وہ بوڑھا بانسوں کے جھنڈ کے پاس پہنچ کر رک گیا۔ اس نے اوپر نظر دوڑائی۔سال کے ننگے پیڑوں کے درمیان گایوں کے نیم پوشیدہ جسم حرکت کررہے تھے۔ اس نے اپنی لاٹھی آہستہ سے آم کے پیڑ کے سہارے ٹکائی، اپنے بدن کو پیڑ کا سہارا دیا اور تھکان مٹانے کے لیے بیٹھ گیا۔اس نے اپنی آنکھیں موند لیں۔
اس حالت میں وہ چوکیدار نہیں لگ رہا تھا۔ حالانکہ لوگ اسے چوکیدار کہا کرتے تھے کیونکہ تیس برس پہلے تک وہ چوکیدار ہوا کرتا تھا۔تیس برس پہلے جب وہ بوڑھا ہوا اس کے مالکوں نے اس کی چھٹی کردی۔تیس برس بعد بھی وہ بوڑھا تھا۔۔۔
اس نے آنکھیں کھولیں جیسے نیند سے بیدار ہوا ہو۔اس کے سامنے بچوں کا جھنڈ تھا۔اسے حیرت ہوئی جیسےبچے بنا آہٹ کیے ہوئے آسمان سے ٹپک پڑے ہوں۔
‘تم کو مار پڑی تھی نا؟’ ان میں سے ایک بولا۔
‘داداجی تم چور تھے؟’دوسرے نے کہا۔
پھر سب بچے کھلکھلائے۔ وہ مسکرایا، اس کی بے ترتیبی سے کتری ہوئی مونچھوں میں کچھ جنبش ہوئی۔اس نے لاٹھی اٹھائی اور انہیں دکھائی۔وہ سب دور بھاگے۔اس نے لاٹھی پھر پیڑ کے سہارے ٹکا دی۔
‘بہت پیلے کی۔’ان میں سے کوئی بولا۔
‘ہاں!’اس نے پیٹھ پیڑ کے تنے سے زمین کی طرف کھینچ لی اور پیڑ کو تکیے کی طرح استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہوا لیٹ سا گیا۔’تب یہاں ایک سادھو رہتا تھا۔سمجھے؟ اس کی مرغیاں تھیں، مرغیاں۔۔۔بہت ساری۔آٹھ، دس، پندرہ، پچیس، پچاسوں مرغیاں۔میں پتھر ماروں، وہ بھاگ جائیں۔ایک مرتبہ اس سادھو نے مجھے پکڑ لیا۔’
بچے ہنسے۔بوڑھا ان کی ہنسی کی برسات رکنے کا انتظار کرتا رہا۔ وہ رکے۔بوڑھے نے کروٹ لی۔’پھر اس نے مجھے لاٹھی ماری۔سمجھے؟لاٹھی سے پیٹا۔’
بچے چپ تھے۔وہ اس کے چہرے کو دیکھ رہے تھے۔اس کا لمبا سا منہ۔آڑھے ٹیڑھے دانت، کتری ہوئی مونچھیں اور بکھرے ہوئے بال۔
‘میں چور تھا۔’سال کے مرے ہوئے پتے چرمرائے۔وہ آہستہ آہستہ اٹھتے ہوئے بیٹھ گیا۔اس نے لاٹھی اٹھائی اور اسے بچوں کی طرف ہلاتے ہوئے کہا۔’گائیں اجاڑ پر گئی ہوئی ہیں، جلدی بھاگو۔’
بچے ہڑبڑا کر اٹھے۔پہاڑی کی طرف دوڑے۔ان کے دوڑتے قدموں کے نیچے سال کے پتے چرمرائے۔وہ لاٹھی ٹکائے دھیرے دھیرے اٹھ کھڑا ہوا۔پیچھے سے لڑھکتے پتھروں کی آواز کے بیچ گایوں کی گھنٹیاں ٹنٹنائیں۔بچے گایوں کو ہنکاتے دور چلے گئے۔
اس نے ایک قدم آگے بڑھایا اور پھر رک گیا۔وہ سڑک بانسوں کے جھنڈ کے آگے پتلی ہوگئی تھی۔اس نے نیچے کی طرف دیکھا۔ایک لمبی ڈھلان۔جھاڑیاں بے ترتیبی سے بکھری ہوئیں۔یہاں وہاں پیڑوںکی چھاؤن تلے وہ گھنی ہوگئی تھیں۔اس نے ہوا کھینچی، اپنا بایاں ہاتھ کمر پر رکھا اور آگے بڑھ گیا۔
