عطر

پتلی سی گلی تھی جہاں گھر ایک دوسرے سے چمٹے کھڑے تھے۔کھڑکیاں اور چھجے اسی گلی میں جھانکتے ، جیسے اب گرے تب گرے۔عورتیں انہیں چھجوں سے لٹک کر، انہیں کھڑکیوں کے پلوں سے جھانکتے ہوئے ایک دوسرے سے گپ لگاتیں۔جو کوئی اس گلی سے گزرتا اس کے سر پر گپوں اور مصالحے دار افواہوں کاچھتر تنا ہوا ہوتا۔راہگیر اوپر تاکتے اور مسکراتے۔اگر اسی محلے کا باشندہ ہوتا تو اسے اوپر دیکھنے کی زحمت نہ کرنی پڑتی، آواز سے ہی معلوم ہوجاتا کہ کون بات کررہا ہے۔اجنبی راہگیر اس کے برعکس ذرا متجسس ہوکر نظریں ادھر ادھر گھما لیتے اور مسکراتے ہوئے نکل جایا کرتے۔

بغیر کسی جاسوسی کے یہ بات معلوم ہوجایا کرتی کہ شکور کی بیوی نے بھیڑ کا شوربہ پکایا ہے یا محسن کی امی نے رات کے لیے سویاں بنائی ہیں یا پھر دس سال کے غفور میاں پتنگ اڑاتے ہوئے چھجے سے گر کر سرتڑوا بیٹھے ہیں یا یہ کہ کرپا کو معیادی بخار ہوگیا ہے۔یہ بھی سب کے علم میں تھا کہ فریعہ کا میاں دبئی گیا اور یہ بھی کہ صبوحی کا بیاہ کسی دور دیس کے لڑکے سے طے ہوا ہے جہاں سے  وہ محض اب تک ایک دفعہ ہی ملنے آیا تھا اور ایک عجیب سا عطر اپنے ساتھ لایا تھا۔

ابان خوب لمبا اور خوبصورت نوجوان تھا۔اس کے چہرے پر ہلکی بھوری داڑھی تھی اور آنکھیں ، ماشا اللہ! ایسی آنکھیں جو نہ جانے کون سی دنیا میں کھوئی ہوئی سی معلوم ہوتی تھیں۔بڑی امی بڑبڑاتی ہیں،’جیسے خود ہی کہیں گم سا ہوگیا ہو۔’

نصرت، صبوحی کی اماں جانی چہرہ سکوڑ کر چپکے سے ایک کونے میں تھوکتی پھونکتی، نظر اتارتی ہوئی کہا کرتیں، ‘نگوڑی بڑی امی میری بنو کی قسمت سے جلتی ہیں، مریں میرے دشمن، کھوئیں میرے دشمن۔’

لیکن پہلی دفعہ جب صبوحی نے یہ سنا تو اس کے بدن پر ایک کپکپکی سی تیر گئی۔ابان کی نظر اسے یاد آئی تھی، بھیدتی، ٹٹولتی، جانکار نظر ۔جیسے اس کے آر پار کی اسے سب خبر لگ گئی ہو۔

ابان دور کا رشتہ دار تھا یا شاید کسی دور کے رشتہ دار کا دوست۔یہ تار اتنا پیچیدہ تھا کہ رشتے کو صاف صاف پہچان لینا ایک دم مشکل تھا۔اس کے لیے زمین  پر کسی لڑکے کے لیے یہ پورا نقشہ بناپانا ممکن نہیں تھا کہ یہ رہے فلاں اور یہ ان کی بیگم، ان کا بیٹا یہ ، اس کی سالی ،وہ سالی کے شوہر کی چچازاد بیٹی کی ممانی ،جس گاؤں میں بیاہی۔۔۔آئیں بائیں شائیں، اور پھر سب اتنا گڈ مڈ ہوجاتا کہ کون بیٹی ، کون ممانی، کس کی خالہ، کس کا بھائی۔۔سب تار الجھ جایا کرتے۔

پھر ابان۔

ابان تو تھا ہی ایسا کہ جیسے نہ جانے کن جہانوں کی دھول پھانک آیا ہو اور اس دور دیش کے نظارے اب بھی اس کی آنکھوں میں ایسے بسے رہتے ہوں کہ اس جہاں کے سب منظر بدرنگ اور پھیکے معلوم ہوتے ہوں۔وہ چپ اور گم سم اپنے آپ میں کھویا کھویا سا رہا کرتا اور بہت کریدے جانے پر ہی کچھ ہوں  ہاں میں جواب دیا کرتا۔صبوحی کا دل کسی گہری کھائی میں  پتھر کی طرح جاگرا تھا۔ہائے، کیسا آدم زاد اس کے پلے پڑگیا تھا۔جو اسے دیکھتا تک نہیں تھا۔جانے کون جہان کی چھایا اس کی نگاہوں میں ڈولتی تھی۔لیکن ایک بار اس کی نظر کسی باز کی طرح اس کے چہرے پر پڑی تھی، جیسے کسی شعلے کی لپک ہو، جیسے ابان نے اسے داغ دیا ہو، تم میری ہو۔افف! کیا تھا ان نگاہوں میں؟ کتنی دفعہ صبوحی سوچتی ہے کہ اس نظر کو پہچان  لے، ان میں محبت تھی یا حقارت؟ پالینے کی شدت تھی یا کیا تھا آخر؟

اور ایسا نہیں تھا کہ صبوحی بدشکل ہو۔ہاں، کوئی ایسی حسین بھی نہ تھی، مگر اس کی گندمی رنگت میں ایک ایسی روشنی جھلکتی تھی کہ اس کا چہرہ دمکتا سا معلوم ہوتا تھا۔اس کی آنکھیں ذرا پھیلی سی تھیں اور ان کی پتلیاں ایسی بھوری ہری تھیں کہ لگتا کوئی نادان ہرن کا بچہ، دنیا کو بہت حیرت سے دیکھ رہا ہو۔

جوان جہان لونڈے پلٹ کر اسے دیکھتے ضرور تھے، سارے کے سارے۔جب وہ مدرسے کو جاتی، کبھی درزی سے کڑھائی وڑھائی کروانے، یا کسی سہیلی کے گھر۔برقعہ اوڑھ تو لیتی مگر چہرہ کھلا رہتا۔آخر اسی کا محلہ تھا، اسی کی اپنی دنیا۔جہاں پیدا ہوئی، پلی بڑھی، جہاں ہر کوئی اس کا اپنا تھا، خالہ، بڑے ابا، چچا، بھائی، آپیاں اور باجیاں۔

اور ہر گھر دوسرے سے جڑا تھا، ہر آنگن دوسرے آنگن سے، چھتیں، چھتوں سے۔کئی بار کسی کے گھر جانے کے لیے گلی میں نکلنا قطعی ضروری نہ ہوتا، بس آنگن کی دیوار میں جڑے کواڑ سے پڑوس میں اور اس سے پھر اگلے گھر میں جایا جاسکتا تھا۔سارے گھر اسی طرح فخریہ انداز میں ایک دوسرے کے خفیہ دوست تھے۔اسی طرح سب خرگوشوں کے بلوں کی طرح ایک دوسرے کے سنگی ساتھی بنے ہوئے تھے۔اور اسی طرح ان کی زندگیاں بھی دودھ میں روح افزا کی طرح گھل مل گئی تھیں۔ان کے بچوں کی ایک دوسرے سے شادیاں ہوجاتیں اور کئی پشتوں سے یہی ہوتا آرہا تھا اس لیے اب کسی کا دوسرے سے رشتہ ڈھونڈ پانا بڑی مغز ماری کا کام تھا۔کوئی کسی کا ماموں اور بھائی ایک ساتھ تھا، کوئی ممانی، آپی اور خالہ۔کسی کا کسی سے ایک سیدھا اکہرا رشتہ نہیں تھا، اس میں دس اتار چڑھاؤ اور پیچ و خم تھے۔

