سپنا بھٹ کی نظمیں

حوا کی بیٹیاں

 

ہم حوا کی بیٹیاں

آدم زاد کی طلسمی چالوں سے نہیں

بھاشا کی راجنیتی سے چھلی گئی ہیں

 

ایشور کے لیے

ہمیں ہرنی، کوئل، چڑیا نہیں

بلکہ ایک انسان سمجھیے

 

آپ ہمیں چوطرفہ لڑائیوں میں دھکیل کر

ہماری ہی چھاتی پر کنڈلی مارکر

کر تو رہے ہیں

نسائیت اور نسائی شعور پر کھوکھلی بحثیں

پھُلا رہے ہیں چھاتی، ٹھوک رہے ہیں خود کی ہی پیٹھ

مگر جان لیجیے

آپ کی عورت ہنستی ہے

آپ کے تمام تمغوں اور اسناد پر

آپ کے پیٹھ پیچھے

 

ہمیں کمزور کہنے سے پہلے

اپنی ٹُچّی ہوس کو دھتکاریے جناب

 

ہم عورتوں نے ہی ڈال رکھی ہے

آپ کی اصول پسند مردانگی اور وحشی پن پر

لاج اور جھجھک کی چادر

ہم سے ڈھکے رہتے ہیں آپ کے مظالم

اور خطرناک جہالتیں پردے میں

 

ہم بس جسم ہی جسم تو نہیں ہیں

ہمیں صرف کامنی صورت اور لچکتی کمر کے روپ میں مت دیکھیے

ممکن ہو تو

ہمیں وجدان، خیال

اور ذہن کی کسوٹی پر کسیے

اور خود بتائیے کہ

ہم آپ سے کس لحاظ سے کمتر ہیں!

 

ہم آپ کے انا پرست اور جھوٹے

مردانہ زہر سے نیلی پڑی ہوئی عورتیں ہیں

ہمیں اپنا زہر آپ چوس کر تھوکنے دیجیے

 

یہ دنیا صرف آپ کی نہیں ہے

ہمیں بھی جی بھر کر اپنے من سے جینے دیجیے

٠٠٠

 

رعایت

 

رسوئی گھر میں ایک دم ٹھیک مقدار میں ذائقے کا خیال

کہ دال میں کتنا ہو نمک

کہ لبھائے مگر چبھے نہیں،

کتنی ہو چینی چائے میں

کہ پھیکی نہ لگے اور زبان تالو سے چپکے بھی نہیں

اتنے سلیقے سے اوڑھے دوپٹہ

کہ چھاتی ڈھکی رہے

مگر منگل سوتر دکھتا رہے؛

چہرے پر ہو اتنا میک اپ

کہ تِل تو دکھے ٹھوڑی کا

مگر رات پڑے تھپڑ

کا سیاہ داغ چھپ جائے

چھوئے اتنے ٹھیک طریقے سے کہ پتی خواب میں بھی نہ جان پائے

کہ اس کے کاندھے پر دیا تازہ گرم بوسہ اسے نہیں

دراصل اس کے پریم کی یادکے لیے ہے

اتنی ہی حاضری دکھے کہ

رسوئی گھر میں رکھی ماں کی دی پرات میں اس کا نام

لکھا ہو

مگر گھر کے باہر نیم پلیٹ پر نہیں،

کہ گھر کی قسطوں کی ساجھے داری پر اس کا نام ہو

مگر گھر گاڑی کے مختار ناموں پر کہیں نہیں

کچھ اتنا سدھا اور حساب سے ہے عورت کا من

کہ کوئی ماتھے پر چھاپ گیا ہے

‘تریا چرترم’

جسے دیوتا بھی نہیں سمجھ پاتے، آدمی کی کیا بساط!!

اور اس طرح عورت کو

‘آدمیوں’ کے رتبے اور درجے سے بے دخل کردیا گیا ہے

اتنی ناقابل برداشت ڈرامائیت

اور میکانکی عمل سے تھک کر

اتنے سارے سلیقوں، ترتیبوں اور ٹھیک حساب کے درمیان

ایک عورت تھوڑا سا بے ڈھب، بے سلیقہ  ہوجانے

اور بے حساب جینے کی رعایت چاہتی ہے

٠٠٠

 

اے مری موت

 

اے مری موت!

