چیخوف کو کیسے پڑھیں

کیتھی ایل پاپکن کولمبیا یونیورسٹی کے سلاوی زبانوں کے شعبہ کی پروفیسر ہیں۔انہوں نے چیخوف کی کہانیوں کا ایک انتخاب ان پر لکھے ہوئے مختلف اہم تنقیدی مضامین کے اقتباسات کے ساتھ ترتیب دیا ہے۔جس کا تعارف یہاں آپ کے مطالعے کے لیے پیش کیا جارہا ہے۔کیتھی نے اس میں بہت اہم باتیں کی ہیں۔ہم یوم چیخوف کی ابتدائی منزل پر یہ ضرور جاننا چاہیں گے کہ آخر اس اہم مصنف کو پڑھنے کا طریقہ کیا ہو، یا کسی بھی اہم رائٹر کو پڑھنے کابہتر طریقہ کیا ہوسکتا ہے،اور پھر اس پر غور کریں کہ ایسے مصنفین کو پڑھنے کا کوئی اصول یا کوئی طریقہ ممکن بھی ہے یا نہیں۔بہرحال ابتدا یہیں سے کرتے ہیں۔میں چیخوف کے حوالے سے بہت زیادہ کام نہیں کرپایاہوں، اس بات کا مجھے افسوس ہے، مگراس کے لیے آپ میرے بجائے موسم کو کوسیں، جو مجھے کبھی بجلی کٹنے ، کبھی زیادہ گرمی کے ہونے کے سبب ٹھیک سے کام نہیں کرنے دے رہا،البتہ یہ کام جتنا بھی ہے، آج کے دن آپ کے حوالے کرنا چاہتا ہوں۔عاصم بخشی کا بے حد شکرگزار ہوں کہ انہوں نے میری درخواست پر اس اہم تعارفی مضمون کو ترجمہ کیا، اس کی کچھ کہانیاں، ادھوری ترجمہ کردہ میرے پاس موجود ہیں، کبھی وقت ملا تو انہیں ضرور شیئر کروں گا، آج تو جتنا کچھ آڈیو اور ٹیکسٹ کی صورت میں موجود ہے، بلاگز اور آڈیو کے ذریعے آپ تک پہنچانے کی کوشش کروں گا۔ شکریہ(تصنیف حیدر)

 

کوئی ابھی ادبی فن پارہ حتی الوسع طور پر متنوع تعبیرات و رجحانات کو نہ صرف دعوت دے گا بلکہ یہ تنوع پذیرائی کے ایک پیمانے کے طور پر تسلیم کیا جائے گا۔ اس کے باوجود کئی وجوہات کے باعث ’’ کیسے پڑھیں؟‘‘ کا سوال چیخوف کی کہانیوں کے مخصوص تناظر میں بار بار اٹھتا ہے، جن میں سے کم از کم ایک اہم وجہ تو ان کہانیوں کاانوکھا پن ہے۔

اول واقعہ تو یہ ہے کہ یہ کہانیاں ایک بے ترتیب حد تک مختصر ہیں، خاص طور پر ظریفانہ ادبی رسالوں میں شامل ہونے والے اولین دور کے افسانچے جو فوری لطف اور معاوضے کی جلد ادائیگی کی خاطر رسالے کی محدود جگہ میں سمانے کے لئے تخلیق کئے گئے ہیں۔ کیا انہیں سنجیدہ ادبی کاوشیں کہنا ممکن ہے؟ طوالت کے پیمانے اپنی جگہ لیکن ان میں سے کچھ کہانیاں تو اپنے معمولی درجے کے موضوعات کے باعث قارئین کو چونکا دیتی ہیں۔ ایک کلرک کو چھینک آ گئی ہے، کسی نے کاکروچ کو پیروں تلے مسل دیا ہے، ان موضوعات میں آخر ایسا کیا دلچسپ ہے؟

