تنہائی میں ڈوبتے، ابھرتے مارکُش کا پُلِسیا لائن میں یہ تیسرا سال تھا۔تین سال، جیسے تین پوری صدیاں، لوہے کے بکسے اور بندوق کے ساتھ۔لوہے کے بکسے میں بند زندگی گھسٹتی جارہی تھی۔ یہ گھسٹنا اتنی دور تک نہیں ہوتا اگر مارکُش کے پِتا جنگل چھوڑ کر مزدوری کے لیے اتنی دور تک نہیں آتے۔
کہتے ہیں، جس گاؤں میں مارکُش کے پِتا مزدوری کے لیے آئے تھے، وہ دھان گیہوں کی پیداوار کے لیے جنت تھا۔فصلیں ہوا چلنے پر بھارت کے جھنڈے کی طرح لہلہاتی تھیں۔ پہلے اس گاؤں میں ایک باہری ٹولہ ہوا کرتا تھا، جس کے بل پر یہ جادو ممکن ہوا تھا۔ وہ اتہاس کے جانے کن پنوں سے بندھوا مزدور بن کر آئے تھے اور گھسے چلے جارہے تھے۔اس ٹولے میں کوئی بچہ پیدا ہوتا تو ٹولے سے زیادہ خوشی گاؤں میں منائی جاتی۔ہر بچے کی پیدائش پر زمینداروں کو لگتا، ان کے کھیتوں میں سونا بونے والا ایک اور بیل پیدا ہوا ہے، لیکن ایک صبح گاؤں نے دیکھا، تمام ٹولہ خالی تھا۔نئی نسل کو بندھوا کے جال سے نکالنے کا مزدور پالکوں کے پاس محض ایک یہی راستہ بچا تھا۔۔ہجرت۔کمانے کے لحاظ سے دنیا بڑی تھی۔ کہیں بھی کھو جایا جاسکتا تھا۔ جائے پیدائش کا موہ تیاگ کر وہ راتوں رات اس جگہ کو چھوڑ کر غائب ہوگئے تھے۔ گاؤں میں ہاہاکار مچ گیا تھا۔ پکی فصلیں جھڑ کر واپس کھیتوں میں مل رہی تھیں۔
پھر آئے تھے آدی واسی۔نجات دہندوں کی طرح۔کسی نے انہیں خالی ہوئے مزدور ٹولے میں بسانے کا مشورہ دیا تھا۔
اور اس کے بعد سے آدی واسیوں کو لانے کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ بوائی کٹائی کے سمے جنگلوں، پہاڑوں سے آدی واسیوں کو ٹرکوں میں بھر کر لایا جاتا۔کئی کما کر جنگل لوٹ جاتے، مگر کئیوں نے اسی ٹولے میں اپنی گرہستی آباد کرلی تھی۔
مارکش کے پِتا اس گاؤں میں مزدوری کے لیے آنے والے پہلے آدی واسی تھے۔ اس سمے وہاں کے حالات بڑے مناسب تھے۔نہ رہنے کا ٹھور نہ کھانے کا پتہ۔ تِس پر بگڑے منہ والے اکھڑ اور سخت حکمراں۔ مارکُش کے پِتا کھیتوں میں محنت کرتے اور انہیں کوستے۔’بہلا پھسلا کر لاد لیا تھا ٹرک میں۔ کیسی باتیں بناتے تھے کہ ایسی جگہ ہے، ویسی جگہ ہے۔ کوئی دقت نہیں ہوگی۔ اور مزدوری کے لیے تو سوچنا ہی نہیں ہے۔ اتنی دوں گا، اتنی دوں گا اور یہاں سب غائب ہے۔خالی دھوکا جبکہ محنت دوگنی۔مت ماری گئی تھی جو اپنے جنگل پہاڑ کو چھوڑ کر چلے آئے۔’
وہ افسوس کرتے، لیکن اب لوٹیں گے، تب لوٹیں گے کے چکر میں دو سال اسی طرح اوبڑ کھابڑ حالات سے تال میل بٹھاتے کٹ گئے۔ سخت جان مارکش کے پتا اپنی مرضی سے ڈٹے رہے۔دھیرے دھیرے رینگتی اسی ٹولے کی زندگی میں سپاہی مارکش لکڑا نے اپنی کنمنائی آنکھیں کھولی تھیں۔ اس وقت مارکش محض تین سال کا تھا، جب اس کے پِتا کوپُوس نگل گئی۔ وہ اپنے پیچھے مارکش کے لیے پھوس سے بنی ایک ڈربے نما جھونپڑی، ایک بکری اور لگ بھگ تباہ ہوچکی سائیکل چھوڑ گئے تھے۔اداس ماں، پھوس سے بنی جھونپڑی، پرانی سائیکل اور ایک بکری ، انہیں چاروں کے سہارے اب مارکُش کو اپنی آگے کی عمر گزارنی تھی۔
ماں کھیتوں میں کام کرتی اور وہ ان کی پیٹھ پر ایک انگوچھے میں بندھا لٹکتا رہتا۔ گاؤں کے لوگ اسے تجسس سے دیکھتے۔اس نے ماں کی پیٹھ پر لٹکتے ہوئے بھی بیجوں کو پھوٹتے دیکھا۔فصلوں کو لہلہاتے دیکھا ، انہیں کٹتے دیکھا۔اور جب تھوڑا بڑا ہوا اور ماں کی پیٹھ سے اترا تو مینڈوں پر بیٹھ کر تتلیوں سے کھیلنے لگا۔تھوڑا اور بڑا ہوا تو گرتا پڑتا چڑیوں کے پیچھے بھاگنے لگا۔ تھوڑا اور بڑا ہوا تو سِیاروں کے پیچھے ۔کام کرتی ماں کے لیے اس بھاگتے لڑکے پر نظر رکھنا مشکل تھا، اس لیے انہوں نے اسے اسکول میں بٹھادیا۔
پہلا اسکول پاس کے گاؤں میں ہی تھا۔ مارکش تب سات سال کا رہا ہوگا جب کالی سلیٹ کوبورے پر بیٹھ کر بالکل الگ ایک کونے میں اجلے چاک سے رنگنے لگا تھا۔ٹولے سے وہ اکیلا جاتا۔ باقی گاؤں کے بڑے لوگوں کے بچے بیل گاڑیوں میں لد کر جاتے۔ مارکُش اچھلتا کودتا ان کے پیچھے ہولیتا۔آدھی دور تک ماں اس کے ساتھ ہوتی۔ پھر ماں کھیتوں میں کھو جاتی اور وہ بیل گاڑیوں کی چرمراہٹ میں۔
وہ کبھی ڈٹ کر اسکول نہیں گیا۔حالانکہ موسم کیسا بھی ہو، وہ صبح ہی اپنی جھونپڑی چھوڑ دیتا۔اسکول جاتا یا ادھر ادھر گھومتا رہتا۔ ماں کے ساتھ عورتوں مردوں کے جھنڈ میں کھیتوں میں جانا اب اسے پسند نہیں تھا، لیکن ماں کے کاموں میں ہاٹھ بھی بٹانا تھا۔سو، پانچویں کے بعد مارکش قصبے کے ‘مجور(مزدور)اسٹینڈ’ میں کھڑا ہونے لگا تھا۔وہ کسی بھی راج مستری کے ساتھ ہولیتا، مسالا اینٹ میں مددکرنے کے لیے۔دن بھر بڑی آسانی اور اطمینان کے ساتھ کام کرتا۔شام کو ملے پیسے ماں کے پاس جمع ہوجاتے۔
یہی سلسلہ بنا کسی بدلاؤ کے چار پانچ سال تک چلتا رہا۔پتی کی بے وقت موت اور دن رات کی محنت کے سبب وقت سے پہلے ادھیڑ ہوچکی ماں بُڑھانے لگی اور وہ کھِلتا گیا۔قصبے کے اعلیٰ اسکول نے پہلے اسکول کی جگہ لے لی۔اس نے ‘ا۔ج۔جا'(انوسوچِت جن جاتی بمعنی شیڈول ٹرائب) والے کالم کو احتیاط سے نشان زد کرنا شروع کردیا ۔پہلے بچے صرف اس کے کالے شریر اور پرانے کپڑوں کا مذاق اڑاتے تھے، اب اس میں اس کا ‘ا۔ج۔جا’ ہونا بھی جڑ گیا تھا۔
دیر سے پڑھائی شروع کرنے کی وجہ سے وہ اپنی جماعت میں عمر میں سب سے بڑا دکھتا تھا۔گہرا کالا بدن دھیرے دھیرے مضبوط ہورہا تھا۔مارکُش اسکول جانا اچانک چھوڑ دیا کرتا۔ روپے پیسے کی بات نہیں تھی، کیونکہ اسکول سرکاری تھا۔ اسکول میں پڑھائی کم ہوتی اور بدمعاشیاں زیادہ۔کبھی کچھ پڑھایا بھی جاتا تو اتنے سے کے لیے اتنی دور جانا اسے فضول لگتا۔ سفید موٹے دھاگوں سے سلی ہوئی پلاسٹک کی چپل، اُٹنگی پینٹ اور مڑی تڑی میلی قمیص بھی اسے دن بھر اسکول میں بے چین رکھتیں۔بازوؤں پر اُگ آئی مچھلیاں اب اسے پڑھائی کے بجائے بالغوں کی مجوری میں کھینچے لگی تھیں۔ جھونپڑی میں اس کے خیال ٹک نہیں پاتے تھے۔ وہ جھونپڑی کا ٹاٹ سرکاتا اور لگ بھگ برباد ہوچکی سائیکل پر اپنے خیالوں کو لادے ہوئے نکل پڑتا۔
سائیکل کی پیٹھ پر سوار مارکُش خود اعتمادی کے مارے اکڑ اکڑ جاتا۔اسے لگتا، وہ اوروں کے برابر ہورہا ہے۔ لوگوں کی نظریں اسے قبول کررہی ہیں۔یہی کارن تھا، وہ ہمیشہ سائیکل سے چپکا رہتا۔ خوب گھسی مینڈپر بریک اور پیڈل سے کھیلتے ہوئے اپنے ہم عمر یاروں سے کہتا۔’مینڈوں پر سائیکل چلانا کھیل نہیں ہے۔ بڑی کلا کاری ہے اس میں۔سب کے بوتے کا نہیں ہے۔پھر سائیکل بھی اپنی ہونی چاہیے۔اپنی ہو تو ہاتھ بیٹھا رہتا ہے۔ کالی سڑکوں پر سائیکل چلایا تو کیا چلایا؟ کوئی مزہ نہیں۔اوپر سے چار پہیوں کی لاٹ شاہی۔غلطی نہ کرو تب بھی چڑھا دیں۔ اصلی ڈرائیوری یہی چلانے میں ہے۔’
مارکش نے پڑھا۔ چھوڑ چھوڑ کر پڑھا۔جیسے تیسے پڑھا۔ پھر بھی میٹرک والا ‘آئرن گیٹ’ پھاند گیا۔پورے قصبے کے لیے یہ حیرت کی بات تھی، مگر ٹولے کے لیے کسی کامیابی سے کم نہ تھی۔حیرت اس لیے کہ اس سماج میں پڑھائی کا کوئی اتہاس نہیں تھا اور کامیابی اس لیے کہ مجور ٹولے کا اپنا اتہاس بننا شروع ہوگیا تھا۔
1
اب کی تبادلہ دین سرائے میں ہوا تھا۔ نہایت سکڑے سمٹے اسٹیشن کی مانند سکڑا سمٹا قصبہ تھا دین سرائے۔ دن رات ملا کر پانچ سواری گاڑیاں یہاں رکتی تھیں۔باقی ایکسپریس زناٹے سے پیچھے پٹریاں چھوڑتی، غریب دین سرائے باسیوں اور ان کے مہمانوں کو گھبرایا ہوا چھوڑ کر دھائیں دھائیں نکل جاتیں۔خالص ماؤ وادی علاقہ ہونے کی وجہ سے پورا دین سرائے چھاؤنی میں تبدیل ہوگیا تھا۔دوسری جگہوں پر کبھی نہ دکھنے والی بکتر بند گاڑیاں یہاں دھڑلے سے سڑکوں پر دوڑتی دکھتیں۔ہر آدھے کلو میٹر پر پولیس چیکنگ پوائنٹ بنے ہوئے تھے، جہاں دو پہیوں، چار پہیوں کو روک کر کبھی بھی تلاشی لی جاتی ۔پورا قصبہ شانت پڑا تھا۔ چہل پہل کے نام پر بدھوار کو لگنے والے ہفتہ وار بازار کی رونق سے قصبے کی عزت بچی ہوئی تھی۔بقیہ دنوں میں بازار آدمیوں سے بھرا ایک محلہ ہوا کرتا، وہ بھی شام چار پانچ بجے تک۔ اس کے بعد سب کو مردہ بننا پڑتا۔سونی رات کو اپنے پہیوں تلے کچلتی، گھرگھراتی بڑی گاڑیاں اور جیپیں ان گلیوں میں سرپٹ بھاگا کرتیں۔دین سرائے کے پاس پڑوس کے گاؤں میں سورج ڈوبنے سے پہلے ہی رات ہوجایا کرتی۔مویشی سے لے کر پنچھیوں تک ، سب اس اصول کی پاسداری کرتے ہوئے اپنے ڈیرے میں لوٹ آتے۔پھر رات اکیلی ہوجاتی، گاؤں کے ساتھ، گاؤں کے بعد شروع ہونے والے جنگلوں کے ساتھ۔
مارکُش کو انہیں گاؤں میں ساتھی سپاہیوں کے ساتھ دن میں دو بار اور رات میں ایک بار گشت پر جانا ہوتا۔گاؤں سے گزرتے ہوئے دن کی گشت میں وہ اپنے ٹولے کی زندگی تلاش کیا کرتا۔جیپ گزرنے پر ڈیزل کی بو سونگھنے کے لیے لڑتے بھڑتے دین دنیا سے بے خبر پھٹے حال بچے، مرغیوں، بطخوں، بکریوں اور سوئروں کی چِلّ پوں۔ابھی ابھی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھنے والے تنہا ریڈیو کے قریب بیٹھے ہلکے ہلکے گنگنگاتے کسی لڑکے کے علاوہ باقی چاروں طرف قبرستان جیسی شانتی لیے گرد آلود ہوائیں بھٹکتی رہتیں۔
گشت سے لوٹنے پر وہی مردنی مارکش کے چہرے پر چھا جاتی۔ ڈیوٹی کے بعد خالی سمے میں تین برابر اور ایک حسب توقع چھوٹے پائے والی کرسی پر اپنا توازن سنبھالتا مارکش ایسے جھولتا رہتا، گویا آسمان کے بیچوں بیچ ٹنگ جانا چاہتا ہو۔اسے اپنے ٹولے میں ملنے والی دال موٹھ کی طلب ہوتی اور وہ اٹھ کر اسٹیشن کی طرف چل پڑتا۔اسٹیشن کی لوہے والی باڑ سے ہوتا ہوا آخری گُمٹی پر پہنچ جاتا۔دال موٹھ پھانکتا اور چائے پیتا۔دال موٹھ ختم ہوجانے پر کاغذ کو سیدھا کرکے سرسری طور پر دیکھتا۔آج سے تین سال پہلے اسی طرح دال موٹھ کے کاغذ پر اس نے پڑھا تھا، ‘فلاں ریاستی ہوم گارڈ سینا بھرتی سیوا،نوکریوں کی تعداد۔۔اتنی،اہلیت۔۔۔اتنی، قوت بدنی۔۔۔اتنی، سینہ۔۔۔اتنا،پھلا کر اتنا۔
کاغذ کے گندے اور پھٹے ہونے سے محض اتنا ہی اشتہار وہ دیکھ پایا۔باقی کے بارے میں پتہ کرنے کے لیےوہ ترنت قصبے کے لیے نکل پڑا۔ قصبہ پہنچ کر اسے دو باتیں پتہ چلیں۔ ایک تو یہ کہ درخواست جاری ہوئے ایک مہینہ ہونے آیا ہے۔ دوسرے، درخواست فارم لینے کے لیے اسے شہر جانا ہوگا اور وہ اسی پل شہر کے لیے نکل گیا تھا۔ آناًفاناً میں وہاں اس نے درخواست فارم بھرا تھا اور تمام اندیشوں کے درمیان اسے پوسٹ کر آیا تھا۔
جب سے مارکُش نے فارم بھرا تھا، اس کے ذہن میں ہر پل یہی گھومتا رہتا تھا۔ وہ روزمرہ کے کاموں کے ساتھ تیاریاں کرتا رہتا۔کُدال یا لاٹھی چلاتے ہوئے بانہوں اور سینے کے مضبوط ہونے کی بابت سوچتا۔کہیں دوڑتے کودتے ہوئے جانا اب اس کی تیاریوں کا حصہ تھا۔پیڑوں کی شاخوں سے لٹک کر چھاتی چوڑی کرنا، گھنٹوں بھینسوں سے بھرے گندے تالاب میں تیرنا، اینٹ یا سیمنٹ، ریتی سے بھری بوریوں کو اٹھانے جیسے کئی کام تھے، جنہیں کرتے ہوئے وہ اپنی قوت بدنی جانچنے والی چنوتیوں کے لیے خود کو تیار کررہا ہوتا تھا۔
