سپنا بھٹ کی نظمیں

حوا کی بیٹیاں

 

ہم حوا کی بیٹیاں

آدم زاد کی طلسمی چالوں سے نہیں

بھاشا کی راجنیتی سے چھلی گئی ہیں

 

ایشور کے لیے

ہمیں ہرنی، کوئل، چڑیا نہیں

بلکہ ایک انسان سمجھیے

 

آپ ہمیں چوطرفہ لڑائیوں میں دھکیل کر

ہماری ہی چھاتی پر کنڈلی مارکر

کر تو رہے ہیں

نسائیت اور نسائی شعور پر کھوکھلی بحثیں

پھُلا رہے ہیں چھاتی، ٹھوک رہے ہیں خود کی ہی پیٹھ

مگر جان لیجیے

آپ کی عورت ہنستی ہے

آپ کے تمام تمغوں اور اسناد پر

آپ کے پیٹھ پیچھے

 

ہمیں کمزور کہنے سے پہلے

اپنی ٹُچّی ہوس کو دھتکاریے جناب

 

ہم عورتوں نے ہی ڈال رکھی ہے

آپ کی اصول پسند مردانگی اور وحشی پن پر

لاج اور جھجھک کی چادر

ہم سے ڈھکے رہتے ہیں آپ کے مظالم

اور خطرناک جہالتیں پردے میں

 

ہم بس جسم ہی جسم تو نہیں ہیں

ہمیں صرف کامنی صورت اور لچکتی کمر کے روپ میں مت دیکھیے

ممکن ہو تو

ہمیں وجدان، خیال

اور ذہن کی کسوٹی پر کسیے

اور خود بتائیے کہ

ہم آپ سے کس لحاظ سے کمتر ہیں!

 

ہم آپ کے انا پرست اور جھوٹے

مردانہ زہر سے نیلی پڑی ہوئی عورتیں ہیں

ہمیں اپنا زہر آپ چوس کر تھوکنے دیجیے

 

یہ دنیا صرف آپ کی نہیں ہے

ہمیں بھی جی بھر کر اپنے من سے جینے دیجیے

٠٠٠

 

رعایت

 

رسوئی گھر میں ایک دم ٹھیک مقدار میں ذائقے کا خیال

کہ دال میں کتنا ہو نمک

کہ لبھائے مگر چبھے نہیں،

کتنی ہو چینی چائے میں

کہ پھیکی نہ لگے اور زبان تالو سے چپکے بھی نہیں

اتنے سلیقے سے اوڑھے دوپٹہ

کہ چھاتی ڈھکی رہے

مگر منگل سوتر دکھتا رہے؛

چہرے پر ہو اتنا میک اپ

کہ تِل تو دکھے ٹھوڑی کا

مگر رات پڑے تھپڑ

کا سیاہ داغ چھپ جائے

چھوئے اتنے ٹھیک طریقے سے کہ پتی خواب میں بھی نہ جان پائے

کہ اس کے کاندھے پر دیا تازہ گرم بوسہ اسے نہیں

دراصل اس کے پریم کی یادکے لیے ہے

اتنی ہی حاضری دکھے کہ

رسوئی گھر میں رکھی ماں کی دی پرات میں اس کا نام

لکھا ہو

مگر گھر کے باہر نیم پلیٹ پر نہیں،

کہ گھر کی قسطوں کی ساجھے داری پر اس کا نام ہو

مگر گھر گاڑی کے مختار ناموں پر کہیں نہیں

کچھ اتنا سدھا اور حساب سے ہے عورت کا من

کہ کوئی ماتھے پر چھاپ گیا ہے

‘تریا چرترم’

جسے دیوتا بھی نہیں سمجھ پاتے، آدمی کی کیا بساط!!