دوسری بات چیخوف کے مخصوص اختراعات کی ہے۔ اگر ہم ان افسانوں کے عادی ہیں جن کا ابتدائیہ ذرا منظر نگاری پر مشتمل ہوتا ہے، پھر کہانی پلاٹ کے مطابق کچھ اونچائی کی جانب بڑھتی ہے ، ایک واقعہ رونما ہوتا ہے اور آخرکار انجام کو پہنچتی ہے، تو چیخوف ہمیں جزوقتی طور پرجھنجھوڑ کے رکھ دے گا۔ یہ وہی چیخوف ہے جس نے ابھرتے ہوئے کہانی کاروں کو اپنے شروع کے صفحات ردی کی ٹوکری کی نذر کر دینے کی نصیحت کی، جس کا پلاٹ اپنے اندر ایک سرعت کی سی کیفیت رکھتا ہے، جس کے واقعات زیادہ تر قضئیے ہیں اور جس کے انجام کو اکثر مبہم گردانا گیا ہے۔ یہ کہانیاں ہم سے کیا چاہتی ہیں اور منزل کس جانب ہے؟

یہ کہانیاں ایک اور طرح بھی بے انجام ہیں: جوابوں کی بجائے مقصد سوال اٹھانا ہے، تبلیغ یا تجاویز سے دور رہا جاتا ہے، چیخوف نے کبھی اپنی تخلیقی کائنات میں موجود ابہام کو خفیہ نہیں رکھا۔یہاں تک کہ ان کہانیوں میں بھی عام طور پر معانی مبہم رہتے ہیں جہاں واقعات ڈرامائی اور نتیجہ فیصلہ کن ہے: فیصلے سے پرہیز کیا جاتا ہے، اخلاقی نتیجے کی جانب اشارہ نہیں کیا جاتا۔ چیخوف کا یہی دعوی تھا کہ یہ کہانی کار کا منصب نہیں۔ فیصلہ قارئین پر چھوڑنا ہی مناسب ہے کہ وہ کہانی کو کیا معنی پہناتے ہیں۔

اگر چیخوف بغیر کوئی واضح الزام پیش کئے اپنی تخلیقات کو قارئین کی عدالت کو غور و فکر کے لئے چھوڑ کر چلا جاتا ہے تو یہ ایک جزوی فرار ہے کیوں کہ اس قسم کے تعینات نہ تو اس کی ذمہ داری ہیں اور نہ ہی اس کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔

انسانی علم کی ماہیت کے بارے میں چیخوف کے خیالات مشہور و معروف ہیں، اس سے ایک سے زیادہ بار منقول ہے کہ ہم یقین اور (بالخصوص اخلاقی) وضوح کی جس حد تک کوشش کرتے ہیں زندگی ہمیں مزید مبہم اور ناپائیدار حالت میں کانپتی ہوئی زمینوں میں لا پھینکتی ہے ۔ مثال کے طور پر خدا کے ہونے اور نہ ہونے کے یقین کی دو متضاد اور باہم متقابل انتہاؤں کے درمیان چیخوف ایک وسیع و عریض میدان کا تصور کرتا ہے۔ اس تیرہ و تاریک وسطی علاقے کی لامحدود پیچیدگی میں سے اپنا راستہ تلاش کرنے اور ندامت و معصومیت، مرض و تندرستی ، الحاد وایمان کے بیچ موجود کچے راستوں میں پیر جماتے ہوئے گزرنے کے لئے فہم و دانش اور ہمت و جرأت کی ضرورت ہے۔ اس ابہام کو جھیل جانے والے قارئین کے لئے یہ مسئلہ مزید اہم ہو جاتا ہے کہ چیخوف کی کہانیوں کو کیسے پڑھا جائے۔

