گمشدہ رجمنٹ

ایک طاقتور فوج کی ایک رجمنٹ کو شہر کی گلیوں میں پریڈ کرنا تھی۔ دستے صبح ہی سے بیرک کے احاطے میں پریڈ کی ترتیب میں کھڑے ہونا شروع ہو گئے۔

سورج بلند ہوتا گیا اور اب سایے احاطے میں اگنے والے نوخیز پودوں کے قدموں تلے مختصر ہونے لگے۔ اپنے تازہ پالش کردہ ہیلمٹوں کے اندر فوجی اور حکام پسینے سے شرابور ہونے لگے۔ سفید گھوڑے پر سوار کرنل نے اشارہ کیا، نقاروں پر ضربیں پڑیں، بینڈ نے مل کر ساز بجانا شروع کر دیے اور بیرک کے دروازے اپنی چُولوں پر آہستگی سے ہلنے لگے۔

اب آپ دور کہیں کہیں نرم بادلوں کی دھاریوں والےنیلے آسمان کے تلے شہر دیکھ سکتے تھے جس کی چمنیاں دھویں کے لچھے چھوڑ رہی تھیں، اس کی بالکونیاں جہاں کپڑے سکھانے والی چٹکیوں سے اٹی تاریں، سنگھار میزوں کے آئینوں میں منعکس ہوتی سورج کی جگمگ کرنیں، مکھیاں دور رکھنے والے جالی دار پردوں میں خریداری کے سامان سے لدی خواتین کی الجھتی بالیاں، ایک چھتری والی آئس کریم گاڑی کے اندر کون رکھنے والا شیشے کا بکس، اور ایک لمبی ڈور کے سرے پر بچوں کا ایک گروہ سرخ کاغذی چھلوں پر مشتمل دم والی پتنگ کھینچتے ہوئے جو زمین کو چھوتے ہوئے ڈگمگاتی ہے، پھر جھٹکوں جھٹکوں میں اٹھ کر آسمان کے نرم بادلوں کے مقابل بلند ہو جاتی ہے۔

رجمنٹ نے نقاروں کی تھاپ میں پیش قدمی شروع کی، سڑکوں پر بوٹ بجنے لگے اور توپ خانے کی گھرگھراہٹ گونجنے لگی، لیکن اپنے سامنے خاموش، شریف طبع اور اپنے کام سے کام رکھنے والا شہر دیکھ کر فوجی خود کو تھوڑا بدلحاظ اور دخل انداز محسوس کرنے لگے، اور دفعتاً پریڈ بےمحل لگنے لگی۔ جیسے کوئی ساز کا غلط تار چھیڑ دے۔ جیسے اس کے بغیر بھی کام چل سکتا تھا۔

پری جیو باتا نامی ایک نقارچی نے ظاہر کیا جیسے وہ اسی تاب سے نقارہ بجا رہا ہے حالانکہ وہ صرف نقارے کی سطح کو چھو رہا تھا۔ اس سے جو آواز نکل رہی تھی وہ ایک مغلوب سی دھم دھم تھی، لیکن وہ اکیلا نہیں تھا۔ کیوں کہ عین اسی لمحے دوسرے تمام نقارچی اسی کی پیروی کررہے تھے۔ پھر بگل والے گزرے لیکن ان کے بگلوں سے محض ایک آہ نکل رہی تھی کیوں کہ کوئی بھی ان میں زور سے نہیں پھونک رہا تھا۔ سپاہی اور حکام بےچینی سے ادھر ادھر دیکھ کر ایک ٹانگ ہوا میں اٹھاتے، پھر اسے بہت نرمی سے نیچے رکھ دیتے اور یہ پریڈ گویا پنجوں کے بل آگے بڑھتی گئی۔

