شکاری

مرطوب، حبس آلود دوپہر۔ آسمان پر بادل کی کترن تک نہیں۔ ۔ ۔ دھوپ میں پکی ہوئی گھاس تھکی ماندی، مایوس دکھائی دے رہی ہے، جیسے اگر بارش ہو بھی جائے تب بھی یہ کبھی سرسبز نہیں ہو سکے گی۔ جنگل خاموش، ساکت کھڑا ہے، جیسے درختوں کے اوپر سے کسی کی راہ تک رہا ہے، یا اسے کسی بات کی امید ہے۔

میدان کے کنارے پر ایک لمبا تڑنگا، تنگ شانوں والا مرد، جس کی عمر 40 کے قریب ہو گی، اس نے سرخ قمیص اور پیوند لگی پتلون پہن رکھی تھی جو کسی زمانے میں کسی زمیندار کی رہی ہو گی۔ اس کے پاؤں میں لمبے بوٹ تھے اور وہ سست روی سے قدم گھسیٹتا ہوا چلا جا رہا تھا۔ دائیں طرف سبزہ تھا، بائیں جانب پکی ہوئی رائی کا سنہرا سمندر جو افق تک پھیل گیا تھا۔ اس کا چہرہ سرخ تھا جس سے پسینہ بہہ رہا تھا، اس کے خوبصورت بھورے سر پر سفید ٹوپی ایک ادا سے لہرا رہی تھی، جس پر گھڑسواروں کی سی کھڑی کلغی تھی اور جو واضح طور پر کسی فراخ دل نوجوان رئیس کا تحفہ لگتی تھی۔

اس کے کندھوں سے ایک شکاری تھیلا لٹک رہا تھا جس میں ایک سیاہ جنگلی مرغ تھا۔ آدمی نے ہاتھوں میں دونالی بندوق تھام رکھی تھی۔ اس نے اپنے کتے کی طرف آنکھیں سکیڑیں جو اس سے آگے آگے جھاڑیاں سونگھتا چلا جا رہا تھا۔ ہر طرف سکوت تھا، کہیں کوئی آواز نہیں۔۔۔ ہر زندہ چیز گرمی سے ڈر کر چھپی ہوئی تھی۔

’یگور ولاسچ!‘ شکاری نے یکایک ایک نرم آواز سنی۔ وہ چونک گیا۔ گھوم کر دیکھا تو اس کی تیوری چڑھ گئی۔ اس کے قریب ہی ایک تیس سالہ سفید رو عورت درانتی ہاتھ میں تھامے کھڑی تھی جیسے یکایک زمین سے اگ آئی ہو۔ وہ اس کے چہرے کی طرف دیکھ کر شرماتے ہوئے مسکرا رہی تھی۔

’اوہ، یہ تم ہو پیلاگیا!‘ شکاری نے رکتے ہوئے اور جان بوجھ کر بندوق کا گھوڑا چڑھاتے ہوئے کہا۔ ’ہم م م ۔۔۔ تم یہاں کیسے آئیں؟‘

’ہمارے گاؤں کی عورتیں یہاں کام کر رہی ہیں، میں انھی کے ساتھ آئی ہوں ۔۔۔ بطور مزدور، یگور ولاسچ۔‘

’اوہ ۔۔۔ یگور ولاسچ نے کہا اور آہستگی سے چلنا شروع کر دیا۔

پیلاگیا اس کے پیچھے پیچھے چل دی۔ وہ بیس قدم خاموشی سے چلتے گئے۔

’تمھیں دیکھے ہوئے عرصہ ہو گیا، یگور ولاسچ۔۔۔‘ پیلاگیا نے شکاری کے ہلتے ہوئے شانوں کی طرف ملائمت سے دیکھتے ہوئے کہا۔ ’میں نے تمھیں اس وقت سے نہیں دیکھا جب تم ایسٹر کے دن ہماری جھونپڑی میں پانی پینے آئے تھے۔۔۔ تم ایسٹر کے دن ایک لمحے کے لیے آئے اور پھر خدا جانتا ہے کیسے ۔۔۔ نشے میں ۔۔۔ تم نے مجھے ڈانٹا اور مارا پیٹا، اور پھر چل دیے ۔۔۔ میں انتظار کرتی رہی، انتظار کرتی رہی ۔۔۔ میں نے تمھاری راہ تکتے تکتے آنکھیں تھکا لیں۔ آہ، یگور ولاسچ! تم ایک بار تو آ کر دیکھ لیتے!‘

