چیخوف کو کیسے پڑھیں

کیتھی ایل پاپکن کولمبیا یونیورسٹی کے سلاوی زبانوں کے شعبہ کی پروفیسر ہیں۔انہوں نے چیخوف کی کہانیوں کا ایک انتخاب ان پر لکھے ہوئے مختلف اہم تنقیدی مضامین کے اقتباسات کے ساتھ ترتیب دیا ہے۔جس کا تعارف یہاں آپ کے مطالعے کے لیے پیش کیا جارہا ہے۔کیتھی نے اس میں بہت اہم باتیں کی ہیں۔ہم یوم چیخوف کی ابتدائی منزل پر یہ ضرور جاننا چاہیں گے کہ آخر اس اہم مصنف کو پڑھنے کا طریقہ کیا ہو، یا کسی بھی اہم رائٹر کو پڑھنے کابہتر طریقہ کیا ہوسکتا ہے،اور پھر اس پر غور کریں کہ ایسے مصنفین کو پڑھنے کا کوئی اصول یا کوئی طریقہ ممکن بھی ہے یا نہیں۔بہرحال ابتدا یہیں سے کرتے ہیں۔میں چیخوف کے حوالے سے بہت زیادہ کام نہیں کرپایاہوں، اس بات کا مجھے افسوس ہے، مگراس کے لیے آپ میرے بجائے موسم کو کوسیں، جو مجھے کبھی بجلی کٹنے ، کبھی زیادہ گرمی کے ہونے کے سبب ٹھیک سے کام نہیں کرنے دے رہا،البتہ یہ کام جتنا بھی ہے، آج کے دن آپ کے حوالے کرنا چاہتا ہوں۔عاصم بخشی کا بے حد شکرگزار ہوں کہ انہوں نے میری درخواست پر اس اہم تعارفی مضمون کو ترجمہ کیا، اس کی کچھ کہانیاں، ادھوری ترجمہ کردہ میرے پاس موجود ہیں، کبھی وقت ملا تو انہیں ضرور شیئر کروں گا، آج تو جتنا کچھ آڈیو اور ٹیکسٹ کی صورت میں موجود ہے، بلاگز اور آڈیو کے ذریعے آپ تک پہنچانے کی کوشش کروں گا۔ شکریہ(تصنیف حیدر)

 

کوئی ابھی ادبی فن پارہ حتی الوسع طور پر متنوع تعبیرات و رجحانات کو نہ صرف دعوت دے گا بلکہ یہ تنوع پذیرائی کے ایک پیمانے کے طور پر تسلیم کیا جائے گا۔ اس کے باوجود کئی وجوہات کے باعث ’’ کیسے پڑھیں؟‘‘ کا سوال چیخوف کی کہانیوں کے مخصوص تناظر میں بار بار اٹھتا ہے، جن میں سے کم از کم ایک اہم وجہ تو ان کہانیوں کاانوکھا پن ہے۔

اول واقعہ تو یہ ہے کہ یہ کہانیاں ایک بے ترتیب حد تک مختصر ہیں، خاص طور پر ظریفانہ ادبی رسالوں میں شامل ہونے والے اولین دور کے افسانچے جو فوری لطف اور معاوضے کی جلد ادائیگی کی خاطر رسالے کی محدود جگہ میں سمانے کے لئے تخلیق کئے گئے ہیں۔ کیا انہیں سنجیدہ ادبی کاوشیں کہنا ممکن ہے؟ طوالت کے پیمانے اپنی جگہ لیکن ان میں سے کچھ کہانیاں تو اپنے معمولی درجے کے موضوعات کے باعث قارئین کو چونکا دیتی ہیں۔ ایک کلرک کو چھینک آ گئی ہے، کسی نے کاکروچ کو پیروں تلے مسل دیا ہے، ان موضوعات میں آخر ایسا کیا دلچسپ ہے؟