لیکن یہ بھی اس بات کی ضمانت نہ تھی کہ آپس میں سب شیر و شکر ہوکر ہی رہیں گے۔جو ندی اندر اندر بہتی تھی وہ ہمیشہ میٹھی ندی نہیں رہتی تھی، کبھی کبھار  اس میں  جہنمی کڑواہٹ بھی پیدا ہوجاتی۔گاڑھا اندھیرا چھاجاتا، بواٹھتی۔ایسی سڑی ہواؤں کی بھانپ اٹھتی جیسے شیطان نے پیشاب کردیا ہو۔مگر کبھی  کبھی نہ جانے کیوں ایک میٹھی خوشبو بھی تیر جایا کرتی، تازے پھولوں کی سبز مہک، لوبان کی پاک سگندھ کی طرح۔

 

اس گھر میں ایسے کئی خفیہ کمرے تھے جہاں اندھیرے اور مکڑیوں کے جالوں کا راج تھا۔ان کمروں پر قفل لگے ہوئے تھے اور صدیوں سے یوں پوشیدہ تھے کہ اب گھروالوں کو یاد تک نہ تھا کہ گھر میں ایسی کوئی جگہ بھی ہے۔کوئی بھوت یا جن تھا جس نے اندر کی سب ہواؤں کو نگل لیا تھا اور امائیں بچوں کو ڈراتیں، خبردار جو اس طرف دیکھا بھی۔اگر کوئی بچہ ادھر بھٹک کر پہنچ جاتا تو ترنت مٹھی بھر لال مرچ آگ میں جلا کر ، اس کی دھانس والی ہوا کو بچے کے سر پر وار کر بلائیں ٹالی جاتیں۔

بلائیں جانے کہاں جاتیں مگر پورا گھر کھانس کھانس کر بے دم اور بے حال ہوجاتا۔

یہ کمرے آخر بنے ہی کیوں تھے اور کب؟ کس لیے؟ اور یوں تابوت کی مانند انہیں کس نے بند کیا تھا اور آخر کیوں؟

سب سے عمردراز سوبرس کی بی بی تھیں۔ شاید انہیں ہی پتہ تھا۔ اور ان سے  کچھ نکلوالینا ممکن نہیں تھا۔کوئی پوچھ لے تو اپنے کان ایسے ڈھک لیتی تھیں جیسے پگھلا سیسہ ڈال دیا ہو کسی نے۔پھر یوں جھومتیں جیسے کوئی جن سوار ہوگیا ہو۔ان کی آواز پھسپھساتی-بدبداتی ہوئی سی نکلتی، جانے کون سا راز تھا جس  کا اس طرح انکشاف کرتی ہوں، مگر کان سٹاؤ تو معلوم ہوتا کہ اچھا! قرآن کی آیتیں پڑھ رہی ہیں۔

کبھی کبھی جب ہوش میں ہوتیں، تب صاف اور کھنک دار آواز میں کہتیں، اف! کیا ہولناک وقت تھا! سب کو مار کر کمرے میں ٹھونس کر جلادیا کمبختوں نے، ان کمروں میں موت ہے، جلی ہوئی ہڈیاں ہیں، دیواروں کی راکھ ہے، موت کی چیخ ہے۔مت۔۔مت کھولنا ورنہ کمرے میں بند شیطان نکل آئے گا، ہم سب کو نگل لے گا۔

کپکپاتی ہوئی آواز میں بی بی اعلان کرتیں، اس کے بعد ایسے جھومتیں، جیسےجنون ہوگیا ہو، پھر اچانک  رونے لگتیں، سوکھی سی رُلائی جس میں آنسو نہ گرتے ، بس چہرہ ٹیڑھا میڑھا ہوجاتا، جیسے بدن سے جان نکلنے والی ہو۔

پھر یکدم ہنس دیتیں یا گڑگڑاتیں، منتیں کرنے لگتیں کہ اے نگوڑیو! کچھ کھانے کو تو دو، مہینوں سے کچھ میٹھا نہیں کھایا، اے لڑکی جا بھاگ! جلدی سے ، مجھے میٹھے چاول لادے،فیرنی، شیر خرما، شیرمال، باقر خانی۔انگلیوں پر نام گناتیں،ا یسے جیسے کوئی بچہ پہاڑا رٹتا ہو۔

پھر اس طرح بھوک میں سسکیاں بھرنے لگتیں جیسے مہینوں سے کچھ نہ کھایا ہو جبکہ سچائی یہ تھی کہ آدھے ایک گھنٹے پہلے ہی پیٹ بھر کر کھا کر اٹھی تھیں۔

بی بی کی بھوک ان کے جسم کے الٹ بڑی بھاری اور دمدار تھی۔وہ دکھتی تو سوکھے چھوارے کی طرح تھیں، جیسے سب پانی سونکھ کر نچوڑ دیا گیا ہو، اور اب جسم سوکھی درارآمیز زمین کی طرح اینٹھا ہوا بنجر ہوگیا ہو۔ لیکن بی بی کے پاس کہانیاں قصے تھے، شہرزاد کی ہزار راتوں سے بھی بڑھ کر قصے۔ایک سے ایک، جادو بھرے، ایک سے ایک خوبصورت جواں مرد اور حسین بیگمات کے، نوابوں اور بادشاہوں کے ، اس محلے   کے گھروں میں دفن سات پشتوں کے رازوں کے۔یہ اور بات تھی کہ اب ذہن پر جالے لگ گئے تھے اور کوئی بھی قصہ پورا یا ثابت ان کے پاس نہیں بچا تھا۔

صبوحی ان کے پاس دن میں کئی بار بیٹھتی، جب جب کام سے فرصت ہوتی، آجایا کرتی۔کروشیے سے سفید جھاگ جیسی لیس بنتی اور بی بی کی بدبداہٹوں پر دھیمے دھیمے مسکراتی، اوپر آسمان کو تاکتی اور پھُرر سے اُڑ جاتی۔یہ آسمان کا ٹکڑا بھی ویسے ثابت و سالم کہاں بچہ تھا۔نیلے پر بجلی کے تاروں کا تانا بانا تھا۔ پھر ایک طرف وہ بڑا سا پیپل کا پیڑ تھا جس سے دن بھر پتیاں جھڑتیں۔جیسے کوئی دھیما راگ گرتا ہو، جیسے کوئی دلربا  کو چھیڑ دے اور اس کے سر نکل پڑیں، ناچتے کودتے، گرتے پڑتے، دھیمے دھیمے۔پھر دن بھر آنگن میں جھاڑو لگتی، صبوحی دھیرے سے گاتی ہوئی جھاڑو دیتی جاتی، جیسے ناچ رہی ہو۔پرندے چہچہاتے ہوئے شاخوں اور پھولوں پر اتر آتے گویا سنگت دینے کا ارادہ ہو۔