ابھی ٹال دے اپنی آمد

 

کہ ابھی میں نے دیکھا نہیں ہے سمندر کوئی

ابھی کسی برساتی جنگل میں بھٹکی نہیں

نمی سے بھرپور خالی من کو لے کر

 

ابھی کسی ایسی یاترا کی خوش رنگ یاد میرے پاس نہیں

کہ جس میں ریل گاڑی میں ہوتی ہوں

تین صبحیں اور دو راتیں

 

ابھی ہُگلی کے ریتیلے تٹ پر

نہیں چھوڑی میں نے اپنے تھکے ہوئے پیروں کی بھٹکن

ابھی نوکا میں بٹھا کر لے جاتے

کسی ملاح کی  ملائم ہانک نے مجھے باندھا نہیں

 

ابھی میرے پاس نہیں ہے دوستوئیفسکی کا سارا ادب

ابھی میں نے کیروستامی کو پورا جانا نہیں

 

ابھی ماجد مجیدی کی ایک فلم

راہ تکتی ہے میری فون کی گیلری میں چپ چاپ

 

ابھی میرا ایک دوست جوجھ رہا ہے ہر سانس کے لیے

ابھی اس کے ماتھے پر ٹھنڈے پانی کی پٹیاں نہیں رکھیں

اسے دلاسا نہیں دیا

 

ابھی میری بیٹی بچی ہی ہے ننھی سی

ابھی میں نے اسے دوست نہیں بنایا

ابھی پوچھا  بھی نہیں ہے کہ تجھے عشق ہوگیا ہے کیا میری بچی؟

 

ابھی اپنے پیار کے موضوع پر کچھ کہنے کی ہمت نہیں جٹائی

اور تو اور

ابھی اس پاگل سے بھی ہے ایک ہی ملاقات

ادھوری اور جھجھک سے بھرپور

ابھی اس نے میرا ہاتھ نہیں تھاما

ابھی اس نے مجھے چوما نہیں۔۔۔

٠٠٠

 

حاصل

 

رات آتما کے

جس سیلے اندھیرے میں پریم کا جھگڑا تھا

تپتی ہوئی کایا کی اسی تنہا زمین پر

ٹھنڈی سنہری بھور اتر رہی ہے

کیسی اننت شانتی ہے!

 

سانس کے ہر دھاگے میں

جس کے نام کا منکا بندھا ہے نا

ایک دن وہ مالا بھی ٹوٹ جانی ہے

 

ہر رسد کی ایک معیاد ہوا کرتی ہے

جیسے اپنے ہی  لہو سے کم ہوجائیں سفید خونی خلیات

دل سے جذبۂ عشق گُم ہوتا رہتا ہے دھیرے دھیرے چپ چاپ

 

کبھی پرانے ستار سے بھی زخمی ہوجاتی ہیں انگلیاں

اندھیرے پر بھی اجالے کا داغ لگتا ہے

 

بے انتہا خوبصورتی سے بھی

کمہلاتا ہے آنکھ کا پانی

بہت دکھ سے ہی آتما کھوکھلی نہیں ہوتی

بہت پیار بھی عمر کھاجاتا ہے

 

کوئی کروٹ بدلوں

ساتھی دکھ میری طرف ہی منہ کرکے سوتے ہیں

آنکھ کھلتے ہی مسکرا کر کہتے ہیں

کہ ‘جیسے ہمیشہ نہیں رہتی کوئی یاد، کوئی خواہش،

کوئی لمس یا جسم کی بو اس مادی دنیا میں

عشق کا یہ غم بھی نہیں رہے گا’

 

جب کچھ نہیں سوجھتا

تب عشق کاندھے پر ہاتھ نہیں دھرتا

دلاسہ نہیں دیتا

 

یہ تو موت کا کرم ہے

جو ایک دن کان میں آکر دھیمے سے کہتی ہے

کہ اٹھو!

اس کی یادوں کی پوٹلی باندھ لو

 

زمین پر رونے کا یہ تمہارا آخری دن ہے

اور میرے ساتھ چلو۔۔۔

٠٠٠

 

لوٹنا

 

چلتی تھمتی سانسوں کی ترتیب میں نہیں

آتما میں مسلسل بجتے سنگیت کی

بے ڈھب لے میں لوٹنا

 

کس ترکیب سے پکاروں تمہیں

کہ کوئی پکارخالی نہ جائے!

