علی اکبر ناطق سے دس سوالات

تصنیف حیدر: آپ کے جتنے دوست ہیں اتنے ہی دشمن ۔ اس کی وجہ آپ کیاسمجھتے ہیں؟

علی اکبر ناطق:تصنیف صاحب آپ کے پہلے ہی سوال سے مجھے حیرت اس لیے ہوئی کہ آپ کو میرے دشمنوں اور دوستوں کی تعداد کا صحیح اندازہ ایک دوسرے ملک میں اتنی دور بیٹھ کر کیسے ہو گیا ؟اِ دھر پاک میں بھی کئی احباب اسی قسم کا سوال پوچھتے ہیں ۔جس کا مَیں کبھی خاطر خواہ جواب نہیں دے پایا ،یا مَیں نے اِس پر کبھی غور ہی نہیں کیا اگر کبھی غور کیا بھی تو ایسے خیالات سے کترا کے نکل جاتا ہوں۔خیر اگر یہ پردہ کُھل ہی گیا ہے تو آج دو ایک سبب بتا ہی دوں۔ مَیں نے میٹرک سے اُو پر کی تمام تعلیم پرائیویٹ حاصل کی۔ پروفیسروں کے لیکچروں سے دُور،کلاس روموں کی چخ چخ سے پرے ،ادبی سکالروں اور بوڑھے دانشوروں کے آگے زانوئے تلمذ تہ کیے بغیراور نام نہاد ادبی تھیوریاں پیش کرنے والے نقادوں کے پُر مغز مضامین کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ،جن کے مطابق یہ حضرات بڑی سے بڑی تخلیقات کے خلاصے پلک جھپکنے میں کر کے ایک طرف رکھ دیتے ہیں ۔اب یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ جو لونڈا ،نہ کسی ریگولر یونیورسٹی میں پڑھا ہو نہ وہاں کے پڑھے ہوؤں اور پڑھانے والوں کو ٹھینگے پر لکھتا ہو،اور حد یہ کہ اُنہیں نالائق بھی کہتا ہو،اُسے آسانی سے مان لیا جاتا ۔اگر وہ مجھے مان لیں تو اُن کے بے شمار لائق فائق شاگردوں کی کھیپ کہاں منہ چھپائے گی۔ وہ خود اور اُن کی تھیوریاں کس کنویں میں ڈالی جائیں گی ؟ دو،اپنی عمر کے اولین تیس سال مَیں نے کسی ادیب اور شاعر کی شکل تک نہیں دیکھی ،حتیٰ کہ اُس بوڑھے شاعر کی بھی جو میرے اپنے شہر کا تھا ۔نہ معاصر شعراکے ساتھ بیٹھا اُٹھا،نہ اُن کے ساتھ کہیں مشاعرہ پڑھا ،نہ خالی چائے کی میزوں پہ بیٹھ کر ادبی سیانوں کے دانشورانہ لقمے چبائے ۔ اور نہ بیگار میں پکڑے ہوئے مشاعرہ بازوں کے بستے اُٹھائے۔پھر آپ ہی بتائیے تصنیف میاں یہ سارے خدائی فوجدارکیسے اِس عاجز نیم خواندہ ، غیر مہذب، پینڈواور گنوار لڑکے کوادب کی پاک صاف مملکت میں برداشت کر لیتے ۔ اور مَیں تو ایسا گُستاخ نکلا ،کہ ہرنوع کی ادبی فصل میں اُن کے اجارہ داروں کی اجازت کے بغیر ہی منہ مارنے لگا ۔ نہ کسی کو اپنا مسودہ دکھایا ،نہ کسی جہاں دیدہ مشقِ سخن کرنے والے سے مشورہ طلب کیا۔ اُس پر ستم یہ کے آپ جیسے سر پھرے مجھے اہمیت دیے چلے جاتے ہیں ۔ گالیاں نہ پڑیں تو کیا پھولوں کے ہار گلے میں ڈالے جائیں۔لیکن ایک بات ضرور ہے کہ دوستوں کی تعداد اِ ن ادبی گُرگوں سے بہت زیادہ ہے ۔میرا کامل یقین ہے کہ میرے دوست اِن نام نہاد ادیبوں اور شاعروں اور نقادوں سے کہیں زیادہ پڑھنے والے ،ادب کو سمجھنے والے ، دوستی میں مخلص اور جینوئن ادیب یا شاعر کی عزت کرنے والے ہیں ۔یہی بات دشمنوں کو بُری لگتی ہے۔ایک دفعہ اسی پس منظر میں میرے ایک دوست ڈاکڑسعید الرحمٰن ،جس نے اسڑیلیا سے انگریزی ادب میں ڈاکڑیٹ کی ہے،نے کہا تھا، ناطق ،حسد کرنے والوں کو در اصل تجھ سے کوئی مسئلہ نہیں ،اُن کو مسئلہ اُن لوگوں سے ہے جو تیری تعریف کرتے ہیں ۔ اور اب تو وہ مدیر بھی حاسدوں میں شامل ہو چکے ہیں جو مجھے چھاپنے میں کبھی پیش پیش تھے۔شاید مَیں نے اُن کی برخور داری میں نے کوتاہی کی ہے۔ البتہ اشعر نجمی اور قاسم یعقوب آج بھی میرے چاہنے والے اور مجھے شہرت میں دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور مَیں اُن کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ خیر آپ فکر نہ کریں اِدھر ایک دشمن بنتا ہے تو دوسری طرف ہزار دوست نکل آتا ہے۔