’میرے لیے وہاں کیا دھرا ہے؟‘

’تمھارے لیے وہاں بالکل کچھ نہیں دھرا ۔۔۔ لیکن پھر بھی ۔۔۔ وہاں ایک جگہ ہے جس کی دیکھ بھال کرنی ہے ۔۔۔ یہ دیکھنا ہے کہ کیا حالات ہیں ۔۔۔ تم مالک ہو ۔۔۔ میں کہتی ہوں، تم نے ایک سیاہ مرغ مارا ہے، یگور ولاسچ! تم بیٹھ کر تھوڑا آرام ہی کر لو۔‘

یہ کہتے ہوئے پیلاگیا کسی نادان لڑکی کی طرح ہنس دی۔ اس کا چہرہ خوشی سے تمتما رہا تھا۔ اس نے یگور کی طرف دیکھا۔

’بیٹھ جاؤں؟ اگر تم چاہو ۔۔۔‘ یگور نے لاپروایانہ انداز سے کہا، اور فر کے دو درختوں کے نیچے ایک جگہ منتخب کر کے بیٹھ گیا۔ ’تم کیوں کھڑی ہو؟ تم بھی بیٹھ جاؤ۔‘

پیلاگیا تھوڑا سا ہٹ کر دھوپ میں بیٹھ گئی۔ اپنی خوشی سے شرمسار، اس نے اپنے مسکراتے ہوئے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ لیا۔ دو منٹ خاموشی سے گزر گئے۔

’تم ایک بار تو آ سکتے ہو،‘ پیلاگیا نے کہا۔

’کس لیے؟‘ یگور نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا۔ ٹوپی اتار کر اس نے ہاتھ سے اپنا سرخ ماتھا پونچھا۔ ’میرے آنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ ایک دو گھنٹوں کے لیے آنے سے وقت ہی ضائع ہو گا۔ اس سے تم خود بھی پریشان ہو گی، اور گاؤں میں مستقل رہنا میری روح کے لیے ناقابلِ برداشت ہو گا۔۔۔ تم خود جانتی ہو کہ میں نازپروردہ ہوں۔۔۔ مجھے سونے کے لیے بستر چاہیے، پینے کے لیے عمدہ چائے، بولنے کے لیے اچھی گفتگو کرنے والے۔۔۔ مجھے یہ ساری نفیس چیزیں چاہییں، جب کہ تم گاؤں میں غربت اور گند میں رہتی ہو۔۔۔ میں اسے ایک دن کے لیے بھی برداشت نہیں کر سکتا۔ فرض کرو ایسا کوئی حکم نامہ جاری ہو جائے کہ مجھے لازماً تمھارے ساتھ ہی رہنا پڑے، تو میں یا تو جھونپڑی کو آگ لگا دوں، یا خود کو کچھ کر بیٹھوں۔ لڑکپن ہی سے مجھے ایسی ہی سہولیات سے پیار تھا، اب اس کا کچھ نہیں ہو سکتا۔‘

’تم کہاں رہ رہے ہو؟‘

’یہاں کے زمیندار دمتری ایوانِچ کے ساتھ، بطور شکاری۔ میں اس کے کھانے کی میز کے لیے شکار مار کر لاتا ہوں، لیکن اس نے مجھے۔۔۔ کسی اور چیز سے زیادہ مجھے اپنی تفریح کے لیے رکھا ہوا ہے۔‘

’تم کوئی اچھا کام نہیں کر رہے، یگور ولاسچ۔۔۔ دوسرے لوگوں کے لیے شکار مشغلہ ہو گا، لیکن تمھارے لیے کام ہے۔۔۔ جیسے مزدوری۔‘

