شکاری

مرطوب، حبس آلود دوپہر۔ آسمان پر بادل کی کترن تک نہیں۔ ۔ ۔ دھوپ میں پکی ہوئی گھاس تھکی ماندی، مایوس دکھائی دے رہی ہے، جیسے اگر بارش ہو بھی جائے تب بھی یہ کبھی سرسبز نہیں ہو سکے گی۔ جنگل خاموش، ساکت کھڑا ہے، جیسے درختوں کے اوپر سے کسی کی راہ تک رہا ہے، یا اسے کسی بات کی امید ہے۔

میدان کے کنارے پر ایک لمبا تڑنگا، تنگ شانوں والا مرد، جس کی عمر 40 کے قریب ہو گی، اس نے سرخ قمیص اور پیوند لگی پتلون پہن رکھی تھی جو کسی زمانے میں کسی زمیندار کی رہی ہو گی۔ اس کے پاؤں میں لمبے بوٹ تھے اور وہ سست روی سے قدم گھسیٹتا ہوا چلا جا رہا تھا۔ دائیں طرف سبزہ تھا، بائیں جانب پکی ہوئی رائی کا سنہرا سمندر جو افق تک پھیل گیا تھا۔ اس کا چہرہ سرخ تھا جس سے پسینہ بہہ رہا تھا، اس کے خوبصورت بھورے سر پر سفید ٹوپی ایک ادا سے لہرا رہی تھی، جس پر گھڑسواروں کی سی کھڑی کلغی تھی اور جو واضح طور پر کسی فراخ دل نوجوان رئیس کا تحفہ لگتی تھی۔

اس کے کندھوں سے ایک شکاری تھیلا لٹک رہا تھا جس میں ایک سیاہ جنگلی مرغ تھا۔ آدمی نے ہاتھوں میں دونالی بندوق تھام رکھی تھی۔ اس نے اپنے کتے کی طرف آنکھیں سکیڑیں جو اس سے آگے آگے جھاڑیاں سونگھتا چلا جا رہا تھا۔ ہر طرف سکوت تھا، کہیں کوئی آواز نہیں۔۔۔ ہر زندہ چیز گرمی سے ڈر کر چھپی ہوئی تھی۔

’یگور ولاسچ!‘ شکاری نے یکایک ایک نرم آواز سنی۔ وہ چونک گیا۔ گھوم کر دیکھا تو اس کی تیوری چڑھ گئی۔ اس کے قریب ہی ایک تیس سالہ سفید رو عورت درانتی ہاتھ میں تھامے کھڑی تھی جیسے یکایک زمین سے اگ آئی ہو۔ وہ اس کے چہرے کی طرف دیکھ کر شرماتے ہوئے مسکرا رہی تھی۔

’اوہ، یہ تم ہو پیلاگیا!‘ شکاری نے رکتے ہوئے اور جان بوجھ کر بندوق کا گھوڑا چڑھاتے ہوئے کہا۔ ’ہم م م ۔۔۔ تم یہاں کیسے آئیں؟‘

’ہمارے گاؤں کی عورتیں یہاں کام کر رہی ہیں، میں انھی کے ساتھ آئی ہوں ۔۔۔ بطور مزدور، یگور ولاسچ۔‘

’اوہ ۔۔۔ یگور ولاسچ نے کہا اور آہستگی سے چلنا شروع کر دیا۔

پیلاگیا اس کے پیچھے پیچھے چل دی۔ وہ بیس قدم خاموشی سے چلتے گئے۔

’تمھیں دیکھے ہوئے عرصہ ہو گیا، یگور ولاسچ۔۔۔‘ پیلاگیا نے شکاری کے ہلتے ہوئے شانوں کی طرف ملائمت سے دیکھتے ہوئے کہا۔ ’میں نے تمھیں اس وقت سے نہیں دیکھا جب تم ایسٹر کے دن ہماری جھونپڑی میں پانی پینے آئے تھے۔۔۔ تم ایسٹر کے دن ایک لمحے کے لیے آئے اور پھر خدا جانتا ہے کیسے ۔۔۔ نشے میں ۔۔۔ تم نے مجھے ڈانٹا اور مارا پیٹا، اور پھر چل دیے ۔۔۔ میں انتظار کرتی رہی، انتظار کرتی رہی ۔۔۔ میں نے تمھاری راہ تکتے تکتے آنکھیں تھکا لیں۔ آہ، یگور ولاسچ! تم ایک بار تو آ کر دیکھ لیتے!‘

