عدنان کفیل درویش کی نظمیں

ایک مردہ مزور کا بیان

 

جن شاندار شہروں کو ہم نے بنایا

روشنی سے سجایا

ہمیں ان شہروں کی نیم اندھیری جگہوں میں رہائش ملی

ہم نے چراغ بنائے لیکن اوروں کے لیے

ہم نے خوبصورت مکان بنائے جن کے مکین ہم نہیں

کوئی اور ہوا

ہم نے قلم بنایا جس سے اور لوگوں نے ہماری قسمت لکھی

ہم نے جہاز بنائے، موٹریں بنائیں

گوکہ ہمارا استعمال

استعمال کی ساری چیزیں تیار کرنے میں ہوا

جن کی پہنچ ہماری جیبوں سے  دور ہی رہی

ہم دھرتی کی ساری گندگی کو دھوتے  رہے پشت در پشت

لیکن ہمیں گندگی میں جیا کیے

ہم نے تالے بنائے

جنہیں ہمارے ہی مستقبلوں پر جڑ دیا گیا

ہم نے ہیرے تراشے جو صرف حاکموں، امیروں اور سلطانوں کے لیے تھے

ہم نے کنویں کھودے، نہریں نکالیں

جن کا پانی ہم پر ہی حرام ہوا

ہم نے سڑک بنائی

جس پر مال اسباب کے بوجھ سے کوٹھیاں بھری گئیں

اور جس نے دنیا کی ہر آبادی   کو ایک دوسرے سے جوڑ دیا

لیکن صد افسوس کہ آج اس وبا کےد ور میں

ہمارا وفادار کوئی  بھی ثابت نہ ہوا

ہواؤں نے بھی نشتر بن کر ہمارے پست سینوں کو چھلنی کیا

وہ چمکیلی سڑکیں بھی جو عموماً گھروں تک جاتی تھیں

ہمیں دردناک موت کے حادثوں تک لے گئیں

 

ریل کی پٹریوں پر بکھری ہماری گٹھریوں کی سوکھی روٹیاں

دراصل ہماری سوکھی ہڈیاں ہیں جج صاحب!

٠٠٠

 

چھٹکارا

 

ایک دلفریب خواب تھا

یا کوئی اور دنیا کا مخصوص وقفہ

بتانا مشکل ہے۔۔۔

لیکن اس  سے بھی مشکل  یہ ہے

کہ جب آنکھ کھلی

میں میز پر رکھی ران کی طرح پڑا تھا

اور میرے  گرد و پیش

ایک چار سو سال پرانی

تاریکی تھی

جس میں میں

سکوں کی طرح کھنکتا تھا۔۔۔

 

مجھے روئی کے گولے میں بدل کر

ایک ٹین کے بکسے میں

حفاظت سے رکھا گیا

کسی کا زخم صاف کرنے کے لیے

 

مجھے آبنوسی لکڑی کے فریم میں

آئینہ بنا کر

جڑ دیا گیا

اور شہر کی فصیل پر

لٹکایا گیا

 

میں سینکڑوں سال تک، منوں دھول کھاتا

اور پانی پیتا رہا

میری لکڑی کو ملائم سمجھ کر

خون اور منی پونچھی گئی

جن کے نشان

آبنوسی رنگ میں غائب ہوجاتے۔۔۔

 

میں نے جنگ کے میدان سے

اٹھتے شور کو

گہرائی سے محسوس کیا

جب میرا شیشہ

چٹخ گیا

اور میں

اپنے آبنوس سے

لگ بھگ آزاد ہوگیا۔۔۔

 

لیکن سوال تھا

ابھی میرے پاس صرف دو ہاتھ اور آدھا دھڑ تھے

میرے پیر ابھی بھی قلعے کے اندرونی حصے میں دفن تھے

مجھے انہیں پانے کے لیے

اپنی زبان کا سودا کرنا پڑا

 

