عدنان کفیل درویش کی نظمیں

ایک مردہ مزور کا بیان

 

جن شاندار شہروں کو ہم نے بنایا

روشنی سے سجایا

ہمیں ان شہروں کی نیم اندھیری جگہوں میں رہائش ملی

ہم نے چراغ بنائے لیکن اوروں کے لیے

ہم نے خوبصورت مکان بنائے جن کے مکین ہم نہیں

کوئی اور ہوا

ہم نے قلم بنایا جس سے اور لوگوں نے ہماری قسمت لکھی

ہم نے جہاز بنائے، موٹریں بنائیں

گوکہ ہمارا استعمال

استعمال کی ساری چیزیں تیار کرنے میں ہوا

جن کی پہنچ ہماری جیبوں سے  دور ہی رہی

ہم دھرتی کی ساری گندگی کو دھوتے  رہے پشت در پشت

لیکن ہمیں گندگی میں جیا کیے

ہم نے تالے بنائے

جنہیں ہمارے ہی مستقبلوں پر جڑ دیا گیا

ہم نے ہیرے تراشے جو صرف حاکموں، امیروں اور سلطانوں کے لیے تھے

ہم نے کنویں کھودے، نہریں نکالیں

جن کا پانی ہم پر ہی حرام ہوا

ہم نے سڑک بنائی

جس پر مال اسباب کے بوجھ سے کوٹھیاں بھری گئیں

اور جس نے دنیا کی ہر آبادی   کو ایک دوسرے سے جوڑ دیا

لیکن صد افسوس کہ آج اس وبا کےد ور میں

ہمارا وفادار کوئی  بھی ثابت نہ ہوا

ہواؤں نے بھی نشتر بن کر ہمارے پست سینوں کو چھلنی کیا

وہ چمکیلی سڑکیں بھی جو عموماً گھروں تک جاتی تھیں

ہمیں دردناک موت کے حادثوں تک لے گئیں

 

ریل کی پٹریوں پر بکھری ہماری گٹھریوں کی سوکھی روٹیاں

دراصل ہماری سوکھی ہڈیاں ہیں جج صاحب!

٠٠٠

 

چھٹکارا

 

ایک دلفریب خواب تھا

یا کوئی اور دنیا کا مخصوص وقفہ

بتانا مشکل ہے۔۔۔

لیکن اس  سے بھی مشکل  یہ ہے

کہ جب آنکھ کھلی

میں میز پر رکھی ران کی طرح پڑا تھا

اور میرے  گرد و پیش

ایک چار سو سال پرانی

تاریکی تھی

جس میں میں

سکوں کی طرح کھنکتا تھا۔۔۔

 

مجھے روئی کے گولے میں بدل کر

ایک ٹین کے بکسے میں

حفاظت سے رکھا گیا

کسی کا زخم صاف کرنے کے لیے

 

مجھے آبنوسی لکڑی کے فریم میں

آئینہ بنا کر

جڑ دیا گیا

اور شہر کی فصیل پر

لٹکایا گیا

 

میں سینکڑوں سال تک، منوں دھول کھاتا

اور پانی پیتا رہا

میری لکڑی کو ملائم سمجھ کر

خون اور منی پونچھی گئی

جن کے نشان

آبنوسی رنگ میں غائب ہوجاتے۔۔۔

 

میں نے جنگ کے میدان سے

اٹھتے شور کو

گہرائی سے محسوس کیا

جب میرا شیشہ

چٹخ گیا

اور میں

اپنے آبنوس سے

لگ بھگ آزاد ہوگیا۔۔۔

 

لیکن سوال تھا

ابھی میرے پاس صرف دو ہاتھ اور آدھا دھڑ تھے

میرے پیر ابھی بھی قلعے کے اندرونی حصے میں دفن تھے

مجھے انہیں پانے کے لیے

اپنی زبان کا سودا کرنا پڑا

 