اس کے باوجود دوڑ والے دن اسے کپکپی چھوٹ رہی تھی۔ وہ ماں کو ساتھ لے جانا چاہتا تھا، لیکن کام میں حرج نہ ہو اس لیے ماں کھیتوں میں ہی رہ گئی تھی۔ حالانکہ وہ اکیلا نہیں تھا۔بس کی چھت ایسے بیروزگاروں سے پٹی پڑی تھی۔بے روزگاری کا کلنک ماتھے سے مٹانے کو بے قرار یہ نوجوان کافی پرجوش نظر آتے تھے اور ساتھ میں کچھ خوف زدہ بھی۔بے روزگاری کے عذاب سے انہیں موت تو نہیں آئی تھی، لیکن ان کے جیون کا بیش قیمتی وقت اسی امید میں موت کے منہ میں جاپڑا تھا۔بھاگتی بس پر ان کی ٹھہری ہوئی شفاف آنکھوں میں مستقبل کا خواب یا خوف دوڑ رہا تھا۔
دوڑ بارہ بجے دن سے شروع ہونی تھی، لیکن لوگ سات بجے سے جمع ہونے لگے تھے۔ کاغذوں کی چھان بین ہوتے ہوتے دس بج گئے۔پھر شروع ہوئی نپائی،تُلائی۔سب کو انڈرویئر چھوڑ کر باقی کپڑے اتارنے کے لیے کہا گیا۔مارکُش شرما گیا۔بے چین ہو کر ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ تبھی پیچھے سے کسی نے اسے ہلکا دھکا دیا۔ ‘بینچو پھٹاک سے چڈی اتار اور سٹاک سے یہاں لائن میں بیٹھ۔ادھر ادھر کیا دیکھ رہا ہے؟ مروانے آیا ہے؟’یہ وردی پہنے بڑی توند والا کوئی چھوٹا افسر تھا۔
اسے یقین نہیں ہوا کہ یہ اس سے کہا گیا تھا۔ آس پاس کے امید وار اسے ہی دیکھ رہے تھے۔ اسے اسکول کے دن یاد آگئے، جب بچے اسے ایسے ہی گھورتے تھے۔اس نے آنکھیں نہیں اٹھائیں۔وہ اونچے لہجے اور گالی کی تیزی سے بھیتر تک کانپ گیا تھا۔اسے اپنا ہی بدن بہت بھاری لگ رہا تھا۔ آس پاس کی بھیڑ جیسے غائب ہوگئی تھی۔اسے لگ رہا تھا، جیسے کپڑے اتارتے ہوئے اس کے ہاتھ اس کے اپنے نہیں ہوں۔دھرتی گھوڑے والے جھولے کی طرح گول گول گھوم رہی تھی۔ وہ چکراکر گرنے سے خود کو بچانے کے لیے بیٹھ گیا۔
گھنٹے بھر میں وہاں موجود سپاہیوں کی وجہ سے میدان کی فضا میں اتنی گالیاں بھر گئیں کہ مارکُش کے کان اس کے عادی ہوتے چلے گئے۔اس کا بجھا من دھیرے دھیرے معمول پر آنے لگا۔ تقریباً ایک بجے دوڑ شروع ہوئی۔ اس منجھولے میدان میں اپنے پیروں تلے بیروزگاری کو روند دینے کو بے قرار سینکڑوں انسانی ڈھانچوں کا ریلا سیٹی کی آواز کی طرف کان لگائے بے چین کھڑا تھا۔بے روزگاری کے عذاب نے ان کے دماغوں کا ٹھیک طور پر ارتقا نہیں ہونے دیا تھا۔اسکول کی اخلاقی تعلیم کی کتابوں سے ادھر سماج اور ریاست کی پروا کیے بنا، کوئی بھی قانونی،غیر قانونی موقع تلاشتے ان نوجوانوں کے پاس خود پر لگے ‘غیر ضروری’ کا ٹیگ اتار پھینکنے کا یہ ایک اہم موقع تھا۔
سیٹی بجی نہیں کہ لوگ دوڑ پڑے۔نوکری کو پہلے چھو لینے کی ہوڑ میں کون گرا، کون مرا، کوئی پوچھنے والا نہیں تھا۔ تیزی، جوش اور بدحواسی نے مارکُش کو بھی خوب دوڑایا۔اس کے لیے یہاں محنت کا بس طریقہ بدل گیا تھا۔باقی خون کی کھپت پہلے کی طرح ہی ہوئی تھی۔بہت کچھ بھلا کر اور بہت کچھ یاد کرکے اس نے زبردست دوڑ لگائی۔چھٹنے کا سوال ہی نہیں تھا۔
اس درمیان بھاگ دوڑ بنی رہی۔پہلے تحریری امتحان، پھر میڈیکل۔امتحان میں تو نہیں ، میڈیکل کے دوران ضرور پریشانی ہوئی۔ پہلے دن کی طرح گالی گلوج نہیں ہوئی، مگر کچھ ایسا ہوا کہ وہ خود شرم کے مارے زمین میں گڑ گیا۔دیگر امیدواروں کے ساتھ مارکُش ایسے ننگا کھڑا تھا، گویا تجربہ گاہ میں کسی تجربے کے لیے کھڑا ہو۔ہاتھوں میں دستانے پہنے ڈاکٹر آدمی نہیں، مشین لگ رہے تھے۔ وہ گانڈ تک میں انگلیاں ڈال کر دیکھ رہے تھے۔مارکُش کو ہفتہ وار ہاٹ کے وہ بیوپاری یاد آگئے جو خصیوں کے فوطوں کو ٹٹول کر ان کی عمر کا اندازہ لگاتے تھے۔
دھیرے دھیرے مجور ٹولے کا موسم بدل رہا تھا۔ سورج نے اپنی تپش کم کردی تھی۔سوکھی ہواؤں میں ایک مہک کے ساتھ نمی آگئی تھی۔پورے ماحول کی فضا کسی جشن کی سی لگ رہی تھی۔ لوگ من ہی من خوش رہتے تھے۔ان کے ہاتھ، پیر، منہ چلتے ہوئے کسی تہوار کا سااحساس دلاتے تھے۔مارکش کے پولیس بنتے ہی ٹولے کے لوگوں نے فخر کرنا شروع کردیا تھا۔ انہیں لگ رہا تھا، تھانہ پولیس میں اب ان کا بھی کوئی آدمی ہے۔ خاکی کپڑے پہنتے ہی مارکش کی غریبی اور ‘ا۔ج۔جا’ کا تمغہ ان کپڑوں کے پیچھے چھپ گیا تھا۔کچھ ہزار روپیوں کی ماہانہ آمدنی نے اس کی بے فکری بڑھا دی تھی۔
مارکُش اب اس نظام کا حصہ تھا۔کھیتوں میں کھپتی زندگی کا یوں کروٹ بدلنا اسے خاصا خوش کررہا تھا۔حالانکہ یہ شروعاتی جوش ٹریننگ کے کٹھن پلوں کے نیچے دب کر جلد ہی کھانسنے لگا تھا۔کیمپ میں کام کی تعریف کچھ اور تھی۔اس سے اس کا سمے اور بدن لے لیا گیا تھا۔اب اس کا کوئی دن اپنا نہیں تھا۔
مارکُش کی نوکری کی شروعات بینک میں پہرے داری سے شروع ہوئی۔ٹولے کے سماج کے لیے یہ ایک ‘میل کا پتھر ‘ تھا اور آئندہ نسل کے مارکش ایک زندہ مثال۔ٹولے کے ماں باپ کو اپنے بچوں کو بتانے کے لیے مارکش کے روپ میں ایک ہیرو مل گیا تھا۔ ان کی نظر میں مارکش سب سے کامیاب آدمی تھا۔ وہ بچوں سے کہتے، انہیں بڑے ہوکر مارکش کی طرح بننا ہے۔یہی کارن تھا، بچے مارکُش کو پسند نہیں کرتے تھے، کیونکہ ان کے نہیں پڑھنے پر پیٹے جانے کا سیدھا ذمہ دار وہی تھا۔
ماں خوشی کے مارے اب دگنے جوش کے ساتھ کام کرتی۔سب کہتے۔’اب کیوں گھِس رہی ہو؟’ وہ مسکرادیتی۔خوشی نے اس کی کاشتکاری کی صلاحیت بڑھا دی تھی۔شام میں سر پر سکون کی تھکان لادے ماں ادھر سونے جاتی، ادھر بیٹا کاندھے پر بندوق لٹکائے گیٹ ڈھن ڈھن ہونے پر زور سے چلاتا۔۔۔’کون ہے؟’ بینک کے ٹھیک سامنے والے محلے کے بچے رات برات اچانک ڈر کر جاگ پڑتے۔ ان کے بیچ یہ کہانی مشہور تھی کہ پولیس کے تین بار ‘کون ہے’ کہنے پر بھی اگر سامنے والا جواب دیے بنا اندر گھسا چلا آتا ہے تو پولیس اس کے پیروں پر گولی چلادیتی ہے۔ان کے پاس مثال کے طور پر ایک کہانی بھی موجود تھی، جس میں ایک سپاہی تین مرتبہ ‘کون ہے’ کہتا ہے اور جواب نہ ملنے پر گولی چلادیتا ہے۔ اس کا نشانہ پیروں سے چوک کر کلیجے پر جالگتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ مرنے والا اس کا باپ تھا۔
دو برس تک مارکُش بندوق تھامے بینک میں جمع گاڑھی اور پنیلی کمائی کی حفاظت کرتا رہا۔ وردی کے ساتھ گولیوں کی پٹیوں کو بیلٹ کی طرح لگا کر، وزنی رائفل کو کبھی اس ہاتھ تو کبھی اس ہاتھ لے کر وہ لگاتار چہل قدمی کرتا رہتا۔آتے جاتے لوگوں کی آنکھوں میں جھانکتا رہتا۔اکتادینے والے اس کام نے اس کی آنکھوں کو بے حد مہین بنادیا تھا۔وہ دیکھتا، روپے بیگ اور سوٹ کیس میں بھی آتے اور آنچل، انگوچھوں اور لنگیوں کے کونوں میں بھی۔بعد میں بینک میں سارے پیسے مل کر ایک ہوجاتے۔صاف اور شفاف پیسہ۔بیگ سوٹ کیس والے لوگ ہنسی خوشی آتے اور ہنسی خوشی جاتے۔ان کے لیے بینک ان کے گھر کا آدمی تھا، جو نہ صرف ان کے پیسے محفوظ رکھتا تھا بلکہ کاروبار میں ان کی ہر طرح سے مدد کرتا تھا۔دوسری طرف وہ تھے جو ہمیشہ دکھ میں ڈوبے چہرے کے ساتھ بینک آتے۔پیسے نکالنا ہوں یا جمع کرنا، دکھ ان کے ساتھ ویسے ہی واپس جاتا۔ ان میں کسی کی بیٹی بیاہنی ہوتی۔کسی کو اپنے دو برس سے چھٹے دو کمروں والے مکان کی مرمت کرانی ہوتی۔کسی کو بے روزگار بیٹوں، پوتوں والے پریوار کے لیے پینشن نکالنی ہوتی۔کچھ قرض کی تلاش میں آتے تو کچھ برسوں سے چلتے آرہے قرض کی رقم بھرنے۔مارکُش ان سب چہروں کو اچھی طرح پہچانتا تھا۔لوگوں کے کپڑوں، جوتے چپلوں اور چہرے کے بھاو سے وہ ان کی پاس بک کے وزن کا پتہ لگا سکتا تھا۔
شروعاتی جوش اور موج کے بعد مارکش کے لیے نوکری کی کشش دھندھلی ہوتی جارہی تھی۔یکرنگی سے بھری اس ڈیوٹی کے لیے اس کا جوش مدھم پڑنے لگا تھا۔ ٹولے کی کھلندڑی زندگی اور پیاری ماں سے دور مارکش کو یک رخی معمول زندگی سے وابستہ یہ دن اجاڑ، بے رس اور کٹھور لگتے۔بس، فالتو کی گولی ، بندوق لیے جھبرے کتے کی طرح احاطے میں گھومتے رہو۔رات میں بنا مطلب کے ‘کون ہے’،’کون ہے’ چلاتے رہو۔کوئی ہوتا ووتا نہیں ہے۔گلی کے کتے ہوتے ہیں، جو رات برات گیٹ سے اپنی پیٹھ کھجا رہے ہوتے ہیں۔
رات کے گہرے سناٹے میں اکیلے زندگی بسر کرتے مارکش کی آنکھوں میں ناامیدی اور دکھ سے بھرے وہ سارے چہرے ناچتے رہتے ، جو دن میں دکھائی دیتے۔کوئی گھگھیا کر کہتا۔’بابو، فارم بھردو۔’کوئی کسی یوجنا کے پیسوں کے بارے میں پوچھتا تو کسی بزرگ کو پینشن کے کچھ پیسوں کے بارے میں جاننا ہوتا۔مارکُش کو لگتا، شاید اس کا چہرہ ان کے بیچ کا چہرہ ہے۔اس لیے وہ کسی جھنجھلائے کلرک کے بجائے کچھ پوچھنے کے لیے اسے چُنتے ہیں۔وہ سب کی مدد کرنا چاہتا، لیکن بینک والے اسے ڈانٹ دیتے۔’اپنے کام سے کام رکھو۔ تمہاری وجہ سے کاؤنٹر پر زیادہ بھیڑ ہوجاتی ہے۔’ساتھی سپاہی ہڑکاتے۔’کوئی انہیں میں سے ایک دن تمہاری بندوق چھین کر بینک لوٹ لے گا۔’مارکُش سوچتا، اس کے ٹولے میں بھی تو ایسے ہی لوگ ہیں۔کیا یہ لوگ ان سے بھی ایسے ہی خوف زدہ رہتے ہونگے؟
ٹولے کے لوگوں کے پاس پیسے نہیں تھے۔وہ کبھی بینک نہیں جاتے۔مارکُش انہیں سپنے میں دیکھتا۔ سپنے میں اس کے پسینے چھوٹ رہے ہوتے۔مجور ٹولے کے لوگوں کے ساتھ دکھ سے سنے دن میں دکھنے والے چہرے بھی بینک کے لوہے والے گیٹ میں لٹکے رہتے۔مارکُش ڈھن ڈھن کی آواز سن کر لپکتا اور ‘کون ہے’ کی زوردار آواز لگائے بنا ان کی جانب گولی داغ دیتا۔مگر گولی بندوق میں ہی پھُسس ہوکر رہ جاتی۔ وہ بری طرح ڈر جاتا۔بھاگ کر کمرے میں چھپ جاتا۔جب ‘مارکش مارکش’ کی آوازوں سے گیٹ کے ٹوٹنے کا آبھاس ہوتاتووہ ان کی طرف چابی اچھال دیتا اور راحت کی سانس لے کر انہیں آرام سے بینک میں گھستے ہوئے دیکھتا رہتا۔کچھ منٹوں کی ضروری توڑ پھوڑ کے بعد وہ ناچتے کودتے ہاتھوں میں روپے تھامے جشن مناتے باہر نکلتے۔وہ ہاتھ ہلاکر انہیں ‘شُبھ راتری'(شب بخیر) کہتا۔مارکُش کے پسینے سوکھ چکے ہوتے۔وہ کروٹ بدلتا ہوا لمبی سانسیں لیتا اور نیند میں ہی چٹکی بھر مسکرادیتا۔اس کے بعد اسے کسی طرح کا کوئی سپنا نہیں آتا اور پیشاب کا دباؤ آنے تک وہ سوتا رہتا۔
2
اسی درمیان علیحدگی پسند علاقوں کے لیے پولیس کی خاص بھرتی یوجنا نکلی تھی۔’ہوم گارڈوں’ کو سبقت دی جارہی تھی۔ جگہیں زیادہ تھیں اور تنخواہیں بھی۔دوڑ دھوپ اور لکھا پڑھی کے روایتی سلسلوں کے بعد مارکُش کھانٹی پولیسیا لائن میں شامل ہوگیا تھا۔
