چڑھائی

وہ بوڑھا بانسوں کے جھنڈ کے پاس پہنچ کر رک گیا۔ اس نے اوپر نظر دوڑائی۔سال کے ننگے پیڑوں کے درمیان گایوں کے نیم پوشیدہ جسم حرکت کررہے تھے۔ اس نے اپنی لاٹھی آہستہ سے آم کے پیڑ کے سہارے ٹکائی، اپنے بدن کو پیڑ کا سہارا دیا اور تھکان مٹانے کے لیے بیٹھ گیا۔اس نے اپنی آنکھیں موند لیں۔

اس حالت میں وہ چوکیدار نہیں لگ رہا تھا۔ حالانکہ لوگ اسے چوکیدار کہا کرتے تھے کیونکہ تیس برس پہلے تک وہ چوکیدار ہوا کرتا تھا۔تیس برس پہلے جب وہ بوڑھا ہوا اس کے مالکوں نے اس کی چھٹی کردی۔تیس برس بعد بھی وہ بوڑھا تھا۔۔۔

اس نے آنکھیں کھولیں جیسے نیند سے بیدار ہوا ہو۔اس کے سامنے بچوں کا جھنڈ تھا۔اسے حیرت ہوئی جیسےبچے بنا آہٹ کیے ہوئے آسمان سے ٹپک پڑے ہوں۔

‘تم کو مار پڑی تھی نا؟’ ان میں سے ایک بولا۔

‘داداجی تم چور تھے؟’دوسرے نے کہا۔

پھر سب بچے کھلکھلائے۔ وہ مسکرایا، اس کی بے ترتیبی سے کتری ہوئی مونچھوں میں کچھ جنبش ہوئی۔اس نے لاٹھی اٹھائی اور انہیں دکھائی۔وہ سب دور بھاگے۔اس نے لاٹھی پھر پیڑ کے سہارے ٹکا دی۔

‘بہت پیلے کی۔’ان میں سے کوئی بولا۔

‘ہاں!’اس نے پیٹھ پیڑ کے تنے سے زمین کی طرف کھینچ لی اور پیڑ کو تکیے کی طرح استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہوا لیٹ سا گیا۔’تب یہاں ایک سادھو رہتا تھا۔سمجھے؟ اس  کی مرغیاں تھیں، مرغیاں۔۔۔بہت ساری۔آٹھ، دس، پندرہ، پچیس، پچاسوں مرغیاں۔میں پتھر ماروں، وہ بھاگ جائیں۔ایک مرتبہ اس سادھو نے مجھے پکڑ لیا۔’

بچے ہنسے۔بوڑھا ان کی ہنسی کی برسات رکنے کا انتظار کرتا رہا۔ وہ رکے۔بوڑھے نے کروٹ لی۔’پھر اس نے مجھے لاٹھی ماری۔سمجھے؟لاٹھی سے پیٹا۔’

بچے چپ تھے۔وہ اس کے چہرے کو دیکھ رہے تھے۔اس کا لمبا سا منہ۔آڑھے ٹیڑھے دانت، کتری ہوئی مونچھیں اور بکھرے ہوئے بال۔

‘میں چور تھا۔’سال کے مرے ہوئے پتے چرمرائے۔وہ آہستہ آہستہ اٹھتے ہوئے بیٹھ گیا۔اس نے لاٹھی اٹھائی اور اسے بچوں کی طرف ہلاتے ہوئے کہا۔’گائیں اجاڑ پر گئی ہوئی ہیں، جلدی بھاگو۔’

بچے ہڑبڑا کر اٹھے۔پہاڑی کی طرف دوڑے۔ان کے دوڑتے قدموں کے نیچے سال کے پتے چرمرائے۔وہ لاٹھی ٹکائے دھیرے دھیرے اٹھ کھڑا ہوا۔پیچھے سے لڑھکتے پتھروں کی آواز کے بیچ گایوں کی گھنٹیاں ٹنٹنائیں۔بچے گایوں کو ہنکاتے دور چلے گئے۔

اس نے ایک قدم آگے بڑھایا اور پھر رک گیا۔وہ سڑک بانسوں کے جھنڈ کے آگے پتلی ہوگئی تھی۔اس نے نیچے کی طرف دیکھا۔ایک لمبی ڈھلان۔جھاڑیاں بے ترتیبی سے بکھری ہوئیں۔یہاں وہاں پیڑوںکی چھاؤن تلے وہ گھنی ہوگئی تھیں۔اس نے ہوا کھینچی، اپنا بایاں ہاتھ کمر پر رکھا اور آگے بڑھ گیا۔

چار قدم چلنے کے بعد اسے لگا جیسے کوئی اس کے پیچھے پیچھے تیزی سے آرہا ہے۔ وہ رک گیا اور دھیرے دھیرے ایک لے کے ساتھ پیچھے  مڑا۔سامنے سے کوئی چالیس برس کا آدمی چلا آرہا تھا۔اسے اس کا چہرہ عجیب سالگا۔ ایسے چہرے اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھے تھے، چوکیداری کے ان برسوں میں بھی نہیں۔ایک دم گورا چہرہ جس پر ہری آنکھیں چوکور لمبے چوکھٹے کے اوپر کسی منی کی طرح چمک رہی تھیں۔

وہ اس سے کوئی پانچ قدم دور رک گیا۔ اس کے بدن سے پسینے کی بو آرہی تھی۔بوڑھا پسینے کی بو سے پریشان تھا یا شاید نہیں تھا۔اجنبی آدمیوں سے پریشان نہیں ہونا چاہیے۔ان پر نظر رکھنی چاہیے، چوکیداری کا یہ ہنر اس نے ایجاد کیا تھا اور اب بھی اس پر عمل کرتا تھا۔حالانکہ اب وہ چوکیدار نہیں تھا۔

‘جی سنیے۔۔۔ذرا ایک منٹ۔’اجنبی کی آواز بڑی باریک تھی اور اس کی ایک انگلی ہتھیلی سے الگ نکل آئی تھی۔

بوڑھا مسکرایا۔اس کی مونچھیں تھرتھرائیں۔وہ سڑک کے بیچ میں بیٹھ گیا۔

‘بیٹھو!’