دوسری بات چیخوف کے مخصوص اختراعات کی ہے۔ اگر ہم ان افسانوں کے عادی ہیں جن کا ابتدائیہ ذرا منظر نگاری پر مشتمل ہوتا ہے، پھر کہانی پلاٹ کے مطابق کچھ اونچائی کی جانب بڑھتی ہے ، ایک واقعہ رونما ہوتا ہے اور آخرکار انجام کو پہنچتی ہے، تو چیخوف ہمیں جزوقتی طور پرجھنجھوڑ کے رکھ دے گا۔ یہ وہی چیخوف ہے جس نے ابھرتے ہوئے کہانی کاروں کو اپنے شروع کے صفحات ردی کی ٹوکری کی نذر کر دینے کی نصیحت کی، جس کا پلاٹ اپنے اندر ایک سرعت کی سی کیفیت رکھتا ہے، جس کے واقعات زیادہ تر قضئیے ہیں اور جس کے انجام کو اکثر مبہم گردانا گیا ہے۔ یہ کہانیاں ہم سے کیا چاہتی ہیں اور منزل کس جانب ہے؟

یہ کہانیاں ایک اور طرح بھی بے انجام ہیں: جوابوں کی بجائے مقصد سوال اٹھانا ہے، تبلیغ یا تجاویز سے دور رہا جاتا ہے، چیخوف نے کبھی اپنی تخلیقی کائنات میں موجود ابہام کو خفیہ نہیں رکھا۔یہاں تک کہ ان کہانیوں میں بھی عام طور پر معانی مبہم رہتے ہیں جہاں واقعات ڈرامائی اور نتیجہ فیصلہ کن ہے: فیصلے سے پرہیز کیا جاتا ہے، اخلاقی نتیجے کی جانب اشارہ نہیں کیا جاتا۔ چیخوف کا یہی دعوی تھا کہ یہ کہانی کار کا منصب نہیں۔ فیصلہ قارئین پر چھوڑنا ہی مناسب ہے کہ وہ کہانی کو کیا معنی پہناتے ہیں۔

اگر چیخوف بغیر کوئی واضح الزام پیش کئے اپنی تخلیقات کو قارئین کی عدالت کو غور و فکر کے لئے چھوڑ کر چلا جاتا ہے تو یہ ایک جزوی فرار ہے کیوں کہ اس قسم کے تعینات نہ تو اس کی ذمہ داری ہیں اور نہ ہی اس کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔

انسانی علم کی ماہیت کے بارے میں چیخوف کے خیالات مشہور و معروف ہیں، اس سے ایک سے زیادہ بار منقول ہے کہ ہم یقین اور (بالخصوص اخلاقی) وضوح کی جس حد تک کوشش کرتے ہیں زندگی ہمیں مزید مبہم اور ناپائیدار حالت میں کانپتی ہوئی زمینوں میں لا پھینکتی ہے ۔ مثال کے طور پر خدا کے ہونے اور نہ ہونے کے یقین کی دو متضاد اور باہم متقابل انتہاؤں کے درمیان چیخوف ایک وسیع و عریض میدان کا تصور کرتا ہے۔ اس تیرہ و تاریک وسطی علاقے کی لامحدود پیچیدگی میں سے اپنا راستہ تلاش کرنے اور ندامت و معصومیت، مرض و تندرستی ، الحاد وایمان کے بیچ موجود کچے راستوں میں پیر جماتے ہوئے گزرنے کے لئے فہم و دانش اور ہمت و جرأت کی ضرورت ہے۔ اس ابہام کو جھیل جانے والے قارئین کے لئے یہ مسئلہ مزید اہم ہو جاتا ہے کہ چیخوف کی کہانیوں کو کیسے پڑھا جائے۔

