منٹو

یہ گلدان میرے لئے ایک مصیبت بنا ہوا ہے۔اِس سے آنے والی غیر ضروری خوشبو نے میرا جینا دوبھر کر دیا ہے۔یہاں تک کہ یہ خوشبو میرے معمولات میں خلل کا سبب بن رہی ہے۔

ممکن ہے کبھی کسی نے اس میں ایسے پھول رکھ دیے ہوں یا ایسا عطر چھڑک دیا ہو جس کی خوشبو بہت دیرپا ہے۔میں پیتل کے اِس گلدان کو کئی بار دھو چکا ہوں لیکن یہ خوشبو جانا تو دور کی بات، کم ہونے کا نام بھی نہیں لیتی۔یہ ایک قدیم اور قیمتی گلدان ہے اور گلدان کی حد تک مجھے بے حد پسند ہے۔میں نے اسے نوادرات کی دکان سے مہنگے داموں خریدا تھا۔میں اسے کہیں پھینکنا بھی نہیں چاہتا۔میں نے ایک سے زیادہ مرتبہ اسے کمرے سے باہر رکھ کر بھی دیکھا ہے لیکن اس سے بھی فرق نہیں پڑا اور میں یہ فیصلہ نہیں کر سکا کہ یہ غیر ضروری خوشبو میرے کمرے میں رچ بس گئی ہے یا یہ گلدان کمرے سے باہر رہ کر بھی کمرے کو مہکا رہا ہے۔اس خوشبو کی وجہ سے میری طبیعت بوجھل رہنے لگ گئی ہے اور میں کوئی بھی کام توجہ اور انہماک سے کرنے کے قابل نہیں رہا ہوں۔

میں جانتا ہوں کہ اس مسئلے کا حل منٹو کے پاس ہے مگر منٹو سے ملنا آسان نہیں ہے۔

منٹو جب اس قصبے میں آیا تھا تو لوگ اسے ایک عام شعبدہ گر کی حیثیت سے جانتے تھے۔ابتدا میں اس نے جو شعبدے دکھائے تھے وہ بہت کم لوگوں کو یاد ہیں۔اس کی شہرت کا آغاز اس وقت ہوا جب اس نے ایک بد بو دار رومال کو مجمع کے سامنے خوشبو دار بنا دیا اور ایک خوشبودار پھول سے خوشبو ختم کردی۔یہ رومال اس نے مجمع میں موجود ایک شخص سے لیا تھا جسے سارا مجمع پہلے سے جانتا تھااور پھول ،پھولوں کی دکان سے سب کے سامنے منگوایا گیا تھا۔

کچھ لوگوں کا تب بھی یہی خیال تھا کہ یہ دھوکا ہے، یہ شخص آنکھ بچا کر بدبو یا خوشبو چیزوں پر چھڑک دیتا ہوگا، لیکن جب دو بار دھلنے کے بعد بھی اس رومال میں پہلے جتنی خوشبو موجود رہی تو لوگوں نے منٹو کو آزمانے کا فیصلہ کر لیا۔

اس آزمائش کو دیکھنے وہ لوگ بھی کھنچے چلے آئے جو اس طرح کے مجمع میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔لوگ مختلف طرح کی بدبو دار اور خوشبودار چیزیں اٹھا لائے تھے۔ سب حیران رہ گئے جب ایک بڑے مجمع کے سامنے منٹو نے اُس تازہ گلاب میں بدبو پیدا کر دی جسے ایک شخص خود توڑ کر لایا تھا اورمختلف چیزوں میں لوگوں کی مرضی کے مطابق بدبو یا خوشبو ڈال دی۔منٹو کو اندازہ تھا کہ لوگ اس کے لباس پر بھی شک کریں گے کہ کہیں اس نے کوئی چیز لباس میں نہ چھپا رکھی ہو۔آغازہی میں اس نے ایک ایک کرکے سارا لباس اتار دیا،اُس جانگیے کے علاوہ جسے اتارنے کی لوگوں نے اجازت نہیں دی۔

منٹو نے لوگوں کی خواہش کے مطابق چیزوں کی خوشبو کوبڑھا بھی دیا، بدبو کو کم یا زیادہ کرکے بھی دکھا دیا، بدبو اور خوشبو کو ایک دوسرے سے بدل بھی دیا اور ہر طرح کی بو کو ختم بھی کر دیا۔

وہ بدبو اور خوشبو کا دورانیہ بھی لوگوں کی خواہش کے مطابق کم یا زیادہ کر سکتا تھا۔ایک پھول جس میں ایک دن تک بدبو آئی ، پھر اس کی اصل خوشبو بحال ہو گئی، ایک رومال جس میں صرف رات کے وقت خوشبو آتی تھی، ایک لباس جو ایک ہفتے تک خوشبو دیتا رہا اور ایک برتن جو ایک مہینے تک مہکتا رہا۔

قصبے اور اس کے نواحی علاقوں میں شہرت کے لئے یہ سب کافی تھا۔منٹو کی شہرت اس وقت تمام حدیں پار کر گئی جب ایک دن اس نے ایک بد صورت شخص کے چہرے پر ہاتھ رکھا،کچھ پڑھا، سات مرتبہ ہاتھ پھیرا اور جب ساتویں مرتبہ ہاتھ ہٹایا تو وہ ایک خوبصورت یا احتیاطاًیوں کہیے کہ بہت حد تک قبول صورت شخص بن چکا تھا۔اِس کمال نے منٹو کی مقبولیت کو چار چاند لگا دیے۔عورتوں میں یہ کمال ایسا مقبول ہوا کہ عام آدمی کے لئے منٹو سے ملنا ہی مشکل ہو گیا۔

ابتدائی طور پر منٹو نے اپنے شعبدے بازار میں،چوراہے پر، کسی گلی کے کونے پرمجمع لگا کر دکھانے شروع کیے لیکن اپنی شہرت میں اضافے کے ساتھ اسے چوراہے کی اس دکان میں منتقل ہونا پڑاجس میں ایک کرسی ،مختصر سامان اور ایک بیاض کے علاوہ کچھ نہ تھا اور جہاں لوگ اپنے اپنے مسائل حل کروانے آتے تھے۔

