اُڑان

اور ایک دن وہ سب کام دھندے چھوڑ کر گھر سے نکل پڑی۔

کوئی طے شدہ پروگرام نہیں تھا، کوئی سمبندھی بیمار نہیں تھا، کسی کا لڑکا پاس نہیں ہوا تھا، کسی عزیز کی موت نہیں ہوئی تھی، کسی کی لڑکی کی سگائی نہیں ہوئی تھی، کہیں کوئی سنت مہاتما نہیں آیا تھا، کوئی تہوار نہیں تھا۔ کوئی بہانہ نہیں تھا۔

اصل میں ہوا یہ کہ برتن مانجھتے مانجھتے اچانک جانے کہاں سےا ور کیسے شیلا کے من میں ایک انجانی ترنگ سی اٹھی اور ہاتھ میں پکڑے ہوئے برتن کو پٹک کر ہاتھ دھوئے بنا وہ جیسی کی تیسی کمرے سے باہر آئی اور پُکارنے لگی۔

‘رانی، او رانی!’

رانی کا کمرہ احاطے کی دوسری چھت پر تھا۔

آواز دیتے دیتے شیلا کی نظر شونیہ کو چیر کر آکاش پر چھائے ہوئے بادلوں سے ٹکرائی  اور پانی کا ایک قطرہ اس کی دائیں آنکھ میں آگرا۔ شیلا نے ایک دم آنکھ میچ  لی اور پھر زور سے آواز دینے لگی۔’رانی، او رانی!’

اور جب رانی نے جنگلے سے نیچے جھانکتے ہوئے پوچھا، ‘کیوں ری، کیا ہوا جو منہ اندھیرے بانگیں دے رہی ہو۔’ تو شیلا جواب دینے کے بجائے کھلکھلا کر ہنسنے لگی اور رانی سوال دوہرانے کے بدلے، دھم دھم کرتی نیچے آنگن میں آگئی اور آتے ہی شیلا کی چٹیا پکڑ کر کھینچنے لگی۔

شیلا نے ہنستے ہوئے دھمکی دی، ‘چھوڑ دو، نہیں منہ کالا کر  دونگی۔’

رانی نے ہنس کر جواب دیا، ‘کس کا ؟ اپنا؟’

اور پھر دونوں ہنسنے لگیں اور ہنستے ہنستے ہی شیلا نے رانی کے کان میں کچھ کہا جسے سنتے ہی رانی تالی پیٹ کر چلانے لگی،’ونتی او ویراں او ونتی!’

ونتی اور ویراں اسی مکان کی نچلی منزل کے دو کمروں میں رہتی تھیں اور سب شور سن چکی تھیں۔ونتی اپنے کمرے کے ایک کونے میں نہا رہی تھی اور ویراں پچھلے پہر کے لیے تھوڑا سا آٹا گوندھ رہی تھی۔ رانی کی آواز سنتے ہی ونتی نے تُرنت ایک دو گلاس پانی کے ادھر ادھر پھینکے اور ایک میلا دوپٹہ بدن پر لپیٹ کر کمرے سے باہر نکل آئی۔ ویراں نے آٹا ادھ سنا چھوڑ دیا تھا اور پہلے سے ہی شیلا اور رانی کے ساتھ کھڑی نہ جانے کس بات پر ہنس رہی تھی۔ ونتی کو دیکھتے ہی تینوں بالکل بچوں کی طرح چلانے لگیں، ‘ونتی ننگی اوئے ونتی ننگی!’