چار قدم چلنے کے بعد اسے لگا جیسے کوئی اس کے پیچھے پیچھے تیزی سے آرہا ہے۔ وہ رک گیا اور دھیرے دھیرے ایک لے کے ساتھ پیچھے مڑا۔سامنے سے کوئی چالیس برس کا آدمی چلا آرہا تھا۔اسے اس کا چہرہ عجیب سالگا۔ ایسے چہرے اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھے تھے، چوکیداری کے ان برسوں میں بھی نہیں۔ایک دم گورا چہرہ جس پر ہری آنکھیں چوکور لمبے چوکھٹے کے اوپر کسی منی کی طرح چمک رہی تھیں۔
وہ اس سے کوئی پانچ قدم دور رک گیا۔ اس کے بدن سے پسینے کی بو آرہی تھی۔بوڑھا پسینے کی بو سے پریشان تھا یا شاید نہیں تھا۔اجنبی آدمیوں سے پریشان نہیں ہونا چاہیے۔ان پر نظر رکھنی چاہیے، چوکیداری کا یہ ہنر اس نے ایجاد کیا تھا اور اب بھی اس پر عمل کرتا تھا۔حالانکہ اب وہ چوکیدار نہیں تھا۔
‘جی سنیے۔۔۔ذرا ایک منٹ۔’اجنبی کی آواز بڑی باریک تھی اور اس کی ایک انگلی ہتھیلی سے الگ نکل آئی تھی۔
بوڑھا مسکرایا۔اس کی مونچھیں تھرتھرائیں۔وہ سڑک کے بیچ میں بیٹھ گیا۔
‘بیٹھو!’
‘جی۔۔۔لمبا راستہ ہے۔’اجنبی نے کہا اور سڑک کے کنارے آس پاس کچھ تلاش کرنے لگا۔ایک ابھرا ہوا پتھر دیکھ کر وہ وہاں تک چلا گیا اور اس پر بیٹھ گیا۔’میں بڑی دور سے آیا ہوں۔کیا سوری کا راستہ یہی ہے؟’
بوڑھے نے سر اس انداز میں ہلایا جس کا مطلب صرف ہاں ہوتا ہے۔
‘خدا کا شکرہے۔میں امید کررہا تھا کہ یہی راستہ ہو۔’بوڑھا چپ رہا۔اجنبی بھی چپ ہوگیا۔
دور جنگل میں کہیں ایک مرغا کڑکڑایا۔
اجنبی جیب سے رومال نکال کر پسینہ پونچھنے لگا۔بوڑھا چپ چاپ بیٹھا رہا۔کئی پل اسی طرح گزر گئے۔ اسی درمیان صرف جھاڑیوں میں پیچھے سے بٹیر نکل کر نیچے ڈھلان کی طرف اترے۔۔۔ایک توتا نزدیک کسی پیڑ پر اترا اور دور سے بندر نیچے اترے۔
‘میں نے لوگوں سے پوچھا تھا۔انہوں نے بتایا تھا کہ سوری کے لیے بہت چڑھائی چڑھنا ہوگی۔ ابھی تک تین کلو میٹر طے کرچکا ہوں، کوئی خاص چڑھائی نہیں ہے۔’
بوڑھے نے سنا اور صرف سر ہلایا۔اس نے لاٹھی اپنے ہاتھ میں لے لی۔
‘راستہ یہی ہے نا؟’
‘ہاں۔’اس بار بوڑھا بولا۔
‘میں نے سوچا کہیں غلط راستہ نہ بتادیا ہو۔’
‘ہمارے یہاں لوگ ایسا نہیں کرتے۔’بوڑھے نے پھر لاٹھی زمین پر رکھ دی۔
‘سوری میں کوئی رام پرساد جی ہیں۔ چھیانوے برس کی عمر ہے ان کی۔’
بوڑھے نے آنکھیں موندیں اور پھر سرہلایا۔
‘ان میں کافی آب ہے۔میں ان سے ملنے جارہا ہوں۔آپ سوری میں ہی رہتے ہیں؟’بوڑھے نے سر ہلایا۔پھر دھیرے سے کہا۔’ہاں!’
