اس کے بال کھل کر کاندھوں پر بکھر گئے۔اس نے کارنس سے لال رنگ کا ربن اٹھایا اور بال باندھنے لگی۔
کشل نے کھاٹ پر بیٹھ کر اپنے جوتے اتارے اور بولا،’آج مدن دلی گیا ہے اور میں اٹھ آیا۔’
ترپتا کی قمیص پسینے سے جسم پر چپکتی جارہی تھی۔اور گردن سے پسینے کے قطرے چُو کر ہنسلیوں پر ایسے رینگ رہے تھے ، جیسے برسات کے بعد بجلی کے تاروں پر پانی رینگتا ہے۔اس نے قمیص سے منہ پونچھا اور بولی، ‘آج تو بہت گرمی ہے۔’پھر اس نے ٹرنک کو کھاٹ کے نیچے سرکاتے ہوئے کہا،’میں تو سمجھی تھی، پرکاش کھانا لے آیا ہوگا، آپ اس سمے کیسے آگئے؟’ پھر اس نے کشل کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا،’طبیعت تو ٹھیک ہے؟’کشل سوچنے لگا کہ اگر وہ ترپتا کی جگہ ہوتا تو اس وقت کیسے آگئے کی جگہ ‘کہاں سے ٹپک پڑے، کہتا۔ترپتا کو جواباً سرخ ہوتے دیکھ کر اور تلاش کے باوجود نہ ملنے کے انداز میں ادھر ادھر گھومتے اور نظریں دوڑاتے دیکھ کر کشل نے جیب سے ماچس نکال کر اس کی طرف پھینکتے ہوئے کہا۔’یہ لو۔’
ترپتا نے ماچس دبوچ لی اور بولی،’آپ کیسے جان گئے تھے کہ میں ماچس ڈھونڈ رہی تھی؟’ کشل کو معلوم تھا کہ ترپتا ماچس نہیں ڈھونڈ رہی تھی، بلکہ چھوٹی سی بات کو لے کر پریشان ہورہی تھی۔اس نے محض اس کی گھبراہٹ کم کرنے کے لیے ماچس پھینکی تھی۔پھر اس نے کہا۔’میں جانتا تھا، سٹوو پر تمہاری نظر نہیں جائے گی۔حالانکہ تمہیں معلوم ہے کہ ماچس وہیں پڑی رہتی ہے۔’
ترپتا نے سٹوو جلایا اور چائے کا پانی چڑھا دیا اور پھر خود بھی کشل کے قریب کھاٹ پر آکر بیٹھ گئی اور پاؤں ہلانے لگی۔کشل نے کہا،’پیر کیوں ہلارہی ہو؟’ترپتا نے پیر ہلانے بند کردیے اور پاس رکھا تولیہ اٹھاکر رگڑ رگڑ کر منہ صاف کرنے لگی۔پسینہ سوکھ گیا تھا مگر وہ پھر بھی تولیہ نہیں چھوڑ رہی تھی۔کشل نے اسے یقین دلانے اور شانت کرنے کے لیے اپنے لہجے کو ممکنہ حد تک قدرتی بناتے ہوئے کہا،’کہانی لکھ رہی تھیں کیا؟’اس نے ترپتا کی پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے کہا،’مجھے لگتا ہے کہ تم کہانیاں لکھتی رہو تو بہت بڑی کہانی کار بن جاؤ گی۔’
ترپتا کشل کی طرف دیکھ کر مسکرائی اور اس کی بشرٹ پر رینگتی ہوئی ایک چیونٹی کو ہٹاتے ہوئے بولی،’شادی کے بعد تو کچھ نہیں لکھا۔وہی پرانی کہانی پڑھ رہی تھی جسے سن کر آپ نے میرا بہت مذاق اڑایا تھا۔’
وہ پھر پیر ہلانے لگی اور شکایت کے انداز میں کشل کی طرف دیکھنے لگی۔کشل نے محسوس کیا کہ کئی بار بے وقوف بنا کر اتنا مزہ نہیں آتا، جتنا بن کر آتا ہے۔مگر جب ترپتا بالکل بے فکر ہوگئی کہ کشل پوری طرح بے وقوف بن چکا ہے تو کشل کو یہ اچھا نہیں لگا۔اس نے کہا،’عجیب بات ہے، ٹانگیں تو میری درد کررہی ہیں اور ہلا تم رہی ہو۔’پھر اس نے کچھ دیر چپ رہ کر کہا،’ترپتا! ذرا میری طرف دیکھو۔’
ترپتا نے تولیے کو اوپر سرکار کر تھوڑی سی آنکھ ننگی کی اور پھر فوراً منہ چھپاتی ہوئی بولی،’آپ مجھے ڈرا کیوں رہے ہیں؟’
‘ڈرا کیسے رہا ہوں؟’ کشل کو ہلکی سی خوشی ہوئی۔اس نے ترپتا کے ہاتھ سے تولیا کھینچتے ہوئے کہا،’دیکھو سٹوو شاید بجھ گیا ہے۔’