مجھے ایک درخت کی ٹھنڈی چھاؤں میں لے جایا گیا

جب میں اپنی تلوار کھو چکا تھا

اپنی زبان گروی رکھ چکا تھا

اپنا قلم توڑ چکا تھا

مجھے ایک ہیبت ناک واقعے کا کردار بنایا گیا

مجھے نئی زبان پہنائی گئی

مجھے ایک نئی تلوار دی گئی

مجھے ایک سفید گھوڑے پر

یوں محاذ پر روانہ کردیا گیا

جیسے اسی دن کے لیے میں پیدا ہوا تھا

جیسے یہی میرا خواب تھا

یہی میرا کردار

 

میں نے لگام کھینچی اور میرے ہاتھ اکھڑ گئے

میں نے صدائیں دینی چاہیں اور میری زبان کھو گئی

 

میں گھوڑے سے اتر گیا

اور اس کے کھروں سے

نعل  نکال کر

اسے آزاد کردیا

اور میں اپنے ہاتھ

اور زبان کے انتظار میں

رستے کے کنارے

وہیں لیٹ گیا

 

اور جب میری آنکھ کھلی

میں میز پر رکھی ران کی طرح پڑا تھا

 

میں نے اس طرح خواب اور جسم

دونوں سے چھٹکارا حاصل کیا

٠٠٠

 

شہر ایک مذاق ہے

 

جب پتیاں روشن ہوتی ہیں

ننگی آوازوں میں

چھنتی ہے راکھ آئنوں سے

تھوک کی طرح گرتا ہے اپنا ہی چہرہ۔۔۔

 

نازک فٹ پاتھوں پر

کچلی جاتی ہیں خواہشیں

ایک مڑے تڑے کاغذ کی طرح

مرتے ہیں خواب

جو کچرا گاڑی کے پہیے میں چپکے، پھڑپھڑاتے ہیں

 

ایک خیال کی طرح کھلتا ہے وقت

اور بند ہوتا ہے مبہم آوازوں میں۔۔۔

 

کتنا ہے سمے؟

کتنا؟

اور کتنا؟

ہانپتا ہے کوئی بھیتر: دُبکا ہوا

 

کوئی جھنجھوڑتا ہے بار بار

آنکھیں ملتے کوئی دوبارہ سوجاتا ہے

فخریہ چادر تانے۔۔۔

جیون کی نیّا ڈگمگ ڈولتی ہے

کانپتی انگلیوں سے گرتے ہیں الفاظ

دور تک دوڑتا ہے بچہ

ایک ٹھوکر کھاتا، ہوتا ہوا لہو لہان

لیکن نکالتا نہیں ایک بھی آنسو

 

ہونٹ بھی ایک خیال معلوم پڑتا ہے

جو کھوجاتا ہے بھیڑ میں

ہم ڈھونڈتے ہیں بد حواس۔۔۔

 

لمبی جیبیں

نہیں چھپاتیں ہماری کمزوریاں اور کمینگیاں

مسخرے پن  سے چلتی ہیں چیزیں

حسب معمول

ایک قیدی نکلتا ہے جیسے بد حواس۔۔۔

شہر گھورتا ہے اسے

دھتکارتی ہیں گلیاں

اور ملائم اندھیرے: نکڑوں پر

کستے ہیں پھبتیاں

ایک پیلی تھکان گھیرتی ہے

سمتوں کے کان کھڑے ہوتے ہیں

دبلی مریل سی روحیں

اپنی دھندھلی شکلیں ٹٹولتی ہیں

ناک گرجاتی ہے، ریزگاری  میں۔۔۔

 

جب سخت ضرورت ہوتی ہے تشبیہوں اور استعاروں کی

وہ گمراہی اختیار کرتے ہیں کمبخت!