ونتی کھسیا کر اپنے کمرے میں لوٹ گئی اور جلدی جلدی پیٹی کوٹ اور کرتی پہن کر کرتی کے بٹن بند کرتی کرتی پھر باہر دوڑ آئی۔ رانی نے آگے بڑھ کر کہا۔’اری دوڑو نہیں، تمہارے حصے کا تمہیں مل جائے گا۔’

‘ونتی نے ذرا حیرت سے پوچھا۔’کیا؟’ تو تنیوں نے ایک ہی لہجے میں کہا، ‘پرساد۔’ اور پھر چاروں کھلکھلا کر ہنس پڑیں۔

ان کی اس کھلکھلاہٹ سے احاطے کا گھُٹا ہوا ماحول گویا چڑ سا گیا اور چڑچڑے پن کا واضح ثبوت تھا احاطے کی مالکن کا غصیلا چہرہ  جو اپنے پورشن کی  سامنے والی گلی میں کھڑی ان گنوار عورتوں کے گنوار پن پر دانت پیس رہی تھی، لیکن جب ان چاروں نے آپس میں کچھ کھُسر پھُسر کرنے کے بعد اپنی چھوٹی سی کانفرنس کا انت ایک چیختے ہوئے ٹھہاکے پر کیا تو احاطے کا ماحول بدل سا گیا۔ اگرچہ اس کی مالکن کا پارہ کچھ درجے اور چڑھ گیا۔

ہنستی چیختی، بل کھاتی چاروں اپنے اپنے کمرے میں دوڑ گئیں۔شیلا نے راکھ بھرے ہاتھ جلدی سے دھوئے۔ برتنوں کا ڈھیر جہاں کا تہاں پڑا رہا اور وہ اپنی پھولوں والی شلوار کو ٹھیک کرنے لگی۔

رانی نے جھاڑو اٹھاکر ایک کونے میں پھینک دی اور پانی بھری بالٹی فرش پر انڈیل کر اسے ایک طرف کھسکا دیا اور ہاتھ پیٹی کوٹ سے پونچھ کر آنکھوں میں سرمہ ڈالنے لگی۔ونتی پہلے سے ہی سب کام ختم کرچکی تھی، محض آگ بجھانی باقی تھی۔ اس نے کھڑے کھڑے ہی دو تین گلاس پانی چولہے میں پھینک دیا اور ایک پل کے لیے سوچا کہ سارا چولہا گیلا ہوگیا اور پھر نئے دوپٹے میں سلوٹیں ڈالنے لگی۔ ویراں نے آٹے کی پرات کو ایک کونے میں دھکیل دیا ، اس کے کمرے میں چپے چپے پر جھوٹے برتن پڑے ہوئے تھے، کیونکہ اس کے بچے ابھی ابھی کھا پی کر باہر نکلے تھے۔ اس نے ایک دو گلاس اٹھاکر ٹھکانے لگائے، پھر ہاتھ منہ دھونے لگی۔

کچھ ہی دیر میں چاروں سہیلیاں اپنے اپنے کمرے کو تالا لگا کر احاطے سے باہر نکل گئیں اور احاطے کی غصیلی مالکن حیرت سے انگلی دانتوں میں دبائے دیکھتی کی دیکھتی رہ گئی۔ انہوں نے جاتے ہوئے آنکھ اٹھاکر اس کی طرف دیکھا تک نہ تھا۔

‘نیچ گھرانے کی۔’احاطے کی مالکن بڑبڑائی اور اسی سمے اس کے پتی نے اندر سے آواز دی۔’اری کہاں چلی گئی تو نیچ گھرانے کی، یہ کیا کردیا تونے؟’ اور وہ اندر جاکر پتی سے جھگڑنے لگی۔

ادھر وہ چاروں سڑک پر ایک دوسرے کے پیچھے ایسے بھاگ رہی تھیں جیسے پرائمری سکول کی لڑکیاں ۔رانی نے تو حد ہی کردی۔ دوپٹہ اس نے کمر پر باندھ لیا اور چوٹی کو سر پر پگڑی کی بھانتی لپیٹ کر یوں چلنے لگی جیسے رانی خاں  کی چھوٹی سالی وہی ہو۔وہ اب گلی سے گزر کر سڑک پر پہنچ چکی تھی۔ شیلا کہہ رہی تھی، ‘رک جاؤ رانی، ٹھہرو ادھر کہاں چل پڑی ہو، ادھر تو کچھ بھی نہیں، جنگل میں جاووگی۔’