منٹو کے علاوہ دوسرا شخص، جو منٹو کی غیر موجودگی میں بھی اس دکان میں موجود رہتا تھا، فضل تھا۔منٹو کے قصبے میں آنے سے پہلے فضل اپنے دن رات قصبے کے بازار میں یا چوراہے پر کسی بھی جگہ بسر کر لیا کرتا تھا۔لوگ اُسے کھانے پینے اور پہننے کی چیزیں دے دیتے تھے لیکن اس سے زیادہ الجھنے سے گریز کرتے تھے۔ اس کی بڑی وجہ وہ گالیاں تھیں جو وہ بات بات پر اور کبھی کبھی کسی وجہ کے بغیر بھی دیتا رہتا تھا۔لوگ اسے پاگل سمجھتے تھے اور اس کی گالیوں پر بھی اس سے گریز ہی کو ترجیح دیتے تھے۔منٹو کے دکان میں منتقل ہونے کے بعد فضل کو ایک مستقل ٹھکانہ مل گیا تھااور اسے منٹو کے خدمت گار کے طور پر جانا جانے لگا تھا۔

خوب صورتی کا جادو دکھانے کے بعد اس کے پاس لوگوں کی بڑی تعداد آنے لگی جن میں اکثریت عورتوں کی تھی۔لوگوں کو اس بات پر بھی یقین تھا کہ جو شخص چیزوں میں حسن اور خوشبو پیدا کر سکتا ہے، وہ بیماریوں کا علاج بھی کر سکتا ہے۔ اگر ابھی نہیں تو کبھی نہ کبھی وہ ایسا ضرور کرے گا۔

مجمع زیادہ بڑھا تو عورتوں نے منٹو کو ہی اپنے پاس بلوانا شروع کر دیا۔یوں منٹو سے ملنے کے اوقات مقرر رہے نہ مقام۔منٹو کا زیادہ وقت اُن عورتوں کے پاس گزرنے لگا جن کی شہرت عام لوگوں کی نظر میں اچھی نہیں تھی۔اس بات نے خود منٹو کی شہرت کو بھی نقصان پہنچایا،لیکن منٹو کو، جو بدصورتی اور خوبصورتی ،اور بدبو اور خوشبو کو ایک دوسرے سے بدل دینے کا ماہر تھا، اچھے یا برے سے کیافرق پڑ سکتا تھا۔

منٹو کی دکان پر آنے والے طویل انتظار کی زحمت سے گزرنے لگے ، وہ بھی فضل کی موجودگی میں جو کسی بھی وقت گالیوں کا انبار لگا سکتا تھا۔

منٹو اُس کا اصل نام نہیں تھا۔ اس نے کبھی کسی مجمع میں اپنا نام نہیں بتایا۔جب اس کی شہرت بڑھی تو لوگوں کو ایک نام کی ضرورت پیش آئی جس سے وہ اسے پکار سکیں۔اس سے جب بھی اس کا نام پوچھا گیا اس نے اس سوال کواپنے کسی شعبدے کے نیچے دبا دیا۔

لوگوں کو اسے منٹو کا نام دینا پڑا کہ اس کا حلیہ اور شکل کافی حد تک ایک تاجر سے ملتے تھے جو منٹو کے نام سے مشہور تھااور قصبے میں نصف صدی تک اپنا کاروبار چلانے کے بعد مر چکا تھا۔یہ بھی ایک اتفاق تھا کہ چوراہے کی یہ دکان جسے منٹو نے اپنا ٹھکانہ بنایا تھا،دراصل تاجر منٹو کی دکان تھی جو اس کے ورثاء نے بیچ دی تھی۔کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ جادوگر دراصل اس منٹو کا بیٹا ہے،یہ کہیں چلا گیا تھا اور اب اپنے باپ کے مرنے کے بعد واپس لوٹا ہے،جبکہ سارا قصبہ جانتا تھا کہ تاجر منٹو بے اولاد تھا۔

منٹو کو اپنے نام پر کوئی اعتراض نہیں تھا، وہ جانتا تھا کہ لوگ اسے منٹو کہتے ہیں ،سو جب کوئی اسے منٹو کہہ کر پکارتا تو وہ متوجہ ہو جایا کرتا تھا۔

میں جب اس قصبے میں آیا تو منٹو کی شناخت ایک جادوگر کی حیثیت سے ہو چکی تھی۔میرے یہاں آنے کا مقصد بظاہر تو کاروبار ہی تھا،لیکن درحقیقت مجھے منٹو کی شہرت نے بھی بہت متاثر کیا تھا۔

منٹو کے پاس آنے والوں میں بڑی تعداد اُن لوگوں کی بھی تھی،جو منٹو سے یہ جادو سیکھنا چاہتے تھے۔میں بھی ان میں شامل تھا۔منٹو نے نہ تو کبھی کسی کو کچھ سکھایا،نہ ہی شاگردی میں آنے کے لئے کسی کی حوصلہ افزائی کی۔شاگرد بننے اور سیکھنے کے خواہش مند پھر بھی اس کی کرسی کے سامنے بیٹھے رہتے اور دیکھتے رہتے کہ وہ کیا کر رہا ہے۔

جس چیز میں خوشبو پیداکرنا ہوتی،وہ اسے دائیں ہاتھ میں اٹھاتا،پھر کچھ پڑھنا شروع کر دیتا، پھر بائیں ہاتھ میں اچھال دیتا۔ یوں وہ سات مرتبہ ہاتھ تبدیل کرتا۔کوئی برتن ہوتا تو ہر باروہ ہاتھ تبدیل کرتے ہوئے اسے الٹا کر کے جھاڑتا،اگر لباس ہوتا تو آغازہی میں اسے الٹا کر کے جھٹک لیتا۔اگر بدبو پیدا کرنا مقصود ہوتا تو وہ بائیں ہاتھ سے آغاز کرتا۔کبھی کبھی وہ یہ عمل دو بار بھی کیا کرتا تھا۔لیکن ہر بار عمل کے بعد نتیجہ وہی برآمد ہوتا جو اس چیز کو لانے والا چاہتا تھا۔

سڑک کنارے مجمع لگانے سے دکان میں بیٹھنے تک،اس نے کبھی کسی سے کچھ نہیں مانگا۔لوگ اپنی مرضی اور خوشی سے رقم یا تحائف اُسے یا فضل کو تھما جاتے تھے۔