‘آپ رام پرساد جی کو جانتے ہوں گے۔’
‘ہاں۔’
‘وہ مل جائیں گے؟’
‘شاید۔’
‘میں نے سنا ہے کہ وہ بڑھاپے سے نہیں ڈرتے۔’
‘ہوجاتا ہے۔اب بوڑھوں کا کیا بھروسہ۔’
پھر کچھ پل خاموشی رہی۔وہ اجنبی اٹھ کھڑا ہوا۔’کتنی دور اور جانا ہے؟’
‘جتنا چل آئے ہو اتنا ہی اور چلنا پڑے گا۔’
‘جی لگتا ہے پہلے یہاں گھنا جنگل رہا ہوگا۔’
‘تھا۔بہت گھنا تھا۔’
‘آپ روز اس راستے سے جاتے ہیں؟’
‘تقریباً روز۔’
‘آگے چڑھائی تو نہیں ہے؟’
‘ہے۔بہت لمبی ہے۔’
‘کتنا آگے سے شروع ہوگی؟’
‘سامنے جو موڑدکھائی دے رہا ہے۔اس کے بعد ایک موڑ اور ہے کوئی پچاس قدموں کے بعد۔پھربس چڑھائی ہی چڑھائی، پوری سوری تک۔’
‘جی شکریہ۔’اس نے کہا اور آگے بڑھ گیا۔سال کے مرے ہوئے پتے اس کے جوتوں تلے چرمرائے۔
بوڑھا اٹھا اور ایک لے کے ساتھ پیچھے کی طرف مڑا۔اجنبی دور جارہا تھا۔اس کی نیلی قمیص دھیرے دھیرے موڑ کے پیچھے گم ہوگئی۔اب وہ پھر اکیلا تھا۔سوری میں شاید ایک دن آئے گا جب اکیلا وہی رہ جائے گا۔تیس برس پہلے، جب بڑھاپا اس پر اثر دکھانے لگا تھا اور نوکری سے چھٹی ہوچکی تھی، سوری میں تیس گھر تھے۔اب تیس برس بعد سوری میں چھ گھر رہ گئے ہیں۔اس نے قدم آگے بڑھائے۔کچھ اپنے دم پر، کچھ لاٹھی کے سہارے۔
سال کا کوئی پتالاٹھی کے نیچے آتا یا اس کے پیروں کے نیچے تو عجیب سی چرمراہٹ ہوتی۔پھر سب طرف خاموشی چھاجاتی۔پہلے ایسا نہیں ہوتا تھا۔تب پوری سڑک سال کے پتوں سے بھری رہتی تھی۔پورا جنگل یکایک ننگا لگنے لگتا اور پت جھڑ ایک بے شرم سا موسم معلوم ہوتا۔نیچے جل دھار سے جنگل اوبا ہوا معلوم ہوتا تھا، اب تو جل دھار سے جنگل دکھتا ہی نہیں۔برسوں میں آہستہ آہستہ سب ختم ہوجاتا ہے اور پہچاننا بہت مشکل ہوتا ہے کہ یہاں پہلے کیا تھا۔اپنے طور پر بوڑھا اس بات کو سوچتا رہا اور سوچتے سوچتے موڑ کے پاس پہنچ گیا۔
ٹھیک سامنے موڑ کے ساتھ ساتھ سوری کی وہ مشہور چڑھائی ہوتی تھی۔جب وہ جوان تھا تو گھنٹے بھر میں بنا تھکے یہ چڑھائی چڑھ جایا کرتا تھا۔تب وہ چوکیدار تھا۔اب وہ چوکیدار تو کیا بلکہ جوان بھی نہیں ہے۔اسے لگا چڑھائی تو اتنی ہی چھوٹی ہے، بس ذرا آرام کرنے کی ضرورت ہے۔اس نے ایک پیڑ کے سہارے اپنی لاٹھی اور پیٹھ ٹکائی اور آنکھیں بند کرلیں۔
کچھ لمحوں بعد نزدیک ہی قدموں کی آہٹ ہوئی اور ایک آواز ابھری،’نمستے چوکیدار جی۔۔۔’
‘کون؟پھَرتی؟’ اس نے آنکھیں بند رکھیں۔
‘نہیں، سِتاب سنگھ۔’جواب آیا۔’