شہر بدل گیا تھا۔یہ بینک والے شہر سے تھوڑا بڑا شہر تھا۔شہر کے مرکزی تھانے میں اس کی تعیناتی ہوئی تھی۔رہنے کے لیے احاطے میں ہی تنبو لگے تھے۔سپاہیوں کی آپسی رضامندی اور تال میل سے مشترکہ رسوئی چلتی تھی۔مارکش کو دیکھتے ہی اسے رسوئی میں شامل کرلیا گیا تھا۔اسے سبزیوں اور گندے برتنوں کو دھونے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔کھانے کی دقت نہیں تھی۔قسم قسم کی چیزیں بنتیں اور لگ بھگ مفت۔رسوئی کا خرچ نا کے برابر تھا۔سپاہی، حوالدار سب مل کر شام کو بازار کی سیر کرنے نکلتے۔یہ لوگ بڑی ڈھٹائی سے ہر ٹھیلے سے دو چار آلو، ٹماٹر اور ہری سبزیاں تھیلے میں ڈالتے جاتے۔سب سے تھوڑا تھوڑا لینے کے باوجود بھی تھیلے کا منہ فوراً ہی بھرجاتا۔مرغے اور مٹن کی دوکانوں کا دن بندھا تھا۔کوئی کسی روز تو کوئی کسی روز۔شام میں مشترکہ رسوئی میں اتنی چیزیں آجاتیں کہ طے کرنا مشکل ہوجاتا، آج کٹھل بنے گا یا پرول؟ پورا شہر اپنا تھا۔جھال مُڑی کا ٹھیلہ ہو یا چِنیابادام (مونگ پھلی کے دانے) کا ، پاس سے گزرتے ہوئے ہاتھ بڑھایا، کچھ اٹھایا اور چلتے بنے۔نہ پانی، نہ پلیٹ ، نہ پیسہ۔اور تو اور رکشوں پر بھی اسی طرح چڑھے اور اتر گئے۔کسی سے کوئی بات چیت نہیں۔رکشے آٹو والے کو دور سے ہی آنکھیں دکھائیں اور آدمی حاضر۔آٹو ڈھنگ سے رکا نہیں کہ آگے لد گئے۔یہ الگ بات ہے، اگلے موڑ پر آگے سواری بٹھانے والوں سے خود ہی پیسے وصولتے ہوں۔مارکُش سوچتا، ‘کتنے بدمعاش ہیں۔۔۔غضب لوٹ کھسوٹ مچاتے ہیں۔’یہ دن کے اجالے میں دکھنے والی چھوٹی لوٹیں تھیں۔اندھیرے کمروں میں ہونے والی وصولیوں کا حساب کتاب اور ان کا سنسار الگ تھا۔ مارکش کی ٹریننگ جاری تھی۔
کسی تھانے میں اس کی یہ پہلی پوسٹنگ تھی۔ دنیاکو جاننے سمجھنے کے لیے اب اس کے پاس دو ہی طرح کی نظریں تھیں۔پہلی ، جو پیدائشی اسے اپنے ٹولے سے وراثت میں حاصل ہوئی تھیں، جن میں معصومیت شامل تھی۔دوسری جو اسے پولیس لائن میں رہتے ہوئے دی گئی تھیں، جن کا وہ استعمال نہیں کرنا چاہتا تھا۔
تھانے کے اندر کا موسم بالکل بنجر تھا، بے رنگ اور بیزار کن۔مارکش کا سابقہ ایسے موسم سے پہلی بار پڑا تھا۔ خوف زدہ سورج احاطے میں گویا زبردستی روشنی کی بھرپائی کے لیے مجبور تھا۔ہوائیں بندیوں کی طرح چہاردیواری کے اندر گھوما کرتی تھیں۔خوف سے ہڑبڑاکر جلدی اگ آئے تھانے کے پیڑ بنا پوری طرح ہرے ہوئے پیلے ہوکر سوکھ رہے تھے۔ان پیڑوں نے کونپلوں کو پیدا کرنا کب کا چھوڑ دیا تھا۔مارکش نے دیکھا تھا، تھانے کے پھول کھلے ہوئے بھی روتے ہی دکھائی پڑتے۔پھولوں کی بدحالی دیکھنے کے باوجود کلیاں قدرت کے ہاتھوں مجبور ہوکر مریض کی صورت ہی سہی، کھلنے پر مجبور تھیں۔بقیہ سبھی چیزیں بے جان تھیں۔۔جیپ، میز، کرسی ، لاٹھیاں، جھنڈا لہرانے والا لوہے کا پائپ، پانی والا گھڑا، گاندھی ، امبیڈکر اور بھگت سنگھ کی تصویریں، بکسا اور بندوق۔اس بے جان ماحول میں کسی کا بھی دم گھٹ جائے، لیکن تھانے میں لوگوں کا آنا جانا دن بھر لگا رہتا۔کچھ اپنی مرضی سے اپنے دھندے کی برکت کے لیے تھانے آتے تو کچھ ایسے لوگوں کی راہوں میں روڑا ہونے کی سزا کے طور پر تھانے لائے جاتے۔پہلی قسم کے لوگوں کے جوتوں کی آواز مارکُش کے بڑے صاحبوں کے چمچماتے بوٹوں کی ٹھک ٹھک سے ملتی تھی۔ یہ بڑے پراسرار لوگ ہوتے تھے، اچانک ظاہر ہونے والے اور ترنت غائب ہوجانے والے۔بیچ بیچ میں لگنے والے زور دار ٹھہاکوں کے علاوہ مارکش ان کے بارے میں زیادہ کچھ نہیں جانتا تھا۔اسے حیرت ہوتی، یوں تو کھانے پینے سے لے کر ہاتھ ملانے تک سب اس سے ایک دھندھلی سی دوری بناکر رکھتے، لیکن اس کے ہاتھوں لائی ہوئی مٹھائیاں، چائے، سنگھاڑے دھڑلے سے کھاتے پیتے۔اسے غصہ آتا کہ ان کے کپ سے ایک گھونٹ چائے وہ باہر ہی پی لے گا تو کیا آسمان بھربھرا کر زمین پر گرپڑے گا اور وہ سب مرجائیں گے؟
کسی بھتیلے برگد جیسے لگ رہے تھانے کی سرگرمی ان لوگوں کے دم سے قائم تھی جو بینک میں پہرے داری کے دوران مارکش کے سپنوں میں آتے تھے۔ گھسٹتے قدموں سے ہونے والی ان کی مجبور آمد و رفت دن بھر لگی رہتی۔یہ پریشان سے آتے اور اپنے بولنے کی باری کا انتظار کرتے ہوئے کسی کونے میں دبکے چپ چاپ بیٹھے رہتے۔یہ بینک میں بھی مر ے مرے سے لگتے تھے اور تھانے میں بھی۔ان کے بے بس چہروں سے لگتا، دنیا اگر باڑھ میں ڈوب رہی ہو اور تھانہ آخری عمارت کے طور پر بچا ہو، یہ تب بھی اس کی چھت پر پناہ نہیں لیں گے۔تھانے آنے والے ہر ایک مظلوم کی آنکھوں میں گزری ہوئی آندھی کے بعد کی مردہ شانتی ہوتی۔ چھوٹے چھوٹے جھگڑوں میں پھنسی کئی آنکھیں امنڈتی ندی اوڑھے احساس جرم، غصے یا بدلے میں نہارہی ہوتیں۔بدحواسی اور خوف کے سبب جلدی جلدی ایک ہی کہانی کئی مرتبہ سنانے کی وجہ سے ان کے ہونٹوں کی کوروں میں سفید تھوک جھاگ کی شکل میں چپکا رہتا۔اسے لگتا، وہ ایک ایک کو پہچان رہا ہے۔ان کا گھر دوار، بیوی، بوڑھابوڑھی، بال بچہ۔سبھی کو۔کون کس کارن سے لڑا بھڑا ہے، سب کچھ۔وہ جان رہا ہے، وہ کسی حل، انصاف اور سکون کی تلاش میں بڑی امید سے تھانے آئے ہیں، مگر یہاں سے وہ کسی ساہوکار سے قرض اٹھانے کی مانند اور زیادہ الجھ کر واپس لوٹیں گے۔جرم، تھانہ اور پولیس کا ایک ایسا جال ہے جس میں پھنس کر بوجھ سے دبے ان کے کندھوں پر کل کو کُرتے بھی نہیں ٹک سکیں گے۔شام میں چولہے میں آگے جلے گی تو تسلے اور اس میں کھولتے پانی کے علاوہ تیسری چیز بھاپ ہوگی۔مارکش یہ سب پتھروں کے سے انداز میں دیکھا کرتا۔دھوتی، ساڑی، لنگی اور انگوچھوں کی گرہیں کھلتیں، مڑے تڑے نوٹ سیدھے ہوکر اپنی اہمیت جتاتے۔تب جاکر راحت والی ہوائیں چلنی شروع ہوتیں۔کھلی گرہوں کی سلوٹیں سب کچھ لوٹ کھسوٹ جانے کے بعد بڑے ہاہاکارانہ طور پر ایک اجنبی کے سے انداز میں ہوا میں ڈولتی رہتیں۔لوگ اپنی ہی صلیب ڈھونے والے قدموں کو لیے باہر نکلتے۔چیتھڑوں میں لپٹے بدن کی کپکپاہٹ، گڑگڑاہٹ اور عذاب سے ہمیشہ کے لیے آزاد ہونے کی چھٹپٹاہٹ دھیرے دھیرے مارکش کے بھیتر دھنسنے لگی۔
دو برس سے اوپر ہونے کو آئے تھے۔مگر مارکش اس ماحول میں نہیں ڈھل پایا تھا۔ڈیوٹی کے بعد بھی اسے ادھر ادھر کے کاموں میں خوب لگنا پڑتا۔وہ چپ چاپ سب کی سنتا، جیسے گاؤں میں نوجوان حکمرانوں کو سنا کرتا تھا۔ اسے لگتا، شہر میں سب سے نیا وہی ہے۔ باقی جیسے صدیوں سے وہیں رہ رہے ہیں۔ٹولے میں جہاں اسے دن بھر مزدوری کے بعد بھی تھکان نہیں محسوس ہوتی تھی، اب وہ ہمیشہ نڈھال نڈھال سا دکھائی دیتا، جیسے کوئی چھو بھی دے گا تو بارش سے گیلی ہوئی کچی دیوار کی طرح بھربھرا کر گر پڑے گا۔دیگر سپاہی شام ہوتے ہی ٹھیکے سے آئی مفت کی سستی شراب میں ڈوب جاتے۔اپنی بندوقیں جھاڑ پونچھ کر چمکاتے رہتے۔گپوں، قصوں کی باڑھ آجایا کرتی، لیکن مارکش کو یہ سب اچھا نہیں لگتا تھا۔اسے نہ جوتے چمکانا پسند تھا، نہ چمکا کر کپڑے پہننا۔جبکہ دوسرے ‘آف ڈیوٹی’ رہنے پر بھی رعب کے لیے وردی پہن کر شہر کی سڑکوں پر گھومتے رہتے۔پولش کی غذا نہ ملنے پر اس کے کالے جوتے گندے ہوکر بھدے لگتے تھے۔ یہی حال کپڑوں کا تھا۔ وہ وردی میں بھی غریب لگتا۔مارکش کو چھبیس جنوری اور پندرہ اگست کو بھی جھوٹ موٹ کا دکھاوا کرنا اچھا نہ معلوم ہوتا۔سال بھر جو صاحب لوگ دنیا بھر کی بدمعاشیاں کرتے، ان دو دنوں میں ان کی ریڑھ جھنڈے کو سلامی دیتے وقت سب سے سیدھی رہا کرتی۔کل تک اسکول میں جو مارکُش سب سے تیز اور بے سرا ہوکر ‘جن گن من’گاتا تھا، آج پوری شعوری کوشش کے باوجود بھی باون سکینڈ دل کو یکسو نہ رکھ پاتا۔پریڈ میں جوتوں کی تھاپ آگے پیچھے ہوتی رہتی۔ساتھ ہی سپاہی اور سینئر اسے ڈانٹتے اور ہنستے۔’کیا کیجیے گا؟ یہ لوگ تھوڑا دھیرے سمجھتے ہیں، سمے لگے گا۔’مارکُش کو لگتا، جیسے وہ کسی گھونگھے کے خول میں ہے۔ساتھ کے سپاہی اس کے کم بولنے پر تھوڑے خوف زدہ رہتے۔ وہ اس کا مذاق اڑاتے لیکن اپنے ہی ساتھیوں پر گولیاں چلادینے والے جوانوں کی خبریں پڑھ کر مارکش سے سنبھلے بھی رہتے۔
پولیس عام آدمی نہیں ہوتی، بھیڑ نہیں ہوتی جبکہ مارکش کو بھیڑ ہونا پسند تھا۔ تھانہ اسے اپنی جگہ نہیں لگتی۔شہر کی بھیڑ کے ریلے اسے اپنی جگہ لگتے۔ڈیوٹی کے فوراً بعد وہ شہر کی سڑکوں پر بھیڑ بننے کے لیے نکل پڑتا۔چِنیا بادام پھوڑتا۔چائے پیتا۔بھیڑ کے چہرے دیکھتا اور بازار میں کھو جاتا۔
3
بکسے میں بند زندگی گھسٹ رہی تھی۔ اسے دین سرائے بھیج دیا گیا تھا۔شہر کے تھانے سے چھوٹتے ہی لوہے کے بکسے میں بھری بیزاری خود ہی اڑن چھو ہونے لگی تھی۔دین سرائے کی دیہاتی بو اسے اپنے ٹولے کی ہواؤں سی معلوم ہوتی۔مگر مہینہ دو مہینہ ہوتے ہی پھر سب کچھ پہلے جیسا ہوگیا۔ایک طرح کی زندگی، ایک طرح کی مشق، ایک طرح کے احکامات، ایک طرح کے لوگ۔پرانی بیزاری تین برابر اور ایک حسب توقع چھوٹے پائے والی کرسی پر لوٹ آئی تھی۔خیالات کو جمع کر کے ٹھوس ہونے سے بچانے کے لیے مارکُش اسی کرسی پر ڈولتا رہتا۔کسی میت کا ماتم مناتے دین سرائے میں سب کچھ ٹھیک نہیں تھا، مارکش نے یہ کچھ ہی وقت میں سمجھ لیا تھا۔
دین سرائے تب بھی کچھ آباد تھا۔اس سے سٹے گاؤں تودن بدن اپنا رنگ روپ کھوتے جارہے تھے۔ان گاؤوں کے مرتے ہوئے موسم میں ساری چیزیں کراہ رہی تھیں۔اونگھتے پیڑ پودوں کی بوڑھی پتیاں پولیس کی گاڑیوں سے نکلی دھول ، دھوئیں اور خوف سے بھوری ہوگئی تھیں۔پیڑوں نے اپنی بچی کھچی ہریالی اوپر آسمان کی جانب دھکیل دی تھی۔ پھنگیوں کو چھوڑ کر جیون کہیں پُر جوش نظر نہیں آتا تھا۔
ان گاؤوں میں کچھ متحرک تھا توبلاسٹ پروف گاڑیاں اور جیپیں۔یہاں مٹی کے صرف ڈھیر دکھتے تھے، لوگ نہیں۔ٹکڑوں میں ادھر ادھر دکھنے والے بچوں اور بزرگوں سے گاؤں کا بھرم قائم تھا۔ایک خاص عمر کے طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ سرے سے غائب تھے۔مرد ہی نہیں، عورتیں بھی۔لوگوں کا اس طرح غائب ہونا ایک دکھاوے کا راز ہوا کرتا۔جانتے سب تھے، بولنا کوئی نہیں چاہتا تھا۔وہ یا تو پکڑ کر مار ڈالے گئے تھے یا انہوں نے جنگلوں کا دامن تھام لیا تھا۔
اخباروں اور ریاستی شعبوں کے احکامات سے یہاں کے تاریخ جغرافیہ کی بدحالی کا اندازہ دھیرے دھیرے مارکش کو ہونے لگا تھا۔گشت پر جیپ سے جھانکتی اس کی آنکھیں اب ماہر و مشاق ہونے لگی تھیں۔بھائیں بھائیں کرتے ان گھروں کے دروازوں پر اسے اپنی ماں بیٹھی دکھائی نہیں دیتی۔ کھیتوں کے درمیان مینڈیں دکھتیں۔لیکن دونوں طرف کی فصلیں غائب ہوتیں۔ان پر سائیکل پر توازن درست کرتا کوئی مارکش جیسا لڑکا نہیں دکھتا۔روزانہ کی گشت سے اس نے گاؤں کے بچوں، بوڑھے بوڑھیوں کو پہچاننا شروع کردیا تھا۔روز ایک ہی کپڑوں میں ڈوبے، ایک ہی جگہ، ایک کام میں مگن ان جذبات سے عاری چہروں کو پہچاننا مارکش کے لیے کٹھن نہیں تھا۔روز بروز ایک ہی طرح کے مناظر سے گزرتے ہوئے جلد ہی وہ اس ریتیلی خاموشی سے اکتانے لگا۔