لیکن یہ ایک دلچسپ تضاد ہے کہ ان تمام ممکنہ رکاوٹوں کے باوجود چیخوف کی کہانیوں کو پڑھنا ذرا مشکل نہیں، بلکہ یہ حیرت ناک حد تک ایک پرلطف اور سہل تجربہ ہے۔ پہلی نظر میں یہ کہانیاں بالکل غیرپیچیدہ اور واضح محسوس ہوتی ہیں۔ اور اگر یہ صفحات میں کم ہیں یا وسعت، تفصیلات اور انجام کے پیمانوں پر پورا نہیں بھی اترتیں تو بھی قاری کی راستے میں اعتقادی یا میلانی رجحانات اور غیرضروری لفاظی کی دیواریں کھڑی نہیں کرتیں، بس بالکل سیدھی سادھی ( چاہے بے نتیجہ) کہانیاں محسوس ہوتی ہیں۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ سارے فساد کی جڑ تفصیلات میں ہے، خاص طور پر وہ عجیب و غریب اشارے جو کہانی سے بظاہر کوئی تعلق نہیں رکھتے اور چیخوف کی عام فہم نثر کے ساتھ بالکل بے ربط محسوس ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر چیخوف کو یہ بتانے کی کیا ضرور ت ہے کہ کسی بالاخانے میں فلاں کرسی کی ایک ٹانگ کم ہے (’’جان من‘‘)؟ یا ایک لڑکی اس وقت گہرے نیلے رنگ کا کپڑا تھامے تھی جب کوئی اس کا ہاتھ مانگنے آیا (’’ادب کا استاد‘‘)؟ چیخوف کے اولین نقاد ان فالتو تفصیلات کو مصنف کی کم فہمی گردانتے ہیں۔ لیکن اب آہستہ آہستہ زیادہ تر نقاد ان الجھاؤ والے اجزاء کو ایک کنجی کے طور پر دیکھنے لگے ہیں، لیکن کاہے کی کنجی؟

کچھ نقادوں کا استدلال ہے کہ چیخوف کی مخصوص محتاط طبعی کے پیشِ نظر یہ گمان معقول ہے کہ متن میں آنے والی ہر تفصیل کسی وجہ سے وہاں رکھی گئی ہے، باالفاظِ دیگر ہم یہ مفروضہ قائم کرنے میں حق بجانب ہیں چیخوف کی نرم رو کہانیوں میں موجود تمام اجزاء ارادتاً وہاں شامل کئے گئے ہیں لہٰذا بامقصد ہیں۔ آخر کار (چاہے ڈرامے کے تناظر میں ہی سہی) چیخوف سے یہ بھی تو منقول ہے کہ اگر ایکٹ اول میں دیوار پر ایک بندوق لٹکی ہوئی ہے تو اسے پردہ گرنے تک چل جانا چاہئے یا پھر اسے سرے سے وہاں ہونا ہی نہیں چاہئے تھا۔ اور اگر ہر بندوق کا ادھر موجود ہونا ضروری ہے تو پھر ہر ایک کا بامعنی ہونا بھی لازم ہے، حادثاتی طور پر کچھ شامل نہیں ہوتا اور فالتو اجزاء جمع کرنے کی ضرورت نہیں۔ رابرٹ ایل جیکسن کا کہنا ہے کہ ’’چیخوف کے عظیم ترین شاہکار فن پاروں میں کوئی تفصیل بے معنی نہیں۔‘‘ لہٰذا چیخوف کو اچھی طرح پڑھنے کا مطلب ہے ہر لفظ یہاں تک کہ بظاہر اتفاقی الفاظ کو بھی دھیان میں رکھنا، کہانی میں موجود علامتوں اور سراغوں پر غور و فکر ، لطیف اشاروں کی کھوج اور فریبی سادگی کی سطح سے نیچے غواصی کرتے ہوئے گہرائیوں میں پیچیدہ فن کاریوں تک رسائی، بلکہ لسانی اثرات تک پر توجہ، صوتی اتار چڑھاؤ، لحن و آہنگ اور انشقاقی سروں پر توجہ، یعنی نثر کو یوں پڑھنا جیسے نظم پڑھی جاتی ہے کہ اس کے اثرات اور اجزاء کو مکمل نظر میں رکھا جاتا ہے۔ قصہ مختصر، گہرے نیلے کپڑے کا ہر ٹکڑا کُل تخلیق کو بامعنی بنانے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔

دوسرے ان بنیادوں پر اس ’’مجموعی‘‘ طریقۂ کار پر اعتراض کرتے ہیں کہ چیخوف کی نثر کا عملی اصول اس کے بالکل الٹ ہے، یعنی ایک اتفاقی کیفیت، اور اگر اس کی کہانیوں میں کوئی تفصیل بے ربط اور دوسری چیزوں سے لاتعلق محسوس ہوتی ہے تو یہ محض اس اتفاقی اصو ل کے تحت ہے۔ کئی دفعہ ایک بندوق بس ایک بندوق ہوتی ہے، مادی دنیا کا ایک اتفاقی جزو جو اپنی ہستی سے زیادہ کسی جانب اشارہ نہیں کرتا، وہ وہاں لٹکی ہے کیوں کہ وہاں موجود ہے اور اس کے اوپر معانی ٹا نگنا کج روی کی علامت ہے۔ دوسرے لفظوں میں چیخوف کی ان انوکھی تفصیلات کا مقصد ’معنی‘ نہیں بلکہ بس ’ہونا‘ ہےاور وہ اس ’معنی سے آزاد‘ ہونے کی کیفیت کے ذریعے ہستی کی نوعیت کا ایک نمونہ پیش کرنا چاہتا ہے۔ چیخوف کی نثر اس کے انقلابی مشاہدۂ کائنات کی تجسیم ہے، دنیاوی زندگی کے منتشر اور اتفاقی ہونے کا فہم جو حادثے اور ناکارگی کی لپیٹ میں ہے۔ الیگزنڈر چوڈاکوف کا کہنا ہے کہ ربط اور مقصدیت کے گھسے پٹے مفروضوں سے چیخوف کی آزادی ہی وہ خاصیت ہے جو اس کے فن کو جدید اور غیراعتقادی بناتی ہے، ہر شے کو علامت یا کسی اور چیز کے جانب اشارے کے طور پر دیکھنا غلط فہمی ہے۔

دونوں تنقیدی آراء میں سے خواہ کوئی بھی درست ہو، بہرحال دونوں کسی نہ کسی جانب راہنمائی کرتی ہیں، اور اپنے متضاد مفروضوں کے باوجود اس سوال پر غورو فکر کے لئے مشترکہ طور پر مشغول ہیں کہ کہانیاں کیسے کام کرتی ہیں۔ واقعہ یہ ہے دونوں قسم کے استدلال کی مشترکہ بنیاد تو یہی سوال ہے جس نے مباحثے کو قوت اور مواد فراہم کیا ہے۔ اس جلد میں موجود مضامین کے اقتباسات تنقیدی سرحدوں کے دونوں جانب بلکہ وسط سے بھی شامل کئے گئے ہیں، اور خاص طور پر اسی جاری قضیے سے تعلق رکھتے ہیں کہ چیخوف کو کیسے پڑھا جائے۔ پہلے حصے ’رجحانات‘ میں وہ مضامین شامل ہیں جو اس سوال سے مفصل بحث کرتے ہیں۔ لیکن چیخوف کی نثر پر مجرد بحث بس کچھ ہی آگے لے جا سکتی ہے، چیخوف خود بھی عمومیت پسندی سے خائف تھا اور اس کا کام بھی اس سے گریز کرتا ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں کہ چیخوف پر ہوا تمام زندہ تنقیدی کام اس کی چنیدہ کہانیوں کے بغور مطالعے پر مشتمل ہے۔ لہٰذا مضامین کے دوسرے حصے ’تعبیرات‘ کو یہ واضح کرنے کے لئے جمع کیا گیا ہے کہ بغور مطالعہ کیا ہوتا ہے اور کچھ صورتوں میں ایک ہی کہانی مختلف زاویوں سے کتنی مختلف نظر آتی ہے۔ زاویہ ہائے نظر خواہ کچھ بھی ہوں، یہ تمام مطالعے یہی ثابت کرتے ہیں کہ دلچسپ چیزیں تبھی نمودار ہوتی ہیں جب یکسوئی سے توجہ دی جائے۔دلچسپ ترین تعبیرات دوبارہ پڑھنے پر سامنے آتی ہیں، یعنی متن پر معمول سے ہٹ کر نظر ڈالے جانے پر نہ صرف یہ راز افشا ہوتا ہے کہ چیزیں اتنی سادہ نہیں ہوتیں جتنی نظر آتی ہیں بلکہ یہ بھی کہ چیخوف کی کہانیاں پراسرار کیفیات لئے ہیں۔