آنگن کی چار دیواری سفید  رنگ سے پتی ہوئی تھی اور دھوپ پیپل کے پتوں سے گزرتے  ہوئے یوں چھن کر گرتی جیسے  سب کچھ نیا نکور اور تروتازہ کردے رہی ہو، اجالے سے بھرپور، ایک ٹھہرتی  سمٹی ہوئی خوشی سب جگہ پھیل جاتی، جیسے کہ اس افراط میں یہ پل کبھی کہیں اور سے نہ گزرے ہوں۔بھیتر کے ٹھنڈے پتھروں اور بھاری لکڑی کی دیواروں والے دم گھونٹو کمبل  جیسے اندھیروں سے بالکل الگ۔

دن بھر کام میں پھنسی صبوحی ابان کے بارے میں سوچتی۔اس کی آنکھیں ایسی مندی چھپی کیوں تھیں، کیا تھا ان کے اندر؟ صدیوں سے ڈھکا ہوا؟

ابان سے اسے اس عطر کی یاد آتی جو وہ لایا تھا۔کتنا گاڑھا ، طلسمی، جادوئی اور سب سے خاص بات یہ کہ جیسے کسی گناہ کی پیداوار ہو، کوئی راز۔اس کی خوشبو نے  دل پر ریشم ساٹن سی کشیدہ کاری کردی تھی، جیسے منتر پھونکا گیا ہو ۔اس میں  ایک ریشہ دھواں تھا اور ایک قطرہ رات کا گھنا سایہ تھا۔اس میں ایک پرت محبت کا جذبہ تھا اور سو پرتوں میں طلب نہاں تھی۔سب سے زیادہ جان لیوا تھی اس کی پاگل بنادینے والی خوشبو جو جانے کس تہہ سے آتی تھی کہ بے ہوش ہی کردیا کرتی، کپکپادیتی، ایسی امید بھردیتی کہ اف، ایسی خواہشوں  کا خیال بوتی کہ جنہیں کبھی  سوچنے تک کا موقع نہ ملا ہو، رات کی گہری نیند کے سپنے تک میں جو کبھی نہ آئی ہوں، اس کا بدن بھاری ہوجاتا، جیسے کوئی گاڑھی شراب اس کی شریانوں میں بہہ رہی ہو، وہ مست خرام ہوجاتی۔اسے لگتا اس کا سارا بدن بہہ جائے گا، اس طرف جہاں وہ سُگندھ ہے، کوئی اسے کھینچے لیے جاتا تھا۔جانے کس سیاہ جادو بھری دنیا میں ،جہاں سرگوشیاں رقص کرتیں، آؤ، آؤ جانِ من! آؤ! اور اس شدت سے اسے ‘وہاں’ ہونا تھا کہ وہاں بس اب اور اسی وقت ‘یہاں” ہوجائے، بس ابھی اسی سمے، ورنہ وہ ٹوٹ کر ہزار ٹکڑوں میں بکھر جائے گی، جیسے ایک سیاہ ندی، ریشم جیسی اس کے اندر اتر جاتی۔اور چونکہ اس ندی  کا کوئی کنارہ نظر نہ آتا تھا، اس کی طاقت ڈراونی معلوم ہوتی تھی، صبوحی ایسی بے چین  ہوجاتی، کہ بے چینی اس کے اندر  کسی مضطرب چیل یا تیکھی تیز کٹار کی طرح غوطے کھانے لگتی۔

اب اس سے بی بی کی بغل میں بیٹھا نہ جاتا۔ وہ کروشیا چلاتی ہوئی سکون  سے بننا نہ جانے کہاں گم ہوگیا تھا، اماں کے ساتھ رسوئی  میں بڑی دیگ میں گوشت اور بگیری پکاتے ہوئے اماں کی لگاتار چک چک پر مسکرانا کہاں گم ہوگیا تھا۔ اب تو جب وہ دال چینی اور لونگ کوٹا کرتی تو دردرے مسالے سے اٹھتی ہوئی خوشبو اسے وہیں لے جاتی جہاں ابان تھا، جہاں عطر کی کستوری مہک تھی۔

 

اس کے پاس عطر کا ایک ڈبا  ہے، عطر دانی، چندن کی لکڑی  اور اس پر پیتل کے سنہرے تاروں کی نقاشی ، ساتھ ہی کونوں پر سنگ مرمر ۔ان کے اندر نیلے ساٹن پر عطر کی شیشیاں سوتی ہیں۔ جب عطر والا آتا، صبوحی سب سے پہلے بھاگتی، اس بار کون سی نئی خوشبو لائے ہیں بابا میاں۔

بابا میاں سفید داڑھی والے بزرگ تھے۔ بڑی دور سے آتے تھے، جہاں سمندر بھی تھا اور پہاڑ بھی۔ ان کے ٹھکانے کے پاس دیودار، بِیار، شیگُل، بن پیپل، کنُور اور بانج کے اونچے پرانے درخت تھے۔اور ان سب کی خوشبو کا عرق وہ اپنے ساتھ لیے آتے، کیسر،اخروٹ، انجیر، چلغوزوں اور رس بھریوں کی مہک اس کی عطر دانی میں گھُس پیٹھ کرتیں۔سمندر کے جھاگ کی نمکین ہوا، سمندری بنسپتیاں، شنکھ اور بھیگی ریت طوفان مچاتے، لہروں کی گرج، مچھلیوں کی تیراکی، کچھوؤں کی سانس اور گلابی سیندھا نمک سمندر سے نکل کر عطر میں سما جاتے۔

اور جیسے جیسے وہ عطر دانی کھولتے ایک ایک کرکے، جمع  شدہ افراد اس جگہ پہنچ جاتے۔ جہاں ہوا صاف، ٹھنڈی اور کُرکُری تھی، جہاں فضا میٹھی اور معصوم تھی، جہاں پھول اور پتیاں  جلد پر کھلتی اور کھلکھلاتی تھیں۔

یہ رہا گلاب اور یہ سرخ نارنگی، اور یہ رہافردوس عطراور یہ۔۔۔ان کی آواز بھاری ہوجاتی، بانہیں کھل جاتیں، جیسے جنت کو آغوش میں لے رہی ہوں، الحرمین، جنت فردوس، یہ کستوری، یہ مشکِ حنا ، یہ زرد آفتاب، بتول، فارسی شفاعت، ایرانی گُل یاس اور۔۔۔ان کی آواز اب پھسپھسانے لگتی، جیسے کوئی ناٹک کا اہم حصہ ادا ہونا ہو۔۔۔یہ رہا سفید دھتورا۔۔۔افیون کافوری۔

کبھی ان کا ایک عطر بھی نہ بِکتا، کبھی ابا مان جاتے تو صبوحی اپنی پسند کی کوئی شیشی اٹھالیتی۔دھیرے دھیرے سال در سال اس کی عطردانی بھرتی گئی۔ننھی شیشے کی ہیرےکی کنی سی چمکتی عطردانی ، جس میں سبز، فیروزی، سرخ عطر جھلملاتے۔ان شفاف جھلمل شیشیوں میں جگنو چمکتے، تارے چمچماتے، یاقوت اور زمرد کی کنی لشکارے مارتی۔