’میرے لیے وہاں کیا دھرا ہے؟‘

’تمھارے لیے وہاں بالکل کچھ نہیں دھرا ۔۔۔ لیکن پھر بھی ۔۔۔ وہاں ایک جگہ ہے جس کی دیکھ بھال کرنی ہے ۔۔۔ یہ دیکھنا ہے کہ کیا حالات ہیں ۔۔۔ تم مالک ہو ۔۔۔ میں کہتی ہوں، تم نے ایک سیاہ مرغ مارا ہے، یگور ولاسچ! تم بیٹھ کر تھوڑا آرام ہی کر لو۔‘

یہ کہتے ہوئے پیلاگیا کسی نادان لڑکی کی طرح ہنس دی۔ اس کا چہرہ خوشی سے تمتما رہا تھا۔ اس نے یگور کی طرف دیکھا۔

’بیٹھ جاؤں؟ اگر تم چاہو ۔۔۔‘ یگور نے لاپروایانہ انداز سے کہا، اور فر کے دو درختوں کے نیچے ایک جگہ منتخب کر کے بیٹھ گیا۔ ’تم کیوں کھڑی ہو؟ تم بھی بیٹھ جاؤ۔‘

پیلاگیا تھوڑا سا ہٹ کر دھوپ میں بیٹھ گئی۔ اپنی خوشی سے شرمسار، اس نے اپنے مسکراتے ہوئے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ لیا۔ دو منٹ خاموشی سے گزر گئے۔

’تم ایک بار تو آ سکتے ہو،‘ پیلاگیا نے کہا۔

’کس لیے؟‘ یگور نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا۔ ٹوپی اتار کر اس نے ہاتھ سے اپنا سرخ ماتھا پونچھا۔ ’میرے آنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ ایک دو گھنٹوں کے لیے آنے سے وقت ہی ضائع ہو گا۔ اس سے تم خود بھی پریشان ہو گی، اور گاؤں میں مستقل رہنا میری روح کے لیے ناقابلِ برداشت ہو گا۔۔۔ تم خود جانتی ہو کہ میں نازپروردہ ہوں۔۔۔ مجھے سونے کے لیے بستر چاہیے، پینے کے لیے عمدہ چائے، بولنے کے لیے اچھی گفتگو کرنے والے۔۔۔ مجھے یہ ساری نفیس چیزیں چاہییں، جب کہ تم گاؤں میں غربت اور گند میں رہتی ہو۔۔۔ میں اسے ایک دن کے لیے بھی برداشت نہیں کر سکتا۔ فرض کرو ایسا کوئی حکم نامہ جاری ہو جائے کہ مجھے لازماً تمھارے ساتھ ہی رہنا پڑے، تو میں یا تو جھونپڑی کو آگ لگا دوں، یا خود کو کچھ کر بیٹھوں۔ لڑکپن ہی سے مجھے ایسی ہی سہولیات سے پیار تھا، اب اس کا کچھ نہیں ہو سکتا۔‘

’تم کہاں رہ رہے ہو؟‘

’یہاں کے زمیندار دمتری ایوانِچ کے ساتھ، بطور شکاری۔ میں اس کے کھانے کی میز کے لیے شکار مار کر لاتا ہوں، لیکن اس نے مجھے۔۔۔ کسی اور چیز سے زیادہ مجھے اپنی تفریح کے لیے رکھا ہوا ہے۔‘

