اُڑان

اور ایک دن وہ سب کام دھندے چھوڑ کر گھر سے نکل پڑی۔

کوئی طے شدہ پروگرام نہیں تھا، کوئی سمبندھی بیمار نہیں تھا، کسی کا لڑکا پاس نہیں ہوا تھا، کسی عزیز کی موت نہیں ہوئی تھی، کسی کی لڑکی کی سگائی نہیں ہوئی تھی، کہیں کوئی سنت مہاتما نہیں آیا تھا، کوئی تہوار نہیں تھا۔ کوئی بہانہ نہیں تھا۔

اصل میں ہوا یہ کہ برتن مانجھتے مانجھتے اچانک جانے کہاں سےا ور کیسے شیلا کے من میں ایک انجانی ترنگ سی اٹھی اور ہاتھ میں پکڑے ہوئے برتن کو پٹک کر ہاتھ دھوئے بنا وہ جیسی کی تیسی کمرے سے باہر آئی اور پُکارنے لگی۔

‘رانی، او رانی!’

رانی کا کمرہ احاطے کی دوسری چھت پر تھا۔

آواز دیتے دیتے شیلا کی نظر شونیہ کو چیر کر آکاش پر چھائے ہوئے بادلوں سے ٹکرائی  اور پانی کا ایک قطرہ اس کی دائیں آنکھ میں آگرا۔ شیلا نے ایک دم آنکھ میچ  لی اور پھر زور سے آواز دینے لگی۔’رانی، او رانی!’

اور جب رانی نے جنگلے سے نیچے جھانکتے ہوئے پوچھا، ‘کیوں ری، کیا ہوا جو منہ اندھیرے بانگیں دے رہی ہو۔’ تو شیلا جواب دینے کے بجائے کھلکھلا کر ہنسنے لگی اور رانی سوال دوہرانے کے بدلے، دھم دھم کرتی نیچے آنگن میں آگئی اور آتے ہی شیلا کی چٹیا پکڑ کر کھینچنے لگی۔

شیلا نے ہنستے ہوئے دھمکی دی، ‘چھوڑ دو، نہیں منہ کالا کر  دونگی۔’

رانی نے ہنس کر جواب دیا، ‘کس کا ؟ اپنا؟’

اور پھر دونوں ہنسنے لگیں اور ہنستے ہنستے ہی شیلا نے رانی کے کان میں کچھ کہا جسے سنتے ہی رانی تالی پیٹ کر چلانے لگی،’ونتی او ویراں او ونتی!’

ونتی اور ویراں اسی مکان کی نچلی منزل کے دو کمروں میں رہتی تھیں اور سب شور سن چکی تھیں۔ونتی اپنے کمرے کے ایک کونے میں نہا رہی تھی اور ویراں پچھلے پہر کے لیے تھوڑا سا آٹا گوندھ رہی تھی۔ رانی کی آواز سنتے ہی ونتی نے تُرنت ایک دو گلاس پانی کے ادھر ادھر پھینکے اور ایک میلا دوپٹہ بدن پر لپیٹ کر کمرے سے باہر نکل آئی۔ ویراں نے آٹا ادھ سنا چھوڑ دیا تھا اور پہلے سے ہی شیلا اور رانی کے ساتھ کھڑی نہ جانے کس بات پر ہنس رہی تھی۔ ونتی کو دیکھتے ہی تینوں بالکل بچوں کی طرح چلانے لگیں، ‘ونتی ننگی اوئے ونتی ننگی!’

ونتی کھسیا کر اپنے کمرے میں لوٹ گئی اور جلدی جلدی پیٹی کوٹ اور کرتی پہن کر کرتی کے بٹن بند کرتی کرتی پھر باہر دوڑ آئی۔ رانی نے آگے بڑھ کر کہا۔’اری دوڑو نہیں، تمہارے حصے کا تمہیں مل جائے گا۔’

‘ونتی نے ذرا حیرت سے پوچھا۔’کیا؟’ تو تنیوں نے ایک ہی لہجے میں کہا، ‘پرساد۔’ اور پھر چاروں کھلکھلا کر ہنس پڑیں۔