ترپتا نہایت تیزی سے بھاگ کر سٹوو کی طرف گئی، جیسے دودھ ابل گیا ہو، اور پھر کشل کی طرف پیٹھ کر کے سٹوو کے قریب ہی پٹری پر بیٹھ گئی۔
اچانک کشل کو لگا کہ باتھ روم کا نل کھلا ہے۔ویسے باتھ روم کا نل تب تک کھلا رہتا ہے، جب تک میونسپلٹی اس کی رگوں کو پانی مہیا کرسکتی ہے۔اس سے پہلے گلی میں شور کررہے بچوں کی آواز بھی اسے سنائی نہیں دے رہی تھی۔بچوں کا شور سن کر وہ یکدم مسکرادیا۔مدن جب کبھی موڈ میں ہوتا ہے تو دکان میں آنے والے گاہکوں کو کبھی کبھی کشل کا حوالہ دے کر سنایا کرتا ہے کہ بھارت میں تبھی چین سے سویا جاسکتا ہے’،مدن چٹکی بجاکر کشل کو ہاف سیٹ چائے کا آرڈر دینے کا اشارہ کرتے ہوئے اپنی بات جاری رکھتا ،’جب رات کو آپ بچوں کی غوں غاں کو لوری سمجھیں اور صبح گلی کے ننھے منوں کے اجتماعی بین سے آپ گھڑی کے الارم کا کام لے سکیں۔
اتوار کی دوپہر تو کشل جیسے تیسے کرکے گھر میں ہی گزار لیتا ہے، مگر اس وقت بچوں کی دھینگا مشتی نہ تو لوری کا کام کرتی تھی اور نہ گھڑی کے الارم کا۔اس نے ترپتا سے پوچھا۔’کیوں ترپتا، گلی کے بچوں کے سکول کب کھل رہے ہیں؟’
ترپتا نے مسکرا کر پیچھے کی جانب دیکھا ، وہ شاید اب تک سنبھل چکی تھی یا شاید پوچھے گئے سوال کو اس نے پہلے ہی بھانپ لیا تھا کہ کشل کی نظر اتنی گہری نہیں ہے، جتنی کہ وہ سمجھ بیٹھی ہے۔وہ سٹوو سے کیتلی اتارنے لگی۔
اس نے کشل کے لیے چائے کا پیالہ تیار کیا اور کشل کو پکڑاتے ہوئے بولی، ‘آپ شیو بنالیں، میں تب تک آپ کے کپڑے ستری کردوں۔کتنا اچھا رہے، اگر آج پکچر دیکھنے چلیں۔’
‘میرا خیال ہے پکچر تو ہم مدن کے لوٹنے تک نہیں جاسکیں گے۔اسے دلی جانا تھا، میں نے پیسے نہیں مانگے۔’
‘پکچر جتّے پیسے میرے پاس ہیں۔’ترپتا نے پیروں سے ٹرنک کو کھاٹ کے اور بھی نیچے دھکیلتے ہوئے کہا،’کل سوم دے گیا تھا۔’
کشل کی لمبی ناک چائے کے پیالے میں ڈوب گئی، اس نے آخری گھونٹ بھرنے کے بعد خالی پیالہ ترپتا کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہا،’پہلے چائے کا ایک اور کپ، بعد میں کچھ اور۔’
کشل کل سے ہی سوم کے ذکر سے لطف اندوز ہورہا تھا۔کل جب سوم گھر کا پتہ جاننے کے لیے دکان پر آیا تھا، تو کشل جان بوجھ کر سوم کے ساتھ خود نہیں آیا تھا، بلکہ اس نے دکان کے چپراسی کے ساتھ سوم کو گھر بھجوادیا تھا۔
جب سوم آیا تھا تو کشل ایک خط ٹائپ کررہا تھا، جب وہ چلا گیا، وہ پھر ٹائپ رائٹر پر جھک گیا اور ٹائپ کرنے لگا۔سوم ڈرپوک تھا کہ ترپتا ڈرپوک تھی، نہیں وہ سیانی تھی۔سوم ڈرپوک تھا، سوم ڈرپوک ہے، سوم ڈرپوک رہے گا۔ترپتا ڈرپوک تھی، ترپتا ڈرپوک۔۔۔کشل نے مدن کی طرف دیکھتے ہوئے کاغذ نکالا اور میز کے نیچے لے جاکر ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا۔شام کو جب وہ گھر لوٹا تھا، تو سوم جاچکا تھا۔کھانے کے بعد جب ترپتا طشتری میں آم لے آئی، اس نے جان بوجھ کر نہیں پوچھا کہ آم کون لایا ہے۔آم کی گٹھلی چوستے ہوئے ترپتا نے کہا تھا،’پانچ بجے تک سوم آپ کا انتظار کرتا رہا۔’