’تم کوئی اچھا کام نہیں کر رہے، یگور ولاسچ۔۔۔ دوسرے لوگوں کے لیے شکار مشغلہ ہو گا، لیکن تمھارے لیے کام ہے۔۔۔ جیسے مزدوری۔‘

’تم نہیں سمجھتیں، بےوقوف،‘ یگور نے آسمان کی طرف مایوسی سے دیکھتے ہوئے کہا۔ ’تم کبھی سمجھیں ہیں نہیں، اور جب تک تم زندہ ہو، کبھی جان نہیں سکو گی کہ میں کس قسم کا انسان ہوں۔۔۔ تم مجھے احمق سمجھتی ہو، جو برے راستے پر چل نکلا ہے، لیکن جو کوئی بھی مجھے سمجھتا ہے، وہ مجھے پورے ضلعے میں سب سے اچھا انسان مانتا ہے۔ زمیندار بھی یہی مانتے ہیں، اور انھوں نے میرے متعلق ایک رسالے میں بھی ایسی ہی خبریں چھاپ رکھی ہیں۔ بطور شکاری کوئی میری ٹکر کا نہیں۔۔۔ اور اس کی وجہ یہ نہیں کہ میں نازپروردہ یا مغرور ہوں یا میں تمھارے گاؤں کی زندگی کو حقارت سے دیکھتا ہوں۔۔۔ تم جانتی ہو کہ بچپن ہی سے مجھے بندوقوں اور کتوں کے علاوہ کسی اور چیز کا شوق نہیں تھا۔ اگر کوئی میری بندوق مجھ سے لے لیتا تو میں مچھلی پکڑنے کا کانٹا لے کر نکل جاتا، اگر وہ کانٹا لے لیتے تو میں اپنے ہاتھوں سے چیزیں پکڑنے لگتا۔ اور میں گھوڑوں کی تجارت کرتا رہا، میرے پاس جب بھی پیسے ہوتے، میں میلوں ٹھیلوں میں چلا جاتا، اور تم جانتی ہو کہ اگر کوئی کسان شکاری یا گھوڑوں کا بیوپاری بن جائے تو پھر ہل کو خداحافظ۔ جب کسی آدمی میں آزادی کی ہوا سما جائے تو تم اسے اس کے اندر سے کبھی بھی نہیں نکال سکتیں۔ اسی طرح اگر کوئی رئیس اداکاری یا اسی طرح کی کوئی چیز شروع کر دے تو پھر وہ کبھی بھی کوئی افسر یا زمیندار نہیں رہ سکتا۔ تم عورت ہو، تم نہیں سمجھ سکتیں، لیکن تمھیں سمجھنا پڑے گا۔‘

’میں سمجھتی ہوں، یگور ولاسچ۔‘

’اگر تم نے رونا شروع کر دیا ہے تو تم نہیں سمجھیں۔۔۔‘

’میں رو نہیں رہی۔۔۔‘ پیلاگیا نے منھ دوسری طرف موڑتے ہوئے کہا۔ ’یہ گناہ ہے یگور ولاسچ! تم مجھ نصیبوں ماری کے ساتھ صرف ایک دن تو گزار سکتے ہو۔ میری تم سے شادی کو بارہ سال ہو گئے ہیں، اور۔۔۔ اور۔۔۔ ہمارے درمیان کبھی بھی محبت نہیں رہی!۔۔۔ میں۔۔۔ میں رو نہیں رہی۔‘

’محبت۔۔۔‘ یگور اپنا ہاتھ کھجاتے ہوئے بڑبڑایا۔ ’محبت ہو ہی نہیں سکتی۔ ہم صرف نام کے میاں بیوی ہیں، حقیقت میں نہیں۔ میں تمھاری نظر میں ایک وحشی انسان ہوں، اور میرے نزدیک تم ایک سادہ لوح دیہاتی عورت ہو جسے کسی چیز کی سمجھ نہیں۔ کیا ہمار جوڑ برابر ہے؟ میں ایک آزاد، نازپروردہ، عیاش آدمی ہوں۔ تم مزدور عورت ہو، جو چھال کے جوتے پہن کر چلتی ہے اور جس کی کمر ہمیشہ دہری رہتی ہے۔ میرا اپنے بارے میں خیال یہ ہے کہ میں ہر قسم کے کھیل میں اول نمبر ہوں، اور تم مجھے رحم کی نظروں سے دیکھتی ہو۔۔۔ کیا یہ کوئی جوڑ ہے؟‘