سیکھنے والوں کے لئے معمہ یہ تھا کہ وہ پڑھتا کیا ہے۔اسی جستجو میں لوگوں کی توجہ کا مرکز وہ بیاض بن گئی جو دکان میں کرسی کے پاس رکھی ہوتی تھی۔پھر ایک دن ایک شخص نے منٹو اور فضل کی موجودگی میں ہمت کرکے وہ بیاض اٹھائی اور اسے پڑھنا شروع کر دیا۔منٹو نے اسے منع نہیں کیا۔فضل نے اسے گھور کر دیکھا لیکن منٹو کی خاموشی کی وجہ سے خود بھی خاموش رہا۔پھر اس نے وہ کلام نقل کرنا شروع کر دیا۔منٹو نے تب بھی کوئی توجہ نہیں دی۔فضل نے بھی کچھ نہیں کہا۔

اس کے بعد کچھ ہی دنوں میں تمام سیکھنے والوں نے وہ بیاض ایک ایک کرکے اپنے پاس نقل کر لی۔نقل کرنے والوں میں میں بھی شامل تھا۔نقل کرنے کا یہ عمل منٹو کی موجودگی میں ہی ممکن تھا،اس کی غیر موجودگی میں فضل اس کی کسی چیز کو ہاتھ بھی نہیں لگانے دیتا تھا۔

پھر ایک دن ایک شاگرد نے یہ دعویٰ کیا کہ اسے وہ جادو آگیا ہے جس کے لئے منٹو مشہور ہے۔منٹو کے کمیاب ہونے سے فائدہ اٹھا کر اس شاگرد نے چوراہے سے کچھ فاصلے پر ایک دکان میں بیٹھنا شروع کر دیا۔منٹو کے طویل انتظار سے پریشان لوگ اس کے پاس جانے لگے۔

پھر کچھ دن کے وقفے سے ایک اور شاگرد سامنے آگیا۔اس کا بھی یہی دعویٰ تھا۔اس نے بھی قصبے میں ایک جگہ اپنا ٹھکانہ بنا لیا۔ہفتہ بھی نہیں گزرا تھا کہ ایک اور شاگرد یہی دعویٰ کرتا پایا گیا۔اس نے قصبے کی بجائے نواح کا رخ کیا۔پھر کچھ اور شاگرد مختلف سمتوں میں روانہ ہوئے۔

نواح سے خبر آئی کہ ایک شخص نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ وہ دراصل منٹو کا نہیں منٹو کے استاد کا شاگرد ہے۔یعنی منٹو کا ہم منصب ہے۔ایک اور شخص نے تو حد ہی کر دی جب اُس نے خود کو منٹو کا استاد قرار دے دیااور دعویٰ کیا کہ منٹو نے دراصل اُس سے یہ ہنر سیکھا ہے؛وہ اب تک اِس لیے خاموش تھاکہ اس کا چہیتا شاگرد منٹو پہلے اپنا نام بنا لے،وہ خود تو بنا ہی لے گا، منٹو کا استاد جو ہوا۔

منٹو کے معمولات میں اِس سے ذرا بھی فرق نہیں پڑا۔

میں یہ ہنر صرف سیکھنے کے لئے سیکھنا چاہتا تھا۔ میرامقصد نہ تو کوئی ٹھکانہ بنا کر دولت کمانا تھا،نہ ہی کوئی دعویٰ کرنا۔میری خواہش تھی کہ گلدان سے آنے والی غیر ضروری خوشبو کو یہ ہنر سیکھ کر میں خود کم کروں۔

بیاض کے کلام کو اپنے پاس نقل کرنے کے بعد، پہلے تو میں نے اُس کلام کو بغور پڑھا۔وہ کلام کچھ شاعری، کچھ کہانیوں اور کچھ بے ربط اور نہ سمجھ آنے والی تحریروں پر مشتمل تھا۔بہت سے ایسے لفظ تھے جن کا مطلب میں نہیں سمجھ سکتا تھا۔میں نے تجربات شروع کر دیے۔

میں نے اپنے ذہن میں وہ عمل دہرایا جو منٹو کیا کرتا تھا، پھر بائیں ہاتھ میں گلدان پکڑ کر ایک کلام کو پڑھنا شروع کر دیااور گلدان کو بائیں سے دائیں اور دائیں سے بائیں ہاتھ میں بالکل اُسی طرح گھماتا رہاجس طرح منٹو گھمایا کرتا تھا۔پھر دوسرا کلام، پھر تیسرا…………….

یہ ایک صبر آزما کام تھا۔ تیسرے دن تک میں بیاض میں موجود سارا کلام پڑھ کر تھک چکا تھا اور یہ تسلیم کر چکا تھا کہ منٹو جو کچھ پڑھتا ہے اُس کا اِس بیاض سے کوئی تعلق نہیں ہے۔دو دن بعد مجھے ایک خیال آیا اور میں نے ایک بار پھر نئے جذبے کے ساتھ وہ عمل شروع کیا۔اِس بار میں نے سارے کلام کو الٹا پڑھا۔ایسا کرتے ہوئے مجھے زیادہ وقت لگا۔ساتویں دن جب میں کلام کا ایسا حصہ پڑھ رہا تھاجو نامانوس الفاظ پر مشتمل تھا، مجھے محسوس ہوا کہ گلدان کی خوشبو ختم ہو گئی ہے۔یہ ایک بہت بڑی کامیابی تھی۔میں نے بار بار گلدان کو سونگھا ، مجھے یقین نہیں آرہا تھا۔میں اپنی کامیابی کی تصدیق کرنا چاہتا تھا۔

میں گلدان کو لے کر باہر نکلا۔گلی کے کونے پر،پرچون کی دکان پر بیٹھا دکان دار مجھے فارغ نظر آیا۔میں تیز تیز قدم اُٹھاتا اُس کے پاس گیا۔ گلدان اُس کی طرف بڑھاتے ہوئے میں نے کہا’’اِسے سونگھیے۔‘‘

منٹو کی وجہ سے سارا قصبہ خوشبو اور بدبو سونگھنے کا عادی ہو چکا تھا۔دکان دار کو حیرت نہیں ہوئی۔اُس نے گلدان کو سونگھا۔میں بغور اُس کے چہرے کا جائزہ لینے لگا۔اس نے دوبارہ سونگھا، پھر تیسری بار، پھر چوتھی بار،جیسے وہ کسی فیصلے پر نہیں پہنچ پا رہا ہو۔ مجھ سے صبر نہیں ہو سکا۔