ان کی اس کھلکھلاہٹ سے احاطے کا گھُٹا ہوا ماحول گویا چڑ سا گیا اور چڑچڑے پن کا واضح ثبوت تھا احاطے کی مالکن کا غصیلا چہرہ  جو اپنے پورشن کی  سامنے والی گلی میں کھڑی ان گنوار عورتوں کے گنوار پن پر دانت پیس رہی تھی، لیکن جب ان چاروں نے آپس میں کچھ کھُسر پھُسر کرنے کے بعد اپنی چھوٹی سی کانفرنس کا انت ایک چیختے ہوئے ٹھہاکے پر کیا تو احاطے کا ماحول بدل سا گیا۔ اگرچہ اس کی مالکن کا پارہ کچھ درجے اور چڑھ گیا۔

ہنستی چیختی، بل کھاتی چاروں اپنے اپنے کمرے میں دوڑ گئیں۔شیلا نے راکھ بھرے ہاتھ جلدی سے دھوئے۔ برتنوں کا ڈھیر جہاں کا تہاں پڑا رہا اور وہ اپنی پھولوں والی شلوار کو ٹھیک کرنے لگی۔

رانی نے جھاڑو اٹھاکر ایک کونے میں پھینک دی اور پانی بھری بالٹی فرش پر انڈیل کر اسے ایک طرف کھسکا دیا اور ہاتھ پیٹی کوٹ سے پونچھ کر آنکھوں میں سرمہ ڈالنے لگی۔ونتی پہلے سے ہی سب کام ختم کرچکی تھی، محض آگ بجھانی باقی تھی۔ اس نے کھڑے کھڑے ہی دو تین گلاس پانی چولہے میں پھینک دیا اور ایک پل کے لیے سوچا کہ سارا چولہا گیلا ہوگیا اور پھر نئے دوپٹے میں سلوٹیں ڈالنے لگی۔ ویراں نے آٹے کی پرات کو ایک کونے میں دھکیل دیا ، اس کے کمرے میں چپے چپے پر جھوٹے برتن پڑے ہوئے تھے، کیونکہ اس کے بچے ابھی ابھی کھا پی کر باہر نکلے تھے۔ اس نے ایک دو گلاس اٹھاکر ٹھکانے لگائے، پھر ہاتھ منہ دھونے لگی۔

کچھ ہی دیر میں چاروں سہیلیاں اپنے اپنے کمرے کو تالا لگا کر احاطے سے باہر نکل گئیں اور احاطے کی غصیلی مالکن حیرت سے انگلی دانتوں میں دبائے دیکھتی کی دیکھتی رہ گئی۔ انہوں نے جاتے ہوئے آنکھ اٹھاکر اس کی طرف دیکھا تک نہ تھا۔

‘نیچ گھرانے کی۔’احاطے کی مالکن بڑبڑائی اور اسی سمے اس کے پتی نے اندر سے آواز دی۔’اری کہاں چلی گئی تو نیچ گھرانے کی، یہ کیا کردیا تونے؟’ اور وہ اندر جاکر پتی سے جھگڑنے لگی۔

ادھر وہ چاروں سڑک پر ایک دوسرے کے پیچھے ایسے بھاگ رہی تھیں جیسے پرائمری سکول کی لڑکیاں ۔رانی نے تو حد ہی کردی۔ دوپٹہ اس نے کمر پر باندھ لیا اور چوٹی کو سر پر پگڑی کی بھانتی لپیٹ کر یوں چلنے لگی جیسے رانی خاں  کی چھوٹی سالی وہی ہو۔وہ اب گلی سے گزر کر سڑک پر پہنچ چکی تھی۔ شیلا کہہ رہی تھی، ‘رک جاؤ رانی، ٹھہرو ادھر کہاں چل پڑی ہو، ادھر تو کچھ بھی نہیں، جنگل میں جاووگی۔’