اگر کسی انفرادی کام کی صرف ایک جہت کے سیاق و سباق میں اتنا مفید اختلاف سامنے آ سکتا ہے تو جزو کے کُل سے باہمی تعلق کے سوال پر اتنے ہی دلچسپ نتائج سامنے آتے ہیں، یعنی یہ غور و فکر کہ چیخوف کی ایک کہانی کس طرح دوسری کہانیوں سے جڑی ہوئی ہے۔ یقیناً زیادہ سے زیادہ لطف اور قدردانی کے لئے قارئین کو انفرادی اور مجموعی طور پر دونوں طریقوں سے کہانیوں کا مطالعہ کرنا چاہئے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ یہ رنگ برنگی کہانیاں اپنی تنہائی میں کیا ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کیا بن جاتی ہیں۔ یہ ہمارے اندر دہرائی جانے والی دھنوں، آہنگ، ساخت اور اشاروں کنایوں کی آگہی کو جلا بخشتی ہیں، ساتھ ہی ہمیں یہ بھی احساس ہوتا ہے کہ ہم مستقل اخلاقی سوالات سے نبرد آزما ہیں۔ ہر کہانی اشاراتی طریقوں سے دوسری کہانیوں سے منسلک ہوتی ہے اور ہر دوسری ہر چیز کے ساتھ مل کر اپنے آہنگ میں مزید تیزی لے آتی ہے۔

لطف کی بات بھی اہم ہے اور چیخوف کو کیسے پڑھنے کا سوال ان ادیبوں اور نقادوں کی پیچیدہ ترجیحات تک تو محدود نہیں جو مجموعے وضع کرتے ہیں اور علمی تعبیرات پیش کرتے ہیں۔ کھری جستجو، راستوں کی تلاش، غیر سے ایک مثبت جذباتی مناسبت، کسی دوسرے کے درد تک رسائی، یہ یاد دہانی کے ہم سب ایک کل کا جزو ہیں اور علیحدہ نہیں: یہ سب کچھ بھی چیخوف کی کہانیوں کا ایک مقصد ہے۔ وہ جو چیخوف کو اس لئے پڑھتے ہیں کہ وہ خود مصنفین ہیں، مناسبت اور تعلق کا یہ احساس اس کی فن کاری ظاہر کرتا ہے۔ جو چیخوف کو لطف کی خاطر پڑھتے ہیں، یہ مناسبت یقیناً اس کے فن کا منبع ہے۔

چیخوف کی کہانیاں کیوں پڑھی جائیں؟ کیوں کہ یہ ہمارے فہم کا دائرہ وسیع کرتی ہیں اور لطف و بیدار ی کا باعث ہیں۔ کیوں کہ یہ ہمیں ہر قسم کے رشتے جوڑنے پر ابھارتی ہیں۔ کیوں کہ فہم کی مسلسل کوشش کے ذریعے نقاط ملاتے ہوئے ہم معانی اور حُسن کے قریب ہو جاتے ہیں۔ کیوں کہ یہ کوشش ہی کہانی کو اس کی شکل دیتی ہے اور اس کے مواد کو ایک سلسلے میں پروتی ہے، تشکیل اور معنی کی تشکیل کا کام ہمیں اندر سے مالا مال کر دیتا ہے۔ کیوں کہ کہانیاں ہمیں زندگی کی ان جہتوں پر غور وفکر کی جانب واپس لے جاتی ہیں جو پہلی نظر میں ہماری توجہ حاصل کرنے سے قاصر رہتی ہیں۔ کیوں کہ سوال سے نبرد آزما ہونے میں ہی ہم ایک بھرپور اور اچھی زندگی گزارنے لگتے ہیں کہ چیخوف سے کیسے زیادہ سے زیادہ حاصل کیا جائے ۔

