اُڑان

اور ایک دن وہ سب کام دھندے چھوڑ کر گھر سے نکل پڑی۔

کوئی طے شدہ پروگرام نہیں تھا، کوئی سمبندھی بیمار نہیں تھا، کسی کا لڑکا پاس نہیں ہوا تھا، کسی عزیز کی موت نہیں ہوئی تھی، کسی کی لڑکی کی سگائی نہیں ہوئی تھی، کہیں کوئی سنت مہاتما نہیں آیا تھا، کوئی تہوار نہیں تھا۔ کوئی بہانہ نہیں تھا۔

اصل میں ہوا یہ کہ برتن مانجھتے مانجھتے اچانک جانے کہاں سےا ور کیسے شیلا کے من میں ایک انجانی ترنگ سی اٹھی اور ہاتھ میں پکڑے ہوئے برتن کو پٹک کر ہاتھ دھوئے بنا وہ جیسی کی تیسی کمرے سے باہر آئی اور پُکارنے لگی۔

‘رانی، او رانی!’

رانی کا کمرہ احاطے کی دوسری چھت پر تھا۔

آواز دیتے دیتے شیلا کی نظر شونیہ کو چیر کر آکاش پر چھائے ہوئے بادلوں سے ٹکرائی  اور پانی کا ایک قطرہ اس کی دائیں آنکھ میں آگرا۔ شیلا نے ایک دم آنکھ میچ  لی اور پھر زور سے آواز دینے لگی۔’رانی، او رانی!’

اور جب رانی نے جنگلے سے نیچے جھانکتے ہوئے پوچھا، ‘کیوں ری، کیا ہوا جو منہ اندھیرے بانگیں دے رہی ہو۔’ تو شیلا جواب دینے کے بجائے کھلکھلا کر ہنسنے لگی اور رانی سوال دوہرانے کے بدلے، دھم دھم کرتی نیچے آنگن میں آگئی اور آتے ہی شیلا کی چٹیا پکڑ کر کھینچنے لگی۔

شیلا نے ہنستے ہوئے دھمکی دی، ‘چھوڑ دو، نہیں منہ کالا کر  دونگی۔’

رانی نے ہنس کر جواب دیا، ‘کس کا ؟ اپنا؟’

اور پھر دونوں ہنسنے لگیں اور ہنستے ہنستے ہی شیلا نے رانی کے کان میں کچھ کہا جسے سنتے ہی رانی تالی پیٹ کر چلانے لگی،’ونتی او ویراں او ونتی!’

ونتی اور ویراں اسی مکان کی نچلی منزل کے دو کمروں میں رہتی تھیں اور سب شور سن چکی تھیں۔ونتی اپنے کمرے کے ایک کونے میں نہا رہی تھی اور ویراں پچھلے پہر کے لیے تھوڑا سا آٹا گوندھ رہی تھی۔ رانی کی آواز سنتے ہی ونتی نے تُرنت ایک دو گلاس پانی کے ادھر ادھر پھینکے اور ایک میلا دوپٹہ بدن پر لپیٹ کر کمرے سے باہر نکل آئی۔ ویراں نے آٹا ادھ سنا چھوڑ دیا تھا اور پہلے سے ہی شیلا اور رانی کے ساتھ کھڑی نہ جانے کس بات پر ہنس رہی تھی۔ ونتی کو دیکھتے ہی تینوں بالکل بچوں کی طرح چلانے لگیں، ‘ونتی ننگی اوئے ونتی ننگی!’