وہ اتنے زور سے بول رہی تھی کہ نواب گنج روڈ پر جانے والے کچھ طلبا مڑمڑ کر دیکھ رہے تھے۔ شیلا کے کئی بار چلانے پر آخر رانی رکی اور کچھ صلاح کے بعد انہوں نے طے کیا کہ انہیں سبزی منڈی سے ٹرام پکڑنی چاہیے اور جب ونتی نے پوچھا جاؤ گی کہاں؟ تو تینوں نے ہنس کر جواب دیا جہاں تو لے جائے۔اس پر ونتی بھی ہنس پڑی اور وہ سبزی منڈی کی طرف چل پڑی۔

ایک ٹرام کھڑی تھی۔ وہ دوڑ کر اس میں بیٹھ گئیں اور جب کنڈکٹر نے شیلا سے پوچھا۔ ‘کہاں جاؤگی جی؟’ تو شیلا نے ہنس کر جواب دیا۔’اس سے پوچھو۔’

کنڈکنٹر  اس بے وجہ ہنسی پر کھیج سا گیا اور اس نے تُنک کر کہا۔ ‘کس سے پوچھوں۔’

شیلا نے  پھر ہنس کر کہا، ‘ناراض کیوں ہوتے ہو، اس سے رانی سے پوچھو۔’

‘مجھے سپنا آئے گا کہ رانی کون ہے؟’ کنڈکٹر نے بگڑ کر کہا۔

‘میں ہوں رانی۔’رانی نے چلتی ٹرام میں اٹھ کر آگے بڑھتے ہوئے کہا اور دوسرے ہی پل میں لڑکھڑا کر ایک بوڑھے کی گود میں جاگری۔

شیلا، ونتی اور ویراں کھلکھلا کر ہنس پڑیں اور وہ بوڑھا بغلیں جھانکنے لگا۔رانی اٹھ کر گرتی پڑتی  پھر اپنی سیٹھ پر بیٹھ چکی تھی۔

قطب روڈ کے اڈے پر جب وہ ٹرام سے اتر گئیں تو کنڈکٹر نے نہ جانے کسے مخاطب کرتے ہوئے کہا، ‘عجیب واہیات عورتیں تھیں۔’

اور ٹرام میں بیٹھے ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا، ‘لاج شرم تو رہی نہیں۔’

اور وہ بوڑھا بغل میں بیٹھے ایک لڑکے سے کہہ رہا تھا، ‘سالی کیا دھمم سے آکر گود میں گر پڑی۔’

اور لڑکا یہ سمجھنے کی کوشش کررہا تھا کہ بوڑھا اور اس عورت کی حرکت کی برائی کررہا ہے یا ویسے ہی چٹخارا لے رہا ہے۔

ٹرام سے اترتے ہی انہوں نے پھر سوچنے کی ضرورت سمجھی کہ وہ کہاں جائیں۔ جب رانی نے اپنے منہ پر انگلی رکھتے ہوئے کہا، ‘ہائے ، ہم کہاں آگئیں!’ تو شیلا نے بھولے پن سے جواب دیا، ‘اپنی سسرال!’ اور اس پر وہ سب اس زور سے ہنسیں کہ آس پاس کھڑے سبھی لوگ ان کی طرف دیکھنے لگے۔

ہنسی کے مارے وہ دوہری تہری ہوئی جارہی تھیں اور یہ بھی بھول گئی تھیں کہ دونوں سمتوں سے ایک ایک کار صرف انہی کے کارن ہارن بجارہی تھی۔اور جب ایک کار نے پیچھے سے رانی کی ٹانگوں پر ہلکا سا ٹہوکا دیا تو اس کی ہنسی چیخ میں بدل گئی اور اس نے مڑکر کار والے کو پانچ چھ گھریلو گالیوں سے وداع کیا۔

جب وہ سڑک کے کنارے لگ گئیں تو شیلا (جس کی ترنگ انہیں گھر سے نکال لائی تھی) کو جانے کیا سوجھی، کہنے لگی، ‘کناٹ پلیس چلو گی؟’