تصنیف حیدر:علی اکبر ناطق پہلے خود کو کیا کہلوانا چاہے گاشاعر یا افسانہ نگار؟ کیوں ؟

علی اکبر ناطق: شاعر،، کیوں کا جواب یہ ہے کہ شاعری میرا اول و آخر ہے ۔اس کا آسان جواب پانے کا طریقہ یہ ہے کہ اگر میرا خدا مجھے مجبور کر دے کہ دونوں میں کوئی ایک صنف اختیار کر لو اور ایک ترک کر دو تو میں شاعری اختیار کر لوں گا۔ مجھے شاعری میں موت کے نزدیک لے جانے والی اُداسی ، زندگی کے قریب لے جانے والی خوشی اور بے خودی میں لے جانے والی سرشاری ملتی ہے۔ شاید افسانہ میں دوسروں کے لیے لکھتا ہوں اور شاعری اپنے لیے کرتا ہوں ۔

تصنیف حیدر:آپ پر ایک الزام ہے کہ آپ خود پر تنقید برداشت نہیں کرتے۔ کیا واقعی ایسا ہے؟

علی اکبر ناطق:یہ ہوائی کسی دُشمن نے اُڑائی ہو گی۔بھائی جتنی تنقید اور بے سروپا تنقید مَیں برداشت کرتا ہوں اتنی شاید ہی کوئی کرتا ہو۔تنقید تو رہی ایک طرف مَیں تو گالیاں اور جوتے تک کھا چکا ہوں۔ توہینِ مذہب کے فتوے دے کر قتل کروانے کی کوشش کی جا چکی ہے ۔تمام ادبی اداروں میں میرا داخلہ ممنوع قرار دیا جا چکا ہے۔ (ناطق تو یار سِرے سے گھامڑ ہے ۔ ادب کی الف ب تک نہیں جانتا۔ ابے جاہل ہے ۔اجی چھوڑیے صاحب ، نرا گنوار ہے۔ یار یہودی ایجنٹ ہے ۔ بھائی ،،را،، سے پیسے کھائے بیٹھا ہے۔گدھا ہے گدھا ۔ اِسے تو یہ تک نہیں پتا بینگن کا بھُرتہ کیسے بنتا ہے یہ افسانہ کیا لکھے گا۔ناطق شیعہ ہے اور اُنہی نے اُٹھا رکھا ہے۔ وہ تو ڈھنگ خط نہیں لکھ سکتا ،آپ کہتے ہیں اُس نے ناول لکھا ہے ، بھائی میں نہیں مانتا ،کسی سے لکھوا لیا ہو گا۔ ناطق شاعری خود نہیں کرتا، اُسے کون نظمیں لکھ کر دیتا ہے یہ مَیں جانتا ہوں ۔بھائی سارا پی آر کا نتیجہ ہے۔ اُس کے تعلقات بہت ہیں ۔وہ اصل میں ایک خاص قسم کے طبقے کا نمائندہ ہیاس لیے وہ اِ سے اٹھاتے رہتے ہیں ورنہ کیا ہم شاعری نہیں کرتے گھاس کاٹتے ہیں ۔اگر میرے افسانوں کو غور سے دیکھا جائے تو ناطق کے افسانے اُن کے پاسک بھی نہیں لیکن میری پی آر نہیں ،اس لیے کوئی مجھے پوچھتا نہیں ۔ یار اس کے افسانوں میں کون سے پر لگے تھے کہ آکسفورڈ تک اُڑ کر چلے گئے ۔ سیدھی بات ہے یہ سب یہودیوں کی سازش ہیورنہ یہ ناطق جانگلوں تو سب بکواس لکھتا ہے) لیجیے صاحب، یہ ہے وہ تنقید جو مجھ پر ہوتی ہے اور بقول آپ کے ،جو مَیں برداشت نہیں کرتا ۔ بھائی ،اگر مجھ پر کوئی تنقید کرتا تو رونا کیا تھا۔زیف سید ، منظر نقوی ، شیراز حیدر ڈاکڑ سعید الر حمٰن ،جاوید ملک ،اُسامہ صدیق،سید اقبال ترمذی،ادریس بابر ،اشفاق عامر ، قاسم یعقو ب، عابد خورشید ،غافر شہزاد ، سید حیدر شاہ،جہانزیب، عدنان بشیر، ارسلان راٹھور،یہ سب میرے روزانہ کے ملنے اور بیٹھنے والے دوست ہیں ۔ کبھی اِن سے بھی تو پوچھیے جو میری تخلیقات کا کس بے دردی سے اپر یشن کرتے ہیں اور مَیں کس بُرد باری سے اُن کو اسٹریچر پر پڑا دیکھتا ہوں۔ اب اگر لوگ گالیاں دینے کو تنقید سمجھیں اور میری تخلیقات کو بغیر پڑھے اُن پرایسے ایسے حکم لگائیں تو خود ہی بتائیے ،مَیں کیا کروں ؟نتیجہ یہ کہ مَیں اُن کو لفٹ نہیں کرواتا ۔اُن کو گھاس نہیں ڈالتا ۔اور اُن کی دانش کو دور ہی سے سلام کر کے نکل جاتا ہوں ،جس کا اُنہیں صدمہ پہنچتا ہے اور وہ کہہ دیتے ہیں ناطق اپنے اُوپر تنقید برداشت نہیں کرتا ۔