وہ اتنے زور سے بول رہی تھی کہ نواب گنج روڈ پر جانے والے کچھ طلبا مڑمڑ کر دیکھ رہے تھے۔ شیلا کے کئی بار چلانے پر آخر رانی رکی اور کچھ صلاح کے بعد انہوں نے طے کیا کہ انہیں سبزی منڈی سے ٹرام پکڑنی چاہیے اور جب ونتی نے پوچھا جاؤ گی کہاں؟ تو تینوں نے ہنس کر جواب دیا جہاں تو لے جائے۔اس پر ونتی بھی ہنس پڑی اور وہ سبزی منڈی کی طرف چل پڑی۔

ایک ٹرام کھڑی تھی۔ وہ دوڑ کر اس میں بیٹھ گئیں اور جب کنڈکٹر نے شیلا سے پوچھا۔ ‘کہاں جاؤگی جی؟’ تو شیلا نے ہنس کر جواب دیا۔’اس سے پوچھو۔’

کنڈکنٹر  اس بے وجہ ہنسی پر کھیج سا گیا اور اس نے تُنک کر کہا۔ ‘کس سے پوچھوں۔’

شیلا نے  پھر ہنس کر کہا، ‘ناراض کیوں ہوتے ہو، اس سے رانی سے پوچھو۔’

‘مجھے سپنا آئے گا کہ رانی کون ہے؟’ کنڈکٹر نے بگڑ کر کہا۔

‘میں ہوں رانی۔’رانی نے چلتی ٹرام میں اٹھ کر آگے بڑھتے ہوئے کہا اور دوسرے ہی پل میں لڑکھڑا کر ایک بوڑھے کی گود میں جاگری۔

شیلا، ونتی اور ویراں کھلکھلا کر ہنس پڑیں اور وہ بوڑھا بغلیں جھانکنے لگا۔رانی اٹھ کر گرتی پڑتی  پھر اپنی سیٹھ پر بیٹھ چکی تھی۔

قطب روڈ کے اڈے پر جب وہ ٹرام سے اتر گئیں تو کنڈکٹر نے نہ جانے کسے مخاطب کرتے ہوئے کہا، ‘عجیب واہیات عورتیں تھیں۔’

اور ٹرام میں بیٹھے ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا، ‘لاج شرم تو رہی نہیں۔’

اور وہ بوڑھا بغل میں بیٹھے ایک لڑکے سے کہہ رہا تھا، ‘سالی کیا دھمم سے آکر گود میں گر پڑی۔’

اور لڑکا یہ سمجھنے کی کوشش کررہا تھا کہ بوڑھا اور اس عورت کی حرکت کی برائی کررہا ہے یا ویسے ہی چٹخارا لے رہا ہے۔

ٹرام سے اترتے ہی انہوں نے پھر سوچنے کی ضرورت سمجھی کہ وہ کہاں جائیں۔ جب رانی نے اپنے منہ پر انگلی رکھتے ہوئے کہا، ‘ہائے ، ہم کہاں آگئیں!’ تو شیلا نے بھولے پن سے جواب دیا، ‘اپنی سسرال!’ اور اس پر وہ سب اس زور سے ہنسیں کہ آس پاس کھڑے سبھی لوگ ان کی طرف دیکھنے لگے۔

ہنسی کے مارے وہ دوہری تہری ہوئی جارہی تھیں اور یہ بھی بھول گئی تھیں کہ دونوں سمتوں سے ایک ایک کار صرف انہی کے کارن ہارن بجارہی تھی۔اور جب ایک کار نے پیچھے سے رانی کی ٹانگوں پر ہلکا سا ٹہوکا دیا تو اس کی ہنسی چیخ میں بدل گئی اور اس نے مڑکر کار والے کو پانچ چھ گھریلو گالیوں سے وداع کیا۔