’لیکن ہم شادی شدہ ہیں، یگور ولاسچ،‘ پیلاگیا نے ہچکیاں لیتے ہوئے کہا۔

’اپنی مرضی سے شادی شدہ نہیں۔۔۔ تم بھول گئی ہو؟ نواب سرگے پائلووچ اور تم خود اس کے ذمہ دار ہو۔ صرف اس وجہ سے کہ میرا نشانہ اس سے بہتر تھا، وہ حسد کے مارے مجھے ایک مہینے تک شراب پلاتا رہا، اور جب کوئی شخص نشے میں دھت ہو تو آپ اس کا مذہب تک تبدیل کروا سکتے ہیں، شادی تو معمولی چیز ہے۔ مجھ سے بدلہ لینے کے لیے اس نے نشے کی حالت میں میری تم سے شادی کروا دی۔۔۔ شکاری کو چرواہی سے ملا دیا! تم نے دیکھ لیا تھا کہ میں نشے میں ہوں، پھر تم نے مجھ سے شادی کیوں کی؟ تم تو اس کی مزارع نہیں تھیں، تم انکار کر سکتی تھیں، تم نہ کر سکتی تھیں۔ لیکن ظاہر ہے کہ کسی چرواہی کی شکاری سے شادی اس کی خوش قسمتی ہے، لیکن تمھیں اس کے بارے میں سوچنا چاہیے تھا۔ ٹھیک ہے، اب غموں کی ماری بن جاؤ، روؤ۔ یہ نواب کے لیے مذاق تھا لیکن تمھارے لیے رونے کی بات ہے۔۔۔ اب دیوار سے ٹکریں مارو۔‘

خاموشی چھا گئی۔ تین جنگلی مرغابیاں میدان کے اوپر سے گزریں۔ یگور نے نگاہوں سے ان کا پیچھا کیا، پھر وہ وہ تین بمشکل نظر آنے والوں نقطے بن کر جنگل کے پیچھے غائب ہو گئیں۔

’تمھاری گزربسر کیسے ہوتی ہے؟‘ اس نے مرغابیوں سے نظریں ہٹا کر پیلاگیا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

’میں کام کرتی ہوں۔ سردیوں میں میں فاؤنڈلنگ ہسپتال سے ایک بچہ لے آتی ہوں اور اسے بوتل سے دودھ پلاتی ہوں۔ مجھے اس کا مہینے کا ڈیڑھ روبل مل جاتا ہے۔‘

’اوہ۔۔۔‘

دوبارہ خاموشی۔ گھاس کے کٹے ہوئے قطعے سے ایک سریلے گیت کی آواز بلند ہوئی، پھر جلد ہی دم توڑ گئی۔ گرمی کی شدت گلوکاری کی اجازت نہیں دے رہی تھی۔

’سنا ہے تم نے اکولینا کے لیے نئی جھونپڑی ڈال رکھی ہے،‘ پیلاگیا نے کہا۔

یگور کچھ نہیں بولا۔

’تو وہ تمھیں زیادہ پیاری ہے۔۔۔‘

’یہ تمھاری قسمت ہے، یہی نصیب ہے!‘ شکاری نے انگڑائی لیتے ہوئے کہا۔ ’تمھیں گزارا کرنا پڑے گا۔ لیکن اب خداحافظ، گپ شپ میں پہلے ہی دیر ہو گئی ہے۔۔۔ مجھے شام تک بولتوو پہنچنا ہے۔‘