‘جی۔۔۔لمبا راستہ ہے۔’اجنبی نے کہا اور سڑک کے کنارے آس پاس کچھ تلاش کرنے لگا۔ایک ابھرا ہوا پتھر دیکھ کر وہ وہاں تک چلا گیا اور اس پر بیٹھ گیا۔’میں بڑی دور سے آیا ہوں۔کیا سوری کا راستہ یہی ہے؟’

بوڑھے نے سر اس انداز میں ہلایا جس کا مطلب صرف ہاں ہوتا ہے۔

‘خدا کا شکرہے۔میں امید کررہا تھا کہ یہی راستہ ہو۔’بوڑھا چپ رہا۔اجنبی بھی چپ ہوگیا۔

دور جنگل میں کہیں ایک مرغا کڑکڑایا۔

اجنبی جیب سے رومال نکال کر پسینہ پونچھنے لگا۔بوڑھا چپ چاپ بیٹھا رہا۔کئی پل اسی طرح گزر گئے۔ اسی درمیان صرف جھاڑیوں میں پیچھے سے بٹیر نکل کر نیچے ڈھلان کی طرف اترے۔۔۔ایک توتا نزدیک کسی پیڑ پر اترا اور دور سے بندر نیچے اترے۔

‘میں نے لوگوں سے پوچھا تھا۔انہوں نے بتایا تھا کہ سوری کے لیے بہت چڑھائی چڑھنا ہوگی۔ ابھی تک تین کلو میٹر طے کرچکا ہوں، کوئی خاص چڑھائی نہیں ہے۔’

بوڑھے نے سنا اور صرف سر ہلایا۔اس نے لاٹھی اپنے ہاتھ میں لے لی۔

‘راستہ یہی ہے نا؟’

‘ہاں۔’اس بار بوڑھا بولا۔

‘میں نے سوچا کہیں غلط راستہ نہ بتادیا ہو۔’

‘ہمارے یہاں لوگ ایسا نہیں کرتے۔’بوڑھے نے پھر لاٹھی زمین پر رکھ دی۔

‘سوری میں کوئی رام پرساد جی ہیں۔ چھیانوے برس کی عمر ہے ان کی۔’

بوڑھے نے آنکھیں موندیں اور پھر سرہلایا۔

‘ان میں کافی آب ہے۔میں ان سے ملنے جارہا ہوں۔آپ سوری میں ہی رہتے ہیں؟’بوڑھے نے سر ہلایا۔پھر دھیرے سے کہا۔’ہاں!’

‘آپ رام پرساد جی کو جانتے ہوں گے۔’

‘ہاں۔’

‘وہ مل جائیں گے؟’

‘شاید۔’

‘میں نے سنا ہے کہ وہ بڑھاپے سے نہیں ڈرتے۔’

‘ہوجاتا ہے۔اب بوڑھوں کا کیا بھروسہ۔’

پھر کچھ پل خاموشی رہی۔وہ اجنبی اٹھ کھڑا ہوا۔’کتنی دور اور جانا ہے؟’

‘جتنا چل آئے ہو اتنا ہی اور چلنا پڑے گا۔’

‘جی لگتا ہے پہلے یہاں گھنا جنگل رہا ہوگا۔’

‘تھا۔بہت گھنا تھا۔’

‘آپ روز اس راستے سے جاتے ہیں؟’

‘تقریباً روز۔’

‘آگے چڑھائی تو نہیں ہے؟’

‘ہے۔بہت لمبی ہے۔’

‘کتنا آگے سے شروع ہوگی؟’

‘سامنے  جو موڑدکھائی دے رہا ہے۔اس کے بعد ایک موڑ اور ہے کوئی پچاس قدموں  کے بعد۔پھربس چڑھائی ہی چڑھائی، پوری سوری تک۔’

‘جی شکریہ۔’اس نے کہا اور آگے بڑھ گیا۔سال کے  مرے ہوئے پتے اس کے جوتوں تلے چرمرائے۔

بوڑھا اٹھا اور ایک لے کے ساتھ پیچھے کی طرف مڑا۔اجنبی دور جارہا تھا۔اس کی نیلی قمیص دھیرے دھیرے موڑ کے پیچھے گم ہوگئی۔اب وہ پھر اکیلا تھا۔سوری میں شاید ایک دن آئے گا جب اکیلا وہی رہ جائے گا۔تیس برس پہلے، جب بڑھاپا اس پر اثر دکھانے لگا تھا اور نوکری سے چھٹی ہوچکی تھی، سوری میں تیس گھر تھے۔اب تیس برس بعد سوری میں چھ گھر رہ گئے ہیں۔اس نے قدم آگے بڑھائے۔کچھ اپنے دم پر، کچھ لاٹھی کے سہارے۔

سال کا کوئی پتالاٹھی کے نیچے آتا یا اس کے پیروں کے نیچے تو عجیب سی چرمراہٹ ہوتی۔پھر سب طرف خاموشی چھاجاتی۔پہلے ایسا نہیں ہوتا تھا۔تب پوری سڑک سال کے پتوں سے بھری رہتی تھی۔پورا جنگل یکایک ننگا لگنے لگتا اور پت جھڑ  ایک بے شرم سا موسم معلوم ہوتا۔نیچے  جل دھار سے جنگل اوبا ہوا معلوم ہوتا تھا، اب تو جل دھار سے جنگل دکھتا ہی نہیں۔برسوں میں آہستہ آہستہ سب ختم ہوجاتا ہے اور پہچاننا بہت مشکل ہوتا ہے کہ یہاں پہلے کیا تھا۔اپنے طور پر بوڑھا اس بات کو سوچتا رہا اور سوچتے سوچتے موڑ کے پاس پہنچ گیا۔

ٹھیک سامنے موڑ کے ساتھ ساتھ سوری کی وہ مشہور چڑھائی ہوتی تھی۔جب وہ جوان تھا تو گھنٹے بھر میں بنا تھکے یہ چڑھائی چڑھ جایا کرتا تھا۔تب وہ چوکیدار تھا۔اب وہ چوکیدار تو کیا بلکہ جوان بھی نہیں ہے۔اسے لگا چڑھائی تو اتنی ہی چھوٹی ہے، بس ذرا آرام کرنے کی ضرورت ہے۔اس نے ایک پیڑ کے سہارے اپنی لاٹھی اور پیٹھ ٹکائی اور آنکھیں بند کرلیں۔

کچھ لمحوں بعد نزدیک ہی قدموں کی آہٹ ہوئی اور ایک آواز ابھری،’نمستے چوکیدار جی۔۔۔’

‘کون؟پھَرتی؟’ اس نے آنکھیں بند رکھیں۔

‘نہیں، سِتاب سنگھ۔’جواب آیا۔’