’’کوئی بو نہیں ہے نا!‘‘

دکان دار خاموش رہا۔میں پھر بول اٹھا۔

’’خوشبو تو نہیں ہے نا!‘‘

دکان دار نے ایک نظر میری طرف دیکھا، ایک بار اور گلدان کو سونگھا اور بولا

’’ہاں،خوشبو تو نہیں لگتی لیکن………….‘‘

’’لیکن کیا….؟‘‘

میری بے صبری بڑھتی جا رہی تھی۔

’’کوئی بو ہے ضرور…‘‘ دکان دار نے غیر یقینی انداز میں کہا۔

’’خوشبو تو نہیں ہے نا!‘‘ میں نے پھر زور دے کر پوچھا۔

’’ہاں …شاید…‘‘دکان دار نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔

’’خوشبو تو نہیں ہے، لیکن کوئی مدھم سی بو ہے جو نہ خوشبو ہے، نہ بد بو۔‘‘

میرے لئے یہ تصدیق کافی تھی کہ گلدان سے کم از کم خوشبو نہیں آ رہی۔میں نے گلدان واپس لیا اور خوشی خوشی اپنے کمرے میں لوٹ آیا۔میرا ایک بڑا مسئلہ حل ہو چکا تھا۔میرے بازوؤں میں درد ہو رہا تھا، اِس عمل نے مجھے اتنا تھکا دیا تھا کہ آرام کرنے کے علاوہ میں کچھ اور سوچ ہی نہیں سکتا تھا۔

مجھے اندازہ نہیں ہوا کہ میں کتنی دیر سویا ہوں لیکن جب میں اٹھا تو کمرے میں ایک نا مانوس ، بہت تیز اورناقابلِ برداشت بو موجود تھی، جو نہ خوشبو تھی،نہ بدبو۔ عین اُسی لمحے مجھے منٹو کے مقام اور مرتبے کا اندازہ ہو گیا اور اِس بات کا بھی کہ منٹو کے شاگردوں ،ہم منصبوں اور استادوں کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔

عمل ایک بار پھر شروع ہوا۔اِس بار میں نے صرف اُسی کلام کو بار بار الٹا اور پھر سیدھا پڑھا جس کے پڑھنے سے خوشبو غائب ہو گئی تھی۔تین بار الٹا اور پھر تین بار سیدھا پڑھنے کے بعدوہ نا قابلِ برداشت تیز بُو ،ایک بار پھر اُسی غیر ضروری خوشبو میں بدل چکی تھی،لیکن یہ خوشبو پہلے سے زیادہ تیز تھی۔میں عمل دہراتا رہا، یہاں تک کہ خوشبو ویسی ہی ہو گئی ،جیسی پہلے تھی۔

منٹو کا مشاہدہ کرتے ہوئے میں نے دیکھا تھا کہ ساتویں اور آخری مرتبہ وہ ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں چیزاچھالتا نہیں ہے،وہ خود اچھل کر دوسرے ہاتھ میں چلی جاتی ہے۔اتنا غور سے شاید اسے کوئی نہیں دیکھ سکا تھا۔اپنے عمل کی کامیابی کا یقین مجھے اس لئے بھی نہیں تھا کہ ساتویں مرتبہ بھی گلدان کو میں نے ہی اچھالا تھا،وہ خود اچھل کر دوسرے ہاتھ میں نہیں گیا تھا۔میں جان گیا تھا کہ منٹو اور دوسرے عمل کرنے والوں میںیہی بنیادی فرق ہے۔

منٹو کے شاگردوں کی ناکامی کی خبریں آنا شروع ہو گئیں۔یہ تمام شاگرد خوشبو اور بدبو کو کم یا زیادہ تو کر لیتے تھے،لیکن نہ اسے برقرار رکھ سکتے تھے ،نہ ان میں وہ مہارت تھی جس کے لئے منٹو مشہورتھا۔کچھ نے بدبو کم کی تو خوشبو بڑھا دی،کچھ سے بدبو کم ہی نہیں ہوئی،اور بڑھ گئی۔کچھ نے خوشبو کی بجائے ایک نامانوس،تیز اور ناقابلِ برداشت بو کا اضافہ کر دیا۔منٹو کے شاگردوں کو منہ چھپانا پڑا یا بستی ہی چھوڑنا پڑی۔منٹو کی استادی کے دعویدار کو مار تک کھانا پڑی۔اُس نے ایک دلہن کے عروسی لباس میں خوشبو ڈالی تھی جو شادی کی رات اِتنی شدید بد بو میں تبدیل ہو گئی کہ لباس کو آگ لگانا پڑی۔

میرا مسئلہ جوں کا توں ہے،گلدان اور غیر ضروری خوشبو۔میں جانتا ہوں کہ کسی بھی عمل کا کوئی فائدہ نہیں،میرا مسئلہ صرف منٹو ہی حل کر سکتا ہے۔میں اُس کی دکان پر کئی بار جا چکا ہوں اور یہ جاننے کے لئے کہ منٹو کہاں ہے،فضل سے کئی بار گالیاں کھا چکا ہوں۔اُن تمام چوباروں اور گلیوں میں بھی جا چکا ہوں،جہاں میرے عِلم کے مطابق منٹو کو ہونا چاہیے لیکن وہ مجھے کہیں نہیں ملا۔

منٹو کے دکان پر آنے کا کوئی وقت طے نہیں ہے،نہ یہ معلوم ہے کہ وہ کتنی دیر بیٹھے گا۔اور اگر منٹو مل بھی جائے اور آپ اپنا مسئلہ بتا بھی دیں، تب بھی ضروری نہیں کہ وہ آپ کے لئے فوری طور پر عمل کرنا شروع کر دے۔وہ خاموش رہتا ہے،بالکل خاموش۔یوں بھی ہوتا ہے کہ کوئی اپنا مسئلہ بیان کر رہا ہوتا ہے اور وہ اٹھ کر چل دیتا ہے۔