اور اس طرح عورت کو

‘آدمیوں’ کے رتبے اور درجے سے بے دخل کردیا گیا ہے

اتنی ناقابل برداشت ڈرامائیت

اور میکانکی عمل سے تھک کر

اتنے سارے سلیقوں، ترتیبوں اور ٹھیک حساب کے درمیان

ایک عورت تھوڑا سا بے ڈھب، بے سلیقہ  ہوجانے

اور بے حساب جینے کی رعایت چاہتی ہے

٠٠٠

 

اے مری موت

 

اے مری موت!

ابھی ٹال دے اپنی آمد

 

کہ ابھی میں نے دیکھا نہیں ہے سمندر کوئی

ابھی کسی برساتی جنگل میں بھٹکی نہیں

نمی سے بھرپور خالی من کو لے کر

 

ابھی کسی ایسی یاترا کی خوش رنگ یاد میرے پاس نہیں

کہ جس میں ریل گاڑی میں ہوتی ہوں

تین صبحیں اور دو راتیں

 

ابھی ہُگلی کے ریتیلے تٹ پر

نہیں چھوڑی میں نے اپنے تھکے ہوئے پیروں کی بھٹکن

ابھی نوکا میں بٹھا کر لے جاتے

کسی ملاح کی  ملائم ہانک نے مجھے باندھا نہیں

 

ابھی میرے پاس نہیں ہے دوستوئیفسکی کا سارا ادب

ابھی میں نے کیروستامی کو پورا جانا نہیں

 

ابھی ماجد مجیدی کی ایک فلم

راہ تکتی ہے میری فون کی گیلری میں چپ چاپ

 

ابھی میرا ایک دوست جوجھ رہا ہے ہر سانس کے لیے

ابھی اس کے ماتھے پر ٹھنڈے پانی کی پٹیاں نہیں رکھیں

اسے دلاسا نہیں دیا

 

ابھی میری بیٹی بچی ہی ہے ننھی سی

ابھی میں نے اسے دوست نہیں بنایا

ابھی پوچھا  بھی نہیں ہے کہ تجھے عشق ہوگیا ہے کیا میری بچی؟

 

ابھی اپنے پیار کے موضوع پر کچھ کہنے کی ہمت نہیں جٹائی

اور تو اور

ابھی اس پاگل سے بھی ہے ایک ہی ملاقات

ادھوری اور جھجھک سے بھرپور

ابھی اس نے میرا ہاتھ نہیں تھاما

ابھی اس نے مجھے چوما نہیں۔۔۔

٠٠٠

 

حاصل

 

رات آتما کے

جس سیلے اندھیرے میں پریم کا جھگڑا تھا

تپتی ہوئی کایا کی اسی تنہا زمین پر

ٹھنڈی سنہری بھور اتر رہی ہے

کیسی اننت شانتی ہے!

 

سانس کے ہر دھاگے میں

جس کے نام کا منکا بندھا ہے نا

ایک دن وہ مالا بھی ٹوٹ جانی ہے

 

ہر رسد کی ایک معیاد ہوا کرتی ہے

جیسے اپنے ہی  لہو سے کم ہوجائیں سفید خونی خلیات

دل سے جذبۂ عشق گُم ہوتا رہتا ہے دھیرے دھیرے چپ چاپ

 

کبھی پرانے ستار سے بھی زخمی ہوجاتی ہیں انگلیاں

اندھیرے پر بھی اجالے کا داغ لگتا ہے

 

بے انتہا خوبصورتی سے بھی

کمہلاتا ہے آنکھ کا پانی

بہت دکھ سے ہی آتما کھوکھلی نہیں ہوتی

بہت پیار بھی عمر کھاجاتا ہے

 

کوئی کروٹ بدلوں

ساتھی دکھ میری طرف ہی منہ کرکے سوتے ہیں

آنکھ کھلتے ہی مسکرا کر کہتے ہیں

کہ ‘جیسے ہمیشہ نہیں رہتی کوئی یاد، کوئی خواہش،

کوئی لمس یا جسم کی بو اس مادی دنیا میں

عشق کا یہ غم بھی نہیں رہے گا’

 

جب کچھ نہیں سوجھتا

تب عشق کاندھے پر ہاتھ نہیں دھرتا

دلاسہ نہیں دیتا

 

یہ تو موت کا کرم ہے

جو ایک دن کان میں آکر دھیمے سے کہتی ہے

کہ اٹھو!