بسنت کو کھسکا کر گرمی اپنی جگہ بنانے لگی تھی۔دن گرم بھٹیوں میں بدلتا جارہا تھا۔لمبی بند گاڑیوں میں مارکش کا جی متلانے لگتا۔من کرتا پیٹ کا سب کچھ الٹ دے، مگر تھوک سے زیادہ کچھ نکل نہ پاتا۔یہ شہری قسم کی بیماریاں ایک ایسے آدمی کو ہو رہی تھیں جو جون کی چلچلاتی دوپہر میں ایک ساتھ تیس اینٹیں ڈھو سکتا تھا۔گشت سے لوٹتا تو مہینوں کا روگی دکھتا۔ہاتھ منہ دھوکر کچھ دیر سستاتا، پھر اسٹیشن کی راہ لے لیتا۔اسے دن یا شام میں وقت ملنے پر بھی سونا پسند نہیں تھا۔جاگنے پر اسے لگتا جیسے دنیا کافی آگے نکل گئی اور ان کچھ گھنٹوں میں وہ پہلے سے زیادہ پچھڑ گیا۔
اسٹیشن کی بینچ پر بیٹھا مارکش دال موٹھ چباتا مسافروں کی بدحواسی دیکھتا رہتا۔الا بلا سوچیں آتی جاتی رہتیں۔ریلیں دھڑدھڑا کر چلی جاتیں، وہ ان کے پیچھے کی دور ہوتی لال بتی کو تاکتا رہتا۔وہ دیکھتا، اچانک اس کا سر پٹری کے بیچوں بیچ آگیا ہے۔ایک بہت بڑی دیونما ریل آئی اور لوہے کے بھاری پہیے سے اس کا سر کچلتی ہوئی گزر گئی۔چٹنی بنا سر دور تک بکھرجاتا۔وہ دوڑ کر بکھرے ہوئے لوتھڑوں کو اکٹھا کررہا ہے تاکہ پوسٹ مارٹم میں پریشانی نہ ہو، لیکن باریک ٹکڑوں کو اٹھانے میں بہت دقت ہورہی ہے۔ اپنی پوری طاقت سے چیختی ہوئی تب تک ایک اور ریل آگئی ہے۔پوں۔۔اوں۔۔۔اوں۔۔۔دھڑدھڑدھڑ۔۔کچچ۔۔۔اس بار اس کا سارا بدن پہیوں کی زد میں آگیا ہے۔وہ روتا ہوا پھر سے بکھرے ہوئے حصوں کو اپنے کندھوں پر جمع کررہا ہے کہ پھر سے پوں۔۔۔اوں۔۔۔اوں۔۔دھڑدھڑدھڑ۔۔۔کچچ۔
مارکُش جھٹکے سے سر جھٹک دیتا اور منہ میں بھری دال موٹھ چبانے لگتا۔ایسے خیالات کے بعد اسے ریلوں سے بے طرح ڈر لگنے لگتا۔اس نے دین سرائے آکر ہی پہلی دفعہ ریلیں دیکھی تھیں۔ بھاگتے پہیوں پر اس کی نظریں نہیں ٹکتیں۔ریل ہی نہیں، ٹریک کی صورت بھی اسے بچپن سے بھتیلی لگتی۔آٹھ آٹھ چٹان نما پہیوں والے ٹرکوں کو دیکھ کر اسے لگتا گویا انہیں سامنے والے کو کچلنے کے لیے ہی بنایا گیا ہو۔ آنکھ منہ بنادینے سے ٹرک اور بھی بھیانک لگتے۔ یہی کارن ہے، اسے گشت کی بکتربند گاڑیاں نہیں پسند آتی تھیں اور غیر محفوظ اور خطرناک ہونے کے باوجود اسے کھلی جیپ میں بیٹھنا اچھا لگتا تھا۔
گشت کی گاڑیاں جہاں سے لوٹتیں۔وہ گاؤں کے آخری چھور کی آخری جھونپڑی ہوتی۔وہاں سے گھنا جنگل شروع ہوتا تھا۔ جھونپڑی ایک طرح سے ‘لائن آف کنٹرول’ کی طرح تھی۔شام کی گشت میں جھونپڑی کے پاس آتے آتے دھندلی شام گاڑھی ہوکر کالی رات میں بدل جایا کرتی۔لوٹتے وقت گاڑیوں کی روشنی اور گھررگھرر کی آوازوں سے پورا ماحول پراسرار اور ڈراونا ہواٹھتا۔سب کی سانسیں تھمی رہتیں۔ سب چپ چاپ آنکھیں پھاڑ کر اندھیرے کے پار دیکھ رہے ہوتے۔
لمبے اور موٹے درختوں سے گھرے جھونپڑے کو دیکھ کر آسانی سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا تھا کہ اس کے اندر بے چارگی کی زندگی جی جارہی ہوگی۔جھونپڑی کا مالک پانچ بکریوں کا مالک تھا۔ وہ دو تین دنوں پر اپنی بکریوں کے ساتھ ‘پٹرولنگ’ والی گاڑیوں کی رروشنی میں دکھ جایا کرتا۔اوروں کے لیے اس کا دکھنا’روٹین’ مناظر سے گزرنے کی طرح تھا، لیکن مارکُش کی نظر جب بھی اس پر پڑتی، اسے اپنی بکری کے پیچھے چلتے پِتا یاد آجاتے۔
مارکُش نے اس ادھیڑ کو پہلی بار اس دن دیکھا تھا ، جب وہ اپنی جگہ بکریاں جیپ کے آگے سے ہٹا رہا تھا۔ ان گستاخ بکریوں کو راستے میں رکاوٹ بننے کی سزا کے طور پر کنارے ہٹا کر ادھیڑ نے انہیں پیٹا بھی تھا۔ہیڈ لائٹوں کی اجلی پیلی روشنی میں مارکش نے دیکھا تھا، نس نس میں بھوک بھرے اس بدن پر کپڑوں کے نام پر ایک مٹ میلی لنگی بندھی تھی، جو بیچ سے سکڑ کر گول دھاریاں بناتی ہوئی نیچے سے اُٹنگی ہوگئی تھی۔دھول اور پسینے سے کڑک ہوچکی بنیان کندھے پر لٹکی تھی۔آنکھوں اور گالوں کے ارد گرد برسوں کی تھکان پرتوں میں جمی تھی۔کراہتی زندگی جینے کو مجبور ادھیڑ روز آنے والی ان گاڑیوں کی دھونسا دینے والی آوازوں اور لائٹوں کے تعلق سے بے حد بیزار جان پڑتا تھا۔بینک میں پہرے داری کے بعد مارکش جس کسی کو بھی دیکھتا، اسے لگتا، وہ بینک میں دیکھا ہوا چہرہ ہے۔ادھیڑ کو دیکھ کر مارکش کو ایسا نہیں لگا تھا۔یہ وہ چہرے تھے، جن کی دنیا میں بینک کا کوئی وجود نہیں تھا۔
مارکش کا دین سرائے میں ساتویں مہینے کا تیسرا ہفتہ تھا۔گاڑی، وردی، بکسے اور بندوق کے ساتھ۔یہاں بینک کی پہرے داری سے زیادہ تنخواہ تھی۔گاہے بگاہے ماں اور ٹولے کی خبریں بھی مل جاتیں۔پندرہ روز قبل ہی مارکُش نے ماں کو پیسے بھیجے تھے۔آج ماں کی طرف سے خبر آئی تھی کہ پیسے مل گئے ۔دال ، چاول، سبزی کھاتے ہوئے اسے ماں کے بنائے ماڑ بھات یاد آرہے تھے۔اتنی طرح کی چیزیں، انڈے ، چکن وغیرہ کھانے کے باوجود اس کا دھیان پوئی پتے کے چھلکے، چکوڑ-کونار کے ساگ اور مرغے کی کھال اور انتڑیوں سے بنے جھور بھات پراٹکا رہتا۔کھانے کے بعد اپنی کرسی پر پیروں کے سہارے پینگیں لیتا ہوا مارکُش سوچ رہا تھا، ٹماٹر کا جھور بھات کھائے عرصہ ہوگیا۔اب کی بار گھر جائے گا تو ماں کو بنانے کے لیے کہے گا۔مارکش کا سوچنا اچانک بند ہوگیا تھا اور تین برابر اور ایک حسب معمول چھوٹے پائے والی کرسی کا جھولنا بھی۔فوراً تیار ہونے کا حکم تھا۔خفیہ ذرائع سے کچھ خبریں آئی تھیں۔
راستے بھر مارکش کا من خراب رہا۔اس طرح یک بیک دوبارہ ڈیوٹی پر جانے کے لیے وہ ذہنی طور پر تیار نہیں تھا۔گاڑیاں روز کے راستے پر ہی تھیں۔وہ ایک چار سو سات نما گاڑی میں بیٹھا تھا، جو پیچھے کی جانب سے آدھی کھلی تھی۔گاڑیاں جھونپڑی والے موڑ سے پہلے رک گئیں۔دو گاڑیوں کو پیچھے رکنے کے لیے کہا گیا۔موڑ سے کوئی چار بانس پیچھے مارکش کی گاڑی تھی۔سب کو پوزیشن لینے کا حکم ملا۔سب کی دیکھا دیکھی اور ٹریننگ کے سبق کے مطابق مارکش آگے کی جانب چوروں کی طرح سرکنے لگا۔سورج مغرب میں اب یا تب ڈوبنے کی کگار پر تھا۔اس روشنی میں چیزیں دھندلی پڑنے لگتی ہیں۔ پیڑ پودوں کا ہرا پن ، سیاہی میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ آہستہ آہستہ آگے کی گاڑیوں والے سپاہی موڑ والی جھونپڑی کو گھیر رہے تھے۔ شام کے ختم ہوتے ہوتے اور اندھیرکے پھیلتے پھیلتے جھونپڑی اور اس کی آس پاس کی جگہ کو پوری طرح گھیر لیاگیا تھا۔
سارے دم سادھے ہوئے مگر ہوشیار تھے کہ اچانک کوئی جھنڈ سناٹاڈھوئے جھونپڑی کی سمت چلا آرہا تھا۔جھونپڑی کے قریب پہنچتے ہی جھنڈ طاقتور بندوقوں کے گھیرے میں تھا۔ بھیڑ کو دیکھ کر بکریاں دہشت کے مارے ادھر ادھر دوڑ نے لگیں۔یہ بکریوں والا ادھیڑ تھا۔جو بندوقوں کے بیچ اکیلا کھڑا بری طرح ہانپ رہا تھا۔آواز ڈر کر اس کا ساتھ چھوڑ گئی تھی۔ کچھ نہیں سمجھ پانے کی حالت اس کے چہرے پر صاف دکھائی دے رہی تھی۔گھبراکر چھوٹی سانسیں لینے کی وجہ سے وہ بری طرح ہانپ رہا تھا۔وہ ایسا بے جان کھڑا تھا جیسے کسی کے چھوتے ہی گرپڑے گا۔
رات پوری طرح سے سیاہ ہوگئی تھی۔اندھیرا آنکھوں میں گڑنے لگا تھا۔ادھیڑ کو گاڑی میں لاد دیا گیا۔اسی درمیان دو اور گاڑیاں پہنچیں۔اس میں موٹے رسوں سے بندھے دو اور لوگ تھے۔ انہیں بھی ادھیڑ کے ساتھ گاڑی میں ڈال دیا گیا۔لائے گئے دونوں لوگوں کی عمر اس خاص طبقۂ عمر سے تعلق رکھتی تھی جو گاؤں سے سرے سے غائب تھے۔
پورا ریلا آگے کی طرف چل پڑا۔موڑ کے بعد سڑک دھیرے دھیرے پتلی ہوتی ہوئی آگے جنگل میں کھو جاتی تھی۔ بولڈر اور مورم سے بنی کچی سڑک پر پانچوں گاڑیاں ہچکولے کھاتی اندھیرے کو کاٹتی ہوئی بڑھتی جارہی تھیں۔چلتے ہوئے لگ بھگ بیس منٹ گزر چکے تھے۔’کہاں جارہے ہیں، کیوں جارہے ہیں’جیسے سوال رسوں میں بندھے تین لوگوں کے علاوہ مارکش اور اس جیسے ایک دو رنگروٹوں کے ذہن میں ہی تھے۔باقیوں کے چہرے ایسے سپاٹ تھے ، جیسے یہ ان کے لیے روزمرہ کی بات ہو۔مارکش کے دماغ میں بار بار پولیس افسر کے وہ زوردار گھونسے، جو ادھیڑ کے پچکے اور کمزور پیٹ پر مارے گئے تھے، گھوم رہے تھے۔ادھیڑ کے دونوں سوکھے ہاتھوں کو باندھنے کے بعد ٹارچ کی چمکیلی روشنی اس کے منہ پر جما کر پولیس افسر نے ہولے سے پوچھا تھا۔’یہ پوسٹر کون لگایا پیڑوں پر؟’ ایک گہری خاموشی گھنی رات کی طرح قائم تھی۔
کانوں کی جڑ تک پہنچنے والی سائیں سائیں کی آواز کے علاوہ ادھیڑ کچھ نہیں سن پارہا تھا۔ اس کا تھرتھرانا جاری تھا۔پولیس افسر نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں اپنا سوال دوہرایا۔اس بار ادھیڑ کے ہونٹ ہلے۔’نَو پتا!’بات پوری نہیں ہوئی تھی کہ بھاری ہتھوڑے نما گھونسہ اس کے پیٹ اور کنپٹی پر لگا۔ایسا لگا جیسے ادھیڑ کی آنکھیں درد سے باہر نکل پڑیں گی۔اس کے بعد سوال اور گھونسے ساتھ ساتھ چلے۔پھر اسے گاڑی میں ڈال دیا گیا تھا۔مارکُش کا کالا چہرہ یہ سب دیکھ کر اور بھی کالا ہوگیا تھا۔ اس کی موجودگی جیسے اندھیرے میں مل گئی تھی۔بغلوں کا پسینہ نکل کر اس کے پیروں تک پہنچ رہا تھا۔ وہ جلدی جلدی منہ سے سانسیں لے رہا تھا، ادھیڑ کی طرح، بالکل چھوٹی چھوٹی۔
گاڑیوں کو رکنے اور سپاہیوں کو اتر کر پوزیشن لینے کا حکم ملا۔ پکڑے گئے تینوں لوگوں کو بڑی گاڑی سے اتار کر جیپ میں ڈال دیا گیا۔ جیپ انہیں لے کر قریب سو میٹر آگے بڑھ گئی۔ ادھر گولی چلانے کا حکم ملتے ہی سپاہیوں نے سڑک کے برابر کھڑے پیڑوں کی جانب اندھیرے میں گولیاں چلانی شروع کردیں، جو جیپ کے لوٹ آنے تک چلتی رہیں۔
ریلا اب تھانے واپس لوٹ رہا تھا۔ جوابوں سے عاری کئی سوال مارکش کا سر درد سے پھاڑے دے رہے تھے۔اس کا من بے قابو ہورہا تھا۔اسے لگ رہا تھا، اس کے پھیپھڑوں کو وافر مقدار میں آکسیجن نہیں مل پارہی ہے۔’لوڈیڈ’ بندوق اب اس سے سنبھالی نہیں جارہی۔ لگ رہا تھا، اس سے گولیاں ‘پھٹاک، پھٹاک’ بے قابو ہوکر نکل پڑیں گی۔گولی چلانے کے لیے گاڑی کی دیوار میں بنے چھید میں اس نے اپنی ناک گھسا دی۔ تازہ اور شیتل ہواؤں کے ساتھ رات کی سیاہی بھی اس کے پھیپھڑوں میں اتر آئی تھی۔
ڈیڑھ گھنٹے کے اندر گاڑیاں تھانہ پہنچ گئیں۔مارکُش کی آنکھیں اب بھی بند تھیں۔ اس نے سب کو اترنے دیا۔ آخر میں جب وہ اپنے پیر گاڑی کے پائدان پر رکھ رہا تھا، اسے محسوس ہوا کسی نے اس کے پیروں میں ہاتھی باندھ دیا ہے۔وہ ٹنوں بھاری قدموں کے ساتھ بندوق ٹیکتے ہوئے چل رہا تھا۔ جیپ کے سامنے گزرتے ہوئے وہ ٹھٹھک گیا۔ سامنے تینوں جسم خون سے سرابور تھے۔تازہ خون نے ہرے کائی رنگ کے کپڑوں کو جگہ جگہ سے بھگودیا تھا۔ کپڑوں کو چھید کر کئی گولیاں بدن کا گوشت باہر لٹکائے دے رہی تھیں۔اتنا خون اس نے جیون میں پہلی بار دیکھا تھا۔
