چیخوف کو کیسے پڑھیں

کیتھی ایل پاپکن کولمبیا یونیورسٹی کے سلاوی زبانوں کے شعبہ کی پروفیسر ہیں۔انہوں نے چیخوف کی کہانیوں کا ایک انتخاب ان پر لکھے ہوئے مختلف اہم تنقیدی مضامین کے اقتباسات کے ساتھ ترتیب دیا ہے۔جس کا تعارف یہاں آپ کے مطالعے کے لیے پیش کیا جارہا ہے۔کیتھی نے اس میں بہت اہم باتیں کی ہیں۔ہم یوم چیخوف کی ابتدائی منزل پر یہ ضرور جاننا چاہیں گے کہ آخر اس اہم مصنف کو پڑھنے کا طریقہ کیا ہو، یا کسی بھی اہم رائٹر کو پڑھنے کابہتر طریقہ کیا ہوسکتا ہے،اور پھر اس پر غور کریں کہ ایسے مصنفین کو پڑھنے کا کوئی اصول یا کوئی طریقہ ممکن بھی ہے یا نہیں۔بہرحال ابتدا یہیں سے کرتے ہیں۔میں چیخوف کے حوالے سے بہت زیادہ کام نہیں کرپایاہوں، اس بات کا مجھے افسوس ہے، مگراس کے لیے آپ میرے بجائے موسم کو کوسیں، جو مجھے کبھی بجلی کٹنے ، کبھی زیادہ گرمی کے ہونے کے سبب ٹھیک سے کام نہیں کرنے دے رہا،البتہ یہ کام جتنا بھی ہے، آج کے دن آپ کے حوالے کرنا چاہتا ہوں۔عاصم بخشی کا بے حد شکرگزار ہوں کہ انہوں نے میری درخواست پر اس اہم تعارفی مضمون کو ترجمہ کیا، اس کی کچھ کہانیاں، ادھوری ترجمہ کردہ میرے پاس موجود ہیں، کبھی وقت ملا تو انہیں ضرور شیئر کروں گا، آج تو جتنا کچھ آڈیو اور ٹیکسٹ کی صورت میں موجود ہے، بلاگز اور آڈیو کے ذریعے آپ تک پہنچانے کی کوشش کروں گا۔ شکریہ(تصنیف حیدر)

 

کوئی ابھی ادبی فن پارہ حتی الوسع طور پر متنوع تعبیرات و رجحانات کو نہ صرف دعوت دے گا بلکہ یہ تنوع پذیرائی کے ایک پیمانے کے طور پر تسلیم کیا جائے گا۔ اس کے باوجود کئی وجوہات کے باعث ’’ کیسے پڑھیں؟‘‘ کا سوال چیخوف کی کہانیوں کے مخصوص تناظر میں بار بار اٹھتا ہے، جن میں سے کم از کم ایک اہم وجہ تو ان کہانیوں کاانوکھا پن ہے۔

اول واقعہ تو یہ ہے کہ یہ کہانیاں ایک بے ترتیب حد تک مختصر ہیں، خاص طور پر ظریفانہ ادبی رسالوں میں شامل ہونے والے اولین دور کے افسانچے جو فوری لطف اور معاوضے کی جلد ادائیگی کی خاطر رسالے کی محدود جگہ میں سمانے کے لئے تخلیق کئے گئے ہیں۔ کیا انہیں سنجیدہ ادبی کاوشیں کہنا ممکن ہے؟ طوالت کے پیمانے اپنی جگہ لیکن ان میں سے کچھ کہانیاں تو اپنے معمولی درجے کے موضوعات کے باعث قارئین کو چونکا دیتی ہیں۔ ایک کلرک کو چھینک آ گئی ہے، کسی نے کاکروچ کو پیروں تلے مسل دیا ہے، ان موضوعات میں آخر ایسا کیا دلچسپ ہے؟