اس کی یادوں کی پوٹلی باندھ لو

 

زمین پر رونے کا یہ تمہارا آخری دن ہے

اور میرے ساتھ چلو۔۔۔

٠٠٠

 

لوٹنا

 

چلتی تھمتی سانسوں کی ترتیب میں نہیں

آتما میں مسلسل بجتے سنگیت کی

بے ڈھب لے میں لوٹنا

 

کس ترکیب سے پکاروں تمہیں

کہ کوئی پکارخالی نہ جائے!

 

لوٹنا ممکن نہ ہو، تب بھی

وادی میں گونجتی اپنے نام کی بازگشت میں لوٹنا

 

اس کایا میں نہیں ہوں میں

نہ ہی اس  کویتا میں

بھاشا میں نہیں ، اشاروں میں ڈھونڈنا مجھے

میں ایک چپ ہوں دھیرے دھیرے مرتی ہوئی

مجھ میں گم آواز کی سند کی طرح لوٹنا

 

گھنی اداسیوں سے اٹھتی ہوئی

اس روہانسی کوندھ میں لوٹنا

جس کی چھایا جسم پر نہیں من کی دیوار پر پڑتی ہو

میرے من میں کھلتی چمپا کی پنکھڑیوں میں لوٹنا

 

پریم سے مُکت ہونا، سانس کا چوک جانا ہے

اور پریم کی خواہش ، یادوں کی پیٹھ پر

بیٹھی ہوئی ایک سست پپلی تتلی ہے

جو کہیں اڑتی ہی نہیں

 

تم نجات کی خواہشوں میں نہیں

زندگی کی حسرتوں میں لوٹنا

 

ابھی ایک جنم لگے گا

تمہاری خواہشوں سے دور ہونے میں

تم میری نہیں اپنی خواہشوں میں لوٹنا

 

میرے عشق!

تم ایک دن،

اپنے من کے پنچانگ سے میل کھاتے

میرے من کے بارہ ماسی موسموں میں لوٹنا۔۔۔

٠٠٠

 

کتابیں

 

میں نے ایمان کی طرح برتیں کتابیں

کتابیں ہی میری ساتھی رہیں

میں نے کتابوں سے پیار کیا

 

جیون کی گھنگھور  اداسی میں

میں نے ایشور کو نہیں پکارا

مندروں میں گھنٹیاں نہیں بجائیں

پرارتھنا میں بندھے رہ کر دیپک نہیں جلائے

میں نے  ہمدرد کتابوں کے صفحات پلٹے

 

میں نے ان لوگوں سے کبھی ہاتھ نہیں ملایا

جن کے ہاتھوں میں نہیں تھی

کتابوں کو چھولینے کی صلاحیت

جن کے گھروں میں کتابیں نہ تھیں

وہ گھر میرے لیے انجان اور اجنبی ہی رہے ہمیشہ

 

میں نے بابا سے بیاہ میں مانگا

ان کا وہ بڑا فوجی صندوق

جس پر لکھا تھا

اوم پرکاش، 1623 پائنیئر کمپنی

نہیں،زیورات رکھنے کے لیے نہیں

کتابیں ہی میرے لیے زیورات ہیں

انہیں رکھنے کے لیے آج بھی میرے پاس الماری نہیں ہے

الماری خریدنے نکلتے ہی ہمیشہ مجھے دکھا

کسی نایاب کتاب کا نسخہ میری راہ تکتا ہوا

 