سو کسی کے حکم دیے بغیر ایک لمبی، بہت لمبی قطار پھونک پھونک کر قدم رکھتی، پنجوں کے بل دبی دبی چال سے چلی۔ شہر کے اندر توپیں اس قدر بےجوڑ لگنے لگیں کہ ان کے ساتھ چلنے والے توپچیوں پر یکایک خجالت طاری ہو گئی۔ بعض نے بےاعتنائی کا وطیرہ اپنایا اور توپوں کی طرف دیکھے بغیر چلتے گئے، جیسے وہ وہاں محض اتفاق سے آ گئی ہوں۔ دوسرے توپوں سے لگ کر چلنے لگے، جیسے وہ انھیں چھپانا چاہتے ہوں، تاکہ لوگوں کے ان کے اکھڑ اور ناگوار نظارے سے بچایا جا سکے۔ کچھ نے ان پر غلاف ڈال دیے تاکہ کسی کی نظر نہ پڑے، یا کم از کم وہ لوگوں کی توجہ اپنی طرف نہ کھینچیں۔ کچھ ایسے بھی تھے جنھوں نے توپوں کی نال یا توپ گاڑی پر ہاتھ مار کر یا ہونٹوں پر نیم مسکراہٹ لا کر کچھ ایسے شفقت آمیز تمسخر کا رویہ اختیار کیا گویا یہ دکھانا چاہتے ہوں کہ ان کا ان چیزوں کو مہلک مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، بس ذراہوا لگانا مقصود ہے۔

یہ پریشان کن احساس کرنل کلیلیو لیون تومینی کے دماغ میں بھی سرایت کر نے لگا جنھوں نے بےاختیار سر اپنے گھوڑے کی طرف جھکا دیا، جب کہ خود گھوڑے نےبھی ہر قدم کے درمیان وقفہ ڈالنا شروع کر دیا اور اب وہ کسی ریڑھے والے گھوڑے کی سی احتیاط سے چل رہا تھا۔ لیکن کرنل اور ان کے گھوڑے کو دوبارہ جنگی چال اختیار کرنے میں بس ایک لمحے کا غور و فکر ہی کافی تھا۔ صورتِ حال کا تیزی سے جائزہ لے چکنے کے بعد کرنل نے تیز حکم دیا:

’پریڈ چال!‘

نقارے متوازن تال پر بجنا شروع ہوئے۔ رجمنٹ نے تیزی سے اپنی دلجمعی دوبارہ حاصل کی اور اب وہ جارحانہ خوداعتمادی سے آگے قدم بڑھانے لگی۔

’یہ ہوئی نا بات،‘ کرنل نے صفوں پر تیزی سے نظریں دوڑاتے ہوئے خود سے کہا، ’اس کو کہتے ہیں مارچ کرتی ہوئی اصل رجمنٹ۔‘

چند راہگیر سڑک کے کنارے فٹ پاتھ پر قطار بنا کر کھڑے ہو گئے اور ایسے لوگوں کے انداز سے پریڈ دیکھنے لگے جو اس قدر طاقت کی صف آرائی میں دلچسپی رکھتے ہوں اور شاید انھیں اس میں مزا بھی آتا ہو، لیکن کوئی ناقبلِ تفہیم احساس انھیں ستا رہا ہو۔ ایک مبہم خطرے کا احساس۔ اور ویسے بھی ان کے ذہنوں میں پہلے ہی سے کئی اہم چیزیں گردش کر رہی تھی کہ وہ تلواروں اور توپوں کے بارے میں سوچنا شروع کر دیتے۔