ونتی کھسیا کر اپنے کمرے میں لوٹ گئی اور جلدی جلدی پیٹی کوٹ اور کرتی پہن کر کرتی کے بٹن بند کرتی کرتی پھر باہر دوڑ آئی۔ رانی نے آگے بڑھ کر کہا۔’اری دوڑو نہیں، تمہارے حصے کا تمہیں مل جائے گا۔’

‘ونتی نے ذرا حیرت سے پوچھا۔’کیا؟’ تو تنیوں نے ایک ہی لہجے میں کہا، ‘پرساد۔’ اور پھر چاروں کھلکھلا کر ہنس پڑیں۔

ان کی اس کھلکھلاہٹ سے احاطے کا گھُٹا ہوا ماحول گویا چڑ سا گیا اور چڑچڑے پن کا واضح ثبوت تھا احاطے کی مالکن کا غصیلا چہرہ  جو اپنے پورشن کی  سامنے والی گلی میں کھڑی ان گنوار عورتوں کے گنوار پن پر دانت پیس رہی تھی، لیکن جب ان چاروں نے آپس میں کچھ کھُسر پھُسر کرنے کے بعد اپنی چھوٹی سی کانفرنس کا انت ایک چیختے ہوئے ٹھہاکے پر کیا تو احاطے کا ماحول بدل سا گیا۔ اگرچہ اس کی مالکن کا پارہ کچھ درجے اور چڑھ گیا۔

ہنستی چیختی، بل کھاتی چاروں اپنے اپنے کمرے میں دوڑ گئیں۔شیلا نے راکھ بھرے ہاتھ جلدی سے دھوئے۔ برتنوں کا ڈھیر جہاں کا تہاں پڑا رہا اور وہ اپنی پھولوں والی شلوار کو ٹھیک کرنے لگی۔

رانی نے جھاڑو اٹھاکر ایک کونے میں پھینک دی اور پانی بھری بالٹی فرش پر انڈیل کر اسے ایک طرف کھسکا دیا اور ہاتھ پیٹی کوٹ سے پونچھ کر آنکھوں میں سرمہ ڈالنے لگی۔ونتی پہلے سے ہی سب کام ختم کرچکی تھی، محض آگ بجھانی باقی تھی۔ اس نے کھڑے کھڑے ہی دو تین گلاس پانی چولہے میں پھینک دیا اور ایک پل کے لیے سوچا کہ سارا چولہا گیلا ہوگیا اور پھر نئے دوپٹے میں سلوٹیں ڈالنے لگی۔ ویراں نے آٹے کی پرات کو ایک کونے میں دھکیل دیا ، اس کے کمرے میں چپے چپے پر جھوٹے برتن پڑے ہوئے تھے، کیونکہ اس کے بچے ابھی ابھی کھا پی کر باہر نکلے تھے۔ اس نے ایک دو گلاس اٹھاکر ٹھکانے لگائے، پھر ہاتھ منہ دھونے لگی۔

کچھ ہی دیر میں چاروں سہیلیاں اپنے اپنے کمرے کو تالا لگا کر احاطے سے باہر نکل گئیں اور احاطے کی غصیلی مالکن حیرت سے انگلی دانتوں میں دبائے دیکھتی کی دیکھتی رہ گئی۔ انہوں نے جاتے ہوئے آنکھ اٹھاکر اس کی طرف دیکھا تک نہ تھا۔

‘نیچ گھرانے کی۔’احاطے کی مالکن بڑبڑائی اور اسی سمے اس کے پتی نے اندر سے آواز دی۔’اری کہاں چلی گئی تو نیچ گھرانے کی، یہ کیا کردیا تونے؟’ اور وہ اندر جاکر پتی سے جھگڑنے لگی۔

ادھر وہ چاروں سڑک پر ایک دوسرے کے پیچھے ایسے بھاگ رہی تھیں جیسے پرائمری سکول کی لڑکیاں ۔رانی نے تو حد ہی کردی۔ دوپٹہ اس نے کمر پر باندھ لیا اور چوٹی کو سر پر پگڑی کی بھانتی لپیٹ کر یوں چلنے لگی جیسے رانی خاں  کی چھوٹی سالی وہی ہو۔وہ اب گلی سے گزر کر سڑک پر پہنچ چکی تھی۔ شیلا کہہ رہی تھی، ‘رک جاؤ رانی، ٹھہرو ادھر کہاں چل پڑی ہو، ادھر تو کچھ بھی نہیں، جنگل میں جاووگی۔’