 

لوٹنا ممکن نہ ہو، تب بھی

وادی میں گونجتی اپنے نام کی بازگشت میں لوٹنا

 

اس کایا میں نہیں ہوں میں

نہ ہی اس  کویتا میں

بھاشا میں نہیں ، اشاروں میں ڈھونڈنا مجھے

میں ایک چپ ہوں دھیرے دھیرے مرتی ہوئی

مجھ میں گم آواز کی سند کی طرح لوٹنا

 

گھنی اداسیوں سے اٹھتی ہوئی

اس روہانسی کوندھ میں لوٹنا

جس کی چھایا جسم پر نہیں من کی دیوار پر پڑتی ہو

میرے من میں کھلتی چمپا کی پنکھڑیوں میں لوٹنا

 

پریم سے مُکت ہونا، سانس کا چوک جانا ہے

اور پریم کی خواہش ، یادوں کی پیٹھ پر

بیٹھی ہوئی ایک سست پپلی تتلی ہے

جو کہیں اڑتی ہی نہیں

 

تم نجات کی خواہشوں میں نہیں

زندگی کی حسرتوں میں لوٹنا

 

ابھی ایک جنم لگے گا

تمہاری خواہشوں سے دور ہونے میں

تم میری نہیں اپنی خواہشوں میں لوٹنا

 

میرے عشق!

تم ایک دن،

اپنے من کے پنچانگ سے میل کھاتے

میرے من کے بارہ ماسی موسموں میں لوٹنا۔۔۔

٠٠٠

 

کتابیں

 

میں نے ایمان کی طرح برتیں کتابیں

کتابیں ہی میری ساتھی رہیں

میں نے کتابوں سے پیار کیا

 

جیون کی گھنگھور  اداسی میں

میں نے ایشور کو نہیں پکارا

مندروں میں گھنٹیاں نہیں بجائیں

پرارتھنا میں بندھے رہ کر دیپک نہیں جلائے

میں نے  ہمدرد کتابوں کے صفحات پلٹے

 

میں نے ان لوگوں سے کبھی ہاتھ نہیں ملایا

جن کے ہاتھوں میں نہیں تھی

کتابوں کو چھولینے کی صلاحیت

جن کے گھروں میں کتابیں نہ تھیں

وہ گھر میرے لیے انجان اور اجنبی ہی رہے ہمیشہ

 

میں نے بابا سے بیاہ میں مانگا

ان کا وہ بڑا فوجی صندوق

جس پر لکھا تھا

اوم پرکاش، 1623 پائنیئر کمپنی

نہیں،زیورات رکھنے کے لیے نہیں

کتابیں ہی میرے لیے زیورات ہیں

انہیں رکھنے کے لیے آج بھی میرے پاس الماری نہیں ہے

الماری خریدنے نکلتے ہی ہمیشہ مجھے دکھا

کسی نایاب کتاب کا نسخہ میری راہ تکتا ہوا

 

میں نے کتابوں سے عشق کیا، کتابوں سے لپٹ کر روئی

کتابیں ہی میری رازدار رہیں

میرے اندر گوشت پوست نہیں

کتابوں کی سیلی گندھ ہے،

کتابوں کی ہی بھوک اور پیاس بھی

 

میں نے ماں سےنہیں کتابوں سے سیکھی دنیا داری

کتابوں نے  مجھے بہتر انسان ہونے میں مدد دی

میں نے اکیلے چلتے ہوئے کاٹے

سب سے کٹھن دن، سب سے خراب موسموں میں انہیں کے سہارے

 

کتابیں ہی میری زندگی کا سرمایہ ہیں

 

میرے بعد میرا سب کچھ بٹ جائے گا بچوں میں

کتابیں مگر چودہ برس کی اس پہاڑی بچی کو ملیں گی

جو چار کوس آندھی پانی میں چل کر

پرانی کتاب لوٹا کر

مجھ سے نئی کتاب مانگ لے جاتی ہے

٠٠٠

 

سُکھ کا سوانگ

 

ہے دیوتا!