خود پر نظریں جمی دیکھ کر سپاہی اور حکام ایک بار پھر ناقابلِ توجیہہ گھبراہٹ کا شکار ہونے لگے۔ وہ پریڈ چال کے بےلچک قدموں سے چلتے تو گئے، لیکن انھیں اس خیال سے دامن چھڑا پانا مشکل ہو رہا تھا کہ وہ ان بھلے شہریوں کے ساتھ کوئی زیادتی کر رہے ہیں۔ ان کی موجودگی کےباعث بدحواسی سے بچنے کے لیے سپاہی مارانگون ریمیگیو نے نظریں جھکائے رکھیں۔ جب آپ صفوں میں مارچ کرتے ہیں تو آپ کو صرف سیدھی لکیر میں رہنے اور قدم ملانے کی فکر ہوتی ہے، دستہ باقی ہر چیز کا خیال خود رکھتا ہے۔ لیکن سینکڑوں سپاہی وہی کچھ کر رہے تھے جو سپاہی مارانگون کر رہا تھا۔ درحقیقت آپ کہہ سکتے ہیں کہ وہ سب، حکام، پرچم بردار، خود کرنل اپنی نظریں زمین سے اٹھائے بغیر، صف کا پیچھا کرتے چلے جا رہے تھے۔ بینڈ کے پیچھے پریڈ چال چلتے چلتے رجمنٹ ایک طرف کو کنی کھا گئی اور پارک کے اندر پھولوں کے تختے میں جا گھسی، اور پھر استقامت سے گلِ اشرفی اور بنفشے کے پھول روندتی چلی گئی۔

باغبان گھاس کو پانی دے رہے تھے اور انھوں نے کیا دیکھا؟ ایک رجمنٹ آنکھیں بند کیے، نازک گھاس میں ایڑیاں پٹختے ان پر چڑھی چلی آ رہی ہے۔ ان بیچاروں کی سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ اپنے فوارے کس طرح تھامیں کہ پانی کہیں سپاہیوں پر چھڑکاؤ نہ کر دے۔ آخرکار ہوا یہ کہ انھوں نے اپنے فوارے سیدھے اوپر کر لیے، لیکن طویل دھاریں دوبارہ بےقابو سمتوں میں آ آکر نیچے گرنے لگیں۔ ایک نے آنکھیں میچے کمر سیدھی رکھے مارچ کرتے ہوئے کرنل کلیلیو لیون تومینی کو سر سے پاؤں تک شرابور کر دیا۔

پانی سے نچڑ کر کرنل اچھل کر پکارے:

’سیلاب! سیلاب! بچاؤ کی کارروائی شروع کی جائے!‘ پھر انھوں نے فوری طور پر خود پر قابو پایا اور رجمنٹ کی کمان سنبھال کر اسے باغات سے باہر لے گئے۔

تاہم وہ تھوڑے سے بےدل ہو گئے تھے۔ ’سیلاب! سیلاب!‘ کی پکار نے ایک راز اور ایک لاشعوری تمنا کا بھانڈا پھوڑ دیا تھا کہ قدرتی آفت اچانک آ سکتی ہے، اور کسی کو ہلاک کیے بغیر اس قدر خطرناک ہو سکتی ہے کہ پریڈ منسوخ کرا دے اور رجمنٹ کو لوگوں کے لیے ہر قسم کے مفید کام کرنے کا موقع مل سکے، مثلاً پلوں کی تعمیر یا بچاؤ کی کارروائیوں میں حصہ لینا۔ صرف اسی بات سے ان کا ضمیر مطمئن ہو سکتا تھا۔

پارک سے نکلنے کے بعد رجمنٹ شہر کے ایک مختلف حصے میں داخل ہو گئی تھی۔ یہ وہ کھلی سڑکیں نہیں تھیں جہاں انھیں پریڈ کرنا تھی، بلکہ یہ علاقہ تنگ، خاموش اور بل کھاتی ہوئی گلیوں پر مشتمل تھا۔ کرنل نے فیصلہ کیا کہ وہ ان گلیوں کو عبور کر کے سیدھا چوک تک جا پہنچیں گے تاکہ مزید وقت ضائع نہ ہو۔