لیکن یہ ایک دلچسپ تضاد ہے کہ ان تمام ممکنہ رکاوٹوں کے باوجود چیخوف کی کہانیوں کو پڑھنا ذرا مشکل نہیں، بلکہ یہ حیرت ناک حد تک ایک پرلطف اور سہل تجربہ ہے۔ پہلی نظر میں یہ کہانیاں بالکل غیرپیچیدہ اور واضح محسوس ہوتی ہیں۔ اور اگر یہ صفحات میں کم ہیں یا وسعت، تفصیلات اور انجام کے پیمانوں پر پورا نہیں بھی اترتیں تو بھی قاری کی راستے میں اعتقادی یا میلانی رجحانات اور غیرضروری لفاظی کی دیواریں کھڑی نہیں کرتیں، بس بالکل سیدھی سادھی ( چاہے بے نتیجہ) کہانیاں محسوس ہوتی ہیں۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ سارے فساد کی جڑ تفصیلات میں ہے، خاص طور پر وہ عجیب و غریب اشارے جو کہانی سے بظاہر کوئی تعلق نہیں رکھتے اور چیخوف کی عام فہم نثر کے ساتھ بالکل بے ربط محسوس ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر چیخوف کو یہ بتانے کی کیا ضرور ت ہے کہ کسی بالاخانے میں فلاں کرسی کی ایک ٹانگ کم ہے (’’جان من‘‘)؟ یا ایک لڑکی اس وقت گہرے نیلے رنگ کا کپڑا تھامے تھی جب کوئی اس کا ہاتھ مانگنے آیا (’’ادب کا استاد‘‘)؟ چیخوف کے اولین نقاد ان فالتو تفصیلات کو مصنف کی کم فہمی گردانتے ہیں۔ لیکن اب آہستہ آہستہ زیادہ تر نقاد ان الجھاؤ والے اجزاء کو ایک کنجی کے طور پر دیکھنے لگے ہیں، لیکن کاہے کی کنجی؟

کچھ نقادوں کا استدلال ہے کہ چیخوف کی مخصوص محتاط طبعی کے پیشِ نظر یہ گمان معقول ہے کہ متن میں آنے والی ہر تفصیل کسی وجہ سے وہاں رکھی گئی ہے، باالفاظِ دیگر ہم یہ مفروضہ قائم کرنے میں حق بجانب ہیں چیخوف کی نرم رو کہانیوں میں موجود تمام اجزاء ارادتاً وہاں شامل کئے گئے ہیں لہٰذا بامقصد ہیں۔ آخر کار (چاہے ڈرامے کے تناظر میں ہی سہی) چیخوف سے یہ بھی تو منقول ہے کہ اگر ایکٹ اول میں دیوار پر ایک بندوق لٹکی ہوئی ہے تو اسے پردہ گرنے تک چل جانا چاہئے یا پھر اسے سرے سے وہاں ہونا ہی نہیں چاہئے تھا۔ اور اگر ہر بندوق کا ادھر موجود ہونا ضروری ہے تو پھر ہر ایک کا بامعنی ہونا بھی لازم ہے، حادثاتی طور پر کچھ شامل نہیں ہوتا اور فالتو اجزاء جمع کرنے کی ضرورت نہیں۔ رابرٹ ایل جیکسن کا کہنا ہے کہ ’’چیخوف کے عظیم ترین شاہکار فن پاروں میں کوئی تفصیل بے معنی نہیں۔‘‘ لہٰذا چیخوف کو اچھی طرح پڑھنے کا مطلب ہے ہر لفظ یہاں تک کہ بظاہر اتفاقی الفاظ کو بھی دھیان میں رکھنا، کہانی میں موجود علامتوں اور سراغوں پر غور و فکر ، لطیف اشاروں کی کھوج اور فریبی سادگی کی سطح سے نیچے غواصی کرتے ہوئے گہرائیوں میں پیچیدہ فن کاریوں تک رسائی، بلکہ لسانی اثرات تک پر توجہ، صوتی اتار چڑھاؤ، لحن و آہنگ اور انشقاقی سروں پر توجہ، یعنی نثر کو یوں پڑھنا جیسے نظم پڑھی جاتی ہے کہ اس کے اثرات اور اجزاء کو مکمل نظر میں رکھا جاتا ہے۔ قصہ مختصر، گہرے نیلے کپڑے کا ہر ٹکڑا کُل تخلیق کو بامعنی بنانے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔

دوسرے ان بنیادوں پر اس ’’مجموعی‘‘ طریقۂ کار پر اعتراض کرتے ہیں کہ چیخوف کی نثر کا عملی اصول اس کے بالکل الٹ ہے، یعنی ایک اتفاقی کیفیت، اور اگر اس کی کہانیوں میں کوئی تفصیل بے ربط اور دوسری چیزوں سے لاتعلق محسوس ہوتی ہے تو یہ محض اس اتفاقی اصو ل کے تحت ہے۔ کئی دفعہ ایک بندوق بس ایک بندوق ہوتی ہے، مادی دنیا کا ایک اتفاقی جزو جو اپنی ہستی سے زیادہ کسی جانب اشارہ نہیں کرتا، وہ وہاں لٹکی ہے کیوں کہ وہاں موجود ہے اور اس کے اوپر معانی ٹا نگنا کج روی کی علامت ہے۔ دوسرے لفظوں میں چیخوف کی ان انوکھی تفصیلات کا مقصد ’معنی‘ نہیں بلکہ بس ’ہونا‘ ہےاور وہ اس ’معنی سے آزاد‘ ہونے کی کیفیت کے ذریعے ہستی کی نوعیت کا ایک نمونہ پیش کرنا چاہتا ہے۔ چیخوف کی نثر اس کے انقلابی مشاہدۂ کائنات کی تجسیم ہے، دنیاوی زندگی کے منتشر اور اتفاقی ہونے کا فہم جو حادثے اور ناکارگی کی لپیٹ میں ہے۔ الیگزنڈر چوڈاکوف کا کہنا ہے کہ ربط اور مقصدیت کے گھسے پٹے مفروضوں سے چیخوف کی آزادی ہی وہ خاصیت ہے جو اس کے فن کو جدید اور غیراعتقادی بناتی ہے، ہر شے کو علامت یا کسی اور چیز کے جانب اشارے کے طور پر دیکھنا غلط فہمی ہے۔

دونوں تنقیدی آراء میں سے خواہ کوئی بھی درست ہو، بہرحال دونوں کسی نہ کسی جانب راہنمائی کرتی ہیں، اور اپنے متضاد مفروضوں کے باوجود اس سوال پر غورو فکر کے لئے مشترکہ طور پر مشغول ہیں کہ کہانیاں کیسے کام کرتی ہیں۔ واقعہ یہ ہے دونوں قسم کے استدلال کی مشترکہ بنیاد تو یہی سوال ہے جس نے مباحثے کو قوت اور مواد فراہم کیا ہے۔ اس جلد میں موجود مضامین کے اقتباسات تنقیدی سرحدوں کے دونوں جانب بلکہ وسط سے بھی شامل کئے گئے ہیں، اور خاص طور پر اسی جاری قضیے سے تعلق رکھتے ہیں کہ چیخوف کو کیسے پڑھا جائے۔ پہلے حصے ’رجحانات‘ میں وہ مضامین شامل ہیں جو اس سوال سے مفصل بحث کرتے ہیں۔ لیکن چیخوف کی نثر پر مجرد بحث بس کچھ ہی آگے لے جا سکتی ہے، چیخوف خود بھی عمومیت پسندی سے خائف تھا اور اس کا کام بھی اس سے گریز کرتا ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں کہ چیخوف پر ہوا تمام زندہ تنقیدی کام اس کی چنیدہ کہانیوں کے بغور مطالعے پر مشتمل ہے۔ لہٰذا مضامین کے دوسرے حصے ’تعبیرات‘ کو یہ واضح کرنے کے لئے جمع کیا گیا ہے کہ بغور مطالعہ کیا ہوتا ہے اور کچھ صورتوں میں ایک ہی کہانی مختلف زاویوں سے کتنی مختلف نظر آتی ہے۔ زاویہ ہائے نظر خواہ کچھ بھی ہوں، یہ تمام مطالعے یہی ثابت کرتے ہیں کہ دلچسپ چیزیں تبھی نمودار ہوتی ہیں جب یکسوئی سے توجہ دی جائے۔دلچسپ ترین تعبیرات دوبارہ پڑھنے پر سامنے آتی ہیں، یعنی متن پر معمول سے ہٹ کر نظر ڈالے جانے پر نہ صرف یہ راز افشا ہوتا ہے کہ چیزیں اتنی سادہ نہیں ہوتیں جتنی نظر آتی ہیں بلکہ یہ بھی کہ چیخوف کی کہانیاں پراسرار کیفیات لئے ہیں۔