نام تو سب نے سن رکھا تھا۔ ونتی  کا گھر والا دفتر سے لوٹتے وقت ہر پہلی تاریخ کو کناٹ پلیس سے ہی پھولوں کا ایک ہار اس کے لیے لے آیا کرتا تھا۔ ویراں کا رام دیال بھی اپنے کام کاج کے سلسلے میں کناٹ پلیس جایا کرتا تھا، جہاں اس کے سستے بسکٹوں کے پکے گاہک تھے۔ رانی تو خود بھی دو بار کناٹ پلیس ہو آئی تھی۔ ایک بار جب اس کی درخواست پر اس کا شوہر آزادی کا جلوس دکھانے لے گیا اور ایک بار وہ اکیلی گھومتی گھامتی ادھر جانکلی تھی۔ شیلا کا سجھاؤ ہاتھوں ہاتھ لیا گیا اور وہ ایک تانگے میں سوار ہو گئیں۔

گھوڑا پہلے ہی کافی تیز تھا، مگر رانی نے ذرا نخرے کے ساتھ تانگے والے پر چوٹ کرتے ہوئے کہا، ‘لین ، اسی طرح ٹِچکوں ٹِچکوں چلے گا کیا؟’ تو تانگے والے نے گھوڑے کی پچھلی ٹانگوں میں چھڑی کے ساتھ کچھ اس شرارت سے کھجلی کی کہ گھوڑا ہوا سے باتیں کرنے لگا۔ تڑاخ تڑاخ کرنے لگا۔تڑاخ تڑاخ کے پاؤں پکی سڑک پر پڑتے اور تانگے والا کبھی رانی اور کبھی شیلا کی طرف ، جو اس کے برابر اگلی سیٹ پر بیٹھی ہوئی تھیں، ایسے دیکھتا جیسے انعام کی مانگ کر رہا ہو مگر رانی اور شیلا گھوڑے سے بھی زیادہ تیز دوڑ رہی تھیں۔ رانی کا دوپٹہ سر  پر تو پہلے ہی نہیں تھا، اب اس کے بدن کے کسی بھی حصے پر نہیں تھا۔ نیچے گر گیا تھا اس کے پاؤں میں۔ شیلا کے بال اس کی چوٹی سے بھاگ بھاگ کر ادھر ادھر دوڑ رہے تھے۔ پیچھے بیٹھے ونتی اور ویراں بچوں کی طرح سیٹ پر گھٹنے ٹیک کر آگے کی طرف دیکھ رہی تھیں۔

رانی کہہ رہی تھی، ‘بلّے او بلّے۔’

شیلا کہہ رہی تھی، ‘ہائے رام اتنا تیز۔’

تانگے والا کہہ رہا تھا، ‘کہو تو اور تیز۔’

ونتی اور ویراں پیچھے بیٹھی بول اٹھیں۔’ہاں بھائی اور تیز اور تیز۔’

تانگے والا پائدان پر کھڑا للکار رہا تھا، آہاہاہا۔’

اور سڑک پر آنے جانے والے لوگ اس فراٹے بھرتے ہوئے تانگے پر نظر تو نہ جما سکتے تھے، پر رائے زنی سب کررہے تھے۔اگر کسی طرح وہ سب ایک جگہ پر اکھٹے ہوجاتے تو اتفاق رائے سے طے ہوجاتا کہ تانگے پر ویشیائیں بیٹھی ہیں، تیز کیسے نہ دوڑیں۔

لیکن چونکہ تانگہ ویشیاؤں کو نہ بٹھائے تھا، اس لیے کناٹ پلیس پہنچ کر تانگے  والے کو بھی نِراشا ہوئی۔انعام دینے کے بجائے رانی اس سے کہہ رہی تھی، ‘بھائی ہمارے پاس تو ساڑھے گیارہ آنے ہیں، اب دو پیسے کے لیے کیا جان لے گا۔’

تانگے والے کو شاید رانی کا یہ جملہ سن کر ٹھیس سی لگی۔ایک دم بول اٹھا۔’رانی ، تو یہ بھی رکھ لے۔’

اس کا یہ کہنا تھا کہ ونتی، ویراں اور شیلا کھٹاک سے ہنس اٹھیں۔جیسے کسی نے تین فوارے چھوڑ دیے ہوں۔ رانی پہلے ایک پل  کے لیے بھونچکی سی رہ گئی، پھر جب بات سمجھ میں آئی تو اتنی ہنسی کہ کھڑی نہ رہ سکی اور  وہیں بیٹھ کر ‘اوئی’ ،’ائی’ کرنے لگی۔تانگے والے نے اپنے آپ سے کہا، ‘پاگل ہونگی!’اور قدم قدم گھوڑے کو چلانے لگا۔