اس علاقے میں ایک انوکھا جوش و خروش بیدار ہو گیا۔ الیکٹریشن لمبی سیڑھیوں پر چڑھے گلی کے بلب ٹھیک کر رہے تھے اور ٹیلی فون کی تاریں اوپر نیچے کر رہے تھے۔ سول انجینیئرنگ کے سرویئر آلات اور فیتوں سے سڑکیں ناپ رہے تھے۔ گیس والے فٹ پاتھ پر بڑے گڑھے کھود رہے تھے۔ سکول کے بچے ایک طرف قطار میں چلے جا رہے تھے۔ راج مزدور کام کرتے ہوئے ایک دوسرے کی طرف’یہ لو! یہ لو!‘ کہتے ہوئے اینٹیں اچھال رہے تھے۔ سائیکل سوار اپنے کندھوں پر لکڑی کی گھوڑیاں اٹھائے، تیز آواز میں سیٹیاں بجاتے گزرے۔ ہر کھڑکی میں ایک ایک لڑکی برتن دھو رہی تھی اور بڑی بالٹیوں میں کپڑے نچوڑ رہی تھی۔

چنانچہ رجمنٹ کو ان بل کھاتی گلیوں میں ٹیلی فون کی تاروں کے گچھوں، فیتوں، لکڑی کی گھوڑیوں، سڑک میں گڑھوں، پرشباب لڑکیوں اور ہوا میں اڑتی اینٹیں – ’یہ لو! یہ لو!‘ – پکڑ کر اور ہیجان زدہ لڑکیوں کے چوتھی منزل سے گرائے ہوئے بھیگے کپڑوں اور بالٹیوں سے بچ بچا کر اپنی پریڈ جاری رکھنا پڑی۔

کرنل کلیلیو لیون تومینی کو تسلیم کرنا پڑا کہ وہ بھٹک گئے ہیں۔ انھوں نے اپنے گھوڑے سے نیچے جھک کر ایک راہگیر سے پوچھا:

’معاف کیجیے گا، کیا آپ جانتے ہیں کہ مرکزی چوک کو جانے والا سب سے مختصر راستہ کون سا ہے؟‘

راہگیر، جو ایک معنک اور دبلا پتلا شخص تھا، تھوڑی دیر سوچتا رہا۔

’راستہ پیچیدہ ہے۔ لیکن اگر آپ اجازت دیں تو میں آپ کو ایک احاطے سے ایک اور گلی کے راستے لے جاؤں گا جس سے آپ کا کم از کم چوتھائی گھنٹہ بچ جائے گا۔‘

’کیا تمام رجمنٹ اس احاطے سے گزر پائے گی؟‘ کرنل نے پوچھا۔

آدمی نے رجمنٹ پر ایک نظر دوڑائی اور ہچکچاتے ہوئے کہا:

’خیر، کوشش کی جا سکتی ہے،‘ اور انھیں ایک بڑے دروازے سے گزرنے کا اشارہ کیا۔

عمارت کے تمام خاندان بالکونیوں کے زنگ آلود جنگلوں کے پیچھے کھڑے ہو کر احاطے میں سے توپ خانے اور گھوڑوں سمیت گزرنے کی کوشش کرتی رجمنٹ کو دیکھنے کے لیے جھک گئے۔

’باہر نکلنے کا دروازہ کہاں ہے؟‘ کرنل سے دبلے آدمی سے پوچھا۔

’دروازہ؟‘ آدمی نے کہا۔ ’شاید میں اپنی بات واضح نہیں کر سکا۔ آپ کو اوپری منزل تک چڑھنا پڑے گا، وہاں سے آپ سیڑھیوں سے ہوتے ہوئے دوسری عمارت میں داخل ہو جائیں گے اور اُس عمارت کا دروازہ گلی میں کھلتا ہے۔‘

کرنل ان تنگ سیڑھیوں میں بھی اپنے گھوڑے پر سوار رہنا چاہتے تھے لیکن دو تین منزلوں کے بعد انھوں نے گھوڑے کو جنگلے سے باندھ کر پیدل آگے بڑھنے کا فیصلہ کر لیا۔ انھوں نے فیصلہ کیا کہ توپوں کو بھی احاطے میں چھوڑ دیا جائے جہاں ایک موچی نے وعدہ کیا کہ وہ ان پر نظر رکھے گا۔ سپاہی ایک قطار میں چلتے گئے اور ہر منزل پر دروازے کھلتے اور بچے چلاتے:

’اماں، جلدی آؤ، دیکھو۔ سپاہی گزر رہے ہیں۔ فوج پریڈ کر رہی ہے!‘

پانچویں منزل پر ان سیڑھیوں سے بالاخانے کو جانے والی سیڑھیوں تک پہنچنے کے لیے انھیں باہر کی طرف بالکونی کے اوپر چلنا پڑا۔ ہر کھلی کھڑکی میں سے سادہ کمرے نظر آتے جن میں جھلنگا چارپائیاں بچھی ہوتیں جہاں بچوں سے بھرے خاندان مقیم تھے۔

’اندر آؤ، اندر آؤ،‘ باپ اور مائیں سپاہیوں سے کہتے۔ ’تھوڑا آرام کرو، تم لوگ بہت تھکے ہوئے ہو گے!‘ ادھر سے آؤ، یہ راستہ چھوٹا ہے! لیکن اپنی بندوقیں باہر رکھ دو۔ اندر بچے ہیں۔ آپ سمجھتے ہیں نا۔۔۔‘

سو راہداریوں اور گزرگاہوں میں رجمنٹ کی ترتیب ٹوٹ گئی۔ اور اس افراتفری میں وہ دبلا شخص کہیں ادھر ادھر ہو گیا جس نے کہا تھا کہ وہ راستہ جانتا ہے۔

شام پڑ گئی اور رسالے اور پلٹنیں اب بھی سیڑھیوں اور بالکونیوں میں بھٹکتی پھر رہی تھیں۔ سب سے اوپر، چھت کے چھجے پر کرنل لیون تومینی بیٹھے تھے۔ انھیں نیچے بکھرا ہوا شہر دکھائی دے رہا تھا، وسیع و عریض اورتند و تیز، سڑکیں شطرنج کی بساط کی مانند اور خالی چوک۔ ان کے ساتھ ہی رنگین جھنڈیوں، پیغام رسانی والے پستولوں اور رنگ برنگے پردوں سے مسلح دستہ کھپریل پر ہاتھ اور گھٹنے ٹکائے بیٹھا تھا۔

’پیغام بھیجو،‘ کرنل نے کہا۔ ’جلدی، پیغام بھیجو: علاقہ ناقابلِ عبور۔۔۔ آگے بڑھنے سے قاصر۔۔۔ حکم کا انتظار۔۔۔‘

 

