اگر کسی شہر میں گُم ہوجانے لائق جگہیں نہیں ہیں تو وہ ایک ادھورا شہر ہے۔ بلکہ وہ کوئی وسیع ریگستان ہے۔ جہاں ریت ہی ریت اڑتی ہے، آنکھوں میں بھرجاتی ہے۔پھر نیند میں اور خوابوں میں گھس جاتی ہے۔جہاں دھوپ ہی دھوپ ہے ، چھاؤں نہیں ہے۔سراب ہے، پانی نہیں ہے۔جیسے درخت تو ہیں لیکن کھجور کے ہیں۔
انسان کی طرح گم ہوسکنے کے لیے شہر میں کچھ جگہیں تو خیر ہم کو ہی اپنی دلچسپی کے سبب دریافت کرنی ہوتی ہیں۔ جو کسی شہر میں کوئی معمار، منتری یا میونسپل کاؤنسل کا صدر نہیں بنا سکتا۔ ان کی کوئی اطلاع عام نہیں ہوتی۔بس ، وہ جگہیں شہر میں اپنے آپ بنتی چلی جاتی ہیں، جیسے ہمارے بدن میں گھاٹیاں، خندقیں، پتیاں، جھاڑیاں، گلیاں اور بیہڑ ہیں۔
میں ایک معصوم شہری اور پریشان حال انسان کی طرح کچھ دیر کے لیے اپنے روزمرہ میں گم ہوجانا چاہتا ہوں تاکہ اپنی قوتوں کو اکٹھا کرلوں اور خود کے بکھر گئے پرزوں کو بھی۔ دقت یہ ہے کہ گم ہونے کی یہ جگہیں روزبروز ختم ہورہی ہیں یا ختم کی جارہی ہیں۔ قصے کو کچھ مختصر کیا جائے۔
(ایک)
بات تھوڑی سی پرانی ہے۔
ایک دوپہر میں بہت اداس تھا۔ اداسی کی ہیت کچھ ایسی تھی کہ کسی دوست، رشتے دار یا شناسا سے نہیں ملنا چاہتا تھا۔ گھر نے مجھے گھیر لیا تھا اور میں بس تباہ ہی ہونے والا تھا۔یہ اداسی کسی ٹائمر کی طرح میرے بھیتر لگ گئی تھی اور کوئی دھماکا ہواس سے پہلے ہی میں ایک گلی میں گُم ہونے چلا گیا۔ گم ہونے کے لیے یہ بہت مفید جگہ تھی، حالانکہ ادھر میں مہینوں بعد آیا تھا۔ یہ بہت پرانی گلی تھی۔شہر بسنے کی شروعات میں جو گلیاں بنی ہوں گی، ان میں سے رہی ہوگی۔ جیسا عام طور پر بدلتی ہوئی گلیوں کے ساتھ ہوتا ہے، اس گلی کی چوڑائی لگاتار کم، زیادہ ہوتی رہتی تھی۔ کہیں سترہ فٹ تک تھی اور کہیں محض ڈھائی تین فٹ۔اس گلی کی سب سے بڑی طاقت تھی کہ یہ دماغ کی نسوں جیسی پیچ دار تھی اور اچانک کہیں بھی مڑ جاتی تھی۔ اس میں بہت سی دوسری تنگ گلیاں اور یادیں آکر ملتی تھیں۔ کچھ شاخوں کی طرح اور مناظر کی طرح اس میں سے پھوٹتی تھیں۔ اس لیے اچانک پن، تجسس، طمانیت اور تحیر کا بسیرا اس میں اپنے آپ ہوگیا تھا۔ یہ گلی میرے گھر سے کافی دور تھی۔ میری طرف کے لوگ ادھر نہیں آتے تھے۔ کبھی کبھار کوئی آتا بھی ہے تو شاید وہ گم ہونے کے لیے ہی آتا ہوگا، اس لیے ہم ایک دوسرے کو دیکھ کر پہچانتے نہیں تھے۔ کیونکہ ہم تو گمشدہ لوگ تھے اور یہاں کسی کو ڈھونڈنے کا کھیل نہیں کھیلا جاتا تھا۔
سب جانتے ہیں کہ تجربہ کار، تخیل پسند اور دکھی انسان کو گُم ہونے کے لیے روز کوئی نہ کوئی جگہ چاہیے۔جس طرح آکسیجن، روٹی، پانی، بوسہ، نیند اور منجن چاہیے۔جیسے ہم اپنے ہی کسی دکھ کی جھاڑی میں، سکھ کی گلیوں اور امید کے جھرمٹ میں گم ہوجاتے ہیں۔ جیسے ہم ایک اجلی شام میں یا تاروں بھری رات میں گم ہوسکتے ہیں۔یا کسی اپنے کی آغوش میں۔ ہم ہیں بھی، اور نہیں بھی ہیں۔ ہم اسی شہر میں ہیں لیکن ابھی کوئی ہمیں ڈھونڈ نہیں سکتا۔ڈھونڈ بھی لے تو پا نہیں سکتا۔ یہ بھاگ کر گم ہونا نہیں، اجاگر ہوکر گم ہونا ہے۔اس طرح گم ہوجانے میں امکانات ہیں۔نئے سرے سے واپسی ہے۔اس طرح اسی جیون میں پھر سے ظہور پذیر ہونا ہے۔
ایسی جلیبی قسم کی گلیوں کی خاصیت ہوتی ہے کہ بار بار گزر کر بھی آپ ان گلیوں کی تھاہ نہیں پاسکتے۔ان کے سارے اندھیرے، اجالے اور اسرار کو پا نہیں سکتے۔یہ امر جوانیاں ہیں۔ان کے رموز نِت نئے ہیں۔اب آپ ایک پرانی ، دیکھی بھالی گلی میں چل رہے ہیں اور ساتھ ساتھ ایک بے حد نئی ، اچانک ابھر آنے والی اور چھومنتر گلی میں بھی۔ کندھے سے کندھا ملائے، ایک دوسرے کے اوپر گرتے پڑتے، نئے پرانے مکانوں کی یہ گلیاں گم ہو جانے کے لیے شاندار جگہیں ہیں۔ بس، آپ کو چلتے رہنا ہوگا۔مٹ میلے، نارنگی، بینگنی اور پیلے رنگوں کی ساری شکلیں قدم قدم پر ملتی جاتی ہیں۔لیکن لال نیلے ہرے کی بھی کوئی کمی نہیں۔مزے کی بات یہ ہے کہ بیچ گلی میں ہی بڑا سا دروازہ آجاتا ہے اور اچانک آپ کسی گھر میں سے گزر رہے ہوتے ہیں۔اس گھر کے صحن میں سے ہوکر گلی آگے بڑھتی ہے۔وہاں آ پ کو مونج کی کھٹیاؤں پر پاپڑ، بیڑیاںسوکھتی دکھیں گی،راہگیروں کی پروا کیے بنا، دوپہری کی گپ شپ کے ساتھ عورتیں گرہستی کے کام نمٹاتی رہیں گی۔ لذیذ کھانوں کی خوشبوئیں آپ کا پیچھا کریں گی۔ کبھی ایسا لگ سکتا ہے کہ آپ الف لیلہ کے کسی قصے کے منظر میں سے گزر رہے ہیں۔یا آڑی ترچھی آرٹ گیلری میں سے۔فیلنی، کیتن مہتا یا رِتوِک گھٹک کی فلم کے کسی فریم میں سے۔