یگور اٹھا، انگڑائی لی اور بندوق کندھے پر ڈال لی۔ پیلاگیا بھی اٹھ کھڑی ہوئی۔

’تم گاؤں کب آؤ گے؟‘ اس نے ملائمت سے کہا۔

’وہاں آنے کی کوئی وجہ نہیں ہے، میں وہاں ہوش کی حالت میں نہیں آؤں گا، اور نشے میں تمھیں مجھ سے کچھ نہیں ملے گا، میں نشے میں بہت کمینہ بن جاتا ہوں۔ خداحافظ!‘

’خداحافظ، یگور ولاسچ۔‘

یگور نے سر پر ٹوپی سیدھی کی اور کتے کو بلا کر اپنی راہ پر چل دیا۔ پیلاگیا کھڑے اسے دیکھتی رہی۔۔۔ اس نے اس کے ہلتے ہوئے کندھے دیکھے، اس کی شوخ ٹوپی، اس کی لاپروایانہ، سست چال، اور اس کی آنکھیں غم اور ملائمت سے بھر گئیں۔۔۔ اس کی نگاہیں اپنے خاوند کے لمبے اور پتلے بدن پر جمی رہیں، اسے سہلاتی، تھپکتی رہیں۔۔۔ اس نے جیسے اس کی نظریں محسوس کر لیں، وہ رکا، مڑ کر دیکھا۔۔۔ منھ سے کچھ نہیں بولا، لیکن اس کے چہرے، اس کے اچکائے ہوئے کندھوں سے پیلاگیا کو احساس ہوا کہ وہ اس سے کچھ کہنا چاہتا ہے۔ وہ اس کی طرف بڑھی اور متلاشی نظروں سے دیکھا۔

’یہ لے لو،‘ وہ مڑا۔

اس نے ایک روبل کا مڑا تڑا نوٹ اسے تھما دیا اور تیزی سے چل پڑا۔

’خدا حافظ یگور ولاسچ،‘ اس نے مشینی انداز میں نوٹ لیتے ہوئے کہا۔

وہ چمڑے کی تانت کی طرح تنا ہوا چلتا رہا۔ یہ بت کی طرح زرد اور ساکت کھڑی رہی، اس کی نظریں اس کے ہر قدم کا حساب لیتی رہیں۔ پھر اس کی سرخ قمیص گہرے رنگ کی پتلون میں مدغم ہوئی، قدم نظر آنا بند ہو گئے، پھر کتا بھی اس کے جوتوں کے ساتھ مل گیا۔ اب ٹوپی کے علاوہ کچھ نظر نہیں آ رہا تھا، اور۔۔۔ اچانک یگور تیزی سے میدان کی طرف مڑا اور اس کی ٹوپی سبزے میں غائب ہو گئی۔

’خداحافظ یگور ولاسچ،‘ پیلاگیا نے سرگوشی کی، اور اس کی سفید ٹوپی کی ایک اور جھلک دیکھنے کے لیے پنجوں کے بل کھڑی ہو گئی۔

***

 