اس نے آنکھیں کھولیں۔سامنے کھچڑی بالوں والا پھَرتی تھا۔اس کی قمیص کے بٹن ٹوٹے تھے اور پجامے پر جگہ جگہ پسرے پیوند یہاں وہاں سے ادھڑ رہے تھے۔

‘تو میرے سامنے پیدا ہواتھا۔’بوڑھا بولا۔’

‘جی۔۔ہاں جی۔چوکیدار جی۔’

‘چوکیدار کے بچے۔تو بچہ ہے۔’

‘ہاں جی۔۔ہاں جی۔۔بچہ ہوں۔’

‘تو بچہ ہے۔سمجھا؟تیری مونچھ کہاں ہے؟ جب میں تیری عمر کا تھا۔سمجھا۔۔کے سال پہلے؟’

‘جی بہت پہلے۔۔’

‘کے سال؟’

‘پچاس سال۔۔۔’

‘ہمم۔۔۔پچاس سال۔۔سمجھا؟ میری مونچھ ذرا ہلتی تو تہلکہ مچ جاتا۔بابو ہنومنت کہتے کہ رام پرساد! تیری مونچھ سلامت رہے۔میری عزت سلامت رہے گی۔’بوڑھا بولتے ہوئے پھرتی کے چہرے کو پڑھتا رہا۔وہ بے حد کمزور چہرہ تھا۔پھرتی کے کھچڑی بال اس چہرے پر بے شرمی سے جھکے تھے۔

‘ڈگڈر (ڈاکٹر)نے کچھ بتایا؟’اب بوڑھے کو چِنتا ہوئی۔

‘آج بلایا ہے۔’

‘سرکاری ڈگڈر۔۔سرکاری، کچھ کہا، کیا روگ ہے؟’بوڑھے نے لاٹھی ہاتھ پر لے لی اور اپنے کو پیڑ سے الگ  کیا۔

‘ڈگڈرنے کچھ نہیں بتایا چوکیدار جی۔میں نے بہت کہا کہ ڈگڈر صاحب بتادو۔ ہم ڈرپوک نہیں ہیں۔ڈگڈر نے کہا شاید ٹی بی ہے۔۔ابھی جانچ ہوگی۔’

‘ہمم۔۔۔چنتا مت کر۔معمولی چیز ہے۔سمجھا؟ جا جلدی جا۔۔’بوڑھے کی آنکھیں نم ہوگئیں۔پھرتی نیچے کی طرف دھیرے دھیرے چلتے ہوئے گم ہوگیا۔نیچے۔۔جہاں جل دھار ہے۔سرکاری ہسپتال بوڑھے نے چڑھائی پر چڑھنا شروع کردیا۔دور کہیں تیتر بولنے لگا۔۔۔ٹڈ۔۔ٹڈ۔۔ٹی ٹی ٹڈ۔۔

پہلے اس حصے میں بھی سال  کے درخت تھے، اب نہیں رہے۔ادھر آم اور جامن کے پیڑ فاصلوں کو ڈھکتے ہوئے کھڑے ہیں۔ ڈھلان پر آم کے دو پیڑ مرے پڑے تھے۔ٹوٹے ہوئے۔اب جنگل کو بھی ٹی بی ہوگیا ہے۔۔نہیں بچے گا۔

‘بابا! سوری اور کتنی دور ہے۔۔۔’پیچھے سے ایک تیکھی آواز آئی۔

یہ بڑی بے تاب آواز تھی۔وہ رک گیا اور انتظار کرنے لگا۔پیچھے سے جو بھی آرہا ہوگا اس کے سامنے پہنچ جائے گا۔اسے قدموں کی آواز سے لگا کہ ایک سے زیادہ لوگ ہیں۔

وہ دو تھے۔لڑکا اور لڑکی۔لڑکا پتلا تھا اور لمبا۔۔اس کی انگلیاں پتلی تھیں۔اور وہ ہانپ رہا تھا۔لڑکی اس بات سے انجان تھی کہ اسے دیکھا جارہا ہے۔وہ پسینے سے نہائی ہوئی تھی۔ اس کے ماتھے پر گول بندی آدھی گھل گئی تھی۔وہ لڑکے کے کندھے کا سہارا لے کر کھڑی رہی اور سانس کھینچتی رہی۔

‘سوری کیا بہت دور ہے؟لڑکے کی آواز میں بے تابی تھی۔

‘نہیں۔تین میل ہے بس۔’بوڑھے نے دھیرے سے کہا۔

‘ہم جل دھار سے چلے تھے۔’

‘ہمم۔۔’

‘بیچ میں کوئی بستی ہوگی؟’لڑکی نے لڑکے کے کندھے کا سہارا چھوڑتے ہوئے تھکی ہوئی آواز میں پوچھا۔

‘نہیں۔’بوڑھے کی آواز خشک تھی۔

‘دیکھا؟ میں نے کہا تھا نا۔۔۔’لڑکے نے لڑکی طرف دیکھا۔

‘آگے چڑھائی اسی طرح ہے؟’لڑکی بوڑھے کو دیکھ رہی تھی۔

‘ہمم۔۔۔’بوڑھا مسکرایا۔اس کی بے ترتیبی  سے ترشی ہوئی مونچھیں ذرا ہلیں۔ان کے بیچ بات چیت کے لیے شاید اب کچھ نہیں بچا تھا۔وہاں خاموشی پسر گئی۔نیچے ڈھلان اپنا پھیلاؤ کھورہی تھی۔پت جھڑ یکایک گھنا ہوگیا۔آدمیوں کے بیچ جب باتوں کے پتے چھوٹ کر  گر جاتے ہیں تو پت جھڑ گھنا ہوجاتا ہے۔تبھی جنگل میں دور کہیں مرغے نے بانگ لگائی۔

بوڑھا چونک گیا۔لڑکی دھیرے سے ہنس دی۔بوڑھے کو یہ ہنسی اچھی لگی۔وہ بھی مسکرادیا۔اس کی مونچھیں تھرتھرائیں۔

‘بابا تمہاری عمر کتنے سال ہے؟’لڑکے نے اچانک پوچھا۔

‘کیا کروگے؟’ بوڑھے نے کہا۔

‘یہ کہتی ہے اسی ہے۔میں کہتا ہوں بیاسی ہے۔’

بوڑھا صرف مسکرایا۔

‘ہاں بابا۔۔بتاؤ۔’لڑکی نے کہا۔

بوڑھا پھر مسکرایا۔’بہت ہے۔’