تصنیف حیدر:شمس الر حمٰن فاروقی کو ایک بڑے اعزاز کے لیے نامزد کیا گیا ہے ۔آپ کے نزدیک اُن کا ناول کیا واقعی اتنا اہم ہے۔

علی اکبر ناطق:میں سمجھتا ہوں اُن کا ناول اردو ادب کا ایک نایاب سرمایہ ہے ۔ یہ ناول اس قدر اہم ہے جس قدر اس میں دکھایا جانے والا عہد اہم ہے ۔ در اصل ناول نام ہی اُس چیز کا ہے کہ وہ زندگی کا ایک ایسا باب قاری کے سامنے رکھ دے جس کے حوالے سے ہم گزری ہوئی ،جاری اور آنے والی تہذیب کی آیات واضح دیکھ سکیں اور اُس کی پیچیدگیوں کو جان لیں ۔اگر ناول نگار یہ سب دکھانے میں کامیاب ہو جائے تو یہ بڑا کام ہے ۔ مَیں نے فاروقی صاحب کا ناول(کئی چاند تھے سرِ آسماں ) اول تا آخر انتہائی دلچسپی سے پڑھا اور بہت کچھ حاصل کر کے اُٹھا ۔یہ ناول لکھ کر فاروقی صاحب نے قاری پر بہت بڑا احسان کیا ہے جس پر مَیں اُنہیں سلام پیش کرتا ہوں ۔ وہ واقعی اس چیز کے مستحق ہیں ۔

تصنیف حیدر: آپ غزل زیادہ نہیں کہتے ۔کیا غزل کے ذریعے اچھی شاعری کا امکان صفر کے برابر ہے؟

علی اکبر ناطق:میرا خیال ہے اردو شاعری کو جتنا غزل نے مالا مال کیا ہے کسی اور صنف نے اتنی خدمت نہیں کی ۔ اردو میں غزل ہی ایسا ذریعہ اظہار ہے جس سے برصغیر کا بچہ بچہ واقف ہے اور اِسے گنگناتا ہے۔اور خواص ایک طرف عوام میں بھی کوئی شخص ایسا نہیں جسے کسی نہ کسی غزل کا کوئی شعر یاد نہ ہو۔جہاں تک آئندہ امکان کا سوال ہے تو مَیں کبھی بھی غزل سے نا امید نہیں ہوا ۔ اصل میں کسی بھی صنف کا اعتبار اس پر ہوتا ہے کہ اُس کو اختیار کرنے والا کتنا صاحبِ کمال ہے۔جب کائنات اتنی وسیع ہے تو غزل میں استعمال ہونے والے مضامین کیسے کم پڑ سکتے ہیں ۔نت نئی دریافت ہونے والی چیزیں اُس کے اظہار کے نئے پیرایوں سے خود بخود روشناس کراتی چلی جاتی ہیں ۔ آج بھی عمدہ اور جدیدغزل لکھنے والے لوگوں کی ایک پوری کھیپ نظر آتی ہے، جن میں ادریس بابر، اشفاق عامر ، منظر نقوی، عدنان بشیر ،ذولفقار عادل ، انعام ندیم ،تصنیف حیدر ،فرحت احساس،لیاقت جعفری،معید رشیدی موجود ہیں ۔البتہ کچھ نالائق لوگ اور متشاعر جن میں زیادہ تعداد نوجوانوں کی ہے ،ضرور اس صنف سخن کی تنزلی کا باعث ہیں۔یہ لوگ غزل اور شاعری کی حقیقت سے تو سِرے سے واقف نہیں لیکن خود کو میر کہلوانے پر مصر ضرور ہیں اور اسی جہالت میں بے لطف لفظوں کا بھاڑ جھونکے جا رہے ہیں ۔ کہنے سننے سے یہ باز نہیں آتے ۔ اصل میں اِ نہیں مارا ہے دن رات کے مشاعروں اور شعر کی فہم نہ رکھنے والے اُن سامعین نے ،جو خود بھی یہی کچھ بکنا چاہتے ہیں اور ایک دوسرے سے داد کے خواہاں ہیں ۔غزل پر عامیانہ تنقید کرنے والوں کو دراصل انہی کی غزلیں پڑھ کر اور سُن کر اس صنفِ سخن میں مزید امکان نظر نہیں آتا ۔رہا میری غزل گوئی کا معاملہ ۔یہ سچ ہے کہ مَیں نے غزلیں بہت کم کہی ہیں لیکن میری ایک کتاب غزل کی بہر حال ہو چکی ہے ۔ اُسے میں جلد قارئین کے سامنے لاؤں گا۔ چونکہ میں مشاعرے نہیں پڑھتا اس لیے میری وہ غزلیں کسی کی نظر میں نہیں آئیں اور رسالوں میں مَیں نے چھپوائیں نہیں ۔ آئندہ میرا ارادہ غزل ہی کی کتاب لانے کا ہے ۔گھبرائیے نہیں ۔