میں نے کتابوں سے عشق کیا، کتابوں سے لپٹ کر روئی

کتابیں ہی میری رازدار رہیں

میرے اندر گوشت پوست نہیں

کتابوں کی سیلی گندھ ہے،

کتابوں کی ہی بھوک اور پیاس بھی

 

میں نے ماں سےنہیں کتابوں سے سیکھی دنیا داری

کتابوں نے  مجھے بہتر انسان ہونے میں مدد دی

میں نے اکیلے چلتے ہوئے کاٹے

سب سے کٹھن دن، سب سے خراب موسموں میں انہیں کے سہارے

 

کتابیں ہی میری زندگی کا سرمایہ ہیں

 

میرے بعد میرا سب کچھ بٹ جائے گا بچوں میں

کتابیں مگر چودہ برس کی اس پہاڑی بچی کو ملیں گی

جو چار کوس آندھی پانی میں چل کر

پرانی کتاب لوٹا کر

مجھ سے نئی کتاب مانگ لے جاتی ہے

٠٠٠

 

سُکھ کا سوانگ

 

ہے دیوتا!

دکھ ہی دکھ گمکتا ہے

پرانے باسمتی بھات جیسا

میرے جسم کی کوٹھری میں

 

آتما کے روشندانوں سے

ٹپ ٹپ اندھیرا ہی گرتا ہے

پل پل عمر کا بسنت بیت رہا ہے

ادھر سانسوں کا مبہم رسم الخط

زندگی کے پیلے کاغذ پر

ماند پڑتا جاتا ہے

ادھر من پر لگا

سوگ کا موسم ختم ہونے پر ہی نہیں آتا

 

یادیں خود کو دوہرانے کی زبان جانتی ہیں

عشق گزر کر مرجھائے ہوئے

پھولوں میں بدل جاتا ہے

 

سچ ہے کہ

آتما کی قید سے کوئی مُکتی نہیں

اس پر یہ معلوم ہونا کہ

عشق کا طلسم کیسا ہی نازک کیوں نہ ہو

ایک روز ٹوٹ جاتا ہے

عاشق کا لمس کتنا ہی پرکشش کیوں نہ ہو

ایک دن جسم اس کی یاد سے آزاد ہو ہی جاتا ہے

 

اُفف!

کتنی گھنی اوب سے بھرے ہوئے ہیں یہ دن

ایسے میں سفر کی تکان نہیں

منزل کی قربت کا احساس مایوس کرتا ہے

 

اچھی طرح جانتی ہوں

کہ سب چھل فریب انت میں مٹ جاتے ہیں

کوئی جادو سر پر ہمیشہ سوار نہیں رہتا

 

پھر بھی چاہتی ہوں کہ

عشق کا یہ دکھ زندگی بھر بنا رہے

 

بھلے ہی میری زندگی میں اس کا ہونا

پیاس کی ایک الاپ کی مانند زندہ رہے

 

بھلے ہی اس کا ساتھ ہونا

دکھ کے سراب کی مانند

سکھ کے کچے پکے سوانگ جیسا ہی ہو

٠٠٠

 

سوگ

 

اس کی تانبئی جسمانی بو

دانتوں سے کاٹ کر  الگ کردی

پھر بھی زبان پر ایک کھارا داغ رہ ہی گیا

 

اب کوئی چارہ نہیں

کوئی علاج نہیں

ان بے ڈھب نظموں میں کوئی موسمی راگ نہیں

 

یہ نظم پر نہیں

من پر طاری سوگ ہے

 

نہیں، یہ اس کی یاد نہیں ہے

میری چھاتی پر میرا ہی بے حرکت ہاتھ اوندھا پڑا ہے

 

وہ کہیں نہیں ہے۔۔۔

٠٠٠

 