دکھ ہی دکھ گمکتا ہے

پرانے باسمتی بھات جیسا

میرے جسم کی کوٹھری میں

 

آتما کے روشندانوں سے

ٹپ ٹپ اندھیرا ہی گرتا ہے

پل پل عمر کا بسنت بیت رہا ہے

ادھر سانسوں کا مبہم رسم الخط

زندگی کے پیلے کاغذ پر

ماند پڑتا جاتا ہے

ادھر من پر لگا

سوگ کا موسم ختم ہونے پر ہی نہیں آتا

 

یادیں خود کو دوہرانے کی زبان جانتی ہیں

عشق گزر کر مرجھائے ہوئے

پھولوں میں بدل جاتا ہے

 

سچ ہے کہ

آتما کی قید سے کوئی مُکتی نہیں

اس پر یہ معلوم ہونا کہ

عشق کا طلسم کیسا ہی نازک کیوں نہ ہو

ایک روز ٹوٹ جاتا ہے

عاشق کا لمس کتنا ہی پرکشش کیوں نہ ہو

ایک دن جسم اس کی یاد سے آزاد ہو ہی جاتا ہے

 

اُفف!

کتنی گھنی اوب سے بھرے ہوئے ہیں یہ دن

ایسے میں سفر کی تکان نہیں

منزل کی قربت کا احساس مایوس کرتا ہے

 

اچھی طرح جانتی ہوں

کہ سب چھل فریب انت میں مٹ جاتے ہیں

کوئی جادو سر پر ہمیشہ سوار نہیں رہتا

 

پھر بھی چاہتی ہوں کہ

عشق کا یہ دکھ زندگی بھر بنا رہے

 

بھلے ہی میری زندگی میں اس کا ہونا

پیاس کی ایک الاپ کی مانند زندہ رہے

 

بھلے ہی اس کا ساتھ ہونا

دکھ کے سراب کی مانند

سکھ کے کچے پکے سوانگ جیسا ہی ہو

٠٠٠

 

سوگ

 

اس کی تانبئی جسمانی بو

دانتوں سے کاٹ کر  الگ کردی

پھر بھی زبان پر ایک کھارا داغ رہ ہی گیا

 

اب کوئی چارہ نہیں

کوئی علاج نہیں

ان بے ڈھب نظموں میں کوئی موسمی راگ نہیں

 

یہ نظم پر نہیں

من پر طاری سوگ ہے

 

نہیں، یہ اس کی یاد نہیں ہے

میری چھاتی پر میرا ہی بے حرکت ہاتھ اوندھا پڑا ہے

 

وہ کہیں نہیں ہے۔۔۔

٠٠٠

 

سپنا بھٹ کی نظمیں عورتوں کے انسانی پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہیں، وہ اس بات پر زور دیتی ہیں کہ ان کے تعلق سے دھواں دار مباحث اور حقوق کی بات کرنے سے بہت بہتر ہے کہ انہیں جیتا جاگتا انسان سمجھا جائے۔ان کے یہاں کسی قسم کی تقدیس کے پہلو تلاش کرنے اور پیدا کرنے سے اچھا ہے کہ ان سے وہ توقعات وابستہ نہ کی جائیں، جو انہیں انسان سے بڑھ کر فرشتہ ہونے یا بنادیے جانے کے امکانات پیدا کرتی ہیں۔یہ نظمیں ایک ایسی نظم نگار کی ہیں، جس کے یہاں عورت عشق کرتی ہے، صرف خیالی اور ہوائی نہیں بلکہ اپنے جسم کے ساتھ بھرپور اور بے پناہ۔وہ عشق کو کسی گنتی، کسی عمر، کسی عظمت  کے آئینے میں قید کرکے نہیں دیکھنا چاہتی اور عورت کے حوالے سے دنیا سے بھی وہ یہی چاہتی ہے کہ وہ اسے جینے دے، عشق کرنے دے اور اپنے اوپر بیت رہے تمام موسموں سے اسی طرح آزادانہ طور پر لطف اندوز ہونے دے، جیسے کہ مرد عام طور پر ہوا کرتے ہیں۔اور وہ اس کیفیت کو لکھنے کی بھی آزادی چاہتی ہے۔