تصنیف حیدر:اچھی شاعری آپ کے نزدیک کیا ہے ۔کیا شاعری کا مستقبل بہتر ہے؟

علی اکبر ناطق:اچھی شاعری ڈرامہ بازی سے پرے ، اُن الفاظ کی ا صوات اور رنگوں سے مل کر بنتی ہے جو کانوں کے راستے سے بصارت کو منظر، سانس کو خو شبو اور دلوں کو سر خوشی بخش دیں ۔جس کو پڑھنے اور سننے سے انسان کو کائنات سے محبت ہو جائے اور خوبصورت چیزوں سے عشق ہو جائے۔ اچھی شاعری محض الفاظ اور اور اس کی بازی گری نہیں ہے ۔ قافیوں کی نقالی اور بھونڈی تر کیبوں سے دور اچھی شاعری نفاست کے ساتھ سجائے ہوئے اصلی پھولوں کے گلدستے ہوتے ہیں جن سے خوشبو بھی آتی ہے نظر کو بھلے بھی لگتے ہیں ۔یہ تو دل سے دل تک کا سفر ہے۔ رہا شاعری کا مستقبل ، تو یہ مستقبل قیامت تک رہے گا ۔ ہم نہ ہوں گے تو کوئی ہم سا ہوگا۔ہاں اگر انسانوں کی جگہ عورتوں کے بطن سے لوہے کی مشینیں پیدا ہونے لگ جائیں تو اور بات ہے ۔ تصنیف صاحب یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ خدا دنیا میں فنکاروں اور دل والوں کو پیدا کرنا چھوڑ دے گا۔ اگر یہ ہو گیا تو یاد رہے دنیا بھی نہیں رہے گی ۔ صاحبِ دل پیدا ہوں گے تو شاعری کیسے مر جائے گی ۔ اور اس کا مستقبل کیسے خطرے میں پڑ سکتا ہے ۔ البتہ یہ بات ہر دور میں کہی جاتی رہی ہے کہ ٓآرٹ خطرے میں ہے ، مصوری خطرے میں ہے ، موسیقی خطرے میں ہے۔ شاعری خطرے میں ہے ۔ خطاطی خطرے میں ہے ۔ زبان خطرے میں ہے ۔ارے میاں کوئی شے خطرے میں نہیں ہے ۔ ہاں آہستہ آہستہ تقاضوں کے مطابق اُس میں تبدیلی ضرور آتی رہتی ہے اور یہی شے اُس فن کی بقا کا باعث بھی ہوتی ہے ۔اگروقت کے ساتھ اُس میں تبدیلی رونما نہ ہو تو یہ خطرے کی بات ضرور ہے ۔ میرا خیال ہے کہ شاعری کو آئندہ کوئی خطرہ نہیں ۔ اس کا مستقبل روشن ہے ۔ جب تک یہ دنیا رہے گی۔

تصنیف حیدر:ظفر اقبال آپ سے زیادہ خوش نہیں،کیا اُن کی تنقیدی رائے کو اہمیت دیتے ہیں ؟کیوں؟