کشل نے جواب نہیں دیا اور ترپتا کو چائے کے لیے کہہ کر نل کی طرف چلا گیا تھا۔’سوم کہہ رہا تھا، ماں بہت یاد کررہی تھیں۔’نل سے لوٹ کر کشل نے دیکھا، ترپتا کے گالوں پر آم کا رس لگا تھا۔اس نے ترپتا کی بات ان سنی کردی اور تولیے سے اس کے گال پونچھ دیے۔
چائے کا دوسرا پیالہ پیتے پیتے کشل بھی پسینے سے بھیگنے لگا۔اس نے بشرٹ اتار کر کھاٹ پر رکھ دی اور اپنی چھاتی کے گھنے بالوں میں تیرتا ہوا پسینہ پونچھنے لگا۔کالے بالوں کے بیچ ایک سفید بال پر اس کی نظر گئی تو اس نے انگلی پر اسے لپیٹ کر جڑ سمیت اکھاڑ دیا اور پھر چھاتی پر ہاتھ پھیرنے لگا۔
ترپتا نے ٹیبل گھسیٹ کر کشل کے آگے کردیا اور اس پر شیو کا سامان ٹکا دیا۔کشل منہ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے آئینے میں اپنا چہرہ دیکھنے لگا۔
‘آپ اب شیو بنالیجیے۔’ترپتا نے کہا اور کشل کی اتاری ہوئی بشرٹ کو چوہیا کی دم کی طرح پکڑ کر باتھ روم میں لے گئی۔
کشل نے ریزر میں بلیڈ فٹ کیا اور دیر تک منہ پر صابن کا جھاگ پھیرتا رہا، لیکن اس کا شیو بنانے کا جی نہیں ہورہا تھا۔اسے معلوم تھا کہ اگر اس نے شیو بنالی تو نہانا بھی پڑے گا اور نہانے کے لیے وہ بالکل تیار نہیں تھا۔اس کی پنڈلیوں میں درد ہورہا تھا اور جسم کا ہر جوڑ ٹوٹ رہا تھا۔یہ صبح سے ہورہا تھا۔اور یہی وجہ تھی کہ وہ صبح بھی بنا نہائے نکل گیا تھا۔اس بے انتہا تھکاوٹ اور عجیب درد سے کند ہوکر آج صبح اٹھتے ہی ترپتا سے اس نے کہا تھا کہ کیا وجہ ہے کہ وہ کل سے کچھ زیادہ ہی پیار کررہی ہے؟ کشل کو چہرے پر جھاگ پھیرتے دیکھ کر ترپتا نے پوچھا کہ وہ کیا سوچ رہا ہے؟
‘یہی کہ۔۔۔’کشل نے ریزر کو پانی میں بھگوئے ہوئے کہا۔’اس پہلی کو نئی کھاٹ لے آؤں گا۔’
ترپتا کو یہ بات نہایت فضول لگی۔بولی۔’میں تو بہت کم جگہ گھیرتی ہوں۔’
‘کئی باتیں ابھی تمہاری سمجھ میں نہیں آسکتیں۔’تم ابھی بچی ہو۔’کشل نے آئینے میں سے ترپتا کی طرف کنکھیوں سے دیکھتے ہوئے کہا،’کئی بار تو تمہارے منہ سے دودھ کی بو بھی آتی ہے۔’ترپتا کچھ دیر خاموش سی اس کی طرف تاکتی رہی، پھر باتھ روم میں چلی گئی۔جب وہ نہا کر لوٹی تو کشل تب بھی چہرے پر جھاگ پھیر رہا تھا۔ترپتا کو دیکھ کر اس کے دماغ میں کسی رومانوی شاعر کے مصرعے تیرنے لگے۔انہیں پکڑنے کے بجائے وہ ترپتا کو تنبیہ کرنے کے لہجے میں کہنے لگا کہ وہ مستقبل میں اسے شیو بنانے اور نہانے کے لیے کبھی نہ کہے۔اس کی مرضی ہوگی تو وہ خود نہالے گا۔
اتنے میں باہر کا دروازہ کھلا اور کسی کے آنے کی آہٹ سنائی دی۔ترپتا نے اچک کر باہر دیکھا اور بولی۔’سُبّی ہے۔’
‘سُبٗی بہت خراب لڑکی ہے۔’ترپتا نے کہا۔
‘لڑکیاں سبھی خراب ہوتی ہیں۔’کُشل نے کہا۔وہ جانتا تھا، ترپتا کی نظروں میں سُبّی کیوں خراب ہے۔
کشل شیو بناتا رہا۔ترپتا کچھ لمحے رک کر بولی،’دیکھنے میں کتنی بھولی لگتی ہے، مگر موئی کے پاس لڑکوں کے خط آتے ہیں۔’
آئینے میں کشل کا چہرہ مسکرانے لگا، اس نے ٹھوڑی پر ریزر چلاتے ہوئے کہا،’دیکھنے میں تو تم بھی بہت بھولی لگتی ہو۔’