’تم نہیں سمجھتیں، بےوقوف،‘ یگور نے آسمان کی طرف مایوسی سے دیکھتے ہوئے کہا۔ ’تم کبھی سمجھیں ہیں نہیں، اور جب تک تم زندہ ہو، کبھی جان نہیں سکو گی کہ میں کس قسم کا انسان ہوں۔۔۔ تم مجھے احمق سمجھتی ہو، جو برے راستے پر چل نکلا ہے، لیکن جو کوئی بھی مجھے سمجھتا ہے، وہ مجھے پورے ضلعے میں سب سے اچھا انسان مانتا ہے۔ زمیندار بھی یہی مانتے ہیں، اور انھوں نے میرے متعلق ایک رسالے میں بھی ایسی ہی خبریں چھاپ رکھی ہیں۔ بطور شکاری کوئی میری ٹکر کا نہیں۔۔۔ اور اس کی وجہ یہ نہیں کہ میں نازپروردہ یا مغرور ہوں یا میں تمھارے گاؤں کی زندگی کو حقارت سے دیکھتا ہوں۔۔۔ تم جانتی ہو کہ بچپن ہی سے مجھے بندوقوں اور کتوں کے علاوہ کسی اور چیز کا شوق نہیں تھا۔ اگر کوئی میری بندوق مجھ سے لے لیتا تو میں مچھلی پکڑنے کا کانٹا لے کر نکل جاتا، اگر وہ کانٹا لے لیتے تو میں اپنے ہاتھوں سے چیزیں پکڑنے لگتا۔ اور میں گھوڑوں کی تجارت کرتا رہا، میرے پاس جب بھی پیسے ہوتے، میں میلوں ٹھیلوں میں چلا جاتا، اور تم جانتی ہو کہ اگر کوئی کسان شکاری یا گھوڑوں کا بیوپاری بن جائے تو پھر ہل کو خداحافظ۔ جب کسی آدمی میں آزادی کی ہوا سما جائے تو تم اسے اس کے اندر سے کبھی بھی نہیں نکال سکتیں۔ اسی طرح اگر کوئی رئیس اداکاری یا اسی طرح کی کوئی چیز شروع کر دے تو پھر وہ کبھی بھی کوئی افسر یا زمیندار نہیں رہ سکتا۔ تم عورت ہو، تم نہیں سمجھ سکتیں، لیکن تمھیں سمجھنا پڑے گا۔‘

’میں سمجھتی ہوں، یگور ولاسچ۔‘

’اگر تم نے رونا شروع کر دیا ہے تو تم نہیں سمجھیں۔۔۔‘

’میں رو نہیں رہی۔۔۔‘ پیلاگیا نے منھ دوسری طرف موڑتے ہوئے کہا۔ ’یہ گناہ ہے یگور ولاسچ! تم مجھ نصیبوں ماری کے ساتھ صرف ایک دن تو گزار سکتے ہو۔ میری تم سے شادی کو بارہ سال ہو گئے ہیں، اور۔۔۔ اور۔۔۔ ہمارے درمیان کبھی بھی محبت نہیں رہی!۔۔۔ میں۔۔۔ میں رو نہیں رہی۔‘

’محبت۔۔۔‘ یگور اپنا ہاتھ کھجاتے ہوئے بڑبڑایا۔ ’محبت ہو ہی نہیں سکتی۔ ہم صرف نام کے میاں بیوی ہیں، حقیقت میں نہیں۔ میں تمھاری نظر میں ایک وحشی انسان ہوں، اور میرے نزدیک تم ایک سادہ لوح دیہاتی عورت ہو جسے کسی چیز کی سمجھ نہیں۔ کیا ہمار جوڑ برابر ہے؟ میں ایک آزاد، نازپروردہ، عیاش آدمی ہوں۔ تم مزدور عورت ہو، جو چھال کے جوتے پہن کر چلتی ہے اور جس کی کمر ہمیشہ دہری رہتی ہے۔ میرا اپنے بارے میں خیال یہ ہے کہ میں ہر قسم کے کھیل میں اول نمبر ہوں، اور تم مجھے رحم کی نظروں سے دیکھتی ہو۔۔۔ کیا یہ کوئی جوڑ ہے؟‘