علی اکبر ناطق:ایک دفعہ اوکاڑہ میں ظفر اقبال کے ساتھ ایک نشست ہوئی جس میں اوکاڑہ کے تمام ادبی لوگ موجود تھے ۔ وہاں انہوں نے ایک بیان سب کے سامنے جاری کیا تھا کہ ناطق برصغیر میں واحدشاعر ہے جو مجھے کاٹ جائے گا۔ اس بات کے گواہ وہ سب لوگ ابھی زندہ ہیں ۔ اصل میں یہ ۲۰۱۱ کی بات ہے ۔ مَیں نے تو اس بات کو بھی کوئی خاص اہمیت نہیں دی تھی ۔اور نہ اس بیان پر بلیوں اُچھلا تھاکہ میرے لیے اس طرح کی بیان بازی محض راستہ کھوٹا کرنے کے مترادف ہے۔لیکن اُ س کے بعد خدا جانے کیا ہوا ؟آپ کو میری مخالفت کا دورہ پڑ گیا ۔ مجھے شاعر تو ایک طرف اسلام کے خلاف یہودیوں کا ایجنٹ قرار دے دیااور کوئی موقعہ میری بد خوئی کا ہاتھ سے جانے نہیں دیا ۔اُس کی وجہ جہاں تک مجھے معلوم ہے کہ اول تو ظفر اقبال اوکاڑہ میں اپنے سوا دوسرے کسی شخص کونام آور دیکھنا نہیں چاہتا ۔ دوم مَیں اس کی اشیر واد کے بغیر ہی اور اس کے اسلوب سے پرے ہی پرے اپنی پہچان بنانے میں کامیاب ہو گیا۔ تیسری بات یہ کہ مجھے بڑے بڑے اداروں نے چھاپنا شروع کر دیا اور بڑے اخبارات نے میرے نام پر حاشیے چڑھانے شروع کر دیے ۔جبکہ اسے نہ بڑے پبلشنگ اداروں نے گھاس ڈالی نہاخبارات نے خاص اہمیت دی ۔چوتھا یہ کہ میں کبھی آپ کی محفل میں برخوردارانہ نہیں گیا۔نہ کبھی اُس سے اپنے متعلق کالم لکھنے کی خواہش ظاہر کی ۔انِ سب عوامل کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے دیکھا جا ئے تو یہ بات فطری تھی کہ مجھے سبق سکھایا جاتا ۔اور وہ اُنہوں نے اپنی استعاعت کے مطابق کوشش بھی کی ۔جس کا مجھے کوئی غم بھی نہیں ۔کیوں کہ جو اُس کے کالم پڑھتے ہیں اور اُنہیں آیاتِ کریمہ کا درجہ دیتے ہیں مَیں اُن کو ہی گھامڑ سمجھتا ہوں ۔ظفر اقبال کا کچھ کام بلا شبہ بڑے پیمانے کا اور اپنے دور کے جدید نمونے کا تھا لیکن اُس جدیدیت کو بھی تو اب پچاس سال ہونے کو آئے پُرانا ہو چکا ہے۔اس لحا ظ سے ظفر اقبال کی اپنی شاعری بھی اب جدید نہیں رہی جس کے ضائع شدہ کاغذوں سے آج کل کنکوئے اڑانے کا کام لیا جائے تو یہ بہتر مصرف ہو گا۔ اگر زبان کی دُم کھینچنے ہی کو وہ جدید شاعری کہنے پر مصر ہیں تو پھر جعفر زٹلی کو ظفر اقبال کا روحانی ابا جی کہا جا سکتا ہے۔خیر اس جانے دیجیے ،بر سرِ مطلب،اُن کی زیادہ تر شاعری بے رس اور اور تیسرے درجے کی ہے جو مجھے کبھی اچھی نہیں لگی ہے کسی اور پر میری رائے مسلط نہیں ،نہ میں نے دوسروں کی جمالیات بدلنے کا ٹھیکہ لیا ہے۔ وہ نہایت چالاک اور ڈرامے باز آدمی ہیں ۔اپنی کالم نگاری سے شاعری کو ہوا دیتے ہیں ۔ پاکستان میں جتنے بُرے اور تھرڈ کلاس شاعر ہیں، اُن سب پر چار چار کالم لکھے ہیں ۔ کوئی جتنا ہی بُرا شاعر ہوتا ہے، اپنے کالم میں اُسے اتنا ہی اچھا اور عمدہ شاعر قرار دیتے ہیں ۔ جس کا نتیجہ ہے کہ وہ بُرا شاعر مسلسل ظفر اقبال کی شاعری کی بھونڈی نقالی کرتا ہے اور اِن کی شہرت کو ہوا دیتا ہے ۔ اس طرح یہ بھی خوش اوراِن کے شیاطین کا کنبہ بھی خوش ۔مَیں اُن کی تنقید کو ردی چیتھڑوں کے علاوہ کچھ اہمیت نہیں دیتا ۔ بلکہ اُنہیں پڑھتا ہی نہیں ۔ ظفر اقبال میرے شہر سے تعلق رکھتا ہے اور مَیں اُن کی رگ رگ سے واقف ہوں ۔یہ کبھی اُس شاعر کی تعریف قیامت تک نہیں کرے گا جو اپنے اسلوب میں اچھے اور جدید شعرلکھنے والا ہو گا۔نظم اورافسانے یا ناول کا اِنہیں سِرے سے پتا ہی نہیں ۔نہ یہ ایسی چیزیں پڑھتے ہیں ۔ اُن کا مطالعہ صفر سے کچھ ہی اُوپر ہے ۔ا سلامی تاریخ یا تاریخ سے بیگانہ محض ہیں۔ خوبصورت چیزوں سے لطف نہیں اُٹھا سکتے۔جب کوئی شخص زیادہ کاری گری دکھانا ہی اپنا مقصدِ حیات بنا لے تواُس کے ہاں سے اثر اور جمالیات کی برکت اُٹھ جاتی ہے۔

تصنیف حیدر:کیا اچھے ادیب کو اچھا انسان ہونا چاہیے؟

علی اکبر ناطق:تصنیف صاحب یہ سوال آپ کا بہت پیچیدہ ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ہر انسان اور کلچر اور مذہب کے اعتبار سے انسانوں کی اچھائی بُرائی کے پیمانے الگ الگ ہیں ۔ جو انسان آرٹ پیش کر رہا ہو تا ہے وہ در اصل اپنا اندرون سامنے لا رہا ہو تا ہے ۔ اب یہ ہے کہ اگر وہ واقعی آرٹ کا اعلیٰ نمونہ ہے تو میں سمجھتا ہوں واقعی وہ اچھا انسان بھی ہے ۔ کسی فنکار میں زندگی کے ساتھ بے اعتدالیاں کرنا دراصل اُس فنکار کی زندگی کی بے ترتیبی ہوتی ہے جسے عموماًہم بے سمجھی میں اُس فن کار کی بُرائی پر محمول کر بیٹھتے ہیں ۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ بُرا انسان اچھا ادب پیش ہی نہیں کر سکتا ۔ وہ اچھا کاریگر اور کرافٹ مین تو ہو سکتا ہے لیکن اچھا آرٹ اور دل پذیر فن پارہ تخلیق کرنے سے قاصر ہوتا ہے۔کیوں کے فن پارہ دلوں تک پہنچنے والی چیز ہوتی ہے ۔اگر وہ اچھے دل سے نکلے گی تو دل تک پہنچے گی۔۔