‘پھر بھی۔۔کتنی؟’

‘کون جانے۔’

‘بابا پرانے لوگ گنتی بھول جاتے ہیں۔’لڑکی ہنس دی۔’میری قسم۔۔بابا بول دو نوے سال، تب ہم دونوں کی بات غلط ہوجائے گی۔’

‘چھیانوے سال’بوڑھا مسکراکر بولا۔

وہ دونوں چونکے۔پھر ان کی حیرانی سے وہاں مزید خاموشی چھاتی گئی۔آخر کار لڑکی نے چوٹ لگائی۔’تمہاری بڑھیا بھی بوڑھی ہوگی۔’

‘ہمم۔’بوڑھے نے صرف یہ آواز نکالی۔

‘تمہاری لڑائی ہوتی ہے؟’

‘نہیں۔’

‘پھر دونوں پیار سے رہتے ہو؟’لڑکی کھلکھلائی۔

‘نہیں۔’

‘وہ کھانا پکاتی ہے؟’

‘نہیں’

‘تمہارے ساتھ رہتی ہے۔’

‘نہیں۔’

‘تمہارے لڑکوں کے ساتھ۔’

‘نہیں۔’

‘تم بھی عجیب ہو۔’

‘ہوں۔’بوڑھا اس بار مسکرایا نہیں۔وہ ڈھلان کو دیکھ رہا تھا۔اگر کوئی پھسلا تو پھسلتا ہی چلا جائے گا۔پچھلے سال کشن سنگھ کے ناتی کی گائے پھسل گئی تھی۔

‘چلو۔’لڑکے کی بے تاب آواز سے وہ چونکا۔ایک دوسرے سے سٹے ہوئے وہ چڑھائی پر دور ہوتے گئے۔لڑکی کی ساڑی کا پیلا دھبا دور سے ان کے ہونے کی پہچان بنارہا۔اب کئی رنگ بوڑھے کی نظر سے پرے ہوگئے ہیں۔آگے کہیں موڑ کے بعد وہ گم ہوگئے۔

اب اس لمبی چڑھائی پر بوڑھا اکیلا تھا۔وہ لاٹھی پر اپنے بدن کا بوجھ ڈالے دھیرے دھیرے چڑھائی چڑھنے لگا۔سڑک چوڑی تھی اور اوبڑ کھابڑ بھی۔پہلے جب پگڈنڈی تھی تب وہ اوبڑ کھابڑ نہیں تھی۔تب ایک ہی آدمی  ایک جگہ چل پاتا تھا۔تب اکثر وہ پرمیسُری کے ساتھ آتا۔تب اس کی چال میں تیزی ہوا کرتی تھی اور پرمیسُری پیچھے چھوٹ جاتی تھی۔تب لوگ پگڈنڈی پر سے چلتے تھے۔اب یہ سڑک ہے اور اب لوگ اس پر نہیں چلتے۔اب لوگ نہیں ہیں۔وہ پتہ نہیں کہاں کھوگئے؟سال کے پتوں کی طرح۔۔۔

اس کی لاٹھی سال کے پتوں پر پڑی۔ایک پہچانی ہوئی چرمراہٹ سن کر اسے سکون ملا۔سال کے پتوں سے اٹھتی ہوئی یہ آواز ہر پت جھڑ میں اس کے لیے سنگیت کی طرح اٹھتی۔یہ چرمراہٹ کہیں گھنی ہوتی، کہیں مدھم اور کہیں بالکل چپ۔اس کا گھنا پن بوڑھے کو سکھ دیتا اور اس کا بالکل نہ ہونا ریگستان جیسا دکھ دیتا۔سڑک کے جس حصے میں پیڑ نہیں ہوتے وہ کٹھور ہوجاتی، ظالم اور جابر۔

سڑک سنکری ہوگئی تو وہ رک گیا۔آگے موڑ تھا اور وہاں سے سوری ڈھائی میل تھا۔ پرمیسُری پوچھتی تھی۔’کتنی اور ہے؟’ وہ کہتا۔’بس ذرا اور، ڈھائی میل۔۔۔’وہ دونوں ایک بڑے پیڑ کی چھاؤں تلے بیٹھ جاتے تھے۔ دس ایک برس ہوئے ہوں گے وہ پیڑ آندھی سے اکھڑ گیا۔بوڑھا وہاں ابھر آئی کھائی کو دیکھنے لگا۔ہر برسات کھائی چوڑی ہوتی گئی اور ہر پت جھڑ سال کے پتے اسے بھرنے کی کوشش کرتے رہے۔

ایک چھوٹے پیڑ کے سہارے بوڑھا بیٹھ گیا اور آنکھ بند کر کے تھکان مٹانے لگا۔

اوپر سے آتی قدموں کی چاپ سن کر اس نے آنکھیں کھلویں۔رگھو اور بچنا آرہے تھے۔رگھو نے بچنا کا سہارا لے رکھا تھا۔

‘نمستے چوکیدار جی۔’بچنا بولا۔

‘آؤ بیٹھو۔’بوڑھے نے پیڑ کے تنے پر پیٹھ ٹکائے ٹکائے ایک طرف سرک کر ان کے لیے جگہ بنائی گویا وہ کسی بس میں سفر کررہے ہوں۔رگھو بیٹھتے ہوئے دھیرے سے کراہا۔

‘ٹھیک ہوجائے گا۔’بوڑھے نے ملائم آواز میں کہا۔

‘تین دن سے ہسپتال جا رہے ہیں۔’بچنا بولا۔

بوڑھے نے رگھو کی طرف دیکھا۔اس کا پاؤں موٹا ہوآیا تھا۔

‘پھَرتی ملا؟”رگھو بڑی مشکل سے بول سکا۔

‘ہمم۔’

‘اسے ٹی بی ہے۔’بچنا نے کہا۔

‘ہمم۔’

‘بڑا خراب روگ ہے۔’

‘نہیں۔’بوڑھے نے ڈھلان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

‘سچ، چوکیدار جی، خراب ہے۔’

اچانک بوڑھے کی آنکھیں گیلی ہوگئیں۔وہاں پتہ نہیں کہاں سے آنسو آگئے تھے۔ کوئی اگر دیکھ پاتا تو وہاں  پرمیسُری ڈبڈباتی ہوئی دکھ جاتی۔ٹی بی سے دم توڑتی ہوئی۔