مجھے ایک درخت کی ٹھنڈی چھاؤں میں لے جایا گیا

جب میں اپنی تلوار کھو چکا تھا

اپنی زبان گروی رکھ چکا تھا

اپنا قلم توڑ چکا تھا

مجھے ایک ہیبت ناک واقعے کا کردار بنایا گیا

مجھے نئی زبان پہنائی گئی

مجھے ایک نئی تلوار دی گئی

مجھے ایک سفید گھوڑے پر

یوں محاذ پر روانہ کردیا گیا

جیسے اسی دن کے لیے میں پیدا ہوا تھا

جیسے یہی میرا خواب تھا

یہی میرا کردار

 

میں نے لگام کھینچی اور میرے ہاتھ اکھڑ گئے

میں نے صدائیں دینی چاہیں اور میری زبان کھو گئی

 

میں گھوڑے سے اتر گیا

اور اس کے کھروں سے

نعل  نکال کر

اسے آزاد کردیا

اور میں اپنے ہاتھ

اور زبان کے انتظار میں

رستے کے کنارے

وہیں لیٹ گیا

 

اور جب میری آنکھ کھلی

میں میز پر رکھی ران کی طرح پڑا تھا

 

میں نے اس طرح خواب اور جسم

دونوں سے چھٹکارا حاصل کیا

٠٠٠

 

شہر ایک مذاق ہے

 

جب پتیاں روشن ہوتی ہیں

ننگی آوازوں میں

چھنتی ہے راکھ آئنوں سے

تھوک کی طرح گرتا ہے اپنا ہی چہرہ۔۔۔

 

نازک فٹ پاتھوں پر

کچلی جاتی ہیں خواہشیں

ایک مڑے تڑے کاغذ کی طرح

مرتے ہیں خواب

جو کچرا گاڑی کے پہیے میں چپکے، پھڑپھڑاتے ہیں

 

ایک خیال کی طرح کھلتا ہے وقت

اور بند ہوتا ہے مبہم آوازوں میں۔۔۔

 

کتنا ہے سمے؟

کتنا؟

اور کتنا؟

ہانپتا ہے کوئی بھیتر: دُبکا ہوا

 

کوئی جھنجھوڑتا ہے بار بار

آنکھیں ملتے کوئی دوبارہ سوجاتا ہے

فخریہ چادر تانے۔۔۔

جیون کی نیّا ڈگمگ ڈولتی ہے

کانپتی انگلیوں سے گرتے ہیں الفاظ

دور تک دوڑتا ہے بچہ

ایک ٹھوکر کھاتا، ہوتا ہوا لہو لہان

لیکن نکالتا نہیں ایک بھی آنسو

 

ہونٹ بھی ایک خیال معلوم پڑتا ہے

جو کھوجاتا ہے بھیڑ میں

ہم ڈھونڈتے ہیں بد حواس۔۔۔

 

لمبی جیبیں

نہیں چھپاتیں ہماری کمزوریاں اور کمینگیاں

مسخرے پن  سے چلتی ہیں چیزیں

حسب معمول

ایک قیدی نکلتا ہے جیسے بد حواس۔۔۔

شہر گھورتا ہے اسے

دھتکارتی ہیں گلیاں

اور ملائم اندھیرے: نکڑوں پر

کستے ہیں پھبتیاں

ایک پیلی تھکان گھیرتی ہے

سمتوں کے کان کھڑے ہوتے ہیں

دبلی مریل سی روحیں

اپنی دھندھلی شکلیں ٹٹولتی ہیں

ناک گرجاتی ہے، ریزگاری  میں۔۔۔

 

جب سخت ضرورت ہوتی ہے تشبیہوں اور استعاروں کی

وہ گمراہی اختیار کرتے ہیں کمبخت!