میں اِس خوشبو سے اِتنا تنگ آگیا ہوں کہ آخر یہ فیصلہ کر کے کہ جب تک منٹو نہیں آئے گا،میں اُس کی دکان پر بیٹھا رہوں گا،میں اُس کی دکان پر آ گیا۔اُس کی دکان پر بیٹھ کر اس کا انتظار کرنا آسان نہیں ہے۔اس کی سب سے بڑی اور واحد وجہ فضل ہے۔وہ پھٹے سے کُرتے اور میلی سی دھوتی میں ملبوس دکان پر بیٹھا رہتا ہے۔منٹو کی موجودگی میں وہ اُس کے سر میں تیل لگاتا ہے،ہاتھ پاؤں کی مالش کرتا ہے،اُس کے کھانے پینے کا خیال رکھتا ہے اور غیر موجودگی میں جب اس کا جی چاہتا ہے ،صفائی کرنے لگتا ہے،دھوتی میں ستر پوشی کا خیال رکھے بغیر لیٹا رہتا ہے یا پھر گالیاں دیتا رہتا ہے۔

وہ عام طور پر ہر سوال کے جواب میں گالیاں دیتا ہے، جی چاہے تو جواب بھی دے دیتا ہے۔اُس کی گالیاں معیار اور مقدار کے اعتبار سے اُس درجے کی ہوتی ہیں کہ عام آدمی اُن کی تاب نہیں لا سکتا۔وہ بات کرتے ہوئے ہکلاتا ہے،لیکن گالیاں روانی سے دیتا ہے۔دکان پر جو بھی منٹو کا پتا کرنے آتا ہے،اُسے منٹو کا پتا چلے نہ چلے،فضل کی گالیاں ضرور سننا پڑتی ہیں۔

اِس واقعے سے پہلے فضل کا نام کیا تھا، یہ اب کسی کو یاد نہیں۔ منٹو کے قصبے میں آنے سے پہلے کی بات ہے کہ ایک دن مسجد میں اذان شروع ہوئی تو فضل نے اونچی آواز میں گالیاں دینا شروع کر دیں۔لوگوں نے اِس بات کا بُرا منایا لیکن نظر انداز کر دیا۔لیکن جب اگلی اذان شروع ہوتے ہی فضل نے ایک بار پھربلند آواز میں غلیظ گالیوں کا سلسلہ شروع کیا تو ہنگامہ برپا ہو گیا۔لوگ فضل کو مارنے کے لئے چڑھ دوڑے۔ اپنے دفاع کے لئے فضل کے پاس مزید گالیاں تھیں۔کچھ لوگوں نے بیچ بچاؤ کرایا اور اُس کی دماغی حالت کا فائدہ دے کے زیادہ زخمی ہونے سے بچا لیا۔

تحقیقات سے پتا چلا کہ دراصل فضل کو اذان سے کوئی مسئلہ نہیں تھا،اُس آواز سے تھا جو اذان بن کر فضل کے کانوں تک پہنچ رہی تھی۔یہ آواز مولوی فضل کی تھی۔مولوی فضل عام طور پر اذان نہیں دیتا تھا لیکن اُس دن مؤذن کے نہ ہونے کی وجہ سے اُسے اذان دینا پڑی تھی۔فضل کو مولوی فضل سے اِتنی چڑ تھی کہ وہ اُس کی آواز بھی برداشت نہیں کر سکتا تھا۔

مولوی فضل نے اذان کی آواز پر گالیاں دینے کے جرم میں فضل کو واجب القتل قرار دے دیا۔بیچ بچاؤ کرانے والے گروہ نے، جن میں کچھ ایسے لوگ بھی شامِل تھے جو با قاعدہ نمازی تو نہیں تھے لیکن مسجد کو باقاعدگی سے ایک بڑی رقم چندہ کے طور پر دیا کرتے تھے،مولوی فضل کو سمجھایا کہ ایک مفقود العقل شخص کو واجب القتل قرار نہیں دیا جا سکتا۔اُس گروہ نے مولوی سے درخواست کی کہ وہ اذان نہ دیا کرے۔مولوی اِس بات پر بھی طیش میں آگیا کہ ایک مسلمان کو اذان دینے سے کیسے روکا جا سکتا ہے۔

مؤذن واپس آگیا لیکن یہ مسئلہ کئی دن تک زیرِ بحث رہا۔بعدمیں جب ایک بار پھر مؤذن کہیں غائب ہوا تو مولوی فضل نے خود اذان نہیں دی۔ مولوی فضل کے حامیوں نے اِس کی وجہ یہ بتائی کہ مولوی نہیں چاہتا کہ خود اذان دے کرایک پاگل شخص کو اذان کے دوران گالیاں دینے کے انتہائی مکروہ عمل کا موقع دے، جبکہ کچھ اور لوگوں کا کہنا تھا کہ مولوی فضل کچھ لوگوں کو ،جو باقاعدہ نماز پڑھنے کے ثواب سے پہلے ہی محروم ہیں،اُن کی بات نہ مان کر،چندہ دینے کے ثواب سے بھی محروم نہیں رکھنا چاہتا۔

فضل کو مولوی فضل سے کیوں چڑ تھی،اس پر لوگوں کی مختلف رائے تھی۔کچھ کے خیال میں مولوی نے اُس کے ساتھ کوئی حرکت کی تھی، ممکن ہے لڑکپن میں، اور کچھ کا کہنا تھا کہ ستر پوشی کا خیال نہ رکھنے اور منع کرنے کے باوجود مسجد کے سامنے والی نالی پر بیٹھ کر پیشاب کرنے کے جرم میں،مولوی نے اُسے اِس طرح مارا تھا کہ اُس کے نازک اعضاء بُری طرح متاثر ہوئے تھے۔

فضل کا نام اِس واقعے کے بعد سے فضل پڑا۔کچھ لوگ اُسے آتا جاتا دیکھ کر فضل کے نام سے چھیڑتے تھے اور وہ گالیاں دینا شروع کر دیتا تھا۔رفتہ رفتہ لوگ اس کا اصل نام بھول گئے اور اس نے بھی اپنی چھیڑ کو اپنے نام کے طور پر قبول کر لیا۔