ترجمہ: ظفر سید

news-1701

sabung ayam online

yakinjp

yakinjp

rtp yakinjp

slot thailand

yakinjp

yakinjp

yakin jp

yakinjp id

maujp

maujp

maujp

maujp

sabung ayam online

sabung ayam online

judi bola online

sabung ayam online

judi bola online

slot mahjong ways

slot mahjong

sabung ayam online

judi bola

live casino

sabung ayam online

judi bola

live casino

SGP Pools

slot mahjong

sabung ayam online

slot mahjong

SLOT THAILAND

articel 538000001

articel 538000002

articel 538000003

articel 538000004

articel 538000005

articel 538000006

articel 538000007

articel 538000008

articel 538000009

articel 538000010

articel 538000011

articel 538000012

articel 538000013

articel 538000014

articel 538000015

articel 538000016

articel 538000017

articel 538000018

articel 538000019

articel 538000020

post 138000916

post 138000917

post 138000918

post 138000919

post 138000920

post 138000921

post 138000922

post 138000923

post 138000924

post 138000925

post 138000926

post 138000927

post 138000928

post 138000929

post 138000930

post 138000931

post 138000932

post 138000933

post 138000934

post 138000935

post 138000936

post 138000937

post 138000938

post 138000939

post 138000940

post 138000941

post 138000942

post 138000943

post 138000944

post 138000945

cuaca 228000711

cuaca 228000712

cuaca 228000713

cuaca 228000714

cuaca 228000715

cuaca 228000716

cuaca 228000717

cuaca 228000718

cuaca 228000719

cuaca 228000720

cuaca 228000721

cuaca 228000722

cuaca 228000723

cuaca 228000724

cuaca 228000725

cuaca 228000726

cuaca 228000727

cuaca 228000728

cuaca 228000729

cuaca 228000730

post 238000601

post 238000602

post 238000603

post 238000604

post 238000605

post 238000606

post 238000607

post 238000608

post 238000609

post 238000610

post 238000611

post 238000612

post 238000613

post 238000614

post 238000615

post 238000616

post 238000617

post 238000618

post 238000619

post 238000620

post 238000621

post 238000622

post 238000623

post 238000624

post 238000625

post 238000626

post 238000627

post 238000628

post 238000629

post 238000630

info 328000571

info 328000572

info 328000573

info 328000574

info 328000575

info 328000576

info 328000577

info 328000578

info 328000579

info 328000580

info 328000581

info 328000582

info 328000583

info 328000584

info 328000585

info 328000586

info 328000587

info 328000588

info 328000589

info 328000590

info 328000591

info 328000592

info 328000593

info 328000594

info 328000595

info 328000596

info 328000597

info 328000598

info 328000599

info 328000600

berita 428011481

berita 428011482

berita 428011483

berita 428011484

berita 428011485

berita 428011486

berita 428011487

berita 428011488

berita 428011489

berita 428011490

berita 428011491

berita 428011492

berita 428011493

berita 428011494

berita 428011495

berita 428011496

berita 428011497

berita 428011498

berita 428011499

berita 428011500

berita 428011501

berita 428011502

berita 428011503

berita 428011504

berita 428011505

berita 428011506

berita 428011507

berita 428011508

berita 428011509

berita 428011510

kajian 638000056

kajian 638000057

kajian 638000058

kajian 638000059

kajian 638000060

kajian 638000061

kajian 638000062

kajian 638000063

kajian 638000064

kajian 638000065

kajian 638000076

kajian 638000077

kajian 638000078

kajian 638000079

kajian 638000080

kajian 638000081

kajian 638000082

kajian 638000083

kajian 638000084

kajian 638000085

article 888000021

article 888000022

article 888000023

article 888000024

article 888000025

article 888000026

article 888000027

article 888000028

article 888000029

article 888000030

cuaca 988000001

cuaca 988000002

cuaca 988000003

cuaca 988000004

cuaca 988000005

cuaca 988000006

cuaca 988000007

cuaca 988000008

cuaca 988000009

cuaca 988000010

cuaca 988000011

cuaca 988000012

cuaca 988000013

cuaca 988000014

cuaca 988000015

article 878000001

article 878000002

article 878000003

article 878000004

article 878000005

article 878000006

article 878000007

article 878000008

article 878000009

article 878000010

article 878000011

cuaca 988000029

cuaca 988000030

cuaca 988000031

cuaca 988000032

cuaca 988000033

cuaca 988000034

cuaca 988000035

cuaca 988000036

cuaca 988000037

cuaca 988000038

news-1701
news-0801

yakinjp


sabung ayam online

yakinjp

yakinjp