سپنا بھٹ کی نظمیں عورتوں کے انسانی پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہیں، وہ اس بات پر زور دیتی ہیں کہ ان کے تعلق سے دھواں دار مباحث اور حقوق کی بات کرنے سے بہت بہتر ہے کہ انہیں جیتا جاگتا انسان سمجھا جائے۔ان کے یہاں کسی قسم کی تقدیس کے پہلو تلاش کرنے اور پیدا کرنے سے اچھا ہے کہ ان سے وہ توقعات وابستہ نہ کی جائیں، جو انہیں انسان سے بڑھ کر فرشتہ ہونے یا بنادیے جانے کے امکانات پیدا کرتی ہیں۔یہ نظمیں ایک ایسی نظم نگار کی ہیں، جس کے یہاں عورت عشق کرتی ہے، صرف خیالی اور ہوائی نہیں بلکہ اپنے جسم کے ساتھ بھرپور اور بے پناہ۔وہ عشق کو کسی گنتی، کسی عمر، کسی عظمت  کے آئینے میں قید کرکے نہیں دیکھنا چاہتی اور عورت کے حوالے سے دنیا سے بھی وہ یہی چاہتی ہے کہ وہ اسے جینے دے، عشق کرنے دے اور اپنے اوپر بیت رہے تمام موسموں سے اسی طرح آزادانہ طور پر لطف اندوز ہونے دے، جیسے کہ مرد عام طور پر ہوا کرتے ہیں۔اور وہ اس کیفیت کو لکھنے کی بھی آزادی چاہتی ہے۔

سپنا بھٹ کا جنم 25 اکتوبر کو کشمیر میں ہوا۔اتراکھنڈ میں ان کی تعلیم مکمل ہوئی۔ انہوں نے انگریزی اور ہندی سے ایم اے کیا ہے اور فی الحال اتراکھنڈ میں ہی تدریس کے کام سے وابستہ ہیں۔ان کی دلچسپی خاص طور پر ادب، سنیما اور سنگیت میں ہے۔ہندی کے بہت سے موقر ادبی جریدوں میں ان کی نظمیں شائع ہوتی رہتی ہیں۔ان کے اب تک دو شعری مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔ایک ‘چپیوں میں آلاپ ‘ اور دوسرے’ بھاشا میں نہیں۔’