انگریزی سےترجمہ: ظفر سید

content-1701

article 8998000441

article 8998000442

article 8998000443

article 8998000444

article 8998000445

article 8998000446

article 8998000447

article 8998000448

article 8998000449

article 8998000450

article 8998000451

article 8998000452

article 8998000453

article 8998000454

article 8998000455

article 8998000456

article 8998000457

article 8998000458

article 8998000459

article 8998000460

article 8998000461

article 8998000462

article 8998000463

article 8998000464

article 8998000465

article 8998000466

article 8998000467

article 8998000468

article 8998000469

article 8998000470

article 2000126

article 2000127

article 2000128

article 2000129

article 2000130

article 2000131

article 2000132

article 2000133

article 2000134

article 2000135

article 2000136

article 2000137

article 2000138

article 2000139

article 2000140

article 2000141

article 2000142

article 2000143

article 2000144

article 2000145

article 2000146

article 2000147

article 2000148

article 2000149

article 2000150

article 2000151

article 2000152

article 2000153

article 2000154

article 2000155

article 2000156

article 2000157

article 2000158

article 2000159

article 2000160

article 2000161

article 2000162

article 2000163

article 2000164

article 2000165

article 2000166

article 2000167

article 2000168

article 2000169

article 2000170

article 2000166

article 2000167

article 2000168

article 2000169

article 2000170

article 2000171

article 2000172

article 2000173

article 2000174

article 2000175

article 2000176

article 2000177

article 2000178

article 2000179

article 2000180

article 2000181

article 2000182

article 2000183

article 2000184

article 2000185

article 2000186

article 2000187

article 2000188

article 2000189

article 2000190

article 2000191

article 2000192

article 2000193

article 2000194

article 2000195

article 2000196

article 2000197

article 2000198

article 2000199

article 2000200

article 2000201

article 2000202

article 2000203

article 2000204

article 2000205

article 2000206

article 2000207

article 2000208

article 2000209

article 2000210

article 2000211

article 2000212

article 2000213

article 2000214

article 2000215

article 2000216

article 2000217

article 2000218

article 2000219

article 2000220

article 2000221

article 2000222

article 2000223

article 2000224

article 2000225

article 2990216

article 2990217

article 2990218

article 2990219

article 2990220

article 2990221

article 2990222

article 2990223

article 2990224

article 2990225

article 2990226

article 2990227

article 2990228

article 2990229

article 2990230

article 2990231

article 2990232

article 2990233

article 2990234

article 2990235

article 2990236

article 2990237

article 2990238

article 2990239

article 2990240

article 2990241

article 2990242

article 2990243

article 2990244

article 2990245

article 2990246

article 2990247

article 2990248

article 2990249

article 2990250

article 2990251

article 2990252

article 2990253

article 2990254

article 2990255

article 2990256

article 2990257

article 2990258

article 2990259

article 2990260

article 2990261

article 2990262

article 2990263

article 2990264

article 2990265

article 888866

article 888867

article 888868

article 888869

article 888870

article 888871

article 888872

article 888873

article 888874

article 888875

article 888876

article 888877

article 888878

article 888879

article 888880

article 888881

article 888882

article 888883

article 888884

article 888885

article 888886

article 888887

article 888888

article 888889

article 888890

article 888891

article 888892

article 888893

article 888894

article 888895

article 888896

article 888897

article 888898

article 888899

article 888900

article 888901

article 888902

article 888903

article 888904

article 888905

article 888906

article 888907

article 888908

article 888909

article 888910

article 888911

article 888912

article 888913

article 888914

article 888915

article 888916

article 888917

article 888918

article 888919

article 888920

article 888921

article 888922

article 888923

article 888924

article 888925

article 0000221

article 0000222

article 0000223

article 0000224

article 0000225

article 0000226

article 0000227

article 0000228

article 0000229

article 0000230

article 0000231

article 0000232

article 0000233

article 0000234

article 0000235

article 0000236

article 0000237

article 0000238

article 0000239

article 0000240

article 0000241

article 0000242

article 0000243

article 0000244

article 0000245

article 0000246

article 0000247

article 0000248

article 0000249

article 0000250

article 0000251

article 0000252

article 0000253

article 0000254

article 0000255

article 0000256

article 0000257

article 0000258

article 0000259

article 0000260

article 0000261

article 0000262

article 0000263

article 0000264

article 0000265

article 0000266

article 0000267

article 0000268

article 0000269

article 0000270

article 5500126

article 5500127

article 5500128

article 5500129

article 5500130

article 5500131

article 5500132

article 5500133

article 5500134

article 5500135

article 5500136

article 5500137