 

زبان کی کتیا

روتی ہے بے آواز

نظم میں۔۔۔

بس سنائی دیتے ہیں

بھونڈے پتھروں سے شبد

سر پر برستے ہوئے۔۔۔

بے وفا رات دھندھلاتی ہے

نازک پیروں کے نشان۔۔۔

گویا اپنی ہی انتڑیاں

کھنچتی چلی جاتی ہیں

سنسنان سڑکوں پر۔۔۔

٠٠٠

 

نیلی بیاض

 

اگر لفظوں کی صحت کم کردی جائے

تو بہت بڑی بڑی سطریں بھی

اس چھوٹی سی جادوئی بیاض میں

سما جاتی تھیں

جو طاق پر حفاظت سے رکھی جاتی تھی

جس کے پچھلے پنوں پر میں تصویر بناتا

جس کی ضرورت گاہے بگاہے پڑ ہی جاتی تھی

اس میں حسب حال شعر

فون نمبر

پرانے پتے

بچوں کے جنم دن

حساب کتاب

بچت، قرض

مہینے کا پتلا بجٹ

ایک دیوار کھڑی کرنے کی لاگت

کتنا کچھ ہوتا تھا

اس چھوٹی سی نیلی بیاض میں

 

پہلے وہ بیاض گم ہوئی

پھر وہ رسم الخط

پھر وہ لوگ

پھر وہ گھر

اور پھر ہماری یہ زندگی

٠٠٠

 

التجا

 

ہمارے ساتھ ہماری تھوڑی بدنصیبی بھی چلی آئی تھی

آپ کا بھلا کیا قصور!

کچھ بستیاں خاک میں مل جائیں

آپ کا غصہ ٹھنڈا ہو

کچھ نوجوانوں کی زندگیاں برباد ہوجائیں

آپ کا غصہ ٹھنڈا ہو

یہ تاریخی مہایگیہ پورا ہو

آپ کا غصہ ٹھنڈا ہو

 

ہمارے قاتل!

ہمارے دلدار!

اب جینے کی نہیں

مرنے کی رخصت چاہتے ہیں

کوئی خواہش نہیں، کوئی شکوہ نہیں

بس اتنی التجا ہے آپ سے

ہماری قبروں میں ہی

اپنے خنجر بھی دفن کردیجیے گا

٠٠٠

 

سرد لفافہ

 

جب سرمئی شام کی پتھریلی سڑکوں کو

پار کرتا ہوا

میں اپنے روکھے بالوں سے کچھ گرد جھاڑتا

اس سے اچانک ٹکرایا تھا

اس نے سورج کی کچھ کرنوں کو

میری آنکھوں میں چپ کی سیڑھیاں اترتے۔۔۔

دیکھ

                لیا

                                تھا

جسے میں نے آنسوؤں کے جھُٹ پٹے میں

بے ترتیبی سے چھپا کر تھام رکھا تھا

اور ایک پھیکی مسکراہٹ بھر سکا تھا

 

وہ میرا ندیم

وہ میرا دوست

وہ میرا پیار

ایک دھڑکتے حادثے کی طرح

ایک طوفان کو کچھ عرصہ روکے کھڑا رہا

 

میں نے اسے جب جب صدائیں دیں

وہ آیا

اور پاس بیٹھا رہا

اس کے پاس سارے سُر تھے

اور میرے پاس کچھ چھِدرے گیت

 

ہماری جُگل بندی نے کتنے پر پھیلائے

داستانوں کی طرح لمبے ہوتے گئے

اور افق کے سرمے پر سرخی مل دی

 

لیکن خوش نما رات کے ایک وقفے میں

اس نے میری روح میں جھانکتے ہوئے

مجھ سے ایک سوال پوچھا تھا

اور میں نے ایک سرد لفافے کی طرح

اس کی بے جان ہتھیلی کو

اپنی ہتھیلی میں دبا کر

ایک افسوس کی طرح

جیب میں رکھ لیا تھا

٠٠٠

 

گندے ہوٹل

 

ان کی بھی اپنی ضرورت تھی

ان کے بھی اپنے بیرے تھے

جو گندا کھانا پروسنے  میں ماہر ہوچکے تھے

اور موٹی گالیاں سننے کے بھی

 

وہ کھانے والے کے برے مزاج اور مایوسی کو بھانپنے کی

پوری قوت رکھتے

انہیں معلوم تھا زندگی کا معمول

آدمی کی اوقات

اور بھوک کا وقت

 