تصنیف حیدر:بہت سے لوگ آپ کی مقبولیت کو آپ کے پبلسٹی اسٹنٹس اور بہتر پی آر کا نتیجہ سمجھتے ہیں ۔آپ اس بارے میں کیا کہیں گے؟

علی اکبر ناطق:تصنیف صاحب اگر آپ کہیں کہ آپ کو موت کے کنویں میں موٹر سائیکل چلانے کا موقع دیا جائے کیونکہ بہت سارے تماشائیوں کی نظر میں آنا چاہتے ہیں ۔حالانکہ زندگی میں موٹر سائیکل ہی نہ چلائی ہو اور کوئی آپ کی بات بھی نہ ٹال سکتا ہو تو بتائیں آپ کتنی دیر وہاں اپنی عزت بر قرار رکھ سکتے ہیں ؟ کسی اعلیٰ عہدے پر مَیں نہیں کہ کسی کو ملازمت دلوا سکتا ۔ یورپ یا امریکہ میں مَیں نہیں رہتا کہ بڑے کانوں والے ادبی اداروں کے چئرمینوں اور کن کھجوروں کی میزبانیاں کر سکوں یا چھچھورے کام نگاروں کو مشاعرے پر بلوا کر اُونچے ملکوں کی سیر کرا دوں۔ مسخرہ مَیں نہیں کہ گنجے وزیرِ اعظموں اور سابقہ صدور کو گھٹیا لطیفے سُنا سکوں۔ اخبار یا ٹیلی وژن کا مَیں مالک نہیں۔سیاست میں میرا پاؤں نہیں ۔ کسی کالج ،یونیورسٹی کا پروفیسر نہیں کہ لونڈوں سے اپنے اوپر مقالے لکھوا لوں ۔مشاعرے میں کوئی مجھے نہیں بلواتا ۔ بھولا چُوکا کوئی بُلا لے تو مَیں نہیں جاتا۔ چاپلوسی میں نہیں کر سکتا ۔کبھی کرنے کی کوشش کروں تو ایسے بے ڈھنگے پن سے کر بیٹھتا ہو ں کہ وہ اُلٹی پڑ جاتی ہے کام پہلے سے زیادہ بگڑ جاتا ہے ۔ دوست جو ملنے آتے ہیں اور بہت آتے ہیں ، وہ اُلٹا میری میزبانی کر کے چلتے بنتے ہیں ۔ہندو پاک کے مشاعرے مَیں منعقد نہیں کرا سکتا ۔ حتیٰ کہ فیس بُک پر مَیں نے تو جعلی آئی ڈی تک نہیں بنائی ۔ نہ اُن پر روز کی روز اپنی نظمیں لگاتا ہوں ۔ چنانچہ وہ اسباب کیا ہیں جن کی وجہ سے میری پی آر بہت ہے اور میری شہرت پبلسٹی اسٹنٹس کا نتیجہ ہے۔بھائی صاحب بات دراصل یہ ہے کہ میں صرف اپنے کام سے کام رکھتا ہوں ۔نہ کسی کی واہ واہ پر دھیان ۔ نہ کسی کے بُرا کہنے پے تماشا اُٹھاتا ہوں ۔ نہ میر کی برابری کا دعوہ ۔نہ غالب کی عظمت شکنی کا خبط ۔پڑھنے اور لکھنے میں مصروف ۔ اور پڑھ کر لوگوں پر رعب بھی جھاڑنے کی طرف کوئی توجہ نہیں ۔ میرے کچھ دوست ایسے ہیں جو مجھ سے کہیں زیادہ پڑھے لکھے ہیں جیسے زیف سید ۔ پھر خود فیصلہ کرو مجھ سے کیوں پوچھتے ہو۔ اصل میں کچھ لوگ چپڑ قناتیے ایسے ہوتے ہیں کہ اپنی شہرت کی خاطر دن رات جینوئن ادبی کام کی بجائے یہی کچھ کرتے نظر آتے ہیں اور یہی شہرت اُن کو نہیں ملتی۔اچھا پاکستان میں تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ میں نے کچھ انہی طریقوں سے شہرت کما لی ،تو کیا ہندوستان میں ،،را،، میرے لیے یہ کام کرتی ہے۔اِدھر یہ ہوئی اُڑی ہے کہ مَیں آئی ایس آئی اور ،،را،، دونوں کا بیک وقت ایجنٹ ہوں ۔ ایسی باتوں پر سوائے ہنسنے کے اور کیا کیا جا سکتا ہے۔ مَیں نے ۲۰۰۹ سے چھپنا شروع کیا ۔ اس عرصے میں میری چار کتابیں سامنے آ چکی ہیں ۔ کیا یہ چیزیں آپ کے سامنے نہیں ہیں ۔بھائی کوئی انصاف بھی چیز ہوتی ہے ۔ دنیا عدل سے ابھی خالی نہیں ہوئی ۔ لوگ اب بھی ایسے ادب پرور اور انصاف پسند موجود ہیں جو خدا لگتی کہتے ہیں ۔ بس وہی لوگ میری پی آرہیں ۔جو دن دُگنی رات چُگنی بڑھ رہے ہیں ۔