اگر کسی انفرادی کام کی صرف ایک جہت کے سیاق و سباق میں اتنا مفید اختلاف سامنے آ سکتا ہے تو جزو کے کُل سے باہمی تعلق کے سوال پر اتنے ہی دلچسپ نتائج سامنے آتے ہیں، یعنی یہ غور و فکر کہ چیخوف کی ایک کہانی کس طرح دوسری کہانیوں سے جڑی ہوئی ہے۔ یقیناً زیادہ سے زیادہ لطف اور قدردانی کے لئے قارئین کو انفرادی اور مجموعی طور پر دونوں طریقوں سے کہانیوں کا مطالعہ کرنا چاہئے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ یہ رنگ برنگی کہانیاں اپنی تنہائی میں کیا ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کیا بن جاتی ہیں۔ یہ ہمارے اندر دہرائی جانے والی دھنوں، آہنگ، ساخت اور اشاروں کنایوں کی آگہی کو جلا بخشتی ہیں، ساتھ ہی ہمیں یہ بھی احساس ہوتا ہے کہ ہم مستقل اخلاقی سوالات سے نبرد آزما ہیں۔ ہر کہانی اشاراتی طریقوں سے دوسری کہانیوں سے منسلک ہوتی ہے اور ہر دوسری ہر چیز کے ساتھ مل کر اپنے آہنگ میں مزید تیزی لے آتی ہے۔

لطف کی بات بھی اہم ہے اور چیخوف کو کیسے پڑھنے کا سوال ان ادیبوں اور نقادوں کی پیچیدہ ترجیحات تک تو محدود نہیں جو مجموعے وضع کرتے ہیں اور علمی تعبیرات پیش کرتے ہیں۔ کھری جستجو، راستوں کی تلاش، غیر سے ایک مثبت جذباتی مناسبت، کسی دوسرے کے درد تک رسائی، یہ یاد دہانی کے ہم سب ایک کل کا جزو ہیں اور علیحدہ نہیں: یہ سب کچھ بھی چیخوف کی کہانیوں کا ایک مقصد ہے۔ وہ جو چیخوف کو اس لئے پڑھتے ہیں کہ وہ خود مصنفین ہیں، مناسبت اور تعلق کا یہ احساس اس کی فن کاری ظاہر کرتا ہے۔ جو چیخوف کو لطف کی خاطر پڑھتے ہیں، یہ مناسبت یقیناً اس کے فن کا منبع ہے۔

چیخوف کی کہانیاں کیوں پڑھی جائیں؟ کیوں کہ یہ ہمارے فہم کا دائرہ وسیع کرتی ہیں اور لطف و بیدار ی کا باعث ہیں۔ کیوں کہ یہ ہمیں ہر قسم کے رشتے جوڑنے پر ابھارتی ہیں۔ کیوں کہ فہم کی مسلسل کوشش کے ذریعے نقاط ملاتے ہوئے ہم معانی اور حُسن کے قریب ہو جاتے ہیں۔ کیوں کہ یہ کوشش ہی کہانی کو اس کی شکل دیتی ہے اور اس کے مواد کو ایک سلسلے میں پروتی ہے، تشکیل اور معنی کی تشکیل کا کام ہمیں اندر سے مالا مال کر دیتا ہے۔ کیوں کہ کہانیاں ہمیں زندگی کی ان جہتوں پر غور وفکر کی جانب واپس لے جاتی ہیں جو پہلی نظر میں ہماری توجہ حاصل کرنے سے قاصر رہتی ہیں۔ کیوں کہ سوال سے نبرد آزما ہونے میں ہی ہم ایک بھرپور اور اچھی زندگی گزارنے لگتے ہیں کہ چیخوف سے کیسے زیادہ سے زیادہ حاصل کیا جائے ۔