اب گلی میں میں پوری طرح گُم ہوچکا تھا اور اپنی تجدید نو میں مصروف تھا۔ساتواں یا آٹھواں موڑ آیا ہوگا کہ اچانک سامنے دو لحیم شحیم آدمی آگئے۔میں ڈر کر ٹھٹھک گیا۔کچھ سمجھتا بوجھتا اس سے پہلے اغل بغل کی گلیوں میں سے چار ویسے ہی آدمی اور نکل کر آئے۔انہوں نے مجھے گھیر لیا۔ وہ مضبوط کاٹھی کے اور فوج کے جوانوں جیسا ہیئر کٹ لیے تھے۔ میرا پسینہ چھوٹ گیا لیکن میں نے سوچا کہ میں ایک سیدھا سادا شہری ہوں، میں بھلا ان سے کیوں ڈروں؟ایک پل کے لیے یہ بھی لگا کہ کہیں یہ غنڈے تو نہیں ہیں۔ان میں سے ایک قدآور آدمی نے کہا۔’معاف کریں، ہم آپ کا بہت دیر سے پیچھا کررہے ہیں۔ آپ چاروں طرف ایک ایک چیز کو دھیان سے دیکھتے ہوئے اس گلی میں کیا کررہے ہیں، کہاں جارہے ہیں؟’ میں نے جاننا چاہا کہ وہ لوگ کون ہیں اور کیوں یہ پوچھ تاچھ کی جارہی ہے۔ قدآور آدمی نے اپنے سخت ملائم لہجے میں بتایا کہ وہ ‘قومی حفاظتی دستے’ کے افسران ہیں۔میں نے چپ چاپ اپنا نام پتہ بتا دیا۔ پورا تعارف دیا۔لیکن میں ڈر گیا تھا۔ اس خوف میں یہ تک بتادیا کہ میری محض ایک پتنی ہے اور دو بچے ہیں اور بڑی بیٹی اس سال دسویں کلاس میں پورے ضلعے میں اول آئی ہے۔ادھر ادھر کے رسوخ والوں اور جان پہچان والوں کا حوالہ دیا۔پھر اپنا ڈرائیونگ لائسنس نکال کر دکھایا۔وہ سب مسکرائے۔ قدآور شخص نے پھر کہا۔’جناب، ہم آپ کا چالان نہیں بنارہے ہیں، ہماری بات کا سیدھا جواب دیں کہ آپ اس گلی میں اتنی دیر سے نگاہ بازی کرتے ہوئے کیوں گھوم رہے ہیں۔ آپ کا ارادہ کیا ہے؟’
کچھ سنبھل کر آہستہ آہستہ میں نے انہیں بتانے کی کوشش کی۔’یہ میری پسندیدہ گلی ہے۔ میں یہاں سے دور، شہر کے اس کونے میں رہتا ہوں لیکن یہی میری پسندیدہ گلی ہے۔’ منہ سے نکلنے کو ہی تھا کہ میں یہاں کبھی کبھی یوں ہی گم ہوجانے کےلیے آتا ہوں۔لیکن لگا کہ ‘گُم ہونا’کہنا تو حالات کو اور بگاڑ دے گا کیونکہ کئی لوگ اس طرح گم ہونے کو چھپنا سمجھتے ہیں۔ اس لیے میں نے آگے بتایا کہ اس گلی میں گھومنا اچھا لگتا ہے۔ اور یہ کہ ‘قومی حفاظتی دستے’ کے لیے میرے دل میں بہت عزت ہے۔میرا ڈر اپنا کام کررہا تھا۔ ان میں سے محض ایک قدآور آدمی بول رہا تھا، گویا صرف اسے ہی بولنے کی اجازت حاصل تھی۔’ٹھیک ہے۔سمجھ گئے۔ لیکن اب آپ فوراً یہاں سے واپس جائیے۔ یہ کوئی گھومنے یا چہل قدمی کرنے کی جگہ نہیں ہے۔ویسے بھی یہ ایک خطرناک گلی ہے۔ یہ تو اچھا ہے کہ آپ کا چہرہ عجیب و غریب ہے،اسے دیکھ کر کوئی یہ طے نہیں کرسکتا کہ آپ کس طرف کے ہیں، ورنہ ابھی تک ہم آپ کی لاش برآمد کررہے ہوتے۔پچھلے چار مہینوں سے یہ گلی ہماری نگرانی میں ہے۔اب آپ ان گلیوں میں یوں ہی نہیں گھوم پھر سکتے۔ یہاں کوئی گُم بھی نہیں ہوسکتا۔’
ارے!انہیں کیسے پتہ چلا کہ میں یہاں گم ہونے آیا ہوں۔ میں نے من ہی من حیرت کا اظہار کیا۔ دستے کے لوگوں کو شاید نفسیات میں ماہر بنایا جاتا ہے۔میں کشمکش اور حیرت میں غوطے لگا ہی رہا تھا کہ قدآور شخص نے تحکم آمیز لہجے میں کہا۔’یہاں سے دائیں مڑ کر، مین روڈ سے اپنے گھر جائیں۔ آپ کے لیے یہ جگہ بالکل محفوظ نہیں۔’پھر وہ چھ کے چھ لوگ غائب ہوگئے۔جیسے وہاں کبھی تھے ہی نہیں۔مجھے اس گلی سے باہر ہونا پڑا۔تو میری یہ پسندیدہ اور شاندار گلی اب نگرانی میں ہے۔اور گلیاں کب سے خطرناک ہونے لگیں؟ میں نے تو اس سمت کبھی توجہ ہی نہیں دی۔ضرورت ہی نہیں پڑی۔لگتا ہے میں غافل ہوں۔ شاید اچھا ہے کہ یہ لوگ ہم جیسے غیر ہوشیار شہریوں کو بیدار کررہے ہیں۔لیکن، اگر میں اپنی پسندیدہ گلی میں ہی محفوظ نہیں ہوں تو اس جہان میں بھلا کہاں محفوظ ہوسکتا ہوں۔
آپ سمجھ سکتے ہیں کہ کسی فوجی دستے کی نگرانی میں اگر کوئی گلی آجائے تو وہ عام لوگوں کے لیے کس قدر ناممکن اور ناقابل حصول ہوجاتی ہے۔ میں نے اس گلی سے رخصت لی۔ سنسار میں سے میرے لیے ایک جگہ کم ہوچکی تھی۔ یہ کہنا زیادہ سچ ہوگا کہ وہ چھین لی گئی تھی۔ ایک پل کے لیے میں نے خود کو عجیب ڈھنگ سے بے گھر، محروم اور غلام محسوس کیا۔شاید میرا دماغ گھوم گیا تھا اور میں کچھ بھی طے نہیں کرپارہا تھا، سوائے اس کے کہ گم ہونے کے لیے مفید، میری پیار ایک جگہ چھین لی گئی ہے۔
(دو)
لیکن مایوس ہوکر نہیں بیٹھا جاسکتا تھا۔
دنیا کی کوئی طاقت عام انسان کو اس طرح ختم نہیں کرسکتی۔ مجھے جینا ہوگا۔ اپنی طرح سے۔ تمام ایسی جگہیں ابھی ہوں گی جہاں وقت ضرورت میں گم ہوسکتا ہوں۔ جہاں خود کو پھر سے زندہ کرسکتا ہوں۔میں اس شہر کو بھی اس طرح مرنے نہیں دوں گا۔ چاہے پوری فوج ہی اس شہر میں کیوں نہ لگا دی جائے۔ نا ہی اسے ریگستان بننے دوں گا۔ اور جب میں اس شہر کو بچانا چاہتا ہوں تو یہ شہر بھی میرے لیے حاضر رہے گا۔امید، پیار اور کوشش۔میں ان تین الفاظ میں گہرا یقین رکھتا ہوں۔
وہ ایک چائے کی دکان تھی۔ جہاں سے شہر گاؤں کی طرف دھنستا جارہا تھا، اس چوراہے کے ایک کنارے وہ دکان تھی۔شہر آگے دھنستا جاتا تھا اور اس کے سہارے سہارے وہ بھی۔ گرمیوں میں وہاں دھول اڑتی تھی۔ سردیوں میں جب تب کہرا جم جاتا تھا۔اور بارش میں بادل اسے گھیر لیتے تھے۔کچھ پیڑ بھی، پوری طرح کاٹے جانے سے پہلے اس کے حصے میں آتے تھے۔ اسے ‘چائے کی دکان’ کہنے کے بجائے، کہنا چاہیے کہ گم ہوجانے کی اس طلسمی جگہ میں چائے بھی ملتی تھی۔