اس نے آنکھیں کھولیں۔سامنے کھچڑی بالوں والا پھَرتی تھا۔اس کی قمیص کے بٹن ٹوٹے تھے اور پجامے پر جگہ جگہ پسرے پیوند یہاں وہاں سے ادھڑ رہے تھے۔
‘تو میرے سامنے پیدا ہواتھا۔’بوڑھا بولا۔’
‘جی۔۔ہاں جی۔چوکیدار جی۔’
‘چوکیدار کے بچے۔تو بچہ ہے۔’
‘ہاں جی۔۔ہاں جی۔۔بچہ ہوں۔’
‘تو بچہ ہے۔سمجھا؟تیری مونچھ کہاں ہے؟ جب میں تیری عمر کا تھا۔سمجھا۔۔کے سال پہلے؟’
‘جی بہت پہلے۔۔’
‘کے سال؟’
‘پچاس سال۔۔۔’
‘ہمم۔۔۔پچاس سال۔۔سمجھا؟ میری مونچھ ذرا ہلتی تو تہلکہ مچ جاتا۔بابو ہنومنت کہتے کہ رام پرساد! تیری مونچھ سلامت رہے۔میری عزت سلامت رہے گی۔’بوڑھا بولتے ہوئے پھرتی کے چہرے کو پڑھتا رہا۔وہ بے حد کمزور چہرہ تھا۔پھرتی کے کھچڑی بال اس چہرے پر بے شرمی سے جھکے تھے۔
‘ڈگڈر (ڈاکٹر)نے کچھ بتایا؟’اب بوڑھے کو چِنتا ہوئی۔
‘آج بلایا ہے۔’
‘سرکاری ڈگڈر۔۔سرکاری، کچھ کہا، کیا روگ ہے؟’بوڑھے نے لاٹھی ہاتھ پر لے لی اور اپنے کو پیڑ سے الگ کیا۔
‘ڈگڈرنے کچھ نہیں بتایا چوکیدار جی۔میں نے بہت کہا کہ ڈگڈر صاحب بتادو۔ ہم ڈرپوک نہیں ہیں۔ڈگڈر نے کہا شاید ٹی بی ہے۔۔ابھی جانچ ہوگی۔’
‘ہمم۔۔۔چنتا مت کر۔معمولی چیز ہے۔سمجھا؟ جا جلدی جا۔۔’بوڑھے کی آنکھیں نم ہوگئیں۔پھرتی نیچے کی طرف دھیرے دھیرے چلتے ہوئے گم ہوگیا۔نیچے۔۔جہاں جل دھار ہے۔سرکاری ہسپتال بوڑھے نے چڑھائی پر چڑھنا شروع کردیا۔دور کہیں تیتر بولنے لگا۔۔۔ٹڈ۔۔ٹڈ۔۔ٹی ٹی ٹڈ۔۔
پہلے اس حصے میں بھی سال کے درخت تھے، اب نہیں رہے۔ادھر آم اور جامن کے پیڑ فاصلوں کو ڈھکتے ہوئے کھڑے ہیں۔ ڈھلان پر آم کے دو پیڑ مرے پڑے تھے۔ٹوٹے ہوئے۔اب جنگل کو بھی ٹی بی ہوگیا ہے۔۔نہیں بچے گا۔
‘بابا! سوری اور کتنی دور ہے۔۔۔’پیچھے سے ایک تیکھی آواز آئی۔
یہ بڑی بے تاب آواز تھی۔وہ رک گیا اور انتظار کرنے لگا۔پیچھے سے جو بھی آرہا ہوگا اس کے سامنے پہنچ جائے گا۔اسے قدموں کی آواز سے لگا کہ ایک سے زیادہ لوگ ہیں۔
وہ دو تھے۔لڑکا اور لڑکی۔لڑکا پتلا تھا اور لمبا۔۔اس کی انگلیاں پتلی تھیں۔اور وہ ہانپ رہا تھا۔لڑکی اس بات سے انجان تھی کہ اسے دیکھا جارہا ہے۔وہ پسینے سے نہائی ہوئی تھی۔ اس کے ماتھے پر گول بندی آدھی گھل گئی تھی۔وہ لڑکے کے کندھے کا سہارا لے کر کھڑی رہی اور سانس کھینچتی رہی۔
‘سوری کیا بہت دور ہے؟لڑکے کی آواز میں بے تابی تھی۔
‘نہیں۔تین میل ہے بس۔’بوڑھے نے دھیرے سے کہا۔
‘ہم جل دھار سے چلے تھے۔’
‘ہمم۔۔’
‘بیچ میں کوئی بستی ہوگی؟’لڑکی نے لڑکے کے کندھے کا سہارا چھوڑتے ہوئے تھکی ہوئی آواز میں پوچھا۔
‘نہیں۔’بوڑھے کی آواز خشک تھی۔