content-1701

article 8998000441

article 8998000442

article 8998000443

article 8998000444

article 8998000445

article 8998000446

article 8998000447

article 8998000448

article 8998000449

article 8998000450

article 8998000451

article 8998000452

article 8998000453

article 8998000454

article 8998000455

article 8998000456

article 8998000457

article 8998000458

article 8998000459

article 8998000460

article 8998000461

article 8998000462

article 8998000463

article 8998000464

article 8998000465

article 8998000466

article 8998000467

article 8998000468

article 8998000469

article 8998000470

article 2000126

article 2000127

article 2000128

article 2000129

article 2000130

article 2000131

article 2000132

article 2000133

article 2000134

article 2000135

article 2000136

article 2000137

article 2000138

article 2000139

article 2000140

article 2000141

article 2000142

article 2000143

article 2000144

article 2000145

article 2000146

article 2000147

article 2000148

article 2000149

article 2000150

article 2000151

article 2000152

article 2000153

article 2000154

article 2000155

article 2000156

article 2000157

article 2000158

article 2000159

article 2000160

article 2000161

article 2000162

article 2000163

article 2000164

article 2000165

article 2000166

article 2000167

article 2000168

article 2000169

article 2000170

article 2000166

article 2000167

article 2000168

article 2000169

article 2000170

article 2000171

article 2000172

article 2000173

article 2000174

article 2000175

article 2000176

article 2000177

article 2000178

article 2000179

article 2000180

article 2000181

article 2000182

article 2000183

article 2000184

article 2000185

article 2000186

article 2000187

article 2000188

article 2000189

article 2000190

article 2000191

article 2000192

article 2000193

article 2000194

article 2000195

article 2000196

article 2000197

article 2000198

article 2000199

article 2000200

article 2000201

article 2000202

article 2000203

article 2000204

article 2000205

article 2000206

article 2000207

article 2000208

article 2000209

article 2000210

article 2000211

article 2000212

article 2000213

article 2000214

article 2000215

article 2000216

article 2000217

article 2000218

article 2000219

article 2000220

article 2000221

article 2000222

article 2000223

article 2000224

article 2000225

article 2990216

article 2990217

article 2990218

article 2990219

article 2990220

article 2990221

article 2990222

article 2990223

article 2990224

article 2990225

article 2990226

article 2990227

article 2990228

article 2990229

article 2990230

article 2990231

article 2990232

article 2990233

article 2990234

article 2990235

article 2990236

article 2990237

article 2990238

article 2990239

article 2990240

article 2990241

article 2990242

article 2990243

article 2990244

article 2990245

article 2990246

article 2990247

article 2990248

article 2990249

article 2990250

article 2990251

article 2990252

article 2990253

article 2990254

article 2990255

article 2990256

article 2990257

article 2990258

article 2990259

article 2990260

article 2990261

article 2990262

article 2990263

article 2990264

article 2990265

article 888866

article 888867

article 888868

article 888869

article 888870

article 888871

article 888872

article 888873

article 888874

article 888875

article 888876

article 888877

article 888878

article 888879

article 888880

article 888881

article 888882

article 888883

article 888884

article 888885

article 888886

article 888887

article 888888

article 888889

article 888890

article 888891

article 888892

article 888893

article 888894

article 888895

article 888896

article 888897

article 888898

article 888899

article 888900

article 888901

article 888902

article 888903

article 888904

article 888905

article 888906

article 888907

article 888908

article 888909

article 888910

article 888911

article 888912

article 888913

article 888914

article 888915

article 888916

article 888917

article 888918

article 888919

article 888920

article 888921

article 888922

article 888923

article 888924

article 888925

article 0000221

article 0000222

article 0000223

article 0000224

article 0000225

article 0000226

article 0000227

article 0000228

article 0000229

article 0000230

article 0000231

article 0000232

article 0000233

article 0000234

article 0000235

article 0000236

article 0000237

article 0000238

article 0000239

article 0000240

article 0000241

article 0000242

article 0000243

article 0000244

article 0000245

article 0000246

article 0000247

article 0000248

article 0000249

article 0000250

article 0000251

article 0000252

article 0000253

article 0000254

article 0000255

article 0000256

article 0000257

article 0000258

article 0000259

article 0000260

article 0000261

article 0000262

article 0000263

article 0000264

article 0000265

article 0000266

article 0000267

article 0000268

article 0000269

article 0000270

article 5500126

article 5500127

article 5500128

article 5500129

article 5500130

article 5500131

article 5500132

article 5500133

article 5500134

article 5500135

article 5500136

article 5500137

article 5500138