rtp yakinjp

yakinjp

yakinjp

judi bola online

slot thailand

yakinjp

yakinjp

yakinjp

yakinjp

ayowin

mahjong ways

judi bola online

mahjong ways 2

JUDI BOLA ONLINE

maujp

maujp

sabung ayam online

maujp

maujp

maujp

maujp

sabung ayam online

mahjong ways slot

sbobet88

live casino online

Situs Agen Togel

MAUJP

118000021

118000022

118000023

118000024

118000025

118000026

118000027

118000028

118000029

118000030

118000031

118000032

118000033

118000034

118000035

118000036

118000037

118000038

118000039

118000040

118000041

118000042

118000043

118000044

118000045

118000046

118000047

118000048

118000049

118000050

128000021

128000022

128000023

128000024

128000025

128000026

128000027

128000028

128000029

128000030

128000031

128000032

128000033

128000034

128000035

128000036

128000037

128000038

128000039

128000040

128000041

128000042

128000043

128000044

128000045

128000046

128000047

128000048

128000049

128000050

138000021

138000022

138000023

138000024

138000025

138000026

138000027

138000028

138000029

138000030

138000031

138000032

138000033

138000034

138000035

138000036

138000037

138000038

138000039

138000040

138000041

138000042

138000043

138000044

138000045

138000046

138000047

138000048

138000049

138000050

148000026

148000027

148000028

148000029

148000030

148000031

148000032

148000033

148000034

148000035

148000036

148000037

148000038

148000039

148000040

148000041

148000042

148000043

148000044

148000045

148000046

148000047

148000048

148000049

148000050

148000051

148000052

148000053

148000054

148000055

148000056

148000057

148000058

148000059

148000060

148000061

148000062

148000063

148000064

148000065

148000066

148000067

148000068

148000069

148000070

158000041

158000042

158000043

158000044

158000045

158000046

158000047

158000048

158000049

158000050

158000051

158000052

158000053

158000054

158000055

158000056

158000057

158000058

158000059

158000060

158000061

158000062

158000063

158000064

158000065

158000066

158000067

158000068

158000069

158000070

168000011

168000012

168000013

168000014

168000015

168000016

168000017

168000018

168000019

168000020

168000021

168000022

168000023

168000024

168000025

168000026

168000027

168000028

168000029

168000030

168000031

168000032

168000033

168000034

168000035

168000036

168000037

168000038

168000039

168000040

178000036

178000037

178000038

178000039

178000040

178000041

178000042

178000043

178000044

178000045

178000046

178000047

178000048

178000049

178000050

178000051

178000052

178000053

178000054

178000055

178000056

178000057

178000058

178000059

178000060

178000061

178000062

178000063

178000064

178000065

188000141

188000142

188000143

188000144

188000145

188000146

188000147

188000148

188000149

188000150

188000151

188000152

188000153

188000154

188000155

188000156

188000157

188000158

188000159

188000160

188000161

188000162

188000163

188000164

188000165

188000166

188000167

188000168

188000169

188000170

198000031

198000032

198000033

198000034

198000035

198000036

198000037

198000038

198000039

198000040

198000041

198000042

198000043

198000044

198000045

198000046

198000047

198000048

198000049

198000050

198000051

198000052

198000053

198000054

198000055

198000056

198000057

198000058

198000059

198000060

218000021

218000022

218000023

218000024

218000025

218000026

218000027

218000028

218000029

218000030

218000031

218000032

218000033

218000034

218000035

218000036

218000037

218000038

218000039

218000040

218000041

218000042

218000043

218000044

218000045

218000046

218000047

218000048

218000049

218000050

228000016

228000017

228000018

228000019

228000020

228000021

228000022

228000023

228000024

228000025

228000026

228000027

228000028

228000029

228000030

228000031

228000032

228000033

228000034

228000035

228000036

228000037

228000038

228000039

228000040

228000041

228000042

228000043

228000044

228000045

228000046

228000047

228000048

228000049

228000050

238000001

238000002

238000003

238000004

238000005

238000006

238000007

238000008

238000009

238000010

238000011

238000012

238000013

238000014

238000015

238000016

238000017

238000018

238000019

238000020

news-0801