جب وہ سڑک کے کنارے لگ گئیں تو شیلا (جس کی ترنگ انہیں گھر سے نکال لائی تھی) کو جانے کیا سوجھی، کہنے لگی، ‘کناٹ پلیس چلو گی؟’

نام تو سب نے سن رکھا تھا۔ ونتی  کا گھر والا دفتر سے لوٹتے وقت ہر پہلی تاریخ کو کناٹ پلیس سے ہی پھولوں کا ایک ہار اس کے لیے لے آیا کرتا تھا۔ ویراں کا رام دیال بھی اپنے کام کاج کے سلسلے میں کناٹ پلیس جایا کرتا تھا، جہاں اس کے سستے بسکٹوں کے پکے گاہک تھے۔ رانی تو خود بھی دو بار کناٹ پلیس ہو آئی تھی۔ ایک بار جب اس کی درخواست پر اس کا شوہر آزادی کا جلوس دکھانے لے گیا اور ایک بار وہ اکیلی گھومتی گھامتی ادھر جانکلی تھی۔ شیلا کا سجھاؤ ہاتھوں ہاتھ لیا گیا اور وہ ایک تانگے میں سوار ہو گئیں۔

گھوڑا پہلے ہی کافی تیز تھا، مگر رانی نے ذرا نخرے کے ساتھ تانگے والے پر چوٹ کرتے ہوئے کہا، ‘لین ، اسی طرح ٹِچکوں ٹِچکوں چلے گا کیا؟’ تو تانگے والے نے گھوڑے کی پچھلی ٹانگوں میں چھڑی کے ساتھ کچھ اس شرارت سے کھجلی کی کہ گھوڑا ہوا سے باتیں کرنے لگا۔ تڑاخ تڑاخ کرنے لگا۔تڑاخ تڑاخ کے پاؤں پکی سڑک پر پڑتے اور تانگے والا کبھی رانی اور کبھی شیلا کی طرف ، جو اس کے برابر اگلی سیٹ پر بیٹھی ہوئی تھیں، ایسے دیکھتا جیسے انعام کی مانگ کر رہا ہو مگر رانی اور شیلا گھوڑے سے بھی زیادہ تیز دوڑ رہی تھیں۔ رانی کا دوپٹہ سر  پر تو پہلے ہی نہیں تھا، اب اس کے بدن کے کسی بھی حصے پر نہیں تھا۔ نیچے گر گیا تھا اس کے پاؤں میں۔ شیلا کے بال اس کی چوٹی سے بھاگ بھاگ کر ادھر ادھر دوڑ رہے تھے۔ پیچھے بیٹھے ونتی اور ویراں بچوں کی طرح سیٹ پر گھٹنے ٹیک کر آگے کی طرف دیکھ رہی تھیں۔

رانی کہہ رہی تھی، ‘بلّے او بلّے۔’

شیلا کہہ رہی تھی، ‘ہائے رام اتنا تیز۔’

تانگے والا کہہ رہا تھا، ‘کہو تو اور تیز۔’

ونتی اور ویراں پیچھے بیٹھی بول اٹھیں۔’ہاں بھائی اور تیز اور تیز۔’

تانگے والا پائدان پر کھڑا للکار رہا تھا، آہاہاہا۔’

اور سڑک پر آنے جانے والے لوگ اس فراٹے بھرتے ہوئے تانگے پر نظر تو نہ جما سکتے تھے، پر رائے زنی سب کررہے تھے۔اگر کسی طرح وہ سب ایک جگہ پر اکھٹے ہوجاتے تو اتفاق رائے سے طے ہوجاتا کہ تانگے پر ویشیائیں بیٹھی ہیں، تیز کیسے نہ دوڑیں۔