مارکُش نے ادھیڑ کو پہچان لیا۔’بابارے۔۔۔!’اس کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ وہ ایک پل کے لیے یوں ہی کھڑا رہا، پھر پکے کٹھل کی طرح دھب سے زمین پر گر گیا۔ اس کا ماتھا چکر گھنی بن گیا تھا۔ ہاتھ سے چھوٹ کر بندوق نیچے گر گئی تھی۔ تھکان اور حیرانی نے باری باری سے مارکش کے ماتھے کو متھنا شروع کیا۔وہ کچھ نہ سوچ پانے کی حالت میں بیٹھا رہا، جیسے دماغ تک کوئی خبر پہنچ ہی نہ پارہی ہو۔ہر گزرتے پل کے ساتھ وہ مضمحل ہوتا جارہا تھا۔وہ ادھیڑ کی لاش کے آگے دو پھٹی آنکھیں لیے، کسی پتھر کی طرح بیٹھا تھا۔
‘بہت غلط ہوا۔’ایک بدبداہٹ کے ساتھ جیسے بھیتر سے کسی نے کہا تھا۔
‘بے کار بات۔۔۔گولیاں چلانے والوں میں تم بھی تھے۔’اندر سے ہی کسی نے پلٹ کر اسے پھٹکارا تھا۔
‘میں لمبی والی گاڑی میں تھا۔ میں نے تو اندھیرے میں گولیاں چلائی تھیں۔’
‘ہاں لیکن تمہیں سب پتہ تھا۔’
‘مجھے نہیں پتہ تھا، اس طرح دن دہاڑے اٹھاکر انہیں گولی ماردیں گے۔’
‘جھوٹے آدمی! جب تینوں کو جیپ میں ڈال کر اندھیرے میں لے گئے، تمہیں سمجھ نہیں آیا؟ کیا یہ پہلی بار ہورہاتھا؟ دودھ پیتے بچے ہو؟’
‘آہ۔۔۔میں ٹھیٹھ گنوارآدمی، اتنی دور تک نہیں سوچ پایا۔’
‘وہ لنگی باندھنے والا آدمی، جس کے بدن پر کپڑے نہیں ٹکتے تھے، تم لوگوں نے اسے نکسلیوں والے کپڑے پہنادیے۔دو اور لڑکوں کو اسی طرح دوسرے گاؤں اور جنگل سے اٹھایا، کپڑے پہنائے اور مار دیا اور کہتے ہو، تمہیں کچھ نہیں پتہ؟’
‘چ۔۔چ۔۔چ۔۔بہت بڑا دھوکا ہوا۔۔۔ماں!’مارکُش کی آنکھیں مواد بھرے زخم کی طرح بھر آئیں۔
‘نقلی ٹسوے کیوں بہارہے ہو؟بھر بھر کر لوٹ کر کھاتے ہو، تنخواہ لیتے ہو اور اب چھاتی پیٹ رہے ہو؟ جیپ میں تم ہوتے تو حکم ملنے پر ان پر گولیاں نہیں چلاتے؟’
‘میں گولیاں چلانے سے منع کردیتا۔بنا خطا یا قصور کے کوئی کسی کو کیسے مار سکتا ہے؟چ۔۔چ۔۔۔بہت برا ہوا ماں۔۔بہت برا۔’
‘وہاں پوسٹر تو کوئی بھی چپکا سکتا ہے۔تمہاری جھونپڑی کے آگے اگر کوئی ایسا پوسٹر ملے تو تمہاری ماں کو بھی نکسلیوں والے کپڑے پہنا دینا چاہیے۔۔؟پھر جیپ میں بٹھا کر ٹھائیں۔۔ٹھائیں۔۔یہی نا؟’
‘چپ۔۔ایک دم چپ۔۔۔ریل کے پہیے کے نیچے چٹنی بنادوں گا۔’مارکش جیسے کسی پاگل کی طرح بڑبڑانے لگا۔ وہ اچانک سر دھنتا ہوا کھڑا ہوگیا۔ اس نے بندوق کا سہارا لیا اور چل پڑا۔
لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے لے جایا جارہا تھا۔تھانہ منظم ہونے میں لگا تھا۔وہ ہاتھ منہ دھوئے بنا لیٹ گیا۔کھانا بھی نہیں کھایا۔ لیٹے لیٹے اپنے ٹولے میں گیا۔ قصبے میں بے مقصد گھومتا رہا۔پل پر بیٹھ کر ندی میں ڈھیلے پھینکے۔اکیلے میں کلاسوں کی ڈیسکوں پر دوڑا۔راج مستریوں کو اینٹیں تھمائیں۔ ماں کے ساتھ کھیتوں میں گیا۔ کیکڑے پکڑے۔ نوجوان حکمرانوں کو خوب گالیاں دیں۔بینک میں ‘کون ہے’ کہہ کر تین بار چلایا، لیکن کسی پر گولی نہیں چلائی، ران کے نیچے بھی نہیں۔شہر کی سڑکوں پر بھٹک کر چِنیا بادام کھایا۔ تھانے میں پھٹے حالوں کو مار کھاتے اور روتے بلکتے دیکھا۔ادھیڑ اور اپنے پِتا کو جھڑی ہوئی سائکل پر ساتھ گھومتے دیکھا۔ اس نے ادھیڑ کی بکریوں کی آنکھوں کے نیچے رونے کے نشان دیکھے۔ان کے سوکھے آنسوؤں کو سہلایا۔ ادھیڑ اور دونوں لڑکوں کے بدن میں دھنسی گولیوں کو نکالا۔مینڈوں پر سائکل چلاتے ہوئے چیخ کر خوب رویا اور ہوا میں گالیاں اچھالیں۔پھر لوٹ کر دین سرائے میں ریل کی پٹریوں پر اپنا سر رکھ دیا۔
پوں۔۔اوں۔۔اوں۔۔دھڑ دھڑ دھڑ۔۔کچچ۔اس کے پرخچے اڑگئے۔
سب کچھ پہلے کی طرح ہوگیا تھا۔ سورج نکلا تھا۔ اخبار نکلے تھے۔ پہلے پنے پر بڑے اور موٹے فونٹ میں ‘مڈبھیڑ’میں تین علیحدگی پسندڈھیر والی سرخی سے اخباروں کی شروعات ہوئی تھی۔’دین سرائے تحصیل کے بنورا گاؤں کے قریب پل بھنیا جنگل میں علیحدگی پسندوں کے ساتھ ہوئی ایک بھاری پولس مڈبھیڑ میں تین دہشت گرد مار گرائے گئے۔مڈبھیڑ کی جگہ سے ‘فلاں ‘ بور رائفل، اتنا کارتوس، پِٹھّو اور کچھ پوسٹر، پرچے اور متنازعہ لٹریچر برآمد کیا گیا ہے۔’
خبر کے بیچ میں لکھا تھا۔’خفیہ جانکاری پاتےہی پولیس بَل کے ساتھ خصوصی آپریشن دستہ روانہ ہوا۔وہاں دستے کے پہنچتے ہی گھات لگا کر بیٹھے علیحدگی پسندوں نے ان پر تابڑ توڑ گولیاں برسانی شروع کردیں۔پولیس کی جوابی فائرنگ میں تین دہشت گرد اسی جگہ ڈھیر ہوگئے۔’
سبھی اخباروں میں پولیس کی یہ بڑی کامیابی خاص طور سے شائع کی گئی تھی۔’باکس’ میں تینوں کی ٹکٹ سائز تصاویر چھپی تھیں۔ساتھ ہی بغل میں تمام برآمدیوں کے ساتھ پولیس افسر اور دیگر سپاہی ایک چمکتی تصویر میں چھاتی پر ہاتھ باندھے ریڑھ سیدھی کیے کھڑے تھے۔ سپاہی مارکُش لڑکا اس تصویر میں نہیں تھا۔وہ کیمپ میں بھی نہیں تھا۔بندوق کے سہارے وردی ٹنگی تھی اور لوہے کا بکسا کھلا ہوا تھا۔
٠٠٠
متھلیش پریہ درشی جھاڑکھنڈ کے چترا ضلع میں 1985 میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم چترا میں جبکہ اعلیٰ تعلیم پٹنہ میں مکمل کی۔یہ کہانی ان کی پہلی کہانی ہے، جو کہ ہندی رسالے ‘واگارتھ’ میں 2007 میں شائع ہوئی تھی۔اور اس پر انہیں نو لیکھن یا نوتحریری اعزاز سے بھی نوازا گیا تھا۔فی الحال ممبئی میں مراٹھی فلم انڈسٹری سے وابستہ ہیں۔ ان کی یہ کہانی 2022 میں شائع ہونے والے ان کے پہلے افسانوی مجموعے سے لی گئی ہے، جو کہ اسی کہانی کے نام سے شائع ہوا ہے۔
متھلیش کی اس کہانی میں اپنا سنسار دیکھیے، وہ لوگ دیکھیے، جنہیں آپ نہیں دیکھتے، خون کی بو سونگھیے،اس بازار میں کام کرتے مزدوروں کے پسینے کا دیدار کیجیے جو عام زندگی میں ہزار طرح کے استحصال کا روزانہ سامنا کرتے ہیں۔ ذلت کی زندگی گزارتے ہیں اور ہم سب کے لیے ان کی زندگیاں محض ایک معمول کا ڈھب بن کر رہ گئی ہیں۔ ان مظلومین کا کام ہی یہی ہے کہ یہ ہمارے آپ کے بنائے ہوئے سسٹم کی بھینٹ چڑھتے رہیں اور اگر ان میں سے کوئی اس ناانصافی پر آواز اٹھانے یا بے چینی دکھانے کی ہلکی سی بھی کوشش کرے تو اس کا گلا گھونٹنے میں رتی برابر وقت ضائع نہ کیا جائے۔یہ کہانی ذہن کو کچھ دیر کے لیے خود پر ، سماج پر اور انصاف کے کھوکھلے تصورات پر لعنت بھیج دینے کے لیے مجبور کرتی ہے۔ اسے پڑھا جانا چاہیے اور پڑھوایا جانا چاہیے۔
Pemuda Magelang Ungkap Pandangan Unik Soal Alasan Mahjong PGSOFT Kembali Ramai Dibahas
Warga Salatiga Bahas Perbedaan Karakteristik Grafis dan Fitur Antara Mahjong 1 dan 2
Komunitas Peselancar di Krui Lampung Diskusi Santai Sambil Bahas Tren Mobile Gaming Mahjong Ways
Warga Kediri Hebohkan Rumor Scatter Hitam yang Bikin Layar Penuh Kejutan di Mahjong Wins
Pemuda Madiun Ceritakan Pengalaman Seru Rasakan Sensasi Maxwin Tanpa Harus Pakai Rumus Rumit
Warga Probolinggo Bahas Tuntas Asal-Usul Permainan Mahjong Tradisional Menjadi Game Digital Modern
Komunitas Musik Indie Malang Perbincangkan Fenomena Budaya Urban di Balik Game Mahjong PGSOFT
Warga Jember Geger Dengar Kabar Kemenangan Besar Pemuda Setempat di Mahjong Ways 2
Pemuda Banyuwangi Kupas Sisi Positif dan Negatif Mitos Pola Gacor di Kalangan Player Aktif
Warga Gresik Diskusi Alasan Game Mahjong Tetap Relevan Diantara Gempuran Game Modern Lainnya
Komunitas Pesepeda Sidoarjo Ramaikan Obrolan Pagi Seputar Momen Gacor Mahjong Wins
Warga Mojokerto Heboh Saksikan Teman Sekantor Dapat Kejutan Scatter Hitam Mahjong Ways
Warga Pasuruan Bahas Komparasi Fitur Bonus Antara Mahjong Ways dan Game Populer Lainnya
Komunitas Pecinta Alam Lumajang Jadikan Topik Teknologi Mahjong Ways Sebagai Bahan Diskusi Tenda
Warga Tuban Heboh Bahas Kemunculan 4 Scatter Hitam yang Bikin Layar Berubah Drastis
Pemuda Bojonegoro Ungkap Alasan Kenapa Banyak Orang Tertarik Main Mahjong Ways 2 di Ponsel
Komunitas Kafe Bondowoso Ramaikan Topik Perubahan Grafis Signifikan di Mahjong PGSOFT
Pemuda Sumenep Ceritakan Pengalaman Seru Temannya yang Berhasil Maxwin di Mahjong Wins
Warga Bangkalan Heboh Perbincangkan Karakteristik Unik Scatter Hitam Mahjong Ways
Komunitas Nelayan Sampang Bahas Mitos dan Fakta Seputar Pola Gacor yang Beredar Luas
Warga Pacitan Bahas Alasan Kenapa Mahjong PGSOFT Jadi Buah Bibir Generasi Muda Sekarang
Pemuda Ponorogo Kupas Tuntas Sejarah Panjang Ubin Tradisional Mahjong di Era Digital
Warga Trenggalek Kaget Dengar Kisah Sukses Warga Lokal Berkat Kemenangan Mahjong Ways 2
Komunitas Seniman Tulungagung Bahas Unsur Estetika dan Desain Visual Mahjong PGSOFT
Warga Ngawi Ramaikan Obrolan Warung Kopi Soal Sensasi Maxwin x100.000 Mahjong Wins
Pemuda Nganjuk Bagikan Tips Menghindari Salah Paham Seputar Rumus Pola Gacor Slot
Warga Klaten Heboh Saksikan Kejutan Scatter Hitam Muncul Saat Jam Makan Siang
Komunitas Batik Solo Diskusi Perpaduan Unik Antara Algoritma Modern dan Budaya Klasik Mahjong
Warga Wonogiri Bahas Alasan Kenapa Mahjong Ways 1 dan 2 Punya Penggemar Setia Masing-Masing
Pemuda Boyolali Ceritakan Pengalaman Tak Terduga Saat Main Mahjong Ways di Perjalanan
Warga Karanganyar Geger Dengar Kabar Warga Dapat Hadiah Impian Berkat Mahjong PGSOFT
Komunitas Pendaki Merbabu Bahas Tren Mobile Gaming Mahjong Ways di Berbagai Situasi
Warga Sragen Bahas Tuntas Alasan Fitur Super Scatter di Mahjong Wins Begitu Dinantikan
Pemuda Purworejo Kupas Sisi Lain Teknologi Sistem Digital Dibalik Keseruan Mahjong Ways
Warga Kebumen Hebohkan Obrolan Komunitas Tentang Pencairan Komisi Tanpa Batas Waktu
Komunitas Pantai Menganti Cilacap Diskusi Santai Soal Karakter Gacor Mahjong PGSOFT
Warga Banjarnegara Bahas Mitos Jam Gacor Mahjong Ways yang Bergeser Jadi Cerita Urban
Pemuda Pemalang Bagikan Cerita Unik Seputar Pengalaman Maxwin Tanpa Pola Khusus
Warga Pekalongan Ramaikan Diskusi Perbandingan Mahjong Ways dengan Game Slot Bertema Klasik
Komunitas Santri Batang Bahas Sejarah Perkembangan Permainan Tradisional ke Layar Digital
Warga Kendal Heboh Saksikan Momen Scatter Hitam Menyelimuti Layar Mahjong Wins Super
Pemuda Demak Kupas Tuntas Alasan Estetika Visual Mahjong PGSOFT Tetap Juara