اِس کی شاید ایک وجہ اور بھی ہو۔اُسے کچھ بھی کہہ کر پکار لیں ، وہ توجہ نہیں دیتا۔جب اسے فضل کہہ کر پکارا جاتا ہے تو فوراً پکارنے والے کی آنکھوں میں دیکھتا ہے۔اگر اُسے شبہ ہو جائے کہ اُسے چھیڑا جا رہا ہے تو گالیوں کی بارش شروع ہو جاتی ہے اور اگراُسے لگے کہ اسے چھیڑا نہیں گیا ،تو اُس کی مرضی ہے، جواب دے یا گالیاں۔

جب سے منٹو چوراہے کی اِس دکان میں آیا ہے، لوگوں نے فضل کو اُس کے ساتھ ہی دیکھا ہے۔وہ منٹو کی موجودگی میں بھی گالیاں دے دیتا ہے۔منٹو اُس کی گالیوں پر مسکراتا رہتا ہے۔ان دونوں کے درمیان کوئی خاص تعلق ہے جسے اُن کی آنکھوں سے محسوس کیا جا سکتا ہے، جب وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہیں۔اِس تعلق کے بارے میں لوگوں کی مختلف رائے ہے۔کچھ کے خیال میں یہ دونوں باپ،بیٹا ہیں،کچھ کے خیال میں فضل منٹو کا استاد ہے اورکچھ کے خیال میں فضل ہی دراصل منٹو ہے۔منٹو ایک روح ہے جو آتا جاتا رہتا ہے اور فضل ایک جسم ، جو ہروقت موجود رہتا ہے۔اِس خیا ل کو اِس بات سے تقویت ملی کہ ایک بار ایک شخص نے فضل سے پوچھا۔

’’منٹو کہاں ہے؟‘‘

فضل نے ضروری گالیوں کے بعد سینہ تان کر کہا۔

’’نظر نہیں آرہا؟‘‘

مجھے اِس دکان پر بیٹھے ہوئے دو دن ہو چکے ہیں لیکن منٹو نہیں آیا۔یہاں وقت گزارنے کے لئے بیاض سے بہتر کچھ بھی نہیں تھا۔طویل انتظار سے تنگ آ کر جب میں نے بیاض کو ہاتھ لگایا تو مجھے یقین تھا کہ فضل مجھے ایسا کرنے سے روک دے گا۔لیکن فضل نے صرف گالیاں دینے پر ہی اکتفا کیا،جن کا میں پہلے ہی عادی ہو چکا ہوں۔ممکن ہے وہ مجھے بیاض اٹھانے سے بھی روک دیتا اگرمیں گالیوں سے گھبرائے بغیر اُس کی طرف ایک مسکراہٹ بھری نظر نہ ڈالتا۔گالیاں کچھ دیر میں رُک گئیں لیکن بیاض بہت دیر سے میرے ساتھ ہے۔

اِس دوران میں نے اِس بیاض کو دو مرتبہ پڑھ لیا ہے۔ہر نئی خواندگی پر مجھے کچھ نئی چیزیں سمجھ آنے لگی ہیں اور میری دلچسپی کم ہونے کی بجائے بڑھتی ہی جا رہی ہے۔

میرے یہاں بہت دیر تک بیاض میں غرق بیٹھے رہنے کی وجہ سے کچھ لوگ مجھے ہی منٹو سمجھنے لگے ہیں۔کل شام نواح سے کچھ نئے لوگ آئے اوربہت دیر تک مجھے منٹو سمجھ کرخاموش بیٹھے رہے۔آخر ہمت کرکے انہوں نے پوچھا تو میں نے بتایا کہ منٹو ابھی موجود نہیں ہے۔اُن کے جانے کے بعد فضل نے میری طرف دیکھا اور عجیب سے لہجے میں پوچھا۔

’’تو بنے گا منٹو؟‘‘

میں اِس بات کا کوئی جواب نہیں دے سکا۔

منٹو کی طویل غیر حاضری نے میر ی پریشانی میں اضافہ کر دیا ہے۔اب اپنے گلدان سے زیادہ مجھے اِس بات کی فکر لاحق ہے کہ اگر منٹو نہ آیا تو کیا ہوگا۔بدبو کو تو عطرفروش عطر چھڑک کر کم کر ہی لیں گے، لیکن غیر ضروری خوشبوؤں کو کون کم کرے گا۔

ایک بار جب مجھے اپنے کمرے تک جانے کی ضرورت محسوس ہوئی،میں اس گلدان کو بھی واپس رکھ آیا جسے دو دن سے اپنے ساتھ دکان پر رکھے بیٹھا تھا اور واپسی پر ایک بار پھر ہر اُس جگہ گیا جہاں منٹو کے پائے جانے کا ذرا بھی امکان تھا۔لیکن مجھے ہر جگہ سے ایک بار پھر یہ کہ کر لوٹا دیا گیاکہ’’ابھی نہیں آیا‘‘ یا ’’بس ابھی نکلا ہے‘‘۔ میں مایوس ہوکر پھر دکان پر آ بیٹھا ہوں۔

مجھے خیال آیا کہ کہیں وہ قصبہ چھوڑ کر چلا تو نہیں گیا۔آخر میں نے فضل کو مخاطب کرنے کا خطرہ مول لے لیا۔

’’میں سارا قصبہ چھان آیا ہوں، وہ مجھے کہیں نہیں ملا۔‘‘

فضل چند لمحے میری آنکھوں میں جھانکتا رہا،پھر اچانک ہنسا اور پہلی بار گالیاں دیے بغیر ہکلاتے ہوئے بولا۔

’’وہ…..؟ کوفتے کھا رہا ہے……….کوفتے۔‘‘

مجھے کچھ اطمینان ہوا۔کچھ دیر بعد فضل اچانک بولا۔

’’وہ جادوگر نہیں ہے….!‘‘

میں نے سوالیہ نظروں سے اُس کی طرف دیکھا۔

’’وہ حکیم ہے…..حکیم۔علاج کرتا ہے……..آنکھ کا….ناک کا……زبان کا…….دل دماغ کا….‘‘

میں اُس کی باتیں سمجھ سکتا تھا لیکن زبان پر مجھے حیرت ہوئی۔مجھے لگا کہ منٹو چیزوں کے ذائقے بھی بدل سکتا ہے لیکن یہ ہنر وہ منظرِعام پر نہیں لایا،یا پھر اپنے ابتدائی دنوں میں یہ شعبدہ دکھا چکا ہے جو مقبول نہیں ہو سکا۔فضل سے مزید کچھ پوچھنا بیکار تھا۔