لیکن چونکہ تانگہ ویشیاؤں کو نہ بٹھائے تھا، اس لیے کناٹ پلیس پہنچ کر تانگے  والے کو بھی نِراشا ہوئی۔انعام دینے کے بجائے رانی اس سے کہہ رہی تھی، ‘بھائی ہمارے پاس تو ساڑھے گیارہ آنے ہیں، اب دو پیسے کے لیے کیا جان لے گا۔’

تانگے والے کو شاید رانی کا یہ جملہ سن کر ٹھیس سی لگی۔ایک دم بول اٹھا۔’رانی ، تو یہ بھی رکھ لے۔’

اس کا یہ کہنا تھا کہ ونتی، ویراں اور شیلا کھٹاک سے ہنس اٹھیں۔جیسے کسی نے تین فوارے چھوڑ دیے ہوں۔ رانی پہلے ایک پل  کے لیے بھونچکی سی رہ گئی، پھر جب بات سمجھ میں آئی تو اتنی ہنسی کہ کھڑی نہ رہ سکی اور  وہیں بیٹھ کر ‘اوئی’ ،’ائی’ کرنے لگی۔تانگے والے نے اپنے آپ سے کہا، ‘پاگل ہونگی!’اور قدم قدم گھوڑے کو چلانے لگا۔

جب ذرا دم میں دم آیا تو  اپنی آنکھوں کو پونچھتے ہوئے رانی نے کہا، ‘موئے کو میرا نام کیسے پتہ چل گیا؟’

ونتی نے جواب دیا، ‘بھائی تمہیں کون نہیں جانتا؟’ اور اس پر ہنسی کا دوسرا دور شروع ہونے   ہی والا تھا کہ اسی تانگے والے کی آواز پھر آئی۔’کیوں جی، قطب کی سیر کروا لاؤں؟’

تانگے والا کچھ دور جاکر پھر  مڑ آیا تھا۔

‘قطب کی سیر کروا اپنی ماں کو، اپنی بہن کو۔’رانی نے خالص گھریلو عورت کے لہجے میں کہا اور اپنی سہیلیوں سے بولی، ‘چلو ری یہ موا تو کتے کی طرح پیچھے ہی پڑ گیا ہے۔ اور وہ اوڈین سنیما کی طرف چل  پڑیں۔

رانی بولی، ‘یہ ہے کناڈ پلیٹس۔’

ویراں بولی، ‘کناڈ پلیٹس نہیں، کرناٹ پلیٹ۔’

شیلا نے کہا، ‘نام کچھ  بھی ہو، جگہ تو یہی ہے نا۔’

رانی بولی، ‘پوچھ کیوں نہیں لیتی کسی سے؟’

‘جاؤ نا اپنے اس تانگے والے سے۔۔۔’

تانگے والے کا نام سنتے ہی رانی ایک مسکان کو دباتے ہوئے بولی۔’موا نام تک جان گیا۔’

یہ اوڈین سنیما کے سامنے رک کر دور سے تصویریں دیکھتی رہیں اور پھر جھجھکتے جھجکتے نزدیک آئیں اور پھر دھیرے سے سنیما کے پورچ میں داخل ہوگئیں۔ پھرتی پھراتی مردوں کے پیشاب گھر پر جا رکیں۔کچھ پل سوچتی  رہیں کہ اندر کیا ہوگا اور پھر رانی نے دروازہ اندر کی طرف دھکیلا اور ‘اوئی ماں’ کہہ کر باہر کی اور بھاگنے لگی۔ سب کی سب بھاگتی پھسلتی باہر آگئیں اور رانی سے پوچھنے لگیں کہ ‘کیا ہوا۔’ پر رانی ہنستی گئی، ہنستی گئی۔