سپنا بھٹ کا جنم 25 اکتوبر کو کشمیر میں ہوا۔اتراکھنڈ میں ان کی تعلیم مکمل ہوئی۔ انہوں نے انگریزی اور ہندی سے ایم اے کیا ہے اور فی الحال اتراکھنڈ میں ہی تدریس کے کام سے وابستہ ہیں۔ان کی دلچسپی خاص طور پر ادب، سنیما اور سنگیت میں ہے۔ہندی کے بہت سے موقر ادبی جریدوں میں ان کی نظمیں شائع ہوتی رہتی ہیں۔ان کے اب تک دو شعری مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔ایک ‘چپیوں میں آلاپ ‘ اور دوسرے’ بھاشا میں نہیں۔’

news-0901

yakinjp


sabung ayam online

yakinjp

yakinjp

rtp yakinjp

yakinjp

yakinjp

judi bola online

slot thailand

yakinjp

yakinjp

yakinjp

yakinjp

ayowin

mahjong ways

judi bola online

mahjong ways 2

JUDI BOLA ONLINE

maujp

maujp

sabung ayam online

maujp

maujp

maujp

maujp

sabung ayam online

mahjong ways slot

sbobet88

live casino online

Situs Agen Togel

MAUJP

118000031

118000032

118000033

118000034

118000035

118000036

118000037

118000038

118000039

118000040

118000041

118000042

118000043

118000044

118000045

118000046

118000047

118000048

118000049

118000050

118000051

118000052

118000053

118000054

118000055

118000056

118000057

118000058

118000059

118000060

128000031

128000032

128000033

128000034

128000035

128000036

128000037

128000038

128000039

128000040

128000041

128000042

128000043

128000044

128000045

128000046

128000047

128000048

128000049

128000050

128000051

128000052

128000053

128000054

128000055

128000056

128000057

128000058

128000059

128000060

138000031

138000032

138000033

138000034

138000035

138000036

138000037

138000038

138000039

138000040

138000041

138000042

138000043

138000044

138000045

138000046

138000047

138000048

138000049

138000050

138000051

138000052

138000053

138000054

138000055

138000056

138000057

138000058

138000059

138000060

148000041

148000042

148000043

148000044

148000045

148000046

148000047

148000048

148000049

148000050

148000051

148000052

148000053

148000054

148000055

148000056

148000057

148000058

148000059

148000060

148000061

148000062

148000063

148000064

148000065

148000066

148000067

148000068

148000069

148000070

148000071

148000072

148000073

148000074

148000075

148000076

148000077

148000078

148000079

148000080

148000081

148000082

148000083

148000084

148000085

158000051

158000052

158000053

158000054

158000055

158000056

158000057

158000058

158000059

158000060

158000061

158000062

158000063

158000064

158000065

158000066

158000067

158000068

158000069

158000070

158000071

158000072

158000073

158000074

158000075

158000076

158000077

158000078

158000079

158000080

168000011

168000012

168000013

168000014

168000015

168000016

168000017

168000018

168000019

168000020

168000021

168000022

168000023

168000024

168000025

168000026

168000027

168000028

168000029

168000030

168000031

168000032

168000033

168000034

168000035

168000036

168000037

168000038

168000039

168000040

168000041

168000042

168000043

168000044

168000045

168000046

168000047

168000048

168000049

168000050

178000046

178000047

178000048

178000049

178000050

178000051

178000052

178000053

178000054

178000055

178000056

178000057

178000058

178000059

178000060

178000061

178000062

178000063

178000064

178000065

178000066

178000067

178000068

178000069

178000070

178000071

178000072

178000073

178000074

178000075

188000151

188000152

188000153

188000154

188000155

188000156

188000157

188000158

188000159

188000160

188000161

188000162

188000163

188000164

188000165

188000166

188000167

188000168

188000169

188000170

188000171

188000172

188000173

188000174

188000175

198000041

198000042

198000043

198000044

198000045

198000046

198000047

198000048

198000049

198000050

198000051

198000052

198000053

198000054

198000055

198000056

198000057

198000058

198000059

198000060

198000061

198000062

198000063

198000064

198000065

198000066

198000067

198000068

198000069

198000070

218000031

218000032

218000033

218000034

218000035

218000036

218000037

218000038

218000039

218000040

218000041

218000042

218000043

218000044

218000045

218000046

218000047

218000048

218000049

218000050

218000051

218000052

218000053

218000054

218000055

218000056

218000057

218000058

218000059

218000060

228000031

228000032

228000033

228000034

228000035

228000036

228000037

228000038

228000039

228000040

228000041

228000042

228000043

228000044

228000045

228000046

228000047

228000048

228000049

228000050

238000001

238000002

238000003

238000004

238000005

238000006

238000007

238000008

238000009

238000010

238000011

238000012