‘دیکھا؟ میں نے کہا تھا نا۔۔۔’لڑکے نے لڑکی طرف دیکھا۔
‘آگے چڑھائی اسی طرح ہے؟’لڑکی بوڑھے کو دیکھ رہی تھی۔
‘ہمم۔۔۔’بوڑھا مسکرایا۔اس کی بے ترتیبی سے ترشی ہوئی مونچھیں ذرا ہلیں۔ان کے بیچ بات چیت کے لیے شاید اب کچھ نہیں بچا تھا۔وہاں خاموشی پسر گئی۔نیچے ڈھلان اپنا پھیلاؤ کھورہی تھی۔پت جھڑ یکایک گھنا ہوگیا۔آدمیوں کے بیچ جب باتوں کے پتے چھوٹ کر گر جاتے ہیں تو پت جھڑ گھنا ہوجاتا ہے۔تبھی جنگل میں دور کہیں مرغے نے بانگ لگائی۔
بوڑھا چونک گیا۔لڑکی دھیرے سے ہنس دی۔بوڑھے کو یہ ہنسی اچھی لگی۔وہ بھی مسکرادیا۔اس کی مونچھیں تھرتھرائیں۔
‘بابا تمہاری عمر کتنے سال ہے؟’لڑکے نے اچانک پوچھا۔
‘کیا کروگے؟’ بوڑھے نے کہا۔
‘یہ کہتی ہے اسی ہے۔میں کہتا ہوں بیاسی ہے۔’
بوڑھا صرف مسکرایا۔
‘ہاں بابا۔۔بتاؤ۔’لڑکی نے کہا۔
بوڑھا پھر مسکرایا۔’بہت ہے۔’
‘پھر بھی۔۔کتنی؟’
‘کون جانے۔’
‘بابا پرانے لوگ گنتی بھول جاتے ہیں۔’لڑکی ہنس دی۔’میری قسم۔۔بابا بول دو نوے سال، تب ہم دونوں کی بات غلط ہوجائے گی۔’
‘چھیانوے سال’بوڑھا مسکراکر بولا۔
وہ دونوں چونکے۔پھر ان کی حیرانی سے وہاں مزید خاموشی چھاتی گئی۔آخر کار لڑکی نے چوٹ لگائی۔’تمہاری بڑھیا بھی بوڑھی ہوگی۔’
‘ہمم۔’بوڑھے نے صرف یہ آواز نکالی۔
‘تمہاری لڑائی ہوتی ہے؟’
‘نہیں۔’
‘پھر دونوں پیار سے رہتے ہو؟’لڑکی کھلکھلائی۔
‘نہیں۔’
‘وہ کھانا پکاتی ہے؟’
‘نہیں’
‘تمہارے ساتھ رہتی ہے۔’
‘نہیں۔’
‘تمہارے لڑکوں کے ساتھ۔’
‘نہیں۔’
‘تم بھی عجیب ہو۔’
‘ہوں۔’بوڑھا اس بار مسکرایا نہیں۔وہ ڈھلان کو دیکھ رہا تھا۔اگر کوئی پھسلا تو پھسلتا ہی چلا جائے گا۔پچھلے سال کشن سنگھ کے ناتی کی گائے پھسل گئی تھی۔
‘چلو۔’لڑکے کی بے تاب آواز سے وہ چونکا۔ایک دوسرے سے سٹے ہوئے وہ چڑھائی پر دور ہوتے گئے۔لڑکی کی ساڑی کا پیلا دھبا دور سے ان کے ہونے کی پہچان بنارہا۔اب کئی رنگ بوڑھے کی نظر سے پرے ہوگئے ہیں۔آگے کہیں موڑ کے بعد وہ گم ہوگئے۔
اب اس لمبی چڑھائی پر بوڑھا اکیلا تھا۔وہ لاٹھی پر اپنے بدن کا بوجھ ڈالے دھیرے دھیرے چڑھائی چڑھنے لگا۔سڑک چوڑی تھی اور اوبڑ کھابڑ بھی۔پہلے جب پگڈنڈی تھی تب وہ اوبڑ کھابڑ نہیں تھی۔تب ایک ہی آدمی ایک جگہ چل پاتا تھا۔تب اکثر وہ پرمیسُری کے ساتھ آتا۔تب اس کی چال میں تیزی ہوا کرتی تھی اور پرمیسُری پیچھے چھوٹ جاتی تھی۔تب لوگ پگڈنڈی پر سے چلتے تھے۔اب یہ سڑک ہے اور اب لوگ اس پر نہیں چلتے۔اب لوگ نہیں ہیں۔وہ پتہ نہیں کہاں کھوگئے؟سال کے پتوں کی طرح۔۔۔