جب ذرا دم میں دم آیا تو  اپنی آنکھوں کو پونچھتے ہوئے رانی نے کہا، ‘موئے کو میرا نام کیسے پتہ چل گیا؟’

ونتی نے جواب دیا، ‘بھائی تمہیں کون نہیں جانتا؟’ اور اس پر ہنسی کا دوسرا دور شروع ہونے   ہی والا تھا کہ اسی تانگے والے کی آواز پھر آئی۔’کیوں جی، قطب کی سیر کروا لاؤں؟’

تانگے والا کچھ دور جاکر پھر  مڑ آیا تھا۔

‘قطب کی سیر کروا اپنی ماں کو، اپنی بہن کو۔’رانی نے خالص گھریلو عورت کے لہجے میں کہا اور اپنی سہیلیوں سے بولی، ‘چلو ری یہ موا تو کتے کی طرح پیچھے ہی پڑ گیا ہے۔ اور وہ اوڈین سنیما کی طرف چل  پڑیں۔

رانی بولی، ‘یہ ہے کناڈ پلیٹس۔’

ویراں بولی، ‘کناڈ پلیٹس نہیں، کرناٹ پلیٹ۔’

شیلا نے کہا، ‘نام کچھ  بھی ہو، جگہ تو یہی ہے نا۔’

رانی بولی، ‘پوچھ کیوں نہیں لیتی کسی سے؟’

‘جاؤ نا اپنے اس تانگے والے سے۔۔۔’

تانگے والے کا نام سنتے ہی رانی ایک مسکان کو دباتے ہوئے بولی۔’موا نام تک جان گیا۔’

یہ اوڈین سنیما کے سامنے رک کر دور سے تصویریں دیکھتی رہیں اور پھر جھجھکتے جھجکتے نزدیک آئیں اور پھر دھیرے سے سنیما کے پورچ میں داخل ہوگئیں۔ پھرتی پھراتی مردوں کے پیشاب گھر پر جا رکیں۔کچھ پل سوچتی  رہیں کہ اندر کیا ہوگا اور پھر رانی نے دروازہ اندر کی طرف دھکیلا اور ‘اوئی ماں’ کہہ کر باہر کی اور بھاگنے لگی۔ سب کی سب بھاگتی پھسلتی باہر آگئیں اور رانی سے پوچھنے لگیں کہ ‘کیا ہوا۔’ پر رانی ہنستی گئی، ہنستی گئی۔

اور جب انہوں نے بہت تنگ کیا تو بولی، ‘ایک آدمی ۔۔۔’اور پھر ہنسنے لگی۔

‘تانگے والا یاد آرہا ہے؟’ویراں اور ونتی نے کہا۔

شیلا نے بات بدلنے کے لیے کہا، ‘یہیں کہیں ہنومان جی کا مندر ہے کہو تو۔۔۔’

‘راکھ ڈالو ہنومان جی کے مندر پر۔سیر پر نکلی ہو کہ پوجا کو؟’ وہاں بھی کوئی موٹا تازہ پجاری بیٹھا گھور رہا ہوگا۔’

‘آپ بیتی سنا رہی ہو؟’ شیلا نے کہا اور وہ پھر ہنسنے لگیں۔

اور اسی طرح ہنستے ہنساتے ، پھرتے پھراتے انہوں نے شام کردی۔ہنستے ہنستے ان کے گلے بیٹھ گئے تھے اور ویسے بھی انہوں نے بہت کچھ الم غلم کھا لیا تھا۔گول گپے، آلو کی ٹِکیا، چاٹ کے پتے، چنازور گرم یعنی کناٹ پلیس کے بڑے ہوٹلوں کو چھوڑ کر باہر جو چیزیں ملتی تھیں، وہ سب انہوں نے تھوڑی تھوڑی چکھ لی تھیں۔ کناٹ پلیس کے برآمدے میں کتنے ہی چکر لگائے تھے، کتنی ہی دکانوں کے سامنے ہکی بکی ہوکر کھڑی ہوئی تھیں۔کتنے ہی لوگوں کو اپنی ہنسی کے کارن بھرم میں ڈال چکی تھیں اور اب ان کی ٹانگوں میں ہلکا ہلکا درد ہونے لگا تھا ساتھ ہی ان کے دماغوں کو کوئی زنجیر گھر کی طرف کھینچنے  لگی تھی۔