انہیں کسی کی تعریف کی

ضرورت ہی نہیں پڑی کبھی

وہ جانتے تھے کہ ان کے نام

ہمیشہ  ایک طرح سے ہی لیے جائیں گے

انہیں بطور ٹِپ، بھدی گالی کے سوا

کبھی کچھ نہیں ملے گا

 

اب تو آنے والے بھی

بغیر شکایت ہی کھاکر اٹھ جاتے

آدھے سے زیادہ کھانا

پلیٹ میں ہی چھوڑ کر چلے جاتے

یا میز پر گرا کر اٹھ جاتے

 

انہیں معلوم تھا

کچھ کہنے سننے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا

سدھار کی ہر گنجائش سے پرے تھے یہ گندے ہوٹل

سو وہ بھی بس اپنی بھوک مٹانے ہی آتے رہے یہاں

 

ان گندے ہوٹلوں کے بارے میں

سب کو پتہ ہوتا

لیکن پھر بھی یہ چلتے رہتے

اسی طرح جیسے جی رہے ہیں یہاں سب لوگ

اپنی گندی زندگیاں

بنا کسی شکایت کے

بنا کسی ولولے کے

بنا کسی امید کے

 

میں بے دلی سے کھائے جارہا تھا

اور وہ مجھے دیکھ رہا تھا

اس نے میرے کہنے سے پہلے ہی

تھالی میں گرادی ایک اور روٹی

دراصل وہ مجھ سے زیادہ جانتا تھا

میری بھوک کو

 

یہ گندے ہوٹل اس تہذیب کا نچور ہیں

قدرت کا لازمی اصول ہیں یہ

آدمی کی مجبوری اور کم ظرفی پر ہنستے

سب کی ایک سی آؤ بھگت کرتے

غریب کی انتڑیاں شانت کرتے

ہر بار گندا کھانے کی گارنٹی دیتے

گندے گلاس میں گندا پانی پروستے

کائنات کی شروعات سے ، کائنات کے انت تک

پروستے رہیں گے آگے سب کے

یوں ہی ایک سا گندا کھانا

یہ گندے ہوٹل بنے رہیں گے ہمیشہ

بھوک کا ابدی  پیمانہ

٠٠٠

 

عدنان کفیل درویش  بلیا، اترپردیش سے تعلق رکھتے ہیں۔ دلی یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس میں گریجویشن کرنے کے بعد عدنان نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ہندی ساہتیہ میں ایم اے  کیا اور بعد ازاں  وہیں پی ایچ ڈی میں داخلہ لیا۔انہوں نے ہندی شاعری میں اپنی زبان اور اسلوب کے ساتھ مضامین کے سبب بھی اپنی ایک خاص جگہ بنائی ہے۔ اب تک ان کے دوشعری مجموعے ‘ٹھٹھرتے لیمپ پوسٹ’ اور ‘نیلی  بیاض’ کے نام  راج کمل پرکاشن ، ہندی سے سے شائع ہوچکے ہیں۔

عدنان کفیل درویش اپنے منفرد لہجے کی بنیاد پر ہندی کی نئی نظم کا ایک اہم نام بن گئے ہیں۔ ان کے یہاں سماج میں موجود ناانصافی اور نابرابری سے پیدا ہونے والی ابتری کی جو شکلیں دیکھنے کو ملتی ہیں، وہ اپنی طرف توجہ کھینچتی ہیں۔ اردو الفاظ ان کی شعری زبان کا ایک خاص حصہ ہیں، جسے ہندی کی اس نئی شعری فضا میں ایک خوشگوار حیرت کے ساتھ قبول اور پسند کیا جانے لگا ہے۔ عدنان نے اپنی نظموں کے ذریعے اقلیت، اقلیتی علاقوں، پچھڑوں، دبے کچلے لوگوں اور فرد کو نظر انداز کرنے والے نام نہاد جدید اور ترقی یافتہ خوابوں پر بھی کئی سوالیہ نشان قائم کیے ہیں۔’ اوراردو’ پر ان کی یہ نظمیں ان کے دونوں شعری مجموعوں ‘ٹھٹھرتے لیمپ پوسٹ’ اور ‘نیلی بیاض’ سے ماخوذ ہیں، آخر کی دو نظمیں  ہندی میں بھی ابھی تک غیر مطبوعہ ہیں۔

Attention Required! | Cloudflare

Sorry, you have been blocked

You are unable to access wajibjp.cfd

Why have I been blocked?