دوسری بات چیخوف کے مخصوص اختراعات کی ہے۔ اگر ہم ان افسانوں کے عادی ہیں جن کا ابتدائیہ ذرا منظر نگاری پر مشتمل ہوتا ہے، پھر کہانی پلاٹ کے مطابق کچھ اونچائی کی جانب بڑھتی ہے ، ایک واقعہ رونما ہوتا ہے اور آخرکار انجام کو پہنچتی ہے، تو چیخوف ہمیں جزوقتی طور پرجھنجھوڑ کے رکھ دے گا۔ یہ وہی چیخوف ہے جس نے ابھرتے ہوئے کہانی کاروں کو اپنے شروع کے صفحات ردی کی ٹوکری کی نذر کر دینے کی نصیحت کی، جس کا پلاٹ اپنے اندر ایک سرعت کی سی کیفیت رکھتا ہے، جس کے واقعات زیادہ تر قضئیے ہیں اور جس کے انجام کو اکثر مبہم گردانا گیا ہے۔ یہ کہانیاں ہم سے کیا چاہتی ہیں اور منزل کس جانب ہے؟

یہ کہانیاں ایک اور طرح بھی بے انجام ہیں: جوابوں کی بجائے مقصد سوال اٹھانا ہے، تبلیغ یا تجاویز سے دور رہا جاتا ہے، چیخوف نے کبھی اپنی تخلیقی کائنات میں موجود ابہام کو خفیہ نہیں رکھا۔یہاں تک کہ ان کہانیوں میں بھی عام طور پر معانی مبہم رہتے ہیں جہاں واقعات ڈرامائی اور نتیجہ فیصلہ کن ہے: فیصلے سے پرہیز کیا جاتا ہے، اخلاقی نتیجے کی جانب اشارہ نہیں کیا جاتا۔ چیخوف کا یہی دعوی تھا کہ یہ کہانی کار کا منصب نہیں۔ فیصلہ قارئین پر چھوڑنا ہی مناسب ہے کہ وہ کہانی کو کیا معنی پہناتے ہیں۔

اگر چیخوف بغیر کوئی واضح الزام پیش کئے اپنی تخلیقات کو قارئین کی عدالت کو غور و فکر کے لئے چھوڑ کر چلا جاتا ہے تو یہ ایک جزوی فرار ہے کیوں کہ اس قسم کے تعینات نہ تو اس کی ذمہ داری ہیں اور نہ ہی اس کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔

انسانی علم کی ماہیت کے بارے میں چیخوف کے خیالات مشہور و معروف ہیں، اس سے ایک سے زیادہ بار منقول ہے کہ ہم یقین اور (بالخصوص اخلاقی) وضوح کی جس حد تک کوشش کرتے ہیں زندگی ہمیں مزید مبہم اور ناپائیدار حالت میں کانپتی ہوئی زمینوں میں لا پھینکتی ہے ۔ مثال کے طور پر خدا کے ہونے اور نہ ہونے کے یقین کی دو متضاد اور باہم متقابل انتہاؤں کے درمیان چیخوف ایک وسیع و عریض میدان کا تصور کرتا ہے۔ اس تیرہ و تاریک وسطی علاقے کی لامحدود پیچیدگی میں سے اپنا راستہ تلاش کرنے اور ندامت و معصومیت، مرض و تندرستی ، الحاد وایمان کے بیچ موجود کچے راستوں میں پیر جماتے ہوئے گزرنے کے لئے فہم و دانش اور ہمت و جرأت کی ضرورت ہے۔ اس ابہام کو جھیل جانے والے قارئین کے لئے یہ مسئلہ مزید اہم ہو جاتا ہے کہ چیخوف کی کہانیوں کو کیسے پڑھا جائے۔