’لیکن ہم شادی شدہ ہیں، یگور ولاسچ،‘ پیلاگیا نے ہچکیاں لیتے ہوئے کہا۔

’اپنی مرضی سے شادی شدہ نہیں۔۔۔ تم بھول گئی ہو؟ نواب سرگے پائلووچ اور تم خود اس کے ذمہ دار ہو۔ صرف اس وجہ سے کہ میرا نشانہ اس سے بہتر تھا، وہ حسد کے مارے مجھے ایک مہینے تک شراب پلاتا رہا، اور جب کوئی شخص نشے میں دھت ہو تو آپ اس کا مذہب تک تبدیل کروا سکتے ہیں، شادی تو معمولی چیز ہے۔ مجھ سے بدلہ لینے کے لیے اس نے نشے کی حالت میں میری تم سے شادی کروا دی۔۔۔ شکاری کو چرواہی سے ملا دیا! تم نے دیکھ لیا تھا کہ میں نشے میں ہوں، پھر تم نے مجھ سے شادی کیوں کی؟ تم تو اس کی مزارع نہیں تھیں، تم انکار کر سکتی تھیں، تم نہ کر سکتی تھیں۔ لیکن ظاہر ہے کہ کسی چرواہی کی شکاری سے شادی اس کی خوش قسمتی ہے، لیکن تمھیں اس کے بارے میں سوچنا چاہیے تھا۔ ٹھیک ہے، اب غموں کی ماری بن جاؤ، روؤ۔ یہ نواب کے لیے مذاق تھا لیکن تمھارے لیے رونے کی بات ہے۔۔۔ اب دیوار سے ٹکریں مارو۔‘

خاموشی چھا گئی۔ تین جنگلی مرغابیاں میدان کے اوپر سے گزریں۔ یگور نے نگاہوں سے ان کا پیچھا کیا، پھر وہ وہ تین بمشکل نظر آنے والوں نقطے بن کر جنگل کے پیچھے غائب ہو گئیں۔

’تمھاری گزربسر کیسے ہوتی ہے؟‘ اس نے مرغابیوں سے نظریں ہٹا کر پیلاگیا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

’میں کام کرتی ہوں۔ سردیوں میں میں فاؤنڈلنگ ہسپتال سے ایک بچہ لے آتی ہوں اور اسے بوتل سے دودھ پلاتی ہوں۔ مجھے اس کا مہینے کا ڈیڑھ روبل مل جاتا ہے۔‘

’اوہ۔۔۔‘

دوبارہ خاموشی۔ گھاس کے کٹے ہوئے قطعے سے ایک سریلے گیت کی آواز بلند ہوئی، پھر جلد ہی دم توڑ گئی۔ گرمی کی شدت گلوکاری کی اجازت نہیں دے رہی تھی۔

’سنا ہے تم نے اکولینا کے لیے نئی جھونپڑی ڈال رکھی ہے،‘ پیلاگیا نے کہا۔

یگور کچھ نہیں بولا۔

’تو وہ تمھیں زیادہ پیاری ہے۔۔۔‘

’یہ تمھاری قسمت ہے، یہی نصیب ہے!‘ شکاری نے انگڑائی لیتے ہوئے کہا۔ ’تمھیں گزارا کرنا پڑے گا۔ لیکن اب خداحافظ، گپ شپ میں پہلے ہی دیر ہو گئی ہے۔۔۔ مجھے شام تک بولتوو پہنچنا ہے۔‘

یگور اٹھا، انگڑائی لی اور بندوق کندھے پر ڈال لی۔ پیلاگیا بھی اٹھ کھڑی ہوئی۔

’تم گاؤں کب آؤ گے؟‘ اس نے ملائمت سے کہا۔

’وہاں آنے کی کوئی وجہ نہیں ہے، میں وہاں ہوش کی حالت میں نہیں آؤں گا، اور نشے میں تمھیں مجھ سے کچھ نہیں ملے گا، میں نشے میں بہت کمینہ بن جاتا ہوں۔ خداحافظ!‘

’خداحافظ، یگور ولاسچ۔‘

یگور نے سر پر ٹوپی سیدھی کی اور کتے کو بلا کر اپنی راہ پر چل دیا۔ پیلاگیا کھڑے اسے دیکھتی رہی۔۔۔ اس نے اس کے ہلتے ہوئے کندھے دیکھے، اس کی شوخ ٹوپی، اس کی لاپروایانہ، سست چال، اور اس کی آنکھیں غم اور ملائمت سے بھر گئیں۔۔۔ اس کی نگاہیں اپنے خاوند کے لمبے اور پتلے بدن پر جمی رہیں، اسے سہلاتی، تھپکتی رہیں۔۔۔ اس نے جیسے اس کی نظریں محسوس کر لیں، وہ رکا، مڑ کر دیکھا۔۔۔ منھ سے کچھ نہیں بولا، لیکن اس کے چہرے، اس کے اچکائے ہوئے کندھوں سے پیلاگیا کو احساس ہوا کہ وہ اس سے کچھ کہنا چاہتا ہے۔ وہ اس کی طرف بڑھی اور متلاشی نظروں سے دیکھا۔