This website is using a security service to protect itself from online attacks. The action you just performed triggered the security solution. There are several actions that could trigger this block including submitting a certain word or phrase, a SQL command or malformed data.

What can I do to resolve this?

You can email the site owner to let them know you were blocked. Please include what you were doing when this page came up and the Cloudflare Ray ID found at the bottom of this page.

news-1701

yakinjp

yakinjp

rtp yakinjp

yakinjp

yakinjp

yakin jp

yakinjp id

maujp

maujp

maujp

sabung ayam online

sabung ayam online

SLOT MAHJONG

sabung ayam online

article 0000371

article 0000372

article 0000373

article 0000374

article 0000375

article 0000376

article 0000377

article 0000378

article 0000379

article 0000380

article 0000381

article 0000382

article 0000383

article 0000384

article 0000385

article 0000386

article 0000387

article 0000388

article 0000389

article 0000390

article 0000391

article 0000392

article 0000393

article 0000394

article 0000395

article 0000396

article 0000397

article 0000398

article 0000399

article 0000400

article 0000401

article 0000402

article 0000403

article 0000404

article 0000405

article 0000406

article 0000407

article 0000408

article 0000409

article 0000410

article 0000411

article 0000412

article 0000413

article 0000414

article 0000415

article 0000416

article 0000417

article 0000418

article 0000419

article 0000420

article 0000421

article 0000422

article 0000423

article 0000424

article 0000425

article 0000426

article 0000427

article 0000428

article 0000429

article 0000430

article 0000431

article 0000432

article 0000433

article 0000434

article 0000435

article 0000436

article 0000437

article 0000438

article 0000439

article 0000440

article 10000401

article 10000402

article 10000403

article 10000404

article 10000405

article 10000406

article 10000407

article 10000408

article 10000409

article 10000410

article 10000411

article 10000412

article 10000413

article 10000414

article 10000415

article 10000416

article 10000417

article 10000418

article 10000419

article 10000420

article 10000421

article 10000422

article 10000423

article 10000424

article 10000425

article 10000426

article 10000427

article 10000428

article 10000429

article 10000430

article 10000431

article 10000432

article 10000433

article 10000434

article 10000435

article 2990541

article 2990542

article 2990543

article 2990544

article 2990545

article 2990546

article 2990547

article 2990548

article 2990549

article 2990550

article 2990551

article 2990552

article 2990553

article 2990554

article 2990555

article 2990556

article 2990557

article 2990558

article 2990559

article 2990560

article 2990561

article 2990562

article 2990563

article 2990564

article 2990565

article 2990566

article 2990567

article 2990568

article 2990569

article 2990570

article 2990571

article 2990572

article 2990573

article 2990574

article 2990575

article 2990576

article 2990577

article 2990578

article 2990579

article 2990580

article 2990581

article 2990582

article 2990583

article 2990584

article 2990585

article 2990586

article 2990587

article 2990588

article 2990589

article 2990590

article 2990591

article 2990592

article 2990593

article 2990594

article 2990595

article 2990596

article 2990597

article 2990598

article 2990599

article 2990600

article 2990601

article 2990602

article 2990603

article 2990604

article 2990605

article 2990606

article 2990607

article 2990608

article 2990609

article 2990610

article 2000381

article 2000382

article 2000383

article 2000384

article 2000385

article 2000386

article 2000387

article 2000388

article 2000389

article 2000390

article 2000391

article 2000392

article 2000393

article 2000394

article 2000395

article 2000396

article 2000397

article 2000398

article 2000399

article 2000400

article 2000401

article 2000402

article 2000403

article 2000404

article 2000405

article 2000406

article 2000407

article 2000408

article 2000409

article 2000410

article 2000411

article 2000412

article 2000413

article 2000414

article 2000415

article 2000416

article 2000417

article 2000418

article 2000419

article 2000420

article 2000421

article 2000422

article 2000423