news-1701

sabung ayam online

yakinjp

yakinjp

rtp yakinjp

slot thailand

yakinjp

yakinjp

yakin jp

yakinjp id

maujp

maujp

maujp

maujp

sabung ayam online

sabung ayam online

judi bola online

sabung ayam online

judi bola online

slot mahjong ways

slot mahjong

sabung ayam online

judi bola

live casino

sabung ayam online

judi bola

live casino

SGP Pools

slot mahjong

sabung ayam online

slot mahjong

SLOT THAILAND

138000476

138000477

138000478

138000479

138000480

138000481

138000482

138000483

138000484

138000485

138000486

138000487

138000488

138000489

138000490

138000491

138000492

138000493

138000494

138000495

138000496

138000497

138000498

138000499

138000500

138000501

138000502

138000503

138000504

138000505

138000506

138000507

138000508

138000509

138000510

138000511

138000512

138000513

138000514

138000515

138000516

138000517

138000518

138000519

138000520

138000521

138000522

138000523

138000524

138000525

158000376

158000377

158000378

158000379

158000380

158000381

158000382

158000383

158000384

158000385

158000386

158000387

158000388

158000389

158000390

158000391

158000392

158000393

158000394

158000395

158000396

158000397

158000398

158000399

158000400

158000401

158000402

158000403

158000404

158000405

158000406

158000407

158000408

158000409

158000410

158000411

158000412

158000413

158000414

158000415

208000401

208000402

208000403

208000404

208000405

208000406

208000407

208000408

208000409

208000410

208000411

208000412

208000413

208000414

208000415

208000416

208000417

208000418

208000419

208000420

208000421

208000422

208000423

208000424

208000425

208000426

208000427

208000428

208000429

208000430

208000431

208000432

208000433

208000434

208000435

208000436

208000437

208000438

208000439

208000440

208000441

208000442

208000443

208000444

208000445

228000196

228000197

228000198

228000199

228000200

228000201

228000202

228000203

228000204

228000205

228000206

228000207

228000208

228000209

228000210

228000211

228000212

228000213

228000214

228000215

228000216

228000217

228000218

228000219

228000220

228000221

228000222

228000223

228000224

228000225

228000226

228000227

228000228

228000229

228000230

228000231

228000232

228000233

228000234

228000235

228000236

228000237

228000238

228000239

228000240

228000241

228000242

228000243

228000244

228000245

228000246

228000247

228000248

228000249

228000250

228000251

228000252

228000253

228000254

228000255

228000256

228000257

228000258

228000259

228000260

228000261

228000262

228000263

228000264

228000265

228000266

228000267

228000268

228000269

228000270

228000271

228000272

228000273

228000274

228000275

228000276

228000277

228000278

228000279

228000280

228000281

228000282

228000283

228000284

228000285

238000231

238000232

238000233

238000234

238000235

238000236

238000237

238000238

238000239

238000240

238000241

238000242

238000243

238000244

238000245

238000246

238000247

238000248

238000249

238000250

238000251

238000252

238000253

238000254

238000255

238000256

238000257

238000258

238000259

238000260

news-1701
news-0801

yakinjp


sabung ayam online

yakinjp

yakinjp

rtp yakinjp

yakinjp

yakinjp

judi bola online

slot thailand

yakinjp

yakinjp

yakinjp

yakinjp

ayowin

mahjong ways

judi bola online

mahjong ways 2

JUDI BOLA ONLINE

maujp

maujp

sabung ayam online

maujp

maujp

maujp

maujp

sabung ayam online

mahjong ways slot

sbobet88

live casino online

Situs Agen Togel

MAUJP

118000021

118000022

118000023

118000024

118000025

118000026

118000027

118000028

118000029

118000030

118000031

118000032

118000033

118000034

118000035

118000036

118000037

118000038

118000039

118000040