ترپتا کے چہرے پر ہوائیاں اڑتے دیکھ کر اس نے بات کا رخ بدلا۔’جوان لڑکی کو لوگ ایسے ہی بدنام کردیتے ہیں۔’
‘میں بھلا اس کی بدنامی کیوں کروں گی۔’ترپتا نے کلائی میں پہنی چوڑیاں انگلیوں سے گھماتے ہوئے کہا،’میں نے خود دیکھے ہیں اس کے پاس درشن کے خط۔ناس پیٹی ان کے جواب بھی لکھتی ہے۔’
‘تم کیا خاک کہانیاں لکھتی ہوگی۔’کشل کے منہ میں صابن چلا گیا تھا، اس نے تولیے سے ہونٹ صاف کیے اور بولا،’خط لکھنے میں کیا برائی ہے؟ کہانی کار لڑکی کو کچھ تو فراخ دل ہونا چاہیے۔’کشل نے اپنی ٹانگ سے ٹرنک کو تھوڑا سرکا دیا اور پھر وہ ایسے پیر ہلانے لگا، جیسے ٹرنک اتفاق سے چھوگیا ہو۔
‘آپ کوئی اور مکان دیکھیے۔’ترپتا نے کہا،’چیزیں رکھنے کے لیے بھی جگہ نہیں ہے۔ ساری رات ٹرنک میری پیٹھ پر چبھتا رہتا ہے۔’
‘سونے سے پہلے ٹرنک کو کھاٹ کے نیچے سے نکال دیا کرو۔’کشل نے کہا۔
‘آپ شیو کیوں نہیں بناتے؟’
‘شیو تو اب بن ہی جائے گی۔’کشل ریزر کو پانی کے گلاس میں گھما رہا تھا جب صابن اتر گیا تو اس نے کہا۔’سُبّی تو ابھی بالکل معصوم ہے۔مجھے سمجھ میں نہیں آتا کہ تم اس کے بارے میں الٹی سیدھی باتیں کیوں سوچتی رہتی ہو۔’
‘آپ کو بات کا پتہ نہیں ہوتا اور۔۔۔’
‘اور کیا؟خط لکھنے میں مجھے تو کوئی برائی نظر نہیں آتی۔’
کشل نے جان بوجھ کر ترپتا سے آنکھ نہیں ملائی۔ترپتا کو کچھ سوچتے ہوئے دیکھ کراس نے کہا،’خط لکھنے کے علاوہ بھی کچھ کرتی ہو، میں سوچ نہیں سکتا۔تم اس بات کو کیوں بھول جاتی ہو کہ اکثر لڑکیاں ڈرپوک ہوتی ہیں۔’
‘آپ کو اسی دن پتہ چلے گا، جب اس کے بھاگنے کی خبر ملے گی۔’
‘اگر سُبّی ایسی لڑکی ہے، تو تم اس کے ساتھ تعلق کیوں رکھتی ہو؟’
‘میں تو اسے سمجھاتی رہتی ہوں۔’
‘کیا سمجھاتی رہتی ہو؟’کشل کے گال پر ایک کٹ آگیا۔
‘یہی کہ درشن خط لکھتا ہے تو وہ جواب کیوں دیتی ہے؟’
کشل نے تولیے سے گلا صاف کیا۔دوسرے ہی لمحے خون کا ایک اور قطرہ چمکنے لگا۔
ترپتا بھاگ کر ‘ڈیٹول’ لے آئی۔روئی سے اس کے گال پر لگاتے ہوئے بولی،’میں نے اسے یہ بھی سمجھایا ہے کہ وہ درشن سے کہے کہ جب تک وہ اس کے پچھلے خط نہیں لوٹائے گا، وہ اس سے بات نہیں کرے گی۔’
کشل نے قہقہہ لگایا اور بولا،’تم ضرور اسے پھنساؤگی۔’
‘پھنساؤں گی کیسے؟’
‘اس سے نہ تو خطوں کو تلف کرتے ہی بنے گی اور سنبھال کر رکھے گی تو کسی وقت بھی راز کھل سکتا ہے۔’کشل نے کہا۔
‘بھاڑ میں جائے سُبٗی اور اس کے خط۔اگر آج آپ پکچر نہیں جائیں گے تو میں آپ کے لیے کچھ خرید کر لے آؤں گی۔’
‘اتنا پیار نہ کیا کروتِپٗو۔’کشل نے ترپتا کی کلائی پکڑلی اور اسی روئی کو ترپتا کے گال پر گھستے ہوئے بولا۔’پہلے تو تم اتنی۔۔۔’
بس۔۔بس۔۔’ترپتا نے بات بیچ میں ہی کاٹ دی،’بتائیے آپ کے لیے کیا لاؤں؟’
‘میرے لیے ایک کھاٹ لاؤ۔’کشل کی پنڈلیوں میں پھر زوروں کا درد ہونے لگا تھا۔
ترپتا جیسے پریم کے بہاؤ میں بہہ گئی۔گنانے لگی۔’نہیں، کھاٹ نہیں، ایک نئی بشرٹ، ایک آپ کی پسندیدہ کتاب، نیا ٹوتھ برش اور۔۔۔’اس نے کچھ سوچتے ہوئے کہا،’اور ٹافیاں لالی پاپ!’