 

زبان کی کتیا

روتی ہے بے آواز

نظم میں۔۔۔

بس سنائی دیتے ہیں

بھونڈے پتھروں سے شبد

سر پر برستے ہوئے۔۔۔

بے وفا رات دھندھلاتی ہے

نازک پیروں کے نشان۔۔۔

گویا اپنی ہی انتڑیاں

کھنچتی چلی جاتی ہیں

سنسنان سڑکوں پر۔۔۔

٠٠٠

 

نیلی بیاض

 

اگر لفظوں کی صحت کم کردی جائے

تو بہت بڑی بڑی سطریں بھی

اس چھوٹی سی جادوئی بیاض میں

سما جاتی تھیں

جو طاق پر حفاظت سے رکھی جاتی تھی

جس کے پچھلے پنوں پر میں تصویر بناتا

جس کی ضرورت گاہے بگاہے پڑ ہی جاتی تھی

اس میں حسب حال شعر

فون نمبر

پرانے پتے

بچوں کے جنم دن

حساب کتاب

بچت، قرض

مہینے کا پتلا بجٹ

ایک دیوار کھڑی کرنے کی لاگت

کتنا کچھ ہوتا تھا

اس چھوٹی سی نیلی بیاض میں

 

پہلے وہ بیاض گم ہوئی

پھر وہ رسم الخط

پھر وہ لوگ

پھر وہ گھر

اور پھر ہماری یہ زندگی

٠٠٠

 

التجا

 

ہمارے ساتھ ہماری تھوڑی بدنصیبی بھی چلی آئی تھی

آپ کا بھلا کیا قصور!

کچھ بستیاں خاک میں مل جائیں

آپ کا غصہ ٹھنڈا ہو

کچھ نوجوانوں کی زندگیاں برباد ہوجائیں

آپ کا غصہ ٹھنڈا ہو

یہ تاریخی مہایگیہ پورا ہو

آپ کا غصہ ٹھنڈا ہو

 

ہمارے قاتل!

ہمارے دلدار!

اب جینے کی نہیں

مرنے کی رخصت چاہتے ہیں

کوئی خواہش نہیں، کوئی شکوہ نہیں

بس اتنی التجا ہے آپ سے

ہماری قبروں میں ہی

اپنے خنجر بھی دفن کردیجیے گا

٠٠٠

 

سرد لفافہ

 

جب سرمئی شام کی پتھریلی سڑکوں کو

پار کرتا ہوا

میں اپنے روکھے بالوں سے کچھ گرد جھاڑتا

اس سے اچانک ٹکرایا تھا

اس نے سورج کی کچھ کرنوں کو

میری آنکھوں میں چپ کی سیڑھیاں اترتے۔۔۔

دیکھ

                لیا

                                تھا

جسے میں نے آنسوؤں کے جھُٹ پٹے میں

بے ترتیبی سے چھپا کر تھام رکھا تھا

اور ایک پھیکی مسکراہٹ بھر سکا تھا

 

وہ میرا ندیم

وہ میرا دوست

وہ میرا پیار

ایک دھڑکتے حادثے کی طرح

ایک طوفان کو کچھ عرصہ روکے کھڑا رہا

 

میں نے اسے جب جب صدائیں دیں

وہ آیا

اور پاس بیٹھا رہا

اس کے پاس سارے سُر تھے

اور میرے پاس کچھ چھِدرے گیت

 

ہماری جُگل بندی نے کتنے پر پھیلائے

داستانوں کی طرح لمبے ہوتے گئے

اور افق کے سرمے پر سرخی مل دی

 

لیکن خوش نما رات کے ایک وقفے میں

اس نے میری روح میں جھانکتے ہوئے

مجھ سے ایک سوال پوچھا تھا

اور میں نے ایک سرد لفافے کی طرح

اس کی بے جان ہتھیلی کو

اپنی ہتھیلی میں دبا کر

ایک افسوس کی طرح

جیب میں رکھ لیا تھا

٠٠٠

 

گندے ہوٹل

 