صبوحی مہک سے آشنا تھی۔سچ مچ جانتی تھی، اس کا ریشہ ریشہ پہچانتی تھی۔اس کو خبر تھی کہ اس عطر میں کیا سامان ڈالا گیا ہے۔اسے پتہ تھا کہ اس سامان کا اثر کس قدر گہرا ہے۔ ہاں، اسے مہک کی پہچان تھی، اس کی ہر حرکت کو وہ جانتی تھی، اس کے اندھیروں اجالوں کو دیکھ سکتی تھی، ہر خوشبو سے بات کرسکتی تھی جیسے درختوں، پھولوں سے بات کرتی اسی طرح مہک کو چھوتی، سونگھ سکتی تھی، زبان پر اس کا ذائقہ محسوس کرسکتی تھی۔

 

رات ہوتے ہی صبوحی ایک ایک کرکے عطرکی شیشیاں کھولتی، ہولے سے ناک کے پاس  لا کراپنے ہونٹوں کے اوپر پھراتی۔ہر ایک عطر الگ تھا، ہر ایک خاص تھا، مگر کوئی بھی ابان کے لائے ہوئے عطر جیسا نہیں تھا۔

ابان کا عطر الگ دنیا سے تعلق رکھتا تھا جو نہ جنت تھا نہ دوزخ۔ بیچ رات جب چاند ٹہنیوں پر جھک کر کھڑکیوں کے راستے کمرے میں جھانکتا، تب صبوحی اس عطر کو نکالتی، اپنی نبض پر دھرتی جہاں سے اس کا دل جڑا ہوا تھا، اپنے کان کے پیچھے کی نازک چھپی ہوئی جگہ پر ملتی ، اپنی کہنی کے بھیترننھے گڈھے پر ٹپکاتی اور انتظار کرتی۔ایک حرارت آمیز لہک جاگتی، جیسے لوبان جلایا گیا ہو، اس کا دھواں چھلے بناتا ہوا اٹھتا اور اس کے بدن کے ہر ایک پور، جلد کے ہر چھید، بدن کے ہر خفیہ کونوں مساموں سے ہوتا ہوا اندر سیندھ لگاتاہوا  اسے ڈھک لیتا۔

پھر ہر ایک سوراخ کے بھیتر بہتا، اس کی ناک کے اندر پہلے ، پھر جلد کے بھیتر کسی ندی سا بہتا اور پھر ایک ایسا دھماکہ ہوتا کہ اس کی چیخ نکل جاتی۔اس کو پٹخ ڈالتا، اٹھاتا، گراتا، دھمال مچاتا، اس کے اندر ون کو چیتھڑے چیتھڑے کردیتا کسی بندوق کی گولی سا دندناتا ہوا پھٹ پڑتا۔اس کے اندر ایک لاوا دہکتا، سرخ لال اور پھر اسی تیزی سے ایک ٹھنڈا نیلا گلیشیئر اسے جکڑنے لگتا، پھر رنگوں کی برسات ہونے لگتی، ہر رنگ قدرت کی الگ خوشبو  بکھیرتا۔

جنگلی آگ سا دہکتا، شیطان ، نٹ کھٹ، رنگیلا ، چنچل، ہوس پرست۔ہر احساس کو وہ اپنے اندر گزرنے دیتی ، ایک کے بعد ایک اور کبھی سبھی کو ایک ساتھ۔اور جب یہ وقفہ گزرجاتا تب خوشبو اس کے کانوں میں داخل ہوتی۔

تب اسے پرندوں کے رات کو رونے کی ، ہاتھیوں کے چنگھاڑنے کی، آدی واسیوں کے پورن ماسی کی رات کو نقارے بجا کر روحوں کو بلانے کی، لہروں کے گزرنے کی،وہیل مچھلیوں کے گانے کی، ہوا کے کسی چڑیل کی طرح بیچ دوپہری کے سناٹے میں چیخنے کی، جنگلوں میں  پیڑوں کی پراسرار سرگوشیوں کی، بھیگے ، پھسلن بھرے، سالن کے داغوں کے ابلنے کی، کھلی آگ کے چرمرانے کی، اور صوفیوں کی کسی قدیم محفل سماع کی آواز سنائی دیتی اور جیسے اتنا کافی نہ تھا، خوشبو اس کی آنکھوں میں جھلملاتی اور پھر اسے صرف سماع میں ناچتے جنونی درویش دکھائی دیتے۔

پھر وہ بھی انہیں میں ایک ہوجاتی، گول گول ناچتی، بے قابو، بے ہوش  سی ہوکر اور پھر وہ اس کے ہنوٹوں کو سہلاتے، اس کی زبان پر ٹھہرتے، اس کے منہ میں آب حیات کا ذائقہ گھل جاتا، اتنا تیکھا مگر بے حد ملائم، ہلکا  ہلکا جیسے کوئی نور،ململ کی طرح جھلملاتا، پھر بھی گاڑھا جیسے شہد اور آخر میں وہ اس کے باغ و بہار کو چھوتا، ملائمت  کے ساتھ جیسے جھجھکتا ہوا اندر آرہا ہو۔اس کا میٹھا کنواں، اس کی گیہوں کی بالی، اس کی بھربھری نرم سرسبز مٹی، اس کا اندرون جگمگاتا ہوا کوہ نور بن جاتا۔اس کا بدن کسی درد کی اینٹھن میں اور کسی ایسی لذت سے بل کھاتا جیسے یہ دنیا یہیں ختم ہوگئی اور دوسری کی جھلک دکھائی دینے لگی۔درد کسی تیکھے پن سے اسے پہاڑ کی چوٹی پر لے جا کر پٹخ دیتا۔

وہ اس درد کی لہر پر ناچتی، رقص کرتی کسی سرور  کی سواری پر سوار ہوکر جھومتی ہے،جبکہ  ریشم ، ساٹن، ململ کے تتلیوں والے پنکھوں کے دھاگوں اور کروڑوں تاروں سے رات کی سیاہ چادر بنی ہوئی ہے۔اس کا بدن دھڑکتا ہے، ایک لہر  پھر ایک اور پھر ایک اور۔دال چینی کا دھواں کسی نے دیا، بلوط کسی نے جلایا ، آگ رات میں پیلی گرم سلگنے لگی۔اس کا بدن اینٹھتا ہے، ایڑیاں کتنی دہکتی لال ہوگئی ہیں، چہرہ کتنا تمتمایا ہوا ہے، اس کا بدن، افف کس قدر گرم ہے، جسم میں ندی سی رواں ہے، لذت کے اس کنارے پر کھڑی اس کے اندرون کی چڑیا ایک انتم اڑان بھرتی ہے۔

اوہ! کیسی تھکان ہے، پسینے اور عطر کی خوشبو اس کے شریر پر پھیل گئی ہے۔گاڑھی نیند اس پر حملہ آور ہوتی ہے، اپنی آغوش میں دبوچتی اس کی پلکیں بند کرتی، جیسے  کوئی عاشق بانہوں میں سمیٹ لیتا ہے۔خوابوں سے  عاری ایک گہری نیند۔اور جب بھور کا جھٹپٹا ہوتا ہے  وہ خود کو اس کمرے کے کواڑ کھولتے دیکھتی ہے، جو سو برسوں سے بند پڑا تھا۔وہ داخل ہوتی ہے اور ترنت کمرہ اسے اپنے اندر سونکھ لیتا ہے۔ اس کا بدن ٹکڑے ٹکڑے ہوکر، قطرہ قطرہ سماتا کمرے کے بیچو بیچ کھنچتا جاتا ہے۔ یہ ابان ہی تھا جو اسے کھینچتا بلاتا تھا۔ یہ کمرہ لذت کا تھا، شہوت کا، بی بی ٹھیک کہتی تھیں، یہاں شیطان کا ہی تو گزر تھا، پُرشہوت شیطان۔