‘چلو نا وہاں، کیا ہری ہری گھاس ہے، تھوڑی دیر بیٹھ کر آرام کرلیں۔’

پر اس کے جواب میں ‘ہاں ‘ یا ‘نا’ کی بجائے جب ویراں نے دھیمے لہجے میں کہا، ‘گھر نہیں چلوگی؟’ تو گھر کا نام جیسے گھڑے پر روڑے کی مانند لگا۔چاروں کے چہرے ایک دم اتر گئے۔

‘گھر جاکر کیا کروگی؟’ رانی نے ہمت سے کام لیتے ہوئے کہا۔لیکن اس کے اس کمزور سے اختلاف کا حقیقت کے کڑوے بادلوں پر کوئی اثر نہ  پڑا، جو شاید آسمان سے چھٹ کر اب ان کے دماغوں پر چھا رہے تھے۔

‘گھر میں ہے کیا؟’ رانی نے پھر کہا جیسے اپنے آپ کو سمجھا رہی ہو۔

‘ہے خاک۔’شیلا نے جواب دیا  جیسے کہہ رہی ہو۔’جانتے بوجھتے ہوئے پوچھتی ہو۔’

اور وہ چاروں سہیلیاں ہری ہری گھاس پر بیٹھنے کی بجائے گھر کی اور لوٹ پڑیں۔

‘تانگہ کر لو!’ رانی نے کہا پر کسی کو ہنسی نہ آئی۔

‘ونتی اور ویراں کو گویا سانپ سونگھ گیا ہے۔’شیلا نے کہا۔

‘سوچ رہی ہوں رات کو سبزی کیا پکاؤں گی؟ ونتی نے جواب دیا۔

اس کا مذاق اڑانے کی بجائے رانی بولی، ‘میرے سے صبح کی دال لے لینا۔’

اور وہ راستہ پوچھتی پاچھتی، گھر کی چھوٹی چھوٹی الجھنوں کو سلجھاتی ، گھریلو مسائل پر بحث کرتی، پڑوسنوں کی برائیاں کرتی، ایک دوسرے سے حسد کرتی، پائیوں، آنوں کا حساب کرتی، تیز تیز گھر کی طرف چلنے لگیں۔جب وہ گلی کے پاس پہنچیں تو اندھیرا کافی گہرا ہوچکا تھا۔

٠٠٠

Attention Required! | Cloudflare

Sorry, you have been blocked

You are unable to access wajibjp.cfd

Why have I been blocked?

This website is using a security service to protect itself from online attacks. The action you just performed triggered the security solution. There are several actions that could trigger this block including submitting a certain word or phrase, a SQL command or malformed data.

What can I do to resolve this?

You can email the site owner to let them know you were blocked. Please include what you were doing when this page came up and the Cloudflare Ray ID found at the bottom of this page.