ان کی بھی اپنی ضرورت تھی

ان کے بھی اپنے بیرے تھے

جو گندا کھانا پروسنے  میں ماہر ہوچکے تھے

اور موٹی گالیاں سننے کے بھی

 

وہ کھانے والے کے برے مزاج اور مایوسی کو بھانپنے کی

پوری قوت رکھتے

انہیں معلوم تھا زندگی کا معمول

آدمی کی اوقات

اور بھوک کا وقت

 

انہیں کسی کی تعریف کی

ضرورت ہی نہیں پڑی کبھی

وہ جانتے تھے کہ ان کے نام

ہمیشہ  ایک طرح سے ہی لیے جائیں گے

انہیں بطور ٹِپ، بھدی گالی کے سوا

کبھی کچھ نہیں ملے گا

 

اب تو آنے والے بھی

بغیر شکایت ہی کھاکر اٹھ جاتے

آدھے سے زیادہ کھانا

پلیٹ میں ہی چھوڑ کر چلے جاتے

یا میز پر گرا کر اٹھ جاتے

 

انہیں معلوم تھا

کچھ کہنے سننے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا

سدھار کی ہر گنجائش سے پرے تھے یہ گندے ہوٹل

سو وہ بھی بس اپنی بھوک مٹانے ہی آتے رہے یہاں

 

ان گندے ہوٹلوں کے بارے میں

سب کو پتہ ہوتا

لیکن پھر بھی یہ چلتے رہتے

اسی طرح جیسے جی رہے ہیں یہاں سب لوگ

اپنی گندی زندگیاں

بنا کسی شکایت کے

بنا کسی ولولے کے

بنا کسی امید کے

 

میں بے دلی سے کھائے جارہا تھا

اور وہ مجھے دیکھ رہا تھا

اس نے میرے کہنے سے پہلے ہی

تھالی میں گرادی ایک اور روٹی

دراصل وہ مجھ سے زیادہ جانتا تھا

میری بھوک کو

 

یہ گندے ہوٹل اس تہذیب کا نچور ہیں

قدرت کا لازمی اصول ہیں یہ

آدمی کی مجبوری اور کم ظرفی پر ہنستے

سب کی ایک سی آؤ بھگت کرتے

غریب کی انتڑیاں شانت کرتے

ہر بار گندا کھانے کی گارنٹی دیتے

گندے گلاس میں گندا پانی پروستے

کائنات کی شروعات سے ، کائنات کے انت تک

پروستے رہیں گے آگے سب کے

یوں ہی ایک سا گندا کھانا

یہ گندے ہوٹل بنے رہیں گے ہمیشہ

بھوک کا ابدی  پیمانہ

٠٠٠

 

عدنان کفیل درویش  بلیا، اترپردیش سے تعلق رکھتے ہیں۔ دلی یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس میں گریجویشن کرنے کے بعد عدنان نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ہندی ساہتیہ میں ایم اے  کیا اور بعد ازاں  وہیں پی ایچ ڈی میں داخلہ لیا۔انہوں نے ہندی شاعری میں اپنی زبان اور اسلوب کے ساتھ مضامین کے سبب بھی اپنی ایک خاص جگہ بنائی ہے۔ اب تک ان کے دوشعری مجموعے ‘ٹھٹھرتے لیمپ پوسٹ’ اور ‘نیلی  بیاض’ کے نام  راج کمل پرکاشن ، ہندی سے سے شائع ہوچکے ہیں۔