اس کی لاٹھی سال کے پتوں پر پڑی۔ایک پہچانی ہوئی چرمراہٹ سن کر اسے سکون ملا۔سال کے پتوں سے اٹھتی ہوئی یہ آواز ہر پت جھڑ میں اس کے لیے سنگیت کی طرح اٹھتی۔یہ چرمراہٹ کہیں گھنی ہوتی، کہیں مدھم اور کہیں بالکل چپ۔اس کا گھنا پن بوڑھے کو سکھ دیتا اور اس کا بالکل نہ ہونا ریگستان جیسا دکھ دیتا۔سڑک کے جس حصے میں پیڑ نہیں ہوتے وہ کٹھور ہوجاتی، ظالم اور جابر۔
سڑک سنکری ہوگئی تو وہ رک گیا۔آگے موڑ تھا اور وہاں سے سوری ڈھائی میل تھا۔ پرمیسُری پوچھتی تھی۔’کتنی اور ہے؟’ وہ کہتا۔’بس ذرا اور، ڈھائی میل۔۔۔’وہ دونوں ایک بڑے پیڑ کی چھاؤں تلے بیٹھ جاتے تھے۔ دس ایک برس ہوئے ہوں گے وہ پیڑ آندھی سے اکھڑ گیا۔بوڑھا وہاں ابھر آئی کھائی کو دیکھنے لگا۔ہر برسات کھائی چوڑی ہوتی گئی اور ہر پت جھڑ سال کے پتے اسے بھرنے کی کوشش کرتے رہے۔
ایک چھوٹے پیڑ کے سہارے بوڑھا بیٹھ گیا اور آنکھ بند کر کے تھکان مٹانے لگا۔
اوپر سے آتی قدموں کی چاپ سن کر اس نے آنکھیں کھلویں۔رگھو اور بچنا آرہے تھے۔رگھو نے بچنا کا سہارا لے رکھا تھا۔
‘نمستے چوکیدار جی۔’بچنا بولا۔
‘آؤ بیٹھو۔’بوڑھے نے پیڑ کے تنے پر پیٹھ ٹکائے ٹکائے ایک طرف سرک کر ان کے لیے جگہ بنائی گویا وہ کسی بس میں سفر کررہے ہوں۔رگھو بیٹھتے ہوئے دھیرے سے کراہا۔
‘ٹھیک ہوجائے گا۔’بوڑھے نے ملائم آواز میں کہا۔
‘تین دن سے ہسپتال جا رہے ہیں۔’بچنا بولا۔
بوڑھے نے رگھو کی طرف دیکھا۔اس کا پاؤں موٹا ہوآیا تھا۔
‘پھَرتی ملا؟”رگھو بڑی مشکل سے بول سکا۔
‘ہمم۔’
‘اسے ٹی بی ہے۔’بچنا نے کہا۔
‘ہمم۔’
‘بڑا خراب روگ ہے۔’
‘نہیں۔’بوڑھے نے ڈھلان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
‘سچ، چوکیدار جی، خراب ہے۔’
اچانک بوڑھے کی آنکھیں گیلی ہوگئیں۔وہاں پتہ نہیں کہاں سے آنسو آگئے تھے۔ کوئی اگر دیکھ پاتا تو وہاں پرمیسُری ڈبڈباتی ہوئی دکھ جاتی۔ٹی بی سے دم توڑتی ہوئی۔
‘چلو۔۔۔’بچنا کی آواز ابھر آئی۔کراہتا ہوا رگھو اٹھا اور وہ دونوں ڈھلان میں اتر گئے۔بوڑھے کے آنسو سوکھنے لگے تھے۔ اسے گالوں پر عجیب چپچپاہٹ محسوس ہوئی۔وہ اٹھا اور بڑھ گیا۔
یہ سب سے کٹھن چڑھائی تھی۔اس چڑھائی کے بعد ایک موڑ ہے پھر چڑھائی کم ہے اور سڑک کے کنارے آم کے پیڑ ہیں، بڑی بڑی چٹانیں ہیں جن پر آرام سے لیٹا جاسکتا ہے۔ جب وہ چوکیدار تھا تو بنا کہیں رکے سیدھا سوری پہنچ کر دم لیتا تھا۔سامنے سے کوئی اسے گھورتے ہوئے آرہا تھا۔بوڑھا اسے پہچان نہیں پایا۔