‘تم صرف ٹافیاں لالی پاپ لے آؤ۔’
‘نہیں، میں سب چیزیں لاؤں گی۔’
‘تمہارے پاس کتنے پیسے ہیں؟’
‘پانچ روپے!’ترپتا نے تھوک نگلتے ہوئے کہا۔
‘پانچ روپیوں سے تو یہ سب نہیں آئے گا، تمہارے پاس ضرور اور بھی پیسے ہوں گے۔’
‘قسم سے، اتنے ہی ہیں۔’ترپتا نے کہا،’آپ سوم سے پوچھ لیں، وہ پانچ روپے ہی دے کر گیا تھا۔’
کشل شیو بناچکا تھا، مگر فوراً نہانا نہیں چاہتا تھا، بولا،’بھلا تم نے سوم سے پیسے کیوں لیے؟ ‘ترپتا کا چہرہ چھِلے آلو کی طرح ہوگیا، بولی،’آپ نے منع کیا ہوتا تو کبھی نہ لیتی۔’
‘پیسے لینے میں تو کوئی حرج نہیں تھا۔۔۔’کشل نے کہا،’کیوں ناحق اس کا خرچ کروایا جائے۔اس دن دکان پر آیا تو بہت پھل بھی لیتا آیا تھا۔’جھوٹ بول کر اسے خوشی ہوئی۔
‘آپ نے بتایا کیوں نہیں؟’
‘بھلا اس میں بتانے کی کیا بات تھی۔اور پھر تم نے بھی تو نہیں بتایا تھا کہ وہ پیسے بھی دے گیا ہے۔’
‘بتا تو دیا ہے۔’
‘خیر!’کشل نے بات ختم ہوتے دیکھ کرٹہوکا دیا۔’سوم تمہارا کیا لگتا ہے؟’
‘بوا کا لڑکا ہے۔آپ کو کئی بار تو بتایا ہے۔’اس نے چڑھ کر کہا۔
‘میں ہر بار بھول جاتا ہوں۔’کشل نے ہنستے ہوئے کہا،’تمہارے بیاہ میں سب سے الگ تھلگ کھڑا جس طرح سے رو رہا تھا، اس سے تو میں نے اندازہ لگایا تھا کہ ضرور رقیب ہوگا۔’
‘رقیب کے معنی کیا ہوتے ہیں۔’ترپتا نے فوراً پوچھا۔
‘عربی میں بوا کے لڑکے کو رقیب کہتے ہیں۔’کشل نے کہا اور کندھے پر تولیہ رکھ کر باتھ روم میں چلا گیا۔
کشل نے باتھ روم کا دروازہ بند کیا، تو اسے کھاٹ گھسیٹنے کی آواز آئی۔اس نے محسوس کیا کہ نہانے سے پہلے سگریٹ مزہ دے سکتی ہے۔وہ خود سگریٹ اٹھا لاتا، مگر جب اسے چور ہاتھوں سے تالا لگانے کی آواز آئی تو اس نے خود جانا مناسب نہیں سمجھا۔اس نے ترپتا کو آواز دی کہ وہ ایک سگریٹ دے جائے۔ترپتا نے دوسرے ہی لمحے جھروکے سے سگریٹ اور ماچس پکڑادی۔سگریٹ پکڑتے ہوئے اس کے من میں ترپتا کے لیے پیار امنڈنے لگا۔اسے لگ رہا تھا کہ وہ اپنی تفریح کے لیے ترپتا کو پریشان کررہا ہے۔
یہ تفریح کا ذریعہ بھی اچانک اس کے ہاتھ لگ گیا تھا۔اس دن ایک کتاب ڈھونڈتے ڈھونڈتے وہ ترپتا کے ٹرنک کی بھی چھان بین نہ کرتا تو شاید اس سے بے خبر ہی رہتا۔کتاب نہ ملنے پر اس نے محسوس کیا کہ ٹرنک میں وقت کاٹنے کے لیے بہت سی مزیدار چیزیں بھری پڑی ہیں۔ٹرنک میں کپڑوں کے نیچے ایک عام سا پرس پڑا تھا، پرس میں میٹرک کی سند، تڑی مڑی سی دو ایک تصاویر، جن میں ایک نوجوان کے بھیس میں ترپتا کی تصویر بھی تھی، مالا سے بکھرے ہوئے کچھ موتی، ایک میلا پکچر پوسٹ کارڈ، ایک سینٹ کی لگ بھگ خالی شیشی بہت حفاظت سے رکھی ہوئی تھی۔میٹرک کی سند دیکھ کر کشل ڈھیلا پڑگیا تھا۔اسے لگ رہا تھا جیسے انجانے میں اس سے چوزہ ذبح ہوگیا ہو۔