Warga Banyuwangi Menemukan Jejak Budaya Tiongkok dalam Desain Mahjong Ways yang Jarang Diperhatikan
Lucky Neko dan Legenda Kucing Pembawa Hoki Inspirasi Jepang yang Menarik Perhatian Pengguna Kediri
Dari Meja Tradisional ke Layar Digital Perjalanan Mahjong Menjadi Hiburan Modern di Yogyakarta
Wild Bandito Mengangkat Nuansa Koboi Meksiko Detail Ilustrasi yang Membuatnya Berbeda di Surabaya
Pengguna Pontianak Memperhatikan Perbedaan Susunan Simbol Mahjong Ways dan Versi Keduanya
Princess Starlight Menggabungkan Cahaya dan Fantasi Apa yang Membuat Desainnya Menonjol di Makassar
Bukan Sekadar Hiasan Emas Simbol Lucky Neko Memiliki Referensi Budaya yang Dikenal di Kota Padang
Mengurai Fungsi Multiplier pada Gates of Olympus Tanpa Terjebak Mitos Pola Permainan di Semarang
Warga Malang Membandingkan Mahjong Wins dengan Mahjong Ways dari Sisi Tampilan dan Mekanisme
Sweet Bonanza dan Daya Tarik Warna Pastel Mengapa Konsep Visualnya Mudah Dikenali di Denpasar
Kisah Naga dalam Budaya Asia Menjadi Inspirasi Visual Mahjong PGSOFT yang Dibicarakan di Singkawang
Wild Bandito Memadukan Karakter Petualang dan Simbol Khas Begini Pendekatan Artistiknya di Cirebon
Efek Tumble Bukan Jaminan Kemenangan Pengguna Samarinda Membahas Cara Kerjanya pada Mahjong Ways
Apa Arti Manekineko dalam Budaya Jepang Mengenal Inspirasi Karakter Lucky Neko dari Kota Batu
Princess Starlight dan Perkembangan Tema Fantasi yang Kian Beragam dalam Hiburan Digital di Bogor
Warga Mataram Menelusuri Perbedaan Simbol Wild dan Scatter pada Sejumlah Permainan Modern
Sweet Bonanza Super Scatter Mengundang Rasa Penasaran Ini Penjelasan Mekanisme Bonusnya di Pekanbaru
Mahjong Ways 2 Memperlihatkan Perubahan Antarmuka Pengguna Batam Menyoroti Detail yang Berbeda
Mengapa Efek Petir Terasa Dramatis Rahasia Bahasa Visual Gates of Olympus Menurut Pengguna Manado
Wild Bandito Membawa Nuansa Barat ke Layar Ponsel Inspirasi Desainnya Ditelaah di Sukabumi
Lucky Neko dan Mahjong Wins Memiliki Tema Berbeda Perbandingan Karakter Visual dari Kota Jambi
Pengguna Tasikmalaya Mempertanyakan Anggapan Bahwa Jam Tertentu Menentukan Hasil Mahjong Ways
Simbol Permen Buah dan Efek Berantai Membentuk Ciri Khas Sweet Bonanza di Kota Tegal
Menelusuri Hubungan Tradisi Mahjong dengan Adaptasi Permainan Digital di Kabupaten Sleman
Gates of Olympus dan Arti Angka Pengali Penjelasan Sederhana yang Ramai Dibahas di Balikpapan
Warna Merah dan Emas dalam Lucky Neko Bukan Sekadar Pilihan Estetika Begini Maknanya di Purwokerto
Mengapa Hasil Acak Sering Terlihat Seperti Pola Perspektif Psikologi dari Komunitas Game di Salatiga
Mahjong PGSOFT dan Bahasa Simbol Cara Ornamen Klasik Beradaptasi dengan Layar Modern di Madiun
Wild Bandito Memperlihatkan Pengaruh Ilustrasi Meksiko dalam Desain Game yang Dibicarakan di Jember
Free Spins dan Putaran Biasa Memiliki Perbedaan Pengguna Serang Mengulas Aturan Sweet Bonanza
Kucing Keberuntungan dalam Budaya Jepang Menemukan Interpretasi Baru lewat Lucky Neko di Kota Ambon
Gates of Olympus Mengandalkan Tema Mitologi Namun Bagaimana Sistem Pengali Bekerja di Kota Kupang
Warga Cilacap Mengamati Cara Efek Suara Membangun Suasana dalam Permainan Digital Bertema Fantasi
Mahjong Ways dan Mahjong Wins Tidak Sepenuhnya Sama Perbedaan Detail yang Terlihat di Probolinggo
Sweet Bonanza Memanfaatkan Kontras Warna untuk Menarik Perhatian Pengamatan dari Kota Bengkulu
Mengapa Karakter Naga Banyak Digunakan dalam Game Asia Menelusuri Inspirasinya di Surakarta
Wild Bandito dan Lucky Neko Memiliki Gaya Artistik Berlawanan Perbandingan dari Pengguna Kediri
Princess Starlight Menyoroti Peran Karakter dalam Desain Hiburan Interaktif di Kota Tarakan
Dari Simbol hingga Animasi Perubahan Mahjong Digital Menjadi Perbincangan di Kabupaten Garut
Lucky Neko Mengangkat Simbol Kucing Jejak Tradisi yang Menarik Ditelusuri di Kabupaten Gianyar
Mengapa Efek Cahaya Sering Digunakan dalam Game Pengamatan Desain dari Kota Pekalongan
Warga Kabupaten Bantul Mengungkap Perbedaan Mahjong Tradisional dengan Versi Hiburan Digital
Gates of Olympus dan Kisah Zeus Seberapa Dekat Penggambaran Game dengan Mitologi Yunani
Lucky Neko di Kabupaten Bangli Memperlihatkan Perpaduan Motif Jepang dan Estetika Modern
Mengenal Random Number Generator melalui Diskusi Permainan Digital di Kabupaten Badung
Princess Starlight di Kabupaten Wonosobo dan Cara Tema Fantasi Membangun Identitas Visual
Mahjong Wins Memperlihatkan Efek Berantai yang Dramatis Namun Apa Penjelasan di Balik Mekanismenya
Warga Kabupaten Gowa Menelusuri Asal Inspirasi Simbol Keberuntungan dalam Game Bertema Asia
Wild Bandito di Kabupaten Majalengka Membawa Gaya Koboi ke Format Hiburan Seluler
Mengapa Tema Permen Banyak Diminati dalam Desain Game Perspektif Visual dari Kota Mataram
Lucky Neko di Kabupaten Sukoharjo Menjadi Contoh Adaptasi Simbol Budaya ke Media Interaktif
Gates of Olympus di Kabupaten Gresik Memunculkan Diskusi tentang Perbedaan Peluang dan Ekspektasi
Princess Starlight dan Permainan Bertema Mitologi Dua Cara Berbeda Menghadirkan Dunia Imajinatif
Pengguna Kota Kendari Menelusuri Peran Musik dalam Membentuk Pengalaman Bermain di Perangkat Seluler
Mahjong PGSOFT di Kabupaten Jepara Perpaduan Ornamen Tradisional dan Teknologi Visual
Wild Bandito di Kabupaten Paser Memperlihatkan Bagaimana Karakter Membantu Membangun Cerita
Mengapa Simbol Emas Terasa Menonjol Analisis Warna dalam Game Digital dari Kota Lhokseumawe
Lucky Neko dan Filosofi Kucing Pembawa Hoki Perspektif Budaya dari Kabupaten Tabanan
Warga Kabupaten Purbalingga Membahas Kesalahpahaman tentang Anggapan Pola Gacor yang Bisa Dipastikan
Gates of Olympus Menggunakan Efek Petir sebagai Identitas Bukan Petunjuk untuk Putaran Selanjutnya
Mahjong Ways 2 di Kabupaten Klaten Memperlihatkan Perkembangan Tata Letak dan Efek Simbol
Karyawan Kebab di Solo Mendadak Jadi Perbincangan Setelah Cerita Mahjong Ways Menyebar
Obrolan Kedai Kopi Bandung Berubah Seru Saat Mahjong Ways 2 Mulai Dibahas Pengunjung
Cerita dari Surabaya Membuat Mahjong PG Soft Kembali Ramai Dibicarakan di Media Sosial
Scatter Hitam Mahjong Wins Jadi Bahan Obrolan Setelah Muncul dalam Percakapan di Medan
Barista Malang Ikut Membahas Mahjong Ways Ada Detail Visual yang Menarik Perhatian
Komunitas Semarang Mulai Membandingkan Mahjong Ways dan Mahjong Ways 2 dari Sisi Visual
Pengusaha Kuliner Makassar Cerita Soal Mahjong PG Soft yang Kembali Ramai Dibahas
Dari Yogyakarta Obrolan tentang Mahjong Ways Berubah Menjadi Diskusi Soal Sejarah Permainan
Mahjong Wins Kembali Dibicarakan di Denpasar Setelah Fitur Scatter Menjadi Perhatian
Pengguna Palembang Membandingkan Mahjong Ways 1 dan 2 Ini Bagian yang Paling Menonjol
Obrolan Malam di Pekanbaru Membuka Cerita Menarik tentang Mahjong Ways dan Fitur Permainannya
Desain Mahjong PG Soft Jadi Perhatian Saat Komunitas Digital Pontianak Mulai Berdiskusi
Cerita Sederhana dari Banjarmasin Membuat Mahjong Ways 2 Kembali Ramai di Media Sosial
Mahjong Wins Muncul dalam Percakapan di Samarinda Kali Ini Banyak yang Membahas Scatter
Dari Ubin Tradisional ke Layar Digital Mahjong Kembali Dibahas di Tengah Tren Manado
Pengguna Kupang Punya Pandangan Berbeda Soal Alasan Mahjong Ways Masih Menarik Dibahas
Percakapan Santai di Mataram Berujung pada Pembahasan Menarik tentang Mahjong Ways 2
Mahjong PG Soft Kembali Disorot di Banda Aceh Kali Ini dari Sisi Tampilan dan Desain
Cerita Pengguna Jambi tentang Mahjong Ways Menyebar Setelah Dibahas dalam Grup Komunitas
Fitur Mahjong Wins Jadi Perbincangan di Bandar Lampung Setelah Sebuah Cerita Muncul
Mahasiswa Bogor Membahas Mahjong Ways 2 Visual Permainan Jadi Bagian yang Paling Menarik
Penjahit di Sukabumi Mendengar Obrolan Mahjong Ways dan Terkejut dengan Cerita Temannya
Cerita Mahjong Wins dari Tasikmalaya Ramai Dibahas Setelah Muncul dalam Grup Percakapan
Pekerja Garut Membandingkan Mahjong Ways dengan Versi Terbarunya Mana yang Lebih Menarik?
Obrolan di Kedai Kopi Serang Mengarah pada Perdebatan Kecil tentang Mahjong Ways 2
Mahjong PG Soft Kembali Dibahas di Tangerang Setelah Tampilan Barunya Menarik Perhatian
Seorang Desainer Depok Mengulas Tampilan Mahjong Ways dan Menemukan Detail yang Menarik
Mahjong Wins Jadi Topik Percakapan di Bekasi Setelah Fitur Scatter Kembali Dipertanyakan
Cerita dari Purwokerto Membuat Mahjong Ways 2 Kembali Menjadi Bahan Obrolan Komunitas
Pedagang Pekalongan Membahas Mahjong PG Soft Ternyata Ada Cerita Lama di Baliknya
Mahjong Ways Jadi Topik Hangat di Tegal Setelah Sekelompok Teman Membahas Fitur Permainan
Dari Warung Kopi Kediri Muncul Perdebatan Seru tentang Mahjong Ways dan Pola Permainan
Pengguna Madiun Mulai Membahas Mahjong Ways 2 Setelah Melihat Perubahan pada Tampilan
Cerita Jember Tentang Mahjong Wins Menarik Perhatian Setelah Dibagikan ke Grup Komunitas