اور جب انہوں نے بہت تنگ کیا تو بولی، ‘ایک آدمی ۔۔۔’اور پھر ہنسنے لگی۔

‘تانگے والا یاد آرہا ہے؟’ویراں اور ونتی نے کہا۔

شیلا نے بات بدلنے کے لیے کہا، ‘یہیں کہیں ہنومان جی کا مندر ہے کہو تو۔۔۔’

‘راکھ ڈالو ہنومان جی کے مندر پر۔سیر پر نکلی ہو کہ پوجا کو؟’ وہاں بھی کوئی موٹا تازہ پجاری بیٹھا گھور رہا ہوگا۔’

‘آپ بیتی سنا رہی ہو؟’ شیلا نے کہا اور وہ پھر ہنسنے لگیں۔

اور اسی طرح ہنستے ہنساتے ، پھرتے پھراتے انہوں نے شام کردی۔ہنستے ہنستے ان کے گلے بیٹھ گئے تھے اور ویسے بھی انہوں نے بہت کچھ الم غلم کھا لیا تھا۔گول گپے، آلو کی ٹِکیا، چاٹ کے پتے، چنازور گرم یعنی کناٹ پلیس کے بڑے ہوٹلوں کو چھوڑ کر باہر جو چیزیں ملتی تھیں، وہ سب انہوں نے تھوڑی تھوڑی چکھ لی تھیں۔ کناٹ پلیس کے برآمدے میں کتنے ہی چکر لگائے تھے، کتنی ہی دکانوں کے سامنے ہکی بکی ہوکر کھڑی ہوئی تھیں۔کتنے ہی لوگوں کو اپنی ہنسی کے کارن بھرم میں ڈال چکی تھیں اور اب ان کی ٹانگوں میں ہلکا ہلکا درد ہونے لگا تھا ساتھ ہی ان کے دماغوں کو کوئی زنجیر گھر کی طرف کھینچنے  لگی تھی۔

‘چلو نا وہاں، کیا ہری ہری گھاس ہے، تھوڑی دیر بیٹھ کر آرام کرلیں۔’

پر اس کے جواب میں ‘ہاں ‘ یا ‘نا’ کی بجائے جب ویراں نے دھیمے لہجے میں کہا، ‘گھر نہیں چلوگی؟’ تو گھر کا نام جیسے گھڑے پر روڑے کی مانند لگا۔چاروں کے چہرے ایک دم اتر گئے۔

‘گھر جاکر کیا کروگی؟’ رانی نے ہمت سے کام لیتے ہوئے کہا۔لیکن اس کے اس کمزور سے اختلاف کا حقیقت کے کڑوے بادلوں پر کوئی اثر نہ  پڑا، جو شاید آسمان سے چھٹ کر اب ان کے دماغوں پر چھا رہے تھے۔

‘گھر میں ہے کیا؟’ رانی نے پھر کہا جیسے اپنے آپ کو سمجھا رہی ہو۔

‘ہے خاک۔’شیلا نے جواب دیا  جیسے کہہ رہی ہو۔’جانتے بوجھتے ہوئے پوچھتی ہو۔’

اور وہ چاروں سہیلیاں ہری ہری گھاس پر بیٹھنے کی بجائے گھر کی اور لوٹ پڑیں۔

‘تانگہ کر لو!’ رانی نے کہا پر کسی کو ہنسی نہ آئی۔

‘ونتی اور ویراں کو گویا سانپ سونگھ گیا ہے۔’شیلا نے کہا۔

‘سوچ رہی ہوں رات کو سبزی کیا پکاؤں گی؟ ونتی نے جواب دیا۔

اس کا مذاق اڑانے کی بجائے رانی بولی، ‘میرے سے صبح کی دال لے لینا۔’

اور وہ راستہ پوچھتی پاچھتی، گھر کی چھوٹی چھوٹی الجھنوں کو سلجھاتی ، گھریلو مسائل پر بحث کرتی، پڑوسنوں کی برائیاں کرتی، ایک دوسرے سے حسد کرتی، پائیوں، آنوں کا حساب کرتی، تیز تیز گھر کی طرف چلنے لگیں۔جب وہ گلی کے پاس پہنچیں تو اندھیرا کافی گہرا ہوچکا تھا۔