وہ اتنے زور سے بول رہی تھی کہ نواب گنج روڈ پر جانے والے کچھ طلبا مڑمڑ کر دیکھ رہے تھے۔ شیلا کے کئی بار چلانے پر آخر رانی رکی اور کچھ صلاح کے بعد انہوں نے طے کیا کہ انہیں سبزی منڈی سے ٹرام پکڑنی چاہیے اور جب ونتی نے پوچھا جاؤ گی کہاں؟ تو تینوں نے ہنس کر جواب دیا جہاں تو لے جائے۔اس پر ونتی بھی ہنس پڑی اور وہ سبزی منڈی کی طرف چل پڑی۔

ایک ٹرام کھڑی تھی۔ وہ دوڑ کر اس میں بیٹھ گئیں اور جب کنڈکٹر نے شیلا سے پوچھا۔ ‘کہاں جاؤگی جی؟’ تو شیلا نے ہنس کر جواب دیا۔’اس سے پوچھو۔’

کنڈکنٹر  اس بے وجہ ہنسی پر کھیج سا گیا اور اس نے تُنک کر کہا۔ ‘کس سے پوچھوں۔’

شیلا نے  پھر ہنس کر کہا، ‘ناراض کیوں ہوتے ہو، اس سے رانی سے پوچھو۔’

‘مجھے سپنا آئے گا کہ رانی کون ہے؟’ کنڈکٹر نے بگڑ کر کہا۔

‘میں ہوں رانی۔’رانی نے چلتی ٹرام میں اٹھ کر آگے بڑھتے ہوئے کہا اور دوسرے ہی پل میں لڑکھڑا کر ایک بوڑھے کی گود میں جاگری۔

شیلا، ونتی اور ویراں کھلکھلا کر ہنس پڑیں اور وہ بوڑھا بغلیں جھانکنے لگا۔رانی اٹھ کر گرتی پڑتی  پھر اپنی سیٹھ پر بیٹھ چکی تھی۔

قطب روڈ کے اڈے پر جب وہ ٹرام سے اتر گئیں تو کنڈکٹر نے نہ جانے کسے مخاطب کرتے ہوئے کہا، ‘عجیب واہیات عورتیں تھیں۔’

اور ٹرام میں بیٹھے ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا، ‘لاج شرم تو رہی نہیں۔’

اور وہ بوڑھا بغل میں بیٹھے ایک لڑکے سے کہہ رہا تھا، ‘سالی کیا دھمم سے آکر گود میں گر پڑی۔’

اور لڑکا یہ سمجھنے کی کوشش کررہا تھا کہ بوڑھا اور اس عورت کی حرکت کی برائی کررہا ہے یا ویسے ہی چٹخارا لے رہا ہے۔

ٹرام سے اترتے ہی انہوں نے پھر سوچنے کی ضرورت سمجھی کہ وہ کہاں جائیں۔ جب رانی نے اپنے منہ پر انگلی رکھتے ہوئے کہا، ‘ہائے ، ہم کہاں آگئیں!’ تو شیلا نے بھولے پن سے جواب دیا، ‘اپنی سسرال!’ اور اس پر وہ سب اس زور سے ہنسیں کہ آس پاس کھڑے سبھی لوگ ان کی طرف دیکھنے لگے۔

ہنسی کے مارے وہ دوہری تہری ہوئی جارہی تھیں اور یہ بھی بھول گئی تھیں کہ دونوں سمتوں سے ایک ایک کار صرف انہی کے کارن ہارن بجارہی تھی۔اور جب ایک کار نے پیچھے سے رانی کی ٹانگوں پر ہلکا سا ٹہوکا دیا تو اس کی ہنسی چیخ میں بدل گئی اور اس نے مڑکر کار والے کو پانچ چھ گھریلو گالیوں سے وداع کیا۔