یہ صبح تڑکے سے لے کر دیر رات گئے تک کھلی رہتی تھی۔ یہ اجنبیوں اور راہگیروں کا اڈا تھی۔ چار پانچ اخبار پڑے رہتے تھے۔ جن کے سہارے سب کو گم ہونے میں مدد ملتی۔پھر کوئی اڑتی ہوئی دھول میں گم ہوجاتا، کوئی کہرے میں اور کوئی بادلوں میں۔ کوئی کوئی پیڑوں میں۔یہ راہگیر، یہ اجنبی کبھی کبھی ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکراتے بھی تھے۔ جیسے کہتے ہوں کہ کسی کو بتائیے مت کہ ابھی ہم یہاں کھوئے ہوئے ہیں۔چائے پئیں یا نہ پئیں ، آپ یہاں بے روک ٹوک بیٹھے رہ سکتے ہیں۔ حالانکہ کون بدقسمت ہوگا جو یہاں آکر بھی چائے نہ پینا چاہے گا۔یہاں دو چار گھونٹوں میں ہی وہ ہوا پھیپھڑوں میں بھری جاسکتی تھی جو اس شہر کی آلودگی اور بگڑے ماحول کا سامنا کرنے میں کام آتی تھی۔
لیکن ہر آدمی ہر جگہ جاکر گم نہیں ہوسکتا۔ آپ جہاں گم ہوسکتے ہیں۔ وہ جگہ شاید مجھے ناکافی لگے یا مجھے اطمینان ہی نہ ہو کہ میں گم ہوگیا ہوں۔وہ یقین ہی نہ مل سکے جو گم ہونے میں ملتا ہے۔ اور جہاں جاکر میں گم ہوسکتا ہوں، ممکن ہے کہ وہاں جاکر آپ روشن ہوجائیں اور مضحکہ خیز طور پر پکڑ لیے جائیں ۔ ظاہر ہے، میں اس طرح گم ہونے کی بات نہیں کررہا ہوں جیسے کتھاؤں میں رانیاں کوپ بھَوَن (اشتعال گھروں) ٭میں گُم ہوجاتی ہیں یا جیسے لوگ مذہبی عمارتوں میں کھو جاتے ہیں۔ یا دعاؤں میں۔ یا جیسے لوگ فارم ہاؤزوں، پولیس اسٹیشنوں، پانچ ستارہ ہوٹلوں، قانون ساز اسمبلیوں یا جیل خانوں میں گم ہوجاتے ہیں۔
کبھی میں اس طرح گُم ہوجاتا تھا کہ دنیا کو تو دکھائی دیتا تھا لیکن حقیقت میں اس وقت میں گُما ہوا ہوتا تھا۔ جیسے، پچھلی پندرہ تاریخ کو اتوار تھا۔ دوپہر میں ڈھائی بجے ریڈیو سے ہیمنت کمار کا ایک گانا بجا۔ وہ مجھے ڈھانپنے لگا۔ آخر میں اس میں پوری طرح گُم ہوگیا۔ سب مجھے دیکھ رہے تھے اور بے فکر تھے کہ میں اپنے کمرے میں ہی ہوں۔ سب کو دکھائی دیتا ہوا۔لیکن میں گم ہوچکا تھا۔سارے لوگ مجھے دیکھ پارہے تھے اور انہیں یقین تھا کہ میں یہیں ہوں۔ ان کے پاس ہوں۔ میسر ہوں۔ سچ ہے، انسان کے امکانات کو آپ ختم نہیں کرسکتے۔کوئی نہیں، نہ تانا شاہ، نہ غنڈے اور نہ گھر گرہستی کی مشکلیں۔ اور نا ہی وزیر خزانہ یا وزیر دفاع کے اعلانات۔ گاڑھے وقت میں اچانک کوئی سنگیت، چہچہاہٹ، کوئی آواز آدمی کو بچا لیتی ہے۔ اپنی آغوش میں چھپا لیتی ہے۔
میں اب غمزدہ ہوؤں گا تو اسٹیڈیم میں جاکر بیٹھ جاؤں گا۔ یہ ان نئی جگہوں میں سے ہے، جنہیں میں نے اپنے لیے تلاش کیا ہے۔ شام کو میدان میں بچے ہاکی کھیل رہے ہوں گے یا باسکٹ بال۔ وہ اپنا کام کررہے ہوں گے، بنا میری طرف دھیان دیے۔ میں وسیع اسٹیڈیم کی گیلری کے ایک کونے میں مونگ پھلی لے کر بیٹھ جاؤں گا اور بیٹھا رہوں گا۔ جب تک کہ تروتازہ نہ ہوجاؤں۔ حالانکہ اس پسندیدہ گلی کے حادثے کے بعد میں بہت خوفزدہ رہتا ہوں۔ مجھے لگنے لگا ہے کہ کوئی ہے، جس کی نگاہ میرے گم ہوجانے کی جگہوں پر ہے۔ کوئی ہے جو مجھے انسان نہیں رہنے دینا چاہتا۔کوئی ہے جو میرے حقِ تنہائی کو، میری بڑبڑاہٹ کو اور میری تجربہ گاہوں کو ، جہاں میں تجربے کرتا رہتا ہوں، ختم کردینا چاہتا ہے۔ اور یہ پورا کھیل اب ایک گوریلا جنگ میں تبدیل ہوچکا ہے۔
کوئی ایکٹ، بہاؤ یا اصول ایسا نہیں ہے جس کے تحت اندیشے کی بنیاد پر شکایت کرسکوں، نہ ہی کوئی عدالت میں قبول ہوسکنے والی ٹھوس دلیل میرے پاس ہے کہ اپنے جینے کے حق کے لیے حفاظت طلب کرسکوں۔ میرے حق میں زندگی بسر کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔ یوں بھی، میں اس سب کو کسی سطح پر، عام نہیں کردینا چاہتا۔اس لیے مجبور ہوں کہ یہ لڑائی اپنے تئیں جاری رکھوں۔ جدوجہد کرتے ہوئے، چھاپاماری کرتے ہوئے اور اپنی پراسراریت بنائے رکھ کر ہی میں بچا رہ سکتا ہوں۔ اور تب ہی اس شہر کو بھی بچا سکتا ہوں۔
حالانکہ میرے اندیشے بے بنیاد نہیں تھے۔اس بیچ معلوم ہوا کہ بنتے ہوئے شہر کے ایک کونے کی چائے کی دکان کو غیر قانونی قبضہ ہٹانے والے دستے نے اکھاڑ پھینکا ہے۔میرے اندیشے کو مزید تقویت تب ملی جب میرے پاس ایک لمبا دن تھا ور میں کہیں جاکر گم ہوجانا چاہتا تھا۔ میں ایک نظموں کی کتاب کے الفاظ میں پناہ لینا چاہتا تھا۔ گھر میں یہ ممکن نہیں ہوپارہا تھا۔ وہاں بازار کا، تہذیب اور چھٹی کے دن کا گھریلو شور و غل بکھرا ہوا تھا۔تو میں نے اس جگہ جانا طے کیا جہاں تب ہی جانا ممکن ہوتا تھا جب کچھ اطمینان اور وقت میسر ہو۔