عدنان کفیل درویش اپنے منفرد لہجے کی بنیاد پر ہندی کی نئی نظم کا ایک اہم نام بن گئے ہیں۔ ان کے یہاں سماج میں موجود ناانصافی اور نابرابری سے پیدا ہونے والی ابتری کی جو شکلیں دیکھنے کو ملتی ہیں، وہ اپنی طرف توجہ کھینچتی ہیں۔ اردو الفاظ ان کی شعری زبان کا ایک خاص حصہ ہیں، جسے ہندی کی اس نئی شعری فضا میں ایک خوشگوار حیرت کے ساتھ قبول اور پسند کیا جانے لگا ہے۔ عدنان نے اپنی نظموں کے ذریعے اقلیت، اقلیتی علاقوں، پچھڑوں، دبے کچلے لوگوں اور فرد کو نظر انداز کرنے والے نام نہاد جدید اور ترقی یافتہ خوابوں پر بھی کئی سوالیہ نشان قائم کیے ہیں۔’ اوراردو’ پر ان کی یہ نظمیں ان کے دونوں شعری مجموعوں ‘ٹھٹھرتے لیمپ پوسٹ’ اور ‘نیلی بیاض’ سے ماخوذ ہیں، آخر کی دو نظمیں  ہندی میں بھی ابھی تک غیر مطبوعہ ہیں۔