article 5500138

article 5500139

article 5500140

article 5500141

article 5500142

article 5500143

article 5500144

article 5500145

article 5500146

article 5500147

article 5500148

article 5500149

article 5500150

article 5500151

article 5500152

article 5500153

article 5500154

article 5500155

article 7700156

article 7700157

article 7700158

article 7700159

article 7700160

article 7700161

article 7700162

article 7700163

article 7700164

article 7700165

article 7700166

article 7700167

article 7700168

article 7700169

article 7700170

article 7700171

article 7700172

article 7700173

article 7700174

article 7700175

article 7700176

article 7700177

article 7700178

article 7700179

article 7700180

article 7700181

article 7700182

article 7700183

article 7700184

article 7700185

content-1701
news-0801

yakinjp


sabung ayam online

yakinjp

yakinjp

rtp yakinjp

yakinjp

yakinjp

judi bola online

slot thailand

yakinjp

yakinjp

yakinjp

yakinjp

ayowin

mahjong ways

judi bola online

mahjong ways 2

JUDI BOLA ONLINE

maujp

maujp

sabung ayam online

maujp

maujp

maujp

maujp

sabung ayam online

mahjong ways slot

sbobet88

live casino online

Situs Agen Togel

MAUJP

118000021

118000022

118000023

118000024

118000025

118000026

118000027

118000028

118000029

118000030

118000031

118000032

118000033

118000034

118000035

118000036

118000037

118000038

118000039

118000040

118000041

118000042

118000043

118000044

118000045

118000046

118000047

118000048

118000049

118000050

128000021

128000022

128000023

128000024

128000025

128000026

128000027

128000028

128000029

128000030

128000031

128000032

128000033

128000034

128000035

128000036

128000037

128000038

128000039

128000040

128000041

128000042

128000043

128000044

128000045

128000046

128000047

128000048

128000049

128000050

138000021

138000022

138000023

138000024

138000025

138000026

138000027

138000028

138000029

138000030

138000031

138000032

138000033

138000034

138000035

138000036

138000037

138000038

138000039

138000040

138000041

138000042

138000043

138000044

138000045

138000046

138000047

138000048

138000049

138000050

148000026

148000027

148000028

148000029

148000030

148000031

148000032

148000033

148000034

148000035

148000036

148000037

148000038

148000039

148000040

148000041

148000042

148000043

148000044

148000045

148000046

148000047

148000048

148000049

148000050

148000051

148000052

148000053

148000054

148000055

148000056

148000057

148000058

148000059

148000060

148000061

148000062

148000063

148000064

148000065

148000066

148000067

148000068

148000069

148000070

158000041

158000042

158000043

158000044

158000045

158000046

158000047

158000048

158000049

158000050

158000051

158000052

158000053

158000054

158000055

158000056

158000057

158000058

158000059

158000060

158000061

158000062

158000063

158000064

158000065

158000066

158000067

158000068

158000069

158000070

168000011

168000012

168000013

168000014

168000015

168000016

168000017

168000018

168000019

168000020

168000021

168000022

168000023

168000024

168000025

168000026

168000027

168000028

168000029

168000030

168000031

168000032

168000033

168000034

168000035

168000036

168000037

168000038

168000039

168000040

178000036

178000037

178000038

178000039

178000040

178000041

178000042

178000043

178000044

178000045

178000046

178000047

178000048

178000049

178000050

178000051

178000052

178000053

178000054

178000055

178000056

178000057

178000058

178000059

178000060

178000061

178000062

178000063

178000064

178000065

188000141

188000142

188000143

188000144

188000145

188000146

188000147

188000148

188000149

188000150

188000151

188000152

188000153

188000154

188000155

188000156

188000157

188000158

188000159

188000160

188000161

188000162

188000163

188000164

188000165

188000166

188000167

188000168

188000169

188000170

198000031

198000032

198000033

198000034

198000035

198000036

198000037

198000038

198000039

198000040

198000041

198000042

198000043

198000044

198000045

198000046

198000047

198000048

198000049

198000050

198000051

198000052

198000053

198000054

198000055

198000056

198000057

198000058

198000059

198000060

218000021

218000022

218000023

218000024

218000025

218000026

218000027

218000028

218000029

218000030

218000031

218000032

218000033

218000034

218000035

218000036

218000037

218000038

218000039

218000040

218000041

218000042

218000043

218000044

218000045

218000046

218000047

218000048

218000049

218000050

228000016

228000017

228000018

228000019

228000020

228000021

228000022

228000023

228000024

228000025

228000026

228000027

228000028

228000029

228000030

228000031

228000032

228000033

228000034

228000035

228000036

228000037

228000038

228000039

228000040

228000041

228000042

228000043

228000044

228000045

228000046

228000047

228000048

228000049

228000050

238000001

238000002

238000003

238000004

238000005

238000006

238000007

238000008

238000009

238000010

238000011

238000012

238000013

238000014

238000015

238000016

238000017

238000018

238000019

238000020

news-0801