‘چلو۔۔۔’بچنا کی آواز ابھر آئی۔کراہتا ہوا رگھو اٹھا اور وہ دونوں ڈھلان میں اتر گئے۔بوڑھے کے آنسو سوکھنے لگے تھے۔ اسے گالوں پر عجیب چپچپاہٹ محسوس ہوئی۔وہ اٹھا اور بڑھ گیا۔

یہ سب سے کٹھن چڑھائی تھی۔اس چڑھائی کے بعد ایک موڑ ہے پھر چڑھائی کم ہے اور  سڑک کے کنارے آم کے پیڑ ہیں، بڑی بڑی چٹانیں ہیں جن پر آرام سے لیٹا جاسکتا ہے۔ جب وہ چوکیدار تھا تو بنا کہیں رکے سیدھا سوری پہنچ کر دم لیتا تھا۔سامنے سے کوئی اسے گھورتے ہوئے آرہا تھا۔بوڑھا اسے پہچان نہیں پایا۔

‘چاچا نمستے!’وہ پاس آگیا تھا اس نے چشمہ لگا رکھا تھا۔اس کے سر پر بال کم تھے۔ جو تھے وہ سب سفید تھے۔بوڑھا اسے گھورتا رہا۔

‘نہیں پہچانے؟’وہ آدمی مسکرایا۔

بوڑھے نے سرہلایا۔

‘میں رام پھل ہوں۔۔۔’

‘اومُمرِت لال کے لڑکے۔ہمم۔۔۔کب آئے؟’

‘پرسوں۔آپ کے گھر گیا تھا۔کنڈی لگی تھی۔پتہ چلا چار دن سے آئے ہی نہیں۔’

‘ہاں ذرا جل دھار رکا رہا۔کے دن ہو؟’

‘اب کہاں جانا چاچا۔زندگی گزر گئی۔’

‘ہوش میں ہیں؟’

‘چاچا اب ریٹائر ہوگیا۔’

‘ٹھیک ہے۔اچھا ہے۔آرام کرو۔’

کیسے کٹے گی؟’

‘جیسی میری کٹی۔۔۔’اب وہ بوڑھا نہیں لگ رہا تھا۔

‘مگر چاچا تمہاری بات اور تھی۔’

‘کیا تھی؟تیس سال کاٹ لیے۔پرمیسُری گئی۔پھر چوکیداری گئی۔’وہ پھر سے بوڑھا ہوگیا۔

‘اچھاچاچا ایک بات پوچھوں۔برا مت ماننا۔’

‘پوچھ۔’

‘آپ کی عمر کتنی ہوگی؟’

‘چھیانوے سال۔’

‘چاچا پچھلے سال بھی آپ یہی بتارہے تھے۔’

‘ستانوے ہوگی۔’

‘اس سے پچھلے سال بھی چھیانوے بتائی تھی۔’

‘تو اٹھانوے ہوگی۔’

‘چاچا کیا بات ہے؟آپ پچھلے کئی سالوں سے چھیانوے  سے آگے نہیں بڑھے۔’رام پھل نے ہنستے ہوئے کہا۔

‘تو نیانوے ہوگی۔’بوڑھے نے دھیرے سے کہا اور آگے بڑھ گیا۔

چڑھائی چڑھتے ہوئے اس کی سانس پھولنے لگی۔وہ آگے چلتا چلا گیا۔اب ہانپنے لگا تھا۔اس نے آگے موڑ کے بعد کسی چٹان میں بیٹھ کر سستانے کا فیصلہ کیا۔

موڑ آیا اور چڑھائی کم ہوگئی۔دور کسی چٹان پر پیلا دھبا ادھر ادھر سرک رہا تھا۔بوڑھا رک گیا۔ہوا میں لڑکی کی ہنسی دور سے ابھر آئی۔بوڑھا آگے بڑھ گیا۔اب وہ دکھائی دے رہے تھے۔لڑکا چٹان پر سستا رہا تھا۔لڑکی کی ساڑی کا پیلا رنگ ایک دھبے کی طرح چٹان اور لڑکے کے بدن پر چھٹکا ہوا تھا۔بوڑھا ان کے نزدیک پہنچا تو کھانسا۔وہ جب بھی گھر جاتا تو کھانستا تھا اور عورتیں اوٹ کرلیتی تھیں۔

چٹان پر کچھ بدلاؤ نہیں ہوا تھا۔پیلا دھبا اسی طرح پسرا رہا۔بغیر کسی لرزش کے۔بوڑھے نے اپنا منہ بائیں طرف کرلیا۔چٹان کے نزدیک چوڑی کھنکھنائی۔وہ تیزی سے آگے نکل گیا۔پیچھے سے اسے کھلکھلاہٹ سنائی دی۔ وہ لڑکی کی ہنسی تھی جو اس کے کانوں سے ٹکرائی اور ہوا میں چور چور ہوکر بکھر گئی۔

بوڑھا بہت تھک گیا تھا ۔وہ سڑک پر بیٹھ گیا۔بیٹھنے کے لیے وہ ہمیشہ پیڑ کے تنے کا سہارا لیتا۔وہ اس طرح بیٹھتا کہ سڑک دور تک نظر آتی تھی ، اوپر جاتی ہوئی بھی اور نیچے آتی ہوئی بھی۔وہ آنکھ بند کرکے سستانے لگا۔

‘اچھا بابا جی۔۔۔’اس آواز سے بوڑھا چونک گیا۔اس نے آنکھیں کھولیں۔اوپر سے وہی اجنبی نیچے اتر رہا تھا۔وہ بوڑھے کے سامنے پہنچ کر رک گیا۔

‘چل دیے؟’بوڑھے نے کہا۔

‘ہاں جی۔رام پرساد جی تو ملے نہیں۔’

‘ہمم۔۔’

‘ان کے گھر کُنڈی چڑھی تھی۔لوگ انہیں چوکیدار کہتے ہیں۔بڑی دقت ہوئی۔لوگ تو نام تک نہیں جانتے۔’

بوڑھا چپ چاپ اجنبی کو گھورتا رہا۔

‘چار دن سے غائب ہیں۔ان کے لڑکے بھی برسوں پہلے چلے گئے تھے۔ ساری محنت بے کار گئی۔’اجنبی نے پھر ہاتھ جوڑے۔وہ نیچے کی طرف تیزی سے اتر گیا۔

بوڑھا کھڑا ہوا۔اسے دور جاتے اجنبی کی چال میں کوئی گہری ناامیدی دکھائی دی۔

‘سنو!’اس نے زور سے کہا۔اس کی آواز تھوڑی آگے پہنچ کر ختم ہوگئی۔وہ اجنبی کو نیچے جاتے دیکھتا رہا۔موڑ کے پار جاتے ہی وہ بھی گم ہوگیا۔