کچھ دیر میں ایک برقع پوش عورت کھانا لے کر آئی اور فضل کے سامنے رکھ دیا۔میں اندازہ لگا سکتا تھا کہ یہ کھانا کِس چوبارے سے آیا ہے۔ فضل نے اُسے قہر آلود نظروں سے گھورا اور گالیوں کی بوچھاڑ کر دی۔عورت خاموش کھڑی اُس کی گالیاں سنتی رہی۔فضل گالیاں دے کر تھک گیا تو بولا۔

’’اتنی دیر کر دی تو نے……اتنی دیر………جا……..دفع ہو جا….‘‘

عورت نے جھک کر ہاتھ کے اشارے سے اُسے سلام کیا اور چلی گئی۔

فضل نے کھانے کا ڈبہ کھولا۔شوربے میں کوفتے تیر رہے تھے۔فضل نے شوربے میں انگلیاں ڈبو کر ایک کوفتہ اِس طرح نکالا جیسے برسوں کا بھوکا ہو، اور کھانے لگا۔پھر میری طرف دیکھ کر بولا۔

’’کھائے گا…؟‘‘

میں نے انکار میں سر ہلا دیا۔پچھلے دو دنوں میں میں اُس کے لئے مختلف گھروں سے کھانا آتا ہوا دیکھ رہا تھا،لیکن وہ کھاتا کب تھا، اِس پر میں نے توجہ نہیں دی۔میں اُسے پہلی مرتبہ کھاتا ہوا دیکھ رہا تھا۔

فضل نے دوسرا کوفتہ نکالا اور ہنستے ہوئے بولا۔

’’ذائقہ دیکھ اِس کا…..‘‘

تیسرا کوفتہ کھاتے ہوئے فضل اچانک رُک گیا،میری آنکھوں میں جھانکا اور ہکلاتے ہوئے بولا۔

’’یہ کوفتہ….میں ایک دن باہر رکھ دوں نا………..اِس میں بو آ جائے گی…..‘‘

کچھ دیر مجھے گھورتا رہا ،پھر بولا۔

’’تو مرے گا نا……..تیرے اندر بھی بو آ جائے گی……….کچھ نہ کرو ………بو آپ ہی آجاتی ہے………ہر شے میں…..سارے جگ میں…….‘‘

کچھ دیر رکا ،پھر ایک جوش کے ساتھ ہکلائے بغیر بولا۔

’’کہاں سے آتی ہے بو، کہاں سے آتی ہے؟‘‘

کچھ دیر سوالیہ نظروں سے میری طرف دیکھتا رہا، پھرسینے پر ہاتھ مار کر بولا۔

’’اندر سے….‘‘

اُس نے تیسرا کوفتہ منہ میں رکھا، نِگلا اور چوتھا کوفتہ اٹھاتے ہوئے، میری طرف دیکھے بغیر مجھ سے مخاطب ہو کر بولا۔

’’کوفتے کھایا کر……کوفتے…..‘‘

***

news-1701

yakinjp

yakinjp

maujp

MAUJP

MAUJP

MAUJP

SATGASJITU

article 48666670301

article 48666670302

article 48666670303

article 48666670304

article 48666670305

article 48666670306

article 48666670307

article 48666670308

article 48666670309

article 48666670310

article 48666670311

article 48666670312

article 48666670313

article 48666670314

article 48666670315

article 48666670316

article 48666670317

article 48666670318

article 48666670319

article 48666670320

article 48666670321

article 48666670322

article 48666670323

article 48666670324

article 48666670325

article 48666670326

article 48666670327

article 48666670328

article 48666670329

article 48666670330

article 48666670331

article 48666670332

article 48666670333

article 48666670334

article 48666670335

article 48666670336

article 48666670337

article 48666670338

article 48666670339

article 48666670340

article 48666670341

article 48666670342

article 48666670343

article 48666670344

article 48666670345

article 48666670346

article 48666670347

article 48666670348

article 48666670349

article 48666670350

article 48666670351

article 48666670352

article 48666670353

article 48666670354

article 48666670355

article 48666670356

article 48666670357

article 48666670358

article 48666670359

article 48666670360

noticias 000000031

noticias 000000032

noticias 000000033

noticias 000000034

noticias 000000035

noticias 000000036

noticias 000000037

noticias 000000038

noticias 000000039

noticias 000000040

noticias 000000041

noticias 000000042

noticias 000000043

noticias 000000044

noticias 000000045

noticias 000000046

noticias 000000047

noticias 000000048

noticias 000000049

noticias 000000050

noticias 000000051

noticias 000000052

noticias 000000053

noticias 000000054

noticias 000000055

noticias 000000056

noticias 000000057

noticias 000000058

noticias 000000059

noticias 000000060

noticias 000000061

noticias 000000062

noticias 000000063

noticias 000000064

noticias 000000065

noticias 000000066

noticias 000000067

noticias 000000068

noticias 000000069

noticias 000000070

noticias 000000071

noticias 000000072

noticias 000000073

noticias 000000074

noticias 000000075

noticias 000000076

noticias 000000077

noticias 000000078

noticias 000000079

noticias 000000080

noticias 000000081

noticias 000000082

noticias 000000083

noticias 000000084

noticias 000000085

noticias 000000086

noticias 000000087

noticias 000000088

noticias 000000089

noticias 000000090

noticias 000000091

noticias 000000092

noticias 000000093

noticias 000000094

noticias 000000095

noticias 000000096

noticias 000000097

noticias 000000098

noticias 000000099

noticias 000000100

noticias 000000101

noticias 000000102

noticias 000000103

noticias 000000104

noticias 000000105

noticias 000000106

noticias 000000107

noticias 000000108

noticias 000000109

noticias 000000110

noticias 000000111

noticias 000000112

noticias 000000113

noticias 000000114

noticias 000000115

noticias 000000116

noticias 000000117

noticias 000000118

noticias 000000119

noticias 000000120

komunitas praya menyoroti perubahan pembahasan putaran gratis mahjong ways

selong tren diskusi mahjong wins tengah munculnya game digital baru

kreator konten tanjung mengangkat cerita perkembangan mahjong ways media sosial

sumbawa besar membahas tiga elemen visual mahjong wins 3 ubin emas naga scatter

komunitas digital semarang menelaah pengaruh animasi terhadap identitas game mahjong modern