news-1701

sabung ayam online

yakinjp

yakinjp

rtp yakinjp

slot thailand

yakinjp

yakinjp

yakin jp

yakinjp id

maujp

maujp

maujp

maujp

slot mahjong

SGP Pools

slot mahjong

sabung ayam online

slot mahjong

SLOT THAILAND

article 328000631

article 328000632

article 328000633

article 328000634

article 328000635

article 328000636

article 328000637

article 328000638

article 328000639

article 328000640

article 328000641

article 328000642

article 328000643

article 328000644

article 328000645

article 328000646

article 328000647

article 328000648

article 328000649

article 328000650

article 328000651

article 328000652

article 328000653

article 328000654

article 328000655

article 328000656

article 328000657

article 328000658

article 328000659

article 328000660

article 888000061

article 888000062

article 888000063

article 888000064

article 888000065

article 888000066

article 888000067

article 888000068

article 888000069

article 888000070

article 888000071

article 888000072

article 888000073

article 888000074

article 888000075

article 888000076

article 888000077

article 888000078

article 888000079

article 888000080

article 888000081

article 888000082

article 888000083

article 888000084

article 888000085

article 888000086

article 888000087

article 888000088

article 888000089

article 888000090

article 868100051

article 868100052

article 868100053

article 868100054

article 868100055

article 868100056

article 868100057

article 868100058

article 868100059

article 868100060

article 868100061

article 868100062

article 868100063

article 868100064

article 868100065

article 868100066

article 868100067

article 868100068

article 868100069

article 868100070

article 868100071

article 868100072

article 868100073

article 868100074

article 868100075

article 868100076

article 868100077

article 868100078

article 868100079

article 868100080

cuaca 898100041

cuaca 898100042

cuaca 898100043

cuaca 898100044

cuaca 898100045

cuaca 898100046

cuaca 898100047

cuaca 898100048

cuaca 898100049

cuaca 898100050

cuaca 898100051

cuaca 898100052

cuaca 898100053

cuaca 898100054

cuaca 898100055

cuaca 898100056

cuaca 898100057

cuaca 898100058

cuaca 898100059

cuaca 898100060

cuaca 898100061

cuaca 898100062

cuaca 898100063

cuaca 898100064

cuaca 898100065

cuaca 898100066

cuaca 898100067

cuaca 898100068

cuaca 898100069

cuaca 898100070

cuaca 898100071

cuaca 898100072

cuaca 898100073

cuaca 898100074

cuaca 898100075

cuaca 898100076

cuaca 898100077

cuaca 898100078

cuaca 898100079

cuaca 898100080

cuaca 898100081

cuaca 898100082

cuaca 898100083

cuaca 898100084

cuaca 898100085

cuaca 898100086

cuaca 898100087

cuaca 898100088

cuaca 898100089

cuaca 898100090

cuaca 898100091

cuaca 898100092

cuaca 898100093

cuaca 898100094

cuaca 898100095

cuaca 898100096

cuaca 898100097

cuaca 898100098

cuaca 898100099

cuaca 898100100

cuaca 898100101

cuaca 898100102

cuaca 898100103

cuaca 898100104

cuaca 898100105

cuaca 898100106

cuaca 898100107

cuaca 898100108

cuaca 898100109

cuaca 898100110

cuaca 898100111

cuaca 898100112

cuaca 898100113

cuaca 898100114

cuaca 898100115

cuaca 898100116

cuaca 898100117

cuaca 898100118

cuaca 898100119

cuaca 898100120

cuaca 898100121

cuaca 898100122

cuaca 898100123

cuaca 898100124

cuaca 898100125

cuaca 898100126

cuaca 898100127

cuaca 898100128

cuaca 898100129

cuaca 898100130

cuaca 898100131

cuaca 898100132

cuaca 898100133

cuaca 898100134

cuaca 898100135

article 710000051

article 710000052

article 710000053

article 710000054

article 710000055

article 710000056

article 710000057

article 710000058

article 710000059

article 710000060

article 710000061

article 710000062

article 710000063

article 710000064

article 710000065

article 710000066

article 710000067

article 710000068

article 710000069

article 710000070

article 710000071

article 710000072

article 710000073

article 710000074

article 710000075

article 710000076

article 710000077

article 710000078

article 710000079

article 710000080

article 999990011

article 999990012

article 999990013

article 999990014

article 999990015

article 999990016

article 999990017

article 999990018

article 999990019

article 999990020

article 999990021

article 999990022

article 999990023

article 999990024

article 999990025

article 999990026

article 999990027

article 999990028

article 999990029

article 999990030

article 999990031

article 999990032

article 999990033

article 999990034

article 999990035

article 999990036

article 999990037

article 999990038

article 999990039

article 999990040

cuaca 638000001

cuaca 638000002

cuaca 638000003

cuaca 638000004