شہر کی مغربی سرحد پر ایک پوکھر کے کنارے، چٹانوں کی قطار تھی۔ مغرب میں ہونے کے کارن وہاں دیر شام تک روشنی ٹکتی تھی۔ اور چٹانوں نے مل کر ایک صاف ستھری جگہ ایسی بنائی تھی کہ گرمیوں میں بھی ٹھنڈک رہتی تھی۔ پاس میں ہی بانس کے لمبے جھرمٹ تھے۔ بانس کے جھنڈوں کو، ان بانس کنجوں، اس بانسواری کو اگر آپ نے نہیں دیکھا ہے تو پھر معاف کریں، آپ کا جیون کچھ حد تک تو اکارت ہوا۔ ان درختوں اور چٹانوں کی اوٹ نے ایسا طلسم رچا ہے کہ لگتا ہے شہر کی آتما تو دراصل، یہاں اس مغربی کنارے پر ہی بسیرا کرتی ہے۔شہر کے ٹھیک مہانے پر، غروب کی سمت میں قدرت نے یہ جگہ کسی انسان کے گم ہوجانے کے لیے مقرر کردی ہے۔تاکہ قدرت اور شہری تہذیب کے بیچ وہ ایک صحت مند انہ آمدو رفت کرسکے۔
یہاں میں پہلے بھی آتا رہا ہوں۔بہت سی کتابیں یہاں بیٹھ کر پڑھی ہیں۔کئی بار میں نے یہاں کی تنہائی میں اپنی مرحوم ماں کی یاد میں کھو جانے کی روحانی کوشش کی ہے۔اپنے اس بھائی کو یاد کرتا رہا ہوں جو ابھی زندہ ہے، اسی شہر میں ہے لیکن مجھ سے بارہ سال پہلے بچھڑ چکا ہے۔اسی طرح بہت سے دوستوں کو اور نوجوانی کے دنوں کو بھی۔ دنیا میں جو کچھ مجھے اور چاہیے، اس کی خواہشیں بھی یہیں بیٹھ کر کرتا رہا ہوں۔ گم ہوجانے کی اس جگہ سے میں اپنے ادھورے سنسار کو پورا کرنے کی کوشش کرتا رہا ہوں۔ کسی طرح کی بھرپائی کے لیے یہ ایک آدرش جگہ ہے۔ یہاں چٹانوں پر بیٹھ کر مجھے ایسا زاویہ ملتا ہے جہاں سے میں پورے شہر کو دیکھ سکتا ہوں۔ شہر مجھے نہیں دیکھ سکتا کیونکہ میں تو گمشدہ ہوگیا ہوں۔ یہ جگہ مجھے تکمیلیت کا احساس کراتی ہے اور گم ہونے کی طاقت کو نئے سرے سے قلم زد کرتی ہے۔ تو میں نظموں کی ایک کتاب ساتھ لے کر آیا۔ ساڑھے چار کلو میٹر پیدل چلنے سے پیدا ہونے والا جوش اور رسائن میرے بھیتر تھے۔
پہلے میں چٹانوں کی طرف بڑھا کہ ٹھنڈک میں بیٹھوں گا۔ لیکن ارادہ بدل کر سوچا کہ بانسوں کے جھنڈ کے نیچے بیٹھوں گا۔ان کے ٹھیک بیچ میں جہاں کچھ گھاس اُگ آتی ہے، بانس کی پتیاں بھی وہاں گر کر ایک ملائم قالین بناتی ہیں۔ اپنے اس گردآلود ہرے پیلے قالین تک جیسے ہی پہنچا تو دیکھا گھاس اور پتیوں پر جگہ جگہ خون کے نشان ہیں۔ میں پسینہ پسینہ ہوگیا۔ الٹے پاؤں بھاگا۔ کچھ دور جاکر رکا اور گہری سانس لی۔اب طے ہوچکا ہے کہ کوئی ہے، جو میرے گم ہوسکنے کی جگہوں کو ختم کردینا چاہتا ہے۔کوئی ہے جو مجھ انسان کا پیچھا کررہا ہے۔ جو مجھے گلا گھونٹ کر مار ڈالنا چاہتا ہے۔ میری زندگی کی دھاراؤں کو سکھا دینا چاہتا ہے۔ کوئی ہے جس نے مجھے اپنے ریموٹ پر لے لیا ہے۔
اگلے دن کے اخبار میں ‘بانسوں کی چھاؤں میں ہتیا’عنوان سے خبر چھپی۔میڈیکل کے ایک ہونہار طالب علم کو مار ڈالا گیا تھا۔ میرے اندیشے بے بنیاد نہیں تھے۔
(تین)
چُنوتیاں بڑھتی جارہی تھیں۔ میں گلیوں میں نہیں جاسکتا تھا۔ اسٹیڈیم میں بم رکھنے کی افواہ بھی دو تین بار پھیل گئی تھی۔ ممکن ہے ، وہ نشانے پر تو تھا ہی۔چائے کی کچھ دوسری دکانیں، سنگیت، کتابیں جیسی چیزیں باقی تھیں۔(ہیئر کٹنگ سیلون، آرٹ گیلریاں، سینما ہال، ناٹک گھروں جیسی جگہوں میں لگاتار میری نقلیں تیار کی جاتی ہیں۔اڑچنیں اور رکاوٹیں پیدا ہوتی رہتی ہیں۔بے خیالی کو محتاج ہوجاتا ہوں۔ اس لیے یہاں میں چاہ کر بھی گم نہیں ہوپاتا۔حالانکہ میرے کوئی دوست کہتے ہیں کہ گم ہونے کے لیے یہ بھی خوبصورت جگہیں ہیں۔ ہوں گی، ان کے لیے ہوں گی۔میں نے کہا نا، کہ جہاں آپ گم ہوسکتے ہیں، شاید وہ جگہیں میرے لیے ناکافی ہیں۔)پھر ایک انسان کو گم ہونے کے لیے الگ الگ طرح کی جگہیں چاہیے۔گم ہونے کا اطمینان بھی چاہیے کہ آپ قرینے سے گم ہوسکیں۔ اپنی آدمیت کے ساتھ گم ہوسکیں۔ نہیں تو گم ہونے کی جگہیں قید خانوں میں تبدیل ہوسکتی ہیں۔اور میں کوئی مجرم نہیں ہوں۔ پھر بھی میرے اطمینان کو ختم کیا جارہا ہے۔
ایسے میں ایک خزانہ اچانک مل گیا۔ کسی دریافت کی طرح۔ یا مان لیجیے کسی سوغات کی طرح۔قبل از تاریخ کی ناقابل دخول گپھاؤں کی مانند۔ہوا یہ کہ ابھی پرسوں میں شہر کے بیچو ں بیچ ایک ایسی بے حد عام پُلیا پر بیٹھا ہوا تھا جس کا ابھی تک ذاتی استعمال میں آنا باقی تھا۔وہ ایک چلتی ہوئی سڑک تھی۔ آس پاس کچھ پرانے زمانے کے پیڑ تھے۔ گل مہر، نیم، پیپل اور بکائن کے۔ صبح سات بجے سے میں وہاں بیٹھا ہوا تھا۔ اور سوچ رہا تھا کہ آخر خواہش جاگنے پر اب کہاں گم ہوسکوں گا۔پہلے سے تیاری کے طور پر میں نے اپنا موبائل بند کررکھا تھا۔
کئی دنوں سے میں بھٹک رہا تھا اور اب مجھے اپنے لیے، اپنی سانسوں کے لیے اور زندگی کی راہوں میں پھر سے جانے کے لیے کچھ دیر تک گم ہونے کی ضرورت تھی۔ پورا شہر اس سڑک سے میرے سامنے سے گزر رہا تھا۔ میں سب کو دیکھ رہا تھا۔ہر آنے جانے والے کو۔ٹھٹھک کر یا تھک کر رک جانے والے کو۔ ہڑبڑی میں جاتے انسانوں کو۔ اس آدمی کو بھی جو پُلیا پر آکر، میرے پاس ہی دوسرے کنارے پر بیٹھ گیا۔لیکن دھیرے دھیرے میں نے جان لیا کہ لوگ میری طرف دھیان نہیں دے رہے ہیں۔ لگتا ہے مجھے دیکھ نہیں پارہے ہیں۔ تین چار دوست اور بہت سے شناسا بھی ادھر سے گزرے۔ کچھ نے تو ٹکٹکی باندھ کر پُلیا کی طرف بھی دیکھا۔جیسے میری آنکھوں میں ہی دیکھا ہو۔لیکن ان کی آنکھوں میں کوئی پہچان اور چمک نہیں دکھائی دی۔