Mahjong PG Soft Kembali Muncul dalam Obrolan Banyuwangi Kali Ini Soal Desain Simbol
Pekerja Sidoarjo Membandingkan Mahjong Ways dan Mahjong Ways 2 Saat Istirahat Siang
Obrolan di Gresik Mendadak Serius Saat Mahjong Wins dan Fitur Scatter Mulai Dibahas
Mahjong Ways Jadi Perbincangan di Mojokerto Setelah Sebuah Cerita Tidak Biasa Dibagikan
Pengguna Probolinggo Menyoroti Detail Kecil Mahjong Ways 2 yang Jarang Diperhatikan
Cerita Blitar Membuat Mahjong PG Soft Kembali Dibahas Ternyata Bukan Hanya Soal Visual
Pengunjung Batu Membahas Mahjong Wins Fitur Scatter Jadi Bagian yang Paling Mengundang Tanya
Mahjong Ways Jadi Bahan Diskusi di Salatiga Saat Obrolan Santai Mulai Menyinggung Permainan
Fotografer Magelang Menyoroti Visual Mahjong Ways 2 dan Menemukan Konsep yang Menarik
Cerita dari Klaten Membuka Diskusi Baru tentang Perbedaan Mahjong Ways 1 dan 2
Mahjong PG Soft Kembali Dibahas di Wonosobo Setelah Sejumlah Pengguna Menyoroti Grafisnya
Obrolan di Cilacap Berujung pada Pembahasan Sejarah Mahjong dan Versi Digitalnya
Pengguna Banjarnegara Membagikan Pengalaman Melihat Perubahan Visual Mahjong Ways 2
Mahjong Wins Jadi Percakapan Menarik di Pati Setelah Fitur Permainan Mulai Dibandingkan
Cerita dari Kudus Membuat Mahjong Ways Kembali Dibahas Terutama Soal Simbol Tradisional
Pengunjung Jepara Membahas Mahjong PG Soft dan Perubahan Tampilan yang Terlihat Berbeda
Mahjong Ways 2 Muncul dalam Percakapan di Rembang Setelah Sebuah Cerita Menjadi Perhatian
Pedagang Tuban Ikut Menyoroti Mahjong Wins Fitur Scatter Jadi Bahan Pertanyaan
Cerita Lamongan tentang Mahjong Ways Ramai Dibahas Setelah Dibagikan di Media Sosial
Mahjong PG Soft Kembali Jadi Topik di Bojonegoro Saat Pengguna Membahas Desain Permainan
Pengguna Batam Membandingkan Mahjong Ways 2 dengan Versi Sebelumnya dari Sisi Visual
Obrolan di Pangkalpinang Mengarah pada Cerita Unik tentang Mahjong Wins dan Fitur Scatter
Mahjong Ways Jadi Perbincangan di Tanjungpinang Setelah Tampilan Simbolnya Menarik Perhatian
Pekerja Tarakan Membahas Mahjong PG Soft Ada Satu Detail yang Membuat Mereka Penasaran
Cerita dari Palangka Raya Membuat Mahjong Ways 2 Kembali Dibahas di Kalangan Pengguna
Mahjong Wins Kembali Muncul dalam Obrolan Pontianak Kali Ini Tentang Perubahan Grafis
Pengguna Banjarmasin Membahas Mahjong Ways dari Sisi Visual Mekanisme dan Unsur Tradisional
Obrolan di Samarinda Mengulas Mahjong PG Soft Mengapa Tampilannya Mudah Diingat?
Cerita Mahasiswa Balikpapan tentang Mahjong Ways 2 Jadi Bahan Diskusi di Kampus
Mahjong Wins Jadi Topik Menarik di Ternate Setelah Fitur Scatter Mulai Dibandingkan
Pengguna Ambon Membahas Mahjong Ways dan Hubungannya dengan Perkembangan Game Digital
Cerita dari Jayapura Membuat Mahjong PG Soft Kembali Disorot karena Gaya Visualnya
Mahjong Ways 2 Dibahas di Manokwari Setelah Sejumlah Pengguna Menemukan Detail Menarik
Obrolan di Sorong Mengarah pada Perbandingan Mahjong Wins dan Seri Mahjong Lainnya
Pengguna Nabire Membicarakan Mahjong Ways Terutama Soal Simbol dan Tampilan Digitalnya
Cerita Merauke tentang Mahjong PG Soft Menjadi Bahan Obrolan Setelah Dibagikan Teman
Mahjong Ways Kembali Dibahas di Biak Kali Ini dari Perspektif Desain Permainan Digital
Pengguna Mamuju Menyoroti Mahjong Ways 2 Setelah Melihat Perubahan pada Beberapa Elemen
Obrolan di Kendari Membuat Mahjong Wins Kembali Ramai Dibahas Terutama Fitur Scatter
Mahjong PG Soft Jadi Bahan Diskusi di Gorontalo Setelah Tampilan Permainannya Dibandingkan
Cerita dari Palu Mengungkap Alasan Mahjong Ways Masih Menarik bagi Pengguna Digital
Pengguna Parepare Membahas Mahjong Ways 2 dan Perubahan Visual yang Terlihat Lebih Modern
Mahjong Wins Kembali Dibicarakan di Makassar Setelah Fitur Permainan Menjadi Perhatian
Cerita Bima tentang Mahjong PG Soft Menarik Perhatian karena Membahas Unsur Tradisional
Obrolan di Mataram Membandingkan Mahjong Ways dengan Mahjong Ways 2 dari Berbagai Sisi
Mahjong Wins Jadi Perbincangan di Sumbawa Setelah Sejumlah Pengguna Membahas Scatter
Pengguna Singaraja Menyoroti Mahjong Ways 2 dan Detail Visual yang Sering Terlewatkan
Cerita dari Gianyar Membuka Diskusi tentang Perpaduan Budaya dan Teknologi dalam Mahjong
Mahjong PG Soft Kembali Dibahas di Tabanan Kali Ini Fokus pada Tampilan dan Animasi
Pengguna Karangasem Membicarakan Mahjong Ways Setelah Melihat Perubahan Desain Permainan
Obrolan di Praya Mengarah pada Cerita Menarik tentang Mahjong Wins dan Fitur Bonusnya
Mahjong Ways 2 Jadi Bahan Diskusi di Lubuklinggau Setelah Tampilan Permainannya Dibandingkan
Pengguna Metro Lampung Membahas Mahjong PG Soft Detail Simbol Jadi Sorotan Utama
Cerita dari Bukittinggi Membuat Mahjong Ways Kembali Dibahas dalam Percakapan Komunitas
Obrolan di Padang Berubah Menarik Saat Mahjong Ways 2 Dibahas dari Sisi Visual dan Sejarah
Wild Bandito di Kota Pasuruan dan Inspirasi Seni Visual Bertema Petualangan
Sweet Bonanza di Kabupaten Sumenep Menggabungkan Objek Sederhana dengan Gerakan Animasi yang Menarik
Princess Starlight di Kabupaten Karawang Memperlihatkan Evolusi Tema Putri dalam Hiburan Digital
Mahjong Ways di Kabupaten Ngawi Menjadi Contoh Perpaduan Warisan Budaya dan Teknologi Interaktif
Wild Bandito dan Nuansa Meksiko Inspirasi Artistik yang Dapat Ditelusuri dari Kota Cilegon
Menghitung Nilai Multiplier dengan Benar Pembahasan Matematika Sederhana dari Kota Sorong
Lucky Neko di Kabupaten Pemalang Memadukan Simbol Koin dengan Karakter Kucing Ikonik
Gates of Olympus dan Sweet Bonanza Memiliki Gaya Berbeda dalam Menampilkan Fitur Bonus
Warga Kota Banjarbaru Menelusuri Mengapa Permainan Digital Menggunakan Banyak Efek Audio
Mahjong Wins di Kabupaten Ciamis Menghadirkan Perbincangan tentang Cara Membaca Simbol Secara Tepat
Mengapa Pengalaman Dua Pemain Bisa Berbeda Penjelasan Hasil Acak dari Kabupaten Lumajang
Sweet Bonanza di Kabupaten Maros dan Penggunaan Kontras Warna dalam Desain Permainan
Lucky Neko di Kota Kotamobagu Memperkenalkan Inspirasi Budaya Jepang kepada Pengguna Digital
Wild Bandito di Kabupaten Toraja Utara Menggabungkan Karakter Koboi dengan Latar Bergaya Kartun
Gates of Olympus di Kabupaten Kuningan Mengajak Pengguna Memahami Perbedaan Pengali dan Pembayaran
Princess Starlight dan Lucky Neko Mengandalkan Karakter tetapi Menghadirkan Nuansa Cerita Berbeda
Warga Kabupaten Sanggau Menelaah Hubungan Desain Antarmuka dengan Kenyamanan Membaca Informasi
Sweet Bonanza Super Scatter di Kabupaten Batang Memahami Fitur Bonus melalui Aturan Permainan
Mengapa Hasil Sebelumnya Tidak Menentukan Hasil Berikutnya Penjelasan Probabilitas dari Kota Binjai
Wild Bandito di Kabupaten Ponorogo Menghadirkan Perpaduan Ilustrasi Barat dan Efek Digital
Ketika Simbol Kucing Menjadi Ikon Global Lucky Neko Menarik Perhatian Pengguna Kota Blitar
Warga Kabupaten Bondowoso Menelusuri Perbedaan Bahasa Visual Mahjong Wins dan Mahjong Ways
Gates of Olympus di Kabupaten Rembang Mengenal Referensi Dewa Petir dari Mitologi Yunani
Sweet Bonanza dan Tren Desain Ceria Pengguna Kota Payakumbuh Mengamati Kekuatan Warna
Wild Bandito di Kabupaten Indragiri Hilir Menyuguhkan Tema Koboi dalam Kemasan Kartun Modern
Lucky Neko dan Makna Keberuntungan Kisah Simbol Manekineko dari Kota Pematangsiantar
Mahjong PGSOFT di Kabupaten Batanghari Memperlihatkan Cara Tradisi Diadaptasi ke Layar Digital
Princess Starlight di Kota Singkawang Menghadirkan Dunia Fantasi dengan Komposisi Warna yang Khas
Dari Tumble hingga Simbol Wild Pengguna Kabupaten Ogan Ilir Mempelajari Mekanisme Mahjong Ways
Gates of Olympus dan Mitos Jam Gacor Mengapa Waktu Tidak Menjamin Hasil Permainan
Sweet Bonanza di Kota Metro Menghadirkan Diskusi tentang Desain Simbol Buah dan Permen
Wild Bandito di Kabupaten Kulon Progo Memperlihatkan Peran Latar dalam Membangun Suasana Petualangan
Princess Starlight di Kabupaten Berau Memadukan Karakter Fantasi dengan Tampilan yang Mudah Dikenali
Mahjong Ways 2 di Kota Banjar Memunculkan Perbandingan tentang Perubahan Desain Antargenerasi
Mengapa Angka Pengali Menarik Perhatian Pengamatan Psikologi dari Kota Palopo
Wild Bandito dan Seni Ilustrasi Digital Perspektif Baru dari Kabupaten Rejang Lebong
Lucky Neko di Kota Tidore Kepulauan Menghubungkan Karakter Hewan dengan Simbol Budaya Populer
Gates of Olympus di Kota Pariaman Menelusuri Jejak Cerita Zeus dalam Budaya Populer
Princess Starlight di Kabupaten Bantaeng Menjadi Contoh Penggunaan Tokoh sebagai Identitas Permainan
Sweet Bonanza dan Efek Berantai Pengguna Kabupaten Polewali Mandar Mengurai Aturan Dasarnya
Warga Kota Sibolga Memahami Mengapa Pola yang Terlihat Belum Tentu Menandakan Hubungan Sebab Akibat
Lucky Neko di Kabupaten Tolitoli Mengangkat Simbol Kucing dalam Konteks Hiburan Digital