سرٹیفکٹ کے حساب سے ترپتا کی عمر کشل سے نو برس کم بیٹھتی تھی۔اس نے سرٹیفکٹ سے ترپتا کے نمبر بھی نہ پڑھے اور اسے واپس پرس میں رکھ دیا۔ٹرنک میں سب سے نیچے اخبار کا ایک بڑا کاغذ بچھا تھا، مگر صاف پتہ چلتا تھا کہ کاغذ کے نیچے کچھ ہے، کیونکہ کاغذ ایک جگہ سے ایسے اٹھا ہوا تھا، جیسے اس کے نیچے ایک بڑا مینڈک پڑا ہو۔کشل نے بڑی احتیاط سے وہ مینڈک نکالا۔کاغذوں کا ایک خستہ پلندہ تھا، جس میں دونوں کے خط تھے۔سوم کے بھی اور ترپتا کے بھی۔جو شاید ترپتا نے چالاکی سے واپس لے لیے تھے یا سوم نے شرافت سے لوٹا دیے تھے۔خط پڑھتے پڑھتے کشل، کتنی دیر تک ہنستا رہا تھا۔ترپتا نے وہی باتیں لکھی تھیں ، جو کبھی کبھی جذباتی ہوکر اس سے بھی کیا کرتی ہے۔سوم کے خط پڑھ کر تووہ ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوگیا تھا۔سوم کی شکل دیکھ کر تو اندازہ نہیں لگایا جاسکتا ہے کہ وہ اتنا جذباتی ہوسکتا ہے اور ہجوں کی اتنی غلطیاں کرسکتا ہے۔اس بار جب سوم آیا تھا تو اس نے تھوڑی تھوڑی مونچھیں بھی بڑھائی ہوئی تھیں۔کشل کو یہ بات بڑی عجیب لگی کہ مونچھیں بڑھا کر آدمی جذباتی ہوسکتا ہے۔مونچھوں والا جذباتی!
شام کو جب ترپتا بازار سے لوٹی تو اس نے کہا،’ترپتا تم بیس برس کی کب ہوگی؟’
‘کیوں آپ مجھے بوڑھی دیکھنا چاہتے ہیں؟’
‘نہیں بوڑھی نہیں، لیکن بچی بھی نہیں۔کاش! تم تیس برس کی ہوتیں۔’کشل ہنس پڑا تھا۔کشل غسل خانے سے لوٹا تو کمرے کا روپ ایک دم بدلا ہوا تھا۔کھاٹ ، جو اس سے پہلے کمرے کے ٹھیک بیچ میں پڑی تھی، اب دوسرے کمرے میں کھلنے والے دروازے کے ساتھ ٹکا دی گئی تھی۔اور اس پر انگوری رنگ کی ایک نئی چادر بچھی تھی۔کھاٹ کے ساتھ ہی دیوار کی بغل میں ترپتا کا ٹرنک پڑا تھا، جس پر اسی کے ہاتھوں سے کاڑھا ہوا ایک خوبصورت میز پوش بچھا تھا اور جس کے اوپر بیٹھی ترپتا کروشیے سے کچھ بن رہی تھی۔اس نے آنکھوں میں کاجل کی گہری لکیریں کھینچ لی تھیں۔ہونٹ لپ سٹک کے ہلکے سے اثر سے کشمشی رنگ کے ہوگئے تھے۔
کشل نے یہ تبدیلی دیکھی تو مسکرادیا۔اسے مسکراتے دیکھ کر ترپتا نے پوچھا،’آپ مسکراکیوں رہے ہیں؟’
ترپتا کروشیے سے پیٹھ کھجانے لگی، جس سے اس کا بلاؤز کندھے کے نیچے سے غبارے کی طرح پھول گیا تھا۔کشل کے من میں لمحے بھر کے لیے یہ خیال آیا کہ وہ باہر کا دروازہ بند کر آئے، مگر نہا کر اس کی پنڈلیوں کو تھوڑا سکون ملا تھا، جسے وہ کچھ دیر اور قائم رکھنا چاہتا تھا۔اس نے سر پر کنگھی پھیرتے ہوئے کہا، ‘تم کہتی ہو تو نہیں مسکراتا۔’
‘آپ کچھ سوچ رہے ہیں۔’ترپتا کروشیے پر نظر گڑاکر بولی۔’کیا سوچ رہے ہیں؟’