‘چاچا نمستے!’وہ پاس آگیا تھا اس نے چشمہ لگا رکھا تھا۔اس کے سر پر بال کم تھے۔ جو تھے وہ سب سفید تھے۔بوڑھا اسے گھورتا رہا۔
‘نہیں پہچانے؟’وہ آدمی مسکرایا۔
بوڑھے نے سرہلایا۔
‘میں رام پھل ہوں۔۔۔’
‘اومُمرِت لال کے لڑکے۔ہمم۔۔۔کب آئے؟’
‘پرسوں۔آپ کے گھر گیا تھا۔کنڈی لگی تھی۔پتہ چلا چار دن سے آئے ہی نہیں۔’
‘ہاں ذرا جل دھار رکا رہا۔کے دن ہو؟’
‘اب کہاں جانا چاچا۔زندگی گزر گئی۔’
‘ہوش میں ہیں؟’
‘چاچا اب ریٹائر ہوگیا۔’
‘ٹھیک ہے۔اچھا ہے۔آرام کرو۔’
کیسے کٹے گی؟’
‘جیسی میری کٹی۔۔۔’اب وہ بوڑھا نہیں لگ رہا تھا۔
‘مگر چاچا تمہاری بات اور تھی۔’
‘کیا تھی؟تیس سال کاٹ لیے۔پرمیسُری گئی۔پھر چوکیداری گئی۔’وہ پھر سے بوڑھا ہوگیا۔
‘اچھاچاچا ایک بات پوچھوں۔برا مت ماننا۔’
‘پوچھ۔’
‘آپ کی عمر کتنی ہوگی؟’
‘چھیانوے سال۔’
‘چاچا پچھلے سال بھی آپ یہی بتارہے تھے۔’
‘ستانوے ہوگی۔’
‘اس سے پچھلے سال بھی چھیانوے بتائی تھی۔’
‘تو اٹھانوے ہوگی۔’
‘چاچا کیا بات ہے؟آپ پچھلے کئی سالوں سے چھیانوے سے آگے نہیں بڑھے۔’رام پھل نے ہنستے ہوئے کہا۔
‘تو نیانوے ہوگی۔’بوڑھے نے دھیرے سے کہا اور آگے بڑھ گیا۔
چڑھائی چڑھتے ہوئے اس کی سانس پھولنے لگی۔وہ آگے چلتا چلا گیا۔اب ہانپنے لگا تھا۔اس نے آگے موڑ کے بعد کسی چٹان میں بیٹھ کر سستانے کا فیصلہ کیا۔
موڑ آیا اور چڑھائی کم ہوگئی۔دور کسی چٹان پر پیلا دھبا ادھر ادھر سرک رہا تھا۔بوڑھا رک گیا۔ہوا میں لڑکی کی ہنسی دور سے ابھر آئی۔بوڑھا آگے بڑھ گیا۔اب وہ دکھائی دے رہے تھے۔لڑکا چٹان پر سستا رہا تھا۔لڑکی کی ساڑی کا پیلا رنگ ایک دھبے کی طرح چٹان اور لڑکے کے بدن پر چھٹکا ہوا تھا۔بوڑھا ان کے نزدیک پہنچا تو کھانسا۔وہ جب بھی گھر جاتا تو کھانستا تھا اور عورتیں اوٹ کرلیتی تھیں۔
چٹان پر کچھ بدلاؤ نہیں ہوا تھا۔پیلا دھبا اسی طرح پسرا رہا۔بغیر کسی لرزش کے۔بوڑھے نے اپنا منہ بائیں طرف کرلیا۔چٹان کے نزدیک چوڑی کھنکھنائی۔وہ تیزی سے آگے نکل گیا۔پیچھے سے اسے کھلکھلاہٹ سنائی دی۔ وہ لڑکی کی ہنسی تھی جو اس کے کانوں سے ٹکرائی اور ہوا میں چور چور ہوکر بکھر گئی۔
بوڑھا بہت تھک گیا تھا ۔وہ سڑک پر بیٹھ گیا۔بیٹھنے کے لیے وہ ہمیشہ پیڑ کے تنے کا سہارا لیتا۔وہ اس طرح بیٹھتا کہ سڑک دور تک نظر آتی تھی ، اوپر جاتی ہوئی بھی اور نیچے آتی ہوئی بھی۔وہ آنکھ بند کرکے سستانے لگا۔
‘اچھا بابا جی۔۔۔’اس آواز سے بوڑھا چونک گیا۔اس نے آنکھیں کھولیں۔اوپر سے وہی اجنبی نیچے اتر رہا تھا۔وہ بوڑھے کے سامنے پہنچ کر رک گیا۔