جب وہ سڑک کے کنارے لگ گئیں تو شیلا (جس کی ترنگ انہیں گھر سے نکال لائی تھی) کو جانے کیا سوجھی، کہنے لگی، ‘کناٹ پلیس چلو گی؟’

نام تو سب نے سن رکھا تھا۔ ونتی  کا گھر والا دفتر سے لوٹتے وقت ہر پہلی تاریخ کو کناٹ پلیس سے ہی پھولوں کا ایک ہار اس کے لیے لے آیا کرتا تھا۔ ویراں کا رام دیال بھی اپنے کام کاج کے سلسلے میں کناٹ پلیس جایا کرتا تھا، جہاں اس کے سستے بسکٹوں کے پکے گاہک تھے۔ رانی تو خود بھی دو بار کناٹ پلیس ہو آئی تھی۔ ایک بار جب اس کی درخواست پر اس کا شوہر آزادی کا جلوس دکھانے لے گیا اور ایک بار وہ اکیلی گھومتی گھامتی ادھر جانکلی تھی۔ شیلا کا سجھاؤ ہاتھوں ہاتھ لیا گیا اور وہ ایک تانگے میں سوار ہو گئیں۔

گھوڑا پہلے ہی کافی تیز تھا، مگر رانی نے ذرا نخرے کے ساتھ تانگے والے پر چوٹ کرتے ہوئے کہا، ‘لین ، اسی طرح ٹِچکوں ٹِچکوں چلے گا کیا؟’ تو تانگے والے نے گھوڑے کی پچھلی ٹانگوں میں چھڑی کے ساتھ کچھ اس شرارت سے کھجلی کی کہ گھوڑا ہوا سے باتیں کرنے لگا۔ تڑاخ تڑاخ کرنے لگا۔تڑاخ تڑاخ کے پاؤں پکی سڑک پر پڑتے اور تانگے والا کبھی رانی اور کبھی شیلا کی طرف ، جو اس کے برابر اگلی سیٹ پر بیٹھی ہوئی تھیں، ایسے دیکھتا جیسے انعام کی مانگ کر رہا ہو مگر رانی اور شیلا گھوڑے سے بھی زیادہ تیز دوڑ رہی تھیں۔ رانی کا دوپٹہ سر  پر تو پہلے ہی نہیں تھا، اب اس کے بدن کے کسی بھی حصے پر نہیں تھا۔ نیچے گر گیا تھا اس کے پاؤں میں۔ شیلا کے بال اس کی چوٹی سے بھاگ بھاگ کر ادھر ادھر دوڑ رہے تھے۔ پیچھے بیٹھے ونتی اور ویراں بچوں کی طرح سیٹ پر گھٹنے ٹیک کر آگے کی طرف دیکھ رہی تھیں۔

رانی کہہ رہی تھی، ‘بلّے او بلّے۔’

شیلا کہہ رہی تھی، ‘ہائے رام اتنا تیز۔’

تانگے والا کہہ رہا تھا، ‘کہو تو اور تیز۔’

ونتی اور ویراں پیچھے بیٹھی بول اٹھیں۔’ہاں بھائی اور تیز اور تیز۔’

تانگے والا پائدان پر کھڑا للکار رہا تھا، آہاہاہا۔’

اور سڑک پر آنے جانے والے لوگ اس فراٹے بھرتے ہوئے تانگے پر نظر تو نہ جما سکتے تھے، پر رائے زنی سب کررہے تھے۔اگر کسی طرح وہ سب ایک جگہ پر اکھٹے ہوجاتے تو اتفاق رائے سے طے ہوجاتا کہ تانگے پر ویشیائیں بیٹھی ہیں، تیز کیسے نہ دوڑیں۔

لیکن چونکہ تانگہ ویشیاؤں کو نہ بٹھائے تھا، اس لیے کناٹ پلیس پہنچ کر تانگے  والے کو بھی نِراشا ہوئی۔انعام دینے کے بجائے رانی اس سے کہہ رہی تھی، ‘بھائی ہمارے پاس تو ساڑھے گیارہ آنے ہیں، اب دو پیسے کے لیے کیا جان لے گا۔’