لیکن یہ ایک دلچسپ تضاد ہے کہ ان تمام ممکنہ رکاوٹوں کے باوجود چیخوف کی کہانیوں کو پڑھنا ذرا مشکل نہیں، بلکہ یہ حیرت ناک حد تک ایک پرلطف اور سہل تجربہ ہے۔ پہلی نظر میں یہ کہانیاں بالکل غیرپیچیدہ اور واضح محسوس ہوتی ہیں۔ اور اگر یہ صفحات میں کم ہیں یا وسعت، تفصیلات اور انجام کے پیمانوں پر پورا نہیں بھی اترتیں تو بھی قاری کی راستے میں اعتقادی یا میلانی رجحانات اور غیرضروری لفاظی کی دیواریں کھڑی نہیں کرتیں، بس بالکل سیدھی سادھی ( چاہے بے نتیجہ) کہانیاں محسوس ہوتی ہیں۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ سارے فساد کی جڑ تفصیلات میں ہے، خاص طور پر وہ عجیب و غریب اشارے جو کہانی سے بظاہر کوئی تعلق نہیں رکھتے اور چیخوف کی عام فہم نثر کے ساتھ بالکل بے ربط محسوس ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر چیخوف کو یہ بتانے کی کیا ضرور ت ہے کہ کسی بالاخانے میں فلاں کرسی کی ایک ٹانگ کم ہے (’’جان من‘‘)؟ یا ایک لڑکی اس وقت گہرے نیلے رنگ کا کپڑا تھامے تھی جب کوئی اس کا ہاتھ مانگنے آیا (’’ادب کا استاد‘‘)؟ چیخوف کے اولین نقاد ان فالتو تفصیلات کو مصنف کی کم فہمی گردانتے ہیں۔ لیکن اب آہستہ آہستہ زیادہ تر نقاد ان الجھاؤ والے اجزاء کو ایک کنجی کے طور پر دیکھنے لگے ہیں، لیکن کاہے کی کنجی؟

کچھ نقادوں کا استدلال ہے کہ چیخوف کی مخصوص محتاط طبعی کے پیشِ نظر یہ گمان معقول ہے کہ متن میں آنے والی ہر تفصیل کسی وجہ سے وہاں رکھی گئی ہے، باالفاظِ دیگر ہم یہ مفروضہ قائم کرنے میں حق بجانب ہیں چیخوف کی نرم رو کہانیوں میں موجود تمام اجزاء ارادتاً وہاں شامل کئے گئے ہیں لہٰذا بامقصد ہیں۔ آخر کار (چاہے ڈرامے کے تناظر میں ہی سہی) چیخوف سے یہ بھی تو منقول ہے کہ اگر ایکٹ اول میں دیوار پر ایک بندوق لٹکی ہوئی ہے تو اسے پردہ گرنے تک چل جانا چاہئے یا پھر اسے سرے سے وہاں ہونا ہی نہیں چاہئے تھا۔ اور اگر ہر بندوق کا ادھر موجود ہونا ضروری ہے تو پھر ہر ایک کا بامعنی ہونا بھی لازم ہے، حادثاتی طور پر کچھ شامل نہیں ہوتا اور فالتو اجزاء جمع کرنے کی ضرورت نہیں۔ رابرٹ ایل جیکسن کا کہنا ہے کہ ’’چیخوف کے عظیم ترین شاہکار فن پاروں میں کوئی تفصیل بے معنی نہیں۔‘‘ لہٰذا چیخوف کو اچھی طرح پڑھنے کا مطلب ہے ہر لفظ یہاں تک کہ بظاہر اتفاقی الفاظ کو بھی دھیان میں رکھنا، کہانی میں موجود علامتوں اور سراغوں پر غور و فکر ، لطیف اشاروں کی کھوج اور فریبی سادگی کی سطح سے نیچے غواصی کرتے ہوئے گہرائیوں میں پیچیدہ فن کاریوں تک رسائی، بلکہ لسانی اثرات تک پر توجہ، صوتی اتار چڑھاؤ، لحن و آہنگ اور انشقاقی سروں پر توجہ، یعنی نثر کو یوں پڑھنا جیسے نظم پڑھی جاتی ہے کہ اس کے اثرات اور اجزاء کو مکمل نظر میں رکھا جاتا ہے۔ قصہ مختصر، گہرے نیلے کپڑے کا ہر ٹکڑا کُل تخلیق کو بامعنی بنانے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔

دوسرے ان بنیادوں پر اس ’’مجموعی‘‘ طریقۂ کار پر اعتراض کرتے ہیں کہ چیخوف کی نثر کا عملی اصول اس کے بالکل الٹ ہے، یعنی ایک اتفاقی کیفیت، اور اگر اس کی کہانیوں میں کوئی تفصیل بے ربط اور دوسری چیزوں سے لاتعلق محسوس ہوتی ہے تو یہ محض اس اتفاقی اصو ل کے تحت ہے۔ کئی دفعہ ایک بندوق بس ایک بندوق ہوتی ہے، مادی دنیا کا ایک اتفاقی جزو جو اپنی ہستی سے زیادہ کسی جانب اشارہ نہیں کرتا، وہ وہاں لٹکی ہے کیوں کہ وہاں موجود ہے اور اس کے اوپر معانی ٹا نگنا کج روی کی علامت ہے۔ دوسرے لفظوں میں چیخوف کی ان انوکھی تفصیلات کا مقصد ’معنی‘ نہیں بلکہ بس ’ہونا‘ ہےاور وہ اس ’معنی سے آزاد‘ ہونے کی کیفیت کے ذریعے ہستی کی نوعیت کا ایک نمونہ پیش کرنا چاہتا ہے۔ چیخوف کی نثر اس کے انقلابی مشاہدۂ کائنات کی تجسیم ہے، دنیاوی زندگی کے منتشر اور اتفاقی ہونے کا فہم جو حادثے اور ناکارگی کی لپیٹ میں ہے۔ الیگزنڈر چوڈاکوف کا کہنا ہے کہ ربط اور مقصدیت کے گھسے پٹے مفروضوں سے چیخوف کی آزادی ہی وہ خاصیت ہے جو اس کے فن کو جدید اور غیراعتقادی بناتی ہے، ہر شے کو علامت یا کسی اور چیز کے جانب اشارے کے طور پر دیکھنا غلط فہمی ہے۔

دونوں تنقیدی آراء میں سے خواہ کوئی بھی درست ہو، بہرحال دونوں کسی نہ کسی جانب راہنمائی کرتی ہیں، اور اپنے متضاد مفروضوں کے باوجود اس سوال پر غورو فکر کے لئے مشترکہ طور پر مشغول ہیں کہ کہانیاں کیسے کام کرتی ہیں۔ واقعہ یہ ہے دونوں قسم کے استدلال کی مشترکہ بنیاد تو یہی سوال ہے جس نے مباحثے کو قوت اور مواد فراہم کیا ہے۔ اس جلد میں موجود مضامین کے اقتباسات تنقیدی سرحدوں کے دونوں جانب بلکہ وسط سے بھی شامل کئے گئے ہیں، اور خاص طور پر اسی جاری قضیے سے تعلق رکھتے ہیں کہ چیخوف کو کیسے پڑھا جائے۔ پہلے حصے ’رجحانات‘ میں وہ مضامین شامل ہیں جو اس سوال سے مفصل بحث کرتے ہیں۔ لیکن چیخوف کی نثر پر مجرد بحث بس کچھ ہی آگے لے جا سکتی ہے، چیخوف خود بھی عمومیت پسندی سے خائف تھا اور اس کا کام بھی اس سے گریز کرتا ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں کہ چیخوف پر ہوا تمام زندہ تنقیدی کام اس کی چنیدہ کہانیوں کے بغور مطالعے پر مشتمل ہے۔ لہٰذا مضامین کے دوسرے حصے ’تعبیرات‘ کو یہ واضح کرنے کے لئے جمع کیا گیا ہے کہ بغور مطالعہ کیا ہوتا ہے اور کچھ صورتوں میں ایک ہی کہانی مختلف زاویوں سے کتنی مختلف نظر آتی ہے۔ زاویہ ہائے نظر خواہ کچھ بھی ہوں، یہ تمام مطالعے یہی ثابت کرتے ہیں کہ دلچسپ چیزیں تبھی نمودار ہوتی ہیں جب یکسوئی سے توجہ دی جائے۔دلچسپ ترین تعبیرات دوبارہ پڑھنے پر سامنے آتی ہیں، یعنی متن پر معمول سے ہٹ کر نظر ڈالے جانے پر نہ صرف یہ راز افشا ہوتا ہے کہ چیزیں اتنی سادہ نہیں ہوتیں جتنی نظر آتی ہیں بلکہ یہ بھی کہ چیخوف کی کہانیاں پراسرار کیفیات لئے ہیں۔