article 2000424

article 2000425

article 2000426

article 2000427

article 2000428

article 2000429

article 2000430

article 2000431

article 2000432

article 2000433

article 2000434

article 2000435

article 2000436

article 2000437

article 2000438

article 2000439

article 2000440

article 2000441

article 2000442

article 2000443

article 2000444

article 2000445

article 2000446

article 2000447

article 2000448

article 2000449

article 2000450

article 7700216

article 7700217

article 7700218

article 7700219

article 7700220

article 7700221

article 7700222

article 7700223

article 7700224

article 7700225

article 7700226

article 7700227

article 7700228

article 7700229

article 7700230

article 7700231

article 7700232

article 7700233

article 7700234

article 7700235

article 7700236

article 7700237

article 7700238

article 7700239

article 7700240

article 7700241

article 7700242

article 7700243

article 7700244

article 7700245

article 7700246

article 7700247

article 7700248

article 7700249

article 7700250

article 7700251

article 7700252

article 7700253

article 7700254

article 7700255

article 7700256

article 7700257

article 7700258

article 7700259

article 7700260

article 7700261

article 7700262

article 7700263

article 7700264

article 7700265

article 7700266

article 7700267

article 7700268

article 7700269

article 7700270

article 7700271

article 7700272

article 7700273

article 7700274

article 7700275

article 7700276

article 7700277

article 7700278

article 7700279

article 7700280

article 7700281

article 7700282

article 7700283

article 7700284

article 7700285

article 238000456

article 238000457

article 238000458

article 238000459

article 238000460

article 238000461

article 238000462

article 238000463

article 238000464

article 238000465

article 238000466

article 238000467

article 238000468

article 238000469

article 238000470

article 238000471

article 238000472

article 238000473

article 238000474

article 238000475

article 238000476

article 238000477

article 238000478

article 238000479

article 238000480

article 238000481

article 238000482

article 238000483

article 238000484

article 238000485

article 238000486

article 238000487

article 238000488

article 238000489

article 238000490

article 238000491

article 238000492

article 238000493

article 238000494

article 238000495

article 838000588

article 838000589

article 838000590

article 838000591

article 838000592

article 838000593

article 838000594

article 838000595

article 838000596

article 838000597

article 838000598

article 838000599

article 838000600

article 838000601

article 838000602

article 838000603

article 838000604

article 838000605

article 838000606

article 838000607

article 838000608

article 838000609

article 838000610

article 838000611

article 838000612

article 838000613

article 838000614

article 838000615

article 838000616

article 838000617

article 838000618

article 838000619

article 838000620

article 838000621

article 838000622

article 838000623

article 838000624

article 838000625

article 838000626

article 838000627

article 838000628

article 838000629

article 838000630

article 838000631

article 838000632

article 838000633

article 838000634

article 838000635

article 838000636

article 838000637

article 838000638

article 838000639

article 838000640

article 838000641

article 838000642

article 838000643

article 838000644

article 838000645

article 838000646

article 838000647

article 838000648

article 838000649

article 838000650

article 838000651

article 838000652

article 838000653

article 838000654

article 838000655

article 838000656

article 838000657

article 9998000586

article 9998000587

article 9998000589

article 9998000590

article 9998000591

article 9998000592

article 9998000593

article 9998000594

article 9998000595

article 9998000596

article 9998000597

article 9998000598

article 9998000599

article 9998000600

article 9998000601

article 9998000602

article 9998000603

article 9998000604

article 9998000605

article 9998000606

article 9998000607

article 9998000608

article 9998000609

article 9998000610

article 9998000611

article 9998000612

article 9998000613

article 9998000614

article 9998000615

article 9998000616

article 9998000617

article 9998000618

article 9998000619

article 9998000620

news-1701