کافی دیر بعد مجھے تلاش کرتے ہوئے پتنی بھی آئی، بیٹی ساتھ میں تھی۔آتے جاتے لوگوں سے کچھ پوچھ رہی تھی۔ پلیا پر بیٹھے آدمی سےبھی پوچھنے لگی۔ میری تصویر اس کے ہاتھ میں تھی۔ جبکہ میں اس کے سامنے تھا۔ نہ پتنی نے مجھے دیکھا اور نہ بیٹی نے۔نا ہی ان تمام آدمیوں نے۔ تو کیا میں واقعی کہیں گم ہوچکا ہوں؟
لیکن میں تو یہاں سر عام بیٹھا ہوں۔
تب لوگ مجھے دیکھ کیوں نہیں پارہے ہیں۔ضرور میں ہی کسی اوٹ میں ہوں۔ کوئی چیز ہے جو مجھے چھپارہی ہے اور بچا رہی ہے۔ شام پانچ بجے کے لگ بھگ میں نے سر آسمان کی طرف اٹھایا تو دیکھا کہ پیپل کا ایک پتہ گرتا ہوا میرے بالوں میں نہ جانے کب سے اٹکا ہے۔ اس کی نوک میرے ماتھے تک آگئی ہے۔
اچھا! تو میں پیپل سے جھڑ کرمیرے بالوں میں اٹک گئے پتے میں گُم ہوگیا ہوں۔ خاص طور پر پتے کی، اس لمبی نوک کے پیچھے۔ میں نے اس پیپل کی طرف ، اس کے پتوں کی طرف شکرگزاری کے احساس کے ساتھ دیکھا۔ اور باقی درختوں کی طرف بھی، جن کے پتے ہوا میں لگاتار ہل رہے تھے۔ مجھے کچھ بھروسہ ہوا کہ میں ابھی سچ مچ زندہ، متحرک اور مرتعش بنارہ سکتا ہوں۔ کہ جب سب آپ کے خلاف ہوں تو شہر ایک سچے دوست کی طرح آپ کے ساتھ کھڑا ہوسکتا ہے۔ وہ اپنے قدرتی پن اور قدرتی مناظر کے ساتھ آپ کو اپنی پناہ میں لے لیتا ہے۔ ضرورت پڑنے پر اپنی اوٹ میں چھپالیتا ہے۔
اب آپ بھلے نہتے ہیں لیکن محفوظ ہیں۔ فاتح ہیں۔شہر میں کھوج بین کرنے کے لیے، جیون کا سامنا کرنے کے لیے پھر سے تیار اور حاضر ہیں۔
٠٠٠٠٠
کوپ بھون:راج محلوں کا ایسا کمرہ جہاں رانیاں اپنے غصے کا اظہار کرتی تھیں۔
کہانی ‘گم ہونے کی جگہ’ میں کمار امبُج شہروں میں اکیلے پڑتے اور خود کے ساتھ وقت بتانے کے لیے جگہ ڈھونڈتے ان تمام شہریوں کی کہانیاں لکھتے ہیں۔جن کے پاس ایسی جگہیں روز بروز کم پڑتی جارہی ہیں۔ کمار امبُج اپنی کہانیوں میں روایتی طرز کی قصہ نگاری کے ڈھنگ سے الگ ایک ایسی کہانی کی راہ بناتے ہیں ، جہاں کچھ بھی ابتدا اور انتہا کے ذیل میں سانچے میں نہیں ڈھالا جاتا۔ وہ کہانی کو بے ترتیبی سے لکھتے ہیں ، مگر اس میں بہت پتے کی باتیں ہوتی ہیں۔اسی کہانی میں کئی ایسے اہم موضوعات ساتھ ساتھ چلے آئے ہیں، جن سے ہمارے دور کے انسان اور وہ بھی شہروں کی بھیڑ کے بیچ رہتا ہوئے انسان کی تنہائی پر قدغن لگانے والی اور اڑچنیں پیدا کرنے والی چیزوں کی نشاندہی ہوتی ہے۔’اور اردو’ کے لیے ہماری کوشش ہوگی کہ ان کی مزید کہانیاں بھی ترجمہ کرکے آپ کے سامنے لائی جائیں۔
جمہوریت، آزادی، برابری، سیکولرازم کے اصولوں اور سائنسی نظریے کے حامل سماج کے حامی کمار امبُج کا جنم 13 اپریل 1957 کو ضلع گُنا، مدھیہ پردیش میں ہوا۔ فی الحال بھوپال میں مقیم ہیں۔ ‘کواڑ’،’کرورتا’،’اننتم’،’اتی کرمن’،’امیری ریکھا’ اور ‘اُپ شیرشک’ نام سے ابھی تک ان کے چھ شعری مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔’اِچھائیں’اور’مذاق’ دو ان کی کہانیوں کے مجموعے ہیں۔’تھلچر’ کے عنوان سے ایک تخلیقی قسم کی ڈائری بھی انہوں نے قلمبند کی ہے اور ‘منُشیہ کا اوکاش’، ‘شرَم اور دھرم’ نامی دونوں مضامین کے مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں۔’ان کی نظموں کے انتخابات ‘پرتی ندھی کویتائیں’،’کوی نے کہا۔’کے علاوہ ’75 کویتائیں’ کے نام سے شائع ہوئے ہیں۔انہوں نے گجرات فسادات پر مرکوز نظموں کی کتاب ‘کیا ہمیں چپ رہنا چاہیے’ اور ‘وسودھا’ کے عنوان سے ترتیب دی ہے۔عالمی سنیما سے منتخب فلموں پر مضامین کی ایک کتاب ‘پرچھائیں پر شبد’ جلد شائع ہونے والی ہے۔ ان کو اپنی کویتاؤں کے لیے ‘بھارت بھوش اگروال سمرتی پرسکار’، ‘ماکھن لال چترویدی پرسکار’، ‘شری کانت ورما پرسکار’، ‘گریجا کمار ماتھر سمان’، ‘کیدار سمان’، ‘امر اجالا سمان’ اور ‘واگیشوری پرسکار’ سے نوازا گیا ہے۔ ان سے اس میل آئی ڈی پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔kumarambujbpl@gmail.com
wild bandito princess starlight perbedaan cara membangun dunia imajinatif permainan
pengguna kota metro membahas mengapa durasi jam bermain tidak menjamin hasil menguntungkan
mahjong ways kabupaten kutai kartanegara mengulas hubungan desain permainan persepsi pola
sweet bonanza kota ternate peran warna cerah menciptakan daya tarik visual
gates of olympus kabupaten serdang bedagai memahami mengapa multiplier tidak sama kepastian hasil