‘چل دیے؟’بوڑھے نے کہا۔
‘ہاں جی۔رام پرساد جی تو ملے نہیں۔’
‘ہمم۔۔’
‘ان کے گھر کُنڈی چڑھی تھی۔لوگ انہیں چوکیدار کہتے ہیں۔بڑی دقت ہوئی۔لوگ تو نام تک نہیں جانتے۔’
بوڑھا چپ چاپ اجنبی کو گھورتا رہا۔
‘چار دن سے غائب ہیں۔ان کے لڑکے بھی برسوں پہلے چلے گئے تھے۔ ساری محنت بے کار گئی۔’اجنبی نے پھر ہاتھ جوڑے۔وہ نیچے کی طرف تیزی سے اتر گیا۔
بوڑھا کھڑا ہوا۔اسے دور جاتے اجنبی کی چال میں کوئی گہری ناامیدی دکھائی دی۔
‘سنو!’اس نے زور سے کہا۔اس کی آواز تھوڑی آگے پہنچ کر ختم ہوگئی۔وہ اجنبی کو نیچے جاتے دیکھتا رہا۔موڑ کے پار جاتے ہی وہ بھی گم ہوگیا۔
بوڑھے نے لاٹھی اٹھائی اور سامنے دیکھا۔سوری میل بھر دور تھا۔سامنے کی چڑھائی پانچ فرلانگ تک جاتی تھی اور اس پورے فاصلے میں کوئی موڑ نہیں تھا۔اس نے چڑھائی پر پھر چلنا شروع کیا۔کچھ اپنے دم پر، کچھ لاٹھی کے سہارے۔
٠٠٠
نوین کمار نَیتھانی کا جنم 13 نومبر 1962 کو بھوگ پور، ضلع دہرہ دون، اتراکھنڈ میں ہوا۔انہوں نے ابتدائی تعلیم بھوگ پور اور نینی تال میں حاصل کی۔ہائی سکول کے بعد دہرادون میں پڑھائی کی۔ان کی قریب ڈیڑھ درجن کہانیاں ملک کے موقر جرائد میں شائع ہوچکی ہیں ۔ان کی کہانی ‘چور گھٹڈا ‘پر انہیں 1998 میں کتھا سمان سے نوازا گیااور ‘پارس’ کہانی کو 2006 میں رماکانت سمرتی کہانی سمان دیا گیا۔نوین کمار نیتھانی دہرادون میں ڈاک پتھر ، وکاس نگر ڈگری کالج میں فزکس کے استاد رہے ہیں۔
نوین کمار نیتھانی کی یہ کہانی ان کے افسانوی مجموعے ‘سوری کی کہانیاں’ سے لی گئی ہے۔سوری یوں تو ہماچل پردیش، ہندوستان میں ایک گاؤں ہے۔مگر نوین کمارنیتھانی کے ذریعے نہ صرف اس گاؤں کی بلکہ ہندوستان میں پہاڑی علاقوں کی بدلتی ہوئی زمینی حالت، غائب ہوتے ہوئے جنگلوں اور بدلتے موسموں کی کہانیاں لکھی ہیں اور اس کے لیے انہوں نے پہاڑی لوک کتھاؤں سے بھی ان کہانیوں کو کھاد پانی فراہم کیا ہے۔ ‘چڑھائی’ سوری اور وہاں کے لوگوں کی حالت بیان کرتی ہوئی ایسی ہی ایک کہانی ہے۔اس میں ایک بوڑھے چوکیدار کی پچھلی زندگی اور سوری میں آنےو الے بدلاؤ کو جس طرح درشایا گیا ہے، اس نے بوڑھے اور پہاڑ کی زندگی میں بہت حد تک دلچسپ مماثلت پیدا کردی ہے۔یہ کہانی اسی بنیاد پر مجھے دوسری کہانیوں کے مقابلے میں ترجمے کے لیے زیادہ مناسب معلوم ہوئی، حالانکہ اس مجموعے میں موجود سبھی کہانیاں عمدہ ہیں اور ایک الگ ہی ذائقہ رکھتی ہیں۔