 

نصرت کو حیرت ہوتی ہے۔آج اس لڑکی کا رویہ کچھ الگ ہے۔ کچھ ہے جو اس کی نظر میں آتا ہے پھر اوجھل ہوجاتا ہے۔دن بھر ماتھے  میں جڑی ایک کیل اسے پریشان کرتی ہے۔

پھر بی بی کے پاس بیٹھتے ہی نصرت کہتی ہے، بی بی آج جی ہلکان ہے، اچھا نہیں لگ رہا۔

بی بی دائیں بائیں جھومتی  ہیں ، کچھ نہیں بولتیں۔

بی بی صبوحی کی بات ہے۔

بی بی اب بھی جھومتی ہیں۔

نصرت کچھ دیر بیٹھتی ہے، اس کا ماتھا چنتا کی سلوٹوں سے سجا ہوا ہے۔پھر ایک آہ بھرتی ہوئی وہ اٹھ جاتی ہے۔ صبوحی کے ابا سے تو یہ بات کرنا ہی بے کار ہے، مردوں کو یہ باتیں کہاں سمجھ میں آتی ہیں۔موٹی کھوپڑی والے، عورتیں الگ ہوتی ہیں، ان کے اندر جو دل دھڑکتا ہے وہ کسی دوسرے سنگیت پر تھپکتا ہے۔انہیں تب بھی سنگیت سنائی دیتا ہے جب کچھ نہ بج رہا ہو۔

انہیں بنجر زمین میں بھی پانی مل جاتا ہے، سوکھے میں وہ اناج تلاش کرلیتی ہیں، کالی اندھیاری راتوں میں بھی امید کی کرن دیکھ لیتی ہیں۔وہ خوفزدہ ماحول میں سکون بوتی ہیں، درد میں مرہم ہوجاتی ہیں، وہ پوری کائنات کی دشواریوں اور خوشیوں کا کوہسار ہوتی ہیں۔تو اس طرح وہ مقدس اور سزایافتہ دونوں ایک ساتھ ہوتی ہیں۔

 

دن گزرتے ہیں، ایک دوسرے میں گھلتے ملتے، بغیر رکے، بنا بدلے کہ ہر دن بالکل ایک سا بیتتا ہے اور سارے دن ایک لمبی یکساں چادر میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ سب کچھ بالکل ویسا ہی  ہے جیسا ہونا چاہیے۔کھانا پکتا ہے، گھر کی صاف صفائی ہوتی ہے، کپڑے دھلتے ہیں، آنگن بُہارا جاتا ہے۔پھر بھی یہ بیتتا بہتا ندی جیسا دن جو اوپری سطح پر شانت اور پرسکون دکھائی دیتا ہے، بھیتر کیا طوفان چھپائے ہے، کون جانے اور پہلی بار اس طوفان سے انجان ہے نصرت۔کچھ ہے کا اندیشہ ہے اسے مگر کیا ہے کی بے چینی بھی۔کس سے کہے ، کس سے بانٹے یہ حال دل۔

بس بی بی با ہوش ہوتیں، ان کا ذہن صاف ہوتا، کاش ، پھر تو کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا۔سب ان کے مشورے سے ٹھیک کرلیا جاتا۔بی بی تو سب جانتی تھیں،  اندر کی سو پرتوں اور پیٹ کے پیچوں کو بھی پکڑلیتیں، پھر تعویذ بناتیں جس کا ایسا اثر ہوتا کہ سب پریشانیاں اڑن چھو ہوجاتیں۔مگر اب تو بی بی چند لمحوں کے لیے ہی ہوش میں آتی ہیں۔

نصرت فاتحہ پڑھتی ہے، بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔ یا اللہ یہ جو کالا بیج میرے دل میں دھنسا ہے، کوئی ہولناک درخت نہ بن جائے، بس ایک سایہ ہی ہو، سچ نہ ہو، دور ہوجائے مجھ سے بہت دور، کسی سے کہہ کر آیت الکرسی لکھواکر تعویذ بنواتی ہے۔

اللہ میں تیری امان میں ہوں۔

لیکن یہ نہیں پتہ کہ اس تعویذ کو پہنے گا کون؟ پھر کچھ سوچ کر صبوحی کے کمرے کی طاق میں چھپادیتی ہے۔

 

صبوحی جانتی ہے ہر رات عطر لگانے سے وہ ختم ہوجائے گا۔ایک گھبراہٹ اس پر طاری ہوتی ہے۔ابان نے اسے اس سیاہ نشیلی دنیا میں کسی عیار کے کمند سا اٹکا کر اندر کھینچ لیا ہے، گُڑپ سے، ایک شدید جنسی خواہش سے اس کا جسم کانپتا ہے، ایسے احساسات اسے لپیٹ لیتے ہیں ، جنہیں خواب میں بھی سوچنا گناہ ہے۔ لیکن جب رات گرتی ہے، اس کے بدن کا کنول کھلتا ہے۔ابان اپنی ڈھکی مندی آنکھوں سے اسے اشارہ کرتا ہے۔

اوہ ابان تو یہاں چھپے تھے تم، ابان، ابان۔۔صبوحی کی آواز تھرتھراتی ہے۔

اگلے دن آنگن میں جھاڑودیتے وقت اسے بی بی پکارتی ہیں۔

اے لڑکی، ادھر آ۔

ان کی آواز صاف اور مضبوط ہے۔

صبوحی جھاڑو روک کر بھونچکی سی انہیں دیکھتی ہے۔

بی بی کے چہرے پر کسی جانکار کی سی نظریں ہیں، صبوحی کی ہتھیلی کو وہ اپنی ہتھیلیوں میں زور سے دبا کر مسکراتی ہیں۔ دال چینی کی مہک ان کے درمیان ناچتی ہے۔

میں بھی  تیری طرح کبھی لڑکی تھی۔ عطر کے اندھیرے راز ہیں، جادو ٹونا ہے۔میرے پاس بھی تھا۔ مگر دیکھو وہ کمرہ اب بند ہے۔

صبوحی کی سانس جال میں پھنسی چڑیا کی مانند پھڑپھڑاتی ہے۔

بی بی اپنی کمر میں اڑسی ہوئی ایک چابی نکالتی ہیں۔

لو یہ تمہارا ہوا اب سے۔

چابی پیتل کی ہے، بھاری اور نقاشی دار، اکیلی۔

اے لڑکی کچھ میٹھا کھلاؤ، کتنی دیر سے کچھ کھایا نہیں ، جا لے آ میرے لیے۔

پھر جھومنے لگتی ہیں، منہ ہی منہ کچھ اٹ پٹ گنگناتی ہیں، صبوحی کو ان دیکھی آنکھوں سے دیکھتی ہیں۔ بے ہوشی کی چادر پھر سے تن جاتی ہے۔ان کے جھومنے کی رفتار بڑھ جاتی ہے، پاگلوں کی مانند۔