اگر کسی انفرادی کام کی صرف ایک جہت کے سیاق و سباق میں اتنا مفید اختلاف سامنے آ سکتا ہے تو جزو کے کُل سے باہمی تعلق کے سوال پر اتنے ہی دلچسپ نتائج سامنے آتے ہیں، یعنی یہ غور و فکر کہ چیخوف کی ایک کہانی کس طرح دوسری کہانیوں سے جڑی ہوئی ہے۔ یقیناً زیادہ سے زیادہ لطف اور قدردانی کے لئے قارئین کو انفرادی اور مجموعی طور پر دونوں طریقوں سے کہانیوں کا مطالعہ کرنا چاہئے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ یہ رنگ برنگی کہانیاں اپنی تنہائی میں کیا ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کیا بن جاتی ہیں۔ یہ ہمارے اندر دہرائی جانے والی دھنوں، آہنگ، ساخت اور اشاروں کنایوں کی آگہی کو جلا بخشتی ہیں، ساتھ ہی ہمیں یہ بھی احساس ہوتا ہے کہ ہم مستقل اخلاقی سوالات سے نبرد آزما ہیں۔ ہر کہانی اشاراتی طریقوں سے دوسری کہانیوں سے منسلک ہوتی ہے اور ہر دوسری ہر چیز کے ساتھ مل کر اپنے آہنگ میں مزید تیزی لے آتی ہے۔

لطف کی بات بھی اہم ہے اور چیخوف کو کیسے پڑھنے کا سوال ان ادیبوں اور نقادوں کی پیچیدہ ترجیحات تک تو محدود نہیں جو مجموعے وضع کرتے ہیں اور علمی تعبیرات پیش کرتے ہیں۔ کھری جستجو، راستوں کی تلاش، غیر سے ایک مثبت جذباتی مناسبت، کسی دوسرے کے درد تک رسائی، یہ یاد دہانی کے ہم سب ایک کل کا جزو ہیں اور علیحدہ نہیں: یہ سب کچھ بھی چیخوف کی کہانیوں کا ایک مقصد ہے۔ وہ جو چیخوف کو اس لئے پڑھتے ہیں کہ وہ خود مصنفین ہیں، مناسبت اور تعلق کا یہ احساس اس کی فن کاری ظاہر کرتا ہے۔ جو چیخوف کو لطف کی خاطر پڑھتے ہیں، یہ مناسبت یقیناً اس کے فن کا منبع ہے۔

چیخوف کی کہانیاں کیوں پڑھی جائیں؟ کیوں کہ یہ ہمارے فہم کا دائرہ وسیع کرتی ہیں اور لطف و بیدار ی کا باعث ہیں۔ کیوں کہ یہ ہمیں ہر قسم کے رشتے جوڑنے پر ابھارتی ہیں۔ کیوں کہ فہم کی مسلسل کوشش کے ذریعے نقاط ملاتے ہوئے ہم معانی اور حُسن کے قریب ہو جاتے ہیں۔ کیوں کہ یہ کوشش ہی کہانی کو اس کی شکل دیتی ہے اور اس کے مواد کو ایک سلسلے میں پروتی ہے، تشکیل اور معنی کی تشکیل کا کام ہمیں اندر سے مالا مال کر دیتا ہے۔ کیوں کہ کہانیاں ہمیں زندگی کی ان جہتوں پر غور وفکر کی جانب واپس لے جاتی ہیں جو پہلی نظر میں ہماری توجہ حاصل کرنے سے قاصر رہتی ہیں۔ کیوں کہ سوال سے نبرد آزما ہونے میں ہی ہم ایک بھرپور اور اچھی زندگی گزارنے لگتے ہیں کہ چیخوف سے کیسے زیادہ سے زیادہ حاصل کیا جائے ۔

Attention Required! | Cloudflare

Sorry, you have been blocked

You are unable to access wajibjp.cfd

Why have I been blocked?

This website is using a security service to protect itself from online attacks. The action you just performed triggered the security solution. There are several actions that could trigger this block including submitting a certain word or phrase, a SQL command or malformed data.

What can I do to resolve this?