cuaca 638000005

cuaca 638000006

cuaca 638000007

cuaca 638000008

cuaca 638000009

cuaca 638000010

cuaca 638000011

cuaca 638000012

cuaca 638000013

cuaca 638000014

cuaca 638000015

cuaca 638000016

cuaca 638000017

cuaca 638000018

cuaca 638000019

cuaca 638000020

news-1701
news-0801

yakinjp


sabung ayam online

yakinjp

yakinjp

rtp yakinjp

yakinjp

yakinjp

judi bola online

slot thailand

yakinjp

yakinjp

yakinjp

yakinjp

ayowin

mahjong ways

judi bola online

mahjong ways 2

JUDI BOLA ONLINE

maujp

maujp

sabung ayam online

maujp

maujp

maujp

maujp

sabung ayam online

mahjong ways slot

sbobet88

live casino online

Situs Agen Togel

MAUJP

118000021

118000022

118000023

118000024

118000025

118000026

118000027

118000028

118000029

118000030

118000031

118000032

118000033

118000034

118000035

118000036

118000037

118000038

118000039

118000040

118000041

118000042

118000043

118000044

118000045

118000046

118000047

118000048

118000049

118000050

128000021

128000022

128000023

128000024

128000025

128000026

128000027

128000028

128000029

128000030

128000031

128000032

128000033

128000034

128000035

128000036

128000037

128000038

128000039

128000040

128000041

128000042

128000043

128000044

128000045

128000046

128000047

128000048

128000049

128000050

138000021

138000022

138000023

138000024

138000025

138000026

138000027

138000028

138000029

138000030

138000031

138000032

138000033

138000034

138000035

138000036

138000037

138000038

138000039

138000040

138000041

138000042

138000043

138000044

138000045

138000046

138000047

138000048

138000049

138000050

148000026

148000027

148000028

148000029

148000030

148000031

148000032

148000033

148000034

148000035

148000036

148000037

148000038

148000039

148000040

148000041

148000042

148000043

148000044

148000045

148000046

148000047

148000048

148000049

148000050

148000051

148000052

148000053

148000054

148000055

148000056

148000057

148000058

148000059

148000060

148000061

148000062

148000063

148000064

148000065

148000066

148000067

148000068

148000069

148000070

158000041

158000042

158000043

158000044

158000045

158000046

158000047

158000048

158000049

158000050

158000051

158000052

158000053

158000054

158000055

158000056

158000057

158000058

158000059

158000060

158000061

158000062

158000063

158000064

158000065

158000066

158000067

158000068

158000069

158000070

168000011

168000012

168000013

168000014

168000015

168000016

168000017

168000018

168000019

168000020

168000021

168000022

168000023

168000024

168000025

168000026

168000027

168000028

168000029

168000030

168000031

168000032

168000033

168000034

168000035

168000036

168000037

168000038

168000039

168000040

178000036

178000037

178000038

178000039

178000040

178000041

178000042

178000043

178000044

178000045

178000046

178000047

178000048

178000049

178000050

178000051

178000052

178000053

178000054

178000055

178000056

178000057

178000058

178000059

178000060

178000061

178000062

178000063

178000064

178000065

188000141

188000142

188000143

188000144

188000145

188000146

188000147

188000148

188000149

188000150

188000151

188000152

188000153

188000154

188000155

188000156

188000157

188000158

188000159

188000160

188000161

188000162

188000163

188000164

188000165

188000166

188000167

188000168

188000169

188000170

198000031

198000032

198000033

198000034

198000035

198000036

198000037

198000038

198000039

198000040

198000041

198000042

198000043

198000044

198000045

198000046

198000047

198000048

198000049

198000050

198000051

198000052

198000053

198000054

198000055

198000056

198000057

198000058

198000059

198000060

218000021

218000022

218000023

218000024

218000025

218000026

218000027

218000028

218000029

218000030

218000031

218000032

218000033

218000034

218000035

218000036

218000037

218000038

218000039

218000040

218000041

218000042

218000043

218000044

218000045

218000046

218000047

218000048

218000049

218000050

228000016

228000017

228000018

228000019

228000020

228000021

228000022

228000023

228000024

228000025

228000026

228000027

228000028

228000029

228000030

228000031

228000032

228000033

228000034

228000035

228000036

228000037

228000038

228000039

228000040

228000041

228000042

228000043

228000044

228000045

228000046

228000047

228000048

228000049

228000050

238000001

238000002

238000003

238000004

238000005

238000006

238000007

238000008

238000009

238000010

238000011

238000012

238000013

238000014

238000015

238000016

238000017

238000018

238000019

238000020

news-0801