رات جب پورا گھر نیند کی گپھا میں دفن  ہے، صبوحی دبے پاؤں اٹھتی ہے۔ اوپری منزل کے گلیارے کے انتم سرے پر کمرہ برسوں سے انتظار میں گم سم کھڑا ہے۔ تالا کب سے نہیں کھلا۔بکری سال، ہاتھی سال، چیل سال، مگر غضب کی بات ہے، چابی ایسے تالے میں گھومتی ہے جیسے ہر روز بیس مرتبہ کھولا بند کیا جارہا تھا۔

اگلے دن ابان اچانک بنا خبر کیے آدھمکتا ہے۔

اپنے ساتھ ایک خوبصورت ڈبا لایا ہے، عطردانیوں سے بھرا  ہوا۔صبوحی اسے دیکھتی ہے اور نظریں بچا بچا کر مسکراتی ہے۔

اس کا بدن ایک الگ لے میں ڈولتا ہے، اس کے کولہے آج الگ گولائی لیے ہوئے ہیں، اس کی گردن تنی ہوئی ہے جیسے ایک ہرنی، اس کی کلائیاں، اس کی بانہیں ، ہوا میں ایسے پھیلتی ہیں جیسے کسی کو آغوش میں بھر لینے  پر آمادہ ہوں۔اس کی چھاتی پھیل کر کرتے پر تن جاتی ہے۔اس کے گال پکے ہوئے پھل کی طرح تمتما جاتے ہیں، گلابی، دمکتے  ہوئے پھٹ پڑنے کو تیار انار کی مانند۔

اس  کاڈر نکل گیا ہے۔ ابان کو دیکھتی اس کی نظریں بے خوف ہیں۔ابان اسے اپنی بھاری آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ان کے بیچ آگ رقص کرتی ہے۔

نہیں، اب اسے کوئی خوف نہیں۔

کہیں اور ، کوئی اور جگہ یا سمے نہیں، بس یہی جگہ، یہی سمے ہے۔جیسے اس بند کمرے سے ڈرتی تھی کہ موت کا کمرہ ہے، بیماری اور پاگل پن کا کمرہ ہے۔مگر نہیں، وہ تو صرف ایک کمرہ تھا، بی بی کے کمرے کی طرح، گہنے اور خوبصورت چیزوں سے اٹا ہوا، ان کی بڑی کاٹھ کی صندوق  جس میں ساٹن کی شلوار، ریشم کا شرارہ، مخمل کی چادر، چاندی اور سونے کی پازیب، کامدار چوڑیاں وغیرہ تھیں۔وہ سب جو انہوں نے شوق سے اپنی جوانی میں اوڑھا، پہنا ، لپیٹا ہوگا۔

اس کمرے میں پھسپھساتا اندھیرا تھا، نیم بے ہوشی تھی، عطر کی خوشبو سے دمکتی، پازیب کی رُن جھن جگاتی۔کسی کی گاڑھی شہد بھری، اصرار بھری آواز دھیمے سے ٹکراتی، نشیلی اور سرور آور۔

میں نے لاکھوں کے بول سہے، ستمگر

تیرے لیے

 

وہ کمرہ نشے اور سرور کی جگہ تھا، ڈولتی انگڑائیوں کی جگہ تھا۔پوری اور ادھوری حسرتوں کی، اس ممنوعہ پھل کی، سانپ کی، پسینے اور حرارت کی، کسی کے ہونٹوں کے لمس کی، ایک من موہک احساس کی اور دیوانہ وار محبت کی جگہ تھاایک نیلا نشہ وہاں ڈولا کرتا جس میں بدن اپنی حدیں  پار کرلینا چاہتا، بانہیں گرپڑتیں، آنکھیں مند جاتیں اور پلکیں بھاری ہوجاتیں۔ایک نیند کا احساس، بے ہوشی، چھپی ہوئی چاہت کہ کوئی چھو لے، کہ سب ٹوٹ پھوٹ اور بکھر جائے، بس۔ابان کا بدن اس کے بدن سے لگا ایک سانس اور ایک لے میں ہلتا، کانپتا، تھرکتا۔یہ سچ تھا کہ جھوٹ، چھلاوہ تھا کہ جادو۔افف! کوئی جسم ایسا ہوتا ہے؟ کٹھور اور نرم ایک ساتھ؟ یہ کس کا بدن ہے؟ یہ ہانپتی بھاگتی ریل کس کی ہے؟ کون ہے؟ یہ بجتی ہوئی سیٹی، یہ میری چٹانوں سے ٹکراتا سمندر، یہ ہوا جو پورے جسم کو سہلاجاتی ہے، یہ خواب اور اس خواب میں ابان کا ہونا، اس کی جلتی آنکھوں کی لپٹ؟ اس کے گلے کی صاف جلد، اس کی انگلیاں، اس کے کان کی سرخ لو، اس کے جسم کی مردانی خوشبو، اس کی بانہوں کی کساوٹ؟ یہ سب حقیقت ہے یا خواب کی دنیا؟

یہ کمرہ اس کے پاگل پن کی پوشیدہ دنیا ہے، یہاں ابان ہے، اس کا عطر ہے، سب چھپا ہوا ہے دنیا سے، سب کھلا ہوا ہے،اس پر۔تو یہ تھا اس کمرے کا راز؟

وہ پھر ابان کو دیکھتی، شرمیلے پن سے نہیں، لاج اور جھجھک کے ساتھ نہیں بلکہ اس نظر سے جس میں اسے اپنی خواہشوں کی تکمیل کی لذت کا اندازہ ہو۔

مجھے لے چلو، جلدی، یہاں سے دور، جانے کس  کے کان میں وہ پھسپھساتی ہوئی ابان کی بغل سے گزر جاتی ہے۔

سارے عاشق قربان اور برباد ہوئے محبت میں۔ پھر بھی جس نے اس ممنوعہ پھل کو نہ چکھا اسے دنیا میں آکر کیا حاصل ہوا؟

٠٠٠

 

پرتیَکشا ہندی اور انگریزی دونوں زبانوں میں لکھتی ہیں۔اب تک دونوں زبانوں میں ان کی بارہ کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔’جنگل جا دوتِل تِل،پہردوپہر ٹھمری، ایک دن مراکیش، تم ملو دوبارہ، تیمور تمہارا گھوڑا کدھر ہے، بارش گر، گلوب کے باہر لڑکی، نینوں بیچ نبی، جال، پارہ پارہ’ ہندی میں شائع شدہ ان کی کتابیں ہیں۔مندرجہ بالا کہانی ان کے تازہ افسانوی مجموعے ‘عطر: دنیا میں کیا حاصل’ سے لی گئی ہے۔

پرتیَکشا کی یہ کہانی  بڑی خوبصورتی سے ہندوستان کے مسلم گھرانوں، خاص طور پر مشترکہ خاندانوں کی زندگیوں کا نقشہ پیش کرتی ہے۔ اس بھیڑ بھاڑ میں ایک طرف من کی مٹھاس ہے تو دوسری جانب باتوں کی کھٹاس۔گھر ایک دوسرے سے ملے ہیں، کہنے کو سب آس پاس ہیں، ہر وقت ایک شوربپا ہے مگر اس  کے اندر کہیں دور لڑکیوں کی ایک تنہا اور خاموش دنیا ہے، جہاں خوشبوؤں کا نواس ہے۔اور یہ خوشبو روزگار کی تلاش میں دوسرے ملکوں بھٹک رہے نوجوانوں کے ہجر کے ساتھ ، خود لذتی کا گہرا اور بھید بھرا عمل ساتھ لائی ہے، اس کی کہانی بہت پرانی ہے، نسل در نسل منتقل ہوتی ہوئی۔نئے زمانوں میں بھی اتنی ہی قدیم۔یہ عورتوں کی تاریخ کا ایک ان چھوا باب ہے، جسے پرتیکشا نے بڑی خوبی سے رقم کیا ہے۔

Attention Required! | Cloudflare

Sorry, you have been blocked

You are unable to access wajibjp.cfd

Why have I been blocked?