You can email the site owner to let them know you were blocked. Please include what you were doing when this page came up and the Cloudflare Ray ID found at the bottom of this page.

news-1701

yakinjp

yakinjp

rtp yakinjp

yakinjp

yakinjp

yakin jp

yakinjp id

maujp

maujp

maujp

sabung ayam online

sabung ayam online

SLOT MAHJONG

sabung ayam online

article 838000638

article 838000639

article 838000640

article 838000641

article 838000642

article 838000643

article 838000644

article 838000645

article 838000646

article 838000647

article 838000648

article 838000649

article 838000650

article 838000651

article 838000652

article 838000653

article 838000654

article 838000655

article 838000656

article 838000657

article 838000658

article 838000659

article 838000660

article 838000661

article 838000662

article 838000663

article 838000664

article 838000665

article 838000666

article 838000667

article 838000668

article 838000669

article 838000670

article 838000671

article 838000672

article 838000673

article 838000674

article 838000675

article 838000676

article 838000677

article 838000678

article 838000679

article 838000680

article 838000681

article 838000682

article 838000683

article 838000684

article 838000685

article 838000686

article 838000687

article 838000688

article 838000689

article 838000690

article 838000691

article 838000692

article 838000693

article 838000694

article 838000695

article 838000696

article 838000697

article 238000456

article 238000457

article 238000458

article 238000459

article 238000460

article 238000461

article 238000462

article 238000463

article 238000464

article 238000465

article 238000466

article 238000467

article 238000468

article 238000469

article 238000470

article 238000471

article 238000472

article 238000473

article 238000474

article 238000475

article 238000476

article 238000477

article 238000478

article 238000479

article 238000480

article 238000481

article 238000482

article 238000483

article 238000484

article 238000485

article 238000486

article 238000487

article 238000488

article 238000489

article 238000490

article 238000491

article 238000492

article 238000493

article 238000494

article 238000495

article 238000496

article 238000497

article 238000498

article 238000499

article 238000500

article 238000501

article 238000502

article 238000503

article 238000504

article 238000505

article 238000506

article 238000507

article 238000508

article 238000509

article 238000510

article 238000511

article 238000512

article 238000513

article 238000514

article 238000515

article 7700246

article 7700247

article 7700248

article 7700249

article 7700250

article 7700251

article 7700252

article 7700253

article 7700254

article 7700255

article 7700256

article 7700257

article 7700258

article 7700259

article 7700260

article 7700261

article 7700262

article 7700263

article 7700264

article 7700265

article 7700266

article 7700267

article 7700268

article 7700269

article 7700270

article 7700271

article 7700272

article 7700273

article 7700274

article 7700275

article 7700276

article 7700277

article 7700278

article 7700279

article 7700280

article 7700281

article 7700282

article 7700283

article 7700284

article 7700285

article 2000431

article 2000432

article 2000433

article 2000434

article 2000435

article 2000436

article 2000437

article 2000438

article 2000439

article 2000440

article 2000441

article 2000442

article 2000443

article 2000444

article 2000445

article 2000446

article 2000447

article 2000448

article 2000449

article 2000450

article 2000451

article 2000452

article 2000453

article 2000454

article 2000455

article 2000456

article 2000457

article 2000458

article 2000459

article 2000460

article 2000461

article 2000462

article 2000463

article 2000464

article 2000465

article 2000466

article 2000467

article 2000468

article 2000469

article 2000470

article 2000471

article 2000472

article 2000473

article 2000474

article 2000475

article 2000476

article 2000477

article 2000478

article 2000479

article 2000480

article 2000481

article 2000482

article 2000483

article 2000484

article 2000485

article 2000486

article 2000487

article 2000488

article 2000489

article 2000490

article 2990581

article 2990582

article 2990583

article 2990584

article 2990585

article 2990586

article 2990587

article 2990588

article 2990589

article 2990590

article 2990591

article 2990592

article 2990593

article 2990594

article 2990595

article 2990596

article 2990597

article 2990598

article 2990599

article 2990600

article 2990601

article 2990602

article 2990603

article 2990604

article 2990605

article 2990606

article 2990607

article 2990608

article 2990609

article 2990610

article 2990611

article 2990612

article 2990613

article 2990614

article 2990615

article 2990616

article 2990617

article 2990618

article 2990619

article 2990620

article 10000416

article 10000417

article 10000418

article 10000419

article 10000420

article 10000421

article 10000422

article 10000423

article 10000424

article 10000425

article 10000426

article 10000427

article 10000428

article 10000429

article 10000430

article 10000431

article 10000432

article 10000433

article 10000434

article 10000435

article 10000436

article 10000437

article 10000438

article 10000439

article 10000440

article 10000441

article 10000442

article 10000443

article 10000444

article 10000445

article 10000446

article 10000447

article 10000448

article 10000449

article 10000450

news-1701