lucky neko kabupaten lampung selatan perpaduan identitas jepang gaya animasi kontemporer
mahjong wins kabupaten kubu raya mengamati kebiasaan berbagi pengalaman melalui media sosial
wild bandito kabupaten pamekasan bagaimana tema petualangan membentuk identitas visual
princess starlight kabupaten banyuasin menelaah pengaruh musik cahaya terhadap pengalaman digital
mahjong ways kota banjarbaru membedakan fungsi simbol dekoratif simbol fungsional
lucky neko kabupaten indragiri hulu mengkaji daya tarik simbol keberuntungan perspektif budaya
gates of olympus kabupaten aceh tengah menentukan batas hiburan ekspektasi finansial
wild bandito kabupaten buru selatan mengulas fungsi ilustrasi menyampaikan tema permainan
mahjong pgsoft kabupaten konawe menelusuri transformasi unsur tradisional media digital
pemodelan mahjong ways menganalisis konsistensi frekuensi simbol data simulasi
observasi mahjong ways 2 mengkaji variansi outcome serangkaian percobaan
studi gates of olympus mengulas distribusi multiplier berdasarkan sampel hasil putaran
uji sweet bonanza membandingkan frekuensi kombinasi berbagai sesi
analisis starlight princess meninjau pola distribusi freespin melalui data simulasi
pemetaan lucky neko mengamati fluktuasi simbol interval pengamatan berbeda
simulasi pg soft mengkaji keterkaitan variansi frekuensi outcome permainan
kajian pragmatic play memetakan karakteristik distribusi simbol berdasarkan sampel data
observasi microgaming mengkaji sebaran hasil serangkaian percobaan acak
pemodelan playtech mengevaluasi frekuensi aktivasi fitur khusus sampel data
studi netent menganalisis dinamika volatilitas selama periode pengamatan
analisis mahjong wins memetakan sebaran multiplier serangkaian simulasi
uji bonanza gold membandingkan outcome berdasarkan perbedaan interval pengamatan
kajian scatter hitam mengevaluasi frekuensi aktivasi fitur data permainan
studi game online menganalisis pengaruh persepsi risiko terhadap proses pengambilan keputusan
penelitian teknologi informasi 00000001
penelitian teknologi informasi 00000002
penelitian teknologi informasi 00000003
penelitian teknologi informasi 00000004
penelitian teknologi informasi 00000005
penelitian teknologi informasi 00000006
penelitian teknologi informasi 00000007
penelitian teknologi informasi 00000008
penelitian teknologi informasi 00000009
penelitian teknologi informasi 00000010
penelitian teknologi informasi 00000011
penelitian teknologi informasi 00000012
penelitian teknologi informasi 00000013
penelitian teknologi informasi 00000014
penelitian teknologi informasi 00000015
penelitian teknologi informasi 00000016
penelitian teknologi informasi 00000017
penelitian teknologi informasi 00000018
penelitian teknologi informasi 00000019
penelitian teknologi informasi 00000020
penelitian teknologi informasi 00000021
penelitian teknologi informasi 00000022
penelitian teknologi informasi 00000023
penelitian teknologi informasi 00000024
penelitian teknologi informasi 00000025
penelitian teknologi informasi 00000026
penelitian teknologi informasi 00000027
penelitian teknologi informasi 00000028
penelitian teknologi informasi 00000029
penelitian teknologi informasi 00000030
penelitian teknologi informasi 00000031
penelitian teknologi informasi 00000032
penelitian teknologi informasi 00000033
penelitian teknologi informasi 00000034
penelitian teknologi informasi 00000035
penelitian teknologi informasi 00000036
penelitian teknologi informasi 00000037
penelitian teknologi informasi 00000038
penelitian teknologi informasi 00000039
penelitian teknologi informasi 00000040
penelitian teknologi informasi 00000041
penelitian teknologi informasi 00000042
penelitian teknologi informasi 00000043
penelitian teknologi informasi 00000044
penelitian teknologi informasi 00000045
Volatilitas dan Pola Kemenangan di Bandung Memahami Hubungan Keduanya
Cerita Player Semarang saat Menemukan Simbol Scatter Hitam