٠٠٠

news-1701

sabung ayam online

yakinjp

yakinjp

rtp yakinjp

slot thailand

yakinjp

yakinjp

yakin jp

yakinjp id

maujp

maujp

maujp

maujp

sabung ayam online

sabung ayam online

judi bola online

sabung ayam online

judi bola online

slot mahjong ways

slot mahjong

sabung ayam online

judi bola

live casino

sabung ayam online

judi bola

live casino

SGP Pools

slot mahjong

sabung ayam online

slot mahjong

118000646

118000647

118000648

118000649

118000650

118000651

118000652

118000653

118000654

118000655

118000656

118000657

118000658

118000659

118000660

118000661

118000662

118000663

118000664

118000665

118000666

118000667

118000668

118000669

118000670

118000671

118000672

118000673

118000674

118000675

118000676

118000677

118000678

118000679

118000680

118000681

118000682

118000683

118000684

118000685

118000686

118000687

118000688

118000689

118000690

118000691

118000692

118000693

118000694

118000695

118000696

118000697

118000698

118000699

118000700

118000701

118000702

118000703

118000704

118000705

118000706

118000707

118000708

118000709

118000710

118000711

118000712

118000713

118000714

118000715

118000716

118000717

118000718

118000719

118000720

128000681

128000682

128000683

128000684

128000685

128000686

128000687

128000688

128000689

128000690

128000691

128000692

128000693

128000694

128000695

128000710

128000711

128000712

128000713

128000714

128000715

128000716

128000717

128000718

128000719

128000720

128000721

128000722

128000723

128000724

128000725

128000726

128000727

128000728

128000729

128000730

128000731

128000732

128000733

128000734

128000735

128000736

128000737

128000738

128000739

128000740

138000421

138000422

138000423

138000424

138000425

138000426

138000427

138000428

138000429

138000430

138000431

138000432

138000433

138000434

138000435

138000431

138000432

138000433

138000434

138000435

138000436

138000437

138000438

138000439

138000440

138000441

138000442

138000443

138000444

138000445

138000446

138000447

138000448

138000449

138000450

138000451

138000452

138000453

138000454

138000455

138000456

138000457

138000458

138000459

138000460

208000361

208000362

208000363

208000364

208000365

208000366

208000367

208000368

208000369

208000370

208000386

208000387

208000388

208000389

208000390

208000391

208000392

208000393

208000394

208000395

208000396

208000397

208000398

208000399

208000400

208000401

208000402

208000403

208000404

208000405

208000406

208000407

208000408

208000409

208000410

208000411

208000412

208000413

208000414

208000415

208000416

208000417

208000418

208000419

208000420

208000421

208000422

208000423

208000424

208000425

208000426

208000427

208000428

208000429

208000430

228000051

228000052

228000053

228000054

228000055

228000056

228000057

228000058

228000059

228000060

228000061

228000062

228000063

228000064

228000065

228000066

228000067

228000068

228000069

228000070

228000071

228000072

228000073

228000074

228000075

228000076

228000077

228000078

228000079

228000080

228000081

228000082

228000083

228000084

228000085

238000211

238000212

238000213

238000214

238000215

238000216

238000217

238000218

238000219

238000220

238000221

238000222

238000223

238000224

238000225

238000226

238000227

238000228

238000229

238000230

news-1701
news-0801

yakinjp


sabung ayam online

yakinjp

yakinjp

rtp yakinjp

yakinjp

yakinjp

judi bola online

slot thailand

yakinjp

yakinjp

yakinjp

yakinjp

ayowin

mahjong ways

judi bola online

mahjong ways 2

JUDI BOLA ONLINE

maujp

maujp

sabung ayam online

maujp

maujp

maujp

maujp

sabung ayam online

mahjong ways slot

sbobet88

live casino online

Situs Agen Togel

MAUJP

118000021

118000022

118000023

118000024

118000025

118000026

118000027

118000028

118000029

118000030