کشل نے کچھ سوچنے کی کوشش کی اور خیالی محبوبہ کا پرانا قصہ لے بیٹھا، بولا’دراصل مجھے شیلا یاد آرہی تھی۔جب میں ہنستا تھا، تو وہ بھی تمہاری طرح ٹوک دیتی تھی۔جب میں سگریٹ پیتا تھا، وہ مجھ سے دور جا بیٹھتی تھی۔جب کبھی اس کے گھر جاتا تو نوکر کو بھیج کر سگریٹ منگوا دیتی۔عجیب لڑکی تھی شیلا۔۔۔’
کشل نے سگریٹ سلگایا اور خالی پیکٹ ڈرامائی انداز میں دور پھینک دیا۔ترپتا نے کروشیے سے آنکھیں نہیں اٹھائیں۔کشل نے ترپتا پر نشانہ تاک کر دھوئیں کا ایک گہرا بادل اس کی طرف پھینکا۔اسے امید تھی کہ تازی لپ سٹک پر تھوڑا سا دھواں ضرور جم جائے گا۔اپنی بات کا اثر نہ ہوتے دیکھ کر اس نے بات آگے بڑھائی کہ کیسے وہ شیلا کے ساتھ پکنک پر جایا کرتا تھا۔اور۔۔۔
‘بس۔۔بس۔۔۔میں اور نہیں سنوں گی۔’ترپتا نے کروشیے سے آنکھیں اٹھاکر کشل کی طرف غیر یقینی انداز میں دیکھتے ہوئے کہا، ‘آپ مجھے بے وقوف بنارہے ہیں۔’
کشل نے ایک لمبا کش لیا اور بولا،’اچھا ، اب تم مجھے بے وقوف بناؤ۔’اس بار اس نے ناک سے دھواں چھوڑا۔تڑپتا کو چپ دیکھ کر اس نے کہا۔’بناؤ بھی۔’
‘کیا؟’
‘یہی بے وقوف۔’اس نے ترپتا کی طرف سرکتے ہوئے کہا۔’تم شاید شمجھتی ہو کہ میں پہلے ہی بے وقوف ہوں۔’
‘بے وقوف تو آپ مجھے بنا رہے ہیں۔’ترپتا کا چہرہ سرخ ہوگیا تھا اور کڑواہٹ پی جانے سے اس نے روہانسی ہوکر کہا،’رقیب کے معنی کیا ہوتے ہیں؟’
‘بوا کا لڑکا۔’کشل نے سگریٹ کے ٹکڑے کو پیر سے مسل دیا۔’مہان کہانی کار ہوکر بھی اس کے معنی نہیں پتہ؟’کشل کو معلوم تھا کہ اب وہ کہانی کار کا لبادہ اوڑھنے پر مجبور ہے۔
‘آپ کو میرا کچھ پسند بھی ہے؟’ ترپتا کی آنکھوں میں پانی چمکنے لگا تھا۔وہ چاہتا تو آسانی سے ترپتا کو رلا سکتا تھا، مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔ادھر ادھر سگریٹ کا کوئی بڑا ٹکڑا ڈھونڈتے ہوئے اس نے نہایت سادگی سے کہا،’مجھے سچ میں تمہاری کہانیاں پسند آسکتی ہیں، لیکن تم سناؤ، تب تو۔۔۔’
ترپتا نے کشل کی طرف نہیں دیکھا، اس کی بات بھی ان سنی کردی اور گھٹنوں میں سر دے کر بیٹھ گئی۔پہلے تو کشل کے جی میں آیا کہ ترپتا کو چپ کروایا جائے اور اسی بہانے پیار بھی کیا جائے، لیکن اس نے محسوس کیا کہ بغیر سگریٹ کے کش کھینچے پیار نہیں کیا جاسکتا، جذباتی تو بالکل نہیں ہوا جاسکتا۔کشل جانتا ہے کہ ترپتا غیر جذباتی پیار کو قبول نہیں کرے گی۔اس نے گھٹنوں پر جھکی ترپتا کی طرف دیکھا اور پاؤں میں چپل پہننے لگا۔ترپتا کے جھک کر بیٹھنے سے اس کی پیٹھ بھری پُری اور فربہ لگ رہی تھی۔سفید وائل کے بلاؤز میں سے اس کے بریزئیر کی کسی ہوئی کٹوریاں نظر آرہی تھیں۔
ترپتا نے کشل کو چپل گھسیٹتے ہوئے باہر جاتے دیکھا تو سسکیاں بھرنے لگی۔کشل کے دل میں ترپتا کے لیے رحم آرہا تھا۔اسے دکان سے اسی طرح اٹھ آنے میں کوئی تُک نظر نہیں آرہی تھی۔اسے معلوم ہے کہ اب وہ ترپتا کو جتنا بھی منانے کا جتن کرے گا، وہ اسی مقدار میں روٹھتی چلی جائے گی۔منانے کے اس لمبے سلسلے سے تو دکان پر دن بھر ٹائپ کرنا کہیں زیادہ آسان ہے، کشل نے سوچا اور پنواڑی سے سگریٹ کا پیکٹ لینے لگا۔