Gates of Olympus di Makassar Bagaimana Fitur Tumble Membentuk Dinamika Permainan
Mahjong Wins Palembang Menilik Fitur Free Spins yang Paling Dinantikan
Game PG Soft di Yogyakarta Membahas Faktor di Balik Nilai RTP yang Tinggi
Starlight Princess 1000 di Wilayah Denpasar Mengenal Fitur Multiplier x1000
Pola Gacor dan Tips Bermain Aman Pembahasan untuk Komunitas di Malang
Mahjong Ways 3 Pekanbaru Pengalaman Pemain dalam Memahami Fitur Maxwin
Simbol Scatter dan Wild di Balikpapan Perannya dalam Mengaktifkan Fitur Bonus
Memahami Sistem RNG dan Prinsip Keacakan Putaran dalam Game di Pontianak
Mahjong Wins 3 Batam Membahas Kemunculan Scatter Hitam dan Persepsi Keberuntungan
Tren Gacor Mahjong Ways Kembali Menjadi Perbincangan di Kalangan Player Bogor
Mahjong Wins 2 Surakarta Mengulas Fitur Free Spins yang Menarik Perhatian
Gates of Olympus Versi Bandar Lampung Membahas Momen Maxwin Spektakuler
Tingkat Volatilitas dan Hasil Sesi Permainan Kajian dari Kota Padang
Sweet Bonanza 1000 Wilayah Samarinda Mengenal Mekanisme Tumble Beruntun
Angka RTP Harian di Banjarmasin Memahami Informasi untuk Mengenali Karakteristik Game
Simbol Multiplier dan Petir Zeus di Manado Menelusuri Daya Tarik Elemen Visual
Game Modern di Mataram Mengulas Keistimewaan Fitur Cluster Pays
Strategi Membaca Pola Gacor ala Gamers Profesional dalam Perbincangan di Cirebon
Mahjong Ways Bekasi Mengenal Fitur Free Spins dengan Kemunculan Simbol Emas
Mahjong Wins 3 Wilayah Tangerang Mengulas Fenomena Maxwin yang Tidak Terduga
Volatilitas dan Durasi Bermain di Depok Memahami Pengaruh Karakteristik Permainan
Komunitas Serang Berbagi Pengalaman tentang Fitur Scatter Hitam
Starlight Princess di Purwokerto Faktor di Balik Popularitas Fitur Multiplier Besar
Tren Gacor dan RTP Live di Tasikmalaya Membahas Informasi yang Beredar di Komunitas
Mahjong Wins 2 Jambi Mengulas Momen Menegangkan saat Fitur Free Spins Aktif
Mahjong Ways 2 Bengkulu Memahami Kombinasi Simbol dan Mitos tentang Maxwin
Sistem RNG dan Keacakan Simbol pada Game Online Pembahasan dari Cimahi
Tumble Beruntun di Salatiga Memahami Mekanisme Permainan dan Persepsi Kemenangan Besar
informasi terbaru kabupaten belu 00000001
informasi terbaru kabupaten belu 00000002
informasi terbaru kabupaten belu 00000003
informasi terbaru kabupaten belu 00000004
informasi terbaru kabupaten belu 00000005
informasi terbaru kabupaten belu 00000006
informasi terbaru kabupaten belu 00000007
informasi terbaru kabupaten belu 00000008
informasi terbaru kabupaten belu 00000009
informasi terbaru kabupaten belu 00000010
informasi terbaru kabupaten belu 00000011
informasi terbaru kabupaten belu 00000012
informasi terbaru kabupaten belu 00000013
informasi terbaru kabupaten belu 00000014
informasi terbaru kabupaten belu 00000015
informasi terbaru kabupaten belu 00000016
informasi terbaru kabupaten belu 00000017
informasi terbaru kabupaten belu 00000018
informasi terbaru kabupaten belu 00000019
informasi terbaru kabupaten belu 00000020
informasi terbaru kabupaten belu 00000021
informasi terbaru kabupaten belu 00000022
informasi terbaru kabupaten belu 00000023
informasi terbaru kabupaten belu 00000024
informasi terbaru kabupaten belu 00000025
informasi terbaru kabupaten belu 00000026
informasi terbaru kabupaten belu 00000027
informasi terbaru kabupaten belu 00000028
informasi terbaru kabupaten belu 00000029
informasi terbaru kabupaten belu 00000030
informasi terbaru kabupaten belu 00000031
informasi terbaru kabupaten belu 00000032
informasi terbaru kabupaten belu 00000033
informasi terbaru kabupaten belu 00000034
informasi terbaru kabupaten belu 00000035
informasi terbaru kabupaten belu 00000036
informasi terbaru kabupaten belu 00000037
informasi terbaru kabupaten belu 00000038
informasi terbaru kabupaten belu 00000039
informasi terbaru kabupaten belu 00000040
informasi terbaru kabupaten belu 00000041
informasi terbaru kabupaten belu 00000042
informasi terbaru kabupaten belu 00000043