’یہ لے لو،‘ وہ مڑا۔

اس نے ایک روبل کا مڑا تڑا نوٹ اسے تھما دیا اور تیزی سے چل پڑا۔

’خدا حافظ یگور ولاسچ،‘ اس نے مشینی انداز میں نوٹ لیتے ہوئے کہا۔

وہ چمڑے کی تانت کی طرح تنا ہوا چلتا رہا۔ یہ بت کی طرح زرد اور ساکت کھڑی رہی، اس کی نظریں اس کے ہر قدم کا حساب لیتی رہیں۔ پھر اس کی سرخ قمیص گہرے رنگ کی پتلون میں مدغم ہوئی، قدم نظر آنا بند ہو گئے، پھر کتا بھی اس کے جوتوں کے ساتھ مل گیا۔ اب ٹوپی کے علاوہ کچھ نظر نہیں آ رہا تھا، اور۔۔۔ اچانک یگور تیزی سے میدان کی طرف مڑا اور اس کی ٹوپی سبزے میں غائب ہو گئی۔

’خداحافظ یگور ولاسچ،‘ پیلاگیا نے سرگوشی کی، اور اس کی سفید ٹوپی کی ایک اور جھلک دیکھنے کے لیے پنجوں کے بل کھڑی ہو گئی۔

***

 