This website is using a security service to protect itself from online attacks. The action you just performed triggered the security solution. There are several actions that could trigger this block including submitting a certain word or phrase, a SQL command or malformed data.

What can I do to resolve this?

You can email the site owner to let them know you were blocked. Please include what you were doing when this page came up and the Cloudflare Ray ID found at the bottom of this page.

news-1701

yakinjp

yakinjp

maujp

TOTOMACAU

sabung ayam online

sabung ayam online

sabung ayam online

sabung ayam online

article 8888000686

article 8888000687

article 8888000688

article 8888000689

article 8888000690

article 8888000691

article 8888000692

article 8888000693

article 8888000694

article 8888000695

article 8888000696

article 8888000697

article 8888000698

article 8888000699

article 8888000700

article 8888000701

article 8888000702

article 8888000703

article 8888000704

article 8888000705

article 8888000706

article 8888000707

article 8888000708

article 8888000709

article 8888000710

article 8888000711

article 8888000712

article 8888000713

article 8888000714

article 8888000715

article 8888000716

article 8888000717

article 8888000718

article 8888000719

article 8888000720

article 8888000721

article 8888000722

article 8888000723

article 8888000724

article 8888000725

mahjong 9998000701

mahjong 9998000702

mahjong 9998000703

mahjong 9998000704

mahjong 9998000705

mahjong 9998000706

mahjong 9998000707

mahjong 9998000708

mahjong 9998000709

mahjong 9998000710

mahjong 9998000711

mahjong 9998000712

mahjong 9998000713

mahjong 9998000714

mahjong 9998000715

mahjong 9998000716

mahjong 9998000717

mahjong 9998000718

mahjong 9998000719

mahjong 9998000720

mahjong 9998000721

mahjong 9998000722

mahjong 9998000723

mahjong 9998000724

mahjong 9998000725

mahjong 9998000726

mahjong 9998000727

mahjong 9998000728

mahjong 9998000729

mahjong 9998000730

mahjong 9998000731

mahjong 9998000732

mahjong 9998000733

mahjong 9998000734

mahjong 9998000735

mahjong 9998000736

mahjong 9998000737

mahjong 9998000738

mahjong 9998000739

mahjong 9998000740

mahjong 9998000741

mahjong 9998000742

mahjong 9998000743

mahjong 9998000744

mahjong 9998000745

mahjong 9998000746

mahjong 9998000747

mahjong 9998000748

mahjong 9998000749

mahjong 9998000750

mahjong 838000788

mahjong 838000789

mahjong 838000790

mahjong 838000791

mahjong 838000792

mahjong 838000793

mahjong 838000794

mahjong 838000795

mahjong 838000796

mahjong 838000797

mahjong 838000798

mahjong 838000799

mahjong 838000800

mahjong 838000801

mahjong 838000802

mahjong 838000803

mahjong 838000804

mahjong 838000805

mahjong 838000806

mahjong 838000807

mahjong 838000808

mahjong 838000809

mahjong 838000810

mahjong 838000811

mahjong 838000812

mahjong 838000813

mahjong 838000814

mahjong 838000815

mahjong 838000816

mahjong 838000817

mahjong 838000818

mahjong 838000819

mahjong 838000820

mahjong 838000821

mahjong 838000822

mahjong 838000823

mahjong 838000824

mahjong 838000825

mahjong 838000826

mahjong 838000827

mahjong 838000828

mahjong 838000829

mahjong 838000830

mahjong 838000831

mahjong 838000832

mahjong 838000833

mahjong 838000834

mahjong 838000835

mahjong 838000836

mahjong 838000837

article 5500346

article 5500347

article 5500348

article 5500349

article 5500350

article 5500351

article 5500352

article 5500353

article 5500354

article 5500355

article 5500356

article 5500357

article 5500358

article 5500359

article 5500360

article 5500361

article 5500362

article 5500363

article 5500364

article 5500365

article 5500366

article 5500367

article 5500368

article 5500369

article 5500370

article 5500371

article 5500372

article 5500373

article 5500374

article 5500375

article 5500376

article 5500377

article 5500378

article 5500379

article 5500380

article 5500381

article 5500382

article 5500383

article 5500384

article 5500385

mahjong 2000546

article 2000547

article 2000548

article 2000549

article 2000550

article 2000551

article 2000552

article 2000553

article 2000554

article 2000555

article 2000556

article 2000557

article 2000558

article 2000559

article 2000560

article 2000561

article 2000562

article 2000563

article 2000564

article 2000565

article 2000566

article 2000567

article 2000568

article 2000569

article 2000570

article 2000571

article 2000572

article 2000573

article 2000574

article 2000575

article 2000576

article 2000577

article 2000578

article 2000579

article 2000580

article 2000581

article 2000582

article 2000583

article 2000584

article 2000585

article 2000586

article 2000587

article 2000588

article 2000589

article 2000590

article 2000591

article 2000592

article 2000593

article 2000594

article 2000595

mahjong 2990612

article 2990606

article 2990607

article 2990608

article 2990609

article 2990610

article 2990611

article 2990613

article 2990614

article 2990615

article 2990616

article 2990617

article 2990618

article 2990619

article 2990620

article 2990621

article 2990622

article 2990623

article 2990624

article 2990625

article 2990626

article 2990627

article 2990628

article 2990629

article 2990630

article 2990631

article 2990632

article 2990633

article 2990634

article 2990635

article 2990636

article 2990637

article 2990638

article 2990639

article 2990640

article 2990641

article 2990642

article 2990643

article 2990644

article 2990645

article 2990646

article 2990647

article 2990648

article 2990649

article 2990650

article 2990651

article 2990652

article 2990653

article 2990654

article 2990655

artikel 000000091

artikel 000000092

artikel 000000093

artikel 000000094

artikel 000000095

artikel 000000096

artikel 000000097

artikel 000000098

artikel 000000099

artikel 000000100

artikel 000000101

artikel 000000102

artikel 000000103

artikel 000000104

artikel 000000105

artikel 000000106

artikel 000000107

artikel 000000108

artikel 000000109

artikel 000000110

artikel 000000111

artikel 000000112

artikel 000000113

artikel 000000114

artikel 000000115

artikel 000000116

artikel 000000117

artikel 000000118

artikel 000000119

artikel 000000120

artikel 000000121

artikel 000000122

artikel 000000123

artikel 000000124

artikel 000000125

artikel 000000126

artikel 000000127

artikel 000000128

artikel 000000129

artikel 000000130

artikel 000000131

artikel 000000132

artikel 000000133

artikel 000000134

artikel 000000135

artikel 000000136

artikel 000000137

artikel 000000138

artikel 000000139

artikel 000000140

mahjong 000136

mahjong 000137

mahjong 000138

mahjong 000139

mahjong 000140

mahjong 000141

mahjong 000142

mahjong 000143

mahjong 000144

mahjong 000145

mahjong 000146

mahjong 000147

mahjong 000148

mahjong 000149

mahjong 000150

mahjong 000151

mahjong 000152

mahjong 000153

mahjong 000154

mahjong 000155

mahjong 000156

mahjong 000157

mahjong 000158

mahjong 000159

mahjong 000160

mahjong 000161

mahjong 000162

mahjong 000163

mahjong 000164

mahjong 000165

mahjong 000166

mahjong 000167

mahjong 000168

mahjong 000169

mahjong 000170

mahjong 000171

mahjong 000172

mahjong 000173