content-1701

invoice 00041

invoice 00042

invoice 00043

invoice 00044

invoice 00045

invoice 00046

invoice 00047

invoice 00048

invoice 00049

invoice 00050

invoice 00051

invoice 00052

invoice 00053

invoice 00054

invoice 00055

invoice 00056

invoice 00057

invoice 00058

invoice 00059

invoice 00060

invoice 00061

invoice 00062

invoice 00063

invoice 00064

invoice 00065

invoice 00066

invoice 00067

invoice 00068

invoice 00069

invoice 00070

article 2000061

article 2000062

article 2000063

article 2000064

article 2000065

article 2000066

article 2000067

article 2000068

article 2000069

article 2000070

article 2000071

article 2000072

article 2000073

article 2000074

article 2000075

article 2000076

article 2000077

article 2000078

article 2000079

article 2000080

article 2000081

article 2000082

article 2000083

article 2000084

article 2000085

article 2000086

article 2000087

article 2000088

article 2000089

article 2000090

article 2000091

article 2000092

article 2000093

article 2000094

article 2000095

pusdataru 00036

pusdataru 00037

pusdataru 00038

pusdataru 00039

pusdataru 00040

pusdataru 00041

pusdataru 00042

pusdataru 00043

pusdataru 00044

pusdataru 00045

pusdataru 00046

pusdataru 00047

pusdataru 00048

pusdataru 00049

pusdataru 00050

pusdataru 00051

pusdataru 00052

pusdataru 00053

pusdataru 00054

pusdataru 00055

pusdataru 00056

pusdataru 00057

pusdataru 00058

pusdataru 00059

pusdataru 00060

article 00000061

article 00000062

article 00000063

article 00000064

article 00000065

article 00000066

article 00000067

article 00000068

article 00000069

article 00000070

article 00000071

article 00000072

article 00000073

article 00000074

article 00000075

article 00000076

article 00000077

article 00000078

article 00000079

article 00000080

pemohonan 000001

pemohonan 000002

pemohonan 000003

pemohonan 000004

pemohonan 000005

pemohonan 000006

pemohonan 000007

pemohonan 000008

pemohonan 000009

pemohonan 000010

pemohonan 000011

pemohonan 000012

pemohonan 000013

pemohonan 000014

pemohonan 000015

pemohonan 000016

pemohonan 000017

pemohonan 000018

pemohonan 000019

pemohonan 000020

pemohonan 000021

pemohonan 000022

pemohonan 000023

pemohonan 000024

pemohonan 000025

pemohonan 000026

pemohonan 000027

pemohonan 000028

pemohonan 000029

pemohonan 000030

artikel 000000081

artikel 000000082

artikel 000000083

artikel 000000084

artikel 000000085

artikel 000000086

artikel 000000087

artikel 000000088

artikel 000000089

artikel 000000090

artikel 000000091

artikel 000000092

artikel 000000093

artikel 000000094

artikel 000000095

artikel 000000096

artikel 000000097

artikel 000000098

artikel 000000099

artikel 000000100

artikel 000000101

artikel 000000102

artikel 000000103

artikel 000000104

artikel 000000105

artikel 000000106

artikel 000000107

artikel 000000108

artikel 000000109

artikel 000000110

artikel 000000111

artikel 000000112

artikel 000000113

artikel 000000114

artikel 000000115

artikel 000000116

artikel 000000117

artikel 000000118

artikel 000000119

artikel 000000120

article 3000031

article 3000032

article 3000033

article 3000034

article 3000035

article 3000036

article 3000037

article 3000038

article 3000039

article 3000040

article 3000041

article 3000042

article 3000043

article 3000044

article 3000045

article 3000046

article 3000047

article 3000048

article 3000049

article 3000050

article 3000051

article 3000052

article 3000053

article 3000054

article 3000055

article 3000056

article 3000057

article 3000058

article 3000059

article 3000060

article 3000061

article 3000062

article 3000063

article 3000064

article 3000065

article 3000066

article 3000067

article 3000068

article 3000069

article 3000070

article 3000071

article 3000072

article 3000073

article 3000074

article 3000075

article 3000076

article 3000077

article 3000078

article 3000079

article 3000080

article 3000081

article 3000082

article 3000083

article 3000084

article 3000085

article 3000086

article 3000087

article 3000088

article 3000089

article 3000090

pengadilan 000081

pengadilan 000082

pengadilan 000083

pengadilan 000084

pengadilan 000085

pengadilan 000086

pengadilan 000087

pengadilan 000088

pengadilan 000089

pengadilan 000090

pengadilan 000091

pengadilan 000092

pengadilan 000093

pengadilan 000094

pengadilan 000095

pengadilan 000096

pengadilan 000097

pengadilan 000098

pengadilan 000099

pengadilan 000100

pengadilan 000101

pengadilan 000102

pengadilan 000103

pengadilan 000104

pengadilan 000105

perkara 0000076

perkara 0000077

perkara 0000078

perkara 0000079

perkara 0000080

perkara 0000081

perkara 0000082

perkara 0000083

perkara 0000084

perkara 0000085

perkara 0000086

perkara 0000087

perkara 0000088

perkara 0000089

perkara 0000090

perkara 0000091

perkara 0000092

perkara 0000093

perkara 0000094

perkara 0000095

perkara 0000096

perkara 0000097

perkara 0000098

perkara 0000099

perkara 0000100

perkara 0000101

perkara 0000102

perkara 0000103

perkara 0000104

perkara 0000105

article 0000051

article 0000052

article 0000053

article 0000054

article 0000055

article 0000056

article 0000057

article 0000058

article 0000059

article 0000060

article 0000061

article 0000062

article 0000063

article 0000064

article 0000065

article 0000066

article 0000067

article 0000068

article 0000069

article 0000070

article 0000071

article 0000072