informasi terbaru kabupaten belu 00000044
informasi terbaru kabupaten belu 00000045
informasi terbaru kabupaten belu 00000046
informasi terbaru kabupaten belu 00000047
informasi terbaru kabupaten belu 00000048
informasi terbaru kabupaten belu 00000049
informasi terbaru kabupaten belu 00000050
sumenep cerita perkembangan istilah maxwin percakapan forum mahjong ways
pembaruan grafis pg soft menjadi topik hangat kalangan pengamat digital singaraja
bandung hingga jakarta perjalanan percakapan komunitas mahjong wins indonesia
gianyar mengulas hubungan istilah populer komunitas identitas visual mahjong ways
nuansa asia klasik karya pragmatic play menarik perhatian pengamat kreatif klungkung
bangli membahas kembalinya mahjong wins 3 percakapan simbol naga scatter
amlapura menyoroti perkembangan tampilan grafis mahjong ways 2 sudut pandang desain
forum digital berbagai wilayah indonesia menghidupkan diskusi mahjong ways
badung mengulas alasan scatter hitam mahjong wins 3 memiliki daya tarik visual tersendiri
mataram membandingkan pendekatan pragmatic play pg soft mengolah tema mahjong
komunitas praya menyoroti perubahan pembahasan putaran gratis mahjong ways
selong tren diskusi mahjong wins tengah munculnya game digital baru
kreator konten tanjung mengangkat cerita perkembangan mahjong ways media sosial
sumbawa besar membahas tiga elemen visual mahjong wins 3 ubin emas naga scatter
komunitas digital semarang menelaah pengaruh animasi terhadap identitas game mahjong modern
yogyakarta menjadi sorotan diskusi perpaduan tradisi asia teknologi game
pengamat surabaya mengulas perubahan gaya ilustrasi seri mahjong digital
makassar membahas peran komunitas online menyebarkan tren konten mahjong
medan hingga palembang perbedaan perspektif penggemar terhadap visual mahjong ways
denpasar menyoroti perkembangan narasi budaya asia desain game mahjong kontemporer
sweet bonanza kabupaten pangkajene kepulauan mengenal mekanisme fitur putaran gratis
gates of olympus kabupaten muara enim perpaduan kisah mitologi teknologi animasi modern
lucky neko kota langsa cara simbol tradisional menyesuaikan diri selera generasi digital
wild bandito mahjong ways kabupaten garut perbandingan dua karakter visual berbeda
warga kabupaten lebak mengkaji cara membedakan klaim permainan informasi memiliki bukti
mahjong wins kota tanjungbalai menelaah fungsi simbol membentuk pengalaman visual
mengapa efek cahaya sering muncul fitur bonus pengamatan kabupaten tapanuli utara
lucky neko kabupaten hulu sungai selatan kombinasi karakter animasi ornamen bernuansa emas
gates of olympus kabupaten aceh besar memahami konsep peluang tanpa bergantung ramalan
sweet bonanza kota gorontalo menelusuri peran desain ceria membentuk identitas game
wild bandito kabupaten halmahera utara eksplorasi tema petualangan format interaktif
princess starlight kota palangka raya mengulas fungsi cahaya elemen penceritaan
lucky neko sweet bonanza perbedaan pendekatan warna membangun identitas desain
warga kabupaten ende menelusuri pengaruh cerita budaya terhadap pembentukan karakter game digital
mengapa pemain lebih mudah mengingat kemenangan besar penjelasan bias ingatan kota madiun
bukan hanya hiburan warga kabupaten bekasi membahas pentingnya memahami batas pengeluaran digital
mahjong ways kabupaten magetan contoh memahami fenomena ilusi pola hasil acak
gates of olympus kota pagar alam menguraikan kesalahpahaman prediksi hasil permainan
warga kabupaten flores timur mengamati pengaruh notifikasi terhadap perhatian pengguna ponsel
sweet bonanza kota sukabumi membahas perbedaan ekspektasi pengguna peluang
wild bandito mahjong wins mengapa perbedaan desain bisa menarik kelompok pengguna beragam
lucky neko kabupaten tanah laut mengkaji simbol keberuntungan perspektif lintas budaya
literasi digital kabupaten sumbawa memahami rtp agar tidak terjebak penafsiran keliru
princess starlight kota tegal menelaah kontribusi tokoh pengalaman hiburan interaktif
news-1701