بوڑھے نے لاٹھی اٹھائی اور سامنے دیکھا۔سوری میل بھر دور تھا۔سامنے کی چڑھائی پانچ فرلانگ تک جاتی تھی اور اس پورے فاصلے میں کوئی موڑ نہیں تھا۔اس نے چڑھائی  پر پھر چلنا شروع کیا۔کچھ اپنے دم پر، کچھ لاٹھی کے سہارے۔

٠٠٠

 

نوین کمار نَیتھانی کا جنم 13 نومبر 1962 کو بھوگ پور، ضلع دہرہ دون، اتراکھنڈ میں ہوا۔انہوں نے ابتدائی تعلیم بھوگ پور اور نینی تال میں حاصل کی۔ہائی سکول کے بعد دہرادون میں پڑھائی کی۔ان کی قریب ڈیڑھ درجن کہانیاں ملک کے موقر جرائد میں شائع ہوچکی ہیں ۔ان کی  کہانی ‘چور گھٹڈا ‘پر انہیں 1998 میں کتھا سمان سے نوازا گیااور ‘پارس’ کہانی کو 2006 میں رماکانت سمرتی کہانی سمان دیا گیا۔نوین کمار نیتھانی  دہرادون  میں ڈاک پتھر ، وکاس نگر ڈگری کالج میں فزکس کے استاد رہے ہیں۔

نوین کمار نیتھانی کی یہ کہانی ان کے افسانوی مجموعے ‘سوری کی کہانیاں’ سے لی گئی ہے۔سوری یوں تو ہماچل پردیش، ہندوستان میں ایک گاؤں ہے۔مگر نوین کمارنیتھانی کے ذریعے نہ صرف اس گاؤں کی بلکہ ہندوستان میں پہاڑی علاقوں کی بدلتی ہوئی زمینی حالت، غائب ہوتے  ہوئے جنگلوں اور بدلتے موسموں کی کہانیاں لکھی ہیں اور اس کے لیے انہوں نے پہاڑی لوک کتھاؤں   سے بھی ان کہانیوں کو کھاد پانی فراہم کیا ہے۔ ‘چڑھائی’  سوری اور وہاں کے لوگوں کی حالت بیان کرتی ہوئی ایسی ہی  ایک کہانی ہے۔اس میں ایک بوڑھے چوکیدار کی پچھلی زندگی اور  سوری میں آنےو الے بدلاؤ کو جس طرح درشایا گیا ہے، اس نے بوڑھے اور پہاڑ کی زندگی میں بہت حد تک دلچسپ مماثلت پیدا کردی ہے۔یہ کہانی اسی بنیاد پر مجھے دوسری کہانیوں کے مقابلے میں ترجمے کے لیے زیادہ مناسب معلوم ہوئی، حالانکہ اس مجموعے میں موجود سبھی کہانیاں  عمدہ ہیں اور ایک الگ ہی ذائقہ رکھتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