article 5500139

article 5500140

article 5500141

article 5500142

article 5500143

article 5500144

article 5500145

article 5500146

article 5500147

article 5500148

article 5500149

article 5500150

article 5500151

article 5500152

article 5500153

article 5500154

article 5500155

article 7700156

article 7700157

article 7700158

article 7700159

article 7700160

article 7700161

article 7700162

article 7700163

article 7700164

article 7700165

article 7700166

article 7700167

article 7700168

article 7700169

article 7700170

article 7700171

article 7700172

article 7700173

article 7700174

article 7700175

article 7700176

article 7700177

article 7700178

article 7700179

article 7700180

article 7700181

article 7700182

article 7700183

article 7700184

article 7700185

content-1701
news-0801

yakinjp


sabung ayam online

yakinjp

yakinjp

rtp yakinjp

yakinjp

yakinjp

judi bola online

slot thailand

yakinjp

yakinjp

yakinjp

yakinjp

ayowin

mahjong ways

judi bola online

mahjong ways 2

JUDI BOLA ONLINE

maujp

maujp

sabung ayam online

maujp

maujp

maujp

maujp

sabung ayam online

mahjong ways slot

sbobet88

live casino online

Situs Agen Togel

MAUJP

118000021

118000022

118000023

118000024

118000025

118000026

118000027

118000028

118000029

118000030

118000031

118000032

118000033

118000034

118000035

118000036

118000037

118000038

118000039

118000040

118000041

118000042

118000043

118000044

118000045

118000046

118000047

118000048

118000049

118000050

128000021

128000022

128000023

128000024

128000025

128000026

128000027

128000028

128000029

128000030

128000031

128000032

128000033

128000034

128000035

128000036

128000037

128000038

128000039

128000040

128000041

128000042

128000043

128000044

128000045

128000046

128000047

128000048

128000049

128000050

138000021

138000022

138000023

138000024

138000025

138000026

138000027

138000028

138000029

138000030

138000031

138000032

138000033

138000034

138000035

138000036

138000037

138000038

138000039

138000040

138000041

138000042

138000043

138000044

138000045

138000046

138000047

138000048

138000049

138000050

148000026

148000027

148000028

148000029

148000030

148000031

148000032

148000033

148000034

148000035

148000036

148000037

148000038

148000039

148000040

148000041

148000042

148000043

148000044

148000045

148000046

148000047

148000048

148000049

148000050

148000051

148000052

148000053

148000054

148000055

148000056

148000057

148000058

148000059

148000060

148000061

148000062

148000063

148000064

148000065

148000066

148000067

148000068

148000069

148000070

158000041

158000042

158000043

158000044

158000045

158000046

158000047

158000048

158000049

158000050

158000051

158000052

158000053

158000054

158000055

158000056

158000057

158000058

158000059

158000060

158000061

158000062

158000063

158000064

158000065

158000066

158000067

158000068

158000069

158000070

168000011

168000012

168000013

168000014

168000015

168000016

168000017

168000018

168000019

168000020

168000021

168000022

168000023

168000024

168000025

168000026

168000027

168000028

168000029

168000030

168000031

168000032

168000033

168000034

168000035

168000036

168000037

168000038

168000039

168000040

178000036

178000037

178000038

178000039

178000040

178000041

178000042

178000043

178000044

178000045

178000046

178000047

178000048

178000049

178000050

178000051

178000052

178000053

178000054

178000055

178000056

178000057

178000058

178000059

178000060

178000061

178000062

178000063

178000064

178000065

188000141

188000142

188000143

188000144

188000145

188000146

188000147

188000148

188000149

188000150

188000151

188000152

188000153

188000154

188000155

188000156

188000157

188000158

188000159

188000160

188000161

188000162

188000163

188000164

188000165

188000166

188000167

188000168

188000169

188000170

198000031

198000032

198000033

198000034

198000035

198000036

198000037

198000038

198000039

198000040

198000041

198000042

198000043

198000044

198000045

198000046

198000047

198000048

198000049

198000050

198000051

198000052

198000053

198000054

198000055

198000056

198000057

198000058

198000059

198000060

218000021

218000022

218000023

218000024

218000025

218000026

218000027

218000028

218000029

218000030

218000031

218000032

218000033

218000034

218000035

218000036

218000037

218000038

218000039

218000040

218000041

218000042

218000043

218000044

218000045

218000046

218000047

218000048

218000049

218000050

228000016

228000017

228000018

228000019

228000020

228000021

228000022

228000023

228000024

228000025

228000026

228000027

228000028

228000029

228000030

228000031

228000032

228000033

228000034

228000035

228000036

228000037

228000038

228000039

228000040

228000041

228000042

228000043

228000044

228000045

228000046

228000047

228000048

228000049

228000050

238000001

238000002

238000003

238000004

238000005

238000006

238000007

238000008

238000009

238000010

238000011

238000012

238000013

238000014

238000015

238000016

238000017

238000018

238000019

238000020

news-0801