yogyakarta menjadi sorotan diskusi perpaduan tradisi asia teknologi game

pengamat surabaya mengulas perubahan gaya ilustrasi seri mahjong digital

makassar membahas peran komunitas online menyebarkan tren konten mahjong

medan hingga palembang perbedaan perspektif penggemar terhadap visual mahjong ways

denpasar menyoroti perkembangan narasi budaya asia desain game mahjong kontemporer

sweet bonanza kabupaten pangkajene kepulauan mengenal mekanisme fitur putaran gratis

gates of olympus kabupaten muara enim perpaduan kisah mitologi teknologi animasi modern

lucky neko kota langsa cara simbol tradisional menyesuaikan diri selera generasi digital

wild bandito mahjong ways kabupaten garut perbandingan dua karakter visual berbeda

warga kabupaten lebak mengkaji cara membedakan klaim permainan informasi memiliki bukti

mahjong wins kota tanjungbalai menelaah fungsi simbol membentuk pengalaman visual

mengapa efek cahaya sering muncul fitur bonus pengamatan kabupaten tapanuli utara

lucky neko kabupaten hulu sungai selatan kombinasi karakter animasi ornamen bernuansa emas

gates of olympus kabupaten aceh besar memahami konsep peluang tanpa bergantung ramalan

sweet bonanza kota gorontalo menelusuri peran desain ceria membentuk identitas game

wild bandito kabupaten halmahera utara eksplorasi tema petualangan format interaktif

mahjong pgsoft kabupaten musi banyuasin perubahan pengalaman pengguna saat bermain melalui layar ponsel

princess starlight kota palangka raya mengulas fungsi cahaya elemen penceritaan

lucky neko sweet bonanza perbedaan pendekatan warna membangun identitas desain

warga kabupaten ende menelusuri pengaruh cerita budaya terhadap pembentukan karakter game digital

mengapa pemain lebih mudah mengingat kemenangan besar penjelasan bias ingatan kota madiun

bukan hanya hiburan warga kabupaten bekasi membahas pentingnya memahami batas pengeluaran digital

mahjong ways kabupaten magetan contoh memahami fenomena ilusi pola hasil acak

gates of olympus kota pagar alam menguraikan kesalahpahaman prediksi hasil permainan

warga kabupaten flores timur mengamati pengaruh notifikasi terhadap perhatian pengguna ponsel

sweet bonanza kota sukabumi membahas perbedaan ekspektasi pengguna peluang

wild bandito mahjong wins mengapa perbedaan desain bisa menarik kelompok pengguna beragam

lucky neko kabupaten tanah laut mengkaji simbol keberuntungan perspektif lintas budaya

literasi digital kabupaten sumbawa memahami rtp agar tidak terjebak penafsiran keliru

princess starlight kota tegal menelaah kontribusi tokoh pengalaman hiburan interaktif

article 88666670351

article 88666670352

article 88666670353

article 88666670354

article 88666670355

article 88666670356

article 88666670357

article 88666670358

article 88666670359

article 88666670360

article 88666670361

article 88666670362

article 88666670363

article 88666670364

article 88666670365

article 88666670366

article 88666670367

article 88666670368

article 88666670369

article 88666670370

informasi terbaru kabupaten belu 00000021

informasi terbaru kabupaten belu 00000022

informasi terbaru kabupaten belu 00000023

informasi terbaru kabupaten belu 00000024

informasi terbaru kabupaten belu 00000025

informasi terbaru kabupaten belu 00000026

informasi terbaru kabupaten belu 00000027

informasi terbaru kabupaten belu 00000028

informasi terbaru kabupaten belu 00000029

informasi terbaru kabupaten belu 00000030

informasi terbaru kabupaten belu 00000031

informasi terbaru kabupaten belu 00000032

informasi terbaru kabupaten belu 00000033

informasi terbaru kabupaten belu 00000034

informasi terbaru kabupaten belu 00000035

informasi terbaru kabupaten belu 00000036

informasi terbaru kabupaten belu 00000037

informasi terbaru kabupaten belu 00000038

informasi terbaru kabupaten belu 00000039

informasi terbaru kabupaten belu 00000040

informasi terbaru kabupaten belu 00000041

informasi terbaru kabupaten belu 00000042

informasi terbaru kabupaten belu 00000043

informasi terbaru kabupaten belu 00000044

informasi terbaru kabupaten belu 00000045

informasi terbaru kabupaten belu 00000046

informasi terbaru kabupaten belu 00000047

informasi terbaru kabupaten belu 00000048

informasi terbaru kabupaten belu 00000049

informasi terbaru kabupaten belu 00000050

informasi terbaru kabupaten belu 00000051

informasi terbaru kabupaten belu 00000052

informasi terbaru kabupaten belu 00000053

informasi terbaru kabupaten belu 00000054

informasi terbaru kabupaten belu 00000055

informasi terbaru kabupaten belu 00000056

informasi terbaru kabupaten belu 00000057

informasi terbaru kabupaten belu 00000058

informasi terbaru kabupaten belu 00000059

informasi terbaru kabupaten belu 00000060

informasi terbaru kabupaten belu 00000061

informasi terbaru kabupaten belu 00000062

informasi terbaru kabupaten belu 00000063

informasi terbaru kabupaten belu 00000064

informasi terbaru kabupaten belu 00000065

informasi terbaru kabupaten belu 00000066

informasi terbaru kabupaten belu 00000067

informasi terbaru kabupaten belu 00000068

informasi terbaru kabupaten belu 00000069

informasi terbaru kabupaten belu 00000070

informasi terbaru kabupaten belu 00000071

informasi terbaru kabupaten belu 00000072

informasi terbaru kabupaten belu 00000073

informasi terbaru kabupaten belu 00000074

informasi terbaru kabupaten belu 00000075

informasi terbaru kabupaten belu 00000076

informasi terbaru kabupaten belu 00000077

informasi terbaru kabupaten belu 00000078

informasi terbaru kabupaten belu 00000079

informasi terbaru kabupaten belu 00000080

news-1701