118000041

118000042

118000043

118000044

118000045

118000046

118000047

118000048

118000049

118000050

128000021

128000022

128000023

128000024

128000025

128000026

128000027

128000028

128000029

128000030

128000031

128000032

128000033

128000034

128000035

128000036

128000037

128000038

128000039

128000040

128000041

128000042

128000043

128000044

128000045

128000046

128000047

128000048

128000049

128000050

138000021

138000022

138000023

138000024

138000025

138000026

138000027

138000028

138000029

138000030

138000031

138000032

138000033

138000034

138000035

138000036

138000037

138000038

138000039

138000040

138000041

138000042

138000043

138000044

138000045

138000046

138000047

138000048

138000049

138000050

148000026

148000027

148000028

148000029

148000030

148000031

148000032

148000033

148000034

148000035

148000036

148000037

148000038

148000039

148000040

148000041

148000042

148000043

148000044

148000045

148000046

148000047

148000048

148000049

148000050

148000051

148000052

148000053

148000054

148000055

148000056

148000057

148000058

148000059

148000060

148000061

148000062

148000063

148000064

148000065

148000066

148000067

148000068

148000069

148000070

158000041

158000042

158000043

158000044

158000045

158000046

158000047

158000048

158000049

158000050

158000051

158000052

158000053

158000054

158000055

158000056

158000057

158000058

158000059

158000060

158000061

158000062

158000063

158000064

158000065

158000066

158000067

158000068

158000069

158000070

168000011

168000012

168000013

168000014

168000015

168000016

168000017

168000018

168000019

168000020

168000021

168000022

168000023

168000024

168000025

168000026

168000027

168000028

168000029

168000030

168000031

168000032

168000033

168000034

168000035

168000036

168000037

168000038

168000039

168000040

178000036

178000037

178000038

178000039

178000040

178000041

178000042

178000043

178000044

178000045

178000046

178000047

178000048

178000049

178000050

178000051

178000052

178000053

178000054

178000055

178000056

178000057

178000058

178000059

178000060

178000061

178000062

178000063

178000064

178000065

188000141

188000142

188000143

188000144

188000145

188000146

188000147

188000148

188000149

188000150

188000151

188000152

188000153

188000154

188000155

188000156

188000157

188000158

188000159

188000160

188000161

188000162

188000163

188000164

188000165

188000166

188000167

188000168

188000169

188000170

198000031

198000032

198000033

198000034

198000035

198000036

198000037

198000038

198000039

198000040

198000041

198000042

198000043

198000044

198000045

198000046

198000047

198000048

198000049

198000050

198000051

198000052

198000053

198000054

198000055

198000056

198000057

198000058

198000059

198000060

218000021

218000022

218000023

218000024

218000025

218000026

218000027

218000028

218000029

218000030

218000031

218000032

218000033

218000034

218000035

218000036

218000037

218000038

218000039

218000040

218000041

218000042

218000043

218000044

218000045

218000046

218000047

218000048

218000049

218000050

228000016

228000017

228000018

228000019

228000020

228000021

228000022

228000023

228000024

228000025

228000026

228000027

228000028

228000029

228000030

228000031

228000032

228000033

228000034

228000035

228000036

228000037

228000038

228000039

228000040

228000041

228000042

228000043

228000044

228000045

228000046

228000047

228000048

228000049

228000050

238000001

238000002

238000003

238000004

238000005

238000006

238000007

238000008

238000009

238000010

238000011

238000012

238000013

238000014

238000015

238000016

238000017

238000018

238000019

238000020

news-0801