تانگے والے کو شاید رانی کا یہ جملہ سن کر ٹھیس سی لگی۔ایک دم بول اٹھا۔’رانی ، تو یہ بھی رکھ لے۔’

اس کا یہ کہنا تھا کہ ونتی، ویراں اور شیلا کھٹاک سے ہنس اٹھیں۔جیسے کسی نے تین فوارے چھوڑ دیے ہوں۔ رانی پہلے ایک پل  کے لیے بھونچکی سی رہ گئی، پھر جب بات سمجھ میں آئی تو اتنی ہنسی کہ کھڑی نہ رہ سکی اور  وہیں بیٹھ کر ‘اوئی’ ،’ائی’ کرنے لگی۔تانگے والے نے اپنے آپ سے کہا، ‘پاگل ہونگی!’اور قدم قدم گھوڑے کو چلانے لگا۔

جب ذرا دم میں دم آیا تو  اپنی آنکھوں کو پونچھتے ہوئے رانی نے کہا، ‘موئے کو میرا نام کیسے پتہ چل گیا؟’

ونتی نے جواب دیا، ‘بھائی تمہیں کون نہیں جانتا؟’ اور اس پر ہنسی کا دوسرا دور شروع ہونے   ہی والا تھا کہ اسی تانگے والے کی آواز پھر آئی۔’کیوں جی، قطب کی سیر کروا لاؤں؟’

تانگے والا کچھ دور جاکر پھر  مڑ آیا تھا۔

‘قطب کی سیر کروا اپنی ماں کو، اپنی بہن کو۔’رانی نے خالص گھریلو عورت کے لہجے میں کہا اور اپنی سہیلیوں سے بولی، ‘چلو ری یہ موا تو کتے کی طرح پیچھے ہی پڑ گیا ہے۔ اور وہ اوڈین سنیما کی طرف چل  پڑیں۔

رانی بولی، ‘یہ ہے کناڈ پلیٹس۔’

ویراں بولی، ‘کناڈ پلیٹس نہیں، کرناٹ پلیٹ۔’

شیلا نے کہا، ‘نام کچھ  بھی ہو، جگہ تو یہی ہے نا۔’

رانی بولی، ‘پوچھ کیوں نہیں لیتی کسی سے؟’

‘جاؤ نا اپنے اس تانگے والے سے۔۔۔’

تانگے والے کا نام سنتے ہی رانی ایک مسکان کو دباتے ہوئے بولی۔’موا نام تک جان گیا۔’

یہ اوڈین سنیما کے سامنے رک کر دور سے تصویریں دیکھتی رہیں اور پھر جھجھکتے جھجکتے نزدیک آئیں اور پھر دھیرے سے سنیما کے پورچ میں داخل ہوگئیں۔ پھرتی پھراتی مردوں کے پیشاب گھر پر جا رکیں۔کچھ پل سوچتی  رہیں کہ اندر کیا ہوگا اور پھر رانی نے دروازہ اندر کی طرف دھکیلا اور ‘اوئی ماں’ کہہ کر باہر کی اور بھاگنے لگی۔ سب کی سب بھاگتی پھسلتی باہر آگئیں اور رانی سے پوچھنے لگیں کہ ‘کیا ہوا۔’ پر رانی ہنستی گئی، ہنستی گئی۔

اور جب انہوں نے بہت تنگ کیا تو بولی، ‘ایک آدمی ۔۔۔’اور پھر ہنسنے لگی۔

‘تانگے والا یاد آرہا ہے؟’ویراں اور ونتی نے کہا۔

شیلا نے بات بدلنے کے لیے کہا، ‘یہیں کہیں ہنومان جی کا مندر ہے کہو تو۔۔۔’

‘راکھ ڈالو ہنومان جی کے مندر پر۔سیر پر نکلی ہو کہ پوجا کو؟’ وہاں بھی کوئی موٹا تازہ پجاری بیٹھا گھور رہا ہوگا۔’