ترجمہ: ظفر سید

content-1701

invoice 00026

invoice 00027

invoice 00028

invoice 00029

invoice 00030

invoice 00031

invoice 00032

invoice 00033

invoice 00034

invoice 00035

invoice 00036

invoice 00037

invoice 00038

invoice 00039

invoice 00040

invoice 00041

invoice 00042

invoice 00043

invoice 00044

invoice 00045

invoice 00046

invoice 00047

invoice 00048

invoice 00049

invoice 00050

invoice 00051

invoice 00052

invoice 00053

invoice 00054

invoice 00055

article 2000021

article 2000022

article 2000023

article 2000024

article 2000025

article 2000026

article 2000027

article 2000028

article 2000029

article 2000030

article 2000031

article 2000032

article 2000033

article 2000034

article 2000035

article 2000036

article 2000037

article 2000038

article 2000039

article 2000040

article 2000041

article 2000042

article 2000043

article 2000044

article 2000045

article 2000046

article 2000047

article 2000048

article 2000049

article 2000050

article 2000051

article 2000052

article 2000053

article 2000054

article 2000055

article 2000056

article 2000057

article 2000058

article 2000059

article 2000060

article 2000061

article 2000062

article 2000063

article 2000064

article 2000065

article 2000066

article 2000067

article 2000068

article 2000069

article 2000070

article 2000071

article 2000072

article 2000073

article 2000074

article 2000075

article 2000076

article 2000077

article 2000078

article 2000079

article 2000080

pusdataru 00021

pusdataru 00022

pusdataru 00023

pusdataru 00024

pusdataru 00025

pusdataru 00026

pusdataru 00027

pusdataru 00028

pusdataru 00029

pusdataru 00030

pusdataru 00031

pusdataru 00032

pusdataru 00033

pusdataru 00034

pusdataru 00035

pusdataru 00036

pusdataru 00037

pusdataru 00038

pusdataru 00039

pusdataru 00040

pusdataru 00041

pusdataru 00042

pusdataru 00043

pusdataru 00044

pusdataru 00045

pusdataru 00046

pusdataru 00047

pusdataru 00048

pusdataru 00049

pusdataru 00050

pusdataru 00051

pusdataru 00052

pusdataru 00053

pusdataru 00054

pusdataru 00055

pusdataru 00056

pusdataru 00057

pusdataru 00058

pusdataru 00059

pusdataru 00060

article 00000031

article 00000032

article 00000033

article 00000034

article 00000035

article 00000036

article 00000037

article 00000038

article 00000039

article 00000040

article 00000041

article 00000042

article 00000043

article 00000044

article 00000045

article 00000046

article 00000047

article 00000048

article 00000049

article 00000050

article 00000051

article 00000052

article 00000053

article 00000054

article 00000055

article 00000056

article 00000057

article 00000058

article 00000059

article 00000060

article 00000061

article 00000062

article 00000063

article 00000064

article 00000065

article 00000066

article 00000067

article 00000068

article 00000069

article 00000070

article 00000071

article 00000072

article 00000073

article 00000074

article 00000075

article 00000076

article 00000077

article 00000078

article 00000079

article 00000080

pemohonan 000001

pemohonan 000002

pemohonan 000003

pemohonan 000004

pemohonan 000005

pemohonan 000006

pemohonan 000007

pemohonan 000008

pemohonan 000009

pemohonan 000010

pemohonan 000011

pemohonan 000012

pemohonan 000013

pemohonan 000014

pemohonan 000015

pemohonan 000016

pemohonan 000017

pemohonan 000018

pemohonan 000019

pemohonan 000020

pemohonan 000021

pemohonan 000022

pemohonan 000023

pemohonan 000024

pemohonan 000025

pemohonan 000026

pemohonan 000027

pemohonan 000028

pemohonan 000029

pemohonan 000030

artikel 000000081

artikel 000000082

artikel 000000083

artikel 000000084

artikel 000000085

artikel 000000086

artikel 000000087

artikel 000000088

artikel 000000089

artikel 000000090

artikel 000000091

artikel 000000092

artikel 000000093

artikel 000000094

artikel 000000095

artikel 000000096

artikel 000000097

artikel 000000098

artikel 000000099

artikel 000000100

artikel 000000101

artikel 000000102

artikel 000000103

artikel 000000104

artikel 000000105

artikel 000000106

artikel 000000107

artikel 000000108

artikel 000000109

artikel 000000110

artikel 000000111

artikel 000000112

artikel 000000113

artikel 000000114

artikel 000000115

artikel 000000116

artikel 000000117

artikel 000000118

artikel 000000119

artikel 000000120

pengadilan 000061

pengadilan 000062

pengadilan 000063

pengadilan 000064

pengadilan 000065

pengadilan 000066

pengadilan 000067

pengadilan 000068

pengadilan 000069

pengadilan 000070

pengadilan 000071

pengadilan 000072

pengadilan 000073

pengadilan 000074

pengadilan 000075

pengadilan 000076

pengadilan 000077

pengadilan 000078

pengadilan 000079

pengadilan 000080

pengadilan 000081

pengadilan 000082

pengadilan 000083

pengadilan 000084

pengadilan 000085

pengadilan 000086

pengadilan 000087

pengadilan 000088

pengadilan 000089

pengadilan 000090

perkara 0000066

perkara 0000067

perkara 0000068

perkara 0000069

perkara 0000070

perkara 0000071

perkara 0000072

perkara 0000073

perkara 0000074

perkara 0000075

perkara 0000076

perkara 0000077

perkara 0000078

perkara 0000079

perkara 0000080

perkara 0000081

perkara 0000082

perkara 0000083

perkara 0000084

perkara 0000085

perkara 0000086

perkara 0000087

perkara 0000088

perkara 0000089

perkara 0000090

article 0000021

article 0000022

article 0000023

article 0000024

article 0000025

article 0000026

article 0000027

article 0000028

article 0000029

article 0000030

article 0000031

article 0000032

article 0000033

article 0000034