وہ لوٹا تو بھرے ٹب میں پانی گرنے کی وہی جانی پہچانی آواز سنائی دی۔اسے لگا، جیسے اچانک کسی نے دیر سے اس کے کانوں میں رکھی روئی نکال پھینکی ہو یا وہ برسوں پرانے ماحول میں لوٹ آیا ہو۔اس نے دیکھا، ترپتا کھاٹ پر اوندھی لیٹی تھی اور اس نے اپنا منہ تکیے میں چھپا رکھا تھا۔سٹوو پر پانی ابل رہا تھا ور جلے ہوئے کاغذ سٹوو پر رکھے پانی میں تیر رہے تھے۔کشل نے بڑی احتیاط سے سیاہ کاغذ اٹھایا اور ترپتا کی پیٹھ پر پاپڑ کی طرح چور چور کرتے ہوئے بولا،’کہانی جلاڈالی کیا؟ اٹھو۔۔شادی شدہ عورتیں بچوں کی طرح نہیں رویا کرتیں۔ترپتا، جو دھیمے دھیمے سسک رہی تھی، پھھپک کر رونے لگی اور اس کی ہچکیاں بندھ گئیں۔کشل کھاٹ کے قریب پڑے ٹرنک پر بیٹھ گیاور کھلے ہوئے تالے سے کھیلنے لگا، جو میز پوش پر پیپرویٹ کی طرح پڑا تھا۔سگریٹ سلگا کر بھی وہ ترپتا کو چپ کرانی ہمت نہ بٹور سکا، اسے لگ رہا تھا، ترپتا کا رونا بالکل جائز ہے۔
٠٠٠
رویندر کالیا کا نام ہندی ساہتیہ جگت میں بے حد مشہور رہا ہے۔وہ گیارہ نومبر 1938 کو جالندھر میں پیدا ہوئے۔وہیں بی اے اور ایم اے کی تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ پہلا ناکام عشق بھی کیا اور پہلی نوکری بھی۔اسی شہر میں انہوں نے اپنی پہلی کہانی ‘صرف ایک دن ‘ بھی لکھی۔کچھ عرصہ دہلی میں قیام کیا اور پھر الہ آباد میں سکونت اختیار کی۔’الہ آباد پریس’ قائم کیا۔ساتھ ہی چھ برس تک ‘گنگا جمنا’ نام کے ایک اخبار میں بطور ایڈیٹر ملازمت بھی کی۔کلکتہ سے شائع ہونے والے رسالے ‘واگارتھ’ کی شاندار ادارت نے ان کی پہچان کو مزید مضبوطی دی اور اس کے بعد واپس دہلی آکر وہ اسی شہر میں بس گئے۔ان کی یادداشتیں ‘غالب چھٹی شراب’ کے نام سے بے حد مشہور ہوئیں۔
‘نوبرس چھوٹی بیوی’ رویند کالیا کی ہی نہیں، ہندی کی ممتاز کہانیوں میں سے ایک مانی جاتی ہے۔اس کہانی میں ایک بالکل جوان جوڑے کے درمیان موجود عمر کے تفاوت کو بظاہر موضوع بنایا گیا ہے۔مگر یہ شوہر اور بیوی کے دلچسپ، رومانی رشتےاور کچھ حد تک ایک دوسرے کے لیے حسد مندانہ محبت کو بھی نمایاں کرتی ہوئی کہانی ہے۔اس کہانی کی مزاح آمیز ترشی، شوہراور بیوی کی ایک دوسرے کے لیے فکر اور کہیں کہیں اِن سیکورٹی بھی اس میں مزید چار چاند لگاتی ہے۔البتہ شوہر کو کچھ زیادہ ہی میچیور دکھانے کے ساتھ ساتھ اسے شریف ثابت کرنے کے لیے کیا گیا تخلیقی جتن تھوڑا بیزار بھی کرتا ہے۔ اور اردو کے ذریعے کوشش ہوگی کہ ہندی کی نمائندہ کہانیوں کے تراجم آپ تک یونہی پہنچائے جاتے رہیں۔