‘آپ بیتی سنا رہی ہو؟’ شیلا نے کہا اور وہ پھر ہنسنے لگیں۔

اور اسی طرح ہنستے ہنساتے ، پھرتے پھراتے انہوں نے شام کردی۔ہنستے ہنستے ان کے گلے بیٹھ گئے تھے اور ویسے بھی انہوں نے بہت کچھ الم غلم کھا لیا تھا۔گول گپے، آلو کی ٹِکیا، چاٹ کے پتے، چنازور گرم یعنی کناٹ پلیس کے بڑے ہوٹلوں کو چھوڑ کر باہر جو چیزیں ملتی تھیں، وہ سب انہوں نے تھوڑی تھوڑی چکھ لی تھیں۔ کناٹ پلیس کے برآمدے میں کتنے ہی چکر لگائے تھے، کتنی ہی دکانوں کے سامنے ہکی بکی ہوکر کھڑی ہوئی تھیں۔کتنے ہی لوگوں کو اپنی ہنسی کے کارن بھرم میں ڈال چکی تھیں اور اب ان کی ٹانگوں میں ہلکا ہلکا درد ہونے لگا تھا ساتھ ہی ان کے دماغوں کو کوئی زنجیر گھر کی طرف کھینچنے  لگی تھی۔

‘چلو نا وہاں، کیا ہری ہری گھاس ہے، تھوڑی دیر بیٹھ کر آرام کرلیں۔’

پر اس کے جواب میں ‘ہاں ‘ یا ‘نا’ کی بجائے جب ویراں نے دھیمے لہجے میں کہا، ‘گھر نہیں چلوگی؟’ تو گھر کا نام جیسے گھڑے پر روڑے کی مانند لگا۔چاروں کے چہرے ایک دم اتر گئے۔

‘گھر جاکر کیا کروگی؟’ رانی نے ہمت سے کام لیتے ہوئے کہا۔لیکن اس کے اس کمزور سے اختلاف کا حقیقت کے کڑوے بادلوں پر کوئی اثر نہ  پڑا، جو شاید آسمان سے چھٹ کر اب ان کے دماغوں پر چھا رہے تھے۔

‘گھر میں ہے کیا؟’ رانی نے پھر کہا جیسے اپنے آپ کو سمجھا رہی ہو۔

‘ہے خاک۔’شیلا نے جواب دیا  جیسے کہہ رہی ہو۔’جانتے بوجھتے ہوئے پوچھتی ہو۔’

اور وہ چاروں سہیلیاں ہری ہری گھاس پر بیٹھنے کی بجائے گھر کی اور لوٹ پڑیں۔

‘تانگہ کر لو!’ رانی نے کہا پر کسی کو ہنسی نہ آئی۔

‘ونتی اور ویراں کو گویا سانپ سونگھ گیا ہے۔’شیلا نے کہا۔

‘سوچ رہی ہوں رات کو سبزی کیا پکاؤں گی؟ ونتی نے جواب دیا۔

اس کا مذاق اڑانے کی بجائے رانی بولی، ‘میرے سے صبح کی دال لے لینا۔’

اور وہ راستہ پوچھتی پاچھتی، گھر کی چھوٹی چھوٹی الجھنوں کو سلجھاتی ، گھریلو مسائل پر بحث کرتی، پڑوسنوں کی برائیاں کرتی، ایک دوسرے سے حسد کرتی، پائیوں، آنوں کا حساب کرتی، تیز تیز گھر کی طرف چلنے لگیں۔جب وہ گلی کے پاس پہنچیں تو اندھیرا کافی گہرا ہوچکا تھا۔