news-1701

yakinjp

MAUJP

MAUJP

MAUJP

SATGASJITU

SLOT GACOR

SALAMJITU

SATGASJITU

SEMOGAJITU

SALAMJITU

Slot Gacor

MAUJP

Slot Gacor

SLOT GACOR

https://kominfo.belukab.go.id/

https://www.kampunginggris.id/

https://jhpartners.net/

informasi terbaru kabupaten belu 00000101

informasi terbaru kabupaten belu 00000102

informasi terbaru kabupaten belu 00000103

informasi terbaru kabupaten belu 00000104

informasi terbaru kabupaten belu 00000105

informasi terbaru kabupaten belu 00000106

informasi terbaru kabupaten belu 00000107

informasi terbaru kabupaten belu 00000108

informasi terbaru kabupaten belu 00000109

informasi terbaru kabupaten belu 00000110

informasi terbaru kabupaten belu 00000111

informasi terbaru kabupaten belu 00000112

informasi terbaru kabupaten belu 00000113

informasi terbaru kabupaten belu 00000114

informasi terbaru kabupaten belu 00000115

informasi terbaru kabupaten belu 00000116

informasi terbaru kabupaten belu 00000117

informasi terbaru kabupaten belu 00000118

informasi terbaru kabupaten belu 00000119

informasi terbaru kabupaten belu 00000120

informasi terbaru kabupaten belu 00000121

informasi terbaru kabupaten belu 00000122

informasi terbaru kabupaten belu 00000123

informasi terbaru kabupaten belu 00000124

informasi terbaru kabupaten belu 00000125

informasi terbaru kabupaten belu 00000126

informasi terbaru kabupaten belu 00000127

informasi terbaru kabupaten belu 00000128

informasi terbaru kabupaten belu 00000129

informasi terbaru kabupaten belu 00000130

informasi terbaru kabupaten belu 00000131

informasi terbaru kabupaten belu 00000132

informasi terbaru kabupaten belu 00000133

informasi terbaru kabupaten belu 00000134

informasi terbaru kabupaten belu 00000135

informasi terbaru kabupaten belu 00000136

informasi terbaru kabupaten belu 00000137

informasi terbaru kabupaten belu 00000138

informasi terbaru kabupaten belu 00000139

informasi terbaru kabupaten belu 00000140

informasi terbaru kabupaten belu 00000141

informasi terbaru kabupaten belu 00000142

informasi terbaru kabupaten belu 00000143

informasi terbaru kabupaten belu 00000144

informasi terbaru kabupaten belu 00000145

informasi terbaru kabupaten belu 00000146

informasi terbaru kabupaten belu 00000147

informasi terbaru kabupaten belu 00000148

informasi terbaru kabupaten belu 00000149

informasi terbaru kabupaten belu 00000150

informasi terbaru kabupaten belu 00000151

informasi terbaru kabupaten belu 00000152

informasi terbaru kabupaten belu 00000153

informasi terbaru kabupaten belu 00000154

informasi terbaru kabupaten belu 00000155

informasi terbaru kabupaten belu 00000156

informasi terbaru kabupaten belu 00000157

informasi terbaru kabupaten belu 00000158

informasi terbaru kabupaten belu 00000159

informasi terbaru kabupaten belu 00000160

article 48666670361

article 48666670362

article 48666670363

article 48666670364

article 48666670365

article 48666670366

article 48666670367

article 48666670368

article 48666670369

article 48666670370

article 48666670371

article 48666670372

article 48666670373

article 48666670374

article 48666670375

article 48666670376

article 48666670377

article 48666670378

article 48666670379

article 48666670380

article 48666670381

article 48666670382

article 48666670383

article 48666670384

article 48666670385

article 48666670386

article 48666670387

article 48666670388

article 48666670389

article 48666670390

article 48666670391

article 48666670392

article 48666670393

article 48666670394

article 48666670395

article 48666670396

article 48666670397

article 48666670398

article 48666670399

article 48666670400

article 48666670401

article 48666670402

article 48666670403

article 48666670404

article 48666670405

article 48666670406

article 48666670407

article 48666670408

article 48666670409

article 48666670410

article 58666670411

article 58666670412

article 58666670413

article 58666670414

article 58666670415

article 58666670416

article 58666670417

article 58666670418

article 58666670419

article 58666670420

article 58666670421

article 58666670422

article 58666670423

article 58666670424

article 58666670425

article 58666670426

article 58666670427

article 58666670428

article 58666670429

article 58666670430

article 58666670431

article 58666670432

article 58666670433

article 58666670434

article 58666670435

article 58666670436

article 58666670437

article 58666670438

article 58666670439

article 58666670440

article 58666670441

article 58666670442

article 58666670443

article 58666670444

article 58666670445

article 58666670446

article 58666670447

article 58666670448

article 58666670449

article 58666670450

article 58666670451

article 58666670452

article 58666670453

article 58666670454

article 58666670455

article 58666670456

article 58666670457

article 58666670458

article 58666670459

article 58666670460

article 58666670461

article 58666670462

article 58666670463

article 58666670464

article 58666670465

article 58666670466

article 58666670467

article 58666670468

article 58666670469

article 58666670470

article 58666670471

article 58666670472

article 58666670473

article 58666670474

article 58666670475

article 58666670476

article 58666670477

article 58666670478

article 58666670479

article 58666670480

article 58666670481

article 58666670482

article 58666670483

article 58666670484

article 58666670485

article 58666670486

article 58666670487

article 58666670488

article 58666670489

article 58666670490

article 58666670491

article 58666670492

article 58666670493

article 58666670494

article 58666670495

article 58666670496

article 58666670497

article 58666670498

article 58666670499

article 58666670500

article 58666670501

article 58666670502

article 58666670503

article 58666670504

article 58666670505

article 58666670506

article 58666670507

article 58666670508

article 58666670509

article 58666670510

artikel 88666670411

artikel 88666670412

artikel 88666670413

artikel 88666670414

artikel 88666670415

artikel 88666670416

artikel 88666670417

artikel 88666670418

artikel 88666670419

artikel 88666670420

artikel 88666670421

artikel 88666670422

artikel 88666670423

artikel 88666670424

artikel 88666670425

artikel 88666670426

artikel 88666670427

artikel 88666670428

artikel 88666670429

artikel 88666670430

artikel 88666670431

artikel 88666670432

artikel 88666670433

artikel 88666670434

artikel 88666670435

artikel 88666670436

artikel 88666670437

artikel 88666670438

artikel 88666670439

artikel 88666670440

artikel 88666670441

artikel 88666670442

artikel 88666670443

artikel 88666670444

artikel 88666670445

artikel 88666670446

artikel 88666670447

artikel 88666670448

artikel 88666670449

artikel 88666670450

artikel 88666670451

artikel 88666670452

artikel 88666670453

artikel 88666670454

artikel 88666670455

artikel 88666670456

artikel 88666670457

artikel 88666670458

artikel 88666670459

artikel 88666670460

artikel 88666670461

artikel 88666670462

artikel 88666670463

artikel 88666670464

artikel 88666670465

artikel 88666670466

artikel 88666670467

artikel 88666670468

artikel 88666670469

artikel 88666670470

artikel 88666670471

artikel 88666670472

artikel 88666670473

artikel 88666670474

artikel 88666670475

artikel 88666670476

artikel 88666670477

artikel 88666670478

artikel 88666670479

artikel 88666670480

artikel 88666670481

artikel 88666670482

artikel 88666670483

artikel 88666670484

artikel 88666670485

artikel 88666670486

artikel 88666670487

artikel 88666670488

artikel 88666670489

artikel 88666670490

artikel 88666670491

artikel 88666670492

artikel 88666670493

artikel 88666670494

artikel 88666670495

artikel 88666670496

artikel 88666670497

artikel 88666670498

artikel 88666670499

artikel 88666670500

artikel 88666670501

artikel 88666670502

artikel 88666670503

artikel 88666670504

artikel 88666670505

artikel 88666670506

artikel 88666670507

artikel 88666670508

artikel 88666670509

artikel 88666670510