Wild Bandito di Kabupaten Batubara Menampilkan Tema Petualangan dengan Palet Warna yang Kontras
Mahjong PGSOFT di Kota Sawahlunto Menunjukkan Perubahan Cara Tradisi Dipresentasikan di Era Modern
Gates of Olympus dan Multiplier Perbedaan antara Angka Tampilan dan Nilai Pembayaran
Sweet Bonanza di Kabupaten Sidenreng Rappang Memadukan Animasi Cepat dengan Ilustrasi Ceria
Mengapa Cerita Kemenangan Mudah Menjadi Viral Diskusi Media Sosial dari Kota Bontang
Lucky Neko di Kabupaten Dompu dan Inspirasi Kucing Pembawa Keberuntungan dari Jepang
Mahjong Ways di Kota Payakumbuh Mengajak Pengguna Memahami Mekanisme Tumble secara Lebih Objektif
Princess Starlight dan Perkembangan Dunia Fantasi dalam Permainan Seluler di Kabupaten Klaten
Sweet Bonanza di Kabupaten Pangkajene dan Kepulauan Memahami Cara Kerja Fitur Putaran Gratis
Gates of Olympus di Kabupaten Muara Enim Menjadi Contoh Perpaduan Mitologi dan Animasi Modern
Lucky Neko di Kota Langsa Ketika Simbol Tradisional Beradaptasi dengan Selera Generasi Digital
Wild Bandito dan Mahjong Ways Memperlihatkan Dua Identitas Visual yang Berbeda di Kabupaten Garut
Pengguna Kabupaten Lebak Membahas Cara Mengenali Klaim Permainan yang Tidak Disertai Bukti
Mahjong Wins di Kota Tanjungbalai dan Peran Simbol dalam Membangun Pengalaman Visual
Mengapa Efek Cahaya Kerap Menyertai Fitur Bonus Pengamatan dari Kabupaten Tapanuli Utara
Lucky Neko di Kabupaten Hulu Sungai Selatan Menampilkan Perpaduan Karakter dan Ornamen Emas
Gates of Olympus di Kabupaten Aceh Besar Memahami Peluang tanpa Mengandalkan Ramalan
Sweet Bonanza di Kota Gorontalo Mengungkap Cara Desain Ceria Membentuk Identitas Game
Wild Bandito di Kabupaten Halmahera Utara Membawa Nuansa Petualangan ke Format Permainan Interaktif
Mahjong PGSOFT di Kabupaten Musi Banyuasin dan Perubahan Pengalaman Pengguna pada Layar Ponsel
Princess Starlight di Kota Palangka Raya Memperlihatkan Penggunaan Cahaya sebagai Unsur Penceritaan
Lucky Neko dan Sweet Bonanza Dua Gaya Desain yang Mengandalkan Warna dengan Pendekatan Berbeda
Warga Kabupaten Ende Menelusuri Pengaruh Cerita Budaya terhadap Karakter Game Digital
Mengapa Pemain Cenderung Mengingat Kemenangan Besar Penjelasan Bias Ingatan dari Kota Madiun
Bukan Sekadar Hiburan Memahami Batas Pengeluaran Digital melalui Diskusi di Kabupaten Bekasi
Mahjong Ways di Kabupaten Magetan Menjadi Contoh untuk Membahas Ilusi Pola pada Hasil Acak
Gates of Olympus dan Kesalahpahaman tentang Prediksi Penjelasan Sederhana dari Kota Pagar Alam
Warga Kabupaten Flores Timur Menyoroti Hubungan Antara Notifikasi dan Perhatian Pengguna Ponsel
Sweet Bonanza di Kota Sukabumi Mengundang Diskusi tentang Perbedaan Ekspektasi dan Peluang
Wild Bandito dan Mahjong Wins Mengapa Desain Berbeda Bisa Menarik Kelompok Pengguna yang Berbeda
Memahami RTP Tanpa Salah Tafsir Pembahasan Literasi Digital dari Kabupaten Sumbawa
Ketika Hasil Acak Terlihat Berurutan Warga Kabupaten Bangka Membahas Cara Otak Mengenali Pola
Mahjong PGSOFT di Kabupaten Pasaman Barat dan Pentingnya Memahami Aturan Sebelum Menggunakan Layanan
Gates of Olympus di Kota Bengkulu Memunculkan Diskusi tentang Risiko Mengejar Hasil yang Belum Pasti
Sweet Bonanza di Kabupaten Labuhanbatu Menggambarkan Hubungan antara Animasi dan Persepsi Pengguna
Lucky Neko di Kabupaten Karangasem Menunjukkan Cara Simbol Budaya Berubah dalam Media Modern
Wild Bandito di Kabupaten Garut Menjadi Contoh untuk Membahas Peran Musik dalam Membangun Suasana
Mahjong Ways 2 di Kota Cilegon dan Pentingnya Membedakan Informasi Resmi dari Klaim Komunitas
Princess Starlight di Kabupaten Tapanuli Selatan Menyoroti Perkembangan Tema Fantasi dalam Game
Sweet Bonanza dan Gates of Olympus Perbandingan Cara Dua Permainan Menampilkan Fitur Bonus
Warga Kota Sibolga Membahas Mengapa Pengalaman Satu Orang Tidak Mewakili Seluruh Hasil
Mahjong Wins di Kabupaten Tanah Datar Memunculkan Diskusi tentang Batas Prediksi pada Sistem Acak
Lucky Neko di Kabupaten Minahasa Utara Menghubungkan Simbol Hewan dengan Tradisi dan Budaya Populer
Wild Bandito di Kota Palembang dan Peran Ilustrasi dalam Membentuk Identitas Sebuah Permainan
Bagaimana Algoritma Acak Bekerja Penjelasan Dasar yang Dibahas di Kabupaten Dharmasraya
Sweet Bonanza di Kabupaten Kolaka Utara Memperlihatkan Pentingnya Membaca Aturan Fitur Bonus
Mahjong PGSOFT di Kota Prabumulih dan Cara Desain Digital Mengadaptasi Inspirasi Tradisional
Lucky Neko di Kabupaten Lombok Timur Menelusuri Popularitas Karakter Kucing dalam Budaya Modern
Wild Bandito dan Princess Starlight Memiliki Pendekatan Berbeda dalam Membangun Dunia Imajinatif
Pengguna Kota Metro Membahas Mengapa Jam Bermain Tidak Dapat Memastikan Hasil yang Menguntungkan
Mahjong Ways di Kabupaten Kutai Kartanegara Mengundang Perbincangan tentang Desain dan Persepsi Pola
Sweet Bonanza di Kota Ternate dan Cara Warna Cerah Membentuk Daya Tarik Visual
Mahjong Wins di Kabupaten Kubu Raya dan Fenomena Membagikan Pengalaman melalui Media Sosial
Wild Bandito di Kabupaten Pamekasan Memperlihatkan Cara Tema Petualangan Menjadi Identitas Visual
Princess Starlight di Kabupaten Banyuasin Mengangkat Peran Musik dan Cahaya dalam Pengalaman Digital
Gates of Olympus di Kabupaten Aceh Tengah Mengenal Batas antara Hiburan dan Ekspektasi Finansial
Wild Bandito di Kabupaten Buru Selatan Menyoroti Peran Ilustrasi dalam Menyampaikan Tema Permainan
bandung kajian desain responsif starlight princess konsistensi visual perangkat mobile
super scatter mengubah cara simbol dinamis menyampaikan informasi pengguna digital kabupaten sleman
wild bandito pengaruh desain audio terhadap persepsi interaksi pengguna kota surabaya
evolusi desain berbasis sentuhan sweet bonanza pengalaman hiburan digital masyarakat semarang
lucky neko studi adaptasi ikon tradisional antarmuka modern kota yogyakarta
teknik parallax wild west gold penerapannya pengembangan latar digital kabupaten gianyar
gate of olympus kajian komputasi grafis menghasilkan efek visual kompleks kota medan
perubahan budaya informasi kode alam togel perspektif arsip digital kabupaten jember
mahjong wins tantangan otomatisasi pengujian perangkat lunak bagi pengembang kota makassar
optimalisasi aset grafis black scatter menjaga performa aplikasi mobile kabupaten badung
kota malang wild west gold menjadi objek kajian strategi hybrid cloud operasi digital
baccarat live pemilihan perangkat mendukung keterbacaan antarmuka kota batam
resolusi layar kenyamanan navigasi roulette digital pengguna smartphone kabupaten karawang
mahjong ways 2 pendekatan pengelolaan anggaran hiburan secara terencana kota tangerang
gates of olympus perspektif batas durasi interaksi penggunaan fitur kabupaten bantul
mengapa kondisi emosional perlu diperhatikan kajian perilaku pengguna mahjong wins kota pontianak
black scatter pentingnya pengaturan durasi penggunaan smartphone kabupaten sidoarjo
ramalan shio pemanfaatan metadata distribusi konten digital kabupaten klungkung
narasi visual treasure of aztec hubungannya pengalaman eksplorasi digital kota palembang
mahjong ways kabupaten garut membaca representasi data batas interpretasi pola permainan
transformasi digital industri hiburan adaptasi fitur mahjong wilds kota pekanbaru
konsistensi desain starlight princess smartphone desktop kajian pengalaman pengguna kota cirebon
super scatter perkembangan representasi fitur antarmuka permainan digital kabupaten tabanan
pengembangan karakter wild bandito pengalaman mobile modern tinjauan desain kota kupang
mahjong wins kota bogor tantangan pengelolaan memori perangkat spesifikasi beragam
analisis struktur reels sweet bonanza elemen visual sistem hiburan interaktif kabupaten magelang
black scatter desain ikon mempercepat pemahaman informasi visual kota mataram
kabupaten purworejo starlight princess menjadi contoh kajian optimasi gambar layar resolusi tinggi
wild bandito penerapan umpan balik visual memperjelas respons antarmuka kota jambi
kota samarinda perspektif desain antarmuka mengkaji keterbacaan simbol mahjong ways 2
sweet bonanza peran animasi ringan menjaga kelancaran pengalaman mobile kabupaten bekasi
lucky neko kota kediri menelusuri hubungan ornamen tradisional identitas visual digital
treasure of aztec komposisi simetris mengarahkan perhatian pengguna kabupaten banyuwangi
pengaruh kecepatan animasi wild bandito terhadap kenyamanan interaksi pengguna kota tasikmalaya
starlight princess kajian tipografi adaptif antarmuka mobile kabupaten karangasem
mahjong wins pengujian kompatibilitas antarmuka berbagai versi sistem operasi kota manado
super scatter kabupaten buleleng mengkaji peran motion design menjelaskan perubahan status visual
gate of olympus penggunaan cahaya digital membentuk kedalaman visual kota padang
news-1701