٠٠٠

news-1701

yakinjp


sabung ayam online

yakinjp

yakinjp

rtp yakinjp

yakinjp

yakinjp

judi bola online

slot thailand

yakinjp

yakinjp

yakinjp

yakinjp

ayowin

mahjong ways

judi bola online

mahjong ways 2

JUDI BOLA ONLINE

maujp

maujp

sabung ayam online

maujp

maujp

maujp

maujp

MAUJP

sabung ayam online

mahjong ways slot

sbobet88

live casino online

Situs Agen Togel

MAUJP

sv388

maujp

maujp

maujp

maujp

maujp

sabung ayam online

118000126

118000127

118000128

118000129

118000130

118000131

118000132

118000133

118000134

118000135

118000136

118000137

118000138

118000139

118000140

118000141

118000142

118000143

118000144

118000145

118000146

118000147

118000148

118000149

118000150

118000151

118000152

118000153

118000154

118000155

118000156

118000157

118000158

118000159

118000160

118000161

118000162

118000163

118000164

118000165

118000166

118000167

118000168

118000169

118000170

128000136

128000137

128000138

128000139

128000140

128000141

128000142

128000143

128000144

128000145

128000146

128000147

128000148

128000149

128000150

128000151

128000152

128000153

128000154

128000155

128000156

128000157

128000158

128000159

128000160

128000161

128000162

128000163

128000164

128000165

128000166

128000167

128000168

128000169

128000170

128000171

128000172

128000173

128000174

128000175

138000111

138000112

138000113

138000114

138000115

138000116

138000117

138000118

138000119

138000120

138000121

138000122

138000123

138000124

138000125

138000126

138000127

138000128

138000129

138000130

138000131

138000132

138000133

138000134

138000135

138000136

138000137

138000138

138000139

138000140

148000146

148000147

148000148

148000149

148000150

148000151

148000152

148000153

148000154

148000155

148000156

148000157

148000158

148000159

148000160

148000161

148000162

148000163

148000164

148000165

148000166

148000167

148000168

148000169

148000170

148000171

148000172

148000173

148000174

148000175

168000116

168000117

168000118

168000119

168000120

168000121

168000122

168000123

168000124

168000125

168000126

168000127

168000128

168000129

168000130

168000131

168000132

168000133

168000134

168000135

168000136

168000137

168000138

168000139

168000140

168000141

168000142

168000143

168000144

168000145

178000136

178000137

178000138

178000139

178000140

178000141

178000142

178000143

178000144

178000145

178000146

178000147

178000148

178000149

178000150

178000151

178000152

178000153

178000154

178000155

178000156

178000157

178000158

178000159

178000160

178000161

178000162

178000163

178000164

178000165

178000166

178000167

178000168

178000169

178000170

178000171

178000172

178000173

178000174

178000175

178000176

178000177

178000178

178000179

178000180

188000206

188000207

188000208

188000209

188000210

188000211

188000212

188000213

188000214

188000215

188000216

188000217

188000218

188000219

188000220

188000221

188000222

188000223

188000224

188000225

188000226

188000227

188000228

188000229

188000230

188000231

188000232

188000233

188000234

188000235

198000111

198000112

198000113

198000114

198000115

198000116

198000117

198000118

198000119

198000120

198000121

198000122

198000123

198000124

198000125

198000126

198000127

198000128

198000129

198000130

198000131

198000132

198000133

198000134

198000135

198000136

198000137

198000138

198000139

198000140

238000106

238000107

238000108

238000109

238000110

238000111

238000112

238000113

238000114

238000115

238000116

238000117

238000118

238000119

238000120

238000121

238000122

238000123

238000124

238000125

238000126

238000127

238000128

238000129

238000130

238000131

238000132

238000133

238000134

238000135

238000136

238000137

238000138

238000139

238000140

238000141

238000142

238000143

238000144

238000145

238000146

238000147

238000148

238000149

238000150

news-1701
news-0801

yakinjp


sabung ayam online

yakinjp

yakinjp

rtp yakinjp

yakinjp

yakinjp

judi bola online

slot thailand

yakinjp

yakinjp

yakinjp

yakinjp

ayowin

mahjong ways

judi bola online

mahjong ways 2