mahjong 000174

mahjong 000175

mahjong 000176

mahjong 000177

mahjong 000178

mahjong 000179

mahjong 000180

mahjong 000181

mahjong 000182

mahjong 000183

mahjong 000184

mahjong 000185

article 10000506

article 10000507

article 10000508

article 10000509

article 10000510

article 10000511

article 10000512

article 10000513

article 10000514

article 10000515

article 10000516

article 10000517

article 10000518

article 10000519

article 10000520

article 10000521

article 10000522

article 10000523

article 10000524

article 10000525

article 10000526

article 10000527

article 10000528

article 10000529

article 10000530

article 10000531

article 10000532

article 10000533

article 10000534

article 10000535

article 10000536

article 10000537

article 10000538

article 10000539

article 10000540

article 10000541

article 10000542

article 10000543

article 10000544

article 10000545

article 10000546

article 10000547

article 10000548

article 10000549

article 10000550

article 10000551

article 10000552

article 10000553

article 10000554

article 10000555

article 22220411

article 22220412

article 22220413

article 22220414

article 22220415

article 22220416

article 22220417

article 22220418

article 22220419

article 22220420

article 22220421

article 22220422

article 22220423

article 22220424

article 22220425

article 22220426

article 22220427

article 22220428

article 22220429

article 22220430

article 22220431

article 22220432

article 22220433

article 22220434

article 22220435

article 22220436

article 22220437

article 22220438

article 22220439

article 22220440

article 22220441

article 22220442

article 22220443

article 22220444

article 22220445

article 22220446

article 22220447

article 22220448

article 22220449

article 22220450

news-1701
news-1701

yakinjp

yakinjp

rtp yakinjp

yakinjp

yakinjp

yakin jp

yakinjp id

maujp

maujp

maujp

sabung ayam online

sabung ayam online

SLOT MAHJONG

sabung ayam online

article 838000638

article 838000639

article 838000640

article 838000641

article 838000642

article 838000643

article 838000644

article 838000645

article 838000646

article 838000647

article 838000648

article 838000649

article 838000650

article 838000651

article 838000652

article 838000653

article 838000654

article 838000655

article 838000656

article 838000657

article 838000658

article 838000659

article 838000660

article 838000661

article 838000662

article 838000663

article 838000664

article 838000665

article 838000666

article 838000667

article 838000668

article 838000669

article 838000670

article 838000671

article 838000672

article 838000673

article 838000674

article 838000675

article 838000676

article 838000677

article 838000678

article 838000679

article 838000680

article 838000681

article 838000682

article 838000683

article 838000684

article 838000685

article 838000686

article 838000687

article 838000688

article 838000689

article 838000690

article 838000691

article 838000692

article 838000693

article 838000694

article 838000695

article 838000696

article 838000697

article 238000456

article 238000457

article 238000458

article 238000459

article 238000460

article 238000461

article 238000462

article 238000463

article 238000464

article 238000465

article 238000466

article 238000467

article 238000468

article 238000469

article 238000470

article 238000471

article 238000472

article 238000473

article 238000474

article 238000475

article 238000476

article 238000477

article 238000478

article 238000479

article 238000480

article 238000481

article 238000482

article 238000483

article 238000484

article 238000485

article 238000486

article 238000487

article 238000488

article 238000489

article 238000490

article 238000491

article 238000492

article 238000493

article 238000494

article 238000495

article 238000496

article 238000497

article 238000498

article 238000499

article 238000500

article 238000501

article 238000502

article 238000503

article 238000504

article 238000505

article 238000506

article 238000507

article 238000508

article 238000509

article 238000510

article 238000511

article 238000512

article 238000513

article 238000514

article 238000515

article 7700246

article 7700247

article 7700248

article 7700249

article 7700250

article 7700251

article 7700252

article 7700253

article 7700254

article 7700255

article 7700256

article 7700257

article 7700258

article 7700259

article 7700260

article 7700261

article 7700262

article 7700263

article 7700264

article 7700265

article 7700266

article 7700267

article 7700268

article 7700269

article 7700270

article 7700271

article 7700272

article 7700273

article 7700274

article 7700275

article 7700276

article 7700277

article 7700278

article 7700279

article 7700280

article 7700281

article 7700282

article 7700283

article 7700284

article 7700285

article 2000431

article 2000432

article 2000433

article 2000434

article 2000435

article 2000436

article 2000437

article 2000438

article 2000439

article 2000440

article 2000441

article 2000442

article 2000443

article 2000444

article 2000445

article 2000446

article 2000447

article 2000448

article 2000449

article 2000450

article 2000451

article 2000452

article 2000453

article 2000454

article 2000455

article 2000456

article 2000457

article 2000458

article 2000459

article 2000460

article 2000461

article 2000462

article 2000463

article 2000464

article 2000465

article 2000466

article 2000467

article 2000468

article 2000469

article 2000470

article 2000471

article 2000472

article 2000473

article 2000474

article 2000475

article 2000476

article 2000477

article 2000478

article 2000479

article 2000480

article 2000481

article 2000482

article 2000483

article 2000484

article 2000485

article 2000486

article 2000487

article 2000488

article 2000489

article 2000490

article 2990581

article 2990582

article 2990583

article 2990584

article 2990585

article 2990586

article 2990587

article 2990588

article 2990589

article 2990590

article 2990591

article 2990592

article 2990593

article 2990594

article 2990595

article 2990596

article 2990597

article 2990598

article 2990599

article 2990600

article 2990601

article 2990602

article 2990603

article 2990604

article 2990605

article 2990606

article 2990607

article 2990608

article 2990609

article 2990610

article 2990611

article 2990612

article 2990613

article 2990614

article 2990615

article 2990616

article 2990617

article 2990618

article 2990619

article 2990620

article 10000416

article 10000417

article 10000418

article 10000419

article 10000420

article 10000421

article 10000422

article 10000423

article 10000424

article 10000425

article 10000426

article 10000427

article 10000428

article 10000429

article 10000430

article 10000431

article 10000432

article 10000433

article 10000434

article 10000435

article 10000436

article 10000437

article 10000438

article 10000439

article 10000440

article 10000441

article 10000442

article 10000443

article 10000444

article 10000445

article 10000446

article 10000447

article 10000448

article 10000449

article 10000450

news-1701