artikel 98666670511

artikel 98666670512

artikel 98666670513

artikel 98666670514

artikel 98666670515

artikel 98666670516

artikel 98666670517

artikel 98666670518

artikel 98666670519

artikel 98666670520

artikel 98666670521

artikel 98666670522

artikel 98666670523

artikel 98666670524

artikel 98666670525

artikel 98666670526

artikel 98666670527

artikel 98666670528

artikel 98666670529

artikel 98666670530

artikel 98666670531

artikel 98666670532

artikel 98666670533

artikel 98666670534

artikel 98666670535

artikel 98666670536

artikel 98666670537

artikel 98666670538

artikel 98666670539

artikel 98666670540

artikel 98666670541

artikel 98666670542

artikel 98666670543

artikel 98666670544

artikel 98666670545

artikel 98666670546

artikel 98666670547

artikel 98666670548

artikel 98666670549

artikel 98666670550

artikel 186666700001

artikel 186666700002

artikel 186666700003

artikel 186666700004

artikel 186666700005

artikel 186666700006

artikel 186666700007

artikel 186666700008

artikel 186666700009

artikel 186666700010

artikel 186666700011

artikel 186666700012

artikel 186666700013

artikel 186666700014

artikel 186666700015

artikel 186666700016

artikel 186666700017

artikel 186666700018

artikel 186666700019

artikel 186666700020

artikel 186666700021

artikel 186666700022

artikel 186666700023

artikel 186666700024

artikel 186666700025

artikel 186666700026

artikel 186666700027

artikel 186666700028

artikel 186666700029

artikel 186666700030

artikel 186666700031

artikel 186666700032

artikel 186666700033

artikel 186666700034

artikel 186666700035

artikel 186666700036

artikel 186666700037

artikel 186666700038

artikel 186666700039

artikel 186666700040

artikel 186666700041

artikel 186666700042

artikel 186666700043

artikel 186666700044

artikel 186666700045

artikel 186666700046

artikel 186666700047

artikel 186666700048

artikel 186666700049

artikel 186666700050

news-1701
news-1701

yakinjp

MAUJP

MAUJP

MAUJP

SATGASJITU

SLOT GACOR

SALAMJITU

SATGASJITU

SEMOGAJITU

SALAMJITU

Slot Gacor

MAUJP

Slot Gacor

SLOT GACOR

https://kominfo.belukab.go.id/

https://www.kampunginggris.id/

https://jhpartners.net/

artikel 286666700051

artikel 286666700052

artikel 286666700053

artikel 286666700054

artikel 286666700055

artikel 286666700056

artikel 286666700057

artikel 286666700058

artikel 286666700059

artikel 286666700060

artikel 286666700061

artikel 286666700062

artikel 286666700063

artikel 286666700064

artikel 286666700065

artikel 286666700066

artikel 286666700067

artikel 286666700068

artikel 286666700069

artikel 286666700070

artikel 286666700071

artikel 286666700072

artikel 286666700073

artikel 286666700074

artikel 286666700075

artikel 286666700076

artikel 286666700077

artikel 286666700078

artikel 286666700079

artikel 286666700080

artikel 286666700081

artikel 286666700082

artikel 286666700083

artikel 286666700084

artikel 286666700085

artikel 286666700086

artikel 286666700087

artikel 286666700088

artikel 286666700089

artikel 286666700090

artikel 286666700091

artikel 286666700092

artikel 286666700093

artikel 286666700094

artikel 286666700095

artikel 286666700096

artikel 286666700097

artikel 286666700098

artikel 286666700099

artikel 286666700100

artikel 186666700001

artikel 186666700002

artikel 186666700003

artikel 186666700004

artikel 186666700005

artikel 186666700006

artikel 186666700007

artikel 186666700008

artikel 186666700009

artikel 186666700010

artikel 186666700011

artikel 186666700012

artikel 186666700013

artikel 186666700014

artikel 186666700015

artikel 186666700016

artikel 186666700017

artikel 186666700018

artikel 186666700019

artikel 186666700020

artikel 186666700021

artikel 186666700022

artikel 186666700023

artikel 186666700024

artikel 186666700025

artikel 186666700026

artikel 186666700027

artikel 186666700028

artikel 186666700029

artikel 186666700030

artikel 186666700031

artikel 186666700032

artikel 186666700033

artikel 186666700034

artikel 186666700035

artikel 186666700036

artikel 186666700037

artikel 186666700038

artikel 186666700039

artikel 186666700040

artikel 186666700041

artikel 186666700042

artikel 186666700043

artikel 186666700044

artikel 186666700045

artikel 186666700046

artikel 186666700047

artikel 186666700048

artikel 186666700049

artikel 186666700050

artikel 98666670521

artikel 98666670522

artikel 98666670523

artikel 98666670524

artikel 98666670525

artikel 98666670526

artikel 98666670527

artikel 98666670528

artikel 98666670529

artikel 98666670530

artikel 98666670531

artikel 98666670532

artikel 98666670533

artikel 98666670534

artikel 98666670535

artikel 98666670536

artikel 98666670537

artikel 98666670538

artikel 98666670539

artikel 98666670540

artikel 98666670541

artikel 98666670542

artikel 98666670543

artikel 98666670544

artikel 98666670545

artikel 98666670546

artikel 98666670547

artikel 98666670548

artikel 98666670549

artikel 98666670550

artikel 98666670551

artikel 98666670552

artikel 98666670553

artikel 98666670554

artikel 98666670555

artikel 98666670556

artikel 98666670557

artikel 98666670558

artikel 98666670559

artikel 98666670560

artikel 88666670441

artikel 88666670442

artikel 88666670443

artikel 88666670444

artikel 88666670445

artikel 88666670446

artikel 88666670447

artikel 88666670448

artikel 88666670449

artikel 88666670450

artikel 88666670451

artikel 88666670452

artikel 88666670453

artikel 88666670454

artikel 88666670455

artikel 88666670456

artikel 88666670457

artikel 88666670458

artikel 88666670459

artikel 88666670460

artikel 88666670461

artikel 88666670462

artikel 88666670463

artikel 88666670464

artikel 88666670465

artikel 88666670466

artikel 88666670467

artikel 88666670468

artikel 88666670469

artikel 88666670470

artikel 88666670471

artikel 88666670472

artikel 88666670473

artikel 88666670474

artikel 88666670475

artikel 88666670476

artikel 88666670477

artikel 88666670478

artikel 88666670479

artikel 88666670480

artikel 88666670481

artikel 88666670482

artikel 88666670483

artikel 88666670484

artikel 88666670485

artikel 88666670486

artikel 88666670487

artikel 88666670488

artikel 88666670489

artikel 88666670490

artikel 88666670491

artikel 88666670492

artikel 88666670493

artikel 88666670494

artikel 88666670495

artikel 88666670496

artikel 88666670497

artikel 88666670498

artikel 88666670499

artikel 88666670500

artikel 88666670501

artikel 88666670502

artikel 88666670503

artikel 88666670504

artikel 88666670505

artikel 88666670506

artikel 88666670507

artikel 88666670508

artikel 88666670509

artikel 88666670510

article 58666670471

article 58666670472

article 58666670473

article 58666670474

article 58666670475

article 58666670476

article 58666670477

article 58666670478

article 58666670479

article 58666670480

article 58666670481

article 58666670482

article 58666670483

article 58666670484

article 58666670485

article 58666670486

article 58666670487

article 58666670488

article 58666670489

article 58666670490

article 58666670491

article 58666670492

article 58666670493

article 58666670494

article 58666670495

article 58666670496

article 58666670497

article 58666670498

article 58666670499

article 58666670500

article 58666670501

article 58666670502

article 58666670503

article 58666670504

article 58666670505

article 58666670506

article 58666670507

article 58666670508

article 58666670509

article 58666670510

article 58666670511

article 58666670512

article 58666670513

article 58666670514

article 58666670515

article 58666670516

article 58666670517

article 58666670518

article 58666670519

article 58666670520

article 58666670521

article 58666670522

article 58666670523

article 58666670524

article 58666670525

article 58666670526

article 58666670527

article 58666670528

article 58666670529

article 58666670530

article 58666670531

article 58666670532

article 58666670533

article 58666670534

article 58666670535

news-1701