article 0000073

article 0000074

article 0000075

article 0000076

article 0000077

article 0000078

article 0000079

article 0000080

article 0000081

article 0000082

article 0000083

article 0000084

article 0000085

article 0000086

article 0000087

article 0000088

article 0000089

article 0000090

article 0000091

article 0000092

article 0000093

article 0000094

article 0000095

article 0000096

article 0000097

article 0000098

article 0000099

article 0000100

article 238000401

article 238000402

article 238000403

article 238000404

article 238000405

article 238000406

article 238000407

article 238000408

article 238000409

article 238000410

article 238000411

article 238000412

article 238000413

article 238000414

article 238000415

article 238000416

article 238000417

article 238000418

article 238000419

article 238000420

article 238000421

article 238000422

article 238000423

article 238000424

article 238000425

article 238000426

article 238000427

article 238000428

article 238000429

article 238000430

content-1701
news-0801

yakinjp


sabung ayam online

yakinjp

yakinjp

rtp yakinjp

yakinjp

yakinjp

judi bola online

slot thailand

yakinjp

yakinjp

yakinjp

yakinjp

ayowin

mahjong ways

judi bola online

mahjong ways 2

JUDI BOLA ONLINE

maujp

maujp

sabung ayam online

maujp

maujp

maujp

maujp

sabung ayam online

mahjong ways slot

sbobet88

live casino online

Situs Agen Togel

MAUJP

118000021

118000022

118000023

118000024

118000025

118000026

118000027

118000028

118000029

118000030

118000031

118000032

118000033

118000034

118000035

118000036

118000037

118000038

118000039

118000040

118000041

118000042

118000043

118000044

118000045

118000046

118000047

118000048

118000049

118000050

128000021

128000022

128000023

128000024

128000025

128000026

128000027

128000028

128000029

128000030

128000031

128000032

128000033

128000034

128000035

128000036

128000037

128000038

128000039

128000040

128000041

128000042

128000043

128000044

128000045

128000046

128000047

128000048

128000049

128000050

138000021

138000022

138000023

138000024

138000025

138000026

138000027

138000028

138000029

138000030

138000031

138000032

138000033

138000034

138000035

138000036

138000037

138000038

138000039

138000040

138000041

138000042

138000043

138000044

138000045

138000046

138000047

138000048

138000049

138000050

148000026

148000027

148000028

148000029

148000030

148000031

148000032

148000033

148000034

148000035

148000036

148000037

148000038

148000039

148000040

148000041

148000042

148000043

148000044

148000045

148000046

148000047

148000048

148000049

148000050

148000051

148000052

148000053

148000054

148000055

148000056

148000057

148000058

148000059

148000060

148000061

148000062

148000063

148000064

148000065

148000066

148000067

148000068

148000069

148000070

158000041

158000042

158000043

158000044

158000045

158000046

158000047

158000048

158000049

158000050

158000051

158000052

158000053

158000054

158000055

158000056

158000057

158000058

158000059

158000060

158000061

158000062

158000063

158000064

158000065

158000066

158000067

158000068

158000069

158000070

168000011

168000012

168000013

168000014

168000015

168000016

168000017

168000018

168000019

168000020

168000021

168000022

168000023

168000024

168000025

168000026

168000027

168000028

168000029

168000030

168000031

168000032

168000033

168000034

168000035

168000036

168000037

168000038

168000039

168000040

178000036

178000037

178000038

178000039

178000040

178000041

178000042

178000043

178000044

178000045

178000046

178000047

178000048

178000049

178000050

178000051

178000052

178000053

178000054

178000055

178000056

178000057

178000058

178000059

178000060

178000061

178000062

178000063

178000064

178000065

188000141

188000142

188000143

188000144

188000145

188000146

188000147

188000148

188000149

188000150

188000151

188000152

188000153

188000154

188000155

188000156

188000157

188000158

188000159

188000160

188000161

188000162

188000163

188000164

188000165

188000166

188000167

188000168

188000169

188000170

198000031

198000032

198000033

198000034

198000035

198000036

198000037

198000038

198000039

198000040

198000041

198000042

198000043

198000044

198000045

198000046

198000047

198000048

198000049

198000050

198000051

198000052

198000053

198000054

198000055

198000056

198000057

198000058

198000059

198000060

218000021

218000022

218000023

218000024

218000025

218000026

218000027

218000028

218000029

218000030

218000031

218000032

218000033

218000034

218000035

218000036

218000037

218000038

218000039

218000040

218000041

218000042

218000043

218000044

218000045

218000046

218000047

218000048

218000049

218000050

228000016

228000017

228000018

228000019

228000020

228000021

228000022

228000023

228000024

228000025

228000026

228000027

228000028

228000029

228000030

228000031

228000032

228000033

228000034

228000035

228000036

228000037

228000038

228000039

228000040

228000041

228000042

228000043

228000044

228000045

228000046

228000047

228000048

228000049

228000050

238000001

238000002

238000003

238000004

238000005

238000006

238000007

238000008

238000009

238000010

238000011

238000012

238000013

238000014

238000015

238000016

238000017

238000018

238000019

238000020

news-0801