238000013

238000014

238000015

238000016

238000017

238000018

238000019

238000020

238000021

238000022

238000023

238000024

238000025

238000026

238000027

238000028

238000029

238000030

news-0901
content-0901

yakinjp


sabung ayam online

yakinjp

yakinjp

rtp yakinjp

yakinjp

yakinjp

judi bola online

slot thailand

yakinjp

yakinjp

yakinjp

yakinjp

ayowin

mahjong ways

judi bola online

mahjong ways 2

JUDI BOLA ONLINE

maujp

maujp

sabung ayam online

maujp

maujp

maujp

maujp

sabung ayam online

mahjong ways slot

sbobet88

live casino online

Situs Agen Togel

MAUJP

118000031

118000032

118000033

118000034

118000035

118000036

118000037

118000038

118000039

118000040

118000041

118000042

118000043

118000044

118000045

118000046

118000047

118000048

118000049

118000050

118000051

118000052

118000053

118000054

118000055

118000056

118000057

118000058

118000059

118000060

128000031

128000032

128000033

128000034

128000035

128000036

128000037

128000038

128000039

128000040

128000041

128000042

128000043

128000044

128000045

128000046

128000047

128000048

128000049

128000050

128000051

128000052

128000053

128000054

128000055

128000056

128000057

128000058

128000059

128000060

138000031

138000032

138000033

138000034

138000035

138000036

138000037

138000038

138000039

138000040

138000041

138000042

138000043

138000044

138000045

138000046

138000047

138000048

138000049

138000050

138000051

138000052

138000053

138000054

138000055

138000056

138000057

138000058

138000059

138000060

148000041

148000042

148000043

148000044

148000045

148000046

148000047

148000048

148000049

148000050

148000051

148000052

148000053

148000054

148000055

148000056

148000057

148000058

148000059

148000060

148000061

148000062

148000063

148000064

148000065

148000066

148000067

148000068

148000069

148000070

148000071

148000072

148000073

148000074

148000075

148000076

148000077

148000078

148000079

148000080

148000081

148000082

148000083

148000084

148000085

158000051

158000052

158000053

158000054

158000055

158000056

158000057

158000058

158000059

158000060

158000061

158000062

158000063

158000064

158000065

158000066

158000067

158000068

158000069

158000070

158000071

158000072

158000073

158000074

158000075

158000076

158000077

158000078

158000079

158000080

168000011

168000012

168000013

168000014

168000015

168000016

168000017

168000018

168000019

168000020

168000021

168000022

168000023

168000024

168000025

168000026

168000027

168000028

168000029

168000030

168000031

168000032

168000033

168000034

168000035

168000036

168000037

168000038

168000039

168000040

168000041

168000042

168000043

168000044

168000045

168000046

168000047

168000048

168000049

168000050

178000046

178000047

178000048

178000049

178000050

178000051

178000052

178000053

178000054

178000055

178000056

178000057

178000058

178000059

178000060

178000061

178000062

178000063

178000064

178000065

178000066

178000067

178000068

178000069

178000070

178000071

178000072

178000073

178000074

178000075

188000151

188000152

188000153

188000154

188000155

188000156

188000157

188000158

188000159

188000160

188000161

188000162

188000163

188000164

188000165

188000166

188000167

188000168

188000169

188000170

188000171

188000172

188000173

188000174

188000175

198000041

198000042

198000043

198000044

198000045

198000046

198000047

198000048

198000049

198000050

198000051

198000052

198000053

198000054

198000055

198000056

198000057

198000058

198000059

198000060

198000061

198000062

198000063

198000064

198000065

198000066

198000067

198000068

198000069

198000070

218000031

218000032

218000033

218000034

218000035

218000036

218000037

218000038

218000039

218000040

218000041

218000042

218000043

218000044

218000045

218000046

218000047

218000048

218000049

218000050

218000051

218000052

218000053

218000054

218000055

218000056

218000057

218000058

218000059

218000060

228000031

228000032

228000033

228000034

228000035

228000036

228000037

228000038

228000039

228000040

228000041

228000042

228000043

228000044

228000045

228000046

228000047

228000048

228000049

228000050

238000001

238000002

238000003

238000004

238000005

238000006

238000007

238000008

238000009

238000010

238000011

238000012

238000013

238000014

238000015

238000016

238000017

238000018

238000019

238000020

238000021

238000022

238000023

238000024

238000025

238000026

238000027

238000028

238000029

238000030

content-0901