118000031

118000032

118000033

118000034

118000035

118000036

118000037

118000038

118000039

118000040

118000041

118000042

118000043

118000044

118000045

118000046

118000047

118000048

118000049

118000050

128000021

128000022

128000023

128000024

128000025

128000026

128000027

128000028

128000029

128000030

128000031

128000032

128000033

128000034

128000035

128000036

128000037

128000038

128000039

128000040

128000041

128000042

128000043

128000044

128000045

128000046

128000047

128000048

128000049

128000050

138000021

138000022

138000023

138000024

138000025

138000026

138000027

138000028

138000029

138000030

138000031

138000032

138000033

138000034

138000035

138000036

138000037

138000038

138000039

138000040

138000041

138000042

138000043

138000044

138000045

138000046

138000047

138000048

138000049

138000050

148000026

148000027

148000028

148000029

148000030

148000031

148000032

148000033

148000034

148000035

148000036

148000037

148000038

148000039

148000040

148000041

148000042

148000043

148000044

148000045

148000046

148000047

148000048

148000049

148000050

148000051

148000052

148000053

148000054

148000055

148000056

148000057

148000058

148000059

148000060

148000061

148000062

148000063

148000064

148000065

148000066

148000067

148000068

148000069

148000070

158000041

158000042

158000043

158000044

158000045

158000046

158000047

158000048

158000049

158000050

158000051

158000052

158000053

158000054

158000055

158000056

158000057

158000058

158000059

158000060

158000061

158000062

158000063

158000064

158000065

158000066

158000067

158000068

158000069

158000070

168000011

168000012

168000013

168000014

168000015

168000016

168000017

168000018

168000019

168000020

168000021

168000022

168000023

168000024

168000025

168000026

168000027

168000028

168000029

168000030

168000031

168000032

168000033

168000034

168000035

168000036

168000037

168000038

168000039

168000040

178000036

178000037

178000038

178000039

178000040

178000041

178000042

178000043

178000044

178000045

178000046

178000047

178000048

178000049

178000050

178000051

178000052

178000053

178000054

178000055

178000056

178000057

178000058

178000059

178000060

178000061

178000062

178000063

178000064

178000065

188000141

188000142

188000143

188000144

188000145

188000146

188000147

188000148

188000149

188000150

188000151

188000152

188000153

188000154

188000155

188000156

188000157

188000158

188000159

188000160

188000161

188000162

188000163

188000164

188000165

188000166

188000167

188000168

188000169

188000170

198000031

198000032

198000033

198000034

198000035

198000036

198000037

198000038

198000039

198000040

198000041

198000042

198000043

198000044

198000045

198000046

198000047

198000048

198000049

198000050

198000051

198000052

198000053

198000054

198000055

198000056

198000057

198000058

198000059

198000060

218000021

218000022

218000023

218000024

218000025

218000026

218000027

218000028

218000029

218000030

218000031

218000032

218000033

218000034

218000035

218000036

218000037

218000038

218000039

218000040

218000041

218000042

218000043

218000044

218000045

218000046

218000047

218000048

218000049

218000050

228000016

228000017

228000018

228000019

228000020

228000021

228000022

228000023

228000024

228000025

228000026

228000027

228000028

228000029

228000030

228000031

228000032

228000033

228000034

228000035

228000036

228000037

228000038

228000039

228000040

228000041

228000042

228000043

228000044

228000045

228000046

228000047

228000048

228000049

228000050

238000001

238000002

238000003

238000004

238000005

238000006

238000007

238000008

238000009

238000010

238000011

238000012

238000013

238000014

238000015

238000016

238000017

238000018

238000019

238000020

news-0801