article 0000035

article 0000036

article 0000037

article 0000038

article 0000039

article 0000040

article 0000041

article 0000042

article 0000043

article 0000044

article 0000045

article 0000046

article 0000047

article 0000048

article 0000049

article 0000050

article 0000051

article 0000052

article 0000053

article 0000054

article 0000055

article 0000056

article 0000057

article 0000058

article 0000059

article 0000060

article 0000061

article 0000062

article 0000063

article 0000064

article 0000065

article 0000066

article 0000067

article 0000068

article 0000069

article 0000070

article 3000031

article 3000032

article 3000033

article 3000034

article 3000035

article 3000036

article 3000037

article 3000038

article 3000039

article 3000040

article 3000041

article 3000042

article 3000043

article 3000044

article 3000045

article 3000046

article 3000047

article 3000048

article 3000049

article 3000050

article 3000051

article 3000052

article 3000053

article 3000054

article 3000055

article 3000056

article 3000057

article 3000058

article 3000059

article 3000060

content-1701
news-0801

yakinjp


sabung ayam online

yakinjp

yakinjp

rtp yakinjp

yakinjp

yakinjp

judi bola online

slot thailand

yakinjp

yakinjp

yakinjp

yakinjp

ayowin

mahjong ways

judi bola online

mahjong ways 2

JUDI BOLA ONLINE

maujp

maujp

sabung ayam online

maujp

maujp

maujp

maujp

sabung ayam online

mahjong ways slot

sbobet88

live casino online

Situs Agen Togel

MAUJP

118000021

118000022

118000023

118000024

118000025

118000026

118000027

118000028

118000029

118000030

118000031

118000032

118000033

118000034

118000035

118000036

118000037

118000038

118000039

118000040

118000041

118000042

118000043

118000044

118000045

118000046

118000047

118000048

118000049

118000050

128000021

128000022

128000023

128000024

128000025

128000026

128000027

128000028

128000029

128000030

128000031

128000032

128000033

128000034

128000035

128000036

128000037

128000038

128000039

128000040

128000041

128000042

128000043

128000044

128000045

128000046

128000047

128000048

128000049

128000050

138000021

138000022

138000023

138000024

138000025

138000026

138000027

138000028

138000029

138000030

138000031

138000032

138000033

138000034

138000035

138000036

138000037

138000038

138000039

138000040

138000041

138000042

138000043

138000044

138000045

138000046

138000047

138000048

138000049

138000050

148000026

148000027

148000028

148000029

148000030

148000031

148000032

148000033

148000034

148000035

148000036

148000037

148000038

148000039

148000040

148000041

148000042

148000043

148000044

148000045

148000046

148000047

148000048

148000049

148000050

148000051

148000052

148000053

148000054

148000055

148000056

148000057

148000058

148000059

148000060

148000061

148000062

148000063

148000064

148000065

148000066

148000067

148000068

148000069

148000070

158000041

158000042

158000043

158000044

158000045

158000046

158000047

158000048

158000049

158000050

158000051

158000052

158000053

158000054

158000055

158000056

158000057

158000058

158000059

158000060

158000061

158000062

158000063

158000064

158000065

158000066

158000067

158000068

158000069

158000070

168000011

168000012

168000013

168000014

168000015

168000016

168000017

168000018

168000019

168000020

168000021

168000022

168000023

168000024

168000025

168000026

168000027

168000028

168000029

168000030

168000031

168000032

168000033

168000034

168000035

168000036

168000037

168000038

168000039

168000040

178000036

178000037

178000038

178000039

178000040

178000041

178000042

178000043

178000044

178000045

178000046

178000047

178000048

178000049

178000050

178000051

178000052

178000053

178000054

178000055

178000056

178000057

178000058

178000059

178000060

178000061

178000062

178000063

178000064

178000065

188000141

188000142

188000143

188000144

188000145

188000146

188000147

188000148

188000149

188000150

188000151

188000152

188000153

188000154

188000155

188000156

188000157

188000158

188000159

188000160

188000161

188000162

188000163

188000164

188000165

188000166

188000167

188000168

188000169

188000170

198000031

198000032

198000033

198000034

198000035

198000036

198000037

198000038

198000039

198000040

198000041

198000042

198000043

198000044

198000045

198000046

198000047

198000048

198000049

198000050

198000051

198000052

198000053

198000054

198000055

198000056

198000057

198000058

198000059

198000060

218000021

218000022

218000023

218000024

218000025

218000026

218000027

218000028

218000029

218000030

218000031

218000032

218000033

218000034

218000035

218000036

218000037

218000038

218000039

218000040

218000041

218000042

218000043

218000044

218000045

218000046

218000047

218000048

218000049

218000050

228000016

228000017

228000018

228000019

228000020

228000021

228000022

228000023

228000024

228000025

228000026

228000027

228000028

228000029

228000030

228000031

228000032

228000033

228000034

228000035

228000036

228000037

228000038

228000039

228000040

228000041

228000042

228000043

228000044

228000045

228000046

228000047

228000048

228000049

228000050

238000001

238000002

238000003

238000004

238000005

238000006

238000007

238000008

238000009

238000010

238000011

238000012

238000013

238000014

238000015

238000016

238000017

238000018

238000019

238000020

news-0801