news-1701

yakinjp

yakinjp

rtp yakinjp

yakinjp

yakinjp

yakin jp

yakinjp id

maujp

maujp

maujp

\

sabung ayam online

sabung ayam online

SLOT MAHJONG

sabung ayam online

article 10000336

article 10000337

article 10000338

article 10000339

article 10000340

article 10000341

article 10000342

article 10000343

article 10000344

article 10000345

article 10000346

article 10000347

article 10000348

article 10000349

article 10000350

article 10000351

article 10000352

article 10000353

article 10000354

article 10000355

article 10000356

article 10000357

article 10000358

article 10000359

article 10000360

article 10000361

article 10000362

article 10000363

article 10000364

article 10000365

article 10000366

article 10000367

article 10000368

article 10000369

article 10000370

article 10000371

article 10000372

article 10000373

article 10000374

article 10000375

article 2990476

article 2990477

article 2990478

article 2990479

article 2990480

article 2990481

article 2990482

article 2990483

article 2990484

article 2990485

article 2990486

article 2990487

article 2990488

article 2990489

article 2990490

article 2990491

article 2990492

article 2990493

article 2990494

article 2990495

article 2990496

article 2990497

article 2990498

article 2990499

article 2990500

article 2990501

article 2990502

article 2990503

article 2990504

article 2990505

article 2990506

article 2990507

article 2990508

article 2990509

article 2990510

article 2990511

article 2990512

article 2990513

article 2990514

article 2990515

article 2000301

article 2000302

article 2000303

article 2000304

article 2000305

article 2000306

article 2000307

article 2000308

article 2000309

article 2000310

article 2000311

article 2000312

article 2000313

article 2000314

article 2000315

article 2000316

article 2000317

article 2000318

article 2000319

article 2000320

article 2000321

article 2000322

article 2000323

article 2000324

article 2000325

article 2000326

article 2000327

article 2000328

article 2000329

article 2000330

article 2000331

article 2000332

article 2000333

article 2000334

article 2000335

article 2000336

article 2000337

article 2000338

article 2000339

article 2000340

article 2000341

article 2000342

article 2000343

article 2000344

article 2000345

article 2000346

article 2000347

article 2000348

article 2000349

article 2000350

article 2000351

article 2000352

article 2000353

article 2000354

article 2000355

article 5500286

article 5500287

article 5500288

article 5500289

article 5500290

article 5500291

article 5500292

article 5500293

article 5500294

article 5500295

article 5500296

article 5500297

article 5500298

article 5500299

article 5500300

article 5500301

article 5500302

article 5500303

article 5500304

article 5500305

article 5500306

article 5500307

article 5500308

article 5500309

article 5500310

article 5500311

article 5500312

article 5500313

article 5500314

article 5500315

article 5500316

article 5500317

article 5500318

article 5500319

article 5500320

article 5500321

article 5500322

article 5500323

article 5500324

article 5500325

article 5500326

article 5500327

article 5500328

article 5500329

article 5500330

article 5500331

article 5500332

article 5500333

article 5500334

article 5500335

article 838000508

article 838000509

article 838000510

article 838000511

article 838000512

article 838000513

article 838000514

article 838000515

article 838000516

article 838000517

article 838000518

article 838000519

article 838000520

article 838000521

article 838000522

article 838000523

article 838000524

article 838000525

article 838000526

article 838000527

article 838000508

article 838000509

article 838000510

article 838000511

article 838000512

article 838000513

article 838000514

article 838000515

article 838000516

article 838000517

article 838000518

article 838000519

article 838000520

article 838000521

article 838000522

article 838000523

article 838000524

article 838000525

article 838000526

article 838000527

article 838000528

article 838000529

article 838000530

article 838000531

article 838000532

article 838000533

article 838000534

article 838000535

article 838000536

article 838000537

article 838000538

article 838000539

article 838000540

article 838000541

article 838000542

article 838000543

article 838000544

article 838000545

article 838000546

article 838000547

article 838000548

article 838000549

article 838000550

article 838000551

article 838000552

article 838000553

article 838000554

article 838000555

article 838000556

article 838000557

article 9998000521

article 9998000522

article 9998000523

article 9998000524

article 9998000525

article 9998000526

article 9998000527

article 9998000528

article 9998000529

article 9998000530

article 9998000531

article 9998000532

article 9998000533

article 9998000534

article 9998000535

article 9998000536

article 9998000537

article 9998000538

article 9998000539

article 9998000540

article 9998000541

article 9998000542

article 9998000543

article 9998000544

article 9998000545

article 9998000546

article 9998000547

article 9998000548

article 9998000549

article 9998000550

article 9998000551

article 9998000552

article 9998000553

article 9998000554

article 9998000555

article 9998000556

article 9998000557

article 9998000558

article 9998000559

article 9998000560

article 9998000561

article 9998000562

article 9998000563

article 9998000564

article 9998000565

article 9998000566

article 9998000567

article 9998000568

article 9998000569

article 9998000570

news-1701