تصنیف حیدر: اردو ادب کے دو ایسے نام بتائیے جن کا لکھا ہوا ادب آپ کو پسند نہیں اور یہ بھی کہ کیوں پسند نہیں ؟

علی اکبر ناطق: مجھے اشفاق احمد اور بانو قدسیہ ،دونوں کا لکھا ہوا ادب ایک آنکھ نہیں بھاتا ۔ کیوں کہ یہی دونوں وہ ادیب ہیں جنہوں نے پوری پاکستانی اور نوجوان نسل کو آمر وں کی طرف سے گمراہ کن نام نہادصو فی ازم کی افیون سے نوازااور اس کا بیڑہ غرق کر دیا ۔ان کے ادب کی پوری بنیاد دھوکا، فراڈ ،عقل و خرد سے دور لے جانے والی اور ترقی سے ہٹانے والی تھی۔ یہ خود جعلی صوفی بنے ہوئے تھے اور ان کا پیر قدرت اللہ شہاب اِن سے بڑا فراڈیہ تھا،جس کا ایک اور مرید ممتاز مفتی تھا۔ یہ سب لوگ یا ادیب کہہ لیں، جھوٹے اور ڈکٹیڑروں ، سرمایہ داروں ،جاگیر داروں ،اور اشرافیہ کے لیے دراصل کام کرنے والے تھے۔جنہیں ٹیلی وژن کا سہارا دے کے پروموٹ کیا گیا اور قوم کا خانہ خراب کیا گیا ۔حالانکہ ان کا لکھا ہوا ادب سرے سے ادب ہی نہیں تھا۔ بالکل خراب اردو لکھتے تھے مگر ایک خاص مقصد کے تحت سی ایس ایس کے امتحانوں میں شامل کر کے اِن کے واہیات لکھے ہوئے لٹریچر کی جڑیں ہماری بنیادوں کے اندر تک پہنچا دی گئیں ۔ جس کی وجہ سے ہماری آئندہ کئی نسلیں بھی فکر و عمل سے دور رہیں گی اور ہوائی قلعے تعمیر کریں گی ۔ راجہ گد ھ جو ایک ناول ہے وہ بھی کچھ اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ 