JUDI BOLA ONLINE

maujp

maujp

sabung ayam online

maujp

maujp

maujp

maujp

sabung ayam online

mahjong ways slot

sbobet88

live casino online

Situs Agen Togel

MAUJP

118000021

118000022

118000023

118000024

118000025

118000026

118000027

118000028

118000029

118000030

118000031

118000032

118000033

118000034

118000035

118000036

118000037

118000038

118000039

118000040

118000041

118000042

118000043

118000044

118000045

118000046

118000047

118000048

118000049

118000050

128000021

128000022

128000023

128000024

128000025

128000026

128000027

128000028

128000029

128000030

128000031

128000032

128000033

128000034

128000035

128000036

128000037

128000038

128000039

128000040

128000041

128000042

128000043

128000044

128000045

128000046

128000047

128000048

128000049

128000050

138000021

138000022

138000023

138000024

138000025

138000026

138000027

138000028

138000029

138000030

138000031

138000032

138000033

138000034

138000035

138000036

138000037

138000038

138000039

138000040

138000041

138000042

138000043

138000044

138000045

138000046

138000047

138000048

138000049

138000050

148000026

148000027

148000028

148000029

148000030

148000031

148000032

148000033

148000034

148000035

148000036

148000037

148000038

148000039

148000040

148000041

148000042

148000043

148000044

148000045

148000046

148000047

148000048

148000049

148000050

148000051

148000052

148000053

148000054

148000055

148000056

148000057

148000058

148000059

148000060

148000061

148000062

148000063

148000064

148000065

148000066

148000067

148000068

148000069

148000070

158000041

158000042

158000043

158000044

158000045

158000046

158000047

158000048

158000049

158000050

158000051

158000052

158000053

158000054

158000055

158000056

158000057

158000058

158000059

158000060

158000061

158000062

158000063

158000064

158000065

158000066

158000067

158000068

158000069

158000070

168000011

168000012

168000013

168000014

168000015

168000016

168000017

168000018

168000019

168000020

168000021

168000022

168000023

168000024

168000025

168000026

168000027

168000028

168000029

168000030

168000031

168000032

168000033

168000034

168000035

168000036

168000037

168000038

168000039

168000040

178000036

178000037

178000038

178000039

178000040

178000041

178000042

178000043

178000044

178000045

178000046

178000047

178000048

178000049

178000050

178000051

178000052

178000053

178000054

178000055

178000056

178000057

178000058

178000059

178000060

178000061

178000062

178000063

178000064

178000065

188000141

188000142

188000143

188000144

188000145

188000146

188000147

188000148

188000149

188000150

188000151

188000152

188000153

188000154

188000155

188000156

188000157

188000158

188000159

188000160

188000161

188000162

188000163

188000164

188000165

188000166

188000167

188000168

188000169

188000170

198000031

198000032

198000033

198000034

198000035

198000036

198000037

198000038

198000039

198000040

198000041

198000042

198000043

198000044

198000045

198000046

198000047

198000048

198000049

198000050

198000051

198000052

198000053

198000054

198000055

198000056

198000057

198000058

198000059

198000060

218000021

218000022

218000023

218000024

218000025

218000026

218000027

218000028

218000029

218000030

218000031

218000032

218000033

218000034

218000035

218000036

218000037

218000038

218000039

218000040

218000041

218000042

218000043

218000044

218000045

218000046

218000047

218000048

218000049

218000050

228000016

228000017

228000018

228000019

228000020

228000021

228000022

228000023

228000024

228000025

228000026

228000027

228000028

228000029

228000030

228000031

228000032

228000033

228000034

228000035

228000036

228000037

228000038

228000039

228000040

228000041

228000042

228000043

228000044

228000045

228000046

228000047

228000048

228000049

228000050

238000001

238000002

238000003

238000004

238000005

238000006

238000007

238000008

238000009

238000010

238000011

238000012

238000013

238000014

238000015

238000016

238000017

238000018

238000019

238000020

news-0801