news-0801

yakinjp


sabung ayam online

yakinjp

yakinjp

rtp yakinjp

yakinjp

yakinjp

judi bola online

slot thailand

yakinjp

yakinjp

yakinjp

yakinjp

ayowin

mahjong ways

judi bola online

mahjong ways 2

JUDI BOLA ONLINE

maujp

maujp

sabung ayam online

maujp

maujp

maujp

maujp

sabung ayam online

mahjong ways slot

sbobet88

live casino online

Situs Agen Togel

MAUJP

118000021

118000022

118000023

118000024

118000025

118000026

118000027

118000028

118000029

118000030

118000031

118000032

118000033

118000034

118000035

118000036

118000037

118000038

118000039

118000040

118000041

118000042

118000043

118000044

118000045

118000046

118000047

118000048

118000049

118000050

128000021

128000022

128000023

128000024

128000025

128000026

128000027

128000028

128000029

128000030

128000031

128000032

128000033

128000034

128000035

128000036

128000037

128000038

128000039

128000040

128000041

128000042

128000043

128000044

128000045

128000046

128000047

128000048

128000049

128000050

138000021

138000022

138000023

138000024

138000025

138000026

138000027

138000028

138000029

138000030

138000031

138000032

138000033

138000034

138000035

138000036

138000037

138000038

138000039

138000040

138000041

138000042

138000043

138000044

138000045

138000046

138000047

138000048

138000049

138000050

148000026

148000027

148000028

148000029

148000030

148000031

148000032

148000033

148000034

148000035

148000036

148000037

148000038

148000039

148000040

148000041

148000042

148000043

148000044

148000045

148000046

148000047

148000048

148000049

148000050

148000051

148000052

148000053

148000054

148000055

148000056

148000057

148000058

148000059

148000060

148000061

148000062

148000063

148000064

148000065

148000066

148000067

148000068

148000069

148000070

158000041

158000042

158000043

158000044

158000045

158000046

158000047

158000048

158000049

158000050

158000051

158000052

158000053

158000054

158000055

158000056

158000057

158000058

158000059

158000060

158000061

158000062

158000063

158000064

158000065

158000066

158000067

158000068

158000069

158000070

168000011

168000012

168000013

168000014

168000015

168000016

168000017

168000018

168000019

168000020

168000021

168000022

168000023

168000024

168000025

168000026

168000027

168000028

168000029

168000030

168000031

168000032

168000033

168000034

168000035

168000036

168000037

168000038

168000039

168000040

178000036

178000037

178000038

178000039

178000040

178000041

178000042

178000043

178000044

178000045

178000046

178000047

178000048

178000049

178000050

178000051

178000052

178000053

178000054

178000055

178000056

178000057

178000058

178000059

178000060

178000061

178000062

178000063

178000064

178000065

188000141

188000142

188000143

188000144

188000145

188000146

188000147

188000148

188000149

188000150

188000151

188000152

188000153

188000154

188000155

188000156

188000157

188000158

188000159

188000160

188000161

188000162

188000163

188000164

188000165

188000166

188000167

188000168

188000169

188000170

198000031

198000032

198000033

198000034

198000035

198000036

198000037

198000038

198000039

198000040

198000041

198000042

198000043

198000044

198000045

198000046

198000047

198000048

198000049

198000050

198000051

198000052

198000053

198000054

198000055

198000056

198000057

198000058

198000059

198000060

218000021

218000022

218000023

218000024

218000025

218000026

218000027

218000028

218000029

218000030

218000031

218000032

218000033

218000034

218000035

218000036

218000037

218000038

218000039

218000040

218000041

218000042

218000043

218000044

218000045

218000046

218000047

218000048

218000049

218000050

228000016

228000017

228000018

228000019

228000020

228000021

228000022

228000023

228000024

228000025

228000026

228000027

228000028

228000029

228000030

228000031

228000032

228000033

228000034

228000035

228000036

228000037

228000038

228000039

228000040

228000041

228000042

228000043

228000044

228000045

228000046

228000047

228000048

228000049

228000050

238000001

238000002

238000003

238000004

238000005

238000006

238000007

238000008

238000009

238000010

238000011

238000012

238000013

238000014

238000015

238000016

238000017

238000018

238000019

238000020

news-0801
content-0801

yakinjp


sabung ayam online

yakinjp

yakinjp

rtp yakinjp

yakinjp

yakinjp

judi bola online

slot thailand

yakinjp

yakinjp

yakinjp

yakinjp

ayowin

mahjong ways

judi bola online

mahjong ways 2

JUDI BOLA ONLINE

maujp

maujp

sabung ayam online

maujp

maujp

maujp

maujp

sabung ayam online

mahjong ways slot

sbobet88

live casino online

Situs Agen Togel

MAUJP

118000021

118000022

118000023

118000024

118000025

118000026

118000027

118000028

118000029

118000030

118000031

118000032

118000033

118000034

118000035

118000036

118000037

118000038

118000039

118000040

118000041

118000042

118000043

118000044

118000045

118000046

118000047

118000048

118000049

118000050

128000021

128000022

128000023

128000024

128000025

128000026

128000027

128000028

128000029

128000030

128000031

128000032

128000033

128000034

128000035

128000036

128000037

128000038

128000039

128000040

128000041

128000042

128000043

128000044

128000045

128000046

128000047

128000048

128000049

128000050

138000021

138000022

138000023

138000024

138000025

138000026

138000027

138000028

138000029

138000030

138000031

138000032

138000033

138000034

138000035

138000036

138000037

138000038

138000039

138000040

138000041

138000042

138000043

138000044

138000045

138000046

138000047

138000048

138000049

138000050

148000026

148000027

148000028

148000029

148000030

148000031

148000032

148000033

148000034

148000035

148000036

148000037

148000038

148000039

148000040

148000041

148000042

148000043

148000044

148000045

148000046

148000047

148000048

148000049

148000050

148000051

148000052

148000053

148000054

148000055

148000056

148000057

148000058

148000059

148000060

148000061

148000062

148000063

148000064

148000065

148000066

148000067

148000068

148000069

148000070

158000041

158000042

158000043

158000044

158000045

158000046

158000047

158000048

158000049

158000050

158000051

158000052

158000053

158000054

158000055

158000056

158000057

158000058

158000059

158000060

158000061

158000062

158000063

158000064

158000065

158000066

158000067

158000068

158000069

158000070

168000011

168000012

168000013

168000014

168000015

168000016

168000017

168000018

168000019

168000020

168000021

168000022

168000023

168000024

168000025

168000026

168000027

168000028

168000029

168000030

168000031

168000032

168000033

168000034

168000035

168000036

168000037

168000038

168000039

168000040

178000036

178000037

178000038

178000039

178000040

178000041

178000042

178000043

178000044

178000045

178000046

178000047

178000048

178000049

178000050

178000051

178000052

178000053

178000054

178000055

178000056

178000057

178000058

178000059

178000060

178000061

178000062

178000063

178000064

178000065

188000141

188000142

188000143

188000144

188000145

188000146

188000147

188000148

188000149

188000150

188000151

188000152

188000153

188000154

188000155

188000156

188000157

188000158

188000159

188000160

188000161

188000162

188000163

188000164

188000165

188000166

188000167

188000168

188000169

188000170

198000031

198000032

198000033

198000034

198000035

198000036

198000037

198000038

198000039

198000040

198000041

198000042

198000043

198000044

198000045

198000046

198000047

198000048

198000049

198000050

198000051

198000052

198000053

198000054

198000055

198000056

198000057

198000058

198000059

198000060

218000021

218000022

218000023

218000024

218000025

218000026

218000027

218000028

218000029

218000030

218000031

218000032

218000033

218000034

218000035

218000036

218000037

218000038

218000039

218000040

218000041

218000042

218000043

218000044

218000045

218000046

218000047

218000048

218000049

218000050

228000016

228000017

228000018

228000019

228000020

228000021

228000022

228000023

228000024

228000025

228000026

228000027

228000028

228000029

228000030

228000031

228000032

228000033

228000034

228000035

228000036

228000037

228000038

228000039

228000040

228000041

228000042

228000043

228000044

228000045

228000046

228000047

228000048

228000049

228000050

238000001

238000002

238000003

238000004

238000005

238000006

238000007

238000008

238000009

238000010

238000011

238000012

238000013

238000014

238000015

238000016

238000017

238000018

238000019

238000020

content-0801